Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ٹک ٹاک کا جنون ایک اور  نوجوان کی جان لے گیا

    ٹک ٹاک کا جنون ایک اور نوجوان کی جان لے گیا

    ٹوبہ ٹیک سنگھ : ٹک ٹاک ویڈیو بنانےکا جنون ایک اور نوجوان کی جان لے گیا-

    باغی ٹی وی : ریسکیو اہلکاروں کے مطابق واقعہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اکال والا روڈ کے قریب پیش آیا، جہاں گارڈن ٹاؤن کے رہائشی 18 سالہ احمد نےگزشتہ شام اپنے دوست کو ٹک ٹاک ویڈیو بنانےکا کہہ کر تالاب میں چھلانگ لگادی، مگر تالاب کی گہرائی زیادہ ہونےکے باعث پانی میں ڈوب گیا، اطلاع ملنے پر ریسکیو عملہ پہنچا اور آدھے گھنٹے بعد نوجوان کی لاش نکال کر اسپتال منتقل کردی،واقعے پر ڈپٹی کمشنر محمد نعیم نے اظہار افسوس کرتے ہوئےکہاکہ نوجوان سوشل میڈیا کا استعمال احتیاط سے کریں۔

    تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کیلئے سینیٹ میں قرارداد جمع

    دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر بہرامند تنگی نے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کیلئے سینیٹ میں قرارداد جمع کرائی،قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ‏یوٹیوب، ٹوئٹر، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سمیت تمام سوشل میڈیا کو بند کر دیا جائے تاکہ نوجوان نسل محفوظ رہ سکے، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ملک میں نوجوان نسل کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں، ان پلیٹ فارمز کو ہمارے مذہب اور ثقافت کے خلاف اصولوں کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے زبان اور مذہب کی بنیاد پر لوگوں میں نفرت پیدا ہو رہی ہے۔

    بھارت نے پاکستان آنے والے بحری جہاز کو روک لیا

    اچھرہ مارکیٹ میں خاتون کو ہراساں کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج

  • تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کیلئے سینیٹ میں قرارداد جمع

    تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کیلئے سینیٹ میں قرارداد جمع

    اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر بہرامند تنگی نے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کیلئے سینیٹ میں قرارداد جمع کرادی۔

    باغی ٹی وی : بہرامند تنگی کی جانب سے ‏سینیٹ میں جمع کرائی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ‏یوٹیوب، ٹوئٹر، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سمیت تمام سوشل میڈیا کو بند کر دیا جائے تاکہ نوجوان نسل محفوظ رہ سکے، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ملک میں نوجوان نسل کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں، ان پلیٹ فارمز کو ہمارے مذہب اور ثقافت کے خلاف اصولوں کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے زبان اور مذہب کی بنیاد پر لوگوں میں نفرت پیدا ہو رہی ہے۔

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی نے مولانا فضل الرحمان سے مدد مانگ لی

    قرارداد میں ’افواج پاکستان کے خلاف منفی اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے کے ذریعے ملکی مفادات کے خلاف ایسے پلیٹ فارمز کے استعمال پر تشویش کا اظہار‘ کیا گیا ہے، اس بات کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ اس طرح کے پلیٹ فارم کو مفاد پرستوں کی جانب سے مختلف مسائل کے بارے میں جعلی خبریں پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور نوجوان نسل کو دھوکہ دینے کے لیے ملک میں جعلی قیادت پیدا کرنے اور اسے فروغ دینے کی کوشش کی جاتی ہے،سینیٹ آف پاکستان حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ فیس بک، ٹک ٹاک، انسٹاگرام، ٹویٹر (X) اور یوٹیوب پر پابندی عائد کرے تاکہ نوجوان نسل کو ان کے منفی اور تباہ کن اثرات سے بچایا جا سکے‘۔

    اچھرہ مارکیٹ میں خاتون کو ہراساں کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج

    الیکشن کے بعد بھی عمران خان نے دو غلطیاں کیں، راجہ ریاض

    واضح رہے کہ پاکستان میں پہلے ہی 18 دن سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے –

  • بھارت نے پاکستان آنے والے بحری جہاز کو  روک لیا

    بھارت نے پاکستان آنے والے بحری جہاز کو روک لیا

    ممبئی: بھارت نے چین سے کراچی آنے والے ایک بحری جہاز کو ممبئی کی بندرگاہ میں روک لیا ہے۔

    باغی ٹی وی:بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین کسٹم حکام نےجہاز کو اسمیں جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام میں استعمال ہونے والے سامان کی موجودگی کے شبے میں روکا ہے،کسٹم حکام نے انٹیلیجنس ان پٹ کی بنیاد پر مالٹا سےتعلق رکھنے والے تجارتی جہاز “CMA CGM Attila“ کو 23 جنوری کو روکا اور اس سامان کا معائنہ کیا، جس میں کمپیوٹر نیومریکل کنٹروتازہ ترینل (CNC) مشین شامل تھی، جو کہ ایک اطالوی کمپنی کی تیار کردہ ہے، بھارتی ادارے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO) کی ایک ٹیم نے بھی اس سامان کا معائنہ کیا اور تصدیق کی کہ اسے پاکستان اپنے جوہری پروگرام کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق یہ آلات پاکستان کے میزائل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے اہم پرزوں کی تیاری میں کارآمد ثابت ہوں گے بھارتی دفاعی حکام نے سامان کا معائنہ کرنے کے بعد اسے قبضے میں لے لیا ہے۔

    اچھرہ مارکیٹ میں خاتون کو ہراساں کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج

    بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ لوڈنگ کے بل اور کنسائنمنٹ کی دیگر تفصیلات کے مطابق سامان ”شنگھائی جے ایکس ای گلوبل لاجسٹکس کمپنی لمیٹڈ“ نے لوڈ کیا اور اس کا کنسائنی (وصول کنندہ) سیالکوٹ میں ”پاکستان ونگز پرائیویٹ لمیٹڈ“ ہے، تاہم، بھارت کا دعویٰ ہے کہ 22,180 کلو گرام وزنی یہ کھیپ تائیوان مائننگ امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی لمیٹڈ کی طرف سے بھیجی گئی تھی اور یہ پاکستان میں کاسموس انجینئرنگ کے لیے تھی۔

    ملکی برآمدات کو بڑھانے کا واحد حل توانائی نرخوں میں کمی ہے،گوہر اعجاز

    الیکشن کے بعد بھی عمران خان نے دو غلطیاں کیں، راجہ ریاض

  • شائقین کو نامناسب اشارے کرنے پر   رونالڈو پر میچ  کی پابندی اور بھاری جرمانہ

    شائقین کو نامناسب اشارے کرنے پر رونالڈو پر میچ کی پابندی اور بھاری جرمانہ

    ریاض: سعودی فٹبال لیگ میچ کے دوران شائقین کو نامناسب اشارے کرنے پر پرتگال کے سٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو پر ایک میچ کی پابندی اور 10ہزار ریال جرمانہ عائد کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹ کے مطابق سعودی فٹبال لیگ میں الشباب اور النصر کلب کے میچ کے دوران شائقین نے میسی میسی کے نعرے لگائے تھے جس پر کرسٹیانو رونالڈو غصے میں آگئے اور انہوں نے شائقین کو نامناسب اشارے کیے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔

    تاہم سعودی فٹ بال فیڈریشن کی ڈسپلنری اینڈ ایتھکس کمیٹی نے تحقیقات کے بعد کرسٹیانو رونالڈو پر ایک میچ کی پابندی اور 10 ہزار سعودی ریال جرمانہ عائد کر دیا ہےفیڈریشن کے مطابق فیصلہ حتمی ہے اور اس کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی، میچ میں رونالڈو کی ٹیم النصر نے الشباب کلب کو 2-3 سے شکست دی تھی۔

    سلطانز کیخلاف میچ میں سرپر گیند لگنے سے زخمی سرفراز کی رپورٹس آ گئیں

    جرمانہ عائد کرنے والی کمیٹی کا کہنا ہے کہ انہیں 10,000 سعودی ریال (2,666 ڈالر) کا جرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا اور شکایت درج کرانے کی فیس کے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے الشباب کو 20,000 ریال ادا کرنے ہوں گے۔

    پی ایس ایل 9: لاہور قلندرز کو مسلسل پانچویں شکست

    ملتان سلطانز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 13 رنز سے شکست دیدی

  • غزہ میں امداد کیلئے جمع افراد پر بمباری،100 سے زائد فلسطینی شہید

    غزہ میں امداد کیلئے جمع افراد پر بمباری،100 سے زائد فلسطینی شہید

    غزہ کی پٹی میں امداد کے حصول کے لیے جمع ہونے والوں پر اسرائیلی فوج نے بمباری کر دی-

    باغی ٹی وی : ” العربیہ” کے مطابق غزہ کی پٹی میں امداد کے حصول کے لیے جمع فلسطینیوں پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں،شمالی غزہ کی پٹی میں نابلسی گول چکر میں جمع لوگوں پر اسرائیلی حملے میں 100 سے زائد شہری باں بحق اور تقریباً 1000 دیگر زخمی ہوئے ہیں،، وزارت صحت نے اس واقعے کو ”قتل عام“ قرار دیا ہے یہ اس وقت ہوا جب غزہ سٹی جبالیہ اور بیت حانون سے ہزاروں فلسطینی غزہ شہر کے مغرب میں شیخ عجلین کے علاقے میں ہارون الرشید کوسٹل روڈ پر انسانی امداد سے لدے ٹرکوں کی آمد کے منتظر تھے۔

    عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے کچھ شہریوں پراس وقت براہ راست فائرنگ کی جب وہ امداد کے منتظر تھے بڑی تعداد میں زخمیوں کو الشفاء ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں طبی عملے کے پاس ان زخمیوں کے علاج کے لیے سہولیات موجود نہیں، کئی لاشوں اور زخمیوں کو غزہ شہر کے بیپٹسٹ ہسپتال اور جبالیہ کے کمال عدوان ہسپتال میں بھی منتقل کیا گیا۔

    کینیڈا میں پی آئی اے کا ایک اور میزبان سلپ

    انسانی حقوق گروپ یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس آبزرویٹری نے تصدیق کی کہ اس کی فیلڈ ٹیم نے غزہ میں ہزاروں بھوکے شہریوں پر براہ راست فائرنگ کرنے والے اسرائیلی ٹینکوں کے دستاویزی ثبوت جمع کیے ہیں-

    بی بی سی کے مطابق اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اب تک حماس کے 10 ہزار جنگجو فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں مارے گئے ہیں۔ تاہم، حماس نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ اس کا کتنا جانی نقصان ہوا ہے جبکہ روئٹرز نے ایک خبر میں حماس کے اہلکار کے حوالے سے چھ ہزار جنگجوؤں کی ہلاکت کی بات کی تھی، لیکن حماس نے اس کی تردید کی ہے۔

    نیٹو فوجیں یوکرین جنگ میں شامل ہوئیں تو جوہری جنگ چھڑ سکتی ہے،پیوٹن

    واضح رہے کہ سات اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ شہداء میں 70 فیصد بچے اور خواتین شامل ہیں۔

    پرتشدد تنازعوں میں متاثرین کے اعدادوشمار جمع کرنے والی برطانیہ میں قائم تنظیم ایوری کیزوئلٹی کاؤنٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ریچل ٹیلر کے مطابق یہ اندیشہ ہے کہ ’شہریوں کی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے،غزہ کی تقریباً نصف آبادی 18 سال سے کم عمر کی ہے اور جنگ میں مارے جانے والوں میں 43 فیصد بچے بھی شامل ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اموات عام آبادی کی آبادیات کے کافی قریب ہے جس سے ’اندھادھند قتل کی نشاندہی ہوتی ہے۔‘

    29 فروری کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق تنازعے کے آغاز سے لے کر اب تک ہر روز اوسطاً 200 سے زیادہ افراد شہید ہوئے ہیں، بیت المقدس میں کام کرنے والی حقوقِ انسانی کی تنظیم بیت السلم کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگ اسرائیل اور غزہ کے درمیان ماضی میں ہونے والی لڑائیوں سے کہیں زیادہ مہلک ہے۔

  • زمین نام نہ کرنے پر شوہر اور دیوروں نے خاتون کا سر مونڈھ دیا

    زمین نام نہ کرنے پر شوہر اور دیوروں نے خاتون کا سر مونڈھ دیا

    لودھراں: باہمنی والا میں زمین نام نہ کرنے پر شوہر اور دیوروں نے خاتون کا سر مونڈھ دیا۔

    باغی ٹی وی: پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے خاتون کے شوہر اور دونوں دیوروں کو گرفتار کرلیا،متاثرہ خاتون کی والدہ کا کہنا ہے کہ داماد نے شادی کے وقت ایک کنال زمین میری بیٹی کے نام کی تھی، 10 سال سے میری بیٹی کے کوئی اولاد نہیں ہوئی، میرا داماد اور اس کےبھائی میری بیٹی سے زمین واپس اپنے نام کروانا چاہتے ہیں۔

    دوسری جانب بہاولنگر میں پولیس اہلکار نے ساتھی کے ساتھ مل کر خاتون کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا،اور ویڈیو بھی بنائی-

    پولیس اہلکار کی ساتھی کے ساتھ ملکر خاتون سے مبینہ زیادتی

    پولیس ترجمان کے مطابق پولیس اہلکار 25 فروری کو خاتون کو نوکری کاجھانسہ دے کر نامعلوم مقام لےگیا، مبینہ زیادتی کی اور ویڈیو بھی بنائی، خاتون سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور پولیس اہلکار کو فوری طور پر معطل کرکےمحکمانہ کارروائی کا آغازکردیا گیا ہے۔

    پیٹرول کی قیمت میں اضافہ

    خاتون کے مطابق پولیس اہلکار نصیر اور وہ آپس میں قریبی رشتہ دار ہیں، ملزم نےدھمکی دی کہ کسی کو بتایا تو ویڈیو وائرل ہوجائےگی، ڈی پی اونصیب اللہ خان نے واقعےکا نوٹس لیتے ہوئےکہا ہےکہ متاثرہ لڑکی کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورےکیے جائیں گے ۔

    29 فروری کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

  • کینیڈا میں پی آئی اے کا ایک اور میزبان سلپ

    کینیڈا میں پی آئی اے کا ایک اور میزبان سلپ

    ٹورنٹو: پی آئی اے کے فضائی میزبانوں کے سلپ ہونے میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، ٹورنٹو پرواز پر تعینات ایک اور فضائی میزبان مبینہ طور پر ہوٹل سے غائب ہوگیا،جس کے بعد چند ماہ کےد وران ٹورنٹو پروازوں پر تعینات 12 فضائی میزبان سلپ ہوچکے ہیں-

    باغی ٹی وی : پی آئی اے ترجمان نے فضائی میزبان کے غائب ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 29 فروری کو پی آئی اے کی پرواز نمبر 782 پر تعینات فضائی میزبان واپسی کے لئے ڈیوٹی کے لئے نہیں پہنچا، جبران بلوچ نامی فلائٹ اسٹیورڈ اس ماہ میں سلپ ہونے والا دوسرا فضائی میزبان ہے، کچھ روز قبل ایک خاتون ائیر ہوسٹس بھی ہوٹل سے لاپتہ ہوچکی ہیں، عملے کی جانب سے جبران بلوچ کے کمرے کی تلاشی پر اس کے سلپ ہونے کا انکشاف ہوا جبران بلوچ کے مبینہ طور پر غائب ہونے اطلاع ٹورنٹو پولیس اور بارڈر سیکیورٹی فورس کو اطلاع کردی ہے۔

    ٹورنٹو پرواز پر تعینات عملے کے پاسپورٹ حکام کے پاس جمع کرانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا، چند ماہ میں ٹورنٹو پروازوں پر تعینات 12 کے قریب فضائی میزبان سلپ ہوچکے ہیں۔

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان

    الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ کبھی نہیں کیا، فافن کی شیعب شاہین کے دعوے …

    لاہور میں میلہ چراغاں پر 2 مارچ کو چھٹی کا اعلان

  • پولیس اہلکار کی ساتھی کے ساتھ ملکر خاتون سے مبینہ زیادتی

    پولیس اہلکار کی ساتھی کے ساتھ ملکر خاتون سے مبینہ زیادتی

    بہاولنگر : پولیس اہلکار نے ساتھی کے ساتھ مل کر خاتون کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا،اور ویڈیو بھی بنائی-

    باغی ٹی وی:پولیس ترجمان کے مطابق پولیس اہلکار 25 فروری کو خاتون کو نوکری کاجھانسہ دے کر نامعلوم مقام لےگیا، مبینہ زیادتی کی اور ویڈیو بھی بنائی، خاتون سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور پولیس اہلکار کو فوری طور پر معطل کرکےمحکمانہ کارروائی کا آغازکردیا گیا ہے۔

    خاتون کے مطابق پولیس اہلکار نصیر اور وہ آپس میں قریبی رشتہ دار ہیں، ملزم نےدھمکی دی کہ کسی کو بتایا تو ویڈیو وائرل ہوجائےگی، ڈی پی اونصیب اللہ خان نے واقعےکا نوٹس لیتے ہوئےکہا ہےکہ متاثرہ لڑکی کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورےکیے جائیں گے ۔

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان

    لاہور میں میلہ چراغاں پر 2 مارچ کو چھٹی کا اعلان

    الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ کبھی نہیں کیا، فافن کی شیعب شاہین کے دعوے …

  • 29 فروری کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    29 فروری کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    29 فروری کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    1980ء – یگال آلون، اسرائیلی جنرل اور سیاستدان۔یگال اسرائیل ڈیفنس فورسز کا ایک جنرل اور اسرائیل کا قائم مقام وزیر اعظم تھا۔

    ٭1968ء۔۔۔پاکستان کے نامور طبلہ نواز استاد اللہ دتہ نے کراچی میں وفات پائی اور علی باغ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ وہ 1908ء کے لگ بھگ سیالکوٹ کے ایک گاؤں بہاری پور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد رحیم بخش سارنگی نواز تھے۔ استاد اللہ دتہ نے کم عمری میں طبلہ بجانا شروع کردیا تھا ان کے اس شوق کو جلابخشنے میں ان کے استاد، استاد قادر بخش کا بڑا اہم کردار تھا۔ استاد اللہ دتہ نے طبلہ بجانے میں بڑے کمالات پیدا کئے۔ وہ جتنا اچھا طبلہ کسی کی سنگت میں بجاتے تھے اتنا ہی اچھا طبلہ اکیلی پرفارمنس میں بجاتے تھے وہ بیان، گت اور پرت سب میں یکساں اختصاص رکھتے تھے۔ انہیں طبلہ نوازی میں ان کے عبور کی وجہ سے ’’پری پیکر‘‘ کا خطاب دیا گیا تھا۔

    1992ء۔۔محبہ انونو (22 ستمبر 1897ء) 11 نومبر 1938ء سے لے کر 27 مئی 1950ء تک اپنے شوہر عصمت انونو کی صدارت ترکیہ کے دوران میں ترکی کی خاتون اول تھیں وہ 22 ستمبر 1897ء کو استنبول کے ضلع فاتح کے محلہ سلیمانی میں پیدا ہوئیں۔ اس کے والد تپ دق (سل) کی وجہ سے انتقال کر گئے جب وہ تین سال کی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد اس کا بھائی بھی فوت ہو گیا۔ خاندان میں ہونے والے نقصانات کے بعد، محبہ کی ماں اس کے ساتھ دادا کے گھر چلی گئی، جہاں اس کی پرورش ہوئی۔ خاندان کے فیصلے کی وجہ سے اس نے پہلی جماعت کے بعد سیکنڈری اسکول چھوڑ دیا۔اس نے 13 اپریل 1916ٰء کو سلطنت عثمانیہ کی فوج کے کرنل (عثمانی ترک زبان: میرالے) کے ایک افسر مصطفی عصمت انونو سے شادی کی۔ 21 دن بعد اس کے شوہر پہلی جنگ عظیم کے مشرق وسطیٰ کے محاذ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ 30 اکتوبر 1918ء کو معاہدۂ مدروس کے اختتام کے بعد ہی گھر واپس آئیں۔ جوڑے کا پہلا بیٹا 1919ء میں پیدا ہوا تھا۔ مصطفیٰ عصمت 1920ء میں ترکی کی جنگ آزادی میں شامل ہونے کے لیے اناطولیہ گئے تھے۔ ایک افسر کی شریک حیات ہونے کے ناطے، جسے عثمانی انتظامیہ نے قومی مزاحمت میں ملوث ہونے کی وجہ سے موت کی سزا سنائی تھی، محبہ اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ اپنے شوہر کے آبائی شہر مالاطیہ چلی گئیں اور برسوں وہیں رہیں۔ جدوجہد کے دور میں 1921ء میں اس کے بیٹے ایزیٹ کا انتقال اس دوران ہوا۔10 نومبر 1938ء کو ترکی جمہوریہ کے بانی اور پہلے صدر، مصطفٰی کمال اتاترک کی وفات کے بعد، مصطفٰی عصمت انونو اگلے دن صدر منتخب ہوئے۔ محبہ انونو اس کے بعد ترکی جمہوریہ کی دوسری خاتون اول کی حیثیت سے سرکاری صدارتی رہائش گاہ میں منتقل ہوگئیں، جہاں وہ 27 مئی 1950ء تک رہیں۔

    1996ء۔۔شمس پہلوی پہلوی خاندان کی ایک ایرانی شہزادی تھی، جو ایران کے آخری شاہ محمد رضا پہلوی کی بڑی بہن تھی۔ اپنے بھائی کے دور میں وہ ریڈ لائین اینڈ سن سوسائٹی کی صدر تھیں۔شمس پہلوی 28 اکتوبر 1917ء کو تہران میں پیدا ہوئیں وہ رضا شاہ اور ان کی تدج الملوک کی بڑی بیٹی تھیں۔جب 1932ء میں تہران میں دوسری مشرقی خواتین کی کانگریس کا اہتمام کیا گیا تو شمس پہلوی نے اس کی صدر اور صدیقہ دولت آبادی نے اس کی سیکرٹری کے طور پر کام کیا۔8 جنوری 1936ء کو، انھوں نے اور ان کی والدہ اور بہن نے کشف حجاب (پردے کے خاتمے) میں ایک اہم علامتی کردار ادا کیا جو تہران ٹیچر کالج میں گریجویشن کی تقریب میں شرکت کرکے خواتین کو عوامی معاشرے میں شامل کرنے کی شاہ کی کوششوں کا ایک حصہ تھا۔ شمس پہلوی نے 1937ء میں اپنے والد کے سخت حکم کے تحت ایران کے اس وقت کے وزیر اعظم محمود دجام کے بیٹے فریدون دجم سے شادی کی، لیکن یہ شادی ناخوشگوار رہی اور رضا شاہ کی موت کے فوراً بعد دونوں نے طلاق لے لی۔ 1941 ءمیں ایران پر اینگلو سوویت حملے کے بعد رضا شاہ کی معزولی کے بعد، شمس اپنے والد کے ساتھ جلاوطنی کے دوران میں پورٹ لوئس، ماریشس اور بعد ازاں جوہانسبرگ، جنوبی افریقہ گئیں اور اس سفر کی اپنی یادداشتیں ماہانہ قسطوں میں1948ء میں اخبار میں ایٹیلا میں شائع کیں۔مہرداد پہلوبڈ سے دوسری شادی کے بعد وہ مختصر مدت کے لیے اپنے عہدوں اور اعزازات سے محروم رہی اور 1945ء سے 1947ء تک امریکا میں مقیم رہیں۔ بعد میں، عدالت کے ساتھ مفاہمت ہو گئی اور آبادان بحران کی ہلچل کے دوران یہ جوڑا صرف تہران واپس آیا۔ انھوں نے 1940ء کی دہائی میں رومن کیتھولک مذہب اختیار کیا۔ شہزادی شمس کو شاہ کے بہترین دوست ارنسٹ پیرون نے کیتھولک مذہب اختیار کرنے پر آمادہ کیا۔ اس کے بعد اس کے شوہر اور بچوں نے کیتھولک مذہب اپنایا۔1953ء کی بغاوت کے بعد ایران واپس آنے کے بعد، انھوں نے اپنے بھائی کی حکومت کو دوبارہ قائم کیا، انھوں نے اپنی بہن شہزادی اشرف پہلوی کے برعکس عوامی سطح پر خود کو کم رکھا اور اپنی سرگرمیوں کو باپ سے ملنے والی وراثت میں وسیع دولت کے انتظام تک محدود رکھا۔1960ء کی دہائی کے اواخر میں، اس نے فرینک لائیڈ رائٹ فاؤنڈیشن کے معماروں کو کارج کے قریب مہرشہر میں موروارڈ محل اور مازندران کے چلوس میں ولا مہرفرین کی تعمیر کے لیے کمیشن دیا۔وہ اسلامی انقلاب کے بعد ایران چھوڑ کر امریکا چلی گئیں اور 29 فروری 1996ء کو اپنی سانتا باربرا اسٹیٹ میں کینسر کی وجہ سے انتقال کر گئیں۔

    2000ء۔۔عارف نکئی ایک پاکستانی سیاست دان تھے۔ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب بھی رہے۔وہ نکئی مثل کے معزز جاٹ خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے پردادا سردار ایشر سنگھ نکئی پیدائشی سکھ تھے جنھوں نے سنہ 1879ء میں اسلام قبول کیا تھا۔عارف نکئی 29 فروری 2000ء کو لاہور میں فوت ہوئے تھے اور آبائی گاؤں واں آدھن میں دفن ہیں

    2016ء – ممتاز قادری یکم جنوری 1985 کو پیدا ہوئے تھے۔ان کا یوم شہادت 29 فروری 2016 ہے۔انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ممتاز قادری کو 01 اکتوبر2011 کو تعزیرات پاکستان اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دومرتبہ موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ممتاز قادری پنجاب کی ایلیٹ فورس کا اہلکار تھے اور وہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے سرکاری محافظوں میں شامل تھے ۔انہوں نے گورنر کو 04 جنوری 2011ء میں اسلام آباد میں ایسے وقت گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا جب سلمان تاثیر ایک ریسٹورنٹ سے نکل کر اپنی گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔پنجاب کے اس وقت کے گورنر سلمان تاثیر نے 2010ء میں ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے ایک مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد، ا س مجرمہ سے شیخوپورہ جیل میں ملاقات کی تھی اوراس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری سے سزا معاف کروانے کا وعدہ کیا تھا۔ ممتاز قادری نے گرفتاری کے بعد اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ ا س نے سلمان تاثیر کو اس لیے قتل کیا کیوں کہ گورنر نےتوہین رسالت کے قانون کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے اس کی تبدیلی کی حمایت کی تھی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے ممتاز قادری کی اپیل پر قتل کے مقدمے میں سزائے موت کو برقرار جبکہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت دی جانے والی موت کی سزا کو کالعدم قرار دیا ۔06 اکتوبر 2015 کو سپریم کورٹ نے ممتاز قادری پر دہشت گردی کی دفعات بھی بحال کردیں جنہیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ختم کالعدم قرار دیا تھا ۔14 دسمبر 2015 کو سپریم کورٹ نے ممتاز قادری کی سزائے موت کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے 2 مرتبہ موت کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دیا۔

    اس کے بعد ممتاز قادری کے اہل خانہ نے صدر ممنون حسین سے انصاف کی اپیل کی اس لیے کہ ممتاز قادری نے ایک توہین رسالت کے مجرم جو اسلام میں واجب القتل تھا کو قتل کیا ہے لہذا اسلامی ریاست کے سربراہ کی حثیت سے صدر مملکت ممتاز قادری کو انصاف فراہم کریں لیکن یہ اپیل رد کر دی گئی۔ اپیل پر فیصلہ دینے سے پہلے ان کی سیکیورٹی بڑھادی گئی تھی۔ممتاز قادری کو 29 فروری2016ء کو اڈیالہ جیل میں پھانسی دی گئی۔جیل حکام کے مطابق ممتاز قادری کو اتوار اور پیر کی درمیانی رات پھانسی دی گئی۔پھانسی کے وقت اڈیالہ جیل جانے والے راستے کو سیل کر دیا گیا تھا اور ان کی لاش قانونی کارروائی پوری کرنے کے بعد اہلِ خانہ کے حوالے کر دی گئی ہے۔ممتاز قادری کو پھانسی دیے جانے کا معاملہ انتہائی خفیہ رکھا گیا اور اس بارے میں پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات کے چند افسران ہی باخبر تھے۔ پھانسی دینے والے شخص کو خصوصی گاڑی کے ذریعے اتوار کی شب لاہور سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل پہنچایا گیا جبکہ عموماً پھانسی دینے والے جلاد کو دو دن پہلے آگاہ کیا جاتا ہے کہ اسے کس جیل میں قیدیوں کو تختہ دار پر لٹکانا ہے۔ پھانسی گھاٹ میں موجود لو گوں کا کہنا ہے کہ ممتاز قادری پھانسی کے وقت حالت روزہ میں تھا اور تختہ دار پر لٹکتے ہوئے اس کی زبان پر درود سلام جاری تھا۔نماز جنازہ یکم مارچ 2016 کو 4 بجے لیاقت باغ میں ادا کی گئی جس میں ایک اندازے کے مطابق کئی لاکھ افراد نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کی امامت علامہ سید حسین الدین شاہ ص، مہتمم جامعہ رضویہ ضیاء العلوم ،راولپنڈی ، سرپرست اعلیٰ تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان نے کرائی۔ جنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت کے باوجود کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ سامنے نہیں آیا۔

    2020ء۔۔محمد علی رمضانی دستک ایک ایرانی سیاست دان تھے جو 2020ء کے انتخابات میں مجلس ایران (ایرانی پارلیمان) کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ وہ ایران عراق جنگ میں بھی شریک رہے تھے۔ 29 فروری 2020ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی موت کی وجہ متنازع ہے۔ ایرانی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ انفلوئنزا تھا تاہم دیگر ذرائع بشمول برطانوی نشریاتی ادارہ (بی بی سی) کے مطابق ان کی موت کی وجہ کورونا وائرس تھا

  • پیٹرول کی قیمت میں اضافہ

    پیٹرول کی قیمت میں اضافہ

    اسلام آباد: نگراں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں4 روپے کا اضافہ کردیا۔

    باغی ٹی وی: فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق قمیت میں اضافے کے بعد فی لیٹر پیڑول 279 روپے 75 پیسے کا ہوگیا پیٹرول کی قیمت میں اضافے کی وجہ بین الاقوامی قیمتوں، امپورٹ پریمیئم اور ایکسچینج ریٹ میں معمولی ایڈجسٹمنٹ ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

    قبل ازیں 16 فروری کو بھی نگراں حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 275 روپے 62 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی، جبکہ ڈیزل کی قیمت 8 روپے 37 پیسے فی لیٹر اضافے کے ساتھ 287 روپے 33 پیسے فی لیٹر پہنچ گئی تھی، جو اب بھی برقرار ہے۔