Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی غیرقانونی قرار

    ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی غیرقانونی قرار

    ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی غیرقانونی قرار دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی:ڈنمارک اور سوئیڈن میں پچھلے کئی ماہ میں قرآن پاک کی بےحرمتی کے متعدد واقعات ہوئے تھے جس کے بعد مسلمان ممالک نے ایسی مذموم حرکتوں پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا جس پر ڈنمارک کی پارلیمنٹ میں قرآن پاک کی بےحرمتی روکنے کا بل منظور ہو گیا ہے جس کے بعد ڈنمارک میں عوامی مقامات پر قرآن پاک کی بےحرمتی غیرقانونی ہوگئی ہے۔

    مبصرین کے مطابق ڈنمارک نے اس قانون کے ذریعے اپنے آزادی اظہار کے قانون اور قومی سلامتی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ قرآن کی بے حرمتی کے واقعات سے دنیا بھر سمیت ڈنمارک کی مسلم کمیونٹی میں شدید تحفظات پائے جاتے تھے۔

    ایف بی آرکے ہزاروں افسران کا ٹیکس فائلر نہ ہونے کا انکشاف

    پاکستان میں بھی اس وقت کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ڈنمارک کے ہم منصب سے قرآنِ پاک کی بےحرمتی کے واقعات پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا تھا ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے بتایا تھا کہ ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے خود اُن سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہےوزیر خارجہ نے ڈنمارک اور دیگر یورپی ملکوں میں قرآن پاک کی بےحرمتی واقعات پر تحفظات ظاہر کیے ہیں، ڈنمارک نے ان گھناؤنے واقعات کی مذمت کی اور مسلم ممالک سے رابطوں میں ہے۔

    ایرانی صدر سرکاری دورے پر ماسکوپہنچ گئے

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ میں نے ڈنمارک کے ہم منصب سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے ایسے اسلاموفوبیا پر مبنی واقعات کو بند کرنے پر زور دیا،میں نے مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور مذہبی برداشت کے فروغ پر بھی زور دیا۔

  • خلیل جبران  لبنانی نژاد امریکی فنکار، شاعر اور مصنف

    خلیل جبران لبنانی نژاد امریکی فنکار، شاعر اور مصنف

    جبران خلیل جبران جو لبنانی نژاد امریکی فنکار، شاعر اور مصنف تھے،خلیل جبران جدید لبنان کے شہر بشاری میں پیدا ہوئے جو ان کے زمانے میں سلطنت عثمانیہ میں شامل تھا، وہ نوجوانی میں اپنے خاندان کے ہمراہ امریکا ہجرت کر گئے اور وہاں فنون لطیفہ کی تعلیم کے بعد اپنا ادبی سفر شروع کیا۔ جبران خلیل جبران اپنی کتاب The Prophet کی وجہ سے عالمی طور پر مشہور ہوئے۔ یہ کتاب 1923ء میں شائع ہوئی اور یہ انگریزی زبان میں لکھی گئی تھی یہ فلسفیانہ مضامین کا ایک مجموعہ تھا، گو اس پر کڑی تنقید کی گئی مگر پھر بھی یہ کتاب نہایت مشہور گردانی گئی، بعد ازاں 60ء کی دہائی میں یہ سب سے زیادہ پڑھی جانے والی شاعری کی کتاب بن گئی یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جبران ولیم شیکسپئیر اور لاؤ تاز کے بعد تاریخ میں تیسرے سب زیادہ پڑھے جانے والے شاعر ہیں

    اسے "غلیظ” کہا جاتا تھا کیونکہ اس کی جلد سیاہ تھی، ذۃین نہیں تھا کیونکہ وہ بمشکل انگریزی بول سکتا تھا۔ جب وہ اس ملک میں پہنچے تو انہیں تارکین وطن کے لیے ایک خصوصی کلاس میں رکھا گیا لیکن، اس کے چند اساتذہ نے اس انداز میں کچھ دیکھا جس میں اس نے اپنے آپ کو ظاہر کیا، اپنی ڈرائنگ کے ذریعے، دنیا کے بارے میں اپنے نظریہ کے ذریعے وہ جلد ہی اپنی نئی زبان پر عبور حاصل کر لے گا۔

    جبران مسیحی اکثریتی شہر بشاری میں پیدا ہوئے، جبران کے والد ایک مسیحی پادری تھےجبکہ جبران کی ماں کملہ کی عمر 30 سال تھی جب جبران کی پیدائش ہوئی، والد جن کو خلیل کے نام سے جانا جاتا ہے کملہ کے تیسرے شوہر تھے غربت کی وجہ سے جبران نے ابتدائی اسکول یا مدرسے کی تعلیم حاصل نہیں کی لیکن پادریوں کے پاس انھوں نے انجیل پڑھی، انھوں نے عربی اور شامی زبان میں انجیل کا مطالعہ کیا اور تفسیر پڑھی۔

    جبران کے والد پہلے مقامی طور پر نوکری بھی کرتے تھے، لیکن بے تحاشہ جوا کھیلنے کی وجہ سے قرض دار ہوئے اور پھر سلطنت عثمانیہ کی ریاست کی جانب سے مقامی طور پر انتظامی امور کی نوکری کی اس زمانے میں جس انتظامی عہدے پر وہ فائز ہوئے وہ ایک دستے کے سپہ سالار کی تھی، جسے جنگجو سردار بھی کہا جاتا تھا۔

    1891ء یا اسی دور میں جبران کے والد پر عوامی شکایات کا انبار لگ گیا اور ریاست کو انھیں معطل کرنا پڑا اور ساتھ ہی ان کی اپنے عملے سمیت احتسابی عمل سے گزرنا پڑا جبران کے والد قید کر لیے گئےاور ان کی خاندانی جائیداد بحق سرکار ضبط کر لی گئی۔ اسی وجہ سے کملہ اور جبران نے امریکا ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا جہاں کملہ کے بھائی رہائش پزیر تھے۔گو جبران کے والد کو 1894ء میں رہا کر دیا گیا مگر کملہ نے جانے کا فیصلہ ترک نہ کیا اور 25 جون، 1895ء کو خلیل، اپنی بہنوں ماریانا اور سلطانہ، اپنے بھائی پیٹر اور جبران سمیت نیویارک ہجرت کی اس کی ماں نے اپنے خاندان کے لیے بہتر زندگی کی تلاش میں امریکہ لے جانے کا ایک مشکل فیصلہ کیا تھا –

    جبران کا خاندان بوسٹن کے جنوبی حصے میں رہائش پزیر ہوا، اس حصے میں اس وقت شامی اور لبنانی نژاد امریکیوں کی کثیر تعداد رہائش پزیر تھی امریکا میں جبران کو اسکول میں داخل کروایا گیا اور اسکول کے رجسٹر میں ان کا نام غلطی سے خلیل جبران درج ہوا اور پھر یہی نام ان کا سرکاری کاغذات میں منتقل ہوتا رہا،ویسے ان کا نام جبران خلیل جبران تھا-

    جبران کی والدہ نے کپڑے کی سلائی کا کام شروع کیا اور لیس اور لینن کا کام کر کے گھر گھر جا کر بیچنا شروع کر دیا جبران نے 30 ستمبر 1895ء کو اسکول کی تعلیم شروع کی اسکول کی انتظامیہ نے انھیں ہجرت کرکے آنے والے طالب علموں کی مخصوص جماعت میں داخل کیا تاکہ وہ انگریزی زبان سیکھ سکیں اسکول کے ساتھ ساتھ جبران نے اپنے گھر کے پاس ہی ایک فنون لطیفہ کے اسکول میں بھی داخلہ لے لیا۔

    فنون لطیفہ کے اسکول میں ان کے استاد نے انھیں بوسٹن کے مشہور فنکار، مصور اور ناشر فریڈ ہالینڈ ڈے سے متعارف کروایا،جنھوں نے جبران کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا اور جبران کے فن میں حوصلہ افزائی کی 1898ء میں پہلی بار جبران کی بنائی ہوئے مصوری کے نمونے ایک کتاب کے سرورق کے لیے استعمال کیے گئے۔

    جبران کی ماں اور ان کے بڑے بھائی پیٹر چاہتے تھے کہ جبران اپنی لبنانی ثقافت کا پرچار کرے اور مغربی ثقافت جس سے جبران متاثر تھے کو ترک کر دے، جبران کی مغربی ثقافت سے متاثر ہونے کی وجہ سے پندرہ سال کی عمر میں جبران کو واپس لبنان بجھوا دیا گیا جہاں انھوں نے مسیحی مارونات کے مدرسے میں تعلیم حاصل کی اور بیروت میں اعلیٰ تعلیم کے لیے منتقل ہوئے۔ بیروت میں اپنے ایک ہم جماعت کے ہمراہ ایک ادبی رسالے کا اجرا کیا اور اپنے تعلیمی ادارے میں “کالج کے شاعر“ کے طور پر مشہور ہوئے۔ یہاں وہ کئی سال تک مقیم رہے اور 1902ء میں بوسٹن واپس چلے گئےان کی بوسٹن واپسی سے تقریباً دو ہفتے قبل ان کی بہن سلطانہ تپ دق میں مبتلا ہو کر چودہ سال کی عمر میں وفات پاگئی اور اس کے اگلے ہی سال ان کے بھائی پیٹر تپ دق کی وجہ سے اور ماں کینسر میں مبتلا ہو کر فوت ہوئیں۔ جبران کی بہن ماریانہ نے جبران کی دیکھ بال کی اور ماریانہ ایک درزی کے پاس نوکری کرتی رہیں-

    انہوں نے لکھا کہ مصیبت سے مضبوط ترین روحیں نکلی ہیں، سب سے بڑے کردار داغوں سے بھرے ہوئے ہیں،وہ 6 جنوری 1883 کو آج کے لبنان میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا،وہ محبت ،امن اور افہام و تفہیم پر یقین پر یقین رکھتا تھا،ان کا نام خلیل جبران تھا، اور وہ بنیادی طور پر اپنی کتاب "دی پرافٹ” کے لیے جانا جاتا ہے-

    دنیا بھر کی 108 زبانوں میں شائع ہونے والے، دی پرافٹ ” کے حوالے شادیوں، سیاسی تقاریر اور جنازوں میں نقل کیے جاتے ہیں، جان ایف کینیڈی، اندرا گاندھی، ایلوس پریسلے، جان لینن اور ڈیوڈ بووی جیسی متاثر کن بااثر شخصیات بھی ان کی مداح ہیں، وہ بے حد بے باک تھے، منافقت اور بدعنوانی کے زدید خلاف تھے ان کی کتابیں بیروت میں جلا دی گئیں اور امریکہ میں اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملیں –

    جبران اپنے خاندان کے واحد فرد تھے جنہوں نے علمی تعلیم حاصل کی۔ اس کی بہنوں کو اسکول میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ کی روایات کے ساتھ ساتھ مالی مشکلات کی وجہ سے۔ جبران، تاہم، اپنے خاندان کی خواتین، خاص طور پر اپنی والدہ کی طاقت سے متاثر تھا۔ ایک بہن، اس کی ماں اور اس کے سوتیلے بھائی کی موت کے بعد، اس کی دوسری بہن، ماریانہ جبران نے کپڑے کی دوکا پر کام کر کے انہیں اور خواد کو پالا-

    اپنی والدہ کے بارے میں خلیل جبران نے لکھا کہ انسانوں کے لبوں پر سب سے خوبصورت لفظ ‘ماں’ ہے، اور سب سے خوبصورت پکار ‘میری ماں’ ہے۔ یہ امید اور پیار سے بھرا ایک لفظ ہے، دل کی گہرائیوں سے نکلنے والا ایک میٹھا اور مہربان لفظ ہے۔ ماں ہی سب کچھ ہے، وہ غم میں ہماری تسلی، غم میں ہماری امید اور کمزوری میں ہماری طاقت ہے۔ محبت، رحم، ہمدردی اور معافی کا۔”

    جبران بعد ازاں خواتین کی آزادی اور تعلیم کی وجہ بنےاس کا ماننا تھا کہ "دوسروں کے حقوق کی حفاظت انسان کا سب سے عظیم اور خوبصورت انجام ہے،نئے تارکین وطن کے لیے ایک نظم میں، انہوں نے لکھا کہ ، "مجھے یقین ہے کہ آپ اس عظیم قوم کے بانیوں سے کہہ سکتے ہیں، ‘میں حاضر ہوں، ایک نوجوان، ایک جوان درخت، جس کی جڑیں لبنان کی پہاڑیوں سے اکھیڑ دی گئیں۔ یہاں بہت گہرائی سے جڑیں ہیں۔ اور میں نتیجہ خیز ہوں گا۔”

    انہوں نے اپنی کتان "دی پرافٹ” میں لکھا کہ آپ اتحاد میں خالی جگہیں ہونے دیں، اور آسمان کی ہوائیں آپ کے درمیان رقص کریں۔ ایک دوسرے سے محبت کرو لیکن محبت کا بندھن نہ بناؤ: اسے اپنی روحوں کے ساحلوں کے درمیان ایک چلتا ہوا سمندر بننے دو۔ ایک دوسرے کا پیالہ بھرو لیکن ایک پیالہ سے نہ پیو۔ اپنی روٹی ایک دوسرے کو دو لیکن ایک ہی روٹی سے مت کھاؤ۔ ایک ساتھ گاؤ اور رقص کرو اور خوش رہو، لیکن تم میں سے ہر ایک کو تنہا رہنے دو، جیسے کہ ایک تار کی تاریں ایک ہی موسیقی کے ساتھ کانپتی ہیں۔ اپنے دل دو، لیکن ایک دوسرے کی حفاظت میں نہیں۔ کیونکہ صرف زندگی کا ہاتھ ہی آپ کے دلوں کو سمیٹ سکتا ہے۔ اور ایک ساتھ کھڑے ہو جاؤ، لیکن ایک دوسرے کے قریب بھی نہیں: کیونکہ ہیکل کے ستون الگ الگ کھڑے ہیں، اور بلوط کا درخت اور صنوبر ایک دوسرے کے سائے میں نہیں بڑھتے ہیں۔

    جبران خلیل 10 اپریل 1931ء کو نیویارک میں وفات پا گئے۔ ان کی موت جگر کی خرابی اور تپ دق کی وجہ سے ہوئی۔ اپنی موت سے پہلے جبران نے خواہش ظاہر کی کہ انھیں لبنان میں دفن کیا جائے ان کی یہ آخری خواہش 1932ء میں پوری ہوئی جب میری ہاسکل اور جبران کی بہن ماریانہ نے لبنان میں مارسرکاس نامی خانقاہ خرید کر وہاں ان کو دفن کیا اور جبران میوزیم قائم کیا جبران کی قبر کے کتبے پر جو الفاظ کشیدہ کیے گئے وہ کچھ اس طرح ہیں، “ایک جملہ جو میں اپنی قبر کے کتبے پر دیکھنا چاہوں گا میں زندہ ہوں تمھاری طرح اور میں تمھارے ساتھ ہی کھڑا ہوں۔ اپنی آنکھیں بند کرو اور اردگرد مشاہدہ کرو، تم مجھے اپنے سامنے پاؤ گے-

    جبران نے اپنے سٹوڈیو کی تمام اشیاء اور فن پارے میری ہاسکل کے نام وصیت میں سپرد کر دیے اس سٹوڈیو میں ہاسکل کو 23 سال تک اپنے اور جبران کے بیچ ہوئی خط کتابت بھی ملی، جس کے بارے پہلے ہاسکل نے یہ فیصلہ کیا کہ انھیں جلا دیا جائے، لیکن ان کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر انھیں محفوظ کر دیا گیا۔ ان خطوط کو میری ہاسکل نے اس کو لکھے گئے جبران کے خطوط سمیت شمالی کیرولائنا کی جامعہ کی لائبریری کو اپنی 1964ء میں وفات سے پہلے سپرد کر دیے۔ بعد ازاں ان خطوط کا کچھ مواد 1972ء میں کتاب Beloved Prophet میں شائع ہوا۔

  • ایف بی آرکے ہزاروں افسران کا ٹیکس فائلر نہ ہونے کا انکشاف

    ایف بی آرکے ہزاروں افسران کا ٹیکس فائلر نہ ہونے کا انکشاف

    اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے 10 ہزار سے زائد افسران کا ٹیکس فائلر نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق ایف بی آر کے 10 ہزار ملازمین نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائے، ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے بیشترافسران گریڈ 17 سے اوپر کے ہیں، ایف بی آر نے تاحال ملازمین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، ایف بی آر میں 25 ہزار سے زائد ملازمین تعینات ہیں۔

    ایف بی آر میں گریڈ 17 سے اوپر افسران کی تعداد 1700 سے زائد ہے، 2022 میں گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے نان فائلر افسران کی تعداد تقریبا 500 سے زائد تھی، تاہم 2023 میں اس کیٹگری میں نان فائلرز کی تعداد اب بھی 300 ہے، صرف 1400 افسران نے 31 دسمبر تک ٹیکس جمع کرانے کی مدت میں خصوصی توسیع کے باوجود اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے ہیں، یہ صورتحال اعلیٰ عہدے پر فائز افسران کی جانب سے ٹیکس کی عدم ادائیگی کے مستقل مسئلے کو نمایاں کرتی ہے۔

    جس کو عمران خان کہیں گے اس کو ٹکٹ ملے گا، نومنتخب چیئرمین

    ٹیکس سال 2023 میں اِن لینڈ ریونیو سروس نے افسران میں ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی شرح 88 فیصد دیکھی جبکہ کسٹمز گروپ افسر کے زمرے میں یہ شرح 80 فیصد ہے، 2023 میں اِس شرح میں نسبتاً اضافے کی وجہ ایف بی آر کے چیئرمین کی طرف سے دی گئی خصوصی توسیع کو قرار دیا جاتا ہے، جس کے تحت ملازمین کو 31 دسمبر تک اپنے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

    کراچی میں ریجنل ٹیکس آفس-ون کے چیف کمشنر کی جانب سے کی جانے والی ایک حالیہ مشق سے انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً 307 افسران نے 2022 اور 2023 میں اپنے ٹیکس گوشوارے نہیں جمع کرائے اگر اس مشق کو 22 آر ٹی اوز، 2 کارپوریٹ ٹیکس دفاتر (سی ٹی اوز) اور 3 بڑے ٹیکس دہندگان یونٹس (ایل ٹی یوز) تک بڑھایا جائے تو ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروانے والے اہلکاروں کی تعداد ممکنہ طور پر ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے۔

    ذوالفقارعلی بھٹو قتل کیس میں صدارتی ریفرنس سماعت کے لیے مقرر

    ایف بی آر کے جاری کردہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ 31 دسمبر تک ٹیکس ریٹرن فائل نہ کرنے والوں پر جرمانہ عائد کیا جائے گا، تاہم ایف بی آر میں ٹیکس گوشوارے جمع نے کروانے والے افسران کی شرح ظاہر کرتی ہے کہ یہ افسران ملک میں ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ بنیں گے۔

  • ایرانی صدر سرکاری دورے پر  ماسکوپہنچ گئے

    ایرانی صدر سرکاری دورے پر ماسکوپہنچ گئے

    ماسکو: ایرانی صدر ابراہیم رئیسی جمعرات کو سرکاری دورے پر ماسکو پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی :ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی اور توقع ہے کہ وہ اقتصادی تعلقات اور اسرائیل-غزہ جنگ سمیت دیگر موضوعات پر بات چیت کریں گے، روسی خبررساں ادارے رشیا ٹوڈے نیوز چینل نے مسٹر رئیسی کے اپنے صدارتی طیارے، معراج ایئرویز A340 سے اترتے ہوئے فوٹیج نشر کی۔

    ایران کے خبررساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کے صدر کے اس ایک روزہ دورے میں دوطرفہ امور پر مشاورت بشمول اقتصادی تعاملات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی مسائل بالخصوص مسئلہ فلسطین اور غزہ کی پیش رفت پر بات چیت ہمارے ملک کے صدر کے اہم ایجنڈے میں ہوگی۔

    رئیسی کریملن میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ون آن ون ملاقات کر رہے ہیں۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں سربراہان مملکت پریس کو کوئی بیان نہیں دیں گے۔

    جمعرات کو ماسکو روانگی سے قبل تہران میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے رئیسی نے کہا کہ ان کا ایک روزہ دورہ غزہ کی پٹی میں لڑائی کو روکنے، محصور علاقوں میں انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے اور فلسطینیوں کے جائز حقوق کے تحفظ پر توجہ مرکوز کرے گا،انہوں نے کہا کہ وہ مختلف شعبوں میں روس ایران تعلقات کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر بھی بات کریں گے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے آخری بار 16 اکتوبر کو فون پر بات کی تھی، جب انہوں نے غزہ میں جنگ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا،انہوں نے گزشتہ سال سمرقند، ازبکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ذاتی طور پر ملاقات کی۔

    روس اور ایران شام میں صدر بشار الاسد کی حمایت سمیت کئی معاملات پر اتحادی ہیں اور دونوں کو مغربی اقتصادی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہےفروری 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے، دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات مضبوط ہوئے ہیں، اور ایران نے روسی فوج کو سینکڑوں ڈرونز کے ساتھ ساتھ توپ خانے کا گولہ بارود بھی فراہم کیا ہے۔

    امریکہ نے کہا ہے کہ اسے دونوں ریاستوں کے درمیان "بڑھتی ہوئی دفاعی شراکت داری” پر تشویش ہےایران اور روس دونوں تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک+ کے رکن ہیں جو تیل کی پیداوار کی سطح کو مربوط کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔

    ایران بھی ان چھ ممالک میں سے ایک ہے جنہیں برکس اقتصادی بلاک میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، جو کہ اصل میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل تھا ارجنٹینا، مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات یکم جنوری 2024 کو باضابطہ طور پر شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔

    واضح رہہے کہ مسٹر رئیسی کا دورہ مسٹر پیوٹن کے خلیج کے ایک روزہ دورے کے بعد ہوا ہے،روسی صدر بدھ کو سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچے تھے ابوظہبی کے قصر الوطن میں ایک سرکاری استقبالیہ میں صدر شیخ محمد نے ان کا استقبال کیا دونوں رہنماؤں نے غزہ، یوکرین اور Cop28 پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں نے دو ریاستی حل کی بنیاد پر اسرائیل-فلسطین میں دیرپا امن کی ضرورت پر زور دیا۔

    مسٹر پیوٹن اس کے بعد اسی شام سعودی عرب گئے جہاں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ان کا استقبال کیا،پیوٹن نے شہزادہ محمد کو بتایا کہ "ہمارے دوستانہ تعلقات کی ترقی کو کوئی چیز نہیں روک سکتی، خطے میں کیا ہو رہا ہے اس کے بارے میں آپ کے ساتھ معلومات اور جائزوں کا تبادلہ کرنا ہم سب کے لیے بہت اہم ہے۔ روسی صدر نے کہا کہ ہماری ملاقات یقینی طور پر بروقت ہے۔

    شہزادہ محمد نے ایک براہ راست ٹیلی ویژن نشریات کے دوران کہا کہ "مملکت اور روس مشرق وسطیٰ میں استحکام کے حصول کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں،پیوٹن نے سعودی ولی عہد کو ماسکو کے دورے کی دعوت بھی دی۔

  • جس کو عمران خان کہیں گے اس کو ٹکٹ ملے گا، نومنتخب چیئرمین

    جس کو عمران خان کہیں گے اس کو ٹکٹ ملے گا، نومنتخب چیئرمین

    راولپنڈی: نومنتخب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ امیدواروں کے حوالے سے کمیٹیاں پہلے سے ہی بنی ہوئی ہیں، جس کو عمران خان کہیں گے اس کو ٹکٹ ملے گا۔

    باغی ٹی وی: راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پر 180 مقدمات ہیں، تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ عدلیہ بھی مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے لیکن اعتماد ہے کہ عدلیہ ہمیں بھی ریلیف دے گی بیرسٹر گوہر نے امید ظاہر کی کہ بلے کا نشان ان کی ہی جماعت کا ہوگا، آئندہ ہفتے تک سب واضح ہو جائے گا۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف جتنی مرضی درخواستیں دے دیں، پی ٹی آئی نے یہ الیکشن قانون کے مطابق کروائے ہیں، پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن فری اینڈ فئیر ہوئے ہیں، بیلٹ پیپر پر بلے کا نشان رہے گا، بانی پی ٹی آئی عمران خان جسے کہیں گے اسے پارٹی کا ٹکٹ ملے گا۔

    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹرعلی ظفر نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی نے انٹرا پارٹی الیکشن پر اعتماد کا اظہار کیا ہے الیکشن کمیشن کے پاس بلے کا انتخابی نشان الاٹ کرنے کے لیے 7 دن ہیں، الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات کی پابندی ہونی چاہیے ۔

  • ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی

    ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی

    کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے نئے اعداد و شمار جاری کر دئیے۔

    باغی ٹی وی: اسٹیٹ بینک کے مطابق یکم دسمبر کو ختم کاروباری ہفتے میں ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 28.57 کروڑ ڈالر کم ہوکر 12 ارب 10 کروڑ ڈالر رہے، یکم دسمبر تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر 23.68 کروڑ ڈالر کم ہوکر 7.02 ارب ڈالر رہے، اسٹیٹ بینک کے مطابق یکم دسمبر تک کمرشل بینکوں کے ذخائر 4.89 کروڑ ڈالر کم ہوکر 5.08 ارب ڈالر رہے۔

    دوسری جانب کاروباری ہفتے کے چوتھے جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں پرافٹ ٹیکنگ کا رجحان رہا اور 100 انڈیکس 800 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 64 ہزار 718 پر بند ہوا، مارکیٹ میں آج 1 ارب 26 کروڑ شیئرز میں کاروبار کیا گیا۔

    ہوفٹ ٹیکنگ دراصل اسٹاکس فروخت فروخت کرنے کا عمل ہے، تاکہ پی ایس ایکس میں انتہائی اضافے کے بعد منافع کو روکا جاسکے۔ اگرچہ اس عمل سے منافع لینے والے سرمایہ کار کو فائدہ ہوتا ہے، لیکن یہ دوسرے سرمایہ کاروں کو بغیر اطلاع کے ان کی سرمایہ کاری کے حصص کم قیمت میں بیچ کر نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کیخلاف درخواست سماعت کیلئےمقرر

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر تیزی دیکھی گئی اور 100 انڈیکس میں400 پوائنٹس سے زائد اضافہ ہوا، جس کے بعد 100 انڈیکس کی 64000 کی حد بحال ہوگئی، کاروبار کے دوران 100 انڈیکس میں 1020 پوائنٹس کا شاندار اضافہ ہوا اور 100 انڈیکس 65 ہزار پوائنٹس کی تاریخ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا، اس دوران 100 انڈیکس 64ہزار938 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتا رہا۔

    کاروبار کے دوران ایک مرحلے پر 100انڈیکس 900پوائنٹس اضافے سے 64 ہزار 900 ہوگیا، تاہم 100انڈیکس 800 پوائنٹس اضافے سے64 ہزار 718 پر بند ہوا۔ مارکیٹ میں آج1 ارب26 کروڑ شیئرز میں کاروبار کیا گیا، گزشتہ روز 100 انڈیکس 961 پوائنٹس کے ساتھ 63 ہزار 917 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا۔

    برطانیہ کا نیا امیگریشن قانون خاندانوں کو تقسیم کرنےکا باعث بن سکتا ہے،برطانوی قانونی …

  • ذوالفقارعلی بھٹو قتل کیس میں صدارتی ریفرنس سماعت کے لیے مقرر

    ذوالفقارعلی بھٹو قتل کیس میں صدارتی ریفرنس سماعت کے لیے مقرر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو قتل کیس میں صدارتی ریفرنس سماعت کے لیے مقرر کردیا۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 9 رکنی لارجر بینچ 12 دسمبر کو ذوالفقار علی بھٹو قتل کیس کی سماعت کرے گا، رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے جاری روسٹر کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰی آفریدی ، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

    کراچی: شاپنگ مال میں آگ، رہائشیوں کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوچکی ہیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

    انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اسرائیل پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ …

  • کراچی: شاپنگ مال میں آگ، رہائشیوں کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی

    کراچی: شاپنگ مال میں آگ، رہائشیوں کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی

    کراچی میں عرشی شاپنگ مال میں آگ سے متاثرہ فلیٹ کے رہائشیوں کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی، عرشی فلیٹ کے مکینوں کو اپنے گھر لاک کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: کراچی کے علاقے عائشہ منزل کے قریب عرشی شاپنگ مال میں گزشتہ روز آگ لگنے کے بعد فلیٹس کے رہائشی مشکلات کا شکار ہیں، عمارت خالی کرانے کے بعد مکین سڑکوں پر موجود ہیں تاہم حکام نے متاثرین کو اپنے گھر سے ضروری سامان نکالنے کی اجازت دے دی، کہا کہ 2 فیملیز ریسکیو حکام کی نگرانی میں عمارت میں جاسکتی ہیں، متاثرین اپنے گھر سے قیمتی سامان نکال سکتے ہیں-

    ایس ایس پی سینٹرل فیصل عبداللہ چاچڑ کے مطابق ٹیکنیکل کمیٹی نے متاثرہ عمارت میں رہائش کی اجازت دے دی ہے، متاثرہ عمارت کی چاروں منزلیں رہائش کے قابل ہیں، پولیس اور ریسکیو اہلکار رہائشیوں کو ان کےگھر پہنچانے میں مدد کر رہے ہیں۔

    ایڈیشنل ڈائریکٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) بینش شبیر نے نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں کہا کہ آگ سے عمارت کے انفرا اسٹرکچر کو نقصان نہیں پہنچا، عمارت کے اوپر موجود فلیٹ محفوظ ہیں ، گراؤنڈ فلور کو نقصان ہوا ہے جسے مرمت کی ضرورت ہے۔

    شاپنگ سنٹر میں آتشزدگی ،متاثرین کو معاوضہ دینے کے لیے درخواست دائر

    رہائشی کا کہنا ہے کہ دکانیں رہائشی فلیٹس سے الگ ہے، آتشزدگی سے فلیٹس کو کوئی نقصان نہیں ہوا، انڈر گراؤنڈ پارکنگ میں گاڑیاں موجود ہیں، 4 منزلہ عمارت میں72 فلیٹس ہیں، فائربریگیڈ حکام نے بتایا کہ عرشی مال میں دوبارہ آگ کی کوئی اطلاع نہیں ہے، گاڑیاں وہاں موجود ہیں کولنگ کا عمل جاری ہے، 2 گاڑیاں عرشی مال کے باہر موجود ہیں۔

    دوسری جانب عرشی شاپنگ سنٹر میں آتشزدگی ،متاثرین کو معاوضہ دینے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی، سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 7 دسمبر کو خوفناک آتشزدگی سے اب تک 5 افراد جھلس کر جاں بحق ہوچکے ہیں، سانحے سے متاثرین کی زندگی مشکلات کا شکار ہوگئی ہے، متاثرین کو رہائش کھانا اور لباس سمیت دیگر بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے فوری امداد دی جائے،عرشی شاپنگ میں دوبارہ مکانات اور دوکانوں تعمیر اور بحال کے لیے معاونت کا حکم دیا جائے، سانحے میں زخمیوں کو بہتر طبی امداد کا حکم دیا جائے، صدمے سے دو چار متاثرین کی بحالی کے لیے کونسلنگ کا حکم دیا جائے، حکومتی سطح پر مالی امداد میں انتہائی پیچیدگیاں درپیش ہوتی ہیں، عدالت فوری شفاف عمل کے ذریعے امداد کا حکم دیا جائے-

    انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اسرائیل پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ …

    قبل ازیں نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے کراچی کے علاقے عائشہ منزل کا دورہ کیا ، انہوں نے آگ سے متاثرہ عرشی شاپنگ مال کا جائزہ لیا،ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر نے متاثرہ رہائشیوں اور دکانداروں سے ملاقات کی، نگراں وزیرا علیٰ سندھ کو ڈپٹی کمشنر کی جانب سے بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ 74 اپارٹمینٹس اور 130 دکانیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں، آگ میں 5 جاں بحق اور 3 زخمی ہوئے۔

    نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر کی ہدایت پر متاثرین کے لیے ریلیف کیمپ قائم کردیا گیا، دورے کے دوران متاثرین نے رہائش کی درخواست کی تھی، ڈی سی سینٹرل نے 2 اسکولوں میں ریلیف کیمپ قائم کرنے کا بندوبست کر دیا، ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق کیمپوں میں پانی اور بجلی کی سہولیات مہیا کردی ہیں۔

    چین میں ہوائی جہاز سے زیادہ تیز چلنے والی تیز ترین ٹرین

    واضح رہے کہ کراچی میں عائشہ منزل کے قریب آگ سے متاثرہ رہائشی عمارت سے ایک اور لاش نکالی گئی ہے، جس کے بعد واقعہ میں مرنیوالوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے،ریسکیو ذرائع کے مطابق متوفی دم گھٹنے اور جھلسنے سے جاں بحق ہوا، لاش شاپنگ مال کی پہلی منزل سے ملی ہے جس کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

  • سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کیخلاف درخواست سماعت کیلئےمقرر

    سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کیخلاف درخواست سماعت کیلئےمقرر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر 14 دسمبر کو سماعت کرے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پانچ رکنی لارجر بینچ کی سربراہی کریں گے، بینچ میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل،جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہیں،اس کے علاوہ پانچ رکنی بینچ میں جسٹس عرفان سعادت خان بھی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی کو 11 اکتوبر 2018 کو خفیہ اداروں کے خلاف تقریر کرنے پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے اُس وقت کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا۔

    سعودی عرب روس کے مفادات مشرک،ملکر کام کرینگے،روسی صدر ،محمد بن سلمان کی ملاقات

    سابق جج شوکت عزیز صدیقی کے بیان پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے بھی رد عمل سامنے آیا تھا جس میں ریاستی اداروں پر لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا، شوکت عزیز صدیقی نے عہدے سے ہٹانے کے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل بھی دائر کر رکھی تھی۔

    بعد ازاں شوکت عزیز صدیقی نے معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا اور ایک درخواست دائر کی تھی، جس پر ابتدا میں رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراضات لگائے گئے تھے تاہم فروری 2019 میں سپریم کورٹ نے رجسٹرار کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی تھی جس کے بعد ان کی اپیل پر سماعت تاخیر کا شکار ہوئی تھی جس پر انہوں نے نومبر 2020 کے اختتام پر چیف جسٹس پاکستان کو ایک خط بھی لکھا تھا، جس میں کیس کی سماعت جلد مقرر کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

    ملک میں ڈالر سستا،سونے کی قیمت میں معمولی اضافہ

    بظاہر یہ ان کا تیسرا ایسا خط تھا جو درخواست گزار کی جانب سے کیس کی جلد سماعت کے لیے چیف جسٹس پاکستان کو لکھا گیا تھا،اس سے قبل 24 ستمبر کو سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے شوکت عزیز صدیقی کی بطور جج برطرفی کے 11 اکتوبر 2018 کے نوٹیفکیشن کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران سابق جج کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل حامد خان سے کہا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے حتمی فیصلہ کا انتظار کریں جو جلد ہی آنے والا ہوگا۔

    بعد ازاں 23 اکتوبر کو جسٹس عیسیٰ کیس میں اکثریتی فیصلہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ جاری کیا گیا جبکہ 4 نومبر کو جسٹس مقبول باقر اور جسٹس سید منصور علی شاہ کے اختلافی نوٹس جاری ہوئے تھےخط میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی تھی کہ وہ (شوکت عزیز صدیقی) 11 اکتوبر 2018 سے دفتر سے نکالے گئے اور انہیں دوبارہ ملازمت بھی نہیں دی گئی ساتھ ہی انہوں نے لکھا تھا کہ یہ عالمی سطح پر قانون کا تسلیم شدہ اصول ہے کہ ’انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہوتی ہے-

    شادی شدہ افراد میں ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کا خطرہ 9 فیصد …

  • انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اسرائیل پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر دیا

    انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اسرائیل پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر دیا

    انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں’ہیومن رائٹس واچ’ اور’ایمنسٹی انٹرنیشنل’نے اسرائیل پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر دیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیل پر جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام لگا کر امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور جرمنی سے اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی فوری روکنے کا بھی مطالبہ کیا ہے، ایک بیان میں ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ 13 اکتوبر کو جنوبی لبنان میں امریکی، عراقی اور لبنانی صحافیوں پر 13 اکتوبر کا اسرائیلی حملہ صریح جنگی جرم ہے، اسرائیل کو خوب پتہ تھا کہ وہ جن لوگوں کو نشانہ بنا رہا ہے وہ سویلینز ہیں۔

    دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی 13 اکتوبر کو صحافیوں پر اسرائیلی حملے کو ہدف تنقید بنایا اور مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کے اس حملے کی جنگی جرائم کے طور پر تحقیقات کی جائیں، ایک بیان میں ایمنسٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے مشرق وسطی اور شمالی افریقا آیا مجذوب نے کہا کہ عالمی قوانین کے تحت اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریاں انجام دینے والے کسی صحافی کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

    ترک صدر نے اسرائیل کے غزہ میں بفرزون کے قیام کا منصوبہ مسترد کر دیا

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الزام لگایا ہے کہ 13 اکتوبر کو غزہ پر جس اسرائیلی حملے میں 43 سویلینز شہید ہوئے، اس کیلئے امریکا میں بنا ویپن گائیڈنس سسٹم استعمال ہوا ہے ایمنسٹی نے تحقیقات کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ حملے کے بعد دیر البلا میں ملبے کا معائنہ کرنے پر وہاں سے امریکا میں بنے جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشنز گائیڈنس سسٹم( جے ڈیم) کے پرزے ملے ہیں۔

    واضح رہے کہ13 اکتوبر کے حملے میں برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے ایسام عبداللہ جاں بحق جبکہ الجزیرہ کے کیمرہ پرسن ایلی براکھیا اور رپورٹر کارمن جوکھادر سمیت دیگر 6 جرنلسٹس زخمی ہوئے تھے۔

    افغان طالبان دہشتگرد گروپوں کے خلاف کارروائی کریں،چین