Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • مولانا فضل الرحمان کے قافلے  پر حملہ

    مولانا فضل الرحمان کے قافلے پر حملہ

    ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے قافلے پر حملہ ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: ترجمان مولانا فضل الرحمان مفتی ابرار کے مطابق مولانا فضل الرحمان بڑے قافلےکے ساتھ اپنے بیٹے مولانا اسجد کے ولیمے میں جارہے تھےکہ یارک انٹرچینج پر قافلے پر حملہ کیا گیا،قافلے پر دو اطراف سے فائرنگ کی گئی ابتدائی معلومات کے مطابق مولانا فضل الرحمان حملے میں محفوظ ہیں۔

    ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کا کہنا ہےکہ مولانا فضل الرحمان کے قافلے کے قریب فائرنگ بزدلانہ کارروائی ہے، بارہا متنبہ کرچکے ہیں کہ ہماری قیادت کے لیے حالات سازگار نہیں، انتظامیہ آئے روز تھریٹس کے حوالے سے لیٹر لکھتی ہے لیکن عملاً کوئی اقدام نہیں کیا جاتا ترجمان نے مطالبہ کیا ہےکہ واقعےکی فوری تحقیقات کرائی جائے، ادارےاپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے کے پی اور بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔

    ممالک جہاں 2024 کا آغاز ہوچکا ہے

    دوسری جانب پولیس کے مطابق مولانا فضل الرحمان محفوظ ہیں، یارک انٹرچینج ٹول پلازہ پر فائرنگ ہوئی، مولانا فضل الرحمان کی گاڑی پیٹرول بھروانے کے لیے رکی تھی، فائرنگ مولانا فضل الرحمان پر نہیں ہوئی واقعے کی مزید تحقیقات کی جارہی ہے۔

    ‘یار بلوچ’ مجھے اونچی آواز میں صدر نہ کہو کہیں مولانا نہ سن لیں،آصف زرداری

  • پاکستان میں دو قومیں رہتی ہیں ایک ظالم دوسری مظلوم ہے ،خالد مقبول صدیقی

    پاکستان میں دو قومیں رہتی ہیں ایک ظالم دوسری مظلوم ہے ،خالد مقبول صدیقی

    کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان خالد مقبول صدیقی کاکہنا ہے کہ پاکستان میں دو قومیں رہتی ہیں ایک ظالم دوسری مظلوم ہے ہم مصلحتاً بھی منافقت نہیں کرنا چاہتے-

    باغی ٹی وی: کراچی میں پاکستان ہاؤس میں منعقدہ پروگرام میں شرکاسے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ آپ ارادے کے ساتھ آئے ہیں اور ہم بھی ارادے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں امید ہےکہ آپ سب بھی نئے لوگوں کو تنظیم میں شامل کرائیں گے، ملک کے 4 صوبے ہیں جنکی شناخت لسانی ہے ان صوبوں کی تقسیم انگریز کر کے گیا ہے،آپ کا حکمران چاہتا ہے کہ قوم عقیدے، مذہب اور مسلک کے نام پر تقسیم رہے،تاکہ ان کے مفادات محفوظ رہیں۔

    ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ بھٹو صاحب 1970ء میں پنجاب کی حمایت سے جیتے تھے اور حکومت بنائی تھی، مگر انہوں نے پنجاب میں کوئی پیکیج نہیں دیا، سندھ میں دیا پنجاب میں شہروں اور دیہات میں پنجابی بولنے والے رہتے ہیں، سندھ میں صورتِ حال مختلف ہے ایم کیو ایم لسانی نہیں قومی فکر رکھتی ہے، پاکستان میں دو قومیں رہتی ہیں ایک ظالم دوسری مظلوم ہے ہم مصلحتاً بھی منافقت نہیں کرنا چاہتے، 1987ء میں بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم نے 2 شہروں سے حصہ لیا اور کامیاب ہو گئی۔

    ‘یار بلوچ’ مجھے اونچی آواز میں صدر نہ کہو کہیں مولانا نہ سن لیں،آصف زرداری

    یوکرین کا روس پر جوابی حملہ،14 افراد ہلاک

    سال 2023 ایوی ایشن سیکٹر کے لیے تباہ کن رہا

  • انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں رہنے والے نئے سال کا استقبال 16 بار  کریں گے

    انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں رہنے والے نئے سال کا استقبال 16 بار کریں گے

    انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں رہنے والے نئے سال کا استقبال 16 بار کرتے ہیں-

    باغی ٹی وی: دنیا بھر میں 2024 کا آغاز ہو رہا ہے اور ہر ملک میں لوگوں کو صرف ایک بار پھر سال نو کا جشن منانے کا موقع ملے گامگر انٹر نیشنل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) میں رہنے والے 16 بار نیا سال مناتے ہیں، اس کی وجہ بھی کافی دلچسپ ہے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن زمین کے گرد 17 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہا ہے اور وہاں رہنے والوں کو روزانہ 16 بار سورج طلوع اور غروب ہو تے ہوئے نظر آتا ہے۔

    امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق آئی ایس ایس ہر ڈیڑھ گھنٹے میں زمین کے گرد چکر مکمل کرتا ہے اور اسی وجہ سے وہاں رہنے والے 16 بار سورج طلوع اور غروب ہوتے دیکھتے ہیں اس سفر کے دوران وہ دنیا کے متعدد ٹائم زونز سے گزرتے ہیں اور خلا بازوں کو نئے سال کو کئی بار خوش آمدید کہنے کا موقع ملتا ہے خلا باز 45 گھنٹے سورج کی روشنی اور 45 منٹ اندھیرے کا مشاہدہ کرتے ہیں اور بار بار دن رات کی تبدیلی کو مختلف تجربات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے 24 گھنٹے میں متعدد بار دن رات کے مشاہدے سے خلا بازوں کی جسمانی گھڑی پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    باجوڑ میں پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی،3 دہشتگرد ہلاک

    ممالک جہاں 2024 کا آغاز ہوچکا ہے

    سال 2023 ایوی ایشن سیکٹر کے لیے تباہ کن رہا

  • ‘یار بلوچ’ مجھے اونچی آواز میں صدر نہ کہو کہیں مولانا نہ سن لیں،آصف زرداری

    ‘یار بلوچ’ مجھے اونچی آواز میں صدر نہ کہو کہیں مولانا نہ سن لیں،آصف زرداری

    اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحما ن کے بیٹے کی دعوتِ ولیمہ میں سیاسی رہنماؤں کے درمیان دلچسپ گفتگو ہوئی۔

    باغی ٹی وی: تقریب کے دوران سابق صدر آصف علی زرداری کے ساتھ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا دلچسپ مکالمہ ہوا، مولانا فضل الرحمان کی موجودگی میں لیاقت بلوچ نے سوال کیا کہ ’جناب صدر پاکستان‘ کیسے ہیں؟،اس پر آصف زرداری نے جواب دیا کہ ’یار بلوچ‘ مجھے اونچی آواز میں صدر نہ کہو ، کہیں مولانا نہ سن لیں، مولانا فضل الرحمان نے سن لیا تو ناراض ہو جائیں گے، جس پرمولانا سمیت تمام سیاسی قائدین کے قہقہے بلند ہو گئے۔

    نواز شریف نے دہشت گردی کو ختم کیا ،عطا تارڑ

    ممالک جہاں 2024 کا آغاز ہوچکا ہے

    نئے تعلیمی سال اور امتحانی نظام کا شیڈول جاری

  • باجوڑ میں پاک افغان سرحد  پر  سکیورٹی فورسز  کی کارروائی،3 دہشتگرد ہلاک

    باجوڑ میں پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی،3 دہشتگرد ہلاک

    راولپنڈی: باجوڑ کے علاقے بٹوار میں پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز نے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق باجوڑ کے علاقے بٹوار میں پاک افغان سرحد پر تین دہشت گردوں کی نقل و حرکت دیکھی گئی سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کے تبادلےکے بعد تینوں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کرلیا گیا۔

    علاوہ ازیں آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ افغانستان سے دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان کے ضلع اسپن وام میں پاکستانی سرحدی چوکی پر فائرنگ کی سکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی، فورسز کی جوابی کارروائی میں دہشت گردوں کو نقصان پہنچا،فائرنگ کے تبادلے میں نائیک عبدالرؤف بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے پاکستان افغان عبوری حکومت کو مؤثربارڈر منیجمنٹ کویقینی بنانےکا بارہا کہتا رہا ہے، توقع ہےکہ افغان عبوری حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔

    نواز شریف نے دہشت گردی کو ختم کیا ،عطا تارڑ

    قبل ازیں سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع آواران کے علاقے مشکئی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔اتوار کو آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلہ ہوا جس کے نتیجے پانچ دہشت گرد واصل جہنم ہو گئے اور دہشت گردوں کے ٹھکانے کو بھی تباہ کر دیا گیا اور اسلحہ، گولہ بارود اور بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کر لیا گیا۔

    ممالک جہاں 2024 کا آغاز ہوچکا ہے

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود دیگر دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے سینی ٹائزیشن آپریشن کیا جا رہا ہے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز قوم کے ساتھ مل کر بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    ہماری بربادی کے اسباب

  • سال 2023 ایوی ایشن سیکٹر کے لیے تباہ کن رہا

    سال 2023 ایوی ایشن سیکٹر کے لیے تباہ کن رہا

    اسلام آباد(محمداویس) سال 2023 ایوی ایشن سیکٹر کے لیے تباہ کن رہا،پی ڈی ایم حکومت کی تاخیر سے قانون سازی کی وجہ سے پاکستانی ائیر لائنز کی یورپ امریکہ اور برطانیہ کے لیے پروازوں پر پابندی ختم نہ ہوسکی-

    باغی ٹی وی: نگران حکومت کی طرف سے پی آئی اے کو مالی امداد وقت پر نہ دینے اور نجکاری کے فیصلے کے بعد تیل نہ ملنے کی وجہ سے پی آئی اے کے سینکڑوں ملکی و غیر ملکی پروازیں منسوخ ہوئیں اور اربوں روپے کا مزید نقصان پی آئی اے کو ہوا، پی آئی اے کے 34جہازوں کے بیڑے میں سے صرف 15جہازوں سے فضائی آپریشن چلایا جارہاہےمعاشی مشکلات کیوجہ سے پی آئی اے کے پاس ملازمین کو دینے کے لیے تنخواہوں اور جہازوں میں تیل ڈالنے تک کے پیسے دینے میں مشکلات رہیں –

    پی آئی اے کی نجکاری کا ابتدائی منصوبہ بندی بھی ناکام ہوگئی ہے پی آئی اے کی پروازیں بند ہونے سے نجی ائیرلائنز نے کرایوں میں خوب اضافہ کیا ۔سال 2024میں پاکستانی ائیرلائن پر یورپ میں پابندی ختم ہونے کی امید ہے اس خبررساں ادارے کے مطابق سال 2023پاکستان میں ایوی ایشن سیکٹر کے لیے تباہی ہی لایا-

    نواز شریف نے دہشت گردی کو ختم کیا ،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم حکومت نے ایوای ایشن سیکٹر پر توجہ نہ دی ایاسا کی واضح شرائط کے باوجود پی ڈی ایم حکومت اور وفاقی وزیر سعد رفیق نے سول ایوی ایشن کو دو حصوں میں تقسیم کے حوالے سے قانون سازی میں تا خیر کی اور حکومت ختم ہونے سے چند دن قبل بل سینیٹ اور قومی اسمبلی سےمنظور کئےگئے جسکی وجہ سے سال 2023میں پاکستانی ائیر لائن پر یورپ برطانیہ اور امریکہ میں پابندی ختم نہ ہوسکی ستمبر میں ایاسا کی ٹیم فیزیکل آڈٹ کے لیے پاکستان آئی ۔

    ایاسا کی ٹیم کی طرف سے آڈٹ کے دوران ہی ایف بی آر نے پی آئی اے کے اکاؤنٹس سیز کردیئے جس سے ایوی ایشن حکام کو اجلاس میں خفت کا سامنا کرنا پڑا پی آئی اے کو یورپ امریکہ اور برطانیہ کی فلائٹس پر پابندی سے سالانہ 75ارب روپے کا نقصان ہورہاہے ،2023میں سکردو انٹرنیشنل ائیر پورٹ بنا اور پہلی انٹرنیشنل فلائٹ سکردو آئی پی آئی اے کے طیاروں کو لیزنگ کمپنی کے ساتھ تنازعے کی وجہ سے بیرون ملک ضبط کرنے کا بھی ایک سلسلہ چلا سب سے برا وقت اگست 2023سے پی آئی اے پر شروع ہوا –

    سعودی مالی معاونت کے ذریعے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی

    جب نگران حکومت نے نجکاری کا فیصلہ کرتے ہوئے مزید پیسے دینے سے انکار کردیا جس کی وجہ سے پی آئی اے کو قرض اور ان کے سود ادائیگی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین کو تنخواہیں وقت پر نہ مل سکیں اور جہازوں کو اڑانے کے لیے تیل کی سپلائی پی ایس او نےبند کردی تیل کی سپلائی بند ہونے سے پی آئی اے کی سینکڑوں پروازیں منسوخ کی گئی جس سے پی آئی اے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا اس دوران حکومتی گرنٹی پر نجی بینکوں سے قرض لیا گیا جس سے پی آئی اے کی فلائٹس بحال ہوئی ۔

    پی آئی اے کو ہرماہ قرض اور ان کا سود واپس کرنے کے لیے 10ارب روپے درکار ہیں جبکہ ماہانہ آمدن 23ارب روپے ہے جس میں سے 21.5ارب روپے آپریشن پر خرچ ہوتے ہیں اور صرف ڈیڈھ ارب روپے ہی آپریشن منافع ہوتا ہے جبکہ جن سے قرض لیا گیا ہے وہ ادارے پی آئی اے کے اکاؤنٹس سے اپنے قرض اور سود کے پیسے وصول کرلیتے ہیں جس مسئلہ کا ابھی تک حل نہ نکالا جاسکا،منٹینس اور پرزوں کے لیے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے پی آئی اے اپنا آپریشن 15جہازوں سے چلارہی ہے حکومت نے سول ایوی ایشن اتھارٹی سے قرض لے کر پی آئی اے کو دیا جس کی وجہ سے ایک ملائشیا سے جہاز پاکستان آگیا اور دوسرا ابھی آنا ہے دونوں جہاز 2سال سے لیزنگ تنازعے کی وجہ سے وہاں کھڑے تھے۔

    ممالک جہاں 2024 کا آغاز ہوچکا ہے

    پی آئی اے کے 15آپریشن جہازوں میں بوئنگ 777جہازوں کی تعداد 6، ائیربس اے320کی تعداد8 اور ایک اے ٹی آر جہاز شامل ہے جبکہ پی آئی اے کے پاس 34جہاز رجسٹرڈ ہیں جن میں 17ائیر بس A320،بوئنگ 777کی تعداد 12اور 5اے ٹی آر جہاز شامل ہیں اگست سے ستمبر 2023تک پی آئی اے کی تیل نہ ہونے کی وجہ سے پروازیں منسوخ ہونے کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑاتو دوسری طرف نجی ائیر لائن نے بھی کرایوں میں کئی گناہ اضافہ کیا پی آئی اے کی محدود آپریشن کی وجہ سے کئی چھوٹے شہروں کے لیے پروازیں بند کردی گئیں ہیں ۔

  • پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں امریکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت پھر سامنے آ گئے

    پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں امریکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت پھر سامنے آ گئے

    اسلام آباد: پاکستان کی سر زمین پر افغانستان سے لائے جانے والے غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت پھر منظرِ عام پر آگئے۔

    باغی ٹی وی: افواج پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سےکالعدم ٹی ٹی پی کےخلاف دہشتگردی کی جنگ لڑ رہی ہے ٹی ٹی پی کےدہشتگردوں کو افغانستان میں امریکا کا چھوڑا ہوا اسلحہ دستیاب ہے، ٹی ٹی پی کو ہتھیاروں کی فراہمی نے خطے کی سلامتی کو خاطر خواہ نقصان پہنچایا ہے بالخصوص پاکستان میں دہشتگردی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے ثبوت ایک پھر سامنے آئے ہیں-

    پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغانستان سے لائے غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت باربار سامنے آرہے ہیں، اور حالیہ 29 دسمبرکو شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن میں بھی اس اسلحے کے ثبوت سامنے آئے ، جس میں دہشت گرد کمانڈر راہزیب سمیت 5 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

    دہشتگردوں سے غیر ملکی اسلحہ جس میں M4 Carbine اور Ak-47 اور گولا بارود بھی برآمد کیا گیا۔ اس سے پہلے بھی متعدد بار پاکستان میں دہشتگردی کے حملوں میں غیر ملکی ہتھیار استعمال کیے گئے۔

    نواز شریف نے دہشت گردی کو ختم کیا ،عطا تارڑ

    اس سے قبل کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے انہی ہتھیاروں سے فروری 2022 میں نوشکی میں ایف سی کیمپوں پر حملے کئے، پنجگور میں ایف سی کیمپوں پر انہی ہتھیاروں سے حملے کئے گئے، 12 جولائی 2023 کو ژوب گیریژن پر حملے میں بھی کالعدم ٹی ٹی پی نے امریکی اسلحے کا استعمال کیا، جب کہ 6 ستمبر 2023 کو چترال میں 2 فوجی چیک پوسٹوں پر بھی جدید ترین امریکی ہتھیاروں سے لیس کالعدم ٹی ٹی پی نے حملہ کیا۔

    4 نومبر کو میانوالی ائیر بیس حملے میں دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا اسلحہ غیر ملکی ساخت کا تھا جس میں RPG-7، AK-74، M-4 اور M-16/A4 بھی شامل ہیں، 12 دسمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں ہونے والے دہشتگردی کے حملے میں بھی دہشتگردوں کی جانب سے نائٹ ویژن گوگلز اور امریکی رائفلز کا استعمال کیا گیا، 15 دسمبر کو ٹانک میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعہ میں دہشتگروں کے پاس جدید امریکی اسلحہ پایا گیا، حملے میں 3 پولیس اہلکار شہید اور 5 دہشتگرد جہنم رسید ہوئے، دہشتگردوں نے M16/A2, HE Grenades, AK-47 استعمال کیے۔

    ممالک جہاں 2024 کا آغاز ہوچکا ہے

    13 دسمبر کو کسٹمز اور سیکیورٹی فورسز نے افغانستان سے پاکستان آنیوالی گاڑی سے پیاز کی بوریوں سے بھی جدید امریکی ہتھیار برآمد کیئے، اسلحے میں جدید امریکی ساختہ ایم فور، امریکی رائفل، گرنیڈ شامل تھےافغانستان سے جدید امریکی اسلحہ کی پاکستان اسمگلنگ اور ٹی ٹی پی کا سکیورٹی فورسز اور پاکستانی عوام کے خلاف امریکی اسلحہ کا استعمال افغان عبوری حکومت کا اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کے دعوؤں پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

    پاکستان میں ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی کارروائیوں میں امریکی ساخت کے اسلحے کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے امریکہ نے افغان فوج کو کل 427,300 جنگی ہتھیار فراہم کیے،جس میں 300,000 انخلا کےوقت باقی رہ گئےاس بنا پر خطے میں گزشتہ دو سالوں کے دوران دہشت گردی میں وسیع پیمانے پر اضافہ دیکھا گیا۔

    نئے تعلیمی سال اور امتحانی نظام کا شیڈول جاری

    دوسری جانب پینٹا گون خود اعتراف کرچکا ہے کہ امریکا نےافغان فوج کو مجموعی طور پر 4 لاکھ 27 ہزار 300 جنگی ہتھیار فراہم کئے، اور امریکی فوج کے انخلا کے وقت 3 لاکھ ہتھیار افغانستان میں ہی باقی رہ گئے، 2005 سے 2021 تک افغانستان کو 18.6ارب ڈالر کا سامان فراہم کیا گیا تھا۔

  • جے یو آئی رہنما کا پرویز خٹک کی پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ

    جے یو آئی رہنما کا پرویز خٹک کی پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ

    پشاور: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی )رہنما سردار علی خان نے تحریک انصاف پارلیمنٹیرین(پی ٹی آئی پی) میں شمولیت کا فیصلہ کرلیا –

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق سردار علی خان کے حامیوں نے کہا ہے کہ جب سردار علی خان نے جے یو آئی میں شمولیت اختیار کی تھی تو حلقے کے عوام کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھنے کیلئے انہیں حلقے کا ٹکٹ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر قیادت اس پر قائم نہ رہی،سردار علی خان کے ساتھ حلقے کے تمام حامی بھی جلد ہی ایک جلسے میں پی ٹی آئی پی میں شمولیت کا اعلان کریں گے۔

    سعودی مالی معاونت کے ذریعے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی

    نواز شریف نے دہشت گردی کو ختم کیا ،عطا تارڑ

    ہماری بربادی کے اسباب

  • پنجاب کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید سردوخشک  رہنے کا امکان

    پنجاب کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید سردوخشک رہنے کا امکان

    اسلام آباد: محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پنجاب کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید سردوخشک رہنے کا امکان ہے ۔

    باغی ٹی وی : ترجمان محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پنجاب کے اکثر علاقے شدید سردی اور دھند کی لپیٹ میں رہے جبکہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران صبح اور رات کے اوقات میں لاہور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، نارووال، نارنگ منڈی، بدوملہی ،سرگودھا، اوکاڑہ، فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ،جھنگ،خانیوال ،ملتان ، بہا ولپور ، ڈیرہ غا زی خان اور گر دو نواح میں شدید دھنداورسموگ پڑنے کی توقع ہے ۔

    نواز شریف نے دہشت گردی کو ختم کیا ،عطا تارڑ

    ترجمان کے مطابق لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 07اور زیادہ سے زیادہ16سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 86فیصد رہا،لا ہور میں آلودگی کی مجموعی شرح 187 رہی،اسی طرح شہر کے دیگر علاقوں یو ایس قونصلیٹ میں ایئر کوالٹی انڈیکس348، سی ای آر پی آفس 197، فیز ایٹ ایوی گرین 190،شاہراہ قائد اعظم 211،ڈی ایچ اے 8فیز 217،پولو گرائونڈ 194،مراتب علی روڈ 227اور فاسٹ یونیورسٹی 198ریکارڈ کیا گیا۔ترجمان کے مطابق آئندہ 24گھنٹوں کے دوران بارش کا کوئی امکان نہیں۔

    سعودی مالی معاونت کے ذریعے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی

  • گڈو تھرمل پاور ہائی ٹرانسمیشن  میں خرابی،بجلی بحال ہونا شروع

    گڈو تھرمل پاور ہائی ٹرانسمیشن میں خرابی،بجلی بحال ہونا شروع

    گڈو تھرمل پاور ہائی ٹرانسمیشن کےسوئچ یارڈ میں آگ لگنے سے 500 کے وی کی 3 لائن ٹرپ کرگئیں جس سے سندھ، پنجاب اور بلو چستا ن کے مختلف شہروں کو بجلی فراہمی معطل ہوگئی۔

    باغی ٹی وی: گڈو تھر مل حکام کے مطابق گڈو تھرمل پاور ہائی ٹرانسمیشن کے سوئچ یارڈ میں دھند کے باعث فنی خرابی ہوئی اور دھماکا ہوا جس کے بعد آگ لگ گئی500 کےوی کی ہائی ٹرانسمیشن کی 3 لائن ٹرپ کرگئیں جس کے باعث سندھ، پنجاب اوربلوچستان کے مختلف شہروں کو بجلی فراہمی معطل ہوگئی آگ پرفوری قابو پالیاگیا ہے اور گرڈ اسٹیشن میں مرمتی کام جاری ہے ،فنی خرابی شدید دھند کے باعث پیش آئی ،ملتان، راجن پور، بہاولپور کے چند علاقوں میں بجلی بحال ہونا شروع ہوگئی ہے جبکہ باقی شہروں میں بھی جلد بحال کردی جائے گی۔

    سعودی مالی معاونت کے ذریعے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی

    ممالک جہاں 2024 کا آغاز ہوچکا ہے