Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ورلڈکپ: کیویز کو شکست,جنوبی افریقا نےپوائنٹس ٹیبل پر پہلی پوزیشن حاصل کرلی

    ورلڈکپ: کیویز کو شکست,جنوبی افریقا نےپوائنٹس ٹیبل پر پہلی پوزیشن حاصل کرلی

    آئی سی سی ورلڈکپ کے 32 ویں میچ میں جنوبی افریقا نےنیوزی لینڈ کو 190 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے کر ایونٹ میں چھٹی جیت کے ساتھ سیمی فائنل میں پہنچنے کی راہ ہموار کرلی۔

    باغی ٹی وی : آئی سی سی ورلڈکپ کے 32 ویں میچ میں جنوبی افریقا نے نیوزی لینڈ کو جیت کیلئے 358 رنز کا ہدف دیا,جنوبی افریقا کے 358 رنز کے ہدف کے تعاقب میں کیویز بیٹرز جم کر نہ کھیل سکے، افریقی بولز نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے ایک کے بعد ایک وکٹ گرائی۔

    گلین فلپس 60، ول ینگ 33 اور ڈریل مچل 24 رنز بناکر نمایاں بیٹر رہے، اس کے علاوہ کوئی بھی کیوی بیٹر زیادہ دیر تک کریز پر رہ نہ سکا ہدف کے تعاقب میں نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم 35.3 اوورز میں 167 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

    جنوبی افریقا کی جانب سے کیشو مہاراج نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ مارکو یانسن نے 3، کوئٹزی نے 2 اور رباڈا نے ایک وکٹ لی۔ بھارتی شہر پونے میں کھیلے جارہے میچ میں نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر جنوبی افریقا کو بیٹنگ کی دعوت دی جنوبی افریقا نے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں4 وکٹوں پر357 رنز بنائے، وینڈر ڈوسین 133 رنز بناکر نمایاں رہے جبکہ ڈی کوک نے 114 رنز کی اننگز کھیلی۔

    کپتان ٹمبا باووما اور اوپننگ بیٹر کوئنٹن ڈی کوک نے کیا،ٹمبا باووما بولٹ کی گیند 24 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے38 رنز کے مجموعی اسکور پر پہلی وکٹ گرنے کے بعد کوئنٹن ڈی کوک اور وینڈر ڈوسین نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 200 رنز کی شراکت بنائی، دونوں نے سنچریاں بھی اسکور کی،ڈیوڈ ملر نے 30 گیندوں پر شاندار 53 رنز کی اننگز کھیلی۔

    اس کے علاوہ ہینرک کلاسن7 گیندوں پر 15 اور مارکرم 6 رنز بناکر ناقابل شکست رہے، جنوبی افریقا نے مقررہ 50 اوورز میں 4 وکٹوں پر 357 رنز بنائے نیوزی لینڈ کی جانب سے ٹم ساؤتھی نے دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ ٹرینٹ بولٹ اور جیمز نیشم نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    جنوبی افریقا کا اسکواڈ

    کپتان، ٹمبا باؤما، ایڈن مارکرم، کوئنٹن ڈی کوک، راسی وین ڈیر ڈوسن، ہینرک کلاسن، ڈیوڈ ملر، مارکو جانسن، جیرالڈ کوٹزی، کیشو مہاراج، کاگیسو ربادا اور لنگی نگیڈی

    نیوزی لینڈ کا اسکواڈ

    کپتان ٹام لیتھم، ڈیون کونوے، ول ینگ، راچن رویندرا، ڈیرل مچل، گلین فلپس، جیمز نیشم، مچل سینٹنر، میٹ ہنری، ٹم ساؤتھی، ٹرینٹ بولٹ

  • بھارت   میں قرض دار باپ بیٹے کو فروخت کرنے پر مجبور

    بھارت میں قرض دار باپ بیٹے کو فروخت کرنے پر مجبور

    علی گڑھ: بھارت میں قرض دار باپ بیٹے کو فروخت کرنے پر مجبور ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : یہ دل دہلا دینے والا واقعہ بھاتے کے شہر علی گڑھ کی ایک سڑک پر پیش آیا جس کی ویڈیو بھارتی میڈیا پر شئیرکی گئی ،ویڈیو ایک مجبور اور لاچار قرض دار باپ کی اہلیہ اور دو بچوں کے ہمراہ شیئر کی گئی ہے جس میں 45 سالہ راج کمار کو علی گڑھ کے ایک بس اسٹینڈ پر ’ بیٹا برائے فروخت ‘ کا بینر گلے میں لٹکائے غمگین انداز میں کھڑے دیکھا جاسکتا ہے، بینر پر درج ہے کہ ’میرا بیٹا برائے فروخت ہے اسے میں بیچنا چاہتا ہوں-
    https://x.com/HateDetectors/status/1718167525455024150?s=20

    اسرائیلی بمباری سے سات یرغمالی ہلاک

    بھارتی میڈیا کو راج کمار نے بتایا کہ انہوں نے گھر خریدنے کے لیے چندرا پال نامی شخص سے 50 ہزار روپے سود پر ادھار لیے تھے لیکن چندرا پال کی ہیرا پھیری کے بعد انہیں جائیداد اور پیسوں دونوں سے ہاتھ دھونا پڑا حتیٰ کہ وہ اس سے پہلے تک چندراپال کو 6 لاکھ روپے ادا کرچکے ہیں اور باقی ادائیگی کی کوشش کررہا ہے اب چندراپال مجھے میرے بچوں کے سامنے بے عزت کرتا ہے حتیٰ کہ اس نے مجھے اور میرے بچوں کو مار پیٹ کر گھر سے بھی باہر نکال دیا ہے، میرے پاس روزگار کا ذریعہ ہی صرف میرا رکشہ تھا اس رکشے کو بھی چندراپال نے مجھ سے چھین لیا، میں نے جب چندرا پال پر مقدمے کیلئے پولیس اسٹیشن گیا تو انہوں نے ایف آئی آر کاٹنے سے انکار کردیا،تاہم قرضے سے تنگ اب وہ 8 لاکھ میں اپنا چھوٹا سا بیٹا فروخت کرنا چاہتے ہیں-

    اسرائیلی فوج کا جبالیا کے کیمپ پر حملہ،100 سے زیادہ فلسطینی ہلاک

    https://x.com/aligarhpolice/status/1718168549573972144?s=20
    دوسری جانب علی گڑھ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ چند روز قبل پیش آیا، ایک شخص نے اپنے رشتہ دار سے کچھ رقم ادھار لی، جس کے بعد اس نے اپنے رشتہ دار پر سود کھانے کا الزام لگایا، اس سلسلے میں متاثرہ کی شکایت پر مقدمہ درج کرکے ملزم رشتہ دار کو گرفتار کرلیا گیا، اور شکار کا مسئلہ حل ہو گیا ہے-

    یو اے ڈبلیو نے جی ایم کے ساتھ معاہدہ کرلیا، ڈیٹرائٹ آٹومیکرز کے خلاف ہڑتال …

  • اکتوبر میں کتنی مہنگائی ہوئی؟اعدادو شمار جاری

    اکتوبر میں کتنی مہنگائی ہوئی؟اعدادو شمار جاری

    اسلام آباد: ادارہ شماریات نے گزشتہ ماہ مہنگائی سے متعلق اعداد و شمار جاری کردئیے،ایک ماہ کے دوران چینی اور آٹے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی، اکتوبر میں مہنگائی میں 1.08 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    باغی ٹی وی: ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں مہنگائی کی شرح 28.48 فیصد ہو گئی، اکتوبر 2023 میں مہنگائی کی شرح 26.89 اور جولائی سےاکتوبر تک مہنگائی کی شرح 28.48 فیصد رہی، اکتوبرمیں شہروں میں مہنگائی میں 1.07 فیصد اور دیہات میں مہنگائی میں 1.10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ایک ماہ میں پیاز 38.7 فیصد، سبزیاں 17.7فیصد، پھل 6.4 فیصد، انڈے 6 فیصد اور آلو 3.72 فیصد مہنگے ہوئے جب کہ ایک ماہ میں بجلی 8.2 اور میرج ہال کرایہ کا 5.4 فیصد بڑھا۔

    پی آئی اے نجکاری اجلاس میں ن لیگ کے سابق وزیر کی شرکت سوالیہ نشان …

    ادارہ شماریات کے مطابق سالانہ بنیادوں پر مصالحے 84.5 فیصد ،ایک سال میں چینی 69.9 فیصد، آٹا 63.3 فیصد، چاول 62.2 فیصد، لوبیا 56.8 فیصد، چائے54.9 اورآٹا37.7 فیصد مہنگا ہوا ایک سال میں درسی کتب 85 فیصد، ادویات 36.6فیصد، موٹرفیول 30.8 فیصدجبکہ گیس 62.8 اوربجلی 50.6 فیصد مہنگی ہوئی،ایک ماہ ٹماٹر 3.11 فیصد اور دال مونگ 2.05 فیصد سستی ہوئی جبکہ ایک ماہ کے دوران آٹا 1.87 فیصد اور تازہ دودھ 1.73 فیصد سستا ہوا۔

    پی آئی اے کا دوران پرواز سوار بچوں کے لیے الگ مینو متعارف

  • ڈالر کی قد ر میں مزید اضافہ

    ڈالر کی قد ر میں مزید اضافہ

    کراچی: پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق آج انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں ایک روپے 3 پیسےکا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد ڈالر 282 روپے 50 پیسے پر بند ہوا ہے ،گزشتہ روز ڈالر کی قیمت میں 52 پیسےکے اضافے کے بعد 281 روپے47 پیسے پر بند ہوا تھا۔

    دوسری جانب ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 1200 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں 24 قیراط کا سونا 1200 روپے کے کمی کے بعد 2 لاکھ 11 ہزار 800 روپے جبکہ 1029 روپے کی کمی کے بعد 24 قیراط کا 10 گرام سونا ایک لاکھ 81 ہزار 584 روپے کا ہو گیا ہے،عالمی بازار میں سونے کی قیمت میں 19 ڈالر کی کمی ہو گئی ہے جس کے بعد فی اونس سونا 1976 ڈالر کا ہو گیا ہے جبکہ ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 2550روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی بغیر کسی تبدیلی کے 2186.21 روپے پر مستحکم رہی۔

  • 2000 سال پرانی میک اپ کی دکان دریافت

    2000 سال پرانی میک اپ کی دکان دریافت

    ایزونوئی: ترکی میں ماہرین آثار قدیمہ نے 2 ہزار سال پرانی کاسمیٹکس کی ایک انوکھی دُکان دریافت کر لی-

    باغی ٹی وی: برطانوی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین آثار قدیمہ کواس دکان میں پرفیوم کی بوتلیں، میک اپ میں استعمال ہونے والے آئی شیڈز اور بلشز بھی ملے ہیں،یہ حیرت انگیز دریافت قدیم شہر ایزونوئی میں کی گئی جو اس وقت مغربی ترکیہ کا حصہ ہے، اس سے قبل رومی دور میں یہ ایک اہم سیاسی اور اقتصادی مرکز تھا مبینہ طور پر یہ شہر رومن دور میں سماجی، سیاسی اور اقتصادی سر گر میوں کے ایک اہم مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا۔

    برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین کی جانب سے دریافت کیے گئے نوادرات میں پرفیوم کے برتن اور میک اپ کے باقیات شامل ہیں، جن میں آئی شیڈو اور بلش شامل ہیں خیال کیا جاتا ہے کہ رومن خواتین یہ کاسمیٹکس 2 ہزار سال قبل استعمال کرتی تھیں اسی شہر کے اندر آثار قدیمہ کی ٹیم نے ایک اور دُکان بھی دریافت کی ہے، جس کے بارے میں اندازہ لگایا جارہا ہے کہ یہاں زیورات اور کاسمیٹکس کی مصنوعات فروخت کی جاتی تھیں ماہرینِ آثار قدیمہ کو ان اشیاء کےساتھ ساتھ ہار اور بالوں کےلیے مختلف موتیوں کی مالابھی ملی ہے۔

    اٹلی میں 2,000 سال قدیم مقبرہ دریافت

    آثار قدیمہ کی ٹیم نے شہر کے اندر ایک دکان کا بھی پتہ لگایا، جو مبینہ طور پر زیورات اور کاسمیٹک مصنوعات فروخت کرتی تھی ان اشیاء کے ساتھ ساتھ، ہار اور بالوں کے لئے مختلف موتیوں کی مالا بھی احاطے میں ملی ،دکان کے اندر ایک خاص طور پر دلچسپ در یا فت سیپ کے گولوں کی کافی مقدار تھی، جو میک اپ رکھنے کے لیے کنٹینرز کے طور پر کام کرتی تھی حیران کن بات یہ ہے کہ اس جگہ سے ملنے والےمیک اپ میں متحرک رنگت موجود تھے جو عصری بلشز اور آئی شیڈو کی یاد دلاتے ہیں شناخت کیے گئے نمایاں رنگو ں میں سرخ اور گلابی رنگوں کی ایک صف شامل تھی، جس میں 10 الگ الگ رنگ شامل تھے۔

    نواز شریف کا سعودی عرب میں والہانہ استقبال

    فروری میں، ماہرین آثار قدیمہ کانسی کے زمانے کی عمارت کے فرش کے نیچے دفن ایک شخص کے کنکال میں دماغی سرجری کے شواہد پا کر حیران رہ گئےسی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق، نتائج ٹریفینیشن کی ابتدائی مثال کی نشاندہی کرتے ہیں، جو کہ سرجیکل طریقہ کار ہے جس سے کھوپڑی میں سوراخ کرنے کا عمل بنیادی ٹشو کو متاثر کیے بغیر ہے یہ 1550 قبل مسیح سے 1450 قبل مسیح کے درمیان رہتے تھے اور ان کی باقیات قدیم شہر تل میگیدو میں ایک مقبرے کی کھدائی کے دوران ملی تھیں۔

    اس دریافت کی تفصیلی مطالعہ جریدے PLOS ONE میں شائع ہوا تھا۔

    کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا ،کہیں زمیں کہیں آسماں نہیں ملتا

  • دل کے مرض کی ایک نئی قسم دریافت

    دل کے مرض کی ایک نئی قسم دریافت

    واشنگٹن میں ماہرین طب نے دل کے مرض کی ایک نئی قسم دریافت کی ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ہر 3 میں سے ایک شخص کو اس سے خطرہ لاحق ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن نے پہلی بارکارڈیو ویسکیولر-کڈنی میٹابولک سنڈروم یا ’سی کے ایم‘ کوبیان کیا اس حوالےسے جاری کی جانے والی ایڈوائزری کے مطابق، اس بیماری کو پہچاننے کا مقصد "سی کے ایم” سے متاثر لوگوں کے لیے شروع میں ہی اس کی تشخیص اورعلاج حاصل کرنا ہے جو دل کی بیماری سے مرنے کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔

    بالٹی مور کی جان ہاپکنز یونیورسٹی میں کارڈیالوجی کے شعبے میں موٹاپے اور کارڈیو میٹابولک ریسرچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر چیاڈی ای نڈومیلے نے کہا کہ دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد کو کم کرنا ہمارا بنیادی مقصد ہے اگرچہ کارڈیو ویسکیولر، کڈنی، میٹابولک سنڈروم( سی کے ایم ) سنڈروم صحت عامہ کی ایک ہنگامی صورتحال ہے، آبادی میں سی کے ایم صحت کو بہتر بنانے کے بھی بہت زیادہ امکانات ہیں، علاج کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ جو میٹابولک خطرے کے عوامل، گردے کے منفی واقعات کا خطرہ، یا دونوں، جو سی وی ڈی کے خلاف بھی تحفظ فراہم کرتے ہیں-

    کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا ،کہیں زمیں کہیں آسماں نہیں ملتا

    اے ایچ اےصدارتی مشاورتی اور اس کے ساتھ سائنسی بیان، جو سی کے ایم کے سائنس اور طبی انتظام کے ثبوت کا خلاصہ فراہم کرتا ہے، 9 اکتوبر کو جرنل سرکولیشن میں آن لائن شائع ہوا۔

    بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق دل کے امراض پر تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ کارڈیو ویسکیولر، کڈنی، میٹابولک سنڈروم (سی کے ایم) ذیابیطس کے ٹائپ 2، گردے اور موٹاپے جیسے امراض اور دل کے امراض کے درمیان ایک تعلق ہوتا ہے بظاہر اسے کوئی نیا مرض نہیں کہہ سکتے لیکن اسے ایک نئے انداز سے دیکھنا چاہیے کہ یہ کس طرح ایک دوسرے کومتاثر کرتے ہیں۔

    امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ہر3 میں سے ایک شخص میں ایک سے زیادہ مرتبہ اس خطرے کے عوامل پائے جاتے ہیں جو ان کی اس کیفیت میں مبتلا ہونے کے خطرات کو بڑھا دیتے ہیں سی کے ایم کے متعلق بتانے کا مقصد دل کے امراض سے موت واقع ہونے کے خطرے سے دوچار افراد میں بیماری کی جلد تشخیص ہے تاکہ وہ اس کا بروقت علاج کر سکیں۔

    ورلڈکپ: جنوبی افریقہ کی آسٹریلیا کیخلاف بیٹنگ جاری

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیج 1 میں وہ افراد آتے ہیں جن کا وزن زیادہ ہوتا ہے بالخصوص پیٹ کی چکنائی کا زیادہ ہونا یا پری ڈائبیٹیز کے مرحلے میں ہونا، اسٹیج 2 میں لوگوں کو بلند فشار خون اور ٹائپ 2 ذیابیطس جیسی بیماریاں شروع ہوجاتی ہیں اس وقت ممکنہ طور پر گردے کا مرض بھی ہوسکتا ہے،اسٹیج 3 میں میٹابولک خطرے کے عوامل جیسے ہائی بلڈ پریشراورابتدائی دل کی بیماری یا گردے کی بیماری والے افراد شامل ہیں جن میں ابھی تک علامات نہیں ہیں.

    بڑھتے ہوئے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ میٹابولک خطرے کے عوامل جیسے پیٹ کی چربی، ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول اور ہائی بلڈ شوگر جسم کے دیگر اعضاء کو کس طرح منفی طور پر متاثر کرسکتے ہیں90 فیصد سے زیادہ بالغ افراد ’سی کے ایم‘ کی رینج میں آتے ہیں، ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ بالغوں اور بچوں میں موٹاپے اور ٹائپ 2 ذیابیطس کی ریکارڈ سطح ہے۔

    نواز شریف کا سعودی عرب میں والہانہ استقبال

  • کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا ،کہیں زمیں کہیں آسماں نہیں ملتا

    کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا ،کہیں زمیں کہیں آسماں نہیں ملتا

    کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
    کہیں زمیں کہیں آسماں نہیں ملتا

    ندا فاضلی

    نام مقتداحسن فاضلی اور تخلص نداؔ ہے 12 اکتوبر 1938ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ندا فاضلی دعاڈبائیوی کے صاحبزادے ہیں بی اے تک تعلیم حاصل کی بمبئی میں فلمی نغمہ نگاری کرتے ہیں ان کا شعری مجموعہ ’’لفظوں کا پل‘‘ کے نام سے چھپ گیا ہے ان کی دیگر تصانیف کے نام یہ ہیں:

    ’’کھویا ہوا سا کچھ‘‘، ’’دیواروں کے باہر‘‘، ’’دیواروں کے بیچ‘‘(خود نوشت)، ’’شہر میرے ساتھ چل تو‘‘، ’’مورناچ‘‘(مجموعہ کلام)، ’’ملاقاتیں‘‘ (خاکے)۔ مہاراشٹر اردو اکادمی، بمبئی اور ساہتیہ پریشد ، بھوپال سے ان کی کتابوں پر انعامات ملے۔
    بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق، صفحہ: 335

    ندا فاضلی:
    ۔۔۔۔۔۔
    سورداس کی نظموں سے
    ۔۔۔۔۔۔
    شاعر بننے کی ترغیب حاصل ہوئی
    ۔۔۔۔۔۔
    ٍیہ اس وقت کی بات ہے جب تقسیم کے بعد ان کا پورا کنبہ ہندوستان سے پاکستان منتقل ہو گیا تھا لیکن ندا فاضلی نے ہندوستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ ایک دن جب وہ ایک مندر کے پاس سے گزر رہے تھے تبھی انہوں نے سورداس کی ایک نظم سنی جس میں رادھا اور کرشن کی علیحدگی کو بیان کیا گیا تھا۔ یہ نظم سن کر ندا فاضلی اتنے جذباتی ہو گئے کہ انہوں نے اسی لمحے فیصلہ کیا کہ وہ بطور شاعر اپنی شناخت بنائیں گے۔

    12 اکتوبر 1938 میں دہلی میں پیدا ہونے والے ندا فاضلی کو شاعری وراثت میں ملی تھی۔ ان کے گھر میں اردو اور فارسی دیوان کے مجموعے بھرے پڑے تھے۔ ان کے والد بھی شعر و شاعری میں دلچسپی لیا کرتے تھے اور ان کا اپنا ایک شعری مجموعہ بھی تھا، جسے ندا فاضلی اکثر پڑھا کرتے تھے۔ ندا فاضلی نے گوالیار کالج سے گریجویٹ کی تعلیم مکمل کی اور اپنے خوابوں کو ایک نئی شکل دینے کے لیے وہ سال 1964 میں ممبئی چلے گئے۔ یہاں انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس درمیان انہوں نے دھرم يگ اور بلٹز جیسے اخباروں میں لکھنا شروع کر دیا۔

    اپنے انوکھے انداز تحریر کی وجہ سے ندا فاضلی تھوڑے ہی وقت میں لوگوں کی توجہ اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اسی دوران اردو ادب کے کچھ ترقی پسند مصنفین اور شاعروں سے کافی متاثر ہوئے اور انہیں ندا فاضلی کے اندر ایک ابھرتا ہوا شاعر دکھائی دیا۔ انہوں نے ندا فاضلی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن مدد دینے کی پیشکش کی اور انہیں مشاعروں میں آنے کی دعوت دی۔ ان دنوں اردو ادب کی تحریروں کی ایک حد مقرر تھی۔ آہستہ آہستہ فاضلی نے اردو ادب کی حدود کو توڑتے ہوئے اپنی تحریر کا ایک الگ انداز بنایا۔

    ندا فاضلی مشاعروں میں بھی حصہ لیتے رہے جس سے انہیں پورے ملک میں شہرت حاصل ہوئی۔ ستر کی دہائی میں ممبئی میں اپنے بڑھتے اخراجات کو دیکھ کر انہوں نے فلموں کے لئے بھی گیت لکھنا شروع کر دیئے لیکن فلموں کی ناکامی کے بعد انہیں اپنا فلمی کیریئر ڈوبتا نظر آیا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ تقریباً دس برسوں تک ممبئی میں جدوجہد کرنے کےبعد ندا فاضلی کی 1980 میں ریلیز فلم ’آپ تو ایسے نہ تھے‘ کے اپنے نغمہ ’تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے‘ کی کامیابی کے بعد بطور نغمہ نگار فلم انڈسٹری میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئے۔

    اس فلم کی کامیابی کے بعد ندا فاضلی کو اچھی فلموں کے آفر ملنے شروع ہوگئے۔ ان فلموں میں ’بیوی او بیوی، آہستہ آہستہ اور نذرانہ پیار کا‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔ موسیقار خیام کی موسیقی میں آشا بھونسلے اور بھوپندر سنگھ کی آواز میں فلم آہستہ آہستہ کا یہ نغمہ ’کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا‘ ناظرین کے درمیان آج بھی بہت مقبول ہے۔ سال 1983 ندافاضلی کے فلمی کیرئیر کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ فلم رضیہ سلطان کی تخلیق کے دوران نغمہ نگار جاں نثار اختر کی اچانک موت کے بعد فلمساز کمال امروہی نے ندا فاضلی سے فلم کے باقی گیت لکھنے کی پیشکش کی۔ اس فلم کے بعد وہ بطور نغمہ نگار فلم انڈسٹری میں قائم ہو گئے۔

    شہنشاہ غزل جگجیت سنگھ نے ندا فاضلی کے لئے متعدد نغمات گائے جن میں 1999 میں آئی فلم ’سرفروش‘ کا یہ نغمہ ’ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے‘ بھی شامل ہے۔ ان دونوں فنکاروں کی جوڑی بہترین مثال ہیں۔ ندا فاضلی کے شعری مجموعوں میں مور ناچ، ہم قدم اور سفر میں دھوپ ہوگی اہم ہیں۔ ادب اور فلمی دنیا کو اپنے نغموں سے مسحور کرنے والے ندا فاضلی آٹھ فروری 2016 میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

    ندا فاضلی: ’
    ۔۔۔۔۔۔
    دنیا جسے کہتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔
    جادو کا کھلونا ہے
    ۔۔۔۔۔۔
    جے پرکاش نارائن
    ۔۔۔۔۔۔
    ندا فاضلی 12 اکتوبر 1938 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ والد شاعر تھے لہذا بڑے بھائی کے قافیہ سے ملا کر ان کا نام رکھا گیا مقتدیٰ حسن۔ ان کا بچپن اور لڑکپن مدھیہ پردیش کے گوالیار میں گزرا اور انہوں نے تعلیم بھی وہیں حاصل کی۔

    مقتدیٰ حسن بچپن ہی سے شاعری میں اپنے ہاتھ آزمانے لگے تھے اور ’ندا فاضلی‘ ان کا تخلص ہے۔ ندا کے معنی ہیں آواز اور فاضلی کشمیر کے علاقہ فاضلہ سے آیا ہے جہاں سے ان کے آبا و عزداد دہلی آئے تھے۔ ندا فاضلی کے اردو-ہندی ادب میں مکمل طور آنے کا سبب ایک حادثہ مانا جاتا ہے۔

    کہتے ہیں وہ کالج میں تھے تو اپنے سامنے والی سیٹ پر بیٹھنے والی لڑکی سے انہوں نے یکطرفہ، انجانا اور انکہا رشتہ قائم کر لیا تھا۔ وہ آج کل کا دور نہیں تھا جہاں اظہار محبت بغیر شرم و حیا کر دیا جاتا ہے۔ تب تو اتنی بندشیں تھیں کہ احساسات کا اپھان سماجی بندھنوں کی دہلیز کو آسانی سے پار ہی نہیں کر پاتا تھا۔

    ایسی ہی کیفیت میں مقتدیٰ حسن کے دل کے آنگن میں ایک بیج پھوٹ کر پودا بن گیا۔ اچانک کالج کے نوٹس بورڈ پر ایک نوٹ چسپاں ہوا جس نے ندا فاضلی پر بم کا سا دھماکہ کر دیا۔ انگریزی میں نوٹس بورڈ پر جو لکھا تھا اس کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے، ’کماری ٹنڈن کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ان کی موت ہو گئی ہے۔‘ اس خبر سے ندا اندر تک لرز گئے اور بہت غمزدہ ہوئے۔ لیکن اپنی تکلیف کے اظہار کے لئے ان کے پاس نہ تو الفاظ تھے اور نہ ہی سلیقہ۔ انہوں نے جو کوچھ محسوس کیا اسے لکھنے کی کوشش کی لیکن اپنے دکھ کو پوری طرح ظاہر کرنے میں ناکام رہے۔

    کافی جد و جہد کے بعد ایک بات انہیں سمجھ آئی کہ قصور الفاظ میں نہیں بلکہ لکھنے کے طریقہ میں ہے۔ وہ جو کچھ لکھ رہے ہیں اس میں ایسا کچھ بھی نہیں جو ان کی اندر کی تکلیف کو نمایاں کر سکے۔ کہتے ہیں کہ ایک دن جب وہ صبح کے وقت مندر کے پاس سے گزر رہے تھے تو کسی کو سورداس کے ایک بھجن گاتے سنا۔

    بس پھر کیا تھا؟ مقتدیٰ کو لگا کہ ان کے اندر کی تکلیف ظاہر کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے۔ اس کے بعد تو ان پر کبیر داس، تلسی داس، سور داس، بابا فرید وغیرہ صوفی دور کے شاعروں کو پڑھنے کا جنون سوار ہو گیا۔ وہ جتنا ان شاعروں کو پڑھتے گئے، اس نتیجہ پر پہنچتے گئے کہ ان شاعروں کی سیدھی سادی بغیر لاگ لپیٹ کی دو ٹوک زبان والی تخلیقات بہت موثر ہیں بس یہیں سے ندا فاضلی ایک عظیم شاعر بننے کی راہ پر قدم بڑھا چکے تھے۔
    بانگی دیکھیں:
    خدا خاموش ہے! تم آؤ تو تخلیق ہو دنیا
    میں اتنے سارے کاموں کو اکیلا کر نہیں سکتا
    سادہ زبان ہمیشہ کے لئے ندا فاضلی کا طرز بیاں بن گئی۔ ہندو مسلم قومی فسادات سے تنگ آکر ان کے والدین پاکستان میں جا بسے لیکن ندا ہندوستان سے نہیں گئے۔ روزگار کی تلاش میں وہ کئی شہروں میں بھٹکے لیکن کام کہاں ملتا! شاعری چلتی رہی، دراصل قسمت نے ندا کے لئے کچھ اور ہی لکھا ہوا تھا۔
    تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے
    جہاں جاؤں یہ لگتا ہے تیری محفل ہے…
    ایسی نظموں تک ندا فاضلی یوں ہی نہیں پہنچے۔ بھوپال، الہ آباد، دہلی نہیں بلکہ ممبئی ہندی اور اردو ادب کا گڑھ تھا۔ سال 1964 میں ندا کام کی تلاش میں ممبئی پہنچ گئے۔ دھرم یُگ، بلِٹز، ساریکا جیتی میگزینوں کے لئے انہوں نے مضمون لکھنے شروع کئے، جلد ہی وہ شائع بھی ہونے لگے۔ ان کے آسان زبان والے اور موثر مضامین نے جلد ہی انہیں عزت اور شہرت دلا دی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ ہے۔ یہ ندا ہی کہہ سکتے تھے:
    دیوتا ہے کوئی ہم میں نہ فرشتہ کوئی
    چھو کے مت دیکھنا، ہر رنگ اتر جاتا ہے
    ملنے جلنے کا سلیقہ ہے ضروری ورنہ
    آدمی چند ملاقاتوں میں مر جاتا ہے
    ندا کی زیر بحث کتابوں میں لفظوں کے پھول، مور ناچ، آنکھ اور خواب کے درمیان، کھویا ہوا سا کچھ، آنکھوں بھر آکاش اور سفر میں دھوپ تو ہوگی، دیواروں کے بیچ، دیواروں کے باہر، ملاقاتیں، تماشہ میرے آگے شامل ہیں۔
    انہوں نے کچھ عمدہ شاعروں پر لکھی کتابوں کو ادارت بھی کی جن میں بشیر بدر: نئی غزل کا نام، جانسار اختر: ایک جوان موت، داغ دہلوی: غزل کا ایک اسکول، محمد علی دہلوی: شبدوں کا چترکار، جگر مراد آبادی: محبتوں کا شاعر، کافی مشہور ہوئیں۔
    اپنی ادبی خدمات کے لئے وہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، قومی ایکتا ایوارڈ، مدھیہ پردیش حکومت کے میر تقی میر ایوارڈ، خسروں ایوارڈ، مہاراشٹر اردو اکادمی ایوارڈ، بہار اردو اکادمی ایوارڈ، اتر پردیش اردو اکادمی ایوارڈ، ہندی اردو سنگم جیسے متعدد ایوارڈوں سے نوازے گئے۔ فلمی نغموں کے لئے بھی انہیں کئی مرتبہ ایوارڈوں سے نوازا گیا تھا۔
    بطور شاعر اور نغمہ نگار ندا فاضلی کا سفر کتنا شاندار تھا یہ ان کے گیتوں، غزلوں اور شاعری کو سن کر ہی لگایا جا سکتا ہے۔ کہتے ہیں کمال امروہی جب فلم رضیہ سلطان بنا رہے تھے تو گیت لکھنے کی ذمہ داری جانسار اختر پر تھی، اچانک وہ انتقال کر گئے۔ جانسار اختر بھی گوالیار سے ہی تھے اور انہوں نے کمال امروہی سے صد فیصد درست اردو بولنے والے کے طور پر ندا کا ذکر کیا ہوا تھا۔
    کمال امروہی نے جان نسار اختر کی بات کی قدر کرتے ہوئے ندا فاضلی سے رابطہ قائم کیا اور انہیں فلم کے بقیہ دو نغمے تخلیق کرنے کو کہا … اور پھر ندا نے کیا نغمے تخلیق کئے۔ یہ گانے تھے، پہلا-
    ’تیرا ہجر میرا نصیب ہے
    تیرا غم ہی میری حیات ہے
    مجھے تیری دوری کا غم ہو کیوں
    تو کہیں بھی ہو میرے ساتھ ہے…‘
    اور دوسرا گانا تھا
    ’آئی زنجیر کی جھنکار خدا خیر کرے
    دل ہوا کس کا گرفتار خدا خیر کرے
    جانے یہ کون میری روح سے چھوکر گزرا
    ایک قیامت ہوئی بے دار خدا خیر کرے..‘
    اور اس طرح اتنے شاندار نغموں سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے کئی فلموں کے لئے گیت تخلیق کئے۔ ایسی فلموں میں سرفروش، آہستہ آہستہ، اس رات کی صبح نہیں، سُر وغیرہ شامل ہیں۔ وہ ہندو ہو یا مسلم دونوں طرف کی انتہا پسندی کے سخت مخالف تھے۔
    ندا فاضلی کے اس شعر پر تنازعہ بھی کھڑا کیا گیا
    گھر سے مسجد ہے بڑی دور چلو یوں کر لیں
    کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے
    ندا فاضلی ایک مشاعرے میں شرکت کے لئے جب پاکستان گئے تو انہیں کچھ انتہاپسندوں نے گھیر لیا اور پوچھا کہ کیا آپ بچے کو اللہ سے بڑا سمجھتے ہیں؟ ندا کا جواب تھا کہ مجھے تو صرف اتنا پتہ ہے کہ مسجد انسان کے ہاتھ بناتے ہیں جبکہ بچے کو اللہ اپنے ہاتھوں سے بناتا ہے۔
    اردو ہندی کے اس عظیم شاعر نے 8 فروری 2016 کو اس دنیا کو الوداع کہا۔ کاش ’آدمی کی تلاش‘ عنوان والی ان کی نظم کی شروعات کچھ یوں ہوتی،
    ابھی مرا نہیں زندہ ہے آدمی شاید
    یہیں کہیں اسے ڈھونڈو، یہیں کہیں ہوگا
    کاش اس طرح ڈھونڈنے پر وہ مل جاتے۔
    یہ مضمون آج تک پر ہندی میں شائع ہو چکا ہے

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    اک مسافر کے سفر جیسی ہے سب کی دنیا
    کوئی جلدی میں کوئی دیر سے جانے والا

    بڑے بڑے غم کھڑے ہوئے تھے رستہ روکے راہوں میں
    چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے ہی ہم نے دل کو شاد کیا

    اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا
    وہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا

    ذہانتوں کو کہاں کرب سے فرار ملا
    جسے نگاہ ملی اس کو انتظار ملا

    کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
    کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا

    اس کا قصور یہ تھا بہت سوچتا تھا وہ
    وہ کامیاب ہو کے بھی ناکام رہ گیا

    اچھی نہیں یہ خامشی شکوہ کرو گلہ کرو
    یوں بھی نہ کر سکو تو پھر گھر میں خدا خدا کرو

    پر شور راستوں سے گزرنا محال تھا
    ہٹ کر چلے تو آپ ہی اپنے سزا ہوئے

    جس سے بھی ملیں جھک کے ملیں ہنس کے ہوں رخصت
    اخلاق بھی اس شہر میں پیشہ نظر آئے

    دیکھا ہوا سا کچھ ہے تو سوچا ہوا سا کچھ
    ہر وقت میرے ساتھ ہے الجھا ہوا سا کچھ

    چلتے رہتے ہیں کہ چلنا ہے مسافر کا نصیب
    سوچتے رہتے ہیں کس راہ گزر کے ہم ہیں

    کوئی کسی کی طرف ہے کوئی کسی کی طرف
    کہاں ہے شہر میں اب کوئی زندگی کی طرف

    زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
    مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے

    فہرست مرنے والوں کی قاتل کے پاس ہے
    میں اپنے ہی مزار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوں

    اس کو کھو دینے کا احساس تو کم باقی ہے
    جو ہوا وہ نہ ہوا ہوتا یہ غم باقی ہے

    ہنستے ہوئے چہروں سے ہے بازار کی زینت
    رونے کی یہاں ویسے بھی فرصت نہیں ملتی

    نہ جانے کون سا منظر نظر میں رہتا ہے
    تمام عمر مسافر سفر میں رہتا ہے

    دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو
    زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو

    یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا
    مجھے گرا کے اگر تم سنبھل سکو تو چلو

    تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے
    جہاں بھی جاؤں یہ لگتا ہے تیری محفل ہے

  • محمد رضوان کی غزہ سے متعلق ٹوئٹ پر آئی سی سی کا ردعمل

    محمد رضوان کی غزہ سے متعلق ٹوئٹ پر آئی سی سی کا ردعمل

    دبئی: قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کی جانب مین آف دی میچ ایوارڈ غزہ کے بہن بھائیوں کے نام کرنے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بیان جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی: گزشتہ روز وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے آئی لینڈرز کے خلاف جیت کے بعد اپنا مین آف دی میچ کا ایواڈ غزہ میں اسرائیل کی جارحانہ بمباری کے نتیجے میں شہید ہونے والے مظلوم فلسطینی بہن بھائیوں کے نام کیا تھا جس پر بھارتی میڈیا سے خوب شور مچایا اور آئی سی سی سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر بھارتی اسپورٹس جرنلسٹ وکرانت گُپتا نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا آئی سی سی اس کی اجازت دیتا ہے؟ کیا کرکٹرز کو آئی سی سی ایونٹس کے دوران سیاسی اور مذہبی بیانات دینے پر پابندی نہیں؟، مجھے یاد ہے کہ ورلڈکپ 2019 کے دوران مہندرا سنگھ دھونی کو اپنے دستانے سے آرمی کا نشان ہٹانے کو کہا گیا تھا۔

    ذکا اشرف آج بی سی سی آئی کی دعوت پر بھارت روانہ ہوں …

    جس پر پاکستانی مداحوں نےجواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ دھونی کی جانب سے فوجی دستانے پہننے کا عمل گراؤنڈ میں کیا گیا جبکہ رضوان سوشل میڈیا پر آزاد ہیں اور انہیں اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے،جہاں بھارتی صحافی کے بیان پر سوشل میڈیا صارفین نے تنقید کی وہیں آئی سی سی کی جانب سے بیان جاری کیا گیا-

    آئی سی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سری لنکا کے خلاف پاکستان کی جیت کے بعد غزہ سے متعلق رضوان کی ٹوئٹ ہمارے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت میں بی جے پی کی حکومت اسرائیل کے فلسطین پر مظالم کی حمایت کرتی ہے جبکہ کئی بھارتی اداکاروں کو فلسطینیوں کی حمایت پر دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

    ورلڈ کپ 2023: بھارت نے افغانستا ن کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی،

  • ورلڈکپ: جنوبی افریقہ کی آسٹریلیا کیخلاف بیٹنگ جاری

    ورلڈکپ: جنوبی افریقہ کی آسٹریلیا کیخلاف بیٹنگ جاری

    لکھنو: آئی سی سی ورلڈکپ کے دسویں میچ میں آسٹریلیا کیخلاف جنوبی افریقا کی بیٹنگ جاری ہے۔

    باغی ٹی وی: لکھنو کے بھارت رتن شری اٹل بہاری واجپائی ایکانا کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز ٹاس جیت کر جنوبی افریقا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی، انہوں نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ حریف کو جلد از جلد آؤٹ کریں اور ایونٹ میں پہلی کامیابی سمیٹیں، ٹیم میں 2 تبدیلیاں کی گئی ہیں، ایلکس کیری کی جگہ جوش انگلس جبکہ کیمرون گرین کی جگہ مارکس اسٹوئنس کی پلئینگ الیون میں واپسی ہوئی ہے۔
    ں
    اس موقع پر جنوبی افریقی ٹیم کے کپتان ٹمبا باؤما نے کہا کہ ابتدا ہی سے کینگروز کیخلاف جارحانہ کھیل جاری رکھیں گے تاکہ آسٹریلیا کو پریشر میں لائیں۔

    آسٹریلیا کا اسکواڈ

    کپتان پیٹ کمنز، ڈیوڈ وارنر، مچل مارش، اسٹیو اسمتھ، مارنس لیبوشین، جوش انگلس، مارکس اسٹوئنس، گلین میکسویل، مچل اسٹارک، ایڈم زمپا اور جوش ہیزل ووڈ

    جنوبی افریقہ کا اسکواڈ

    کپتان ٹمبا باؤما، کوئنٹن ڈی کوک، راسی وین ڈیر ڈوسن، ایڈن مارکرم، ہینرک کلاسن، ڈیوڈ ملر، مارکو جانسن، کاگیسو ربادا، کیشو مہاراج، لونگی نگیڈی اور تبریز شمسی

  • پیپلز پارٹی نے لاہور میں جلسے کے لئے انتظامیہ سے اجازت طلب کر لی

    لاہور: پیپلز پارٹی نے لاہور میں 18 اکتوبر کے جلسے کے لئے انتظامیہ سے اجازت طلب کر لی۔

    باغی ٹی وی: پیپلز پارٹی لاہور کے صدر چوہدری اسلم گل نے جلسے کی اجازت کے لئے چیف سیکرٹری پنجاب کو خط لکھ دیا،پی پی نے ٹاؤن شپ میں ہونے والے جلسے کے لئے چیف سیکرٹری سے سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کر دی۔

    واضح رہے کہ 18 اکتوبر کو چیئرمین پیپلز پارٹی بلال بھٹو ویڈیو لنک کے ذریعے لاہور جلسے کے شرکاء سے خطاب کریں گے۔

    سائفر کیس کا ٹرائل روکنے اور اخراج مقدمہ کی درخواستیں یکجا

    یاد رہے کہ گزشتہ روز تحریک انصاف نے جلسے کی اجازت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،پی ٹی آئی کے ایڈیشنل سیکرٹری عظیم اللہ خان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں لاہورہائیکورٹ سے لاہور کے لبرٹی چوک پر جلسہ کرنے کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی –

    عوام کو مہنگی بجلی بیچنا ثابت ، کے الیکٹرک کو 20کروڑ روپے جرمانہ برقرار

    درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ 5 روز قبل متعلقہ فریقین کو جلسے کی اجازت کے لیے درخواست دی پر امن جلسہ کرنا ہرایک کا آئینی حق ہے۔ عدالت 15 اکتوبر کو لبرٹی چوک پر جلسہ کرنے اور جلسے کے لیے سیکورٹی فراہم کرنے کا حکم دے،درخواست میں ڈی سی لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا جسٹس راحیل کامران کے چھٹی پر ہونے کے باعث درخواست کی سماعت نہ ہوسکی۔

    سائفر کیس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری