Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ملائشیا کے وزیراعظم  کا  شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ،منصب سنبھالنے پرمبارکباد

    ملائشیا کے وزیراعظم کا شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ،منصب سنبھالنے پرمبارکباد

    اسلام آباد: ملائشیا کے وزیراعظم انوار ابراہیم نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: ملائیشیاکے وزیرِ اعظم نے شہباز شریف کو منصب سنبھالنے پرمبارکباد دی، انوار ابراہیم نے نوازشریف کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھاکہ پاکستان اور ملائشیا کے دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں اور پاکستان ملائشیا کے ساتھ تجارتی و سفارتی تعلقات کے مزید فروغ کا خواہاں ہے،وزیرِاعظم نے ملائشین وزیرِاعظم کوپاکستان کے دورے کی دعوت دی۔

    قبل ازیں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے نو منتخب وزیر اعظم شہبازشریف کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے، اس کے علاوہ برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ کیمرون، ترک صدر رجب طیب اردوان، چینی صدر شی جن پنگ اور ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے بھی شہباز شریف کو پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی ہے۔

    چین کا بھارت کے 17 رافیل لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ

    امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی الیکشن کیلئے اہل قرار دیدیا

    پشاور زلمی کے فاسٹ بالر سلمان ارشاد کس کے ساتھ میچ کھیلنے کی خواہش …

  • بلوچ فلسفی، شاعر، مورخ، سید ظہور شاہ ہاشمی

    بلوچ فلسفی، شاعر، مورخ، سید ظہور شاہ ہاشمی

    سید ظہور شاہ ہاشمی

    بلوچ فلسفی، شاعر، مورخ

    4 مارچ 1978 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بلوچی زبان و ادب کے محسن سید ظہور شاہ ہاشمی 21 اپریل 1926 میں گوادر بلوچستان میں علم و ادب دوست شخصیت سید محمد شاہ ہاشمی کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے عربی، فارسی اور انگریزی تعلیم حاصل کی ۔ وہ بلوچی کے صف اول کے شعراء ، ادبا ، محققین اور مورخین کی فہرست میں شامل ہیں ۔ وہ 1956 میں گوادر سے کراچی منتقل ہوئے یہاں ادبی و تخلیقی سرگرمیوں کے علاوہ ریڈیو پاکستان سے بھی وابستگی اختیار کی جس میں وہ بلوچی پروگرامز پیش کرتے رہے ۔ وہ علمی و ادبی تحقیق کے سلسلے میں ہندوستان اور خلیجی ممالک بھی گئے۔ سید ظہور شاہ ہاشمی کی علمی و ادبی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے ان کی ایک درجن کے قریب کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ بلوچی زبان کی ڈکشنری ” سید گنج” اور اردو میں ” بلوچی زبان و ادب کی تاریخ ” ہے۔ سید ظہور شاہ ہاشمی نے 1970 میں شادی کی، اولاد میں انہیں 3 بچے پیدا ہوئے۔ ان کی تصانیف میں 6 شعری مجموعے ، برتکگیں بیر، انگرء ترونگل، تراپکیں ترمپ، سسچکانی سسا، گسدوار، شکلیں شہجو جبکہ نثر میں ان کی تصانیف، سیرگند، ستکیں دستونک، بلوچی بنگیجی، بلوچی ساہگ ء راست نبسنگ، سید نمدی ، بلوچی ڈکشنری ” سید گنج” و دیگر شامل ہیں ۔

    نمونے کے طور پر سید ظہور شاہ ہاشمی کا ایک بلوچی شعر

    منا دلپروش نے اگاں ، دلپروش بناں
    چو اگاں دل منی پرشتیں صد برء پرشتگ ات

    اردو ترجمہ

    مجھ سے مایوس ہو اگر میں مایوس نہیں ہوں گا
    یوں اگر میں دل شکستہ ہوتا سو بار ہوتا

  • چھ برسوں میں 342 انعامات حاصل کرنیوالی شاعرہ نورین طلعت عروبہ

    چھ برسوں میں 342 انعامات حاصل کرنیوالی شاعرہ نورین طلعت عروبہ

    عجب جنوں ہے کہ احوال کی خبر بھی نہیں
    ہم اپنے گھر بھی نہیں اور دربدر بھی نہیں

    نورین طلعت عروبہ

    تاریخ پیدائش 04 مارچ 1957ء
    جاے ولادت:| اٹک، پنجاب، پاکستان

    نورین طلعت عروبہ نے دور طالب علمی سے ہی اپنی دھواں دھار تقاریر اور غزل، نظم میں وہ نام بنایا جس کی تمنا ہر تخلیق کار رکھتا ہے۔ کالج سے یونیورسٹی کے چھ برسوں میں 342 انعامات حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن نورین کو اس سلسلے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ شاعری کا تحفہ اپنے شاعر دادا ڈاکٹر اظفر حسین خان اور والد محترم معروف صحافی اور شاعر جناب انوار فیروز سے ملا لیکن اس سلسلے میں جو محنت ان کی والدہ فہمیدہ انوار نے کی، نورین اپنی تمام کامیابیوں کا سہرا ان کے سر باندھتی ہیں۔
    دور طالب علمی میں ہی ان کی غزلیں، پرویز مہدی، اقبال باہو، اور عطااللہ عینی خیلوی جیسے بڑے گلوکاروں نے گائیں۔
    دور طالب علمی ہی میں اپنے بہترین لہجے شاندار تلفظ اور متاثر کن آواز کی بدولت وہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویِژن کی ضرورت بن گئیں۔ اسکرپٹ رائٹنگ کی صلاحیت کے باعث ڈھیروں شوز لکھے اور میزبانی کے فرائض سر انجام دیئے۔
    مشاعروں کی نظامت پی ٹی وی سے جاری تھی کہ نیوز کاسٹر کی حیثیت سے منتخب کر لی گئیں۔ ریڈیو پر پنجابی اور پاکستانی ٹیلی ویژن سے اردو میں بیک وقت خبریں پڑھنے والی پہلی نیوز کاسٹر بنیں۔
    جدہ میں قیام کے دوران وہاں خواتین کی پہلی ادبی و ثقافتی تنظیم ’’سلسلہ‘‘ کے نام سے بنا کر اس کی بانی صدر بنیں۔
    2002 میں ان کی نعتیہ شاعری پر مشتمل کتاب ’’حاضری‘‘ 72 نعتوں کے ساتھ کسی بھی شاعرہ کا پہلا نعتیہ مجموعہ ہے جس پر صوبائی اور قومی سطح پر صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ اپنی تینوں کتابوں پر صدارتی ایوارڈ پانے والی پاکستانی شاعرہ ہیں۔
    آج کل امریکہ کی ریاست ورجینیا واسٹنگٹن ڈی سی میں قیام پذیر ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    عجب جنوں ہے کہ احوال کی خبر بھی نہیں
    ہم اپنے گھر بھی نہیں اور در بدر بھی نہیں
    وہ آنے والی رتوں کا حساب لیتے ہیں
    ہمیں تو لمحۂ موجود کی خبر بھی نہیں
    بھلا ہماری شہادت کو کون جانے گا
    ہماری آدھی گواہی تو معتبر بھی نہیں
    بجھا سکوں نہ اسے میں ترے اشارے پر
    چراغ جاں سے مجھے پیار اس قدر بھی نہیں
    یہ در کھلے گا خدا جانے کس کی کوشش سے
    ہمارے ہاتھ میں اب کے کوئی ہنر بھی نہیں
    میں اک نشست میں سارا تجھے سنا ڈالوں
    مرا فسانۂ غم اتنا مختصر بھی نہیں
    ترا یہ ترک تعلق بھی حوصلہ کن ہے
    کہ اب کسی سے بچھڑنے کا دل کو ڈر بھی نہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    نمو کو شاخ کے آثار تک پہنچنا ہے
    بکھر کے پھول نے مہکار تک پہنچنا ہے
    ہم اپنی سلطنت شعر میں بہت خوش ہیں
    وہ اور ہیں جنہیں دربار تک پہنچنا ہے
    غریب شہر کے بہتے لہو کا ذکر فقط
    وہ سرخیاں جنہیں اخبار تک پہنچنا ہے
    ہمیں جو چپ سی لگی ہے یہ بے سبب تو نہیں
    کسی خیال کو اظہار تک پہنچنا ہے
    طلسم عمر کی تعریف ساری اتنی سی
    اک آئنہ جسے زنگار تک پہنچنا ہے
    کچھ ایسے لوگ جو شانوں پہ سر نہیں رکھتے
    مگر یہ زعم کہ دستار تک پہنچنا ہے
    وہ دن گئے کہ کوئی اشک پونچھنے آئے
    یہاں تو آپ کو غم خوار تک پہنچنا ہے

  • نقصان میں جانے والے اداروں کی نجکاری کی جائیگی،  وزیراعظم

    نقصان میں جانے والے اداروں کی نجکاری کی جائیگی، وزیراعظم

    اسلام آباد: ‏وزیراعظم محمد شہباز شریف کی حلف اٹھانے کے چند گھنٹوں بعد ہی ملکی معیشت کی بحالی کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد کیا گیا-

    باغی ٹی وی: وزیراعظم کو سیکرٹری خزانہ کی طرف سے ملکی معاشی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، دوران اجلاس وزیراعظم نےمعاشی صورتحال کی بحالی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی کہا کہ ہمیں ملک کی معیشت کو بہتر کرنے کا مینڈیٹ ملا ہے اور یہی ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے –

    ‏وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ ہماری حکومت ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری برادری کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بھرپور طریقے سے کام کرے گی، جبکہ وزیراعظم کو بریفنگ میں وزیراعظم کی ہدایت پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 65 ارب روپوں کے ٹیکس ریفنڈز کلئیر کر دیئے ،جس پر وزیراعظم نے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی کے حوالے سے آئی ایم ایف سے بات چیت کو فوری طور پر آگے بڑھانے کی ہدایت کی-

    امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی الیکشن کیلئے اہل قرار دیدیا

    انہوں نے کہا کہ ایسے ٹیکس پئیرز جو کہ ملکی برآمدات میں اضافے اور ملکی معیشت میں ویلیو ایڈیشن کے لئے کام کر رہے ہیں وہ ہمارے سروں کا تاج ہیں ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں،اچھے ٹیکس پئیرز کی حکومتی سطح پر پذیرائی کی جائے گی ،فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں شفافیت لانے کے لئے آٹومیشن نا گزیر ہے، ایف بی آر اور دیگر اداروں کی آٹومیشن پر فی الفور کام شروع کیا جائے : وزیراعظم کی ہدایت

    وزیراعظم نے کہا کہ نقصان میں جانے والے حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری کی جائیگی تاکہ یہ ادارے ملکی معیشت پر مزید بوجھ نہ بنیں،انہوں نے وزیراعظم کی حکومتی بورڈز کے ممبران کی مراعات میں کمی کے لئے واضح حکمت عملی ترتیب دینے کے لئے کمیٹی تشکیل دینے اور پاور اور گیس سیکٹرز کی اسمارٹ میٹرنگ پر منتقلی کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی –

    چین کا بھارت کے 17 رافیل لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ

    انہوں نے کہا کہ اسمارٹ میٹرنگ سے لائین لاسز کم کرنے مدد ملے گی تمام بینکس اور مالیاتی ادارے درمیانے اور چھوٹے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لئے حکمت عملی تیار کریں تاکہ ملک کے نوجوانوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد مل سکے، حکومتی حجم کم کیا جائے گا ؛ ایسے ادارے جن کی ضرورت نہیں انہیں یا تو ضم کر دیا جائے یا پھر بند کر دیا جائے؛ اس حوالے سے حکمت عملی بنائی جائے –

    وزیراعظم نے کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل ملک میں معاشی استحکام کے حوالے سے ایک انتہائی اہم قدم ہے جس کو مزید مستحکم کیا جائے گا،وزیراعظم کا اگلا اجلاس فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حوالے سے منعقد کیا جائے گا ،عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں گے،کاروباری برادری، سرمایہ کاروں اور نوجوانوں کو سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہیں –

    ایکس کے بندش کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں کل سماعت ہوگی

  • برطانوی راج میں انگریزی اور فرانسیسی زبان کی ہندستانی شاعرہ، ناول نگار اور مترجم  تورودت

    برطانوی راج میں انگریزی اور فرانسیسی زبان کی ہندستانی شاعرہ، ناول نگار اور مترجم تورودت

    تورودت

    تورو دت برطانوی راج میں انگریزی اور فرانسیسی زبان کی ہندستانی شاعرہ، ناول نگار اور مترجم تھیں۔ انہوں نے ہندوستانی ادب کو انگریزی زبان میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا تعلق بنگال سے تھا۔04 مارچ 1856ء کو پید ہوئیں، ہندو گھرانے میں پیدا ہونے کے بعد خاندان سمیت عیسائی مذہب قبول کر لیا۔ فرانس اور انگلستان کے سفر اختیار کیے جہاں انہوں نے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ اپنی تخلیقیات سے انگریزی ادب پر گہرے نقش چھوڑے۔ وہ ہندوستان کی پہلی ناول نگار ہیں جنہوں فرانسیسی زبان میں ناول تحریر کیا۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    تورو دت 04 مارچ 1856 کو بنگال کے ایک ہندو خاندان میں پیدا ہوئیں۔ والد گووند چند دت کو سنسکرت اور قدیم ہندو تہذیب میں تعلیم و تربیت سے دلچسپی تھی۔تورو دت جب 6 سال کی تھیں کہ ان کا سارا خاندان عیسائی ہوگیا۔ تورو دت اور ان کا خاندان 1868ء میں یورپ کے سفر پر روانہ ہوئے۔ 1870ء میں فرانس کے بعد اس خاندان کے لوگ انگلستان چلے گئے۔ فرانس میں تورو اور اس کی بہن آرو نے اسکول میں داخلہ لیا تھا، لیکن اسکول چھوڑ کر گھر پر ہی فراانسیسی زبان سیکھی۔ 1871ء میں نیونہم کالج، جامعہ کیمبرج میں داخل ہوئیں، وہاں انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ وہ ستمبر 1873ء میں ہندوستان واپس آگئیں۔ جو کارنامے انہوں نے اپنے پیچھے چھوڑے وہ علمی نقطہ نظر سے ایک فن کارانہ اور قیمتی ذخریرہ ہیں۔ اگر انہیں زیادہ عمر ملی ہوتی تو دنیا کو ہندوستانی پرانوں اور کہانیوں سے کافی واقفیت ہو جاتی۔ انہوں نے جو تراجم کیے ان سے ہندوستان کی عزت بڑھی۔ ادب کو اپنی زندگی کا مقصد قرار دے کر سنسکرت زبان سے سیتا، لکشمی دھرو تیرملا کی کہانیوں کو انگرزی زبان میں متعارف کرایا۔ انہوں نے فرانسیسی زبان میں ایک ناول بھی لکھا تھا جو ان کے وفات کے بعد فرانس سے شائع ہوا۔
    جیون برکش (The Tree of Life)، کنول اور The Casrive فرانسیسی زبان میں ان کی مشہور نظمیں ہیں۔ انہوں نے مسیح کی تعلیمات کے عنوان پر نظمیں لکھیں۔ وہ ایک عیسائی خاتون تھیں جنہوں نے سماج کی خدمت مختلف طریقوں سے انجام دی اور مادرِ وطن کا نام نام بھی روشن کیا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    تورو دت 30 اگست، 1877ء کو بنگال کے شہر کلکتہ میں انتقال کر گئیں۔ ان کی تدفین کلکتہ کے مانکتلا کرسچن قبرستان میں ہوئی۔

  • 04 مارچ  تاریخ کے آئینے میں

    04 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    04 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    1665ء برطانوی بادشاہ چارلس دوم نے ہالینڈ سے جنگ کا اعلان کیا۔

    1789ء امریکی کانگریس نے امریکی آئین کی منظوری دی۔

    1791ء ورماؤنٹ امریکہ کی چودہویں ریاست بنا۔

    1861ء ابراہم لنکن نے امریکہ کے سولہویں صدرکی حیثیت سے سنبھالا۔

    1861ء امریکا کا پہلا قومی پرچم بنایا گیا۔

    1894ء شنگھائی میں بڑے پیمانے پر آتشزدگی سے ایک ہزار سے زائد عمارتیں راکھ کا ڈھیر بن گئیں۔

    1945ء فن لینڈ نے جرمنی سے جنگ کا اعلان کیا۔

    1945ء برطانیہ میں شہزادی ایلزبتھ نے بطور ڈرائیور برطانوی افواج میں شمولیت اختیار کی جو بعد میں ملکہ الزبتھ دوم بنیں۔

    1956ء واحد صدارتی امیدوار اسکندر مرزا پاکستان کے صدر منتخب ہوئے۔

    1962ء پہلے امریکی ایٹمی پاور پلانٹ نے انٹارکٹیکا میں کام شروع کیا۔

    1977ء رومانیہ میں زلزلہ سے ایک ہزار پانچ سو اکتالیس افراد ہلاک ہو گئے۔

    2008ء لاہور کے بحریہ وار کالج کی پارکنگ میں خودکش حملہ، 3 اہلکاروں سمیت 5 شہید، 11 زخمی ہو گئے۔

    04 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    1325ء۔۔۔حضرت خواجہ نظام الدین اولیا ٭ برصغیر پاک و ہند کے عظیم بزرگ سلطان المشائخ محبوب الٰہی حضرت نظام الدین اولیاء27صفر المظفر 636ہجری بمطابق 9اکتوبر 1238ء کو بدایوں میں پیدا ہوئے۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کا اصل نام محمد تھا اور آپ کاسلسلہ نسب حضرت علی تک پہنچتا ہے۔ مولانا علاء الدین اصولی سے قرآن پاک پڑھا اور مزید تعلیم کی حصول کے لیے دہلی پہنچے جہاں آپ نے مولانا شمس الدین وامغانی، مولانا کمال الدین اور مختلف مشاہیر سے مختلف علوم کی تحصیل کی ۔ 20 برس کی عمر میں آپ بابا فرید گنج شکرؒ کی خدمت میں پاکپتن پہنچے جنہوں نے آپ کو اپنا خلیفہ مقرر کیا۔ بابا صاحب نے آپ کو جو نصائح اور ہدایات فرمائیں ان کی تفصیل آپ کی تصنیف راحت القلوب میں درج ہیں۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے مریدین میں حضرت امیرخسرو کا نام سرفہرست ہے ۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کی تاریخ وصال 4 مارچ 1325ء مطابق 18 ربیع الاول 725 ہجری ہے۔ آپ کا مزار دہلی میں ہے، جہاں ہر سال لاکھوں زائرین حاضری دیتے ہیں۔ آپ سلسلہ نظامیہ کے بانی ہیں جو سلسلہ چشتیہ کی ایک شاخ ہے۔ آپ کی تصانیف میں فوائد الفواد، فصل الفواد، راحت المحبین اور سیر الاولیا کے نام سرفہرست ہیں

    1769ء محمد علی پاشا ، مصری فوجی و سیاستدان ، آلِ محمد علی کی سلطنت کے (18 جون 1805ء تا 20 جولائی 1848ء) پہلے بادشاہ اور جدید مصر کے بانی تھے۔ وہ مصر کے خدیو یا والی تھے۔ محمد علی موجودہ یونان کے شہر کوالا میں ایک البانوی خاندان میں پیدا ہوئے۔ نوجوانی میں تجارت سے وابستہ ہونے کے بعد وہ عثمانی فوج میں شامل ہو گئے۔ (وفات: 3 اپریل 1849ء)

    1811ء جان لارنس ، برطانوی سیاستدان و شاہی ریاستکار (12 جنوری 1864ء تا 12 جنوری 1869ء) 25واں گورنر جنرل اور وائسرائے ہند۔ (وفات: 27 جون 1879ء)

    1882ء سر رالف گرفتھ ، انگریز سفارتکار ، برطانوی ہندوستان میں ایڈمنسٹریٹر تھے اور موجودہ پاکستانی صوبے این ڈبلیو ایف پی (خیبر پختونخوا) کے (1931ء تا 1932ء) پہلےچیف کمشنر اور (1932ء تا 1937ء) پہلے گورنر (وفات: 11 دسمبر 1963ء)

    1899ء مہاراج غلام حسین کتھک ، صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی و نگار ایوارڈ یافتہ پاکستان کے معروف کلاسیکی رقاص و معلم (وفات: 29 جون، 1998ء)

    1916ء خورشید جہاں بمعروف بیگم خورشید مرزا ، تقسیم ہند سے قبل فلمی ہیروئن اور مشہور پاکستانی اداکارہ، آپ بیتی نگار و سماجی کارکن۔٭4 مارچ 1918ء بھارت کی سابق فلمی اداکارہ اور پاکستان ٹیلی وژن کی ممتاز فنکارہ بیگم خورشید مرزا کی تاریخ پیدائش ہے۔ بیگم خورشید مرزا کا اصل نام خورشید جہاں تھا اور ان کا تعلق علی گڑھ کے ایک ممتاز گھرانے سے تھا۔ ان کے والد شیخ عبداللہ نے علی گڑھ میں مسلم گرلز کالج کی بنیاد رکھی تھی اور ان کی بڑی بہن ڈاکٹر رشید جہاں انجمن ترقی پسند مصنّفین کی بانیوں میں شامل تھیں۔ ان کی دیگر بہنیں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں۔ خورشید جہاں کی شادی، سترہ برس کی عمر میں ایک پولیس آفیسر اکبر حسین مرزا سے ہوئی۔ خورشید جہاں کے بھائی محسن عبداللہ بمبئی میں دیویکارانی اور ہمانسورائے کے فلمی ادارے بمبئی ٹاکیز سے وابستہ تھے۔ ان کے توسط سے جب دیویکا رانی کی ملاقات خورشید جہاں سے ہوئی تو انہوں نے انہیں اپنی فلموں میں اداکاری کی دعوت دی۔ یوں خورشید جہاں نے رینوکا دیوی کے نام سے فلموں میں کام کرنا شروع کردیا۔ ان کی مشہور فلموں میں جیون پربھات، بھابی، نیا سنسار اور غلامی شامل تھیں۔ قیام پاکستان کے بعد خورشید جہاں، جو اب بیگم خورشید مرزا بن چکی تھیں پاکستان آگئیں اور انہوں نے یہاں ریڈیو اور ٹیلی وژن کے متعدد ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور ریڈیو کے کئی پروگراموں کی کمپیئرنگ بھی کی۔ ٹیلی وژن پر ان کی مشہور سیریلز میں کرن کہانی، زیر زبر پیش،انکل عرفی، پرچھائیں، رومی،افشاں اور انا کے نام سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ ڈرامہ ماسی شربتے میں بھی ان کا کردار بڑا یادگار سمجھا جاتا ہے۔1984ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ بیگم خورشید مرزا کی سوانح عمری A Woman of Substance کے نام سے شائع ہوچکی ہے جو ان کی صاحبزادی لبنیٰ کاظم نے تحریر کی ہے۔ 8 فروری 1989ء کو بیگم خورشید مرزا لاہور میں وفات پاگئیں اور میاں میر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

    1918ء محمد بن عبد العزیز آل سعود ،سعودی عرب کے حکمران خاندان آلِ سعود کے اہم رکن، سیاستدان اور (2 نومبر 1964ء تا 29 مارچ 1965ء) ولی عہد سلطنت ، اپنے چھوٹے بھائیوں خالد بن عبدالعزیز آل سعود اور فہد بن عبدالعزیز آل سعود کے قریبی اور طاقتور معتمد اور مشیر (وفات: 26 نومبر 1988ء)

    1922ء دینا پاٹھک ، بھارتی اداکارہ اور گجراتی تھیٹر کی ڈائریکٹر (وفات: 11 اکتوبر 2002ء)

    1932ء سلیم رضا پرانا نام نوئیل دیاس، پاکستانی گلوکار (وفات: 25 نومبر 1983ء)

    1932ء میریم مکیبا ، جنونی افریقی اداکارہ و گلو کارہ (وفات: 9 نومبر 2008ء)

    1934ء ڈاکٹر حسن منظر ، پاکستانی ماہر نفسیات اور افسانہ نگار

    1935ء ڈاکٹر محمد ریاض ، پاکستانی سے تعلق رکھنے والے اردو اور فارسی ادیب، محقق، ماہرِ اقبالیات اور ماہرِ تعلیم (وفات: 26 نومبر 1994ء)

    1938ء الفا کوندے ، جمہوریہ گنی کے سیاست دان و مصنف ، وہ دسمبر 2010ء سے جمہوریہ گنی کے صدر اور 30 جنوری 2017 ء تا 28 جنوری 2018ء) سربراہ افریقی اتحاد ۔

    1945ء امیرالملک مینگل ، بلوچستانی وکیل، منصف ، (21 نومبر 1996ء تا 17 اپریل 1997ء) چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ اور (8 اپریل 1997ء تا 22 اپریل 1997ء نگران اور 21 اکتوبر 1999ء تا یکم فروری 2003ء) 18ویں گورنر بلوچستان

    1965ء خالد حسینی ، افغان نژاد امریکی ناول نگار اور طبیب

    1968ء غلام محمد لالی ، پاکستانی سیاست دان ، (یکم جون 2013ء تا 31 مئی 2018ء) پنجاب کے حلقہ این اے۔87 (NA-87 (Jhang-II) سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر ممبر چودھویں قومی اسمبلی رہے۔

    1970ء اینڈریا بینڈیوالڈ ، امریکی ٹیلی ویژن اداکارہ

    1973ء تارا ، بھارتی فلمی اداکارہ

    1980ء کملینی مکھرجی ، بھارتی فلمی اداکارہ

    1987ء شاردھا داس ، بھارتی فلمی اداکارہ

    1990ء اینڈریا بون ، امریکی فلمی اداکارہ

    1998ء سعدیہ گل ، بنوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی پیشہ ور اسکواش کھلاڑی

    1932ء۔۔۔٭پاکستان کی مشہور اداکارہ، ملکہ جذبات، نیر سلطانہ کی تاریخ پیدائش 4 مارچ 1932ء ہے۔ نیر سلطانہ کا اصل نام طیبہ خاتون تھا اور وہ علی گڑھ میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کی پہلی فلم ہدایت کار انور کمال پاشا کی قاتل تھی جو 1955ء میں نمائش پذیر ہوئی۔ اس فلم میں انہوں نے نازلی فرح کے نام سے کام کیا تھا بعدازاں فلم ساز اور ہدایت کار ہمایوں مرزا نے انہیں نیر سلطانہ کا نام دیا اور اپنی فلم انتخاب میں بطور ہیروئن منتخب کیا۔ نیر سلطانہ کی اصل شہرت کا آغاز فلم سات لاکھ سے ہوا۔ انہوں نے مجموعی طور پر 216 فلموں میں کام کیا جن میں 140 فلمیں اردو میں، 49 فلمیں پنجابی میں، ایک فلم سندھی میں اور 6 فلمیں پشتو میں بنائی گئی تھیں۔ نیر سلطانہ کی یادگار ترین فلموں میں سہیلی، اولاد، گھونگھٹ، باجی، ثریا، ماں کے آنسو اور ایک مسافر ایک حسینہ کے نام سرفہرست تھے۔ انہوں نے پاکستان کے مشہور اداکار درپن سے شادی کی تھی جو پاکستان کی فلمی صنعت کی کامیاب ترین شادیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 27 اکتوبر 1992ء کو نیر سلطانہ کراچی میں وفات پاگئیں اور لاہور میں مسلم ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں۔

  • بھارت اور فرانس کا مصنوعی ذہانت  پر تبادلہ خیال

    بھارت اور فرانس کا مصنوعی ذہانت پر تبادلہ خیال

    نئی دہلی: بھارت اور فرانس نے شعبہ عسکری شعبہ (فوجی ڈومین) میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارت کی وزارت خارجہ کے اعلامیہ کے مطابق نئی دہلی میں دونوں فریقوں نے ’تخفیف اسلحہ اور جوہری عدم پھیلاؤ، کیمیائی، حیاتیاتی ڈومینز کے ساتھ خلائی سلامتی، فوجی ڈومین میں اے آئی سمیت روایتی ہتھیاروں‘‘ سے متعلق ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پربھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے کہا کہ انہوں نے فرانسیسی وزارت خارجہ کی سیکرٹری جنرل این میری ڈیسکوٹس سے ملاقات کی،ہماری اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط سے مضبوط تر ہورہی ہے، دفتر خارجہ کی مشاورت اور اسٹریٹجک اسپیس ڈائیلاگ اس کی رفتار کو مزید بڑھا دے گا۔

  • اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں کو سزائے موت  سنا دی گئی

    اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں کو سزائے موت سنا دی گئی

    قاہرہ: مصر کی فوجداری عدالت نے اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں کو سزائے موت سنا دی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اخوان المسلمین کے 8 رہنماؤں میں 8ویں سپریم گائیڈ 80 سالہ محمد بدیع بھی شامل ہیں جو طویل عرصے سے پابند سلاسل ہیں چند برس قبل محمد بدیع کو سزائے موت سنائی گئی تھی تاہم بعد میں ان کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا گیا تھا،سزائے موت پانے والوں میں 79 سالہ قائم مقام گائیڈ محمود عزت بھی شامل ہیں جنہیں برسوں روپوش رہنے کے بعد اگست 2020 میں قاہرہ سے گرفتار کیا گیا تھا،6 دیگر رہنماؤں یعنی محمد البلتاگی، عمرو محمد ذکی، اسامہ یاسین، صفوت ہیگزی، عاصم عبدالمجید اور محمد عبدالمقصود کو بھی سزائے موت سنائی گئی۔

    مصر نے اخوان المسلمین کو 2013 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا مصری حکومت کی جانب سے یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب حکومت مخالف مظاہروں کے بعد فوج نے صدر مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور اس کے بعد اسکندریہ کے سیدی گبر ضلع میں پرتشدد فسادات میں 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

    پاکستان میں افغان نژاد کالعدم ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ملوث ہونے کی تصدیق

    حکومت نے ان فسادات کی تمام تر ذمہ داری اخوان المسلمین پر عائد کی جبکہ اخوان المسلمین نے ہلاکتوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے صدر مرسی کو معزول کیے جانے کے بعد سے اسلام پسند اخوان المسلمین کے متعدد رہنماؤں کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔

    امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی الیکشن کیلئے اہل قرار دیدیا

    سپریم اسٹیٹ سیکیورٹی پراسیکیوشن نے اپریل 2021 میں کیس کو اسٹیٹ سیکیورٹی کریمنل کورٹ میں بھیج دیا تھا اس مقدمے میں قائدین کی جانب سے قاہرہ کے مشرق میں النصر روڈ پر رابع العدویہ دھرنے سے لے کر ’’پلیٹ فارم میموریل‘‘ تک ایک اجتماع منعقد کرنے کے الزامات شامل تھے۔

    چین کا بھارت کے 17 رافیل لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ

  • چین کا  بھارت کے 17 رافیل لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ

    چین کا بھارت کے 17 رافیل لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ

    بیجنگ: چین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنے جے 20 اسٹیلتھ جیٹ طیاروں کا استعمال کرتے ہوئے بھارت کے 17 رافیل لڑاکا طیاروں کو مار گرایا ہے-

    باغی ٹی وی : چینی میڈیا کے مطابق پی ایل اے ایسٹرن تھیٹر کمانڈ کے ماتحت وانگ ہائی ایئر گروپ سے تعلق رکھنے والے ایک چینی پائلٹ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ 2020 کی نقلی مشقوں میں رافیل لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا، وانگ ہائی ایئر گروپ چین کا پہلا فضائی ونگ ہے جو جے20 لڑاکا طیاروں کا استعمال کر رہا ہے۔

    پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس (پی ایل اے اے ایف) کی اس کامیابی کی اطلاع ملک کی ایسٹرن تھیٹر کمانڈ سے وانگ ہائی ایئر گروپ سے وابستہ ایک چینی پائلٹ نے دی۔

    بلغاریہ کے ملٹری ڈیفنس پورٹل کی رپورٹ کے مطابق، چینی پائلٹ نے بتایا کہ اس نے اور اس کے ساتھیوں نے فضائی جنگی تخروپن کے دوران ہندوستانی فضائیہ کے 17 رافیل لڑاکا طیاروں کو "مار گرایا”۔

    مولانا فضل الرحمن کا شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی سے ملاقات

    ملٹری سمیولیشنز یا وار گیمز میں ایسے ماحول تیار کیے جاتے ہیں جہاں جنگی نظریات کو حکمت عملی اور اسٹریٹیجک حل تیار کرنے اور حقیقی جنگ میں غلبہ حاصل کرنے کے لیے جانچا جاتا ہے۔

    ملٹری سمیولیشنز کے تحت فلائٹ سمیولیٹرز کا استعمال فضائی لڑائی کو دوبارہ بنانے اور اصل ہوائی جہاز کے کاک پٹ کے حقیقت پسندانہ جسمانی پہلوؤں کو بہتر سمجھنے کے لیے کیا جاتا ہے، جو اکثر فل موشن پلیٹ فارم پر نصب ہوتا ہے اور اصلی تجربہ فراہم کرتا ہے۔

    اس کا استعمال پائلٹوں کی تیاری، لڑاکا طیاروں کی خصوصیات پر تحقیق کرنے اور حقیقی جنگی طیارے میں سوار ہوئے بغیر ہینڈلنگ کی خصوصیات کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا جاتا ہے،یہ فائٹر جیٹ کی پرواز، فلائٹ کنٹرول کے اطلاق، دیگر ہوائی جہاز کے نظام کے اثرات، اور ہوا کی کثافت، ہنگامہ خیزی، ونڈ شیئر، بادل، بارش وغیرہ جیسے بیرونی عوامل پر جیٹ کے رد عمل کی مساوات کو دوبارہ تیار کرتا ہے۔

    پاکستان میں افغان نژاد کالعدم ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ملوث ہونے کی تصدیق

    اگرچہ اس طرح کے نقوش کو ماہرین نے ان کی تخمینی نوعیت اور حقیقی جنگ میں غیر یقینی صورتحال کو نقل کرنے میں ناکامی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے، لیکن یہ اب بھی فوجیوں کے لیے ضروری ہیں تاکہ وہ اپنے طیاروں کی جانچ کریں اور دشمن سے الجھے بغیر پریکٹس کرسکیں۔

    ہندوستانی فضائیہ 36 رافیل لڑاکا طیاروں کا مالک ہے جسے Dassault Aviation نے تیار کیا تھا اور گزشتہ سال، مبینہ طور پر ان 4.5 جنریشن کے لڑاکا طیاروں میں سے 26 کو اپنی بحریہ کے استعمال کے لیے آرڈر کیا تھا رافیل لڑاکا طیارے کا بحری قسم ہندوستان کے طیارہ بردار بحری جہازوں پر استعمال کرنے کے لیے ہے۔

    رافیل لڑاکا طیاروں کے علاوہ، ہندوستانی فضائیہ کے پاس تقریباً 250 Sukhoi Su-30MKI لڑاکا طیارے بھی ہیں، جن میں سے زیادہ تر ہندوستانی ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) نے مقامی طور پر بنائے ہیں۔

    استحکام پاکستان پارٹی کا صدر کے انتخاب میں آصف علی زرداری کو ووٹ دینے …

    چین اور دیگر ممالک کی فضائی افواج اپنے آپ کو اور اپنے اثاثوں کو حقیقی جنگی حالات میں بے نقاب کیے بغیر اپنی فضائی حکمت عملیوں اور حکمت عملیوں کو جانچنے اور تیار کرنے کے لیے فضائی جنگی نقلی استعمال کرتی ہیں۔

    اس طرح، ان نقالی کے نتائج بنیادی طور پر فوجی منصوبہ سازوں کے مطالعہ کے لیے ہیں اور یہ اس بات کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں کہ میدان جنگ میں کیا واقع ہو سکتا ہے۔

    J-20 "مائٹی ڈریگن” اور رافیل لڑاکا طیارے دونوں AESA (ایکٹو الیکٹرانک سکینڈ اری) ریڈار سے لیس ہیں، لیکن پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے میں 4.5 جنریشن کے فرانسیسی ساختہ طیاروں کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ریڈار ہونے کی اطلاع ہے۔

    مزید برآں، J-20 لڑاکا طیارہ اسٹیلتھ کے قابل ہے، رافیل کے برعکس، جس میں صرف کم ریڈار کراس سیکشن ہے۔

    یوٹیلیٹی اسٹورز پرساڑھے7 ارب روپےکا رمضان ریلیف پیکج کا اعلان کردیا گیا

  • امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی الیکشن  کیلئے اہل قرار دیدیا

    امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی الیکشن کیلئے اہل قرار دیدیا

    واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کے لیے اہل قرار دیدیا۔

    باغی ٹی وی : بی بی سی کےمطابق امریکی سپریم کورٹ نےقراردیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدارتی انتخابات کے لیے اہل ہیں، ریاستوں کی سپریم کورٹ فیصلہ نہیں کر سکتیں کہ کوئی صدارتی امیدوار نااہل ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کو کولوراڈو کے بیلٹ پیپر سے غلط طریقے سے ہٹایا گیا، امریکی سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر 6 جنوری 2021 کے کیپٹل ہل فسادات کے دوران ٹرمپ کو پرائمری بیلٹ سے ہٹانے کے فیصلے کو مسترد کردیا۔

    واضح رہے کہ رہے گزشتہ سال ریاست کولوراڈو کی سپریم کورٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا تھا عدالت نے کیپٹل ہل پر حملے میں ان کے کردار کے لیے امریکی آئین میں بغاوت کی شق کا حوالہ دیا،کولوراڈو کی سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ‘ججوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ ٹرمپ 14ویں ترمیم کے سیکشن تین کے تحت عہدہ صدارت کے اہل ہی نہیں ہیں۔