Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ن لیگ کو بھی  نئی حلقہ بندیوں پر اعتراض،عدالتی کارروائی کا اعلان

    ن لیگ کو بھی نئی حلقہ بندیوں پر اعتراض،عدالتی کارروائی کا اعلان

    لاہور: مسلم لیگ ن نے الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندیوں پر اعتراض کرتے ہوئے عدالت جانے کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ ن خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ عام انتخابات میں بہترین امیدوار میدان میں اترانے کی کوشش کریں گے، لیول پلئینگ فیلڈ کا طعنہ عجیب سا ہے، میں حلقے کے حوالے سے الیکشن کمیشن گیا، لیکن میری بات نہیں سنی گئی۔

    سعدرفیق کا کہنا تھا کہ ابھی حلقہ بندیوں کےمسائل چل رہے ہیں، مسلم لیگ ن نئی حلقہ بندیوں سے مطمئن نہیں۔ نئی حلقہ بندیوں میں میرا اور شہبازشریف کا حلقہ متاثر ہوا ہے، نئی حلقہ بندیوں کے خلاف عدالت جارہے ہیں، انہوں نے مشورہ دیا کہ پی ٹی آئی کو الیکشن سے بالکل بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے۔

    مبینہ کرپشن میں پرویز الہی کا ساتھی گرفتار

    اس کے علاوہ ن لیگ کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ جیسی بھی حلقہ بندیاں ہوں، ہم تو 8فروری کے الیکشن کیلئے تیار ہیں، گوہر خان کو چاہیے اپنی پارٹی کو الیکشن میں لے کر جائیں، 9 مئی کے مجرمان کو قانون کا سامنا کرنے دیں، پی ٹی آئی 9 مئی کے کرداروں کا تحفظ نہ کرے۔

    سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو سمیت دیگر رہنما پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل

    واضح رہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے بعد ملک بھر میں قومی اسمبلی کی 6 نشستیں کم ہو گئی ہیں گزشتہ دنوں الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست جاری کی تھی جس کے مطابق ملک بھر سے قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کے 266 حلقے ہوں گے جبکہ صوبائی اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کے 593 حلقے ہوں گے اس طرح گزشتہ قومی اسمبلی کے اراکین کی مجموعی تعداد 342 سے 6 نشستیں کم ہو کر 336 ہو جائے گی۔

    ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی غیرقانونی قرار

  • پی ٹی آئی کے سابق رکن قومی اسمبلی کا آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان

    پی ٹی آئی کے سابق رکن قومی اسمبلی کا آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان

    کراچی:سابق پی ٹی آئی رہنما شکور شاد نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق شکور شاد نے کہا ہے کہ لیاری سے آزاد پینل بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں بلال سلیم قادری صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑیں گے جبکہ میں قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑوں گا، 2018 کی طرح آئندہ انتخابات میں بھی ان کی ضمانت ضبط کریں گے، اسمبلی تحلیل کے بعد ہمیں پارٹی میں شمولیت کی آفر آئی تھی لیاری کے فنڈز میں خرد برد پر کارروائی کیلئے نیب کو درخواست دی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما لیاقت جتوئی کا جی ڈی اے میں شمولیت کا اعلان

    واضح رہے کہ شکور شاد 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئےتھے گزشتہ سال دسمبر میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے شکور شاد کی بنیادی پارٹی رکنیت ختم کر دی تھی شکور شاد نے بطور رکن قومی اسمبلی استعفے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت نے ان کے استعفے کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا تھا۔

    مبینہ کرپشن میں پرویز الہی کا ساتھی گرفتار

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما و سابق وزیراعلی سندھ لیاقت جتوئی نے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے )میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے،دادو کے گاؤں بیٹو جتوئی میں اس حوالے سے شمولیتی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں جے ڈی اے کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی ،تقریب میں لیاقت جتوئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سندھ میں گرینڈ ڈیموکریٹک کی حکومت بنا کر عوام کی خدمت کریں گے۔

    سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو سمیت دیگر رہنما پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل

  • مبینہ کرپشن میں پرویز الہی کا  ساتھی گرفتار

    مبینہ کرپشن میں پرویز الہی کا ساتھی گرفتار

    لاہور:قومی احتساب بیورو(نیب) لاہور نے پرویز الہی کے شریک ملزم خبیب قاسم کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : نیب نے گجرات ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن کے معاملے پر ملزم سب انجینئر خبیب قاسم کو گرفتار کیا،عدالت نے سب انجینئر خبیب قاسم کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا، عدالت نے ملزم کو دوبارہ 12 دسمبر کو پیش کرنے کی ہدایت کر دی، ملزم پر گجرات سمیت دیگر شہروں میں ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن کا الزام ہے۔

    واضح رہے کہ رہے کہ قومی احتساب بیورو نے گجرات ٹھیکوں میں مبینہ کک بیکس اور رشوت کی تحقیقات مکمل کر کے پرویز الٰہی اور مونس الٰہی سمیت 14 ملزمان کیخلاف ایک ارب 23کروڑ روپے سے زائد کا ریفرنس احتساب عدالت میں دائرکیا ہے نیب کے مطابق سابق وزیراعلی پنجاب پرویز الہٰی اور مونس الٰہی قومی خزانے کو نقصان پہنچانے میں ملوث پائے گئے ہیں۔

    پرویز الہی کی جیل میں طبعیت ناساز ہو گئی

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویزالہیٰ کی جیل میں طبعیت ناساز ہوگئی،ذرائع کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالہیٰ کی جیل میں طبعیت ناساز ہونے کے بعد انہیں جیل اسپتال منتقل کیا گیا جیل ڈاکٹرز کی جانب سے پرویز الہیٰ کا طبی معائنہ کیا گیا، پرویز الہیٰ کے خون کے نمونے لیے گئے اور بلڈ پریشر چیک کیا گیا، جس کے بعد صدر پی ٹی آئی کو جیل اسپتال سے دوبارہ بیرک منتقل کیا گیا ۔

    سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو سمیت دیگر رہنما پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل

  • سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو  سمیت دیگر رہنما پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل

    سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو سمیت دیگر رہنما پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل

    لاہور: سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور دیگر رہنما پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو اور سابق صوبائی وزیر سکندر عمرانی سمیت کئی بلوچ رہنما پییلز پارٹی میں شامل ہوگئے،ترجمان پیپلز پارٹی کے مطابق بلاول ہاؤس لاہور میں پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما عبدالقدوس بزنجو کے ہمراہ سابق وزیر سکندر عمرانی اور سید نظام الدین پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔
    https://x.com/MediaCellPPP/status/1732820237253550223?s=20
    سابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد بلوچستان حکومت کے سابق وزیر سکندر عمرانی بھی پی پی پی میں شامل ہو گئے صدر آصف زرداری سے ملاقات کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما عبدالقدوس بزنجو کے ہمراہ سید نظام الدین، سید حمید، نصیر احمد بزنجو، میر عبدالوہاب بزنجو و دیگر بھی پی پی پی میں شامل ہوئے-

    سعودی عرب کا جنگی طیارہ گر کر تباہ ،2 پائلٹس جاں بحق

    صدر آصف زرداری نے پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہونے والی بلوچستان کی سیاسی شخصیات کو خوش آمدید کہا، صدر آصف زرداری سے ملاقات میں اہم سیاسی شخصیات کی شمولیت کے موقع پر علی حسن زہری بھی موجود تھے-

    خلیل جبران لبنانی نژاد امریکی فنکار، شاعر اور مصنف

  • پرویز الہی کی جیل میں طبعیت ناساز ہو گئی

    پرویز الہی کی جیل میں طبعیت ناساز ہو گئی

    راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویزالہیٰ کی جیل میں طبعیت ناساز ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالہیٰ کی جیل میں طبعیت ناساز ہونے کے بعد انہیں جیل اسپتال منتقل کیا گیا جیل ڈاکٹرز کی جانب سے پرویز الہیٰ کا طبی معائنہ کیا گیا، پرویز الہیٰ کے خون کے نمونے لیے گئے اور بلڈ پریشر چیک کیا گیا، جس کے بعد صدر پی ٹی آئی کو جیل اسپتال سے دوبارہ بیرک منتقل کیا گیا ۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کی عدالتی حکم کے باوجود گرفتاری کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست کا تحریری حکم جاری کیا تھا لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سلطان تنویر احمد نے سابق وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی کی اہلیہ قیصرہ الہٰی کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم جاری کیا۔

    تحریری حکم میں کہا گیا کہ عدالت نے آئی جی اسلام آباد کے وارنٹ بحال رکھے، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اسلام آباد کو تحریری حکم کی کاپی ارسال کی جائے، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اسلام آباد اس معاملے پر عدالتی معاونت کے لیے کوئی افسر مقرر کرے، شک ہے کہ آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی کو دائرہ اختیار کا غلط مشورہ دیا گیا، آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی کے بار بار وارنٹ گرفتاری اور ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے دونوں افسران عدالت میں پیش ہوئے اور نہ ہی کوئی جواب دیا، عدالت مزید سماعت 18 دسمبر کو کرے گی۔

    دوسری جانب گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن میں نو منتخب عہدیداروں کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا نوٹیفکیشن کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی مرکزی صدر جبکہ فردوس شمیم نقوی کو مرکزی نائب صدر مقرر کیا گیا ہے-

  • سعودی عرب کا جنگی طیارہ  گر کر تباہ ،2 پائلٹس جاں بحق

    سعودی عرب کا جنگی طیارہ گر کر تباہ ،2 پائلٹس جاں بحق

    ریاض: سعودی عرب کا جنگی طیارہ تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہوگیا جس میں سوار 2 پائلٹ بھی جاں بحق ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق مملکت کی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے ایک بیان میں طیارہ حادثےکی تصدیق کی ہے، حادثے کے باعث طیارے میں سوار دونوں پائلٹ جاں بحق ہوگئے۔

    بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی کے مطابق جمعرات 7 دسمبر کی دوپہر مشرقی علاقے کے شاہ عبدالعزیز ظہران ائیربیس سے معمول کی تربیتی پرواز کے دوران ایف 15 ایس ای طیارے کو حادثہ پیش آیا، حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

  • ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی غیرقانونی قرار

    ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی غیرقانونی قرار

    ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی غیرقانونی قرار دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی:ڈنمارک اور سوئیڈن میں پچھلے کئی ماہ میں قرآن پاک کی بےحرمتی کے متعدد واقعات ہوئے تھے جس کے بعد مسلمان ممالک نے ایسی مذموم حرکتوں پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا جس پر ڈنمارک کی پارلیمنٹ میں قرآن پاک کی بےحرمتی روکنے کا بل منظور ہو گیا ہے جس کے بعد ڈنمارک میں عوامی مقامات پر قرآن پاک کی بےحرمتی غیرقانونی ہوگئی ہے۔

    مبصرین کے مطابق ڈنمارک نے اس قانون کے ذریعے اپنے آزادی اظہار کے قانون اور قومی سلامتی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ قرآن کی بے حرمتی کے واقعات سے دنیا بھر سمیت ڈنمارک کی مسلم کمیونٹی میں شدید تحفظات پائے جاتے تھے۔

    ایف بی آرکے ہزاروں افسران کا ٹیکس فائلر نہ ہونے کا انکشاف

    پاکستان میں بھی اس وقت کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ڈنمارک کے ہم منصب سے قرآنِ پاک کی بےحرمتی کے واقعات پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا تھا ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے بتایا تھا کہ ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے خود اُن سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہےوزیر خارجہ نے ڈنمارک اور دیگر یورپی ملکوں میں قرآن پاک کی بےحرمتی واقعات پر تحفظات ظاہر کیے ہیں، ڈنمارک نے ان گھناؤنے واقعات کی مذمت کی اور مسلم ممالک سے رابطوں میں ہے۔

    ایرانی صدر سرکاری دورے پر ماسکوپہنچ گئے

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ میں نے ڈنمارک کے ہم منصب سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے ایسے اسلاموفوبیا پر مبنی واقعات کو بند کرنے پر زور دیا،میں نے مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور مذہبی برداشت کے فروغ پر بھی زور دیا۔

  • خلیل جبران  لبنانی نژاد امریکی فنکار، شاعر اور مصنف

    خلیل جبران لبنانی نژاد امریکی فنکار، شاعر اور مصنف

    جبران خلیل جبران جو لبنانی نژاد امریکی فنکار، شاعر اور مصنف تھے،خلیل جبران جدید لبنان کے شہر بشاری میں پیدا ہوئے جو ان کے زمانے میں سلطنت عثمانیہ میں شامل تھا، وہ نوجوانی میں اپنے خاندان کے ہمراہ امریکا ہجرت کر گئے اور وہاں فنون لطیفہ کی تعلیم کے بعد اپنا ادبی سفر شروع کیا۔ جبران خلیل جبران اپنی کتاب The Prophet کی وجہ سے عالمی طور پر مشہور ہوئے۔ یہ کتاب 1923ء میں شائع ہوئی اور یہ انگریزی زبان میں لکھی گئی تھی یہ فلسفیانہ مضامین کا ایک مجموعہ تھا، گو اس پر کڑی تنقید کی گئی مگر پھر بھی یہ کتاب نہایت مشہور گردانی گئی، بعد ازاں 60ء کی دہائی میں یہ سب سے زیادہ پڑھی جانے والی شاعری کی کتاب بن گئی یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جبران ولیم شیکسپئیر اور لاؤ تاز کے بعد تاریخ میں تیسرے سب زیادہ پڑھے جانے والے شاعر ہیں

    اسے "غلیظ” کہا جاتا تھا کیونکہ اس کی جلد سیاہ تھی، ذۃین نہیں تھا کیونکہ وہ بمشکل انگریزی بول سکتا تھا۔ جب وہ اس ملک میں پہنچے تو انہیں تارکین وطن کے لیے ایک خصوصی کلاس میں رکھا گیا لیکن، اس کے چند اساتذہ نے اس انداز میں کچھ دیکھا جس میں اس نے اپنے آپ کو ظاہر کیا، اپنی ڈرائنگ کے ذریعے، دنیا کے بارے میں اپنے نظریہ کے ذریعے وہ جلد ہی اپنی نئی زبان پر عبور حاصل کر لے گا۔

    جبران مسیحی اکثریتی شہر بشاری میں پیدا ہوئے، جبران کے والد ایک مسیحی پادری تھےجبکہ جبران کی ماں کملہ کی عمر 30 سال تھی جب جبران کی پیدائش ہوئی، والد جن کو خلیل کے نام سے جانا جاتا ہے کملہ کے تیسرے شوہر تھے غربت کی وجہ سے جبران نے ابتدائی اسکول یا مدرسے کی تعلیم حاصل نہیں کی لیکن پادریوں کے پاس انھوں نے انجیل پڑھی، انھوں نے عربی اور شامی زبان میں انجیل کا مطالعہ کیا اور تفسیر پڑھی۔

    جبران کے والد پہلے مقامی طور پر نوکری بھی کرتے تھے، لیکن بے تحاشہ جوا کھیلنے کی وجہ سے قرض دار ہوئے اور پھر سلطنت عثمانیہ کی ریاست کی جانب سے مقامی طور پر انتظامی امور کی نوکری کی اس زمانے میں جس انتظامی عہدے پر وہ فائز ہوئے وہ ایک دستے کے سپہ سالار کی تھی، جسے جنگجو سردار بھی کہا جاتا تھا۔

    1891ء یا اسی دور میں جبران کے والد پر عوامی شکایات کا انبار لگ گیا اور ریاست کو انھیں معطل کرنا پڑا اور ساتھ ہی ان کی اپنے عملے سمیت احتسابی عمل سے گزرنا پڑا جبران کے والد قید کر لیے گئےاور ان کی خاندانی جائیداد بحق سرکار ضبط کر لی گئی۔ اسی وجہ سے کملہ اور جبران نے امریکا ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا جہاں کملہ کے بھائی رہائش پزیر تھے۔گو جبران کے والد کو 1894ء میں رہا کر دیا گیا مگر کملہ نے جانے کا فیصلہ ترک نہ کیا اور 25 جون، 1895ء کو خلیل، اپنی بہنوں ماریانا اور سلطانہ، اپنے بھائی پیٹر اور جبران سمیت نیویارک ہجرت کی اس کی ماں نے اپنے خاندان کے لیے بہتر زندگی کی تلاش میں امریکہ لے جانے کا ایک مشکل فیصلہ کیا تھا –

    جبران کا خاندان بوسٹن کے جنوبی حصے میں رہائش پزیر ہوا، اس حصے میں اس وقت شامی اور لبنانی نژاد امریکیوں کی کثیر تعداد رہائش پزیر تھی امریکا میں جبران کو اسکول میں داخل کروایا گیا اور اسکول کے رجسٹر میں ان کا نام غلطی سے خلیل جبران درج ہوا اور پھر یہی نام ان کا سرکاری کاغذات میں منتقل ہوتا رہا،ویسے ان کا نام جبران خلیل جبران تھا-

    جبران کی والدہ نے کپڑے کی سلائی کا کام شروع کیا اور لیس اور لینن کا کام کر کے گھر گھر جا کر بیچنا شروع کر دیا جبران نے 30 ستمبر 1895ء کو اسکول کی تعلیم شروع کی اسکول کی انتظامیہ نے انھیں ہجرت کرکے آنے والے طالب علموں کی مخصوص جماعت میں داخل کیا تاکہ وہ انگریزی زبان سیکھ سکیں اسکول کے ساتھ ساتھ جبران نے اپنے گھر کے پاس ہی ایک فنون لطیفہ کے اسکول میں بھی داخلہ لے لیا۔

    فنون لطیفہ کے اسکول میں ان کے استاد نے انھیں بوسٹن کے مشہور فنکار، مصور اور ناشر فریڈ ہالینڈ ڈے سے متعارف کروایا،جنھوں نے جبران کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا اور جبران کے فن میں حوصلہ افزائی کی 1898ء میں پہلی بار جبران کی بنائی ہوئے مصوری کے نمونے ایک کتاب کے سرورق کے لیے استعمال کیے گئے۔

    جبران کی ماں اور ان کے بڑے بھائی پیٹر چاہتے تھے کہ جبران اپنی لبنانی ثقافت کا پرچار کرے اور مغربی ثقافت جس سے جبران متاثر تھے کو ترک کر دے، جبران کی مغربی ثقافت سے متاثر ہونے کی وجہ سے پندرہ سال کی عمر میں جبران کو واپس لبنان بجھوا دیا گیا جہاں انھوں نے مسیحی مارونات کے مدرسے میں تعلیم حاصل کی اور بیروت میں اعلیٰ تعلیم کے لیے منتقل ہوئے۔ بیروت میں اپنے ایک ہم جماعت کے ہمراہ ایک ادبی رسالے کا اجرا کیا اور اپنے تعلیمی ادارے میں “کالج کے شاعر“ کے طور پر مشہور ہوئے۔ یہاں وہ کئی سال تک مقیم رہے اور 1902ء میں بوسٹن واپس چلے گئےان کی بوسٹن واپسی سے تقریباً دو ہفتے قبل ان کی بہن سلطانہ تپ دق میں مبتلا ہو کر چودہ سال کی عمر میں وفات پاگئی اور اس کے اگلے ہی سال ان کے بھائی پیٹر تپ دق کی وجہ سے اور ماں کینسر میں مبتلا ہو کر فوت ہوئیں۔ جبران کی بہن ماریانہ نے جبران کی دیکھ بال کی اور ماریانہ ایک درزی کے پاس نوکری کرتی رہیں-

    انہوں نے لکھا کہ مصیبت سے مضبوط ترین روحیں نکلی ہیں، سب سے بڑے کردار داغوں سے بھرے ہوئے ہیں،وہ 6 جنوری 1883 کو آج کے لبنان میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا،وہ محبت ،امن اور افہام و تفہیم پر یقین پر یقین رکھتا تھا،ان کا نام خلیل جبران تھا، اور وہ بنیادی طور پر اپنی کتاب "دی پرافٹ” کے لیے جانا جاتا ہے-

    دنیا بھر کی 108 زبانوں میں شائع ہونے والے، دی پرافٹ ” کے حوالے شادیوں، سیاسی تقاریر اور جنازوں میں نقل کیے جاتے ہیں، جان ایف کینیڈی، اندرا گاندھی، ایلوس پریسلے، جان لینن اور ڈیوڈ بووی جیسی متاثر کن بااثر شخصیات بھی ان کی مداح ہیں، وہ بے حد بے باک تھے، منافقت اور بدعنوانی کے زدید خلاف تھے ان کی کتابیں بیروت میں جلا دی گئیں اور امریکہ میں اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملیں –

    جبران اپنے خاندان کے واحد فرد تھے جنہوں نے علمی تعلیم حاصل کی۔ اس کی بہنوں کو اسکول میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ کی روایات کے ساتھ ساتھ مالی مشکلات کی وجہ سے۔ جبران، تاہم، اپنے خاندان کی خواتین، خاص طور پر اپنی والدہ کی طاقت سے متاثر تھا۔ ایک بہن، اس کی ماں اور اس کے سوتیلے بھائی کی موت کے بعد، اس کی دوسری بہن، ماریانہ جبران نے کپڑے کی دوکا پر کام کر کے انہیں اور خواد کو پالا-

    اپنی والدہ کے بارے میں خلیل جبران نے لکھا کہ انسانوں کے لبوں پر سب سے خوبصورت لفظ ‘ماں’ ہے، اور سب سے خوبصورت پکار ‘میری ماں’ ہے۔ یہ امید اور پیار سے بھرا ایک لفظ ہے، دل کی گہرائیوں سے نکلنے والا ایک میٹھا اور مہربان لفظ ہے۔ ماں ہی سب کچھ ہے، وہ غم میں ہماری تسلی، غم میں ہماری امید اور کمزوری میں ہماری طاقت ہے۔ محبت، رحم، ہمدردی اور معافی کا۔”

    جبران بعد ازاں خواتین کی آزادی اور تعلیم کی وجہ بنےاس کا ماننا تھا کہ "دوسروں کے حقوق کی حفاظت انسان کا سب سے عظیم اور خوبصورت انجام ہے،نئے تارکین وطن کے لیے ایک نظم میں، انہوں نے لکھا کہ ، "مجھے یقین ہے کہ آپ اس عظیم قوم کے بانیوں سے کہہ سکتے ہیں، ‘میں حاضر ہوں، ایک نوجوان، ایک جوان درخت، جس کی جڑیں لبنان کی پہاڑیوں سے اکھیڑ دی گئیں۔ یہاں بہت گہرائی سے جڑیں ہیں۔ اور میں نتیجہ خیز ہوں گا۔”

    انہوں نے اپنی کتان "دی پرافٹ” میں لکھا کہ آپ اتحاد میں خالی جگہیں ہونے دیں، اور آسمان کی ہوائیں آپ کے درمیان رقص کریں۔ ایک دوسرے سے محبت کرو لیکن محبت کا بندھن نہ بناؤ: اسے اپنی روحوں کے ساحلوں کے درمیان ایک چلتا ہوا سمندر بننے دو۔ ایک دوسرے کا پیالہ بھرو لیکن ایک پیالہ سے نہ پیو۔ اپنی روٹی ایک دوسرے کو دو لیکن ایک ہی روٹی سے مت کھاؤ۔ ایک ساتھ گاؤ اور رقص کرو اور خوش رہو، لیکن تم میں سے ہر ایک کو تنہا رہنے دو، جیسے کہ ایک تار کی تاریں ایک ہی موسیقی کے ساتھ کانپتی ہیں۔ اپنے دل دو، لیکن ایک دوسرے کی حفاظت میں نہیں۔ کیونکہ صرف زندگی کا ہاتھ ہی آپ کے دلوں کو سمیٹ سکتا ہے۔ اور ایک ساتھ کھڑے ہو جاؤ، لیکن ایک دوسرے کے قریب بھی نہیں: کیونکہ ہیکل کے ستون الگ الگ کھڑے ہیں، اور بلوط کا درخت اور صنوبر ایک دوسرے کے سائے میں نہیں بڑھتے ہیں۔

    جبران خلیل 10 اپریل 1931ء کو نیویارک میں وفات پا گئے۔ ان کی موت جگر کی خرابی اور تپ دق کی وجہ سے ہوئی۔ اپنی موت سے پہلے جبران نے خواہش ظاہر کی کہ انھیں لبنان میں دفن کیا جائے ان کی یہ آخری خواہش 1932ء میں پوری ہوئی جب میری ہاسکل اور جبران کی بہن ماریانہ نے لبنان میں مارسرکاس نامی خانقاہ خرید کر وہاں ان کو دفن کیا اور جبران میوزیم قائم کیا جبران کی قبر کے کتبے پر جو الفاظ کشیدہ کیے گئے وہ کچھ اس طرح ہیں، “ایک جملہ جو میں اپنی قبر کے کتبے پر دیکھنا چاہوں گا میں زندہ ہوں تمھاری طرح اور میں تمھارے ساتھ ہی کھڑا ہوں۔ اپنی آنکھیں بند کرو اور اردگرد مشاہدہ کرو، تم مجھے اپنے سامنے پاؤ گے-

    جبران نے اپنے سٹوڈیو کی تمام اشیاء اور فن پارے میری ہاسکل کے نام وصیت میں سپرد کر دیے اس سٹوڈیو میں ہاسکل کو 23 سال تک اپنے اور جبران کے بیچ ہوئی خط کتابت بھی ملی، جس کے بارے پہلے ہاسکل نے یہ فیصلہ کیا کہ انھیں جلا دیا جائے، لیکن ان کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر انھیں محفوظ کر دیا گیا۔ ان خطوط کو میری ہاسکل نے اس کو لکھے گئے جبران کے خطوط سمیت شمالی کیرولائنا کی جامعہ کی لائبریری کو اپنی 1964ء میں وفات سے پہلے سپرد کر دیے۔ بعد ازاں ان خطوط کا کچھ مواد 1972ء میں کتاب Beloved Prophet میں شائع ہوا۔

  • ایف بی آرکے ہزاروں افسران کا ٹیکس فائلر نہ ہونے کا انکشاف

    ایف بی آرکے ہزاروں افسران کا ٹیکس فائلر نہ ہونے کا انکشاف

    اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے 10 ہزار سے زائد افسران کا ٹیکس فائلر نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق ایف بی آر کے 10 ہزار ملازمین نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائے، ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے بیشترافسران گریڈ 17 سے اوپر کے ہیں، ایف بی آر نے تاحال ملازمین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، ایف بی آر میں 25 ہزار سے زائد ملازمین تعینات ہیں۔

    ایف بی آر میں گریڈ 17 سے اوپر افسران کی تعداد 1700 سے زائد ہے، 2022 میں گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے نان فائلر افسران کی تعداد تقریبا 500 سے زائد تھی، تاہم 2023 میں اس کیٹگری میں نان فائلرز کی تعداد اب بھی 300 ہے، صرف 1400 افسران نے 31 دسمبر تک ٹیکس جمع کرانے کی مدت میں خصوصی توسیع کے باوجود اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے ہیں، یہ صورتحال اعلیٰ عہدے پر فائز افسران کی جانب سے ٹیکس کی عدم ادائیگی کے مستقل مسئلے کو نمایاں کرتی ہے۔

    جس کو عمران خان کہیں گے اس کو ٹکٹ ملے گا، نومنتخب چیئرمین

    ٹیکس سال 2023 میں اِن لینڈ ریونیو سروس نے افسران میں ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی شرح 88 فیصد دیکھی جبکہ کسٹمز گروپ افسر کے زمرے میں یہ شرح 80 فیصد ہے، 2023 میں اِس شرح میں نسبتاً اضافے کی وجہ ایف بی آر کے چیئرمین کی طرف سے دی گئی خصوصی توسیع کو قرار دیا جاتا ہے، جس کے تحت ملازمین کو 31 دسمبر تک اپنے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

    کراچی میں ریجنل ٹیکس آفس-ون کے چیف کمشنر کی جانب سے کی جانے والی ایک حالیہ مشق سے انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً 307 افسران نے 2022 اور 2023 میں اپنے ٹیکس گوشوارے نہیں جمع کرائے اگر اس مشق کو 22 آر ٹی اوز، 2 کارپوریٹ ٹیکس دفاتر (سی ٹی اوز) اور 3 بڑے ٹیکس دہندگان یونٹس (ایل ٹی یوز) تک بڑھایا جائے تو ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروانے والے اہلکاروں کی تعداد ممکنہ طور پر ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے۔

    ذوالفقارعلی بھٹو قتل کیس میں صدارتی ریفرنس سماعت کے لیے مقرر

    ایف بی آر کے جاری کردہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ 31 دسمبر تک ٹیکس ریٹرن فائل نہ کرنے والوں پر جرمانہ عائد کیا جائے گا، تاہم ایف بی آر میں ٹیکس گوشوارے جمع نے کروانے والے افسران کی شرح ظاہر کرتی ہے کہ یہ افسران ملک میں ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ بنیں گے۔

  • ایرانی صدر سرکاری دورے پر  ماسکوپہنچ گئے

    ایرانی صدر سرکاری دورے پر ماسکوپہنچ گئے

    ماسکو: ایرانی صدر ابراہیم رئیسی جمعرات کو سرکاری دورے پر ماسکو پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی :ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی اور توقع ہے کہ وہ اقتصادی تعلقات اور اسرائیل-غزہ جنگ سمیت دیگر موضوعات پر بات چیت کریں گے، روسی خبررساں ادارے رشیا ٹوڈے نیوز چینل نے مسٹر رئیسی کے اپنے صدارتی طیارے، معراج ایئرویز A340 سے اترتے ہوئے فوٹیج نشر کی۔

    ایران کے خبررساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کے صدر کے اس ایک روزہ دورے میں دوطرفہ امور پر مشاورت بشمول اقتصادی تعاملات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی مسائل بالخصوص مسئلہ فلسطین اور غزہ کی پیش رفت پر بات چیت ہمارے ملک کے صدر کے اہم ایجنڈے میں ہوگی۔

    رئیسی کریملن میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ون آن ون ملاقات کر رہے ہیں۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں سربراہان مملکت پریس کو کوئی بیان نہیں دیں گے۔

    جمعرات کو ماسکو روانگی سے قبل تہران میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے رئیسی نے کہا کہ ان کا ایک روزہ دورہ غزہ کی پٹی میں لڑائی کو روکنے، محصور علاقوں میں انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے اور فلسطینیوں کے جائز حقوق کے تحفظ پر توجہ مرکوز کرے گا،انہوں نے کہا کہ وہ مختلف شعبوں میں روس ایران تعلقات کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر بھی بات کریں گے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے آخری بار 16 اکتوبر کو فون پر بات کی تھی، جب انہوں نے غزہ میں جنگ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا،انہوں نے گزشتہ سال سمرقند، ازبکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ذاتی طور پر ملاقات کی۔

    روس اور ایران شام میں صدر بشار الاسد کی حمایت سمیت کئی معاملات پر اتحادی ہیں اور دونوں کو مغربی اقتصادی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہےفروری 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے، دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات مضبوط ہوئے ہیں، اور ایران نے روسی فوج کو سینکڑوں ڈرونز کے ساتھ ساتھ توپ خانے کا گولہ بارود بھی فراہم کیا ہے۔

    امریکہ نے کہا ہے کہ اسے دونوں ریاستوں کے درمیان "بڑھتی ہوئی دفاعی شراکت داری” پر تشویش ہےایران اور روس دونوں تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک+ کے رکن ہیں جو تیل کی پیداوار کی سطح کو مربوط کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔

    ایران بھی ان چھ ممالک میں سے ایک ہے جنہیں برکس اقتصادی بلاک میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، جو کہ اصل میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل تھا ارجنٹینا، مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات یکم جنوری 2024 کو باضابطہ طور پر شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔

    واضح رہہے کہ مسٹر رئیسی کا دورہ مسٹر پیوٹن کے خلیج کے ایک روزہ دورے کے بعد ہوا ہے،روسی صدر بدھ کو سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچے تھے ابوظہبی کے قصر الوطن میں ایک سرکاری استقبالیہ میں صدر شیخ محمد نے ان کا استقبال کیا دونوں رہنماؤں نے غزہ، یوکرین اور Cop28 پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں نے دو ریاستی حل کی بنیاد پر اسرائیل-فلسطین میں دیرپا امن کی ضرورت پر زور دیا۔

    مسٹر پیوٹن اس کے بعد اسی شام سعودی عرب گئے جہاں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ان کا استقبال کیا،پیوٹن نے شہزادہ محمد کو بتایا کہ "ہمارے دوستانہ تعلقات کی ترقی کو کوئی چیز نہیں روک سکتی، خطے میں کیا ہو رہا ہے اس کے بارے میں آپ کے ساتھ معلومات اور جائزوں کا تبادلہ کرنا ہم سب کے لیے بہت اہم ہے۔ روسی صدر نے کہا کہ ہماری ملاقات یقینی طور پر بروقت ہے۔

    شہزادہ محمد نے ایک براہ راست ٹیلی ویژن نشریات کے دوران کہا کہ "مملکت اور روس مشرق وسطیٰ میں استحکام کے حصول کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں،پیوٹن نے سعودی ولی عہد کو ماسکو کے دورے کی دعوت بھی دی۔