Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے

    اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے

    اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
    منزل کےلیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے

    بہزاد لکھنوی

    معروف شاعر اور نغمہ نگار بہزاد لکھنوی 01 جنوری 1900 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے سردار احمد خاں نام تھا بہزاد تخلص اختیار کیا۔ گھر کا ماحول علمی اور ادبی تھا ۔ ان کے والد بھی اپنے وقت میں خاصے مقبول شاعر تھے۔ گھر اور لکھنؤ کے ادبی ماحول کے اثر سے بہزاد بھی بہت چھوٹی سی عمر میں شعر کہنے لگے تھے۔

    بہزاد ایک لمبے عرصے تک محکمۂ ریل سے وابستہ رہے اس کے بعد آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت اختیار کی۔ اس دوران کئی فلمی کمپنیوں سے وابستہ ہوکر نغمے بھی لکھے تقسیم کے بعد پاکستان چلے گئے اور ریڈیو پاکستان کراچی میں ملازمت کی بہزاد لکھنوی کا انتقال 10 اکتوبر1974 کو کراچی میں ہوا۔ شعری مجموعے : نغمۂ نور، کیف و سرور ، موج طہور، چراغ طور، وجد وحال۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے
    ورنہ کہیں تقدیر تماشہ نہ بنا دے
    اے دیکھنے والو مجھے ہنس ہنس کے نہ دیکھو
    تم کو بھی محبت کہیں مجھ سا نہ بنا دے
    میں ڈھونڈھ رہا ہوں مری وہ شمع کہاں ہے
    جو بزم کی ہر چیز کو پروانہ بنا دے
    آخر کوئی صورت بھی تو ہو خانۂ دل کی
    کعبہ نہیں بنتا ہے تو بت خانہ بنا دے
    بہزادؔ ہر اک گام پہ اک سجدۂ مستی
    ہر ذرے کو سنگ در جانانہ بنا دے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تمہارے حسن کی تسخیر عام ہوتی ہے
    کہ اک نگاہ میں دنیا تمام ہوتی ہے
    جہاں پہ جلوۂ جاناں ہے انجمن آرا
    وہاں نگاہ کی منزل تمام ہوتی ہے
    وہی خلش وہی سوزش وہی تپش وہی درد
    ہمیں سحر بھی بہ انداز شام ہوتی ہے
    نگاہ حسن مبارک تجھے در اندازی
    کبھی کبھی مری محفل بھی عام ہوتی ہے
    زہے نصیب میں قربان اپنی قسمت کے
    ترے لیے مری دنیا تمام ہوتی ہے
    نماز عشق کا ہے انحصار اشکوں تک
    یہ بے نیاز سجود و قیام ہوتی ہے
    تری نگاہ کے قرباں تری نگاہ کی ٹیس
    یہ ناتمام ہی رہ کر تمام ہوتی ہے
    وہاں پہ چل مجھے لے کر مرے سمند خیال
    جہاں نگاہ کی مستی حرام ہوتی ہے
    کسی کے ذکر سے بہزادؔ مبتلا اب تک
    جگر میں اک خلش نا تمام ہوتی ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کیا یہ بھی میں بتلا دوں تو کون ہے میں کیا ہوں
    تو جان تماشا ہے میں محو تماشا ہوں
    تو باعث ہستی ہے میں حاصل ہستی ہوں
    تو خالق الفت ہے اور میں ترا بندہ ہوں
    جب تک نہ ملا تھا تو اے فتنۂ دو عالم
    جب درد سے غافل تھا اب درد کی دنیا ہوں
    کچھ فرق نہیں تجھ میں اور مجھ میں کوئی لیکن
    تو اور کسی کا ہے بے درد میں تیرا ہوں
    مدت ہوئی کھو بیٹھا سرمایۂ تسکیں میں
    اب تو تری فرقت میں دن رات تڑپتا ہوں
    ارمان نہیں کوئی گو دل میں مرے لیکن
    اللہ ری مجبوری مجبور تمنا ہوں
    بہزادؔ حزیں مجھ پر اک کیف سا طاری ہے
    اب یہ مرا عالم ہے ہنستا ہوں نہ روتا ہوں

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    آتا ہے جو طوفاں آنے دے کشتی کا خدا خود حافظ ہے
    ممکن ہے کہ اٹھتی لہروں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے

    اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
    منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے

    ہم بھی خود کو تباہ کر لیتے
    تم ادھر بھی نگاہ کر لیتے

    مجھے تو ہوش نہ تھا ان کی بزم میں لیکن
    خموشیوں نے میری ان سے کچھ کلام کیا

    زندہ ہوں اس طرح کہ غم زندگی نہیں
    جلتا ہوا دیا ہوں مگر روشنی نہیں

    میں ڈھونڈھ رہا ہوں مری وہ شمع کہاں ہے
    جو بزم کی ہر چیز کو پروانہ بنا دے

    اے دل کی خلش چل یوں ہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میں
    اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آ جائے

    عشق کا اعجاز سجدوں میں نہاں رکھتا ہوں میں
    نقش پا ہوتی ہے پیشانی جہاں رکھتا ہوں میں

  • افغانستان  زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار ہو گئی

    افغانستان زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار ہو گئی

    ہرات: افغانستان میں جمعہ کی رات آنے والے زلزلے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار سے بڑھ گئی۔

    باغی ٹی وی : افغان حکام کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں 2 ہزار گھر مکمل طور پر تباہ جبکہ ہزاروں مکانات کو جزوی نقصان پہنچاحکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کے باعث مٹی کے تودے اور عمارتیں گرنے سے اموات ہوئیں، 35 ریسکیو ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں ابھی بھی مکانات کے ملبے تلے لوگ دبے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    قدرتی آفات سےنمٹنے کے ادارے کےترجمان ملا جان صائق نےکہا ہے کہ تین صوبوں میں زلزلے سے کافی نقصان ہوا ہے دو سر ی جانب چین نے زلزلہ متاثرین کی مدد کیلئے 2 لاکھ ڈالر کی رقم افغانستان کے حوالے کر دی ہے۔

    عمران خان کی بیٹوں سے فون پر بات کرانے سے متعلق سماعت، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ …

    زلزلے کی وجہ ٹیلی فون کنکشن منقطع ہون کی وجہ سے متاثرہ علاقوں سے درست تفصیلات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے امریکی جیولوجیکل سروے کی ایک ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تباہی ممکنہ طور بڑی ہے، جس کے نتیجے میں کئی افراد کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ہے ہرات کے شمال مغرب میں 21.7 میل دور 5.9 شدت کا زلزلہ، زندہ جان سے شمال مشرق میں 20.5 میل دور 6.3 شدت کا زلزلہ اور ایک اور 6.3 شدت کا زلزلہ شامل ہے۔

    واضح رہے کہ ہرات صوبہ ایران کی سرحد سے ملتا ہے، جبکہ زلزلے کے جھٹکے قریبی صوبوں فراہ اور بادغیس اور کچھ قریبی ایرانی قصبوں میں بھی محسوس کیے گئے۔

    آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس: اسحاق ڈار احتساب عدالت میں پیش نہیں ہوئے

  • ورلڈ کپ 2023:انگلینڈ کا بنگلہ دیش کو 365 رنز کا ہدف

    ورلڈ کپ 2023:انگلینڈ کا بنگلہ دیش کو 365 رنز کا ہدف

    دھرم شالا: آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ کے ساتویں میچ میں بنگلادیش کے کپتان شکیب الحسن نے ٹاس جیت کر انگلینڈ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی ،انگلینڈ نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے بنگلہ دیش کو جیت کے لئے بڑا ہدف دے دیا-

    باغی ٹی وی:یہ میچ بھارت کے دھرم شالا اسٹیڈیم میں کھیلا جا رہا ہے،انگلینڈ نے 9 وکٹوں کے نقصان پر 50 اوورز میں 364 رنز بنائے ، بنگلادیش کے خلاف انگلینڈ کی پہلی وکٹ 115 رنز پر گری، انگلینڈ کی جانب سے اوپننگ بیٹسمین ڈیوڈ میلان اور جونی بیرسٹو نے ٹیم کو اچھا آغاز کیا تاہم جونی بیرسٹو 59 گیندوں پر 8 چوکوں کی مدد سے 52 رنز کی شاندار اننگز کھیلی لیکن اس کے بعد بنگلادیشی کپتان شکیب الحسن کا شکار ہوگئے۔
    https://x.com/ESPNcricinfo/status/1711603059833626964?s=20

    دوسری وکٹ کی شراکت میں ڈیوڈ ملان اور جو روٹ نے 151 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی تاہم ملان 16 چوکے اور 5 چھکے کی مدد سے 140 کی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے،کپتان جوز بٹلر 20، جو روٹ 82، لیام لیونگسٹون صفر پر پویلین لوٹے-

    بنگلادیش کی جانب سے شوریف اسلام نے 2 جبکہ شکیب الحسن اور مہدی حسن نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

    آج کے میچ کیلئے دونوں ٹیموں میں ایک ایک تبدیلی کی گئی، انگلش ٹیم میں معین علی کو بٹھا کر ریس ٹوپلے جبکہ بنگلایش کی ٹیم میں محمد اللہ کو آرام دیتے ہوئے مہدی حسن کوٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

    بھارتی ٹیم کا اہم کھلاڑی اسپتال داخل،پاکستان کیخلاف میچ میں شرکت مشکوک

    آئی سی سی نے پلیئر آف دی منتھ کی نامزدگیوں کا اعلان کر دیا

    نیوزی لینڈ نے نیدر لینڈز کو 99 رنز سے شکست دے دی

    بنگلادیش کا اسکواڈ:
    کپتان شکیب الحسن، لٹن داس، تنزید حسن، نجم الحسن شانتو، مہیدی حسن میراز، مشفق الرحیم، توحید ہردوئے، مہدی حسن، تسکین احمد، شوریف اسلام، مستفیض الرحمان

    انگلینڈ کا اسکواڈ:
    کپتان جوز بٹلر، جونی بیرسٹو، ڈیوڈ ملان، جو روٹ، ہیری بروک، لیام لیونگسٹون، سیم کرن، کرس ووکس، مارک ووڈ، عادل رشید، ریس ٹوپلی

    واضح رہے کہ دھرم شالا میں کھیلے جانے والے پہلے میچ میں افغانستان اور بنگلا دیش کے کھلاڑیوں کو مشکلات پیش آئی تھیں، آؤٹ فیلڈ کی وجہ سے کھلاڑی سنجیدہ انجری سے بال بال بچے تھے۔

  • عمران خان  کی بیٹوں سے فون پر بات کرانے سے متعلق سماعت، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے جواب جمع کرا دیا

    عمران خان کی بیٹوں سے فون پر بات کرانے سے متعلق سماعت، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے جواب جمع کرا دیا

    اسلام آباد: سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بیٹوں سے فون پر بات کرانے سے انکار کردیا۔

    باغی ٹی وی: آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرانے کی درخواست پر سماعت کی جس میں اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے عدالت میں جواب جمع کرایا،سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے فون پر بات کروانے سے انکار کردیا جس میں ایس پی جیل نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتار ملزمان کی بیرونِ ملک ٹیلیفونک بات کروانے کی اجازت نہیں۔

    بھارتی ٹیم کا اہم کھلاڑی اسپتال داخل،پاکستان کیخلاف میچ میں شرکت مشکوک

    عدالت کے جج ابوالحسنات نے ایس پی اڈیالہ جیل سے قیدیوں سے فون پر بات کروانے سے متعلق جیل ایس او پیز طلب کر تے ہوئے 18 اکتوبر تک سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ایس او پیز جمع کروانے کا حکم دیا۔

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سائفر کیس میں اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں، اور خصوصی عدالت نے شاہ محمود قریشی اور عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ بھی مقرر کردی ہے۔

    جو دن گزر گۓ ہیں ترے التفات میں ،میں ان کو جوڑ لوں کہ گھٹا …

  • آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس: اسحاق ڈار احتساب عدالت میں پیش نہیں ہوئے

    آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس: اسحاق ڈار احتساب عدالت میں پیش نہیں ہوئے

    اسلام آباد:سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں احتساب عدالت میں پیش نہیں ہوئے،عدالت نے دائرہ اختیار سے متعلق دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

    باغی ٹی وی: کیس کی سماعت جج محمد بشیر نے کی، نیب پراسکیوٹر افضل قریشی اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے پلیڈر عدالت میں پیش ہوئے،سپریم کورٹ کے فیصلےکےبعد نیب ریفرنس کی عدالتوں میں واپس ہونے پر احتساب عدالت اسلام آباد نے سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں طلب کررکھا تھا، تاہم وہ پیش نہیں ہوئے۔

    شریک ملزمان کے وکلا نے دوماہ تک کیس ملتوی کرنے کی استدعا کی تو نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی نے مؤقف پیش کیا کہ یہ ریفرنس لاہور ریجن کا بنتا ہے،وکیل صفائی قاضی مصباح نے مؤقف دیا کہ یہ ریفرنس اس سے قبل بند ہوگیا تھا۔

    بھارتی ٹیم کا اہم کھلاڑی اسپتال داخل،پاکستان کیخلاف میچ میں شرکت مشکوک

    عدالت نے آئندہ سماعت پر دائرہ اختیار سے متعلق دلائل طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیس احتساب عدالت اسلام آباد میں چلایا جاسکتا ہے یا نہیں، اس پر آئندہ سماعت میں دلائل دیں، عدالت نے کیس کی سماعت 17 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

    جو دن گزر گۓ ہیں ترے التفات میں ،میں ان کو جوڑ لوں کہ گھٹا …

  • بھارتی ٹیم کا اہم کھلاڑی اسپتال داخل،پاکستان کیخلاف میچ میں شرکت مشکوک

    بھارتی ٹیم کا اہم کھلاڑی اسپتال داخل،پاکستان کیخلاف میچ میں شرکت مشکوک

    چنئی: بھارت کی کرکٹ ٹیم کے بیٹر شبمن گل اسپتال داخل ،بھارتی بیٹر کی ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف بھی میچ میں شرکت مشکوک ہو گئی-

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق ڈینگی بخار میں مبتلا شبمن گل کو اسپتال داخل کردیا گیا ہے، ان کے پلیٹیلیٹس کم ہونے کے بعد انہیں احتیاطی طور پر چنئی کے اسپتال میں داخل کیا گیا ہے شبمن گل کو پیر کے روز اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، بھارتی کرکٹ بورڈ کا میڈیکل پینل مسلسل شبمن گل کی نگرانی کر رہا ہے،شبمن گل پاکستان کے خلاف میچ سے بھی باہر ہو سکتے ہیں، اگر وہ ٹھیک ہو جاتے ہیں تو وہ چنئی سےڈائریکٹ احمدآباد جائیں گےشبمن گل نے ڈینگی بخار کیوجہ سے آسٹریلیا کے خلاف میچ نہیں کھیلا تھااور وہ افغانستان کے خلاف میچ سے بھی باہر ہوچکے ہیں۔

    پی ٹی آئی نیوز ایجنسی کے مطابق، شبمن گل کو منگل کی صبح چنئی کے ہسپتال سے علاج کے بعد فارغ کر دیا گیا شبمن گل ہوٹل واپس آئے جہاں بی سی سی آئی کی میڈیکل ٹیم اس کی نگرانی جاری رکھے گی۔

    دھرم شالہ کی آؤٹ فیلڈ، انگلینڈ کے کپتان بھی مایوس

    انڈیا کرکٹ بورڈ نے پیر کو اس بات کی تصدیق کی تھی کہ شبمن گل دہلی کے لیے روانہ نہیں ہوں گےاور وہ طبی ٹیم کی نگرانی میں رہیں گےبی سی سی آئی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ چنئی میں ہی رہیں گے اور میڈیکل ٹیم کی نگرانی میں رہیں گے۔

    یاد رہے کہ بھارت کا مقابلہ 11 اکتوبر کو نئی دہلی میں افغانستان سے ہوگا جبکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ 14 اکتوبر کو احمد آباد میں شیڈول ہے۔

    آئی سی سی نے پلیئر آف دی منتھ کی نامزدگیوں کا اعلان کر د

  • آئی سی سی نے پلیئر آف دی منتھ کی نامزدگیوں کا اعلان کر دیا

    آئی سی سی نے پلیئر آف دی منتھ کی نامزدگیوں کا اعلان کر دیا

    دبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) نے ستمبر کے مہینے کے مین اور ویمن پلیئر آف دی منتھ کی نامزدگیوں کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : آئی سی سی کی جانب سے اعلان کردہ نامزدگیوں میں پاکستان کا کوئی کھلاڑی شامل نہیں جب کہ بھارت کے دو کرکٹرز کو نامزد کیا گیا ہے،نامزدگیوں کا اعلان کھلاڑیوں کی ستمبر کے مہینے کی کارکردگی کی بنیاد پر کیا گیا، بھارت کے شبمن گل اور محمد سراج پلیئر آف دی منتھ کے لیے نامزد ہوئے ہیں جبکہ انگلینڈ کے ڈیوڈ ملان کو بھی پلیئر آف دی منتھ کے لیے نامزد کیا گیا۔

    دوسری جانب آئی سی سی ویمن پلیئر آف دی منتھ کے لیے ساؤتھ افریقہ کی لاورا ولفارٹ اور نڈائن ڈی کلرک اور سری لنکا کی چمازی اتھاپتھو کو نامزد کیا گیا ہے۔

    پاکستان بمقابلہ سری لنکا،ٹیم میں کیا تبدیلیاں کئے جانے کا امکان؟

    نیوزی لینڈ نے نیدر لینڈز کو 99 رنز سے شکست دے دی

    دھرم شالہ کی آؤٹ فیلڈ، انگلینڈ کے کپتان بھی مایوس

  • جو دن گزر گۓ ہیں ترے التفات میں ،میں ان کو جوڑ لوں کہ گھٹا دوں حیات میں ؟

    جو دن گزر گۓ ہیں ترے التفات میں ،میں ان کو جوڑ لوں کہ گھٹا دوں حیات میں ؟

    میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
    تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

    ممتاز شاعر مصطفٰی زیدی

    نام سید مصطفی حسین زیدی اور تخلص زیدی تھا۔ شروع میں تیغ الہ آبادی تخلص کرتے تھے۔10 اکتوبر 1930ء کو الہ آباد میں پیدا ہوئے۔اوائل طالب علمی ہی سے شاعری کا شوق پید ا ہوگیا تھا۔انٹرمیڈیٹ اور بی اے کے امتحانات امتیاز کے ساتھ پاس کیے۔ ایم اے (انگریزی) کا امتحان 1952ء میں گورنمنٹ کالج، لاہور سے پاس کیا۔ دوران تعلیم ان کی غیر معمولی قابلیت کے اعتراف میں انھیں کئی گولڈ میڈل اور تمغے ملے۔1956ءمیں سول سروس کے امتحان میں کامیاب ہوئے۔مختلف شہروں میں ڈپٹی کمشنر رہے۔ حکومت پاکستان نے اعلی کارکردگی کے صلے میں انھیں’’تمغاے قائد اعظم ‘‘ عطا کیا۔12 اکتوبر 1970ء کراچی میں مصطفی زیدی کی اچانک موت کا سانحہ رونما ہوا۔ ان کا پہلا مجموعہ شاعری’’روشنی‘‘ کے نام سے قیام پاکستان سے قبل شائع ہوا ۔ان کے دیگرشعری مجموعوں کے نام یہ ہیں: ’زنجیریں‘، ’شہرآذر‘، ’موج مری صدف صدف‘، ’گریباں‘، ’قباے ساز‘، ’کوہ ندا‘۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
    تمام شہر نے پہنے ہوۓ ہیں دستانے
    زیدی
    ۔۔۔۔۔۔
    مصطفیٰ زیدی اور شہناز
    مصطفیٰ زیدی جب گوجرانوالہ آئے تو یہیں ان کی ملاقات شہناز سے ہوئی شہناز گُل ۔۔۔۔۔ وہ پری وش جو مصطفےٰ زیدی کی زندگی کے آخری ایام میں اس کی تنہائیوں کی رفیق اور زندگی کے آخری پُر اسرار لمحوں کے رازوں کی امین تھی-

    یحییٰ خان کا زمانہ تھا۔ جس نے اسکریننگ کر کے 303 افسران کو بیک جنبش قلم ملازمتوں سے فارغ کر دیا تھا۔ زیدی بھی اس کا نشانہ بن گئے۔ افسر شاہی ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ جرمن بیوی ویرا زیدی اور دونوں بچے جرمنی میں تھے، پاسپورٹ سرکار نے ضبط کر رکھا تھا، ایسے عالم میں ماسٹر ٹائر اینڈ ربر فیکٹری کے مالک فیاض ملک نے آگے بڑھ کر دوستی کا حق ادا کر دیا اور اپنے بنگلے کی انیکسی مصطفی زیدی کو رہائش کے لیے دے دی۔ اسی انیکسی میں ان کی ملاقاتیں ایک عرصے تک تو شہناز گل سے جاری رہیں، لیکن بعد میں یہ سلسلہ بوجوہ آگے نہ بڑھ سکا۔

    ایک دن مصطفی زیدی نے حبیب بینک پلازہ کے سگنل پر رکی ایک کار میں دیکھا کہ ان کی محبوبہ شہناز گل معروف صنعت کار آدم جی پیر بھائی کے ساتھ بیٹھی ہے۔ مصطفی زیدی جیسا حساس اور زودرنج شاعر اس نظارے کو برداشت نہ کر سکا، وہ تو سمجھتا تھا کہ شہناز گل اس کی محبت میں گرفتار ہے، اس کی چاہتوں کی اسیر ہے،مصطفیٰ زیدی کی لاش 12 اکتوبر 1970ء کو کراچی کے ان کے دوست کے بنگلے سے ملی تھی جبکہ شہناز گل بے ہوش پڑی ہوئی تھی۔

    (کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ زیدی مردہ حالت میں ہوٹل سمار کے ایک کمرے میں پائے گئے تھے جبکہ بعض کا خیال ہے کہ ان کی لاش ان کے دوست کے بنگلے سے ملی تھی۔ اس میں تضاد ہے)

    جس پر بعد میں تحقیقاتی کمیشن بھی بنا تھا اور مقدمہ بھی عدالت میں گیا تھا۔ یہ مقدمہ اخبارات نے اس قدر اچھالا کہ مہینوں تک اس پر دھواں دھار بحث ہوتی رہی۔ ان دنوں ہمارے اخبارات اچانک ہی بالغ ہو گئے تھے کیونکہ عدالت میں شہناز گل کے دیئے گئے بیانات نے بہت سے لوگوں کو اپنے گھر آنے والے اخبارات کو روکنا پڑا تھا

    اور ہفت روزہ چٹان میں شورش کشمیری کو ایک نظم لکھنا پڑی تھی جس کے اس ایک شعر سے اس نظم کے موڈ کا اندازہ لگانا مشکل نہ ہو گا۔

    بانجھ ہو جائیں زمینیں, بیٹیاں پیدا نہ ہوں
    یا خدا شہناز گل سی, بیبیاں پیدا نہ ہوں

    رضا علی عابدی نے مصطفی زیدی کے ساتھ نیم مردہ حالت میں پائی جانے والی خاتون شہناز کا احوال بھی اپنے دلچسپ انداز میں لکھا ہے۔ واقعہ یوں ہوا کہ پہلے یہ خبر بطور ایک چھوٹی خبر موصول ہوئی کہ ایک سرکاری افسر نے خودکشی کرلی ہے، جب خبر پھیلی کہ متوفی مصطفی زیدی ہیں تو تمام اخبارات اس خبر کی تفصیل کے پیچھے پڑ گئے اور بقول عابدی صاحب ایسی ایسی داستانیں نکال کر لائے کہ مصطفی زیدی اگر اس وقت بچ جاتے تو اب مر جاتے۔

    عدالت میں حریت کے فوٹو گرافر نے شہناز گل کی ایک قد آدم تصویر کھینچ لی۔ رضا علی عابدی بیان کرتے ہیں کہ اس واقعے کے کافی عرصے کے بعد افتخار عارف نے ایک تقریب میں شہناز گل سے کہا کہ ’ابھی تو آپ پر دس بیس شاعر اور قربان ہوسکتے ہیں عدالت نے طویل رد و کد کے بعد فیصلہ دیا کہ یہ قتل نہیں بلکہ خودکشی تھی اور شہناز گل کو بری کر دیامصطفی زیدی کی وفات کا دکھ ادبی حلقوں ہی میں نہیں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد میں محسوس کیا گیا۔

    جوش ملیح آبادی نے اس سانحے پر کہا "زیدی کی موت نے مجھ کو ایک ایسے جواں سال اور ذہین رفیق سفر سے محروم کر دیا جو فکر کے بھیانک جنگلوں میں میرے شانے سے شانہ ملا کر چلتا اور مسائل کائنات سلجھانے میں میرا ہاتھ بٹایا کرتا”

    وہ کراچی میں خراسان باغ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں ۔

    مصطفی زیدی نے خود ہی کہا تھا کہ

    "میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
    تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے”

    شہناز گل کے لیے مصطفیٰ زیدی نے کئی غزلیں اور نظمیں کہی تھیں جن میں یہ غزل بہت مشہور ہے:

    فن کار خود نہ تھی ،مرے فن کی شریک تھی
    وه روح کے سفر میں بدن کی شریک تھی
    اُترا تھا جس پہ باب حیا کا ورق ورق
    بستر کے ایک ایک شکن کی شریک تھی
    میں اک اعتبار سے آتش پرست تھا
    وه سارے زاویوں سے چمن کی شریک تھی
    وه نازشِ ستاره و طَنّازِ ماہتاب
    گردش کے وقت میرے گہن کی شریک تھی
    وه ہم جليسِ سانحہ ء زحمتِ نشاط
    آسائشِ صلیب و رسن کی شریک تھی
    ناقابل بیان اندھیرے کے باوجود
    میری دُعائے صبحِ وطن کی شریک تھی
    دُنیا میں اک سال کی مدت کا قُرب تھا
    دل میں کئی ہزار قرن کی شریک تھی

    یہ نظم کراچی کے ہوٹل سمار میں لکھی گئی یہ وہی ہوٹل ہے جس کے ایک کمرے میں مصطفےٰ زیدی مردہ پائے گئے تھے

    "شہناز(5)”
    جس طرح ترک تعلق پہ ہے اصرار اب کے
    ایسی شدت تو میرے عہد وفا میں بھی نہ تھی
    میں نے دیدہ و دانستہ پیا ہے وہ زہر
    جس کی جرات صف تسلیم و رضا میں بھی نہ تھی
    تو نے جس لہر کی صورت سے مجھے چاہا تھا
    ساز میں بھی نہ تھی وہ بات، صبا میں بھی نہ تھی
    بے نیاز ایسا تھا میں دشت جنوں میں کھو کر
    مجھ کو پانے کی سکت ارض و سما میں بھی نہ تھی
    اور اب یوں ہے کے جیسے کبھی رسم اخلاص
    مہ نشینوں میں تو کیا، ہم فقیروں میں بھی نہ تھی
    بے وفائی کی یہ مشترکہ نئی آسائش
    دل پرخون میں بھی اور رنگ حنا میں بھی نہ تھی
    نہ تو شرمندہ ہے دل اور نہ حنا خوار اب کے
    جس طرح ترک تعلق پہ ہے اصرار اب کے

    ہوٹل سمار، کراچی 22 ستمبر 1970

    "شہناز”
    خود کو تاراج کرو
    زندگیاں کم کر لو
    جتنا چاہو دل شوریدہ
    کا ماتم کر لو
    تاب وحشت کسی صحرا
    کسی زنداں میں نہیں
    اِس قدر چارہ گری
    وقت کے امکاں میں نہیں
    خاطر جاں کے
    قرینے تو کہاں آئیں گے
    صرف یہ ہو گا کہ
    احباب بچھڑ جائیں گے
    گھر جو اُجڑے تو
    سنورتے نہیں دیکھے اب تک
    ایسے ناسُور تو
    بھرتے نہیں دیکھے اب تک
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جو دن گزر گۓ ہیں ترے التفات میں
    میں ان کو جوڑ لوں کہ گھٹا دوں حیات میں ؟

    کچھ میں ہی جانتا ہوں جو مجھ پر گزر گئی
    دنیا تو لطف لے گی مرے واقعات میں

    میرا تو جرم تذکرہء عام ہے مگر
    کچھ دھجیاں ہیں میری زلیخا کے ہات میں

    آخر تمام عمر کی وسعت سما گئی
    اک لمحہء گزشتہ کی چھوٹی سی بات میں

    اے دل ذرا سی جراتِ رندی سے کام لے
    کتنے چراغ ٹوٹ گۓ احتیاط میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے
    غم دل مرے رفیقو ، غم رائیگاں نہیں ہے

    کوئی ہم نفس نہیں ہے ، کوئی رازداں نہیں ہے
    فقط اک دل تھا اب تک سو وہ مہرباں نہیں ہے

    مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو
    مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے

    کسی آنکھ کو صدا دو ، کسی زلف کو پکارو
    بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے

    انہی پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
    مرے گھر کے راستے میں کہیں کہکشاں نہیں ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہونٹوں کا ماہ تاب ہیں ، آنکھوں کے بام ہیں
    سر پھوڑنے کو ایک نہیں سو مقام ہیں

    تم سے تو ایک دل کی کلی نہ کھل سکی
    یہ بھی بلا کشانِ محبت کے کام ہیں

    دل سے گزر خدا کے لیے اور ہوشیار
    اس سرزمیں کے لوگ بہت بدکلام ہیں

    تھوڑی سی دیر صبر کہ اس عرصہ گاہ میں
    اے سوزِ عشق ، ہم کو ابھی اور کام ہیں

    تم بھی خدا سے سوزِ جنوں کی دعا کرو
    ہم پر تو اِن بزرگ کے احسان عام ہیں

    وہ کیا کرے جو تیری بدولت نہ ہنس سکا
    اور جس پہ اتفاق سے آنسو حرام ہیں

    اپنے پہ آ پڑیں تو نۓ پن کی حد نہیں
    جو واقعات سب کی حکایت میں عام ہیں

    منعم کا تو خدا بھی امیں ، بت بھی پاسباں
    مفلس کے صرف تیغ علیہ السلام ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ گُھٹا گُھٹا طوفاں ، یہ تھمی تھمی بارش رُوبُرو نہ رہ جائے
    آج اس طرح رولے ، جس کے بعد رونے کی آرزو نہ رہ جائے

    دوستو گلے مل لو ، ساتھیوں کی محفل میں دو گھڑی کو مل بیٹھو
    اس خلوص کی شاید میرے بعد دنیا میں آبرو نہ رہ جائے

    صبح و شام کی الجھن ، رات دن کے ہنگامے روز روز کا جھگڑا
    دیکھ پیر میخانہ آج میں نہ رہ جاؤں یا سبو نہ رہ جائے

    اپنا غم نہ اس کا اس کا غم ڈوبتی ہوئی لَو کو فکر ہے تو اس کی ہے
    دربدر نہ رسوا ہو حسرتوں کا افسانہ کو بہ کو نہ رہ جائے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا کیا نظر کو شوقِ ہوس دیکھنے میں تھا
    دیکھا تو ہر جمال اسی آئینے میں تھا

    قُلزُم نے بڑ ھ کے چو م لئے پھول سے قدم
    دریائے رنگ و نور ابھی راستے میں تھا

    اِک موجِ خونِ خَلق تھی کس کی جبیں پہ تھی
    اِک طو قِ فردِ جرم تھا ،کس کے گلے میں تھا

    اِک رشتہ ءِ وفا تھا سو کس ناشناس سے
    اِک درد حرزِ جاں تھا سو کس کے صلے میں تھا

    صہبائے تند و تیز کی حدت کو کیا خبر
    شیشے سے پوچھیے جو مزا ٹوٹنے میں تھا

    کیا کیا رہے ہیں حرف و حکایت کے سلسے
    وہ کم سخن نہیں تھا مگر دیکھنے میں تھا

    تائب تھے احتساب سے جب سارے بادہ کش
    مجھ کو یہ افتخار کہ میں میکدے تھا

  • آئی جی سندھ کی پولیس کومفرور و اشتہاری ملزمان کے حوالے سے 2 روز کا الٹی میٹم

    آئی جی سندھ کی پولیس کومفرور و اشتہاری ملزمان کے حوالے سے 2 روز کا الٹی میٹم

    کراچی: آئی جی سندھ رفعت مختار راجہ نے سندھ بھر کے ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز کو کارکردگی بہتر کرنے کیلئے 2 روز کا الٹی میٹم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: سینٹرل پولیس آفس میں مفرور و اشتہاری ملزمان کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں آئی جی سندھ نے نگراں وزیر اعلیٰ کی جانب سے کراچی میں ہونے والے ایک دن کے جرائم کی رپورٹ پر افسران کی سخت سرزنش کی۔

    آئی جی سندھ رفعت مختار راجہ نے ایڈیشنل آئی جی کراچی سمیت دیگر افسران پر برہمی و ناراضی کا اظہار کیا اور الٹی میٹم دیا کہ 2 دن کا وقت ہے پھر کوئی شکوہ نہ کرے، ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز کو بتادیا ہے ، عہدوں سے ہٹادوں پر شکوہ نہ کیجئے گا ، پیسوں کی بہت حرص و ہوس ہے تو میں 10 سے 15 لاکھ روپے بھیج دیا کروں گا ، کہاں سے اسمگلنگ کی لائن چل رہی ہے سب معلوم ہے ، جہاں یہ کام ہورہا ہے وہاں کے ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز کو فون کرکے آگاہ کردیا ہے۔

    ننکانہ : پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائی،شہریوں کو مردہ مرغیوں کا گوشت کھلانے کا بڑا …

    انہوں نے کہا کہ اشتہاری و مفرور پکڑے نہیں جاتے اور میٹنگ میں آکر باتیں کرتے ہیں ، کراچی کے 109 تھانوں کی کیا کررکردگی ہے؟ اگر ایک تھانہ ایک اشتہاری و مفرور پکڑ لیتا تو یہاں بیٹھ کر ناکامی کا اعتراف نہ کرتے، کراچی کے ایس ایچ اوز کیسے تعینات ہوئے ہیں سب جانتا ہوں آئی جی سندھ نے میٹنگ میں بیٹھے ایک افسر کو ہدایت کی سب کو شوکاز جاری کریں جو جرائم میں ملوث ہیں انہیں ہٹائیں، اب بہت ہوگیا۔

    محمد بن سلمان کا مصری صدر اور اردن فرمان روا سے رابطہ

  • محمد بن سلمان کا مصری صدر اور اردن فرمان روا سے رابطہ

    محمد بن سلمان کا مصری صدر اور اردن فرمان روا سے رابطہ

    ریاض: سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب جائز حقوق کے حصول کیلئے فلسطینی عوام کیساتھ کھڑا ہے۔

    باغی ٹی وی: سعودی میڈیا کے مطابق حماس اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور غزہ کی صورتحال کے حوالے سے سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے مصری صدر عبد الفتاح السیسی اور اردن کے فرمان روا شاہ عبدللہ ثانی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے تینوں رہنماؤں کے درمیان غزہ اور گردو نواح میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بگڑتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، اردن فرمان روا عبداللہ ثانی نے رابطے کے دوران غزہ اور گردونواح میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں اسے پھیلنے سے روکنے کے لیے بین الاقوامی وعلاقائی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت پراتفاق کیا محمد بن سلمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے حصول، ان کی امیدوں، امنگوں کو پورا کرنے، منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کے لیے ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

    100 افراد ہلاک؛ اسرائیلیوں کو بم پناہ گاہوں میں دن گزارنے کی ہدایت

    فلسطین، اسرائیل کشیدگی بڑھ گئی، عالمی جنگ شروع ؟

    اوچ شریف انٹرچینج ،موٹروےپولیس کی کارروائی،بین الصوبائی منشیات سمگلرز گرفتار