Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم ٹی 20 سیریز کیلئے پاکستان پہنچ گئی

    نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم ٹی 20 سیریز کیلئے پاکستان پہنچ گئی

    اسلام آباد: نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم ٹی 20 سیریز کھیلنے کیلئے پاکستان پہنچ گئی-

    باغی ٹی وی : نیوزی لینڈ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ اسلام آباد پہنچا، جہاں پی سی بی حکام نے انھیں خوش آمدید کہا، پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں 5 ٹی 20 میچز میں مدمقابل ہوں گی، نیوزی لینڈ کے اہم کھلاڑی آئی پی ایل کھیلنے میں مصروف ہیں پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں آل راؤنڈرمائیکل بریس پہلی مرتبہ کیوی ٹیم کی قیادت کریں گے۔

    دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ 18 اپریل کو پنڈی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا،قومی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ پیر سے پریکٹس سیشن کا آغاز کرے گا، اظہر محمود 15 اپریل کی صبح اسکواڈ کو جوائن کریں گے۔

    پاک دامن اور بہادر طوائف

    کیوی ٹیم کے 2 اہم کھلاڑی فن ایلن اور ایڈم ملنے پاکستان کے خلاف سیریز سے باہر ہوگئےنیوزی لینڈ کرکٹ کے مطابق فن ایلن اور ایڈم ملنے ٹریننگ کے دوران انجری سے دوچار ہوئے جس کے بعد دونوں کھلاڑی پاکستان کے خلاف سیریز کے لیے دستیاب نہیں ہو پائیں گے۔

    نیوزی لینڈ کرکٹ کے مطابق فن ایلن کمر جبکہ ایڈم ملنے ٹخنے کی انجری کا شکار ہوئے ہیں، دونوں کھلاڑیوں کی انجری کے بعد وکٹ کیپر بیٹر ٹام بلنڈل اور آل راؤنڈر زیک فاولکس کو اسکواڈ میں شامل کر لیا گیا ہے زیک فولکس پہلی مرتبہ اسکواڈ کا حصہ بنیں گے جبکہ ٹام بلنڈل نے گزشتہ برس بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

    اردن کا اسرائیلی حمایت میں جوابی حملوں پرنظر ہے، اردن ہمارا اگلا ہدف ہوسکتا ہے،ایران

    کیویز کرکٹ ٹیم کے کوچ گیری اسٹیڈ کا کہنا تھا کہ روانگی سے قبل اہم کھلاڑیوں کا انجرڈ ہونا بدقسمتی ہے، دونوں کرکٹرز گزشتہ ورلڈ کپ سے ہمارے لیے ٹی ٹوئنٹی میں اچھے پرفارمرز رہے ہیں۔

  • پاک دامن اور بہادر طوائف

    پاک دامن اور بہادر طوائف

    قصے اور کہانیاں /، آغا نیاز مگسی

    اردو شاعری میں سب سے پہلی صاحب دیوان خاتون شاعرہ کا اعزاز جس عورت نے حاصل کیا وہ اپنے دور کی حسین و جمیل طوائف چندا بائی ماہ لقا تھی جس کا تعلق حیدر آباد دکن سے تھا جس طرح کی وہ خوب صورت تھی ایسی ہی اس کی خوب صورت شاعری تھی ۔ اس کا ایک شعر ہے

    کبھی صیاد کا کھٹکا کبھی خوف خزاں
    بلبل اب جان ہتھیلی پہ لئے بیٹھی ہے

    اس خاتون شاعرہ اور مشہور طوائف کے پرستاروں میں بڑے بڑے راجے مہاراجے، نواب، رئیس، امیر کبیر، وزیر مشیر اور سیٹھ وغیرہ شامل تھے اور اس کی دوستی پر فخر کرتے تھے ۔ تعجب اور دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس نے اپنی تمام عمر تجرد میں گزار دی یعنی شادی نہیں کی ۔ اس کی بھی کوئی وجہ ہوگی جو اب تک کسی کو معلوم نہیں ہو سکی ۔ میرے اس مضمون کا عنوان چندا بی بی نہیں بلکہ دیپالی بتول ہے لیکن اس کی کہانی بیان کرنے سے پہلے کسی طوائف کا ایک قول ملاحظہ فرمائیں کہ کسی حضرت نے طوائف سے پوچھا تمہیں کوٹھا چلاتے ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہے تو طوائف نے کہا کہ یہ کوٹھا نہیں بلکہ بڑے بڑے شریفوں کا قبرستان ہے جبکہ سعادت حسن منٹو کا اس بارے میں کہنا ہے کہ یہ معاشرہ کسی عورت کو کوٹھا چلانے کی اجازت تو دیتا ہے مگر اسے ٹانگہ چلانے کی اجازت نہیں دیتا ۔

    قیام پاکستان سے پہلے انگریزوں کے دور میں ہندوستان میں 5 بڑے بازار حسن تھے کلکتہ کا ” سونا گاچی ” اور لاہور کا بازار حسن ” ہیرا منڈی ” جبکہ کراچی میں لی مارکیٹ اور نیپیئر روڈ کے بازار حسن، ملتان کا بازار حسن اور میاں چنوں اور عبدالحکیم کے درمیان تلمبہ کا نہایت خوبصورت بازار حسن شامل تھے ۔ تلمبہ میں اس وقت کے حکمران مہا راجہ رنجیت سنگھ نے 1818 میں بازار حسن قائم کیا تھا ۔ تلمبہ کے تاریخی بازار حسن کو تبلیغ کے ذریعے بند کرنے میں مولانا طارق جمیل کا اہم کردار ہے اور اس بازار حسن کی جگہ پر مولانا طارق جمیل نے ایک خوبصورت مدرسہ حسنین قائم کیا ہے ۔ اس سے پہلے یہ مقام پنجاب کے لوگوں میں” تلمبہ دی کنجری ” کے حوالے سے مشہور تھا ۔ کلکتہ کا بازار حسن سونا گاچی سب سے زیادہ مشہور تھا اور اس میں پدمنی کو ٹھا سب سے زیادہ مہنگا اور بہت اہم تھا ۔ یہاں ہندوستان بھر سے بڑے بڑے راجے مہاراجے، شرفاء اور اعلی سرکاری افسران اپنی ” چھٹیاں ” منانے آتے تھے واپسی پر اپنے گھروں میں اپنی بیگمات سے کسی خاص مصروفیت کا بہانہ گھڑ لیا کرتے تھے ۔ 14 سال کی عمر کی ایک یتیم لیکن خوب صورت دوشیزہ دیپالی کو سلہٹ کے پہاڑوں کے درمیان میں موجود ایک محل نما مندر کی انتظامیہ نے سونا گاچی کے دلالوں کے ہاتھوں فروخت کر دیا تھا ۔ 1898 میں ہندوستان میں طاعون کی وباء پھوٹ پڑی تھی جس سے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے اور ہزاروں بچے یتیم ہو گئے تھے ۔ دیپالی بھی ایک یتیم اور بے سہارا بچی تھی۔ طاعون کی وباء میں اس کے والدین فوت ہو گئے تھے اور اس کے رشتہ داروں نے دیپالی کو مندر کے پروہتوں کے ہاتھوں فروخت کر دیا تھا ۔ بعدازاں مندر کی انتظامیہ نے کلکتہ کے بازار حسن سونا گاچی میں اس کی بولیاں لگائیں خوب صورتی کے باعث اس کی بڑی قیمت لگائی گئی اور اس کو سب سے مہنگے کوٹھے پدمنی میں پہنچایا گیا ۔ کوٹھے کی مالکہ نے اسے سنگھار کر کے ” معزز ” گاہکوں کا دل بہلانے کا حکم جاری کردیا لیکن دیپالی نے انکار کر دیا ۔ اس کو ” راہ راست ” پر لانے کے لئے 2 ماہ تک سمجھایا گیا لیکن دیپالی اپنے انکار پر قائم رہی ۔ ایک روز ایک مشہور شخصیت اور سابق رکن انڈین لے جلسٹو اسمبلی سیٹھ تیج بھان کو خوش کرنے کے لئیے اسے زبردستی کمرے میں دھکیل دیا گیا اور ساتھ میں دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے سیٹھ کو ناراض کیا تو اس کی ہڈی پسلی ایک کر دی جائے گی ۔ آدھی رات کو سیٹھ تیج بھان نے کوٹھے کے بالائی کمرے میں دیپالی سے دست درازی شروع کر دی تو دیپالی نے سیٹھ کی منت سماجت کی مگر وہ باز نہ آیا ۔تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق دیپالی نے پوری قوت کے ساتھ سیٹھ کو کسی بوری کی طرح اٹھا کر کھڑکی سے باہر نیچے روڈ پر پھینک دیا جس سے ایک دھماکہ سا ہوا اور سیٹھ کے پرخچے اڑ گئے ۔ پولیس آئی اور دیپالی کو قتل کے مقدمے میں گرفتار کر کے لے گئی۔ اگلی صبح ہندوستان بھر میں یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی کہ ایک کوٹھے میں نئی آنے والی طوائف نے سیٹھ تیج بھان کو کوٹھے سے گرا کر قتل کر دیا ہے ۔ سونا گاچی سے کے بازار میں جب بھی کسی معصوم طوائف کے ہاتھوں کوئی قتل ہو جاتا تو متعلقہ پولیس تھانے خوشی کی لہر دوڑ جاتی ۔ تفتیش کے نام پر ایس ایچ او مجبور طوائف کو زبردستی اپنی ہوس کا نشانہ بنا لیتا اگر طوائف خوب صورتی میں پری پیکر لگتی تو ضلع کا ایس پی صاحب بنفس نفیس تفتیش کے لیے پہنچ جاتا یہاں بھی معاملہ ایسا ہی تھا ۔ ایس پی صاحب رات کے اندھیرے میں پولیس تھانے پہنچ گیا ۔ دیپالی کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر ایک بڑے ہوٹل میں کھانا کھلانے کے بعد کلکتہ کے وہاڑہ بریج کی سیر کرانے لے گیا اور وہاں گاڑی سے اتر کر دیپالی کو بریج کے کنارے گھمانے کے بہانے باتیں کرتے کرتے اپنے مطلب کی بات کر ڈالی دیپالی نے جواب میں ایس پی صاحب کو ایک زور دار دھکہ دیا اور ایس پی نہر میں ڈوب گیا ۔ اب دیپالی پر سیٹھ کے بعد ایس پی کے قتل کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ۔ دیپالی کی بہادری اور پاک دامنی کے چرچے پورے ہندوستان میں ہونے لگے ۔ کلکتہ کے سینٹ جوزف گرلز کالج کی خواتین پروفیسرز اور طالبات نے دیپالی سے جا کر حوالات میں ملاقات کی اور قتل کی وجہ معلوم کی تو دیپالی نے ایک تاریخی جملہ کہا ” کہ میں کوٹھے سے گرفتار ضرور ہوئی ہوں مگر میں کوٹھے والی نہیں ہوں” ۔ یہ لوگ مجھ سے زبردستی میری عزت لوٹنا چاہتے تھے میں نے اپنی عزت بچانے کی خاطر ایسا قدم اٹھایا ۔ کالج کی طالبات نے سونا گاچی بازار اور پولیس کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دیپالی کو رہا کیا جائے ۔ خواتین وکلاء کی تنظیم ناری سنستھا نے دیپالی کا مقدمہ مفت میں لڑنے کا فیصلہ کیا ۔ ایک طرف سیٹھ اور ایس پی کے قتل کیس پر دیپالی کو سزائے موت دلانا چاہتے تھے تو دوسری جانب خواتین وکلاء کی تنظیم ناری سنستھا دیپالی کی باعزت رہائی کے لیے میدان میں اتری تھی ۔

    حکومت اور اپر کلاس کے دباؤ کے نتیجے میں عدالت کمزور پڑ گئی تھی قتل کے عدم ثبوت کے باوجود سیشن کورٹ کے جج نے دیپالی کو 2 بار سزائے موت دینے کا فیصلہ سنا دیا ۔ اس کی عمر کے لحاظ سے بھی کوئی رعایت نہیں دی گئی اس کی عمر 14 سال سے کچھ ماہ اوپر تھی ۔ سزائے موت کے فیصلے کے بعد اس کو جیل بھیج دیا گیا ۔ جیل کے وارڈن کی بھی نیت خراب ہو گئی ۔ جیل کی پہلی رات ہی وارڈن نے اس کے ساتھ ہمدردی جتاتے ہوئے دعوت کے بہانے دیپالی کو اپنے بنگلے چلنے پر مجبور کیا ۔ رات کو جیل وارڈن نے دیپالی سے دل لگی کی باتیں شروع کر دیں ۔ جوں ہی دیپالی کے قریب آنے کی کوشش کی تو دیپالی نے وارڈن کو گرن سے پکڑ کر دبوچ لیا یہاں تک کہ اس کی موت واقع ہو گئی ۔ دیپالی کے خلاف قتل کا ایک اور مقدمہ بھی درج کیا گیا ۔ پورے ہندوستان میں دیپالی کی بہادری اور پاک دامنی کی شہرت ہو گئی ۔ اس نئے قتل کی تفتیش کے دوران جیلر نے دیپالی کو زیر کرنے کا پختہ ارداہ کر لیا ۔ ایک رات دیر سے جیلر نے آ کر دیپالی کو بارہ دری چلنے کا حکم دیا یہ اس جیل کے ایک مخصوص ٹارچر سیل کا نام تھا جس کا نام سن کر قیدی تھر تھر کانپنے لگتے تھے مگر دیپالی کے چہرے پر کسی بھی قسم کی پریشانی کے تاثرات نظر نہیں آئے ۔ جیلر دیپالی کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر ٹارچر سیل کی بجائے اپنے بنگلے پر لے گیا ۔ دیپالی کو اپنے سامنے بٹھا کر وہی خباثت کی باتیں کرنے لگا ۔ دیپالی نے بھی مشتعل ہونے میں دیر نہیں کی پوری قوت کے ساتھ جیلر کی گردن دبا کر موت کی وادی میں دھکیل دیا ۔ 3 قتل کے بعد اب چوتھے قتل کا مقدمہ بھی دیپالی کے خلاف درج کیا گیا ۔ ہندوستان کے عوام دیپالی کی بہادری اور پولیس کی بے شرمی پر حیران ہو رہے تھے ۔ جیلر کے قتل کے بعد دیپالی نے جیل انتظامیہ کو انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں قید خواتین کو اگر کسی نے بھی بری نظر سے دیکھا تو وہ جیلر کے انجام کو اپنے ذہن میں ضرور رکھے ۔ اس وارننگ کے بعد وہ کلکتہ کی جیل کے اندر آزادنہ گھوم رہی تھی اور خواتین قیدیوں کی ہر ممکن مدد اور خدمت کر رہی تھی ۔ نئے تعینات ہونے والے جیلر کا رویہ دیپالی کےساتھ مشفقانہ تھا اور اس نے اس سے کہا کہ بیٹی میری دعا ہے تم جلد رہا ہو جائے گی ۔ دیپالی نے کہا کہ بابا ایسی دعا مت کریں جیل کے باہر میرا کون ہے جس کے پاس میں جاوں گی ۔ خواتین وکلاء کی تنظیم ناری سنستھا دیپالی کا مقدمہ مفت میں بڑی محنت کے ساتھ لڑ رہی تھی باالآخر ایک روز ناری سنستھا تنظیم کی نمائندہ وکیل مریم بی بی جو ایک مسلمان تھی دیپالی کو آ کر رہائی کی خوشخبری دی اور اپنے ساتھ گھر چلنے کا کہا ۔ دیپالی کے پاس کوئی سامان اور کپڑے وغیرہ تو تھے نہیں ۔ ایک لیڈی کینسٹیبل نے اس کو اپنے کپڑوں کا ایک جوڑا دیا ۔ قیدیوں کا لباس اتار کر لیڈی کینسٹیبل کے کپڑے پہن کر مریم بی بی کے ساتھ اس کے گھر گئی ۔ مریم کے گھر میں مذہبی ماحول تھا دیپالی کے ساتھ سب کا بہت اچھا رویہ تھا ۔ جس سے متاثر ہو کر اس نے مریم کی ماں کے ہاتھوں مسلمان ہونے کا فیصلہ کر لیا ۔ مسلمان ہونے کے بعد دیپالی کا نام دیپالی بتول رکھا گیا ۔ مریم کے گھر میں قرآن مجید پڑھنے اور نماز سیکھنے کے بعد مریم کی ماں نے دیپالی کی رضامندی سے اس کی شادی آسام کے گولا گائوں کے ایک حافظ قرآن سے نکاح کرا دیا شادی کے بعد وہ اپنے سسرال منتقل ہو گئی ۔ دیپالی کی کہانی سے ہمیں ایک بار پھر یہ سبق ملتا ہے کہ کوئی بھی عورت یا لڑکی اپنی رضا خوشی سے نہ طوائف بنتی ہے اور نہ ہی بازار حسن میں کوٹھے والی بننا پسند کرتی ہے یہ معاشرہ ان کو مجبور کرتا ہے ۔ بہت سی خواتین اور لڑکیاں خود کو کمزور اور مجبور پا کر حالات سے سمجھوتہ کر لیتی ہیں اور بہت ہی ایسی کم لڑکیاں اور خواتین دیپالی بتول کی طرح اپنی عزت و عصمت بچانے کے لیے مرنے اور مارنے پر تیار ہوتی ہیں ۔

  • اردن کا اسرائیلی حمایت میں جوابی حملوں پرنظر ہے، اردن ہمارا اگلا ہدف ہوسکتا ہے،ایران

    اردن کا اسرائیلی حمایت میں جوابی حملوں پرنظر ہے، اردن ہمارا اگلا ہدف ہوسکتا ہے،ایران

    تہران: ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری نے کہا ہے کہ اسرائیل پر حملے اس لیے کیے کیوں کہ صیہونی ریاست نے ایران کی سرخ لکیر کو عبور کیا تھا اور یہ ناقابل قبول ہے۔

    باغی ٹی وی : ایران کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف میجر جنرل محمد باقری نے کہا کہ صیہونی ریاست کا شام میں ایران کے قونصل خانے کو نشانہ بنانے اور ایرانی قانونی مشیروں کو شہید کرنا ہماری ریڈ لائن تھی،اسرائیل کے خلاف آپریشن مکمل کرلیا اور اب مزید حملے جاری رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں البتہ اسرائیل نے دوبارہ کوئی کارروائی کی تو بھرپور جواب دیں گے۔

    https://x.com/RTEUrdu/status/1779400554369655013

    ایرانی حملوں پر اپنے ردعمل میں برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے کہا کہ ایران نے پھر دکھا دیا کہ وہ اپنے اطراف افراتفری پیدا کرنا چاہتا ہے،برطانیہ اسرائیلی سلامتی کے لیے کھڑا رہے گا، کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ ایران کی تازہ کارروائی خطے کو غیر مستحکم کرے گی، جاپانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کا حملہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھائے گا۔

    دوسری جانب چین نے اسرائیل پر ایرانی حملے سے پیدا کشیدگی پر شدید اظہار تشویش کیا ہےچین کی جانب سے جاری بیان میں غزہ تنازع کو موجودہ صورتحال کی وجہ قرار دیا،بیان میں سلامتی کونسل کی اسرائیل حماس جنگ بندی کے لیے قرارداد پر فوری عمل کرنے پر زور دیتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

    ایران کے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملوں پر فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ کے باہر جشن منایا-

    ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ایران نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا، ایران نے 300 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے ،مسجد اقصیٰ کے باہر فلسطینیوں کے بڑی تعداد نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حملوں پر جشن منایا کی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے، بڑی تعداد میں لوگ لبیک یا اقصیٰ کے نعرے لگارہے ہیں اور خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔
    https://x.com/AhmadFarhadReal/status/1779250802046931339
    گزشتہ برس اکتوبر سے جاری غزہ جنگ میں اب تک 33 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس یکطرفہ جنگ میں ہلاک اسرائیلیوں کی تعداد 1500 سے زیادہ ہے۔

    دوسری جانب اسرائیل نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ہونے والے ایرانی حملے پر سلامتی کونسل کے اجلاس کی درخواست کر دی۔

    اسرائیل نے ایرانی حملے پر سخت جوابی کارروائی کرنے کا اعلان بھی کیا ہے اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نےجنگی کابینہ کو ایرانی حملے پر ردعمل دینے کا اختیار دے دیا اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ایرانی حملوں کا منہ توڑ جواب دیں گے، اسرائیل ہر قسم کے حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے،ایران اسرائیل کشیدگی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس اتوار یعنی آج شام 4 بجے ہونے کا امکان ہے۔

    ادھر ایران کی طرف سے ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد اسرائیل میں خوف و ہراس کی فضا ہے اور لوگوں نے شدید بدحواسی کے عالم میں ضروری اشیا کو ذخیرہ کرنا شروع کردیا ہے۔

    ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس کے شہریوں نے ایرانی حملوں سے بچاؤ کے لیے خصوصی تیاریاں شروع کردی ہیں، ہفتے کی شب شہر میں کئی دھماکے سنائی دئیے شہر کا افق کئی بار شدید روشنی سے سرخ ہوا، دوسری طرف شہری خوراک اور پانی وغیرہ جمع کرنے میں مصروف رہے اور پھر بنکرز میں پناہ لی،بیشتر دکانداروں نے ہفتے کی شب رات گئے تک دکانیں کھلی رکھیں تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ مقدار میں خوراک اور پانی وغیرہ خرید سکیں۔

    مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے مامیلا میں ایک دکان دار الیاہو برکات نے بتایا کہ دکان خالی ہوچکی ہے اور ہر شخص گھر کی طرف بھاگ رہا ہےحملہ ہوتے ہی لوگ بڑی تعداد میں آئے اور کھانے پینے کی اشیا لے گئے۔

    مقبوضہ بیت المقدس میں ایک شخص نے بتایا کہ اسے اور اس کے اہلِ خانہ کو یقین ہے کہ اب کئی دن تک مشکلات برقرار رہیں گی، سروں پر خطرات منڈلاتے رہیں گے اس کا کہنا تھا کہ کئی دن اسکول اور دفاتر بند رہیں گے۔

    اسرائیلی فوج نے بتایا ہے کہ ایران نے کم و بیش 200 پروجیکٹائلز داغے جن میں درجنوں بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرونز بھی شامل ہیں۔ مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے علاقے میں بھی دھماکے سنائی دئیے اور فضا دھماکوں سے روشن ہوتی رہی۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیل ہیگیری نے لوگوں سے کہا کہ وہ تیزی سے محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں ایک بیان میں اسرائیلی فوج کے ترجمان نے لوگوں سے کہا کہ حملہ چاہے کہیں بھی ہوا ہوا، جب الازم سنائی دے تو فوراً شیلٹر میں چلے جائیں اور کم از کم دس منٹ وہاں رہیں، گھروں میں رہیں، باہر کہیں بڑی تعداد میں جمع ہونے سے گریز کریں، اسکول بند کردئیے گئے ہیں۔

    ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے جانے والے حملوں پر وائٹ ہاؤس نے بیان جاری کیا ہے-

    امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے دفاع کے لیے امریکی فوج نے پچھلے ہفتے ہی ہوائی جہاز اور بیلسٹک میزائل ڈیفنس ڈسٹرائرز کو خطے میں منتقل کیا ان تعیناتیوں کی بدولت ہم نے اسرائیل کو آنے والے تقریباً تمام ڈرونز اور میزائلوں کو گرانے میں مدد کی۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق ہم اسرائیل کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں گے امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے فون پر رابطہ کیا اور اسرائیل کی سلامتی کے لیے امریکی عزم کا اعادہ کیا،امریکی صدر کل جی 7 کا اجلاس بلائیں گے جس میں ایرانی حملے پر متحدہ سفارتی ردعمل کو طے کیا جائے گا-

    اسرائیل پر ایران کے میزائل حملے کے بعد کراچی کیلئے ترکش ائیر کی پرواز درمیان راستے سے واپس چلی گئی جبکہ اسلام آباد اور لاہور کے لیے پروازوں نے طویل ترین روٹ اختیار کیا۔

    ایوی ایشن ذرائع کے مطابق پرواز ٹی کے 708 کو عراق کی فضائی حدود سے واپس بلوایا گیا، یہ پرواز اج دوپہر طویل راستے سے ری شیڈیول کی گئی ہے جبکہ کراچی سے ترکش ائیر کی پرواز پی کے 709 کی شام 6 بجے روانگی متوقع ہے. ترکش ائیر کی پرواز نے اسلام آباد پہنچنے کیلئے طویل ترین روٹ اختیار کیا، پرواز ٹی کے 710 اور 711 تاجکستان، ترکمانستان، آذربائیجان اور جارجیا کے راستے آپریٹ کی گئیں۔

    پرواز ٹی کے 714 روایتی راستے سے استنبول سے لاہور پہنچ چکی تھی جبکہ لاہور استنبول کی پرواز ٹی کے 715 نے بھی تاجکستان اور ترکمانستان کا روٹ اپنایا ایران کے اسرائیل پر حملے کی وجہ سے ترکش ائیر کا فلائٹ آپریشن درہم برہم ہوگیا اور بھارت، بنگلا دیش، ایران، عراق، چین اور کئی ملکوں کی پروازیں درمیان راستے سے واپس ہوئیں، بھارت، بنگلا دیش اور دیگر ملکوں سے بھی پروازیں تاجکستان، ترکمانستان اور جارجیا سے ہوتے ہوئے منزل پر پہنچ رہی ہیں۔

    قبل ازیں اقوام متحدہ اور خلیجی مجلسِ تعاون نے ایران اور اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ علاقائی و عالمی امن کے لیے خطرات پیدا نہ ہوں، ایران کی جانب سے اسرائیل پر ردعمل کے طور پر کیے جانے والے حملے پر سعودی عرب نے خطے میں فوجی کشیدگی بڑھنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے،مصر نے بھی خطے اورعوام کو عدم استحکام اور کشیدگی سے بچانے کیلئے قریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔

    ایران کی جانب سے اسرئیل پر کیے جانے والے ڈرون حملوں کے بعد خطے میں مزید بڑھتی کشیدگی کے نتاظر میں سعودی عرب نے تمام فریقین کو ‘انتہائی حد تک تحمل’ کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے،سعودی عرب کا کہنا ہے کہ تمام فریقین خطے اور اس کے لوگوں کو جنگوں کے خطرات سے بچانے کی کوشش کریں، علاقائی و عالمی امن برقرار رکھنے کے لیے سلامتی کونسل کو اپنا کردار بروقت ادا کرنا چاہیے کیونکہ عالمی امن کے لیے مشرقِ وسطیٰ بہت اہم خطہ ہے، کشیدگی بڑھنے کے عالمی امن کے لیے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل پر ایرانی حملے کی مذمت کرتے ہوئے فریقین سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی اور کہا کہ کسی بھی ایسی کارروائی سے گریز کیا جائے جس سے بڑے فوجی تصادم کا خدشہ ہو،خطہ یا دنیا ایک نئی جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

    خلیجی مجلسِ تعاون (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے ایران اسرائیل کشیدگی پر اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ خلیجی مجلسِ تعاون علاقائی اور عالمی امن برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتی ہے، لازم ہے کہ صورتِ حال کی نزاکت دیکھتے ہوئے فریقین کشیدگی روکنے کے لیے انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں، معاملات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے ایران اسرائیل کشیدگی سے خطے کے عوام کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں عالمی برادری علاقائی و عالمی امن برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

    واضح رہے کہ ایران نے دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کا جواب دیتے ہوئے اسرائیل پر 200 سے زائد ڈرون اور کروز میزائل سے حملہ کر دیا، اسرائیل نے امریکا اور اردن کی مدد سے متعدد ایرانی میزائل مار گرائے،ایران کے پاسداران انقلاب نےکہا ہے کہ اس نے درجنوں ڈرون اور میزائل لانچ کرکے اسرائیل کے مخصوص مقامات کو نشانہ بنایا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل پر وسیع پیمانے پر ڈرون حملے کیے ہیں، دوسری جانب اسرائیلی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے 200 سے زائد ڈرون اور کروز میزائل فائر کیے ہیں،ایران نے اسرائیلی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا، گولان کی پہاڑیاں اور شام کے قریب اسرائیلی فوجی ٹھکانے ایران کے حملوں کا نشانہ بنے، ایران اسرائیل میں 50 فیصد اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیا ب رہا، اسرائیلی اڈوں کو خیبر میزائلوں سے ٹارگٹ کیا گیا۔

    ادھر ایران کے وزیر دفاع نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ جو بھی ڈرون کو روکنے کے لیے اسرائیل کے لیے اپنی فضائی حدود کھولے گا اسے نشانہ بنایا جائے گا،اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل پر فوجی کارروائی دمشق میں ایرانی سفارتی احاطے پر اسرائیلی حملے کے جواب میں کی گئی، معاملہ اب ختم سمجھا جا سکتا ہے، اگر اسرائیلی حکومت نے کوئی اور غلطی کی تو ایران کا ردعمل کافی زیادہ سخت ہو گا، یہ ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع ہے، امریکا کو اس سے دور رہنا چاہیے۔

    ادھر اسرائیلی فوجی ترجمان نے کہا کہ ایرانی ڈرونز سے جنوبی اسرائیل میں فوجی اڈے کو نقصان پہنچا، اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے میں ایک لڑکی زخمی ہوئی، خطرات ابھی ٹلے نہیں ، فورسزخطرات کا مقابلہ کر رہی ہیں،اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل میں خوف کی فضا ہے ، تمام اسکولز اور تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیل پر ایران کے ڈرون حملوں پر ایران میں شہریوں نے جشن منانا شروع کر دیا ایران کی جانب سے اسرائیل پر فائر کیے گئے ڈرونز اور کروز میزائلز کے حملوں کے بعد تہران میں ایرانی شہری خوشی مناتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئےعوام ایران کے پرچم لے کر سڑکوں پر آگئے اور جشن بھی منایا، لبنانی دارالحکومت بیروت میں بھی اسرائیل پر ڈرون حملوں کی خوشی میں ریلی نکالی گئی۔

    ایران کی جانب سے اسرائیل پر فائر کیے گئے ڈرون اور کروز میزائلز کے حملوں کے بعد امریکا اور اردن نے اسرائیل جانے والے کئی ایرانی ڈرونز مار گرائے ہیں امریکی لڑاکا طیاروں نے اسرائیل کی جانب پرواز کرنے والے درجنوں ایرانی ڈرونز کو تباہ کردیا امریکی لڑاکا طیاروں نے اردن سرحد کے قریب متعدد ایرانی ڈرونز مار گرائے۔

    دوسری جانب سکیورٹی ذرائع کے مطابق اردن کے جیٹ طیاروں نے بھی شمالی اور وسطی اردن سے اسرائیل کی طرف جاتے درجنوں ایرانی ڈرونز کو مار گرایاایرانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اردن کی جانب سے اسرائیلی حمایت میں جوابی حملوں پرنظر ہے، اردن ہمارا اگلا ہدف ہوسکتا ہے،ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکا کو خبر دار کیا ہے کہ امریکا اسرائیل کی حمایت نہ کرے اور ایران کے مفادات کو بھی نقصان نہ پہنچائے۔

  • اس دنیا میں ہر کوئی آپ کو پسند نہیں کر سکتا،ثانیہ مرزا

    اس دنیا میں ہر کوئی آپ کو پسند نہیں کر سکتا،ثانیہ مرزا

    ممبئی: بھارتی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا کا کہنا ہے کہ میں یہ سمجھتی ہوں کہ اس دنیا میں ہر کوئی آپ کو پسند نہیں کر سکتا ہے، آپ کو آپ کی فیملی میں جب ہر کوئی پسند نہیں کرتا ہے تو دنیا میں کیسے کر سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی خبررساں ادارے بی بی سی کے گفتگو کرتے ہوئے معروف ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے سماج میں جاری مسائل کے حل کے حوالے سے بات چیت کی ،سابق شوہر شعیب ملک سے طلاق کے بعد ثانیہ مرزا کی جانب سے کسی بھی میڈیا کو دیا گیا یہ پہلا انٹرویو ہے، جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز کو بتانے کی کوشش کی ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ثانیہ کا کہنا تھا کہ میں یہ سمجھتی ہوں کہ اس دنیا میں ہر کوئی آپ کو پسند نہیں کر سکتا ہے، آپ کو آپ کی فیملی میں جب ہر کوئی پسند نہیں کرتا ہے تو دنیا میں کیسے کر سکتا ہے،سب کی الگ خواہشات، انتخابات اور نظریات ہوتے ہیں، اسی طرح ہمارے بھی اپنے نظریات ہوتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ پر پرسنل اٹیک ہے۔

    ٹینس سٹار کا کہنا تھا کہ اب مجھے لگتا ہے کہ مجھ میں صبر بہت آ چکا ہے، مجھے لگتا ہے کہ عمر کے ساتھ ساتھ میرے بچے کی وجہ سے آپ کو صبر آ جاتا ہے، ماں بننے کے بعد آپ کے پاس صبر کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا ہے ہم جو دنیا میں آج کل رہتے ہیں چاہے حقیقی ہو یا سوشل میڈیا کی، آپ کو بہت سے لوگ اچھی اور بری چیزیں بتا رہے ہوتے ہیں، لیکن اصل چیز یہ ہے کہ لوگ آپ کو سچ بات بتائیں۔

    انہوں نے کہا کہ رئیلٹی سے ہمیشہ جڑے رہیں، کون آپ سے مخلص ہے، کون آپ کے لیے خاص ہے، آپ کو ان سب کا علم ہونا چاہیے، پیسہ، شہرت زندگی کے لیے ضروری نہیں ہونا چاہیے، یہ محض زندگی کا ایک حصہ ہے۔ ضروری یہ ہے کہ کون آپ کے مشکل وقت میں آپ کا ساتھ دے رہا ہوتا ہے۔

    ثانیہ نے نے اپنی ریٹائرمنٹ سے متعلق بھی بات چیت کی، ان کا کہنا تھا کہ 3 سرجریوں اور بچے کی پیدائش کے بعد میری باڈی میرے لیے مسئلہ بن گئی تھی، باڈی ریکوری ویسے نہیں ہو پاتی تھی، جیسی درکار تھی،جبکہ لوگ دیکھتے تھے کہ فائنل میں ہوں، تاہم اس فائنل میچ تک پہنچنے کے لیے میں کیا کیا یہ لوگ نہیں دیکھ پاتے تھے،اسپورٹس مین اسپرٹس کی آپ کی زندگی کو بتانی ہے، جو تعلیم اسپورٹس سے ملا ہے، میرا خیال ہے کہ وہ دنیا کی کسی بھی کتاب سے ممکن نہیں تھا، میں نے اپنے تجربات سے یہ سیکھا ہے کہ بُرے دن ہمیشہ نہیں رہتے ہیں، اور اگر بُرے دن ہیں تو یاد رکھیں کہ کل کو اچھے دن بھی آنے والے ہیں۔

  • پی ٹی آئی کےجلسے میں مولانا فضل الرحمان کیخلاف نعروں پر جے یو آئی کا شدید ردعمل

    پی ٹی آئی کےجلسے میں مولانا فضل الرحمان کیخلاف نعروں پر جے یو آئی کا شدید ردعمل

    اسلام آباد: جمعیت علمااسلام کا پشین میں پی ٹی آئی اور گرینڈ الائنس کے جلسے میں مولانا فضل الرحمان کے خلاف لگنے والے نعرو ں پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے-

    باغی ٹی وی : جمعیت علما اسلام کے ترجمان اسلم غوری نے کہا کہ پشین جلسے سے پی ٹی آئی کی بلی تھیلے سے باہر آ گئی اور منہ میں رام رام اور بغل میں چھری کی اصل حقیقت عوام نے خود دیکھ لی،اپوزیشن کو شیرافضل مروت جیسوں کو پٹا ڈالنا ہوگا، محمود خان اچکزئی نے کہا تھا جلسے میں کسی کو گالی نہیں دیں گے مگر لگتا ہے ان کی سیاست صرف سیاسی قائدین کو شیر افضل جیسے لوگوں سے گالیاں دلوانا ہے۔

    ترجمان جے یو آئی نے کہا کہ شیر افضل جیسے لوگ پی ٹی آئی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک رہے ہیں، ناکام جلسے کو شاید ایسے نعرے لگوا کر میڈیا اور عوام کی توجہ کا مرکز بنایا جارہا ہے، پی ٹی آئی کو اقتدار سے نکالا ،منہ کو لگام نہ دیا تو اپوزیشن کرنے کے جوگے بھی نہیں چھوڑیں گے۔

    چھینےگئے موبائل خریدنے والے دکانداروں کے نیٹ ورک کیخلاف سخت کارروائی کا حکم

    13 اپریل تاریخ کے آئینے میں

    پاکستان کی ترقی کے لیے سعودی عرب مختلف شعبوں میں تعاون فراہم کررہا ہے،وزیراعظم

  • بہاولنگر واقعے کی تحقیقات کےلیے جے آئی ٹی تشکیل،نوٹیفکیشن جاری

    بہاولنگر واقعے کی تحقیقات کےلیے جے آئی ٹی تشکیل،نوٹیفکیشن جاری

    بہاولنگر: حکومت پنجاب نے بہاولنگر واقعے کی تحقیقات کےلیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے ۔

    باغی ٹی وی : نوٹیفکیشن کے مطابق اسپیشل سیکریٹری داخلہ فضل الرحمان جے آئی ٹی کے کنوینر مقرر کیے گئے ہیں، کمشنر بہاولپور نادر چھٹہ، ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) اسپیشل برانچ فیصل راجہ جے آئی ٹی کے ممبر مقرر کیے گئے ہیں،آئی ایس آئی اور آئی بی کا ایک ایک نمائندہ بھی جے آئی ٹی کا رکن ہوگا۔

    اس سے قبل ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا تھا کہ بہاولنگر واقعہ افسوس ناک ہے، جس کی تحقیقات کےلیے محکمہ داخلہ اور سیکیورٹی اداروں پر مشتمل جوائنٹ انکوائری ٹیم تشکیل دی گئی ہےصوبائی حکومت کے ترجمان کے مطابق مفاد پرستوں کو ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    پاکستان کی ترقی کے لیے سعودی عرب مختلف شعبوں میں تعاون فراہم کررہا ہے،وزیراعظم

    13 اپریل تاریخ کے آئینے میں

    بیٹی کیوں پیدا ہوئی،شوہر نے چھری کے وار سے بیوی کو قتل کر ڈالا

  • بیٹی کیوں پیدا ہوئی،شوہر نے چھری کے وار سے بیوی کو قتل کر ڈالا

    بیٹی کیوں پیدا ہوئی،شوہر نے چھری کے وار سے بیوی کو قتل کر ڈالا

    چکوال میں بیٹی کی پیدائش پر ناراض خاوند نے چھری کے وار کرکے بیوی کو قتل کر ڈالا۔

    باٍغی ٹی وی : پولیس کے مطابق قتل کی واردات تھانہ ڈھمن کے علاقے ڈھوک میاں محراب میں پیش آئی،مقتولہ کے والدکی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے ملزم کو آلہ قتل سمیت گرفتار کرلیا گیا ہےمقتولہ کے والد نے اپنے بیان میں کہا کہ بیٹی کی ایک سال قبل شادی ہوئی تھی اور ڈیڑھ ماہ قبل اس کے گھر بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی، بیٹی کی پیدائش پر داماد ناراض تھا، گزشتہ رات بیٹی کا فون آیا کہ خاوند قتل کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

    دوسری جانب ننکانہ صاحب میں نوجوان بجلی کے تاروں پرچڑھ گیا تاہم بجلی بند ہونے کے باعث نوجوان کرنٹ لگنے سے بچ گیااہل علاقہ کے مطابق ننکانہ صاحب کے علاقے دس چک میں گھریلو حالات سے تنگ نوجوان بجلی کےتاروں پرچڑھ گیا۔ تاہم علاقے میں بجلی بند ہونے کے باعث نوجوان کرنٹ لگنے سے محفوظ رہااہل علاقہ نے اپنی مدد آپ کے تحت نوجوان کو تاروں سے اتارا، بجلی کے تاروں سے نیچے اترنے پر نوجوان کو پولیس نےحراست میں لے لیا۔

    اٹلی کے لیجنڈری فیشن ڈیزائنر انتقال کر گئے

    پاکستان کی ترقی کے لیے سعودی عرب مختلف شعبوں میں تعاون فراہم کررہا ہے،وزیراعظم

    سکھوں کی مقدس مذہبی کتاب گرو گرنتھ صاحب کے 10 نسخے پاکستان لائےگئے

  • چھینےگئے موبائل خریدنے  والے دکانداروں کے نیٹ ورک کیخلاف سخت کارروائی کا حکم

    چھینےگئے موبائل خریدنے والے دکانداروں کے نیٹ ورک کیخلاف سخت کارروائی کا حکم

    کراچی: ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج غربی نے اسٹریٹ کرائم کے ملزم کی درخواست ضمانت مستردکرنےکا تحریری فیصلہ جاری کر دیا-

    باغی ٹی وی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج غربی کی عدالت نے اسٹریٹ کرائم میں ملوث ملزم عمران اور چھینے گئے موبائل فون کا کاروبار کرنے والے ملزم عبید کی درخواست ضمانت مسترد کردی، عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ گزشتہ تین ماہ میں محض 19 اسٹریٹ کرمنلز کو سزائیں ہوسکیں جو جرائم کی شرح کے لحاظ سے کافی نہیں ہے۔

    عدالت نے کہا کہ ایک طرف اسٹریٹ کرمنلز معمولی مزاحمت پر معصوم شہریوں کی جان لے لیتے ہیں اور دوسری جانب چھینے گئے موبائل فون خریدنے والے جرائم پیشہ عناصر کو بچا رہے ہیں،وقت آگیا ہےکہ اسٹریٹ کرمنلز اور چھینےگئے موبائل فون خریدنے والے دکان داروں کے نیٹ ورک کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

    بلوچستان کی شاہراہوں پر چیک پوسٹس بحال کرنے کا اعلان

    13 اپریل تاریخ کے آئینے میں

    سلمان خان نے اپنی نئی فلم کا اعلان کردیا

  • پاکستان کی ترقی کے لیے سعودی عرب مختلف شعبوں میں تعاون فراہم کررہا ہے،وزیراعظم

    پاکستان کی ترقی کے لیے سعودی عرب مختلف شعبوں میں تعاون فراہم کررہا ہے،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے سعودی عرب کی خصوصی توجہ قیمتی سرمایہ ہے، فیصل مسجد سے سیرت میوزیم تک سعودی عرب کی محبتوں کے نشانات دیکھے جاسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: وزیر اعظم نے سیرت نبویﷺ پر آگاہی کے لیے تعمیر ہونے والے سیرت میوزیم کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت کی، تقریب میں مسلم ورلڈلیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم آل عیسیٰ بھی شریک تھےوزیراعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ پاکستان کے لیے سعودی عرب کی خصوصی توجہ قیمتی سرمایہ ہے، فیصل مسجد سے سیرت میوزیم تک سعودی عرب کی محبتوں کے نشانات دیکھے جاسکتے ہیں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ سعودی ولی عہد نےکہا کہ سعودی عرب پاکستان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا، سعودی حکومت پاکستان کے لیے بے پناہ محبت کے جذبات رکھتی ہے جب بھی پاکستان مشکل میں آیا تو سعودی عرب نے دل کھول کر ساتھ دیا، سعودی ولی عہد نے ہمارے دورے کے دوران وفد کی پذیرائی کی، بہت جلد اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان تشریف لارہا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل کی گفتگو سے ہمیشہ پاکستان کے لیے محبت نظر آتی ہے پاکستان کی ترقی کے لیے سعودی عرب مختلف شعبوں میں تعاون فراہم کررہا ہےسیرت میوزیم اسلاموفوبیا کے ناپاک پروپیگنڈےکے خاتمے میں اہم کردار ادا کرے گا،گزشتہ دہائی میں وسائل پر قبضے کی جنگ کی وجہ سے نظریاتی تصادم پیدا کیا گیا، اسلام اور مسلمانوں سے متعلق منفی اور گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے۔

  • 13 اپریل تاریخ کے آئینے میں

    13 اپریل تاریخ کے آئینے میں

    13 اپریل تاریخ کے آئینے میں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1111ء ہینری پنجم کی بطور ہولی رومن شاہنشاہ تاج پوشی ہوئی۔

    1598ء فرانس کے بادشاہ ہینری چہارم کے نانٹس فرمان کے مطابق ہوجوناٹس کو مذہبی آزادی ملی۔

    1699ء سکھوں کے دسویں گرو گوند سنگھ نے خالصہ پنت قائم کیا۔

    1772ء وارن ہیٹنگس ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنگال کمیٹی کے سربراہ مقرر ہوئے۔

    1796ء اٹلی کی جنگ نیپولین نے آسٹریا کو ہرایا۔

    1829ء برطانوی پارلیمنٹ نے رومن کیتھولکس کو مکمل مذہبی آزادی کا حق دے دیا۔

    1849ء ہنگری کو جمہوری ملک قرار دے دیا گیا۔

    1919ء امرتسر کے جیلیانوالا باغ میں قتل عام ہوا برطانوی جنرل ڈائر نے وہاں جلسہ کر رہے نہتے لوگوں پر گولیاں چلوا دیں، جس میں سرکاری اعداد شمار کے مطابق ۳۷۹؍افراد ہلاک اور ۱۲۰۰؍سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

    1930ء ہندوستان میں انگریزوں کے ساتھ لڑنے کے لئے ہندوستانی سرخ فوج (انڈین ریڈ آرمی) تشکیل دی گئی۔

    1941ء نیہون، (جاپان) اور روس نے غیر جانبداری کا معاہدہ کیا۔

    1944ء نیوزی لینڈ اور سوویت یونین کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے ۔

    1960ء فرانس افریقی صحرا میں ایٹم بم کا تجربہ کرنے والا چوتھا ملک بنا۔

    1970ء چاند کے سفر پر روانہ ہوئے امریکی خلائی جہاز اپولو۔۱۳؍کے ایندھن کے ٹینک میں دھماکہ ہو گیا۔

    1980ء امریکہ نے ماسکو میں ہورہے اولمپک کھیلوں کا بائیکاٹ کیا۔

    1984ء ہندوستان کرکٹ ٹیم نے شارجہ میں پاکستان کو ۵۸؍ رن سے ہرا کر پہلی مرتبہ ایشیا کپ جیتا۔

    1997ء امریکہ کے گولف کھلاڑی ٹائگر ووڈز ۲۱؍ سال کی عمر میں یوایس ماسٹرز چیمپئن شپ جیتنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی تھے۔

    2013ء پشاور میں ایک بس میں ہوئے دھماکہ میں ۸؍ افراد ہلاک ہوئے۔

    2018ء۔۔پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم پاکستان کی مدت نااہلی کو تاحیات قرار دے دیا۔
    ۔

    تعطیلات و تہوار :
    ۔”””””””””””””””””

    تھائی لینڈ میں نئے سال کا آغاز

    کمبوڈیا میں نئے سال کا آغاز