Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • این اے 15 مانسہرہ : نواز شریف کے کاغذات نامزد گی کے خلاف اپیل مسترد

    این اے 15 مانسہرہ : نواز شریف کے کاغذات نامزد گی کے خلاف اپیل مسترد

    کراچی:سندھ ہائیکورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے خلاف دوسری اپیل بھی مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان عام انتخابات میں کراچی کے حلقے این اے 242 پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیلئے اتفاق ہو گیا، ایم کیو ایم نے گزشتہ روز وزیراعظم کے لئے نواز شریف کو ووٹ دینے کا اعلان کیا تھا، امین الحق کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم وزارت عظمیٰ کیلئے نواز شریف کو سپورٹ کرے گی، ن لیگ کے قائد 8 فروری کے انتخابات کے بعد وزیراعظم ہوں گے اور سندھ میں بھی ہم مشترکہ حکومت بنائیں گے، ایم کیو ایم کے مصطفی کمال کراچی کے حلقہ 242 پر شہباز شریف کے حق میں دستبردار ہونے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔

    قبل ازیں سندھ ہائیکورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے شہباز شریف کے این اے 242 سے کاغذات نامزدگی منظوری کے خلاف اپیل پر سماعت کی جس میں درخواست گزار حسنین چوہان نے مؤقف اختیار کیا کہ شہباز شریف نے این اے 242 کے کاغذات میں درست حلف نامہ نہیں لگایا شہباز شریف نے بیان حلفی میں کاروبار سے متعلق غلط بیانی کی ہے، آر او کا فیصلہ کالعدم دے کر شہباز شریف کے کاغذات مسترد کیے جائیں، الیکشن ٹربیونل نے درخواستگزار کے دلائل سننے کے بعد اس کی اپیل مسترد کردی تاہم تحریری فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

    نیب نے نواز شریف اور اہلخانہ کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹیگیشن بند کر دی

    واضح رہےکہ گزشتہ روز بھی الیکشن ٹربیونل نے کراچی کے حلقے این اے 242 سے شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اپیل مسترد کی تھی جب کہ اسی حلقے سے ایم کیو ایم پاکستان کے مصطفیٰ کمال بھی امیدوار ہیں۔

    دوسری جانب الیکشن ٹریبونل نے عثمان ڈار اور شاندانہ گلزار کے عام انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے ہیں۔

    الیکشن ٹریبونل میں تحریک انصاف کی رہنما شاندانہ گلزار کی اپیل پر سماعت ہوئی ، ٹریبونل نے شاندانہ گلزار کے کاغذات نامزدگی کو درست قرار دیتے ہوئے منظور کر لیا ، ریٹرننگ افسر نے این اے 30 پشاور سے شاندانہ گلزار کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے تھے جبکہ عثمان ڈار کی والدہ ریحانہ ڈار کے کاغذات نامزدگی بھی منظور کرلیے گئے۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس:ملک ریاض،شہزاد اکبر سمیت 5 ملزمان کی جائیدادیں منجمد کر …

    شدید دھند کے باعث آج بھی فلائٹ آپریشن متاثر ، 15 پروازیں منسوخ

    ذوالفقار مرزا کے بیٹوں کےکاغذات نامزدگی منظور

    سابق وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بیٹوں حسنین مرزا اورحسام مرزا کےکاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے ریٹرننگ افسر نے این اے 223 سے امیدوار حسام مرزا کے اور پی ایس 70 سے امیدوار حسنین مرزا کے کاغذات مسترد کردئیے گئے تھے، امیدواروں نے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف الیکشن ٹربیونل سے رجوع کیا تھا،الیکشن ٹربیونل نے حسام مرزا اور حسنین مرزا کے کاغذ ات مسترد کرنے کا آر او کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور دونوں کے کاغذات منظور کرلیے۔

    قبل ازیں گزشتہ روز سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا اور ان کے شوہر ذوالفقار مرزا کے کاغذات مسترد کیے جانے کے خلاف اپیلیں بھی خارج کی گئیںَ، الیکشن ٹربیونل نے ذوالفقار مرزا اور فہمیدہ مرزاکے حوالے سے ریٹرننگ افسر کا کاغذات مسترد کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔

    پی ٹی آئی کے سینیئر نائب صدر اور رہنما شیر افضل مروت کے این اے 32 پشاور سے کاغذات منظور کر لیے گئے۔ایپلیٹ ٹریبیونل پشاور ہائیکورٹ میں شیر افضل مروت کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔ پی ٹی امیدوار کی ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف اپیل منظور کی گئی جبکہ پشاور ایپلٹ کورٹ نے مراد سعید کی اپیل خارج کردی ہے جنہوں نے این اے 3 اور این اے 4 سے کاغذات جمع کرائے تھے۔

    سندھ ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف درخواست مسترد کردی۔

    سندھ ہائیکورٹ کےجسٹس عدنان چوہدری کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے فردوس شمیم کی درخواست پر سماعت کی جس دوران اعتراض کنندہ حسان صابر نے مؤقف اپنایا کہ الیکشن ٹربیونل نےاہم قانونی نکات کو نظر انداز کیا، بیان حلفی میں پارٹی کا تعلق بتانا ضرور ہے جو فردوس شمیم نقوی نےنہیں کیاجب بیان حلفی میں ہی غلط معلومات دی گئی ہیں تو کاغذات کیسےمنظور ہوں گے؟پارٹی سرٹیفکیٹ کے بغیر انتخابی نشان نہیں مل سکتا لہٰذا الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

    عدالت نے اعتراض کنندہ کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے فردوس شمیم کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف درخواست مسترد کردی، واضح رہے کہ الیکشن ٹربیونل نے ریٹرننگ افسر کے فیصلے کےخلاف فردوس شمیم نقوی کی اپیل منظور کرتے ہوئے ان کے کاغذات نامزدگی بحال کردئیے تھے۔

    لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ میں قائم الیکشن ٹربیونل میں آج 29 اپیلوں پر سماعت جاری ہے،ہائیکورٹ ملتان بینچ میں الیکشن ٹربیونل کے جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ سماعت کر رہے ہیں ، این اے 142 ساہیوال سے سابق ایم این اے چوہدری محمد اشرف کے خلاف اعتراضی اپیل خارج کر دی گئی ، سابق ایم این اے چوہدری محمد اشرف کو الیکشن کے لئے اہل قرار دے دیا گیا ، لیہ این اے 181 سے عنبر نیازی کی اپیل کل تک ملتوی کردی گئی –

    این اے 141 سے پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے رانا آفتاب کو الیکشن کی اپیل کل تک ملتوی کر دی گئی وہاڑی کے این اے 156 پی پی 231 کے امیدوار خالد زبیر نثار کی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا امیدوار کے تائید اور تجویز کندگان کے پیش نا ہونے پر آر او نے کاغزات نامزدگی مسترد کر دئیے تھے-

    این اے 148 ملتان جاوید اقبال لغاری کی اپیل خارج کردی گئی، الیکشن لڑنے کے لئے نا اہل قرار دیا گیا جاوید اقبال لغاری کا تجویز کنندہ متعلقہ حلقہ سے نہیں لیا گیا تھا،جبکہ خالد جاوید وڑائچ ، علی رضا دریشک ، حسنین دریشک ، شیر محمد مزاری اور محمد اعجاز بندیشہ کی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا

    واضح رہے کہ الیکشن ٹربیونل میں کل 215 اپیلیں دائر کی گئیں،الیکشن ٹربیونل میں دائر پر سماعت کا سلسلہ 10 جنوری تک جاری رہے گا-

    الیکشن ٹربیونل نے پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی کے کاغذات درست قرار دے دئیے۔

    ریٹرننگ افسر نے این اے 35 اور پی کے 92 کوہاٹ سے شہریار آفریدی کے کاغذات مسترد کردئیے تھے جس کے خلاف انہوں نے الیکشن ٹربیونل میں اپیل دائر کی تھی،پشاور ہائیکورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی کی اپیل پر سماعت کی جس میں الیکشن ٹربیونل نے شہریار آفریدی کی اپیل منظور کرلی اور ان کے کاغذات درست قرار دے دئیے-

    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 15 مانسہرہ سے مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے کاغذات نامزد گی کے خلاف اپیل مسترد کردی گئی الیکشن ٹربیونل نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنا دیا، این اے 15 مانسہرہ کے لیے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے کاغذات نامزد گی کی آر او کی طرف سے منظوری کے بعد پی ٹی آئی لیڈر اعظم سواتی نے ایبٹ آباد کے الیکشن ٹربیونل میں نواز شریف کے کاغذات نامزد گی کو چیلنج کیا تھا تاہم آج الیکشن ٹربیونل نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنا تے ہوئے اعظم سواتی کی اپیل مسترد کر دی۔

    دوسری جانب لیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ عام انتخابات 2024 کے لئے ایپلٹ ٹربیونلز کی جانب سے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد کئے جانے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کا مرحلہ (کل) بدھ کو مکمل ہو جائے گا۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق امیدواروں کی نظر ثانی شدہ فہرست جمعرات کو شائع کی جائے گی امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی 12 جنوری کو واپس لئے جا سکیں گے جبکہ اسی روز امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کی جائے گی امیدوار وں کو انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ 13 جنوری کو ہو گی جبکہ پولنگ 8 فروری کو ہوگی۔

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس:ملک ریاض،شہزاد اکبر  سمیت  5 ملزمان کی جائیدادیں منجمد کر دی گئیں

    190 ملین پاؤنڈ کیس:ملک ریاض،شہزاد اکبر سمیت 5 ملزمان کی جائیدادیں منجمد کر دی گئیں

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی احتساب عدالت نے پیر کو 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں اشتہاری قرار دئیے گئے 5 ملزمان کی جائیدادیں منجمد کر دی ہیں۔

    باغی ٹی وی :احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق وزیراعظم عمران خان کے معاونین زلفی بخاری اور شہزاد اکبر، فرحت شہزادی عرف فرح خان گوگی اور ایک وکیل ضیاء المصطفیٰ نسیم کی جائیدادیں ملک ریاض اور ان کے بیٹے احمد علی ریاض کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں منجمد کرنے کے احکامات اور مذکورہ ملزمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردئیے گئے۔

    عدالت نے ملک بھر کے ریونیو افسران کو ملزمان کی غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسران کو ان کے ناموں پر رجسٹرڈ گاڑیاں ضبط کرنے کا حکم دیا گیاعدالت نے کمرشل بینکوں کو ہدایت کی کہ وہ ان کے کھاتوں کو منجمد کریں اور لین دین یا سرمایہ نکالنے کی اجازت نہ دیں، عدالت نے ان ملزمان کی ملکیتی جائیدادوں سے کرائے کی آمدنی حاصل کرنے کے لیے نیب کے ایک ایڈیشنل ڈائریکٹر کو بطور ”رسیور“ بھی مقرر کیا۔

    نیب نے نواز شریف اور اہلخانہ کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹیگیشن بند کر دی

    پیر کو عدالت میں سماعت کے دوران قومی احتساب بیورو (نیب) کی پراسیکیوشن ٹیم نے سردار مظفر خان عباسی کی سربراہی میں عمران خان کے وکیل کے ساتھ ریفرنس کی ایک کاپی شیئر کی چونکہ سابق وزیراعظم عمران خان کی شریک حیات بشریٰ بی بی عدالت میں پیش نہیں ہوئیں، اس لیے جج نے خبردار کیا کہ ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہوسکتے ہیں۔

    غیر ملکی اخبار میں شائع مضمون ’مصنوعی ذہانت‘ کی مدد سے لکھا گیا تھا،عمران خان …

    دوران سماعت پراسیکیوشن نے ملزمان کی ملکیتی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کی تفصیلات بھی جمع کرائیں، کیونکہ جج نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 88 کا اطلاق کیا تھا مذکورہ سیکشن عدالت کو کسی ملزم کو اشتہاری قرار دئیے جانے کی صورت میں ”اٹیچمنٹ“ (جائیداد ضبط کرنے کا عمل) کا حکم دینے کا اختیار دیتا ہے۔

    نتخابات میں جیت کیلئے مودی نے رام مندر کو بھی داؤ پر لگا دیا

  • شدید دھند کے باعث  آج بھی  فلائٹ آپریشن متاثر ، 15 پروازیں منسوخ

    شدید دھند کے باعث آج بھی فلائٹ آپریشن متاثر ، 15 پروازیں منسوخ

    اسلام آباد: شدید دھند کے باعث آج بھی فلائٹ آپریشن متاثر ہو گیا، 15 پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    باغی ٹی وی : ایوی ایشن ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی ابوظبی پشاور، دبئی اور پشاور کی پرواز اسلام آباد لینڈنگ کرائی گئی جب کہ نجی ائیر لائن کی شارجہ اسلام آباد اور مانچسٹر اسلام آباد پرواز منسوخ کر دی گئی،اسلام آباد ریاض کے درمیان نجی ائیر لائن کی پرواز، اسلام آباد سے کوئٹہ کی پروازیں بھی منسوخ کردی گئیں، اس کے علاوہ لاہور دبئی، ملتان دبئی، کراچی کوئٹہ اور کراچی اسلام آباد کی پروازیں بھی منسوخ کردی گئیں۔

    غیر ملکی اخبار میں شائع مضمون ’مصنوعی ذہانت‘ کی مدد سے لکھا گیا تھا،عمران خان …

    دوسری جانب حکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک کے بیشتر بالائی علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے شمالی بلوچستان میں سردی کی شدت برقرار رہے گی، پنجاب اورخیبر پختونخوا کے مختلف میدانی علاقوں دھند چھائے رہنے کا امکان ہے بالائی سندھ کے مختلف علاقوں میں رات کو دھند رہنے کا امکان ہے، اسلام آباد، مری، گلیات اور گر دو نواح میں موسم سرد اور مطلع جزوی ابر آلود رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہےبہاولپور، ساہیوال، اوکاڑہ، قصور، لاہور، سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ، جہلم، منگلا، فیصل آباد، جھنگ، سرگودھا ، منڈی بہاؤالدین، ٹوبہ ٹیک سنگھ، خانیوال، ملتان، خان پور، رحیم یار خان اور حافظ آباد میں دھند چھائے رہنے کا امکان ہے۔

    نیب نے نواز شریف اور اہلخانہ کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹیگیشن بند کر دی

    انتخابات میں جیت کیلئے مودی نے رام مندر کو بھی داؤ پر لگا دیا

  • بیرون ملک سے آنے والے مزید 2 مسافروں میں کورونا کی تشخیص

    بیرون ملک سے آنے والے مزید 2 مسافروں میں کورونا کی تشخیص

    اسلام آباد: بیرون ملک سے آنے والے مزید 2 مسافروں میں کوروناوائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : ترجمان محکمہ صحت سندھ کے مطابق بلوچستان کیچ کا رہائشی 26 سال کا مسافر اتوار کو ابوظبی سے کراچی پہنچا تھا جبکہ27 سال کا اٹک کا رہائشی دوسرا مسافر جدہ سے کراچی آیا تھا دونوں مسافروں کو قرنطینہ کی ہدایت کے ساتھ گھروں کو روانہ کردیا گیا، لیبارٹری ٹیسٹ کی رپورٹ آنے کے بعد کووڈ کی قسم کا معلوم ہوسکے گا۔

    واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی بیرون ملک سے آئے 4 مسافروں میں کورونا کی تشخیص ہوئی تھی، اسلام آباد سمیت زیادہ ترائیرپورٹس پرباہر سے آنے والوں کی کووڈ ٹیسٹنگ شروع ہوگئی ہے، بیرون ملک سے آنے والے 2 فیصد مسافروں کی لازمی کووڈ ٹیسٹنگ ہوگی۔

    انسدادِ پولیو مہم جاری،بچوں کو بروقت قطرے پلوائیں،ضلعی انتظامیہ

    غیر ملکی اخبار میں شائع مضمون ’مصنوعی ذہانت‘ کی مدد سے لکھا گیا تھا،عمران خان …

    نیب نے نواز شریف اور اہلخانہ کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹیگیشن بند کر دی

  • برطانیہ اور امریکا نے بنگلادیش میں متنازع الیکشن پر سوالات اٹھادئیے

    برطانیہ اور امریکا نے بنگلادیش میں متنازع الیکشن پر سوالات اٹھادئیے

    برطانیہ اور امریکا نے بنگلادیش میں متنازع الیکشن پر سوالات اٹھادئیے-

    باغی ٹی وی : عام انتخابات میں شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ نے مسلسل چوتھی اور مجموعی طور پر پانچویں بار الیکشن جیت کر ریکارڈ قائم کیا ہےبنگلا دیشن کے انتخابات اپوزیشن کی طرف سے مکمل بائیکاٹ کےمتنازع قرار پائے ہیں ووٹنگ کے بعد عوامی لیگ دو تہائی اکثریت کی حامل قرار پائی، تاہم امریکا اور برطانیہ کی جانب سے الیکشن کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ شفاف تھے نہ ہی غیرجانبدار-

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ہم بنگلہ دیش کے عوام اور آزاد انہ اور منصفانہ انتخابات میں رہنماؤں کے انتخاب کیلئے اُن کے حق کی حمایت کرتے ہیں ہم دوسرے مبصرین کے ساتھ اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ انتخابات آزادانہ یا منصفانہ نہیں تھے، اور ہم انتخابات کے دوران اور اس سے پہلے کے مہینوں میں ہونے والے تشدد کی مذمت کرتے ہیں ،افسوس ہے کہ بنگلادیش کےانتخابات میں تمام جماعتوں نےحصہ نہیں لیا۔
    https://x.com/StateDeptSpox/status/1744463990862827869?s=20
    دوسری جانب برطانیہ نے بھی کہا ہے کہ بنگلا دیش کے انتخابات آزادانہ اور منصفانہ معیار کے مطابق نہیں، اپوزیشن کی جانب سے بائیکاٹ کرنا بھی جمہوری نہیں ہے۔

    تاہم فتح کا جشن منانے والی شیخ حسینہ واجد نے انتخابات کو آزادانہ اور منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہاگرکوئی پارٹی الیکشن میں حصہ نہیں لیتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک میں جمہوریت نہیں، تنقید کرنے والے ایسا کرتے رہیں۔

    واضح رہےکہ 76 سالہ شیخ حسینہ واجد 2009 سے بنگلادیش کی وزیراعظم ہیں جب کہ انہوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والے جماعتوں کو دہشتگرد جماعتیں قرار دیا ہے۔

  • بلا بحالی کیس: ہم سے بلے کا نشان لے لیا جاتا ہے تو ہم غیر فعال ہو جائیں گے،بیرسٹر علی ظفر

    بلا بحالی کیس: ہم سے بلے کا نشان لے لیا جاتا ہے تو ہم غیر فعال ہو جائیں گے،بیرسٹر علی ظفر

    پشاور ہائیکورٹ میں انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان واپسی کے خلاف کیس کی سماعت کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دی گئی-

    باغی ٹی وی : پشاور ہائیکورٹ میں انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان واپسی کے خلاف کیس کی سماعت جاری ہے ،جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی نے کیس کی سماعت شروع کی تو پی ٹی آئی وکیل شاہ فیصل اتمانخیل اور الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر شاہ مہمند عدالت میں پیش ہوئے،پی ٹی آئی وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ بیرسٹر گوہر راستے میں ہیں، کیس کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کردیا جائے۔اس دوران الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ ہم جواب جمع کرتے ہیں جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ ابھی جواب جمع کرلیں، عدالت نے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی۔

    کافی دیر گزرنے کے بعد بھی بیرسٹر گوہر نہ پہنچے تو پی ٹی آئی وکلاء نے ساڑھے بارہ بجے تک وقت دینے کی استدعا کی، تاہم، بیرسٹر گوہر ساڑھے بارہ بجے بھی پیش نہ ہوسکے، عدالت نے برہمی کا اظہار کیا تو ایڈووکیٹ قاضی انور نے کہا کہ بس 5 سے 10 منٹ میں پہنچ جائیں گے۔

    جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ صبح سے ہم اس کے لیے انتظار کر رہے ہیں، سپریم کورٹ میں جب ہمارے کیسز ہوتے تھے تو ہم صبح پہنچتے تھے، یہ کونسا طریقہ ہےبینچ کوانتظار کروایا جارہا ہے،قاضی انور ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ بس تھوڑا وقت دیا جائے، کچھ دیر میں پہنچ جائیں گے۔

    اس کے بعد عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنا جواب جمع کردیا ہے، جسٹس اعجاز انور نے پی ٹی آئی وکیل سے استفسار کیا کہ آپ سپریم کورٹ سے سماعت میں تو دلچسپی نہیں لے رہے، آپ یہاں سے آج سماعت چاہتے ہیں؟، جس پر وکیل قاضی انور نے کہا کہ نہیں ہم یہاں سماعت چاہتے ہیں، عدالت نے کہا کہ پھر ٹھیک ہے وہ آجائیں تو کیس سنتے ہیں۔

    عدالت میں بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر ظفر کا انتظار جاری تھا کہ اس دوران جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ اعتراض کرنے والے وکلا کو بھی طلب کیا جائے، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ تحریک انصاف کے انتخابات پر سب سے پہلا اعتراض اکبر ایس بابر کا ہے، وہ کہاں ہیں؟

    الیکشن کمیشن میں درخواست دینے والے جہانگیر رضا نے عدالت میں بیان دیا کہ میرا وکیل ہڑتال کی وجہ سے کورٹ میں نہیں آرہا جس پر جسٹس انور اعجاز نے کہا کہ یہ کورٹ ہے ہمارا ہڑتال سے کوئی سروکار نہیں۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 13 تاریخ کو الیکشن کمیشن امیدوار کو انتخابی نشانات الاٹ کرے گا، پی ٹی آئی کو اگر نشان الاٹ نہیں ہوتا تو وہ آزاد تصور ہوں گے، ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو عبوری ریلیف دیا تھا وہ ختم ہوگیا ہے۔

    جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ اگر ہم آج فیصلہ کرلیں تو یہ مسئلہ ختم ہوسکتا ہے؟ سپریم کورٹ میں کیس کی ضرورت نہیں؟، جس پر الیکشن کمیشن نے کہا کہ بالکل پھر ضرورت نہیں۔

    جسٹس اعجاز انور نے پی ٹی آئی وکلا کو کہا کہ آپ ان کو سمجھا دیں کہ وقت پر آیا کریں، مزید انتظار نہیں ہوگا،ایک بج کر 15 منٹ پر دوبارہ سماعت ہوگی، مزید وقت نہیں دیا جائے گا اتنے میں پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر علی خان ہائیکورٹ پہنچ گئے سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو بیرسٹر علی ظفر نے عدالت سے تاخیر سے پہنچنے پر معذرت کرلی۔

    اس کے بعد پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے دلائل کا آغاز کیا گیا، بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کو شکایات دینے والوں نے دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی استدعا کی تھی، پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات جون 2022 میں کرائے، ہم نے الیکشن کمیشن کو ریکارڈ پیش کیا، بعد میں الیکشن کمیشن نے اس پر سوالات اٹھانا شروع کئے اور آخر میں الیکشن کمیشن نے 20 روز میں دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا حکم دیا۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن حکم کے مطابق دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرائے، جب الیکشن کرائے تو الیکشن کمیشن نے کہا کہ اعتراض آگئے ہیں،الیکشن کمیشن کو اعتراضات دینے والے غیر متعلقہ لوگ ہیں، الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات پر کوئی سوال نہیں اٹھایا، الیکشن کمیشن نے کہا سیکرٹری جنرل عمر ایوب کی تعیناتی درست نہیں اور عمر ایوب کی تعیناتی پر انتخابات کو کالعدم قرار دیا۔

    بیرسٹر علی ظفرنے کہا کہ انتخابات کالعدم قرار دینے کے بعد انتخابی نشان لے لیا گیا، اب پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد ہوں گے، پی ٹی آئی مخصوص نشستوں سے بھی محروم ہوگی جنہوں نے اعتراضات اٹھائے ہیں ان میں کوئی بھی پارٹی کے ممبر نہیں ہیں، ہمارے 8 لاکھ ووٹرز میں اعتراض کرنے والوں نے نام شامل نہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ہمارے ووٹرز کی جان بلے میں ہے ہم سے بلے کا نشان لے لیا جاتا ہے تو ہم غیر فعال ہو جائیں گے، جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ آپ کو یہ اعتراض ہے کہ انٹراپارٹی الیکشن کا معاملہ الیکشن کمیشن کے اختیار میں نہیں آتا، پی ٹی آئی مخصوص 227 نشستوں میں اپنے حصے سے محروم ہوجائے گی اگر آج فیصلہ نہ ہوا تو کروڑوں لوگ پارٹی کے حقوق سے محروم رہ جائیں گے، ہمارے 8 لاکھ ووٹرز میں اعتراض کرنے والوں کے نام شامل نہیں-

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اعتراضات کرنیوالوں نے کہا ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات پی ٹی آئی آئین کے مطابق نہیں،وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ انتخابات کالعدم قرار دینے کے بعد انتخابی نشان لے لیا گیا، پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد ہوں گے، پی ٹی آئی مخصوص نشستوں سے بھی محروم ہوگی-

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے پشاور ہائیکورٹ سے بلے کے نشان کی واپسی کا کیس جمعرات تک ملتوی کرنے کی استدعا کی، جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ 13 جنوری کو انتخابی نشان الاٹ ہونے ہیں تو ایسے میں انٹرا پارٹی الیکشن ہوسکتے ہیں؟ جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ علی ظفر صاحب اگر کیس کو پرسوں تک ملتوی کردیا تو آپ کو کیا نقصان ہوگا ؟

    جس پر بیرسٹر علی ظفر نے جواب دیا کہ 12 جنوری تک امیدوار کاغذات واپس لے سکیں گے، 13 کو نشانات الاٹ ہو رہے ہیں، جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیئے کہ ٹھیک ہے ہم کیس کو سُنتے ہیں، دلائل جاری رکھیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق 20 دن میں انٹرا پارٹی انتخابات کرائے گئے، بیرسٹر گوہر انتخابات کے نتیجے میں پارٹی چئیرمین منتخب ہوئے، بیرسٹر گوہر نے ریکارڈ پر دستخط کرکے الیکشن کمیشن کو دئیے،الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں، اگر انٹرا پارٹی انتخابات نہ بھی کرائے جائیں تو الیکشن کمیشن کسی پارٹی کو انتخابی نشان سے محروم نہیں کرسکتا، الیکشن کمیشن صرف ”ریکارڈ کیپر“ ہےلیکشن کمیشن کو 7 دن کے اندر سرٹیفکیٹ جاری کرنا لازمی ہے-

    وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی پارٹی انتخابات کا انعقاد نہ کرے تو جرمانہ ہوگا،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی پر کس قسم کا جرمانہ عائد کیا، جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ آپ بیٹ کیوں مانگ رہے ہیں، آپ کیا دلائل دیں گے، آپ کو ’’بلا‘‘ ہی کیوں چاہیئے؟ جس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سیاسی جماعت کے پاس اختیار ہے کہ وہی نشان مانگے جس پر پہلے کبھی الیکشن لڑا ہو، سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق اگر کسی پارٹی سے انتخابی نشان لے لیا گیا تو پارٹی غیر فعال ہو جائے گئی، پارٹی نشان سیاسی کارکنوں کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے-

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انتخابی نشان واپس لیا جانا پارٹی کو تحلیل کرنے مترادف ہے، آئین اور الیکشن ایکٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیرقانونی و غیرآئینی ہے کسی قانون میں الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہی نہیں، یہ اختیار شاید ہائیکورٹ کے پاس ہے، جس پر جسٹس ارشد علی نے کہا کہ نہیں ہمارے پاس بھی نہیں ہے۔

    یرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کوئی کورٹ آف لاء نہیں، ایسے تنازعے کے حل کے لیے ٹرائل ضروری ہے، ایسے تنازعات میں سول کورٹ ہی ٹرائل کرسکتی ہے الیکشن کمیشن نے سمری میں فیصلہ کیا ہے۔

    جس پر جسٹس ارشد علی نے کہا کہ ایسے میں تو پھر کیس الیکشن کمیشن کو ریمانڈ ہوگا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بالکل ریمانڈ ہوگا لیکن اگر الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہو, الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہی نہیں، الیکشن کمیشن نے صرف یہ اعتراض کیا کہ تعیناتی صحیح نہیں ہوئی انہوں نے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے، اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

    بیرسٹر علی ظفر نے مسلسل 2 گھنٹے دلائل دیے، جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ چائے پی لیں، آپ نے سفر بھی کیا ہے، 3 بج کر 30 منٹ پر جمع ہوں گے،عدالت نے سماعت میں ساڑھے تین بجے تک وقفہ کردیا۔

  • عمران خان کا اپنی تحریر کے حوالے سے اعتراف پر  مرتضٰی سولنگی کا ردعمل

    عمران خان کا اپنی تحریر کے حوالے سے اعتراف پر مرتضٰی سولنگی کا ردعمل

    اسلام آباد: نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضٰی سولنگی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے اپنی تحریر کے حوالے سے اعتراف کے بعد ردعمل دیا ہے-

    باغی ٹی وی : مرتضیٰ سولنگی نے ایکس پر اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتراف کیا کہ دی اکانومسٹ میں چھپنے والا مضمون انہوں نے نہیں لکھا، بلکہ مضمون آرٹیفیشل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت) سے تیار کیا گیا تھا، موجودہ چیئرمین پی ٹی آئی نے اس مضمون کے ریاست مخالف ہونے اور اس میں موجود امریکہ مخالف مواد کی توثیق نہیں کی، بیرون ملک پی ٹی آئی، کچھ نیم خواندہ اینکرز اور دی اکانومسٹ اے آئی کی اس فریب کاری پر شادیانے بجا رہے ہیں۔
    https://x.com/murtazasolangi/status/1744555593556525253?s=20
    عمران خان نے اپنے مضمون میں اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان میں عام انتخابات مقررہ تاریخ 8 فروری کو بالکل بھی نہیں ہوں گے، اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو بھی اسطرح کے انتخابات تباہی اور تماشہ ہوں گےکیونکہ پی ٹی آئی کو انتخابی مہم چلانے کے بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

    غیر ملکی اخبار میں شائع مضمون ’مصنوعی ذہانت‘ کی مدد سے لکھا گیا تھا،عمران خان …

    نیب نے نواز شریف اور اہلخانہ کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹیگیشن بند کر دی

    انتخابات میں جیت کیلئے مودی نے رام مندر کو بھی داؤ پر لگا دیا

  • غیر ملکی اخبار میں شائع مضمون ’مصنوعی ذہانت‘ کی مدد سے لکھا گیا تھا،عمران خان کا انکشاف

    غیر ملکی اخبار میں شائع مضمون ’مصنوعی ذہانت‘ کی مدد سے لکھا گیا تھا،عمران خان کا انکشاف

    اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان نے دعوی کیاہے کہ دی اکانومسٹ میں ان کے نام سے شائع کیا جانے والا مضمون دراصل ’مصنوعی ذہانت‘ کی مدد سے لکھا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی : انگریزی اخبار "ڈان” میں شائع خبر کے مطابق عمران خان نے یہ دعویٰ پیر 8 جنوری کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس اور توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کے بعد کوریج کیلئے جیل کے اندر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیاعمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ مضمون خود نہیں لکھا بلکہ یہ ان نکات پر مبنی تھاجو انہوں نے طے کیے تھے اور انہیں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے الفاظ میں ڈھالا گیا تھا۔

    عمران خان نے اپنے مضمون میں اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان میں عام انتخابات مقررہ تاریخ 8 فروری کو بالکل بھی نہیں ہوں گےاگر وہ ایسا کرتے ہیں تو بھی اس طرح کے انتخابات تباہی اور تماشہ ہوں گے کیونکہ پی ٹی آئی کو انتخابی مہم چلانے کے بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

    برطانوی جریدے میں شائع آرٹیکل عمران خان کی اپنی تحریر نہیں،جیل حکام

    مضمون کی حقیقت کے بارے میں پوچھے جانے پر عمران خان کے قریبی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اس میں پی ٹی آئی کے بانی کی جانب سے مختلف اوقات میں بیان کیے گئے حقائق شامل ہیں، یہ مضمون سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پہلے سے موجود حقائق کا مجموعہ ہے عمران خان نے یہ تفصیلات جیل میں خود سے ملاقات کیلئے جانے والے کچھ مہمانوں کے ساتھ شیئر کی تھیں اور ہوسکتا ہے کہ انہی افراد میں سے کسی نے یہ سب میگزین سے وابستہ کسی فرد کو بتایا ہو، جس نے ان حقائق کو ایک مضمون کی شکل میں یکجا کیا ہو۔

    ملک کے بیشتر بالائی علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان

    یہ مضمون دی اکانومسٹ میں جمعرات 4 جنوری کو پہلی بار شائع کیا گیا تھا جس کے بعد سے اسے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے کم از کم 7 بار دوبارہ پوسٹ کیا گیا ہے، ان پوسٹس کو 25 ملین سے زائد بار دیکھا جا چکا ہےچیٹ جی پی ٹی جیسے مصنوعی ذہانت پر مبنی پروگراموں کو مضامین لکھنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، تاہم ڈیجیٹل رائٹس کے ماہر اسامہ خلجی نے عمران خان کے اس دعوے پر کچھ حد تک شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

    انتخابات میں جیت کیلئے مودی نے رام مندر کو بھی داؤ پر لگا دیا

    ان کا کہنا تھا کہ چاہے یہ مضمون عمران خان کے انداز میں لکھا گیا ہو، مصنوعی ذہانت ان کے نوٹس کی بنیاد پر استعمال کی گئی تھی، یا ان کے قریبی ساتھیوں نے اس میں ترمیم کی تھی، یہ مضمون کے مواد کی طرح اہم نہیں ہے، مصنوعی ذہانت ایک ایسا آلہ ہے جسے لکھنے میں مدد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

  • نیب نے نواز شریف اور اہلخانہ کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹیگیشن بند کر دی

    نیب نے نواز شریف اور اہلخانہ کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹیگیشن بند کر دی

    اسلام آباد: نیب نے نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹی گیشن بند کر دی ہے۔

    باغی ٹی وی : "دی نیوز” کے مطابق نیب کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اعلان کے مطابق، یکم جنوری 2024 کو ہونے والی بیورو کی ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ (ای بی ایم) کے فیصلے کے بعد نواز شریف اور ان کی فیملی کے ارکان کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انوسٹیگیشن بند کر دی گئی ہے۔

    شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹی گیشن کی منظوری 31؍ مارچ 2000 کو دی گئی تھی شکایت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ شریف فیملی نے خفیہ طور پر شریف ٹرسٹ میں کروڑوں روپے وصول کیے ہیں، یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ ٹرسٹ کے کھاتوں کا آڈٹ نہیں کرایا گیا اور رقوم میں خرد برد کی گئی ہے۔

    یہ بھی الزام لگایا گیا کہ شریف خاندان نے اثاثے بنا رکھے ہیں جو ٹرسٹ کے نام پر بے نامی جائیدادوں کے طور پر رکھے گئے تھے۔ پانامہ پیپرز میں تشکیل دی گئی متنازع جے آئی ٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا تھا کہ 2000ء میں منظوری کے بعد سے شریف ٹرسٹ کیس میں انوسٹی گیشن کو نیب نے بلا جواز تاخیر کا شکار کر رکھا ہے۔

    بیٹی نے گھر پر قبضہ کر کے بیوہ ماں‌کو نکال دیا،بیوہ خاتون کا تحفظ کا …

    پانامہ جے آئی ٹی نے تجویز دی تھی کہ نیب کو ہدایت کی جائے کہ وہ قلیل مدت میں انویسٹی گیشن مکمل کرنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کرے اب، نیب نے شہباز شریف حکومت کی جانب سے ترمیم شدہ نیب ایکٹ 2022ء کے سیکشن 31 بی کے تحت انوسٹی گیشن بند کر دی ہے۔

    اس قانون کے سیکشن 31؍ بی ذیل میں پیش کیا جا رہا ہےکہ ’زیر التواء کارروائی کو واپس لینا اور ختم کرنا:۔ (1) کسی ریفرنس کی پیروی سے قبل، چیئرمین، نیب پراسیکیوٹر جنرل کے ساتھ مشاورت سے، حقائق، حالات اور شواہد کی مجموعی حیثیت کو دیکھتے ہوئے، جزوی طور پر اس ایکٹ کے تحت کسی بھی کارروائی کو مکمل طور پر، مشروط یا غیر مشروط طور پر واپس لے سکتے ہیں یا ختم کر سکتے ہیں، بشرطیکہ یہ غیر منصفانہ ہو۔

    میڈیا انتخابات سے متعلق خبروں پر الیکشن کمیشن کا موقف لے، مرتضی سولنگی

    (2) ریفرنس دائر کرنے کے بعد، اگر چیئرمین نیب پراسیکیوٹر جنرل کی مشاورت سے، حقائق، حالات اور شواہد کی کُلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ خیال کرے کہ ریفرنس جزوی یا مکمل طور پر ناجائز ہے، تو وہ سفارش کر سکتا ہے کہ جس عدالت میں یہ معاملہ زیر التوا ہے کہ وہاں ریفرنس جزوی طور پر یا مکمل طور پر واپس لیا جا سکتا ہے یا ختم کیا جا سکتا ہے۔

    (i) اگر یہ ریفرنس الزام عائد کیے جانے سے پہلے بنایا گیا ہو، تو ملزم کو اس معاملے میں ڈسچارج کر دیا جائے گا، اور (ii) اگر یہ ریفرنس الزام عائد کیے جانے کے بعد دائر کیا گیا ہے، تو وہ ایسے جرم یا جرائم کے سلسلے میں بری ہو جائے گا۔ نواز شریف کیس کے علاوہ، پانچ انکوائریز کو بھی بند کیا گیا ہے۔

    میرے خلاف لطیف کھوسہ کی فرم کے وکلا پیش ہوئے،خواجہ سرانایاب علی

    ان میں پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے سابق چیف آپریٹنگ افسر اکبر ناصر خان، دیگر افسران، اہلکاروں اور دیگر کیخلاف انکوائری،1998 میں سوشل ایکشن پروگرام (ایس اے پی) کے تحت کاؤنٹر فنڈ کے قیام کیلئے پاکستان اور جاپان کی حکومتوں کے درمیان ڈھائی سو ملین ڈالرز (11؍ ارب روپے یا 32.032؍ ملین ین) کے قرضے کے حصول کیلئے کیے گئے معاہدے کے حوالے سے سرکاری عہدیداروں اور دیگر کیخلاف شروع کی جانے والی انکوائری شامل ہے۔

    پارک انکلیو ہاؤسنگ سوسائٹی کے حوالے سے سی ڈی اے کے افسران اور اہلکاروں کیخلاف انکوائری، اسلام آباد کی پبلک لمیٹڈ کمپنیوں میں من پسند افراد کی غیر قانونی بھرتی اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اربوں روپے کے فنڈز کے اجراء کے حوالے سے وفاقی حکومت کے ملازمین اور افسران کیخلاف انکوائری اور شاہد ملک، شہباز یاسین ملک، صائمہ شہباز ملک اور دیگر کیخلاف انکوائری شامل ہے۔

    اوچ شریف:اسلام آباد سے کراچی جانےوالی بس نہرمیں گرگئی،3 مسافرجاں بحق،متعددزخمی

  • انتخابات میں جیت کیلئے مودی نے رام مندر کو بھی داؤ پر لگا دیا

    انتخابات میں جیت کیلئے مودی نے رام مندر کو بھی داؤ پر لگا دیا

    نئی دہلی: بھارت کی سیاسی جماعت جنتا دل پارٹی کے رہنما اجے یادیو نے مودی سرکار پر رام مندر کو بم سے اڑانے کی پلاننگ کا الزام لگا دیا۔

    باغی ٹی وی :این ڈی ٹی وی کے مطابق اجے یادیو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) 22 جنوری 2024 کو افتتاح کے موقع پر بم دھماکا کرائے گی اور مودی سرکار حملے کا الزام پاکستان اور مسلمانوں پر لگا دے گی، ممکنہ بم دھماکے سے مذہبی تناؤ شدت اختیار کر جائے گا۔

    اجے کمار یادیو کا کہنا ہے کہ ٹیکس کے پیسے سے تعمیر رام مندر کا کریڈٹ بی جے پی لے رہی ہےجنتا دل پارٹی کے ایم پی کوشلندر کمار نے بھی مودی سرکار کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    بیٹی نے گھر پر قبضہ کر کے بیوہ ماں‌کو نکال دیا،بیوہ خاتون کا تحفظ کا …

    بھارتی پولیس نے خبردار کیا ہے کہ رام مندر کے افتتاح کے موقع پر دھماکا کرنے کی دھمکی دی گئی ہے تیہار سنگھ اور اوم پرکاش مشرا نامی دو افرادے یوگی آدتیہ اور رام مندر پر حملے کی دھمکی دی ہے22 جنوری 2024 کو رام مندر کے افتتاح پر مودی کو بطور مہمان خصوصی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

    اسٹاک ایکسچینج میں مثبت آغاز،ڈالر کی قیمت میں بھی کمی کا سلسلہ جاری

    خسرہ نمبر 33، سال 1919 ریونیو ریکارڈ کے مطابق ہماری ملکیت ہے : …