Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ورلڈ کپ 2023: نیدرلینڈز کے خلاف نیوزی لینڈ کی بیٹنگ جاری

    ورلڈ کپ 2023: نیدرلینڈز کے خلاف نیوزی لینڈ کی بیٹنگ جاری

    حیدر آباد ،دکن: نیدرلینڈز نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : میچ بھارتی حیدرآباد کے راجیو گاندھی اسٹیڈیم میں کھیلا جارہا ہے جہاں نیدرلینڈز نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا کیوی ٹیم پہلے بیٹنگ کرے گی، نیوزی لینڈ کے 32 اوورز مکمل ہوچکے ہیں اور ٹیم کا اسکور دو وکٹوں کے نقصان پر 183 ہے۔

    دوسری جانب کیوی ہیڈ کوچ گیرے اسٹیڈ نے انجرڈ تین پلیئرز کی انجری سے متعلق اپڈیٹ میں کہا ہے کہ ٹم سائودی اور لوکی فرگوسن کی ڈچ الیون کیخلاف واپسی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے، ہیڈ کوچ کے مطابق کین ولیمسن کو ابھی مزید کچھ وقت گراؤنڈ سے باہر گزارنا پڑیگا۔

    کیوی کوچ کا کہنا ہے کہ لوکی فرگوسن نے عمدگی سے ٹریننگ کی ہے اور وہ اب ہمیں اگلے میچ میں دستیاب ہوسکتے ہیں، ٹم سائودی بھی بہتر ہوگئے ہیں، ان کا حتمی ایکسرے بھی کلیئر آگیا ہے، ہم صورتحال بہتر رہنے پر انھیں میچ میں طلب کرسکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ دونوں ٹیموں کا ورلڈکپ میں یہ دوسرا میچ ہے، نیدرلینڈز کو پہلے میچ میں پاکستان سے شکست ہوئی تھی جب کہ نیوزی لینڈ نے ٹورنامنٹ کے پہلے میچ میں انگلینڈ کو 9 وکٹوں سے ہرایا تھا،کیوی ٹیم دو پوائنٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر موجود ہیں جبکہ نیدر لینڈز شکست کی وجہ سے آٹھویں نمبر پر ہے۔

    نیدرلینڈز کی ٹیم میں وکرم جیت سنگھ، میکس اوڈوڈ، کولن ایکرمین، باس ڈی لیڈ، تیجا ندامانورو، اسکاٹ ایڈورڈز (وکٹ کیپر)، سائبرانڈ اینجلبریچٹ، رولوف وان ڈر مروے، ریان کلائن، آریان دت اور پال وان میکرن شامل ہیں۔

    نیوزی لینڈ کی ٹیم ڈیون کونوے، ول ینگ، راچن رویندر، ڈیرل مچل، ٹام لیتھم (وکٹ کیپر)، گلین فلپس، مارک چیپمین، مچل سینٹنر، میٹ ہنری، لوکی فرگوسن اور ٹرینٹ بولٹ پر مشتمل ہے۔

  • 21اکتوبر کو مینار پاکستان پر نواز شریف کا خطاب قومی نصب العین طے کرے گا،شہباز شریف

    21اکتوبر کو مینار پاکستان پر نواز شریف کا خطاب قومی نصب العین طے کرے گا،شہباز شریف

    لاہور: سابق وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی پاکستان کے اتحاد اور معاشی مضبوطی کی طرف اہم قدم ثابت ہوگی-

    باغی ٹی وی : مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی قیادت میں پوری قوت سے ملک گیر انتخابی مہم چلائیں گے، 21 اکتوبر کو مینار پاکستان پر نواز شریف کا خطاب قومی نصب العین طے کرے گا نواز شریف کی وطن واپسی پاکستان کے اتحاد اور معاشی مضبوطی کی طرف اہم قدم ثابت ہوگی، انہوں نے ہمیشہ بحرانوں سے نکالنے اور عوام کی توقعات پر تاریخی کردار ادا کیا۔
    https://x.com/pmln_org/status/1711284079876858144?s=20

    بھارت حیدرآباد : نیوزی لینڈ کی پری میچ پریس کانفرنس کے دوران بجلی …

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی قیادت میں ہم نے ہمیشہ ملک کو بچایا ہے، اللہ تعالیٰ کے کرم سے پھر ایسا ہی ہوگا، ایک بار پھر تاریخ اور اپنی سنہری روایت دوہرائیں گے، عوام کو مشکلات سے نکالیں گے، پوری کوشش کریں گے کہ اپنے قائد کی قیادت میں سب ٹھیک کریں،مرد، خواتین اور نوجوان کارکنوں کا جذبہ، لگن اور پارٹی سے نظریاتی وابستگی مثالی ہے، یہ فیصلہ کن مرحلہ بھی ماضی کی روایتی ہمت اور قوت سے عبور کرنا ہے۔

    بھارت حیدرآباد : نیوزی لینڈ کی پری میچ پریس کانفرنس کے دوران بجلی …

  • بھارت  حیدرآباد :  نیوزی لینڈ کی پری میچ پریس کانفرنس کے دوران بجلی غائب

    بھارت حیدرآباد : نیوزی لینڈ کی پری میچ پریس کانفرنس کے دوران بجلی غائب

    احمد آباد: بھارت کے راجیو گاندھی اسٹیڈیم میں گزشتہ روز نیوزی لینڈ کی پری میچ پریس کانفرنس کے دوران بجلی غائب ہوگئی، ٹارچ کی روشنی میں بات مکمل کی گئی۔

    باغی ٹی وی : ویب سائٹ ‘کرک انفو’ کے مطابق پریس کانفرنس میں کیوی بلے باز گلین فلپس نےاندھیرے میں سوالات کے جوابات دیئے،گزشتہ رات نیوزی لینڈ کی نیدرلینڈز کے خلاف میچ کے حوالے سے پریس کانفرنس جاری تھی جب اچانک بجلی غائب ہوگئی گلین فلپس نے ٹارچ کی روشنی میں بقیہ سوالوں کے جوابات دیئے۔https://x.com/ESPNcricinfo/status/1711210064172757474?s=20

    سابق صوبائی وزیر کی گاڑی پر فائرنگ،مقدمہ درج

    اس سے قبل بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان چنائی کے چدمبرم اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ کے اختتام پر بھی لائٹس اچانک بند ہوگئیں۔ بھارتی میڈیا اور شائقین کی جانب سے اس عمل کو بھارت کی جیت کی خوشی میں ‘لائٹ ایفیکٹ’ کا نام دیا جارہا ہے آئی سی سی ون ڈے ورلڈکپ سے پہلے بھارت آسٹریلیا سیریز کے پہلے میچ میں بھی موہالی کے اسٹیڈیم کے پریس باکس میں اچانک بجلی بند ہوگئی تھی۔
    https://x.com/_FaridKhan/status/1711054495751569561?s=20

    فیملی، وکلاء، ذاتی معالج سے جیل میں ملاقات کی اجازت کیلئے درخواست

  • خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں آندھی اور شدید بارش کی پیشگوئی

    خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں آندھی اور شدید بارش کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے اگلے 24 گھنٹوں کے دوران پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں آندھی کے شدید بارش کی پیشگوئی کردی۔

    باغی ٹی وی:محکمہ موسمیات کےمطابق صوبے کےپہاڑی علاقوں بشمول دیر، چترال ،سوات، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، خیبر سمیت کئی علاقوں میں بارش بارش ہوگی صوابی، پشاور، نوشہرہ اور پشاور میں تیز آندھی کے ساتھ بارش ہونے کا ا مکان ہے، بارش سے کمزور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کے لئے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کردی گئی چترال، سوات، کوہستان ، بٹگرام اور مانسہرہ میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ ظاہر کردیا ہے۔

    سابق صوبائی وزیر کی گاڑی پر فائرنگ،مقدمہ درج

    محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے زیادہ تر علاقوں میں موسم خشک اور جنوبی علاقوں میں گرم رہا گزشتہ روز کالام میں 2 اور چترال دروش میں 1 ملی میٹر بارش جب کہ ڈی آئی خان کا درجہ حرارت 38، بنوں کا 35 اور پشاور کا 34 ڈگری ریکارڈ کیا گیا تھا اتوار کو ریکارڈکیےگئےزیا دہ سے زیادہ درجہ حرارت کی رپورٹ کے مطابق شہید بینظیرآباد،سبی 42 اور تربت میں 41ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا ہے۔

    غزہ پٹی میں جارحیت،یو اے ای کا تشدد کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ …

  • سابق صوبائی وزیر کی گاڑی پر فائرنگ،مقدمہ درج

    سابق صوبائی وزیر کی گاڑی پر فائرنگ،مقدمہ درج

    چنیوٹ: جھنگ میں سابق صوبائی وزیر کھیل رائے تیمور حیات بھٹی کی گاڑی پرفائرنگ کی گئی۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق موڑ منڈی کےقریب موٹر سائیکل سوار 4 افراد سابق وزیر تیمور حیات کی گاڑی پر فائرنگ کرکے فرار ہوگئے تاہم اس دوران سابق وزیر رائے تیمور حیات بھٹی محفوظ رہے رائے تیمور حیات بھٹی پر فائرنگ کے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

    واضح رہے کہ تیمور حیات بھٹی اگست 2018 سے جنوری 2023 تک پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے رکن رہے۔ وہ 27 اگست 2018 کو صوبائی کابینہ کے سب سے کم عمرترین رکن بن گئے جب انہیں پنجاب حکومت کے نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کے لیے صوبائی وزیر مقرر کیا گیا۔ 19 جولائی 2019 کو انہیں سیاحت کا اضافی وزارتی قلمدان دیا گیا۔

    غزہ پٹی میں جارحیت،یو اے ای کا تشدد کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ …

    رائے تیمورخان بھٹی 2018 کے پاکستانی عام انتخابات میں حلقہ پی پی 124 (جھنگ-I) سے آزاد امیدوار کے طور پر پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ [2] انہوں نے اپنے انتخاب کے بعد پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ 27 اگست 2018 کو انہیں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی صوبائی کابینہ میں شامل کیا گیا اور انہیں پنجاب کا صوبائی وزیر برائے امور نوجوانان اور کھیل مقرر کیا گیا۔

    سائفرکیس :عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرنےکی تاریخ مقرر

  • اسرائیل پر حملے کے لیے ایران نے حماس کی مدد کی، امریکی اخبار کا دعویٰ

    اسرائیل پر حملے کے لیے ایران نے حماس کی مدد کی، امریکی اخبار کا دعویٰ

    امریکی اخبارنے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل پرحملوں کی منصوبہ بندی اورتیاری کے لیے فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کو ایران نے مدد فراہم کی۔

    باغیی ٹی وی: وال اسٹریٹ جنرل میں شائع رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آپریشن طوفان االاقصیٰ کے تحت سرپرائزحملوں کی تیاری اور منصوبہ بندی کیلئے حماس کو ایران کی جانب سے مدد فراہم کی گئی تھی۔

    تاہم امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل پر حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملےبلنکن کا کہنا ہے کہ مطابق حماس کا یہ حملہ اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے بڑھتے تعلقات میں خلل ڈالنے کی کوشش ہوسکتا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ نے تو ایران کے ملوث ہونے کی تردید کی لیکن یران کی حمایت یافتہ طاقتور مسلح جماعت حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے فلسطینی عوام کے ساتھ ”یکجہتی“ کے طور پر شیبا فارمز میں تین پوسٹوں پر گائیڈڈ راکٹ اور توپ خانوں سے حملہ کیا۔

    غزہ پٹی میں جارحیت،یو اے ای کا تشدد کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ

    دوسری جانب امریکا نے اسرائیل کی مدد کے لی اپنا جنگی بیڑہ بھیجنے کا اعلان بھی کردیا ہےامریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا کہنا ہے کہ امریکا اپنے ایک کیریئر اسٹرائیک گروپ کو اسرائیل کے قریب لے جا رہا ہے، جس میں فورڈ کیریئر اور دیگر جہاز شامل ہیں۔

    امریکی وزیر دفاع کے مطابق جنگی بحری بیڑےاسرائیل کی مدد کے لیے روانہ کررہے ہیں، امریکا اسرائیل کو گولہ بارود بھی فراہم کرے گا۔ اسرائیل بھیجے جانے والے بحری بیڑے میں طیارہ بردار جہاز سمیت 5 تباہ کن بحری جہاز شامل ہیں۔

    امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی مدد کیلئے جنگی بحری بیڑے کو اسرائیل کی طرف روانہ کر رہے ہیں، امریکی ائیرفورس کے ایف 15، ایف 16، ایف 35 اور اے 10 لڑاکا طیارے بھی اسرائیل بھیجے جا رہے ہیں، اسرائیل کو امریکی سکیورٹی امداد کی فراہمی آج سے شروع ہو جائے گی۔

    سائفرکیس : سماعت اڈیالہ جیل میں شروع،، چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کیا جائے گا

    واضح رہے کہ ہفتہ 7 اکتوبر کو فلسطینی جنگجوؤں کی جانب سے کیے جانے والے اس حملے کا مقصد 1967 میں ایک مختصر جنگ کے دوران اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنا تھا۔

  • غزہ پٹی میں جارحیت،یو اے ای کا  تشدد کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ  کا مطالبہ

    غزہ پٹی میں جارحیت،یو اے ای کا تشدد کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے جارحیت اور پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی:یو اے ای کی وزارت خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں شہریوں کے تحفظ پر زور دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ تشدد کا خاتمہ اور شہری آبادی کو تحفظ فراہم کرنا فوری ترجیح ہے۔
    https://x.com/mofauae/status/1711111428516573454?s=20
    دوسری جانب سعودی عرب نے غزہ پٹی اوراردگرد کے علاقوں میں جارحیت اور پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کردیا سعودی وزارت خارجہ نے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی جائے۔

    سائفرکیس : سماعت اڈیالہ جیل میں شروع،، چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی …

    ادھر ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ فلسطینی قوم کے جائز دفاع کی حمایت کرتے ہیں، صیہونی ریاست اور اس کے حمایتی خطے میں عدم استحکام کے ذمہ دارہیں جبکہ ترک صدر اردوان نے کا کہنا تھا کہ علاقائی امن کیلئے دو ریاستی حل ہی واحد راستہ ہے علاوہ ازیں اسلامی تعاون تنظیم نے بھی عالمی برادری سے فلسطین پر اسرائیلی جارحیت رکوانے کا مطالبہ کردیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ رات حماس کے حملے کے بعد جوابی کارروائی میں اسرائیل نے غزہ پر آگ برسا دی ہے، غزہ میں اسرائیل کی جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک 370 فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں،ہفتے کی صبح غزہ سے اسرائیل پر 7000 راکٹ فائر کیے گئے جس کے بعد فلسطین اور اسرائیل میں جنگ چھڑ گئی، فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے اسرائیل پر زمین، سمندر اور فضا سے کیے گئے حملوں میں صیہونی فوجیوں سمیت 6 00 سے زائد اسرائیلی ہلاک ہوگئے جب کہ سیکڑوں زخمی اور درجنوں یرغمال بنالیے گئے حماس کے حملے کے جواب میں غزہ میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 370 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں جب کہ زخمی فلسطینیوں کی تعداد 2200 سے تجاوز کر چکی ہے۔

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے …

    جنوبی غزہ میں اسرائیلی فضائیہ کی بمباری سے ایک ہی خاندان کے تقریباً دو درجن افراد شہید ہوئےالجزیرہ کے طارق ابو عزوم کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کے فضائی حملے میں خان یونس کے قریب ابو دقّہ خاندان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا جس میں کم از کم 22 افراد شہید ہوئے،مارے گئے افراد میں سات بچے بھی شامل ہیں سول ریسکیو ٹیمیں اب بھی خاندان کے چھ افراد کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں جو تباہ شدہ مکان کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں-

    اس سے قبل حماس کے حملوں میں اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے بدلہ لینے کیلئے بیس لاکھ سے زائد افراد کی آبادی پر مشتمل پورے غزہ کو خالی کرنے کا کہہ دیا فلسطینی غزہ خالی کریں، حماس کے ٹھکانوں کو ملبے کا ڈھیر بنایا جائے گا، اسرائیل ہر جگہ بھرپور طاقت استعمال کرے گا، تاہم اسرائیلی وزیراعظم نے طاقت کے اس استعمال سے پہلے یہ نہیں بتایا کہ غزہ میں رہنے والے بیس لاکھ فلسطینی جائیں کہاں؟-

    کراچی سے بھی چھوٹا دنیا کا مہنگا ترین ملک،جہاں دو کمروں کے فلیٹ …

  • سائفرکیس :عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرنےکی تاریخ مقرر

    سائفرکیس :عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرنےکی تاریخ مقرر

    راولپنڈی: خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سائفر کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے 17 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی۔-

    باغی ٹی وی :آفیشل سیکریٹ ایکٹ سائفر کیس کی سماعت سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اڈیالہ جیل میں ہورہی ہے، خصوصی عدالت کےجج ابو الحسنات ذوالقرنین، ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم، شاہ محمود قریشی کی بیٹی اور بیٹا زین، پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی اور چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر بھی اڈیالہ جیل اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہیں۔

    کیس کی سماعت شروع ہوئی تو پی ٹی آئی کے وکلاء نے عدالت سے سماعت سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ آنےتک سماعت نہ کرنے کی استدعا کردی،دوران سماعت چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی میں چلان کی نقول تقسیم کی گئیں۔ جس کے بعد خصوصی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا، اور فرد جرم عائد کرنے کیلئے 17 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی عدالت نے ریمارکس دیئے کہ 17 اکتوبر فرد جرم کے ساتھ تمام سرکاری گواہان کی طلبی ہوگی۔

    دہشتگردوں سے برا سلوک کیا جا رہا ہے،پنجرے میں بند کیا گیا ہے،عمران خان
    راولپنڈی: شیر افضل مروتنے اڈیالہ جیل سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کی کارروائی میں جج صاحب نے چیئرمین پی ٹی آئی سے تلخ باتیں کرنے کی کوشش کی،جو انکا حق نہیں تھا ،آج فاضل جج نےاپنے آرڈر پر عملدرآمد کرانے کے لئے بہت دلائل دیئے ،آج ہم نے فرد جرم پر دستخط نہیں کئے ،چیئرمین نے کہا کہ دہشتگردوں سے برا سلوک کیا جا رہا ہے،پنجرے میں بند کر رکھا ہے،واک کی جگہ بھی نہیں ہے ،آج کارروائی ملتوی ہو گئی ہے،پیر کو سماعت ہو گی ،جج چیئرمین کو لیکر جیل کے اندر لےگئے ہیں،آرڈر لکھوایا ہے کہ انکو واک کی مناسب سہولت دی جائے مآج جو آرڈر ہوا ہے اسے چیلنج کر رہے ہیں ،آج چیئرمین میرا خیال ہے تھوڑا غصہ میں تھے، انکو ورکنگ سپیس اور ایکسرسائز مشین تک نہیں دے رہے

    عمران خان کے وکیل نعیم حیدر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ آج جیل کے اندر خان صاحب سے ملاقات ہوئی،ٹرائل کو جیل میں کیا جا رہا ہے،اسی طرح سے ان کیمرہ سماعت کی جاری ہے ،ہماری طرف سے بڑا واضح کہا گیا کہ جیل کے اندر سماعت کر کے کیسے فیئر ٹرائل کیا جا سکتا ہے ،ایسے بند کمرے میں جیل میں دیے گئے فیصلہ کو نہ ہم مانیں گے نہ قوم مانے گی.ہائی کورٹ میں اوپن ٹرائل اور جیل کے اندر عدالت لگانے کے نوٹیفیکشن کو ہم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہواہے اس کا فیصلہ آنے دیا جاۓ جو کہ کئی ہفتوں سے محفوظ ہے.اور دوسرا آج ہائی کورٹ میں ضمانت پر سماعت کا معاملہ 2 بجے فکس ہے.لہذا سماعت ملتوی ہو گئی.

    ایک اور ٹویٹ میں وکیل کا کہنا تھا کہ آج پھر خان صاحب کو جہاں پر عدالت لگی ہوئی تھی وہاں نہیں لایا جا رہا تھا بلکہ کمرہ کے ساتھ پنجرہ نما سیل تھا جس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو لایا گیا اور عدالت نے کہا کہ کمرہ میں لے آئیں،آخری تاریخ پر بھی یہ ہی کیا گیا ،عدالت کو ہم نے بتایا کہ جب ہائی کورٹ نے حکم دیا ہوا ہے کہ جیل مینول کے مطابق ان کو حق دیا جاۓ تو نہ ہائی کورٹ کا حکم مانا جا رہا نہ آپ کا،اور اب کیوں کہ خان صاحب آپ کی کسٹڈی ہیں اور آپ اپنا حکم یقینی بنائیں ،2:30 مہینے ہو گئے ہیں خان صاحب سے ان کے بچوں کی فون پر بات نہیں کروائی جا رہی ،حالانکہ یہ اجازت آپ کی کورٹ نے دی ہوئی ہے لیکن کوئی حکم کی تعمیل نہیں کر رہا،خان صاحب کی سیفٹی اور ان کے حقوق کی آپ نے پروٹیکشن کرنی ہے،

    ایک اور ٹویٹ میں وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان ببر شیر ہے وہ ڈٹا ہوا صرف ہماری آزادی کے لیے،عمران خان کا قصور صرف یہ ہے کہ اس نے غلامی سے انکار کیا اور ابسلوٹلی ناٹ کہا،مجھے فخر ہے ان پر جس دلیری سے وہ جھوٹے مقدمے میں جیل کاٹ رہے ہیں،عمران خان صاحب نے پھر مطالبہ کیا ہے 9 مئی کے حوالے سے آزاد اور غیر جانبدار اعلی سطح پر تحقیقات کی جائیں،

    واضح رہے کہ 30 ستمبر کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے کیس سے متعلق چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جمع کرایا جس میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیا گیا ہے ایف آئی اے نے عدالت میں جمع کرائے گئے چالان میں عمران خان اور شاہ محمود کو ٹرائل کر کے سزا دینے کی استدعا کی ہے۔

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت آج بھی مکمل نہ ہو سکی

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت آج بھی مکمل نہ ہو سکی

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت آج بھی مکمل نہ ہو سکی،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ
    باقی وکلا کو کل دن ساڑھے گیارہ بجے سنا جائے گا، ن لیگ کے وکیل صلاح الدین کے دلائل جاری ہیں،

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت شروع ہوگئی ہے، چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کی سربراہی میں فل کورٹ نے سماعت کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت کے دوران صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری نے دلائل کا آغاز کیا تو جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ رولز نہیں بنا سکتی ںہ ہی رولز بنانے کیلئے قانون سازی کرسکتی ہے، رولز میں ردوبدل کرنے کا اختیار صرف سپریم کورٹ کے پاس ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ آئین کہتا ہے کہ سپریم کورٹ اپنے پریکٹس اینڈ پروسیجر کے رولزبنانے کیلئے با اختیار ہے، اگر سپریم کورٹ آئین سے بالا رولز بناتا ہے تو کوئی تو یاد دلائے گا کہ آئین کے دائرے میں رہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ آئین و قانون کے مطابق رولز بنانے کیلئے پابند کرنے کا مطلب موجودہ قانون کے مطابق رولز بنیں گے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آج ہم یہ کیس سن رہے ہیں اور ہمارے ادارے میں کیسز کا بوجھ بڑھ رہا ہے، آج کیس کو ختم کرنا ہے، ہم میں سے جس کو جو رائے دینی ہے فیصلے میں لکھ دیں گے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے تحریری دلائل جمع کرائے تھے؟ جس پر وکیل عابد زبیری نے بتایا کہ ابھی اپنا تحریری جواب جمع کرایا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے پہلے سے تحریری دلائل جمع کرانے کا حکم دیا تھا، اتنے سارے کاغذ ابھی پکڑا دیئے، کون سے ملک میں ایسے ہوتا ہے کہ کیس کی سماعت میں تحریری جواب جمع کراؤ، ہر بات میں امریکی اور دوسری عدالتوں کا حوالہ دیتے ہیں یہاں بھی بتائیں۔

    وکیل عابد زبیری نے کہا کہ نیوجرسی کی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دینا چاہتا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کم از کم امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کا توحوالہ دیں، ہمارا لیول اتنا نہ گرائیں کہ نیو جرسی کی عدالت کے فیصلے کو یہاں نظیر کے طور پر پیش کر رہے ہیں، یہ تو فیصلہ بھی نہیں ہے۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سوال ہے کہ سپریم کورٹ رولز بنانے کا اختیار کہاں اور کس کو دیا گیا ہے، آئین کے مطابق رولز بنانے کا اختیارسپریم کورٹ کے پاس ہے، سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار آئین کے مطابق ہےجسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ ہر چیز آئین کے ہی مطابق ہوسکتی ہے سب کو معلوم ہے،وکیل عابد زبیری نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ رولز بنانے کے اختیار سے متعلق آئینی شق کو تنہا نہیں پڑھا جاسکتا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فل کورٹ مقدمہ سن رہی ہے تاکہ وکلا سے کچھ سمجھ اور سیکھ سکیں، آئینی شقوں پر دلائل دیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آئینی شقوں کو ملا کر پڑھنا ہوتا ہے، کچھ آرٹیکل اختیارات اور کچھ حدود واضح کرتے ہیں جس پر وکیل عابد زبیری نے کہا کہ یہ تو معزز سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ معزز سپریم کورٹ نہیں ہوتی، معزز ججز ہوتے ہیں، اصطلاحات ٹھیک استعمال کریں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ہم یہاں آئین اور قانون سازوں کی نیت دیکھ رہے ہیں، اگر آئین سازوں کی نیت دیکھنی ہے تو آرٹیکل 175 دیکھیں، آئین سازوں نے اختیار سپریم کورٹ کو دینا ہوتا تو واضح لکھ دیتے، اگر کوئی بھی ضابطہ قانون یا آئین سے متصادم ہوگا تووہ خود ہی کالعدم ہو جائے گا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیئے کہ میں سوال واضح کر دیتا ہوں، جوڈیشل کمیشن اورسپریم جوڈیشل کونسل کے رولز سے متعلق آئین میں لکھا ہے کہ آئینی باڈیز خود قانون بنائیں گی، جب سپریم کورٹ کے ضابطوں سے متعلق آرٹیکل 191میں لکھا ہے کہ قانون سے بھی بن سکتے ہیں، سوال ہے کہ آئین سازوں نے خود آئین کے ساتھ قانون کا آپشن دیا۔

    چیف جسٹس نے عابد زبیری سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ایک چیف جسٹس نے غلطی کی تو پارلیمنٹ کو نہیں کرنی چاہئے، کوئی غلطی ہوئی تو ازالے کی سب سے بڑی ذمہ داری عدالت کی ہے، پاکستان میں 184 تین کا اطلاق کیسے ہوتا ہے؟ ہم آپ کی رائے سننا چاہتے ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے رولز پر پارلیمنٹ نے پابندی لگائی، ہائیکورٹ اور شرعی عدالت کے ضابطوں پر پابندی کیوں نہیں جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہائیکورٹس اپنے پریکٹس اینڈ پروسیجر بنانے کیلئے بااختیار ہے۔ جس پر وکیل عابد زبیری نے جواب دیا کہ اگر سپریم کورٹ اپنے رولز خود بنالے تو کوئی اعتراض نہیں اٹھا سکتا، آئین کہتا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل اپنے قوانین خود بنائے گی۔

    چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ پاکستان میں184تھری کا استعمال کیسے ہوا، کیا ہیومن رائٹس سیل کا تذکرہ آئین یا سپریم کورٹ رولز میں تذکرہ ہے، آرٹیکل 184 تھری سے متعلق ماضی کیا رہا ؟یا تو کہہ دیتے کہ 184تھری میں ہیومن رائٹس سیل بن سکتا تھا،اس بات پر تو آپ آنکھیں بند کر کے بیٹھ گئے ہیں، اس سے پہلےکہ دنیا انگلی اٹھائے میں خود اپنے اوپر انگلی اٹھا رہا ہوں، ایک چیف جسٹس نےغلطی کی تو پارلیمنٹ درست کر سکتی ہے یا نہیں؟ نیو جرسی نہ جائیں، پاکستان کی ہی مثال دے دیں، سپریم کورٹ غلطی کرے تو کیا پارلیمنٹ درست کر سکتی ہے آپ پی ٹی آئی کی نمائندگی نہیں کر رہے؟ جس پر وکیل عابد زبیری نے جواب دیا کہ نہیں میں سپریم کورٹ بار کی نمائندگی کر رہا ہوں، آپ کی رائے سن چکا ہوں، ابھی آرٹیکل 184تھری پر آ رہا تھا، میں آپ سے متفق ہوں کہ آرٹیکل 184 تھری کاغلط استعمال ہوتا رہا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ایکٹ سے کون سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے یہ بتا دیں، جس پر وکیل عابد زبیری نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ میں اپیل کا حق صرف آرٹیکل 185 کے تحت ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس مقدمے کو بھی ہم آرٹیکل 184 تھری کے تحت سن رہے ہیں، آپ کے مطابق دائرہ اختیار نہ پارلیمنٹ بڑھا سکتا ہے نہ سپریم کورٹ، پھر ہم یہ کیس کیوں سن رہے ہیں، سپریم کورٹ آرٹیکل 184 تھری کا دائرہ بڑھائے تو ٹھیک، پارلیمنٹ بڑھائے توغلط ہے۔

    وکیل عابد زبیری نے موقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ میں اپیل کا حق صرف آرٹیکل 185 کے تحت ہے، آئین کے اصل دائرہ اختیار 184 تھری میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جوابی دلیل میں یہ دے سکتا ہوں کہ آرٹیکل 184 تھری کااستعمال کیسے ہوا،کسی سیاسی جماعت پر پابندی عائد ہو جائے تو کیا اپیل نہیں ہونی چاہیے، پارلیمنٹ نے اچھی نیت سے قانون سازی کی۔

    غلط استعمال ہوا یا صحیح دیکھنا ہے یہ اختیار کس کو ہے، عابد زبیری جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمان کے پاس اختیار ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے اختیار بڑھا سکتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سوال اچھے یا برے کا نہیں سوال قانون بنانے کی اہلیت کا ہے،آپ بتائیے کس اکا اختیار ہے سپریم کورٹ بارے قانون بنانے کا؟ وکیل عابد زبیر نے کہا کہ عدالت نے فیصلہ کرنا ہے یہ اختیار پارلیمان کا ہے یا نہیں ،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ انصاف کی فراہمی متاثر ہو رہی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہونے پر کیا قانون سازی ہو سکتی ہے یا نہیں، چیف جسٹس اس مقدمہ کو سماعت کیلئے مقرر کرسکتے تو دوسرے جبری گمشدگی جیسے مقدمات کیوں نہیں، آپ نے ابھی درخواست کے قابل سماعت ہونے کی رکاوٹ کو بھی عبور نہیں کیا، بتائیں کہ اس قانون سازی سے کونسا بنیادی حق متاثر ہوا ہے،

    چیف جسٹس نے کہا کہ 184(3) میں ہم یہ مقدمہ کیسے سن سکتے ہیں ؟ آپ کہہ رہے ہیں نہ ہم اپنے دائرہ اختیار بڑھا سکتے ہیں نہ پارلیمان،ہمیں آپ کہہ رہے ہیں کہ 184(3) میں عدالت اپنا دائرہ اختیار بڑھا دے،جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ اس ایکٹ کو دیکھنے کیلئے پہلے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کو دیکھنا ہے-

    عابد زبیری نے کہا کہ دیکھنا ہے کہ کیا پارلیمان کا اس قانون کو بنانے کا اختیار ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ اس مقدمے کو بھی ہم آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت سن رہے ہیں، آپ کے مطابق آرٹیکل 184/3 کا دائرہ اختیار نا پارلیمنٹ بڑھا سکتا ہے نا سپریم کورٹ،پھر یہ بتائیں ہم یہ کیس کیوں سن رہے ہیں؟ سپریم کورٹ خود مقدمات میں آرٹیکل 184 تھری کا دائرہ بڑھائے تو ٹھیک، پارلیمنٹ بڑھائے تو غلط ہے، اگر انکم ٹیکس آرڈیننس یا فیملی رائٹس میں ترمیم ہو تو کیا براہ راست سپریم کورٹ میں درخواست آ سکتی ہے؟ جس پر وکیل عابد زبیری نے کہا کہ بلکل آ سکتی ہے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا جواب نوٹ کر رہا ہوں کہ بنیادی حقوق کے علاوہ بھی قانون سازی براہ راست سپریم کورٹ میں چیلنج ہو سکتی ہے،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ آئین کے اصل دائرہ اختیار 184/3 میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس کی جوابی دلیل میں یہ دے سکتا ہوں کہ آرٹیکل 184/3 کا استعمال کیسے ہوا ،کسی سیاسی جماعت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ ہو جائے تو کیا اس کے خلاف اپیل نہیں ہونی چاہیے، اگر کوئی مریض کہیں مر رہا ہو اور کوئی میڈیکل کی ذرا سی سمجھ رکھتا ہو تو وہ اس لیے مرنے دے کہ وہ ڈاکٹر نہیں ہے؟ پارلیمنٹ نے اچھی نیت سے قانون سازی کی-

    جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کے لیے دروازہ کھول دیتے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ کے ہر معاملے میں مداخلت کرے گی،ایک بار دروازہ کھل گیا تو اس کا کوئی سرا نہیں ہو گا، قانون سازی اچھی یا بری بھی ہو سکتی ہے،یہ نہیں ہو سکتا کہ قانون سازی درست ہے تو ٹھیک ہے یا ورنہ اس کو کالعدم قرار دے دیں، آئین اس طرح سے نہیں چل سکتا-

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ماضی کو دیکھیں، ایک شخص آتا ہے اور پارلیمنٹ کو ربر اسٹیمپ کر دیتا ہے،امریکہ میں یہ سب نہیں ہوتا، ہمارا ماضی بہت بوسیدہ ہے، سپریم کورٹ بار خود تو درخواست لے کر نہیں آئی، وکیل عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ بار نے جو درخواستیں کیں وہ تو مقرر نہیں ہو رہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر آپ اس کیس کو ختم کریں تو باقی مقرر ہوں، پارلیمان قانون سازی کرے تو آپکو اعتراض ہے، کوئی فرد واحد آکر آئین میں اپنی مرضی سے ترمیم کردے؟

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اس ایکٹ میں آئین کے کونسے آرٹیکل کا حوالہ دیا گیا ہے؟ ایسے تو سادہ اکثریت سے قانون سازی کر کے آئین میں ترمیم کا دروازہ کھولا جا رہا ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئین میں سادہ اکثریت کے زریعے ترمیم کر کے نیا راستہ کھولا جارہا ہے،

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کل کی باتیں نا کریں آج کی صورتحال بتائیں، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 184/3 کے اختیار کو آئین میں رہ کر استعمال کیا گیا ہوتا تو ایسی قانون سازی نا ہوتی،آپ نا مدعی ہیں نا مدعا علیہ توپھر اس ایکٹ کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟ جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا دیا گیا ہے، اپیل کے اختیار سے کیس کی دوبارہ سماعت کا حق کیسے دے دیا گیا؟

    چیف جسٹس نےعابد زبیری سے مکالمے میں کہا کہ آپکے دلائل مکمل ہوچکے ہیں، وقفے کے بعد اگلے درخواست گزار کو 20 منٹ دیں گے، پارلیمنٹ کچھ اچھا کرنا چاہتی ہے تواس کو کچلنا کیوں چاہتے ہیں؟جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس میں کہا کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھانے سے متعلق دلائل دیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم بھی مانتے ہیں کہ صوبائی اسمبلیوں کو ایسی قانون سازی کا اختیار نہیں ہے، بس اب دلائل ختم کریں، یہ تاثر مت دیں کہ آپ یہ کیس ختم کرنا نہیں چاہتے-

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر کسی نے 188 کے تحت نظر ثانی ایک بار دائر کر دی تو وہ اپیل نہیں کر سکتا، ایکٹ کے تحت نظر ثانی کے خلاف تو اپیل کا حق نہیں دیا گیا، چیف جسٹس نے عابد زبیری سے مکالمہ کیا کہ بوجھ سپریم کورٹ پر پڑے گا تو گھبراہٹ آپ کو کیوں ہو رہی ہے؟

    عدالت نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا،وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو درخواستگزار عمر صادق کے وکیل عدنان خان نے دلائل کا آغاز کیا۔

    وکیل عدنان خان نے مؤقف پیش کیا کہ پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار حاصل نہیں، آئین سازوں نے پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے رولز میں ردوبدل کا اختیار نہیں دیا، چیف جسٹس کے آفس کو پارلیمنٹ نے بے کار کر دیا، سپریم کورٹ2 بنیادوں پرکھڑی ہے، ایک چیف جسٹس اور دوسرا باقی ججز،سپریم کورٹ کی انتظامی معاملات میں چیف جسٹس ڈرائیونگ سیٹ پر ہوتے ہیں-

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ چیف جسٹس کو جہاں اختیارات دیئے گئے وہ آئین میں درج ہیں، چیف جسٹس کو سپریم کورٹ کے سوا کہاں تنہا اختیارات دئیے گئے وکیل عدنان خان نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کہتا ہے چیف جسٹس خود بغیر مشاورت بنچز بنا سکتا ہےپارلیمنٹ کو ایکٹ کے ذریعے سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار حاصل نہیں-

    وکیل عدنان خان نے کہا کہ آئین سازوں نے دانستہ طور پر پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے ضابطوں میں رد و بدل کا اختیار نہیں دیا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسے تو فل کورٹ بلانے کی کیا ضرورت ہے صرف چیف جسٹس کیس سن لیتا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئےکہ چیف جسٹس کو جہاں اختیارات دیے گئے وہ آئین میں درج ہیں، چیف جسٹس کو سپریم کورٹ کےسوا کہاں تنہا اختیارا ت دیے گئے-

    وکیل عدنان خان نے کہ کہ آئین کہتا ہے چیف جسٹس خود بغیر کسی مشاورت کے بنچز بنا سکتا ہے، چیف جسٹس اور دیگر ججز میں فرق انتظامی اختیارات ہیں، مجھے اس قانون سے مسئلہ نہیں مگر طریقہ کار سے مسئلہ ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ یہ بتائیں کہ اس قانون سے آپکا کونسا بنیادی حق متاثر ہوا ہے، وکیل عدنان خان نے کہا کہ اس ایکٹ سے انصاف کا حق متاثر ہوگا ایکٹ سے انصاف تک رسائی کے آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی ہوئی، ایکٹ میں طریقہ کار دے کرسپریم کورٹ کی تضحیک کی گئی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم پہلے بھی کیس مقرر کرنے کیلئے اپنا دماغ استعمال کرتے تھے، میں نے کیس منیجمنٹ کمیٹی کو کیسز کے تقرر کا اختیار دیا، کیا میں نے کیس منیجمنٹ کمیٹی بنا کر آئینی خلاف ورزی کی وکیل عدنان خان نے کہ مشاورت اچھی چیز ہے، چیف جسٹس اپنے ساتھیوں میں سے کسی سے بھی مشاورت کر سکتے ہیں، اس قانون میں کہیں مشاورت کا درج نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا کوئی ایسا قانون یا شرعی قانون ہے کہ اپیل کا کوئی حق نہیں ہے، قانون کی رو میں کہاں درج ہے کہ قاضی کا فیصلہ آخری ہوگا، کوئی حوالہ دے دیجیے ،وکیل عدنان خان نے جواب دیا کہ میں ریفرنس جمع کرا دوں گا جس کے بعد وکیل عدنان خان کے دلائل مکمل ہوگئے۔

    درخواست گزار محمد شاہد رانا ایڈووکیٹ کے دلائل شروع

    وکیل شاہد رانا نے دلائل شروع کرتے ہی سوال اٹھایا کہ اگر 15ججز فیصلہ کریں گے تو اپیل کس کے پاس جائے گی چیف جسٹس نے جواب دیا کہ 15 ججزفیصلہ کریں گے تو نہیں ہوگی اپیل، وکیل شاہد رانا نے مؤقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ میں اپیلیں آرٹیکل 185 کے تحت ہوتی ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم آپ کو اس بات کا جواب فیصلے میں دے دیں گے، یہ معاملہ پہلے کبھی کیوں نہیں اٹھایا گیا، کیا پتا سپریم کورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہو۔

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا لیا

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلایا تو وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل کے لیے وقت نہ دینے پر اعتراض اٹھا دیا، اور مؤقف پیش کیا کہ آپ نے کہا تھا کہ پہلے ہمیں سنیں گے پھر اٹارنی جنرل کو سنیں گے، ہمیں نہ سننا نا انصافی ہے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کہاں لکھا ہے حکمنامے میں کہ آپ کو ابھی سننا ہے جس پر امتیاز صدیقی نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ اپنا سلوک دیکھیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کوئی بات کرنے کی تمیز بھی ہوتی ہے، پچھلی سماعت کاتمام ججزکےدستخط کےساتھ حکمنامہ جاری ہوا،حکمنامہ میں درج ہےکہ امتیاز صدیقی کے دلائل مکمل ہو چکےوکیل امتیاز صدیقی نے جواب دیا کہ میرے ساتھی آپ کے رویے کی وجہ سے آج عدالت نہیں آئے، خواجہ طارق رحیم نے آپ کو پیغام پہنچانے کا کہا ہے۔

    چیف جسٹس نے وکیل امتیاز صدیقی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی نشست پر بیٹھ جائیے ورنہ میں کچھ ایشو کروں جس پر وکیل امتیاز صدیقی واپس نشست پر براجمان ہو گئے-

    مسلم لیگ ق کے وکیل زاہد فخرالدین ابراہیم کے دلائل

    اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا کہ مجھ سے پہلے مسلم لیگ ق کے وکیل دلائل دینا چاہتے ہیں مسلم لیگ ق کے وکیل زاہد فخرالدین ابراہیم نے دلائل شروع کردیئے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میرا قلم ہوا میں رہ جاتا ہے آپ اپنا پوائنٹ پورا کر دیں۔

    جسٹس یحیی آفریدی نے وکیل سے کہا کہ آپ فل کورٹ کو اپنی رائے بتا دیں،جس پر وکیل زاہد ابراہیم نے کہا کہ یہ کیس خود تسلیم کر رہا ہے کہ پارلیمنٹ قانون سازی کرسکتی ہےجسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیسے ممکن ہے کہ ”سبجیکٹ ٹو لاء“ لکھ کر پارلیمنٹ کو اختیار دے دیا گیا ہو، آرٹیکل 188 اور آرٹیکل 191 میں فرق ہے۔

    آدھے گھنٹےکے وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو جسٹس یحیی آفریدی نے وکیل زاہد ابرہیم سے کہا کہ آپ آرٹیکل191سے اینٹری 55 کا تعلق سمجھا دیں، جسٹس منیب اختر نےریمارکس دیئےکہ ایکٹ کےذریعے آئین میں بلاواسطہ ترمیم کی گئی،کیا آئین پار لیمنٹ کو ایسی قانون سازی کی اجازت دیتا ہے، آرٹیکل191 کے تحت قانون سازی کا اختیار بہت وسیع ہونا چاہئے، آپ 1956 کا آئین پڑھیں۔

    چیف جسٹس نے وکیل زاہد ابراہیم سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ضروری نہیں کہ آپ دلائل سے متفق ہوں جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ بینچ میں بیٹھے جج کو حق حاصل ہے کہ وہ سوال کرے جسٹس اعجازالاحسن نے سوال اٹھایا کہ پارلیمنٹ کو موجودہ قانون کا دائرہ بڑھانے کا اختیار ہے، اپیل کا حق دے کر قانون کا دائرہ بڑھایا کیسے گیا۔

    وکیل زاہد ابراہیم نے جواب دیا کہ درخواست گزاروں سے سوال کیا گیا کون سا بنیادی حق متاثر ہوا، جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کوشش کی سپریم کورٹ کےکام کے طریقہ کار کو ریگولیٹ کیا جائے، عدلیہ کی مائیکرو مینجمنٹ مداخلت نہیں تو پھر کیا مداخلت ہوگی۔

    جسٹس منیب اختر نے وکیل سے استفسار کیا کہ اس قانون کے بعد ماسٹر اف روسٹر کون ہےِ؟ جس پر زاہد ابراہیم نے جواب دیا کہ کمیٹی فیصلہ کرے گی، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ کمیٹی پارلیمان ماسٹر آف روسٹر ہو گی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا ماسٹر آف روسٹر کا لفظ ہے، رولز میں چیف جسٹس کے بینچ مقرر کرنے کا ہے، مقدمات کا مقرر کرنے چیف جسٹس نے رجسڑار کا اختیار ہے، ماسٹر آف روسٹر کا لفظ کس قانون میں ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ دنیا میں اب کہیں بھی ماسٹرز نہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جو قانون ہے آئین ہے وہ چیف جسٹس کی خواہشات پر نہیں، یہ عدلیہ کیا آزادی اور قانون کے منافی ہے، میں ماسٹر نہیں آئین کے ماتحت ہوں۔

    وکیل صلاح الدین نے مؤقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ کے ججز کے حوالے سے بہت آرا آئی ہیں، جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نے ریمارکس دیئے کہ اپ اپنے دلائل شخصیت کو مدنظر رکھ کر دے رہے ہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ جو آرا دی گئی وہ ان کی آرا ہو ں گی، کسی کا ایک مؤقف ہوتا ہے دوسرے کا دوسرا مؤقف، بہتر ہو گا کہ پارلیمان کے اختیار پر دلائل دیں۔

    چیف جسٹس نے وکیل صلاح الدین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو سننا چاہتا ہوں اپنے دلائل دیں۔

    کیس کی کارروائی آج بھی سپریم کورٹ سے سرکاری ٹی وی پر براہ راست دکھائی جا رہی ہے،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی گزشتہ دو سماعتوں میں 5 درخواست گزاروں کے وکلا دلائل مکمل کرچکے ہیں آج ہونے والی سماعت میں دیگردرخواست گزاروں کے وکلاء، اٹارنی جنرل، مسلم لیگ ن اوق کے وکلاء دلائل دیں گے اس سے قبل تمام فریقین سپریم کورٹ مین اپنے تحریری جوابات اور دلائل جمع کرواچکے ہیں وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کی صورت میں ممکنہ طور پر آج اس کیس کی سماعت مکمل ہوجائے گی، چیف جسٹس نے گزشتہ سماعت میں عندیہ دیا تھا کہ 9 اکتوبر کو تیسری سماعت میں یہ کیس مکمل کرلیا جائے گا۔

    کیس کی سماعت کرنے والے فل کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کے علاوہ جسٹس سردارطارق مسعود، جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ،جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان،جسٹس سید مظاہرعلی نقوی،جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس اطہر من اللّٰہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

  • آسٹریلیا میں سکھوں کا بھارت کے خلاف  احتجاج

    آسٹریلیا میں سکھوں کا بھارت کے خلاف احتجاج

    میلبورن: بھارت کی جانب سے سکھوں کو نشانہ بنانے کے خلاف آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں جانب سے ہزاروں سکھوں نے فیڈریشن اسکوائر سے پارلیمنٹ تک واک کرتے ہوئےاحتجاج کیا گیا۔

    باغی ٹی وی: احتجاجی مظاہرے کے موقع پر سکھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ احتجاج کا مقصد کینیڈا میں بھارتی ایجنٹوں کے ہاتھوں ہردیپ سنگھ کے قتل سے آگاہ کرنا ہے بھارت بیرون ملک آباد سکھ رہنماؤں کو خالصتان تحریک سے روکنے کیلئے راستے سے ہٹا رہا ہے،مظاہرین نے آسٹریلوی حکومت سے بھارت کی کارروائیوں کو لگام ڈالنے کا بھی مطالبہ کیا۔

    واضح رہے کہ کینیڈا میں خالصتان رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد کینیڈین حکومت کی جانب سےقتل کا الزام بھارتی خفیہ ایجنسیوں پر لگایا گیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا امریکا کی جانب سے بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ کینیڈا میں قتل ہونے والے سکھ رہنما کے قتل کیس کی تحقیقات میں کینیڈا سے تعاون کرے جس کے جواب میں بھارت کی جانب سے شروع میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا گیا تاہم بعد میں عالمی دباؤ کے باعث بھارت نے تعاون پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

    بھارت ، آسٹریلیا میچ؛ مداح گراؤنڈ گھس گیا

    تاریخ میں پہلی مرتبہ پنجاب کابینہ کا 30 واں اجلاس سرگودھا میں ہوگا،تیاریاں جاری

    کراچی سے بھی چھوٹا دنیا کا مہنگا ترین ملک،جہاں دو کمروں کے فلیٹ …