Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • سائفرمعمولی نوعیت کانہیں تھا،اس کی حیثیت، نوعیت پرقومی سلامتی کےدو اجلاس بلائےگئے،شاہ محمود

    سائفرمعمولی نوعیت کانہیں تھا،اس کی حیثیت، نوعیت پرقومی سلامتی کےدو اجلاس بلائےگئے،شاہ محمود

    اسلام آباد: تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور اسد عمر سائفر اور آڈیو لیک کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہوئے۔

    باغی ٹی وی : تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور اسد عمر اسلام آباد میں ایف آئی اے کے ہیڈ کوارٹر پہنچے جہاں وہ سائفر اور آڈیو لیک کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے

    ایف آئی اے نے رہنما تحریک انصاف شاہ محمود قریشی اور اسد عمر سے کئی گھنٹے تک پوچھ گچھ کی اور انھوں نے سوالات کے جوابات دیئے، چیئرمین پی ٹی آئی کل ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز آئیں گے۔ایف آئی اے کی 8 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اس حوالے سے تحقیقات کررہی ہے اور ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون راناجبار کمیٹی کی سربراہی کررہے ہیں۔

    بلاول بھٹو کی سفارش پر چین اور روس میں پاکستان کے نئے سفیروں کی تعیناتی …

    ایف آئی اےکے مختلف ونگز کے افسران سمیت 3 انٹیلیجنس اداروں سے گریڈ 19 کا ایک ایک افسر بھی جے آئی ٹی میں شامل ہے ایف آئی اے کے انسداد دہشت گردی ونگ نے شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کو طلب کر رکھا تھا ایف آئی اے کی جانب سے سائفر معاملے پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں، اس کے علاوہ شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کو شامل تفتیش کیا گیا ہے۔

    اسلام آباد کچہری میں پیشی کے دوران نامعلوم شخص نے عمران خان پر پانی کی …

    سائفر کیس میں ایف آئی میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں شاہ محمودقریشی نے سائفر کو حقیقت قرار دیا، انھوں نے کہا کہ سائفر ایک حقیقت تھی اور حقیقت ہے، تاثر دیا گیا کہ سیاسی ڈرامہ دفتر خارجہ میں گھڑا گیا شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تقریباً پونے 2 گھنٹے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہوا، پہلے بھی نوٹس ملے اور میں نے سوالنامہ مانگا تھا، میں پہلے بھی پیش ہوا، سوالوں کا دیانتداری سے جواب دیا، آج کے سوالوں پر اپنا مؤقف دیاپہلے بھی کہہ چکا ہوں سائفر ایک حقیقت تھی اورحقیقت ہے –

    ٹیرف میں اضافےکی بڑی وجہ روپے کی قدر میں کمی اورکیپسٹی پیمنٹس ہیں،نیپرا حکام

    انہوں نے مزید کہا کہ سائفر معمولی نوعیت کا نہیں تھا، اس کی حیثیت، نوعیت پر قومی سلامتی کے دو اجلاس بلائے گئے، ایک سابق وزیر اعظم اور دوسرا موجودہ وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس ہوا، دونوں اجلاسوں میں سائفر کو تسلیم کیا گیا ہے، شہبازشریف کی زیر صدارت اجلاس میں بھی جھٹلایا نہیں تسلیم کیا گیا نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کو بلایا گیا، اس وقت کی اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا، چیئرمین پی ٹی آئی نے کوشش کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزاد تحقیقات ہوں۔

    آرمی چیف سے کمانڈر یو ایس سے ملاقات

  • بلاول بھٹو کی سفارش پر چین اور روس میں پاکستان کے نئے سفیروں کی تعیناتی منظور

    بلاول بھٹو کی سفارش پر چین اور روس میں پاکستان کے نئے سفیروں کی تعیناتی منظور

    وزیر اعظم شہباز شریف نے چین اور روس میں پاکستان کے نئے سفیروں کی تعیناتی کی منظوری دے دی-

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق وزیرخارجہ بلاول بھٹو کی سفارش پر منظوری دی گئی وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد خلیل ہاشمی چین میں پاکستان کے نئے سفیر ہوں گے خلیل ہاشمی اس وقت جنیوا میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب ہیں خلیل ہاشمی کی جگہ جنیوا میں ڈاکٹر بلاول کو مستقل مندوب تعینات کیا جاچکا ہے۔

    آرمی چیف سے کمانڈر یو ایس سے ملاقات

    ذرائع کا کہنا ہے کہ روس میں پاکستان کے نئے سفیر خالد جمالی ہوں گےخالد جمالی اس وقت جمہوریہ چیک میں پاکستان کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں نیویارک میں قونصل جنرل عائشہ اب خالد جمالی کی جگہ جمہوریہ چیک میں پاکستان کی سفیر ہوں گی۔

    انڈونیشیا میں کشتی ڈوبنے سے15 افراد ہلاک اور 19 لاپتہ

  • ٹوئٹر کا نیا لوگو متعارف

    ٹوئٹر کا نیا لوگو متعارف

    ٹوئٹر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے مشہور برڈ لوگو (logo) کا متبادل پیش کر دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: ٹوئٹر کے سی ای او ایلون مسک نے اپنی ٹوئٹ میں ایک ویڈیو شئیر کی جبکہ ٹوئٹر کی چیف ایگزیکٹو لینڈا یاکارینو اورکی جانب سے ٹوئٹر کے نئے لوگو کی تصویر ایک ٹوئٹ میں پوسٹ کی گئی۔


    ٹوئٹر کے نئے لوگو میں ایکس لکھا نظر آ رہا ہے جبکہ ایلون مسک نے بھی اپنی پروفائل امیج بھی اس لوگو سے تبدیل کرتے ہوئے ٹوئٹر بائیو میں ایکس ڈاٹ کام کا اضافہ کر دیا ہے۔

    ٹوئٹر صارفین کو ڈی ایم بھیجنے کیلئے بھی فیس ادا کرنا ہو گی

    ٹوئٹر کی چیف ایگزیکٹو لینڈا یاکارینو نے ایک اور ٹوئٹ میں بتایا کہ ٹوئٹر نے ہمارے رابطوں کے انداز کو بدل دیا اور اب ایکس اس سلسلے کو مزید آگے بڑھائے گا،جس کا ہم ابھی تصور کرنا شروع کر رہے ہیں۔


    واضح رہے کہ 23 جولائی کو ایلون مسک نے کہا تھا کہ بہت جلد ہم ٹوئٹر برانڈ اور تمام پرندوں کو خیرباد کہہ دیں گے، اگر ایکس لوگو اچھا ہوا تو وہ آج شب (23 جولائی کی شب) پوسٹ کیاجائےگا اور اسے 24 جولائی کو لائیوکردیا جائے گا اس تبدیلی کے بعد ٹوئٹر ایک خودمختار کمپنی نہیں رہے گی بلکہ اسے ایک نئی کمپنی ایکس کارپوریشن کا حصہ بنا دیا جائے گا۔

    دنیا بھرمیں طلاق کی شرح میں نمایاں اضافہ کیوں؟ سائنسدانوں نے بڑی وجہ بتا دی

    ٹوئٹر کو خریدنے کے بعد ایلون مسک نے اس پلیٹ فارم میں متعدد تبدیلیاں کی ہیں جن میں ٹوئٹر بلیو سروس قابل ذکر ہے اپریل میں عارضی طور پر ٹوئٹر کے روایتی لوگو کو ڈوگی کوائن کے کتے والے لوگو سے تبدیل کیا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ ٹوئٹر کا نیلے پرندے کا لوگو ایک باسکٹ بال اسٹار لیری برڈ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا حصہ بنایا گیا تھا،ٹوئٹر کے شریک بانی بز اسٹون نے اس پرندے کو لیری کا نام دیا تھا اور اب اس کا عہد جلد ختم ہونے والا ہے۔

    ناسا نظامِ شمسی کے سب سے قیمتی سیارچے پر خلائی جہاز روانہ کرے گا

  • اسلام آباد کچہری میں پیشی کے دوران نامعلوم شخص نے عمران خان پر پانی کی بوتل پھینک دی

    اسلام آباد کچہری میں پیشی کے دوران نامعلوم شخص نے عمران خان پر پانی کی بوتل پھینک دی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی اسلام آباد کچہری میں پیشی کے دوران نامعلوم شخص نے عمران خان پر پانی کی بوتل پھینک دی-

    باغی ٹی وی : عمران خان مختلف مقدمات میں پیشی کیلئے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیش کورٹ میں موجود ہیں عمران خان توشہ خانہ فوجداری کیس میں حاضری کیلئے اسلام آباد کے گی 11 مرکز میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی نئی عمارت میں پیش ہوئے جو حال ہی میں ایف 8 سے یہاں منتقل کی گئی تھی عمران خان سیکیورٹی اہلکاروں کے حصار میں بلٹ پروف شیٹس سے گھرے کچہری میں داخل ہو رہے تھے کہ ایک پانی کی بوتل اوپر سے ان کے اوپر گری، تاہم وہ شیٹس کی وجہ سے محفوظ رہے۔


    توشہ خانہ کیس کی سماعت جج ہمایوں دلاور نے کی دورن سماعت جج ہمایوں دلاورنے چیئرمین پی ٹی آئی کو حاضری لگوا کر جانے کی اجازت دے دی۔

    دوسری جانب توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس کے حوالے سے عمران خان نے ایک بار پھر اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا عمران خان نے درخواست مسترد کرنے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ اسلام آباد کی اعلیٰ عدالت میں چیلنج کردیا۔

    عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے ریکارڈ طلبی کی درخواست مسترد کردی تھی، ریکارڈ فراہمی اور تفصیلی جرح ہمارا حق ہے درخواست میں استدعا کی گئی کہ وقاص احمد پر مزید جرح کی کارروائی کو معطل کیا جائے، الیکشن کمیشن کارروائی کا مکمل ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔

    علاوہ ازیں چیئرمین پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں درج مقدمات کی تفصیلات کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیاعمران خان نے وکیل شیر افضل مروت کے ذریعے دائر درخواست میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد، ڈی جی ایف آئی اے فریق کو فریق بنایا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا کہ عمران خان پر ملک بھر میں اب تک 188 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی سابق وزیر اعظم رہے ہیں جن کو بیرونی سازش کے تحت ہٹایا گیا، بیرونی قوتوں نے ملک میں موجود ملک دشمن آلہ کاروں کے ذریعے رجیم چینج آپریشن کیا، عمران خان کو قانون کا بے دریغ غلط استعمال کرکے گرفتار کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں.

    درخواست میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف درج مقدمات آرٹیکل 10 اے کی خلاف ورزی ہیں، عدالت چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف گزشتہ ایک ماہ میں درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے اور کسی بھی نئے مقدمے میں گرفتار کرنے سے روکے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر سے متعلق دستاویزات درخواست کے ساتھ منسلک کردی ہیں جبکہ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے بیانات اور ٹوئٹس کو بھی درخواست کا حصہ بنایا گیا ہے جن میں رانا ثناء اللہ نے سائفر معاملے پر عمران خان کی گرفتاری کا خدشہ ظاہرکیا تھا۔

  • انڈونیشیا میں کشتی ڈوبنے سے15 افراد ہلاک اور 19 لاپتہ

    انڈونیشیا میں کشتی ڈوبنے سے15 افراد ہلاک اور 19 لاپتہ

    انڈونیشا کے سولاویسی جزیرے میں فیری ڈوبنے سے 15 افراد ہلاک اور 19 لاپتہ ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: انڈو نیشیا کے حکام کا کہنا ہے کہ فیری میں 40 مسافر سوار تھے جس میں سے 19 اب بھی لاپتہ ہیں جبکہ 6 زندہ بچ گئے ہیں ابتدائی طور پر فیری ڈوبنے کی وجہ سامنے نہیں آسکی، حادثہ آدھی رات کو پیش آیا۔

    سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے اہلکار محمد عرفہ نے بتایا کہ تمام متاثرین کی شناخت کر لی گئی ہے اور انہیں اہل خانہ کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ زندہ بچ جانے والے افراد اب مقامی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جبکہ کشتی ڈوبنے کی وجہ کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    جنوب مشرقی سولاویسی کے شہر کیندری میں ریسکیو ایجنسی کے سربراہ محمد عرفہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’19 افراد کی تلاش جاری ہے جس کے لیے دو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں-

    بنگلادیش میں مسافروں سے بھری بس تالاب میں گر گئی، تین بچوں سمیت 17 افراد …

    17 ہزار جزائر پر مشتمل جنوب مشرقی جزیرے میں سمندری حادثات کوئی نئی بات نہیں۔ 2018 میں سماٹرا جزیرے پر دنیا کی سب سے گہری جھیلوں میں سے ایک میں کشتی ڈوبنے سے 150 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے گذشتہ سال مئی میں ایک فیری جس میں 800 سے زائد افراد سوار تھے، مشرقی نوسا ٹینگگارا صوبے کے قریب گہرے پانیوں میں ڈوب گئی تھی اور دو دن تک پھنسی رہی تاہم اس حادثے میں کوئی زخمی نہیں ہوا تھا۔

    ماسکو کے شاپنگ مال میں گرم پانی کی پائپ لائن پھٹنے سے 4 افراد ہلاک …

    قبل ازیں جمعے کے روز مراکش میں کشتی ڈوبنے سے 6 پناہ گزین ہلاک ہوگئے میڈیا رپورٹس کے مطابق مراکش کی سمندری حدود کے قریب کشتی کو حادثہ پتھروں سے ٹکرانے کی وجہ سے پیش آیا، کشتی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی کہ پتھروں سے جا ٹکرائی جس کے نتیجے میں کشتی میں شگاف پڑ گیا اور یوں کشتی پانی میں ڈوب گئی،کشتی میں 54 افراد سوار تھے جو حادثہ پیش آنے کی وجہ سے ڈوب گئے کشتی میں سوار 48 افراد بچ گئے جب کہ 6 افراد بدقسمتی سے ہلاک ہوگئے-

    دوسرا ٹیسٹ، سری لنکا کا پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا آغاز

  • آرمی چیف سے کمانڈر یو ایس سے ملاقات

    آرمی چیف سے کمانڈر یو ایس سے ملاقات

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے کمانڈر یو ایس سینٹکام جنرل مائیکل ایرک کوریلا نے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر جنرل مائیکل ایرک کوریلا کے درمیان ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی صورتحال اور دفاعی تعاون کے فروغ پر بات چیت کی گئی۔

    ٹیرف میں اضافےکی بڑی وجہ روپے کی قدر میں کمی اورکیپسٹی پیمنٹس ہیں،نیپرا حکام

    آئی ایس پی آر ک مطابق ملاقات میں تمام شعبوں میں دو طرفہ تعلقات مزید بڑھانےکی خواہش کا اعادہ کیا گیا، امریکی سینٹکام کمانڈر جنرل مائیکل ایرک کوریلا نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی کامیابیوں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو سراہا۔

    یاسمین راشد،عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں بھی 14 روز …

  • ٹیرف میں اضافےکی بڑی وجہ روپے کی قدر میں کمی اورکیپسٹی پیمنٹس ہیں،نیپرا حکام

    ٹیرف میں اضافےکی بڑی وجہ روپے کی قدر میں کمی اورکیپسٹی پیمنٹس ہیں،نیپرا حکام

    اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمت میں ساڑھے 7 روپے اضافے کی حکومتی درخواست پر سماعت مکمل کرلی۔

    باغی ٹی وی : چیئرمین نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی بنیادی قیمت میں ساڑھے 7 روپے فی یونٹ تک اضافے کی حکومتی درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں پاور ڈویژن نے نیپرا کو بریفنگ دی۔

    نیپرا حکام نے کہا کہ ٹیرف میں اضافے کی بڑی وجہ روپے کی قدر میں کمی اورکیپسٹی پیمنٹس ہیں، کس سلیب کے لیے کتنا اضافہ کرنا حکومت کا کام ہے، یہ سیاسی اور انتظامی فیصلہ ہے جو حکومت نے کرنا ہے۔

    یاسمین راشد،عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں بھی 14 روز …

    ممبر نیپرا رفیق شیخ نے سوال کیا کہ وہ کون سا قانون ہے جو حکومت کو سبسڈی دینے کا تعین کرتاہے؟ کس سلیب کو کتنی سبسڈی دینی ہےحکومت کو یہ اختیار کون سا قانون دیتا ہے؟ممبر نیپرا کے سوال پر پاور ڈویژن حکام نے بتایا کہ حکومت بجلی صارفین کو 158 ارب روپے کی سبسڈی دے گی اور 200 یونٹ تک کے صارفین کے لیے کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

    اس پر چیئرمین نیپرا نے کہا کہ پروٹیکٹڈ کو سبسڈی دینے سے دیگر صارفین پر بوجھ پڑ رہاہے پاور ڈویژن حکام نے کہا کہ ملک میں 40 فیصد صارفین خط غربت سےنیچےرہ رہے ہیں، ان بجلی صارفین کو حکومت سبسڈی فراہم کررہی ہےحکومت 90 فیصد صارفین کو سبسڈی دے رہی ہے۔

    میں کیا کروں کہ ضبط تمنا کے باوجود، بے اختیار لب پہ ترا نام …

    ممبر نیپرا رفیق شیخ نے کہا کہ دنیا میں کیا ریٹس چل رہے ہیں اور پاکستان میں کیا صورتحال ہے، اس پر نمائندہ اپٹما نے کہا کہ ٹیرف میں صرف ایک فیصد اضافے سے بھی برآمدات پر منفی اثرات پڑتا ہے، کمرشل اور بل بورڈز کوکمرشل ٹیرف دیا جارہا ہے، اگر وہ متبادل پر جائیں تو ان کو 300 روپے فی یونٹ پڑتاہے، بجلی کمپنیاں اپنے نقصانات زیادہ ہونے یا ریکوریز کم ہونے پرلوڈشیڈنگ شروع کردیتی ہیں، حالیہ بارشوں کے دوران بجلی کے 22 ہزار میٹرز جل گئے، کیسے جل گئے؟

    ممبر نیپرا نے کہا کہ پاور ڈویژن بجلی صارفین کے لیے سبسڈی کا اکنامک کیس بنا کر بتائے، گھریلو صارفین کو سبسڈی دے رہے ہیں تو انڈسٹری کو بٹھا رہے ہیں۔

    خاتون جج دھمکی کیس:عمران خان کی عدالت میں حاضری کیلئےجوڈیشل کمپلیکس آمد،اوپر جانے سے انکار

    بعد ازاں نیپرا نے بجلی کی قیمت میں ساڑھے 7 روپے فی یونٹ اضافے کے معاملے پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا جو تفصیلات کا جائزہ لے کر وفاقی حکومت کو بھجوایا جائے گا اور وفاقی حکومت بجلی کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔

  • یاسمین راشد،عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری  کے جوڈیشل ریمانڈ میں بھی 14 روز کی توسیع

    یاسمین راشد،عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں بھی 14 روز کی توسیع

    لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے پانچ مقدمات میں رہنما تحریک انصاف یاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کر دی، جبکہ جناح ہاؤس حملہ توڑ پھوڑ کیس میں سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں بھی 14 روز کی توسیع کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی : انسداد دہشتگردی عدالت کی ایڈمن جج عبہر گل خان نے عسکری ٹاور پر حملہ، مسلم لیگ ن آفس جلانے اور یاسمین راشد کے خلاف دیگر مقدمات پر سماعت کی ڈاکٹر یاسمین راشد کو جوڈیشل ریمانڈ کی معیاد ختم ہونے پرعدالت میں پیش کیا گیا پولیس نےیاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی تاہم عدالت نے پانچ مقدمات میں یاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کر دی عدالت نے یاسمین راشد کو 7 اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔

    خاتون جج دھمکی کیس:عمران خان کی عدالت میں حاضری کیلئےجوڈیشل کمپلیکس آمد،اوپر جانے سے انکار

    دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے جناح ہاؤس حملہ توڑ پھوڑ کیس میں سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ اور سینیٹر اعجاز چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کر دی۔

    پولیس کی جانب سے عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کو جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت پیش کیا گیا تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ مقدمات کا چالان تکمیل کے مرحلے میں ہے مہلت دی جائے عدالت نے آئندہ سماعت پر پولیس سے جناح ہاؤس حملہ کیس کے چالان کی تفصیلات طلب کرلیں اور عدالت نے ملزمان کو 7 اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم بھی دیا-

    میں کیا کروں کہ ضبط تمنا کے باوجود، بے اختیار لب پہ ترا نام …

    عمر سرفراز چیمہ کو بیماری کے باعث وہیل چیئر پر عدالت میں پیش کیا گیا عدالت نے انہیں بہتر سہولیات فراہم کرنےکا حکم دے دیا عمر سرفراز چیمہ کے خلاف سانحہ 9 مئی کے حوالے سے تھانہ سرور روڈ میں مقدمہ درج ہے۔

  • خاتون جج دھمکی کیس:عمران خان کی عدالت میں حاضری کیلئےجوڈیشل کمپلیکس آمد،اوپر جانے سے انکار

    خاتون جج دھمکی کیس:عمران خان کی عدالت میں حاضری کیلئےجوڈیشل کمپلیکس آمد،اوپر جانے سے انکار

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت-

    باغی ٹی وی :ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت ہوئی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے کی دوران سماعت عمران خان کی جانب سے وکیل انتظار پنجوتھا عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کمپلیکس آئے ہوئے ہیں سیکیورٹی کے باعث اوپر نہیں آ سکتے۔

    جج ملک امان نے کہا کہ اگر پرانی کچہری میں ہوتے تو آپ کی بات مان لیتے وکیل انتظار پنجوتھا نے عدالت سے استدعا کی عدالت ان کی حاضری لگا لےجس پر جج ملک امان نے استدعا مسترد کرتے ہوئے جواب دیا کہ ایسا نہیں کر سکتے، ملزم کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا، ہم بیٹھے ہیں آپ ملزم کو پیش کر دیں۔

    یاسمین راشد،عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں بھی 14 روز …

    قبل ازیں گزشتہ سماعت میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے کےکیس میں عدالت میں کھڑے ہوکر معافی مانگ لی تھی ،عمران خان جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان کی عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر روسٹرم پر آکر ان کا کہنا تھا کہ میں نے 27 سال قبل انصاف کی بالادستی کے لیے سیاسی جماعت بنائی، میں نے آج تک ایک گملا بھی نہیں توڑا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ میں خاتون جج کی عدالت گیا اور کہا میرے بیان سے کسی کی دل آزاری ہوئی تو اس پر معافی مانگتا ہوں، میں نے ردعمل میں جوش خطابت میں قانونی کارروائی کرنےکا کہا تھا، میں نے جو کہا اس پر جج صاحبہ سے معافی بھی مانگنے گیا تھا، اگر میں نے لائن کراس کی ہے تو میں معافی مانگتا ہوں۔

    برصغیرکی کلاسیکل گلوکارہ،اداکارہ ،صحافی، شاعرہ اوروکیل ڈاکٹرسشیلا رانی پٹیل

    خیال رہےکہ 20 اگست 2022 کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے شہباز گل پر مبینہ تشدد کے خلاف آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد پرکیس کرنےکا اعلان کیا تھا اور دوران خطاب عمران خان نے شہباز گل کا ریمانڈ دینے والی خاتون مجسٹریٹ زیبا چوہدری کو نام لےکر دھمکی بھی دی تھی۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ آئی جی، ڈی آئی جی اسلام آباد ہم تم کو نہیں چھوڑیں گے، تم پر کیس کریں گے اور مجسٹریٹ زیبا چوہدری آپ کو بھی ہم نے نہیں چھوڑنا، کیس کرنا ہے تم پر بھی، مجسٹریٹ کو پتہ تھا کہ شہباز پر تشدد ہوا پھر بھی ریمانڈ دے دیا اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے قانونی کارروائی کا اعلان کیا تھا جب کہ پیمرا نے عمران خان کے براہ راست خطاب کر پابندی لگا دی تھی۔ عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔

    میں کیا کروں کہ ضبط تمنا کے باوجود، بے اختیار لب پہ ترا نام …

    گزشتہ سال 30 ستمبر کو چیئرمین تحریک انصاف جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری سے معذرت کرنے کے لیے ان کی عدالت پہنچے تھے تاہم پولیس نے خاتون جج کا کمرہ بند کر دیا اور انہیں بتایا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری رخصت پر ہیں عمران خان نے ریڈر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ نے زیبا چوہدری صاحبہ کو بتانا ہے کہ عمران خان آئے تھے۔

    دوسری جانب عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کی بھی سماعت آج ہو رہی ہے،عمران خان کی پیشی کے باعث سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    پاکستان شاہینز نے ثابت کردیا کہ یہ دنیا کی کسی بھی ٹیم سے مقابلہ کر …

  • میں کیا کروں کہ ضبط تمنا کے باوجود،  بے اختیار لب پہ ترا نام آ گیا

    میں کیا کروں کہ ضبط تمنا کے باوجود، بے اختیار لب پہ ترا نام آ گیا

    اللہ رے بے خودی کہ ترے گھر کے آس پاس
    ہر در پہ صدا دی ترے در کے خیال میں

    جگن ناتھ آزاد

    جگن ناتھ آزاد 5 دسمبر، 1918ء کو عیسیٰ خیل ضلع میانوالی میں پیدا ہوئے جو اب پاکستان میں ہے۔ ان کے والد تلوک چند محروم اردو کے شاعر تھے۔ آزاد کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی اپنے والد کے ہاتھوں ہوئی۔

    تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    جگن ناتھ آزاد نے 1933ء میں میانوالی سے میٹرک کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ 1935ء میں انہوں نے ڈی اے بی کالج راولپنڈی سے انٹرمیڈیٹ کیا اور 1937ء میں گارڈن کالج راولپنڈی سے بی اے کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے جگن ناتھ آزاد نے لاہور کا رخ کیا۔ انہوں نے لاہور میں 1942ء میں فارسی آنرز کیا اور پھر 1944ء میں جامعہ پنجاب لاہور سے فارسی میں ایم اے کیا تھا۔ یہاں انہیں ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال، ڈاکٹر سید عبد ﷲ، صوفی غلام مصطفی تبسم، پروفیسر علیم الدین سالک اور سید عابد علی عابد جیسے اساتذہ سے ملنے اور فیض یاب ہونے کا موقع ملا تھا۔

    پہلی شادی خانہ آبادی
    ۔۔۔۔۔۔
    جگن ناتھ آزاد کی شادی 11 دسمبر، 1940ء کو ہوئی تھی۔ ان کی اہلیہ کا نام شکنتلا تھا۔ اس بیاہ سے پرمیلا اور مُکتا نام کی دو بیٹیاں ہوئیں۔ شکنتلا 1946ء میں بیمار ہوگئیں اور ہر ممکن علاج کے باوجود صحت یاب نہ ہو سکیں۔ اسی سال ان کا انتقال ہو گیا۔ آزاد نے ’’شکنتلا‘‘، ’’ایک آرزو‘‘ اور ’’استفسار‘‘ نامی نظمیں اپنی رفیقہ حیات کی یاد میں لکھیں۔

    تقسیم ہند اورآزاد کا
    ۔۔۔۔۔۔
    ہندوستان نقلِ مقام کرنا
    ۔۔۔۔۔۔
    تقسیم ہند کے بعد آزاد دیگر ارکانِ خانہ کے ساتھ ہندستان چلے آئے اور دہلی میں بس گئے۔ انہیں اولاً ’’ملاپ‘‘ میں نائب مدیر کی ملازمت ملی تھی۔ پھر ’’ایمپلائمنٹ نیوز’’ میں روزگار پایا اسی سے منسلک ’’پبلی کیشنز ڈویژن’’ میں اردو کے اسسٹنٹ ایڈیٹر بنے۔ یہاں ان کی ملاقاتیں جوش ملیح آبادی سے ہوئیں جو رسالہ ’’آج کل‘‘ (اردو) کے مدیر تھے۔ جوش ملیح آبادی کے علاوہ عرش ملسیانی، بلونت سنگھ اور پنڈت ہری چند اختر جگن ناتھ آزاد کے ہم منصب رہے۔ ان کی مصاحبت سے آزاد نے بہت کچھ جانا تھا۔

    دوسری شادی خانہ آبادی
    جولائی 1948ء میں آزاد کی دوسری شادی وملا نامی خاتون سے ہوئی۔ اس بیاہ سے تین بچے مولود ہوئے۔ سب سے بڑا بیٹا آدرش، چھوٹا بیٹا چندر کانت اور سب سے چھوٹی بیٹی پونم تھی۔

    شعری مجموعے
    ۔۔۔۔۔۔
    جگن ناتھ آزاد کا پہلا شعری مجموعہ ’’طبل و علم‘‘ 1948ء میں چھپا۔ 1949ء میں دوسرا مجموعۂ کلام ’’بیکراں‘‘ چھپا۔

    جموں و کشمیر میں ملازمت
    ۔۔۔۔۔۔
    1968ء میں آزاد نے ڈپٹی پرنسپل انفارمیشن آفیسر پریس انفارمیشن بیورو کے طور پر سری نگر، کشمیر میں ملازمت اختیار کی۔ وہ ڈائرکٹر پبلک ریلشنز کے طور پر 1977ء تک کام کرتے رہے۔ 1977ء میں ہی آزاد کو پروفیسر اور صدر شعبۂ اردو جموں یونیورسٹی کی پیش کش ہوئی جسے آزاد نے منظور کیا تھا۔ 1977ء سے 1983ء تک وہ پروفیسر اور صدر شعبۂ اردو جموں یونیورسٹی اور ڈین فیکلٹی آف اورینٹل لرنینگ جموں یونیورسی کے عہدے پر فائز رہے۔ 1984ء سے 1989ء تک پروفیسر ایمریٹس فیلو کی حیثیت سے شعبۂ اردو جموں یونیورسٹی میں رہے اور پھر 1989ء سے اپنی زندگی کے اخیر تک وہیں رہے۔

    انتقال
    ۔۔۔۔۔۔
    جگن ناتھ آزاد 24 جولائی، 2004ء کوانتقال کر گئے تھے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ممکن نہیں کہ بزم طرب پھر سجا سکوں
    اب یہ بھی ہے بہت کہ تمہیں یاد آ سکوں
    یہ کیا طلسم ہے کہ تری جلوہ گاہ سے
    نزدیک آ سکوں نہ کہیں دور جا سکوں
    ذوق نگاہ اور بہاروں کے درمیاں
    پردے گرے ہیں وہ کہ نہ جن کو اٹھا سکوں
    کس طرح کر سکو گے بہاروں کو مطمئن
    اہل چمن جو میں بھی چمن میں نہ آ سکوں
    تیری حسیں فضا میں مرے اے نئے وطن
    ایسا بھی ہے کوئی جسے اپنا بنا سکوں
    آزادؔ ساز دل پہ ہیں رقصاں وہ زمزمے
    خود سن سکوں مگر نہ کسی کو سنا سکوں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خیال یار جب آتا ہے بیتابانہ آتا ہے
    کہ جیسے شمع کی جانب کوئی پروانہ آتا ہے
    تصور اس طرح آتا ہے تیرا محفل دل میں
    مرے ہاتھوں میں جیسے خود بہ خود پیمانہ آتا ہے
    خرد والو خبر بھی ہے کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
    جنوں کی جستجو میں آپ ہی ویرانہ آتا ہے
    کبھی قصد حرم کو جب قدم اپنا اٹھاتا ہوں
    مرے ہر اک قدم پر اک نیا بت خانہ آتا ہے
    در جاناں سے آتا ہوں تو لوگ آپس میں کہتے ہیں
    فقیر آتا ہے اور با شوکت شاہانہ آتا ہے
    دکن کی ہیر سے آزادؔ کوئی جا کے یہ کہہ دے
    کہ رانجھے کے وطن سے آج اک دیوانہ آتا ہے
    وہی ذکر دکن ہے اور وہی فرقت کی باتیں ہیں
    تجھے آزادؔ کوئی اور بھی افسانہ آتا ہے

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    کنارے ہی سے طوفاں کا تماشا دیکھنے والے
    کنارے سے کبھی اندازۂ طوفاں نہیں ہوتا

    ابتدا یہ تھی کہ میں تھا اور دعویٰ علم کا
    انتہا یہ ہے کہ اس دعوے پہ شرمایا بہت

    میں کیا کروں کہ ضبط تمنا کے باوجود
    بے اختیار لب پہ ترا نام آ گیا

    ڈھونڈھنے پر بھی نہ ملتا تھا مجھے اپنا وجود
    میں تلاش دوست میں یوں بے نشاں تھا دوستو

    سکون دل جہان بیش و کم میں ڈھونڈنے والے
    یہاں ہر چیز ملتی ہے سکون دل نہیں ملتا

    ہم نے برا بھلا ہی سہی کام تو کیا
    تم کو تو اعتراض ہی کرنے کا شوق تھا

    بہار آئی ہے اور میری نگاہیں کانپ اٹھیں ہیں
    یہی تیور تھے موسم کے جب اجڑا تھا چمن اپنا

    اللہ رے بے خودی کہ ترے گھر کے آس پاس
    ہر در پہ دی صدا ترے در کے خیال میں

    بہار آتے ہی ٹکرانے لگے کیوں ساغر و مینا
    بتا اے پیر مے خانہ یہ مے خانوں پہ کیا گزری

    چلتے رہے ہم تند ہواؤں کے مقابل
    آزادؔ چراغ تہ داماں نہ رہے ہم

    اس سے زیادہ دور جنوں کی خبر نہیں
    کچھ بے خبر سے آپ تھے کچھ بے خبر سے ہم

    تمہیں کچھ اس کی خبر بھی ہے اے چمن والو
    سحر کے بعد نسیم سحر پہ کیا گزری

    اک بار اگر قفس کی ہوا راس آ گئی
    اے خود فریب پھر ہوس بال و پر کہاں

    ادب پارے
    ۔۔۔۔۔۔
    ’’جگن ناتھ آزاد‘‘
    ۔۔۔۔۔۔
    جگن ناتھ آزاد اٹلانٹا تشریف لے گئے تو چائے دیتے ہوئے میزبان نے پوچھا کہ آزاد صاحب چینی کتنی لیں گے؟ جواب دیا: ’’اپنے گھر تو ایک ہی چمچ لیتا ہوں، لیکن باہر چائے پینے پر دو، تین چمچ سے کم چینی نہیں لیتا۔‘‘ اس پر میزبان نے ایک چمچ چینی اُن کی چائے میں ڈالتے ہوئے کہا: ’’آزاد صاحب! اسے اپنا ہی گھر سمجھئے۔‘‘
    *
    اٹلانٹا میں جگن ناتھ آزاد، محسن بھوپالی اور حمایت علی شاعر اسٹون فائونڈیشن دیکھنے نکلے اور وہاں تصویریں لینے لگے۔ حمایت علی شاعر نے تصویر لیتے ہوئے کہا کہ کیمرہ تصویر تو لے لے گا، لیکن ہے ذرا پرانا۔ آزاد نے برجستہ کہا: ’’ہمیں کون سا خریدنا ہے۔‘‘
    *
    جگن ناتھ آزاد، پہلی دفعہ پاکستان پہنچے۔ مدیر ’’نقوش‘‘ محمد طفیل نے اُن کے اعزاز میں دعوت دی، جس میں احتراماً صرف سبزیاں ہی رکھی گئیں۔ کھانا ختم ہونے کے بعد جگن ناتھ آزاد نے طفیل صاحب کو مخاطب کرکے کہا: ’’اگر آپ کو سبزیاں ہی کھانی کھلانی تھیں تو پھر پاکستان بنانے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘
    *
    جگن ناتھ آزاد کی پاکستان آمد پر اُن کے اعزاز میں ’’شامِ ہمدرد‘‘ کا اہتمام کیا گیا۔ اسٹیج پر آغا بابر اور ڈاکٹر زمان غزنوی بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ مولوی محمد سعید نے اپنی کتاب ’’آہنگِ باز گشت‘‘ جو اُن دنوں شائع ہوئی تھی، آزاد صاحب کو پیش کرنے کے لیے برگیڈئیر گلزار احمد سے گزارش کی ۔ برگیڈئیر صاحب نے ڈاکٹر زمان غزنوی کو آزاد سمجھتے ہوئے نہ صرف مولوی صاحب کی کتاب پیش کردی، بلکہ اُن کی ادبی خدمات کے ذکر کے علاوہ اُن کے والد محترم تلوک چند محروم کے شعر؎
    دن کو بھی یہاں شب کی سیاہی کا سماں ہے
    کہتے ہیں یہ آرام گہہِ نور جہاں ہے
    کی تعریف کرتے رہے اور جگن ناتھ آزاد پاس بیٹھے مسکراتے رہے۔
    *
    جگن ناتھ آزاد، بسمل سعیدی ٹونکی، ساحر ہوشیار پوری اور کچھ دوسرے شعرا مدراس کے ایک مشاعرے میں شمولیت کے لیے ریل میں سفر کررہے تھے۔ آزاد صاحب ، درمیان میں لیٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے آواز دے کر نیچے لیٹے بسمل صاحب سے کہا: ’’کچھ پڑھنے کے لیے دیجیے۔‘‘ بسمل صاحب نے اپنا مجموعۂ کلام ’’نشاطِ غم‘‘ انہیں پیش کردیا۔ آزاد صاحب نے ورق گردانی کی اور پسند نہ آنے پر کتاب بند کردی۔اپنے سامنے لیٹے ہوئے شاعر سے کوئی کتاب مانگی۔ انہوں نے جو کتاب پیش کی وہ راجستھانی شاعروں کے بارے میں تھی۔ وہ کتاب بھی آزاد صاحب کو پسند نہ آئی، لہٰذا واپس کرتے ہوئے بے خیالی میں یہ کہا:
    ’’اس سے تو ’’نشاطِ غم‘‘ ہی بہتر تھی۔