Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • پی ٹی آئی سینیٹر نے  مفاہمت کے لیے تین شرائط پیش کر دیں

    پی ٹی آئی سینیٹر نے مفاہمت کے لیے تین شرائط پیش کر دیں

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما سینیٹر علی ظفر نے حکومت سے مفاہمت کے لیے تین شرائط پیش کر دیں۔

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ 10 متنازع حلقوں کے آڈٹ کرائے جائیں،پی ٹی آئی کی خواتین قیدیوں کو رہا کیا جائےاور احتجاج کی اجازت دی جائے،یہ اقدامات کیے جائیں تو معیشت،صحت ،تعلیم اور سکیورٹی معاملات میں تعاون ہوسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سیاسی قوتوں کے درمیان مفاہمت کی خواہش ظاہر کر تے ہوئے کہا تھا کہ ایک پارٹی برسراقتدار آکر دوسری کو تختۂ مشق بناتی ہے، اس عمل کا خاتمہ ہونا چاہیے، انتقام کے چکر میں بہت زیادتیاں ہو گئیں، پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے کہاکہ ہم حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان دراڑ پڑنے کا انتظار نہیں کریں گے، اب ہم چاہتے ہیں کہ سیاسی قوتوں کے درمیان مفاہمت ہو۔

  • ملتان نے کوئٹہ  کو  بڑے مارجن سے شکست دے دی

    ملتان نے کوئٹہ کو بڑے مارجن سے شکست دے دی

    کراچی: ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ( پی ایس ایل) سیزن 9 کے آخری لیگ میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ملتان سلطانز کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ، ملتان سلطانز نے کوئٹہ کو جیت کیلئے 186 رنز کا ہدف دیا تاہم ملتان سلطانز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 79 رنز سے شکست دے دی۔

    باغی ٹی وی: کراچی کے نیشنل بینک اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان رائلی روسو نے ٹاس جیت کر ملتان سلطانز کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دے دی،ملتان سلطانز نے مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 185 رنز بنائے۔کپتان محمد رضوان 69 اور جانسن چارلس53 رنز بناکر نمایاں رہے اس کے علاوہ یاسر خان 12، عثمان خان 21 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ افتخار احمد نے اختتامی اوورز میں 8 گیندوں پر 20 رنز بناکر ناقابل شکست رہے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے محمد عامر نے 2، محمد وسیم اور ابرار احمد نے ایک ایک وکٹ لی۔

    ہدف کے تعاقب میں گلیڈی ایٹرز کی ٹیم 16 ویں اوورز میں 106 رنز پر ڈھیر ہوگئی-

    دونوں ٹیمیں پہلے ہی پلے آف مرحلے کے لیے کوالیفائی کرچکی ہیں، اس میچ کے بعد ہی طے ہوگا کہ کون سی ٹیم پلے آف میں کس سے مقابلہ کرے گا پوائنٹس ٹیبل پر ابھی ملتان سلطانز 12 پوانٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ کوئٹہ کی 11 پوائنٹس کے ساتھ چوتھی پوزیشن ہے اگر آج کے میچ میں ملتان سلطانز کامیاب ہوتی ہے تو اس کی پہلی پوزیشن ہو جائے گی اور اگر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز جیتی تو وہ پہلی نہیں تو دوسری پوزیشن پر پہنچ جائے گی۔

    ترک صدر کا آصف زرداری کو فون،منصب سنبھالنے پر مبارکباد

    پوائنٹس ٹیبل پر موجود ٹاپ دو ٹیمیں پلے آف مرحلے میں کوالیفائر میچ کھیلیں گی ، کوالیفائر کا مطلب اُس میچ کو جیتے والی ٹیم فائنل میں پہنچ جائے گی جبکہ ہارنے والی ٹیم کو ایک اور موقع ملے گا، جبکہ پوائنٹس ٹیبل کی تیسرے اور چوتھے نمبر کی ٹیمیں پہلا ایلمینٹر میچ کھیلیں گی ، اس میچ کی ہارنے والی ٹیم ایونٹ سے باہر ہو جائے گی جبکہ جیتنے والی ٹیم کوالیفائر میچ کی لوزر سے دوسرا ایلیمنٹر کھیلے گی اور دوسرے ایلیمنٹر کی فاتح ٹیم 18 مارچ کو فائنل کھیلنے کی حقدار ہوگی۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی خواتین کیلئے قوانین میں ضروری ترامیم کی ہدایت

    شہباز شریف کے وزیراعظم بننے سے آئی ایم ایف کا نیا پیکج ملنے کے امکانات …

  • ترک صدر کا آصف زرداری کو فون،منصب سنبھالنے پر مبارکباد

    ترک صدر کا آصف زرداری کو فون،منصب سنبھالنے پر مبارکباد

    کراچی: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے منصب سنبھالنے پر صدر آصف علی زرداری کو مبارکباد پیش کی ہے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان نے صدر آصف علی زرداری کو ٹیلی فون کیا اور عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد پیش کیا، پاک اور ترکیہ کے صدور نے دو طرفہ اہمیت کے امور پر تبادلہ خیال کیا اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

    صدر آصف علی زرداری نے ترکیہ کے صدر کے ٹیلیفون، نیک تمناؤں پر اُن کا شکریہ ادا کیا اور ترک عوام کو رمضان المبارک کی مبارک باد بھی دی، صدر مملکت نے جلد ہی رجب طیب اردوان کو پاکستان مدعو کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

    امریکا میں اسکول بس اور ٹرک میں تصادم، 3 بچوں سمیت 5 افراد ہلاک

    وقت کتنا گزر گیا پھر بھی ، میرے دل میں قیام اس کا ہے

    جے یو آئی کا سینیٹ کے ضمنی الیکشن میں یوسف رضا کی حمایت کا اعلان

  • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا  کی خواتین کیلئے  قوانین میں ضروری ترامیم کی ہدایت

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی خواتین کیلئے قوانین میں ضروری ترامیم کی ہدایت

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے خواتین کو وراثت میں حصہ دینے کیلئے قوانین میں ضروری ترامیم کی ہدایت کردی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت بورڈ آف ریونیو کا اجلاس ہوا، جس میں بورڈ آف ریونیو کے انتظامی معاملات، اصلاحات اور دیگر امور پر علی امین گنڈا پور کو بریفنگ دی گئی، وزیراعلیٰ نے وراثت میں خواتین کو حق دلانے کیلئے قوانین میں ضروری ترامیم کرنے کی ہدایت کی اور حکم دیا کہ صوبے میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کا پہلا مرحلہ جون 2024ء تک مکمل کیا جائے۔

    علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ لینڈ کمپیوٹرائزیشن مکمل ہونے سے پہلے اضلاع میں درکار ضروری عملہ تعینات کیا جائے۔اور بنیادی اصلاحات کیلئے ریونیو کے لیگل فریم ورک میں ضروری ترامیم پر کام شروع کیا جائے، مجوزہ ترامیم جلد سے جلد متعلقہ فورمز کی منظوری کیلئے پیش کی جائیں، شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے ہر قسم کے اسٹیمپز کو ای۔ اسٹیمپز پر منتقل کیا جائے اور صوبے میں خانہ کاشت مسائل سنجیدہ نوعیت کے ہیں، حل کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔

  • شہباز شریف کے وزیراعظم بننے سے آئی ایم ایف کا نیا پیکج ملنے کے امکانات بڑھ گئے

    شہباز شریف کے وزیراعظم بننے سے آئی ایم ایف کا نیا پیکج ملنے کے امکانات بڑھ گئے

    نیو یارک: امریکی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ شہباز شریف کے وزیراعظم بننے سے پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا نیا پیکج ملنے کے امکانات بڑھ گئے۔

    باغی ٹی وی : امریکی جریدے بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق جے پی مارگن کے سابق بینکر محمد اورنگ زیب کی پاکستانی وزیر خزانہ کے طور پر تعیناتی مثبت فیصلہ ہے، آئی ایم ایف کے نئے پروگرام سے پہلے محمد اورنگ زیب کی تعیناتی مثبت اقدام ہے، سرمایہ کاروں کی دلچسپی پاکستان کے نئے وزیر خزانہ کی تعیناتی میں تھی۔

    بلوم برگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکنوکریٹ کی بطور وزیر خزانہ تعیناتی پاکستان کو درپیش چیلنجزکو حل کرنے میں مدد گار ہوگی، آئی ایم ایف سے مذاکرات میں وزیر خزانہ کا کردار کلیدی ہوگا، شہباز شریف کو بطور وزیراعظم قرض دینے والے عالمی اداروں سے بات چیت کرنے کا تجربہ ہے، ان کا ٹریک ریکارڈ ہے کہ وہ اصلا حات کر سکتے ہیں ۔

  • روسی فوج کا طیارہ تباہ  ،15 افراد جان بحق

    روسی فوج کا طیارہ تباہ ،15 افراد جان بحق

    ماسکو: روسی فوج کا مال بردار طیارہ انجن میں آگ لگنے کے باعث ہچکولے کھاتے ہوا زمین بوس ہوگیا اور جہاز میں موجود تمام 15 افراد ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: روسی میڈیا کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے مال بردار فوجی طیارے نے آئیون وہ کے علاقے سے پرواز بھری تھی۔ جہاز میں عملے کے 8 ارکان اور 7 مسافر سوار تھےجس مقام پر طیارہ حادثے کا شکار ہوا وہ یوکرین کی سرحد کے نزدیک ہے تاہم روسی فوج نے اس حادثے میں دہشت گردی یا یوکرینی فوج کی کارروائی کے ملوث ہونے کے امکان کو مسترد کردیا۔

    پرواز بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد فضا میں ہی طیارے کے ایک انجن میں آگ لگ گئی تھی اور پھر طیارے کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوگیا جس پر سرچ ٹیم کو ریسکیو آپریشن کے لیے بھیجا گیا سرچ ٹیم کو روسی فوج کے طیارے کا جلا ہوا ملبہ ایک میدانی سے علاقے سے مل گیا۔ طیارے کے ملبے سے 15 افراد کی لاشیں نکالی گئیں جن کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

  • سندھ کابینہ کے 9 وزراء نے حلف  اٹھا لیا

    سندھ کابینہ کے 9 وزراء نے حلف اٹھا لیا

    کراچی:گورنر ہاؤس کراچی میں سندھ کابینہ کی حلف برداری ہوئی جس میں 9 وزراء نے حلف لیا۔

    باغی ٹی وی: سندھ کابینہ کی تقریب حلف برداری گورنر ہاؤس میں ہوئی جہاں گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے 9 وزراء شرجیل میمن، ناصر شاہ ، سعید غنی، سردار شاہ ، عذرا فضل، محمد بخش مہر، ضیا لنجار، جام خان شورو اور علی حسن زرداری نے حلف لیا-

    دوسری جانب پیپلزپارٹی قیادت نے سندھ کابینہ کے قلمدانوں کا فیصلہ بھی کرلیا ہے، ذرائع کے مطابق ناصر شاہ وزیر اطلاعات سندھ ہوں گے، شرجیل میمن ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ٹرانسپورٹ کے وزیر ہوں گے، سردار شاہ تعلیم اور معدنیات کے وزیر ہوں گے، جام خان شورو وزیر آبپاشی، سعید غنی بلدیات اور پبلک ہیلتھ کے وزیرہوں گے، علی حسن زرداری وزیرجیل خانہ جات ہوں گے، محمد بخش مہر کے پاس اینٹی کرپشن اور اسپورٹس کے محکمے ہوں گے جب کہ عذرا پیچوہو وزیر صحت سندھ ہوں گی۔

    جے یو آئی کا سینیٹ کے ضمنی الیکشن میں یوسف رضا کی حمایت کا اعلان

    وقت کتنا گزر گیا پھر بھی ، میرے دل میں قیام اس کا ہے

    امریکا میں اسکول بس اور ٹرک میں تصادم، 3 بچوں سمیت 5 افراد ہلاک

  • جے یو آئی کا سینیٹ کے ضمنی الیکشن میں یوسف رضا کی حمایت کا اعلان

    جے یو آئی کا سینیٹ کے ضمنی الیکشن میں یوسف رضا کی حمایت کا اعلان

    اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام(جے یو آئی) نے سینیٹ کے ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سینیٹ کی 6 خالی نشستوں پر ضمنی الیکشن 14 مارچ کو ہوگا سینیٹ کی جن نشستوں پر ضمنی الیکشن ہوگا ان میں یوسف رضا گیلانی، مولانا غفور حیدری اور نثار کھوڑو کی خالی کردہ نشستیں شامل ہیں جب کہ جام مہتاب، پرنس احمد عمر اور سرفرازبگٹی کی خالی کردہ نشستوں پر بھی ضمنی انتخاب ہوگا۔

    سینیٹ کا ضمنی الیکشن اسلام آباد کی ایک ،سندھ کی 2 اوربلوچستان کی 3 نشستوں پر ہوگا، 14 مارچ کو ہونے والے سینیٹ کے ضمنی الیکشن میں جمعیت علمائے اسلام کے ارکان اسلام آباد کی نشست پر یوسف گیلانی کو ووٹ دیں گے۔

  • امریکا میں اسکول بس اور ٹرک  میں تصادم، 3 بچوں سمیت 5 افراد ہلاک

    امریکا میں اسکول بس اور ٹرک میں تصادم، 3 بچوں سمیت 5 افراد ہلاک

    ایلینوائس: امریکی ریاست ایلینوئس کے شہر رشویل کی مرکزی شاہراہ میں اسکول بس اور ٹرک کے تصادم میں 3 بچوں سمیت 5 افراد ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : امریکی خبررساں ادارے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ریاستی پولیس کے کیپٹن جوڈی ہفمین نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ایلینوئس کے مغربی علاقے میں رشویل کے قریب حادثہ صبح 11:30 بجے پیش آیا جب اسکول بس مرکزی شاہراہ میں منی ٹرک سے ٹکرا گئی، اس وقت اسکول بس میں 3 بچے سوار تھے، جن میں سے دو کی عمریں 3 سال اور ایک کی عمر 5 سال تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ دونوں گاڑیوں کے ٹکرانے سے آگ لگی اور سوار پانچوں افراد بشمول دونوں گاڑیوں کے ڈرائیورز موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے تاہم یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،ا سکول بس ضلعی شوئلر انڈسٹری اسکولز کی تھی جو رشویل میں قائم ہے تاہم اسکول انتظا میہ کی جانب سے اس پر ردعمل نہیں دیا گیا۔

    اسکول ڈسٹرکٹ نے ایک بیان میں کہا کہ اسکول دو روز (12 اور 13 مارچ) بند رہیں گے۔

    وقت کتنا گزر گیا پھر بھی ، میرے دل میں قیام اس کا ہے

    دستاویزات میں والدہ کا نام لکھنا بھی ضروری قرار

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی،ڈالر اور سونے کی قیمت میں کمی

  • وقت کتنا گزر گیا پھر بھی ، میرے دل میں قیام اس کا ہے

    وقت کتنا گزر گیا پھر بھی ، میرے دل میں قیام اس کا ہے

    وقت کتنا گزر گیا پھر بھی
    میرے دل میں قیام اس کا ہے

    شاعرہ ،افسانہ نگار اور صحافی صبا ممتاز بانو 12 مارچ 1971ء کولاہور میں پیدا ہوئیں ،
    افسانہ
    ۔۔۔۔۔
    پنچھی
    ۔۔۔۔۔
    رات نے ہر چیز کو تاریکی کی چادر اوڑھا دی تھی۔ دھیمی دھیمی سی ہوا چل رہی تھی۔ پھولوں کی خوشبو مانو کو مدہوش کیے دے رہی تھی۔ پلکوں کو ہجر اب گوارا نہیں تھا۔ آنکھیں خود بخود بند ہوتی جا رہی تھیں۔ اس نے خود کو نیند کے سپرد کر دیا۔
    شب کے راجا نے دن کے راجا کے دستا ر بندی کی تو تیرگی کی چادر تلے خاموشی بھی سمٹ گئی۔ ضیائے آفتاب نے ہر چیز کو برہنہ کردیا۔ شعاعوں نے راحت کی مچان پر لیٹی مانو سے آنکھ مچولی شروع کردی تو اس کے بدن نے آفتاب کے حرارت بھرے لمس کو محسوس کرتے ہوئے انگڑائی لی۔ پلکیں رات بھر کے وصال کے بعد تازہ دم ہو چکی تھیں۔ اس نے چھت کی منڈیروں پر نگاہ ڈالی۔ کوئی بھی تو نہیں تھا۔ آج بھی کوئی پرندہ نہیں تھا۔
    اس نے مایوس ہو کر مٹی کے کونڈے کی طرف دیکھا۔ پانی شفاف تھا۔ روٹی کے ٹکڑوں میں کوئی کمی نہیں آئی تھی البتہ ان کی چمک ضرور ماند پڑ گئی تھی۔ سب کچھ ویسے کا ویسا تھا۔ اس کا دل بھر آیا۔ کوئی بھولا بھٹکا افقی مسافر بھی ادھر نہیں آیا تھا۔ اگر آیا ہوتا تو یہ پانی اور یہ روٹی کے ٹکڑے یوں چپ تو نہ سادھے ہوتے۔
    اس نے اپنے گھر کے ساتھ والے باغ پر نگاہ ڈالی۔ وہاں بھی ایک رات میں کچھ نہیں بدلا تھا۔ گلاب کے مہکتے ہوئے پھول، مٹی کی سوندھی خوشبواور اس باغ میں تنہا کھڑا ایک درخت، یہ سب تو رات کو بھی تھے۔۔۔ اس کی عادت تھی کہ وہ نیند محل میں جانے سے پہلے اور آنے کے بعد اپنے گھر سے ملحقہ اس باغ کو ضرور دیکھتی تھی۔ جس میں ایک بڑا سا درخت اسے اپنی جانب پکارتا ہوا لگتا تھا۔ کبھی کبھی کوئی شاہین آکر اس پر بیٹھ جاتاتو اسے لگتا کہ کائنا ت اس کی مٹھی میں آ گئی ہو۔ کہاں سے آتا تھا وہ۔ کدھر کو جاتا تھا وہ۔؟ اسے اس سے کوئی غرض نہیں تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو کچھ دیر دیکھتے۔ پھر مانو سونے کے لیے اپنی چار پائی کی طرف چل دیتی اور وہ اپنے ٹھکانے کی طرف۔ اسے کسی کے ہاتھ آنے کا شوق نہیں تھا اور مانو کو اسے ہاتھ لگانے کا شوق نہیں تھا۔ کبھی کبھی وہ صبح کے وقت بھی آ جاتا تھا مگراب وہ اس درخت پر موجود نہیں تھا۔ مانو نے اس کے تصور سے دل کو شاد کیا۔
    سپیدی سحر میں یہ باغ حسن کی جاگیر لگ رہا تھا۔ پھولوں کی روشوں میں خراماں خراماں چلتی ہوئی ہوا کے راج پر صرف پھول ہی نہیں جھوم رہے تھے۔ یہ جشن مسرت چند کتے بھی منا رہے تھے جو ہوا کی اٹھکیلیوں پر پاگل سے ہو ئے جا رہے تھے۔ کوئی گول چکر میں پھیرے لے رہا تھا اور کوئی باغ کے اس کونے سے اس کونے تک دوڑ لگا رہا تھا۔
    ‘‘یاالٰہی، ہوا ان کے بدن میں بھی مستی دوڑا دیتی ہے، یہ دیوانگی، یہ جذب و جنوں ان پر بھی بے خودی کی کیفیت طاری کر دیتا ہے۔ کیسے مستیاں کرتے ہیں یہ۔ کیسے شوخیاں کرتے ہیں؟’‘ سوچتے سوچتے اس نے مست ہوا میں آنچل کو لہرایا۔ سورج راجا کو ہٹنے کا اشارہ کیا۔ پھر کائیں کائیں کرتے ہوئے کووؤں کو پکارا۔ چہکتی ہوئی فاختاؤں کو آواز دی۔ کسی نے بھی تو نہیں سنا۔ وہ دکھ کی لہروں کو اپنے وجود میں سمیٹے ہوئے نیچے اتر آئی۔ شانو آٹا گوندھ رہی تھی۔ پلکوں پر بیٹھے ہوئے آنسو اسے دیکھتے ہی نیچے لڑھک گئے۔
    ”کیا ہوا، رو کیوں رہی ہو۔“ اس نے تڑپ کر پوچھا۔
    ”ساعت کرن آنچل بھی لہرایا، ان کو پکارا بھی۔ مگر وہ پھر بھی نہیں آئے۔ ‘‘وہ اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔
    ”پگلی کہیں کی۔ ارے کیا ہوا۔؟ نہیں آتے تو نہ آئیں، ان کو دانہ دنکا بھی ڈالتے ہیں۔ روٹی چاول بھی رکھتے ہیں۔ پانی کا برتن بھی رکھا ہے۔ پھر بھی نہیں آتے۔ تو ہم کیا کریں۔‘‘ شانو نے اسے تسلی دی۔
    ”شانو۔ یہ چھوٹی بات نہیں۔ بابا کہا کرتے تھے۔ پرندے خدا کے دوست ہوتے ہیں۔ ان کو دوست بنا کر رکھوگے تو سب ٹھیک رہےگا۔ بابایہ بھی کہا کرتے تھے۔ چھوٹی سی یہ مخلوق بڑی سی مخلوق کی خدا تک رسائی کا اہم ذریعہ ہے۔‘‘ مانو نے بابا کی بات شانو کو یاد دلائی۔
    ”بابا ٹھیک کہا کرتے تھے لیکن یہ چھوٹی سی مخلوق بڑی نخریلی ہو گئی ہے۔ ہماری بات نہیں سنتی تو ہم کیا کریں۔’‘ شانو نے ہمیشہ کی طرح اسے تسلی دی۔
    ”مگر جب بابا تھے تب تو ہمارے گھر میں بہت پرندے آتے تھے۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں چھوڑتے تھے۔ ایک دفعہ تو امی کا چھوٹو پرس بھی کھانے کی چیز سمجھ کر لے گئے تھے۔۔۔‘‘ مانو کو بھولی بھٹکی کوئی بات یاد آ گئی۔
    ”ہاں۔ پھر وہ گھر کے قریب جھاڑیوں میں اٹکا ہوا مال تھا۔ وہ سمجھے تھے کہ یہ کوئی کھانے پینے کی چیز ہے۔‘‘ شانو نے لقمہ دیا۔
    ”یقینا اس کوے کی نگاہ کمزور ہوگی۔’‘ مانو کی اداسی اب ہنسی میں ڈھل گئی تھی۔
    ”ابا کا بس چلتا تو اس کو بھی عینک لگوا دیتے۔’‘ شانو کی رگ ظرافت بھی پھڑک چکی تھی۔
    ”کچھ بھی تھا شانو، ابا ہوتے تھے تو پرندے صبح دم ہی آکر بیٹھ جاتے اور شام کو جاتے تھے۔ اب یہاں دن سے شام ہو جاتی ہے۔ میں ان کی راہ تکتی رہتی ہوں لیکن کوئی نہیں آتا۔ کوئی بھی تو نہیں آتا۔‘‘ مانو نے دکھ سے کہا۔
    ”ارے وہ گھر بھی تو دوسرا تھا نا۔ اس گھر میں ہم اوپر والے حصے میں ہی آباد تھے۔ وہیں کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، ان کی دوستی ہو گئی تھی ہم سے۔ یہاں ہم نیچے رہتے ہیں اور وہ دوستی کیا کریں، ان کو تو ہماری شکل بھی یاد نہیں ہوگی۔’‘ شانو نے منطقی بات کی۔
    ”ہاں۔ تب ہمارا بسیر ا چھت پر تھا۔ وہ تو ہمارے ہاتھ سے اچک کر کھا لیتے تھے۔ اب تو ہم صرف ان کو کھانا ڈالنے ہی اوپر جاتے ہیں۔‘‘ مانو کی سمجھ میں شانو کی یہ بات آ گئی تھی۔
    ”چلو شکر ہے کہ تم نے بھی کوئی بات مانی لیکن کل پھر صبح اٹھتے ہی تم نے مجھ سے پو چھنا ہے کہ شانو ہمارے گھر میں پرندے کیوں نہیں آتے۔’‘ شانو نے منہ بناکر کہا۔
    ”ہاں کہتی تو تم ٹھیک ہو لیکن اپنا کھانا تو کھا لیا کریں نا۔‘‘ مانو نے دکھ سے کہا۔
    ”کھا لیں گے۔ کھا لیں گے۔‘‘ شانو نے بڑی بہن مانو کو تسلی دی۔
    مانو کو گرمی میں چھت پر سونے کی عادت تھی۔ اسے تاروں سے بھرا آسمان امید کا جہان دکھتا تھا۔ افق پر بھولے بھٹکے پرندوں کو سفر کرتے دیکھ کر اسے ایسا لگتا جیسے وہ خود بھی کسی قافلے سے بچھڑ ی کوئی ڈار ہو جو اپنے غول کی تلاش میں ہو۔ ایک آہ، ایک کونج اس کے سینے سے نکلتی۔
    ”یہ انسان کا جسم مجھے کس نے اوڑھایا ہے۔ یہ بدن تو کسی پرواز پر تھا۔’‘
    کبھی کوئی درد بھری آواز کو وہ آسمان کی وسعتوں میں بھٹکتی ہوئی سنتی تو فریاد کی بستی پر مصلے بچھا دیتی اور اس کا دل اس پر بیٹھ کر دعا گو ہو جاتا۔ میرے رب، مسافر قافلے سے بچھڑ جائے تو منزل کو کھو دیتا ہے۔ نیلگوں آسمان کی وسعتوں پر اڑنے والے قافلوں کو بھٹکنے سے بچا۔ دھرتی ان کی کونج کا درد نہیں سہار سکتی۔ یہ اونچی پروازوں کے راہی ہیں۔ ‘‘
    دونوں یادوں کے جنگل میں بسیرا ڈالے بیٹھی تھیں کہ دانی آ گیا۔ مانو نے دانی کو دیکھا تو سب بھول بھال اسے گود میں اٹھا لیا۔ اسے بانہوں سے پکڑا، جھولا دیا اور پھر نیچے اتار دیا۔ دانی خوشی سے دم ہلاتا ہوا چھت پر چلا گیا۔
    ”جتنے چکر یہ چھت کے لگاتا ہے۔ ہم لگائیں تو تھک ہی جائیں۔’‘ شانو نے دانی کو پھرتی سے سیڑھیاں چڑھتے دیکھ کر کہا۔
    ”بھئی اس کا واش روم جو اوپر ہے۔ اوپر نہ جائے تو کیا کرے۔’‘ مانو نے دانی کی حمایت کی۔
    ”ساری رات میرے ساتھ سکون سے سوتا ہے۔ صبح ہوتے ہی اس کی دھینگا مشتی شروع ہو جاتی ہے۔’‘
    شانو نے دانی کی شکایت کی۔
    ”ارے جا۔ میرا پتر شرارتی ضرور ہے مگر بدمعاش نہیں ہے۔ رات بھر تمہارے ساتھ سوتا ہے۔ کبھی اس نے چھیڑا تمہیں۔’‘ دانی کی شکایت پر مانو تو برس ہی پڑی۔
    ”چھیڑ کر دیکھا تو تھا ایک دن اس نے۔’‘ شانو نے کہا تو مانو نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا۔
    ”پھر۔؟’‘مانو کے لہجے میں حیرت تھی۔
    ”پھر کیا، اسے پتا چل گیا کہ میں بلی نہیں ویسے کبھی ساتھ سلا کر دیکھو نا۔’‘ شانو نے کہا۔
    ”جس دن میرا میاں گھر نہ ہوا تو میں سلا لوں گی۔’‘ مانو نے فوراً جواب دیا۔
    دونوں کو بھورے سفید دھاری دار بلے سے بہت پیار تھا۔ اس گھر کی رونق تھا یہ بلا۔ وہ بھی سمجھتا تھا کہ اس گھر کے مردوں سے زیادہ عورتیں اس کی رفیق ہیں۔ اسی لیے ان سے ہی فرمائشیں کرتا تھا۔ وہ بھی اسے چوکے پر بٹھاتیں۔ تحت پر سلاتیں۔ شیمپو سے نہلاتیں اور تھک جاتا تو دباتیں۔ دانی کا اس گھر میں راج تھا۔

    ”اگر دانی نہ ہوتا تو میں تو مر ہی جاتی۔ اس میں لگی رہتی ہوں تو غم کا احساس نہیں ہوتا۔ ‘‘ مانو نے سوچا۔
    پرندوں اور جانوروں سے پیار اسے ورثے میں ملا تھا۔ ابا ان کا بہت خیال رکھتے تھے۔ اس کے دل میں بھی ان کے لیے جیسے کوئی انجانی سی کشش اٹکی ہوئی تھی۔ اسی لیے وہ پرندوں کے پیچھے بھاگتی تھیں تو کبھی جانوروں کے لیے ہلکان ہو تی تھیں۔ مانو اور شانو دونوں کی کائنات ان میں سمٹی ہوئی تھی۔ اس کائنات میں آسماں پر پرندے رقص کرتے تھے اور زمین پر جانور دھما چوکڑی مچاتے تھے۔ وہ ان دونوں کے بیچ کوئی ایسی مخلوق کی طرح جی رہی تھیں جن کی زندگی کا واحد مقصد ہی ان کا خیال رکھنا اور ان سے پیار کرنا رہ گیا تھا۔

    پرندوں کو پکارتے پکارتے سمے بیت رہا تھا۔ مانو کی فریاد انہوں نے نہیں سنی۔ شانو کو کوئی غم نہیں تھا۔ اس کا دانی اس کے پاس تھا۔ اس کو بس دانی سے لگاؤ تھا۔ مانونے اب کھانا پینا گلی کے کتوں کو ڈالنا شروع کر دیا تھا لیکن وہ پرندوں کے لیے رات کو کچھ نہ کچھ ضرور لے جاتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ دل بہل تو گیا تھا مگرکبھی کبھی مانو کی اداسی پھر عود کر آتی تو شانو اس کی گود میں دانی کو ڈال دیتی اور ہنستے ہوئے کہتی۔

    ”چھوڑو یار، دانی کو جھلاؤ۔’‘ وہ بھی ہر غم بھلاکر دانی کو پیار کرنے لگتی۔
    وقت کا ایک اور دن ڈھل گیا تھا۔ رات کی سیاہی نے ہر چیز کو دھندلاکر دیا تھا۔ مانو چھت پر سونے چلی گئی۔ شانو تسبیح پر کوئی ورد کرنے لگی۔ ماہتاب کی چمک مانو کے چہرے کو فروزاں کیے دے رہی تھی۔ اس نے چھٹکی ہو ئی چاندنی میں اردگرد کے منظر کو دیکھا۔ چاندنی کا حسن ہر چیز سے جھلک رہا تھا۔ اس سحر آفریں ماحول میں نیند کا خمار ایسا چڑھا کہ سارے منظر تحلیل ہو گئے۔ وہ نیند کے آسمان پر تحت نشین ہو گئی۔ رات میٹھی سی نیند میں گزر گئی۔

    چاند راجا کی سلطنت درہم برہم ہو گئی۔ سورج راجا ابھی تحت دن پر براجمان ہوا ہی تھا کہ اس کی آنکھ کھل گئی۔ کوے روٹی کے ٹکڑے لیے منڈیروں پر چڑھے بیٹھے تھے۔ چھت کائیں کائیں کی آواز سے گونج رہی تھی۔ فاختائیں دانہ دنکا کھا رہی تھیں۔ چوں چوں کے شور میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ پرندے گھر کو آ گئے تھے۔ مانو کے دل میں مسرت کی لہریں پھوٹنے لگیں۔ وہ خوشی سے ہمکتی ہوئی نیچے آئی۔ شانو رو رہی تھی۔ دانی رات کو گھر نہیں لوٹا تھا۔ جانے راستہ بھول گیا تھا یا پھر گھر چھوڑ گیا تھا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دے دیا جو مقام اس کا ہے
    دل کی بستی میں نام اس کا ہے
    زندگی کی یہی صداقت ہے
    جس کی دنیا نظام اس کا ہے
    وقت کتنا گزر گیا پھر بھی
    میرے دل میں قیام اس کا ہے
    کتنے سالوں کے بعد میرے لیے
    آج آیا سلام اس کا ہے
    کب بھلایا اسے صباؔ میں نے
    ذکر تو صبح و شام اس کا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    غم زدہ زندگی ہماری ہے
    چاہے دنیا بہت ہی پیاری ہے
    تم نہیں مانتے تو مت مانو
    میری ہر سانس بس تمہاری ہے
    چھوڑ کر ایسے وہ گئے ہم کو
    کیا جئیں گے کہ وار کاری ہے
    جو سہا میں نے وہ سہو گے تم
    وقت کی بھی تو ایک باری ہے
    بس سنبھلنا قدم قدم ہوگا
    زندگی ایک رازداری ہے
    اب ترے ہجر کا صباؔ ہر وقت
    میری آنکھوں سے خون جاری ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خواب اپنے لہو لہو کر کے
    رو دئے تیری جستجو کر کے
    کیسے پاتے تھے کیف و سرشاری
    آنکھوں آنکھوں سے گفتگو کر کے
    کس قدر پر سکون ہوتے تھے
    اپنے جسموں کو سرخ رو کر کے
    عشق بے سود تو نہیں اپنا
    سوچنا میری آرزو کر کے
    لوٹ آؤ کہ ہو گئے بے بس
    یاد تیری میں ہاؤ ہو کر کے
    ساتھ میرے نہ چل سکا کچھ دیر
    زندگی میری مشکبو کر کے
    خود کشی تیرے پیار میں کر لی
    پھر صباؔ دل نے آرزو کر کے