Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • برصغیرکی کلاسیکل گلوکارہ،اداکارہ ،صحافی، شاعرہ اوروکیل ڈاکٹرسشیلا رانی پٹیل

    برصغیرکی کلاسیکل گلوکارہ،اداکارہ ،صحافی، شاعرہ اوروکیل ڈاکٹرسشیلا رانی پٹیل

    ڈاکٹر سشیلا رانی پٹیل

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    برصغیر کی کلاسیکل گلوکارہ ، اداکارہ ، صحافی، شاعرہ اور وکیل ڈاکٹر سشیلا رانی پٹیل 20 اکتوبر 1918 کو بمبئی آنند رائو وکیل کے گھر میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک بہت پڑھی لکھی خاتون تھیں انہوں نے ایم ایس سی، ایل ایل ایم اور ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی ۔ سشیلا نے 7 سال کی عمر میں موسیقی کی تربیت حاصل کرنا شروع کر دیا۔

    1942 میں انہوں نے کلاسیکل گائیکی کا آغازکیا اوربعد ازاں انہوں نے School for music shiv sangeetanjali کی بنیاد رکھی۔ موسیقی کے اس اسکول میں ان کے کئی مشہور فنکار شاگرد پیدا ہوئے ڈاکٹر سشیلا نےکچھ عرصےبمبئی ہائیکورٹ میں وکالت کی جبکہ ڈاکٹر سشیلا نے متعدد فلموں میں اداکاری بھی کی جن میں فلم عالم آرا، خدا کی شان، یاد رہے اور سندیسہ وغیرہ شامل ہیں ۔

    موسیقی اور اداکاری میں فلم پروڈیوسر بابو رائو پٹیل نے ان کی بہت بڑی مدد کی اور بعد میں انہوں نے بابو رائو پٹیل سے شادی کی۔ شادی کے بعد بابوراؤ پٹیل اور ڈاکٹر سشیلا نے ایک فلمی رسالے ” Filmindia کا جاری کی جبکہ ڈاکٹر سشیلا مختلف اخبارات میں کالم بھی لکھتی رہیں اور شاعری بھی کرتی رہیں ۔ 24 جولائی 2014 بمبئی میں 96 برس کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ۔ ان کی وفات کے بعد ان کے قائم کردہ میوزک کو ” سشیلا بابو رائو پٹیل” کے نام سے منسوب کر دیا گیا ۔

  • غیر شرعی نکاح کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور

    غیر شرعی نکاح کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور

    اسلام باد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں غیر شرعی نکاح سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عمران خان کی حاضری سے استثنی کی درخواست پر اعتراض اٹھا دیا۔

    باغی ٹی وی:ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف غیر شرعی نکاح سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی دوران سماعت وکیل درخواست گزار رضوان عباسی نے کہا کہ سیکشن 91 کے تحت ملزم کا عدالت میں پیش ہونا لازمی ہے، حاضری کے بغیر ملزم کی کوئی درخواست نہیں سنا جاسکتی۔

    اسکردومیں لینڈ سلائیڈنگ: پہاڑی تودے میں دب کر تین افراد جاں بحق اور دو زخمی

    دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ابھی تک تو ملزم کی حاضری ہی ریگولرائز نہیں ہے، ایک شخص کیلئے قانون تبدیل نہیں کیاجا سکتا پی ٹی آئی کے وکیل نےعدالت کوبتایا کہ بشریٰ بی بی کیجانب سے وکالت نامہ آج جمع کرایا جائےگا جس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ وکالت نامہ بھی ملزم کی عدم موجودگی میں قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

    وکیل قتل کیس:9 اگست تک عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

    جج قدرت اللہ نے استفسار کیا کہ عمران خان کب تک پیش ہو سکتے ہیں؟جونئیر وکیل نے جواب دیا کہ عمران خان گیارہ بجے تک پیش ہو سکتے ہیں جس کے بعد کیس کی سماعت میں دن 11 بجے تک وقفہ کردیا گیا۔

    وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عمران خان جج قدرت اللہ کی عدالت میں پیش ہوگئے دوران سماعت وکیل شیر افضل مروت نے عدالت کو کہا کہ آپ ضمانتی مچلکوں کا حکم آج کریں تو ہم جمع کریں گے، کیس پر آج بھی دلائل دینے کو تیار ہوں، لیکن 26 کو جواب الجواب میں سن لیں۔

    وکیل شیر افضل نے کہا کہ ہم درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل دیں گے اس دوران بشریٰ بی بی کی جانب سے استثنا کی درخواست دائر کی گئی جج نے وکیل شیر افضل سے مکالمے میں کہا کہ عدالت نے آپ ہی کو سننا ہےعدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو حاضری لگانے کے بعد جانے کی اجازت دے دیتے ہوئے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی 30، 30 ہزار روپے کےمچلکوں کی عوض 26 جولائی تک ضمانت منظورکرلی۔

  • وکیل قتل کیس:9 اگست تک عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

    وکیل قتل کیس:9 اگست تک عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

    وکیل عبدالرزاق قتل کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی نامزدگی کے معاملے میں تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی گئی جبکہ وکیل عبدالرزاق شر قتل کیس میں سپریم کورٹ نے 9 اگست تک عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: کوئٹہ وکیل قتل کیس میں عمران خان کا نام مقدمے سے نکالنے کی درخواست پر سماعت آج ہو رہی ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کیس کی سماعت کر رہا ہے، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ کا حصہ ہیں۔

    چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان عدالت کی طلبی پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے،سپریم کورٹ نے عمران خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کر رکھا تھا، عدالت کا کہنا تھا کہ ریلیف لینے کیلئے درخواستگزار کو عدالت کے سامنے سرنڈرکرنا ہوگادوران سماعت سپریم کورٹ نے عمران خان کو ریلیف دیتے ہوئے انہیں 9 اگست تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا-

    اسکردومیں لینڈ سلائیڈنگ: پہاڑی تودے میں دب کر تین افراد جاں بحق اور دو زخمی

    پراسیکیوٹر جنرل بلوچستان نے قتل کیس سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی،رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ایف آئی آر کے مطابق مقتول نے چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف آرٹیکل 6 کا مقدمہ کررکھا تھا، چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف آرٹیکل 6 کی درخواست دینے پر مقتول کو دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔

    رپورٹ کے مطابق تحقیقات کے دوران 8 جون کو وزارت داخلہ کی جانب سے 7 رکنی جے آئی ٹی بنائی گئی، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کی سربراہی میں جے آئی ٹی کے اب تک 8 اجلاس ہو چکے ہیں، مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی سمیت 4 ملزمان کو شامل تفتیش کرنےکا فیصلہ کیا گیا،جے آئی ٹی کے پہلے اجلاس میں ملزمان کو بلانےکا فیصلہ کیا گیا، 19 جون کو چیئرمین پی ٹی آئی کو طلبی کےنوٹسزبھیجے گئے۔

    ملک بھر میں بارشوں کے باعث دریاؤں اور نالوں میں طغیانی،سیکڑوں مکانات تباہ

    رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ مقتول کی اہلیہ اور دو بھائیوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جاچکے ہیں، اب تک چیئرمین پی ٹی آئی شامل تفتیش نہیں ہوئے، متعدد بار نوٹس بھیجنے کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی اب تک شامل تفتیش نہیں ہوئے،کیس میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • اسکردومیں لینڈ سلائیڈنگ: پہاڑی تودے میں دب کر تین افراد جاں بحق اور دو زخمی

    اسکردومیں لینڈ سلائیڈنگ: پہاڑی تودے میں دب کر تین افراد جاں بحق اور دو زخمی

    بارشوں کے باعث اسکردو کے قریب لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں پہاڑی تودے میں دب کر تین افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: ریسکیو حکام کےمطابق مرنے والوں میں ماں اور بچے شامل ہیں، بچوں کے باپ کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جب کہ کافی دیر پہاڑی ٹکڑے کے نیچے دبے رہنے والے شخص کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔
    https://twitter.com/yasmeen_9/status/1683176838946758656?s=20
    اسکردو میں کئی روز سے بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جب کہ چلاس شہر اور دیامر میں سیلابی صورتِ حال ہے،اس کے علاوہ ملک بھر میں گزشتہ روز بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں 13 افراد جاں بحق ہوئے

    ادھر حالیہ مون سون بارشوں سے بلوچستان میں جانی و مالی نقصانات ہوئے، آواران ، قلعہ سیف اللہ ، ژوب اور خضدار میں مختلف واقعات میں 6 اموات ہوئیں جب کہ 4 مکانات مکمل تباہ ہوئے، مویشی بھی سیلابی ریلوں میں بہہ گئے-

    ملک بھر میں بارشوں کے باعث دریاؤں اور نالوں میں طغیانی،سیکڑوں مکانات تباہ

    بسیمہ اور نواحی علاقے پتک میں بارشوں اور ریلوں نے تباہی مچا دی ہے ، سیلابی ریلے شہری آبادی میں داخل ہوگئے جس کی وجہ سے متعدد گھر ، دکانیں اور ہوٹل گِر گئے،اس کے علاوہ بارش سے نشیبی علاقوں میں تیار فصلیں برباد ہوگئيں،سیلابی ریلہ باغات کے ساتھ ساتھ مساجد اور مدرسے میں بھی داخل ہو گیا۔ شیرینزہ میں بھی کئی بند ٹوٹ گئے آواران کے علاقوں میں بارش کے بعد مقامی ندی میں پانی کا بہاؤ تيز ہوگيا،حفاظتی بند ٹوٹنے کا بھی خدشہ ہے۔

    صوبہ سندھ میں جیکب آباد، شکار پور اور گردو نواح میں موسلادھار بارش ہوئی، اس کے علاوہ کراچی میں گزشتہ روز وقفے وفقے سے کہیں ہلکی بارش ہوئی تو کہیں صرف بوندا باندی ہوئی۔

    بھیک مانگنے والی خاتون سے 10 روز تک اجتماعی زیادتی کرنیوالے 3 ملزمان گرفتار

  • بھیک مانگنے والی خاتون سے 10 روز تک اجتماعی زیادتی کرنیوالے 3 ملزمان گرفتار

    بھیک مانگنے والی خاتون سے 10 روز تک اجتماعی زیادتی کرنیوالے 3 ملزمان گرفتار

    لودھراں میں بھیک مانگنے والی خاتون سے 10 روز تک اجتماعی زیادتی کرنے والے 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی: متاثرہ خاتون کے شوہر کے مطابق اس کی بیوی لوگوں کے گھروں میں آٹا اور بھیک مانگتی تھی ، 12 جولائی کو اس کی بیوی کو 5 افراد نے اغوا کیا ، نامعلوم مقام پر لے گئے اور 10 روز تک قید میں رکھا جہاں انہوں نے اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    شوہر کے مطابق 10 روز بعد بیوی موقع پا کر ملزمان کے چنگل سے بھاگ نکلی،ابتدائی طبی معائنے میں خاتون سے زیادتی ثابت ہوگئی ہے پولیس کا کہنا ہے متاثرہ خاتون کا میڈیکل کرایا ہے ، رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

    10 سالہ معذوربچی سے جنسی زیادتی کے الزام میں سگا تایا گرفتار

    قبل ازیں قوت گویائی سے محروم 10 سالہ بچی سے زیادتی کے الزام میں متاثرہ بچی کے تایا کو گرفتار کرلیا گیا راولپنڈی کے تھانہ صادق آباد کی حدود میں پیش آنے والے واقعے پر صادق آباد پولیس نے متاثرہ بچی کے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کر لیا پولیس کے مطابق سگے تایا نے قوت گویائی سے محروم 10 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا سفاک درندہ صفت ملزم خالد محمود متاثرہ 10 سالہ بچی کا سگا تایا ہےملزم کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔

    آگ لگنے سے 18 سوڈانیوں سمیت 22 افراد زخمی

    دوسری جانب سرگودھا پولیس نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال سے نومولود کو اغوا کرنے والی خاتون سمیت دو خواتین کو گرفتار کرلیاپریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی پی او سرگودھا کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمہ نے 6 روز قبل ڈی ایچ کیو اسپتال سے نومولود کو اغوا کیا تھا جسے بازیاب کرالیا گیا ملزمہ کی دوسری شادی تھی اس نے اولاد نہ ہونے پر نومولود کو اغوا کیا-

    ایس ایچ او اورساتھی افسر بھتہ وصول کرنے کے الزام میں رنگے ہاتھوں گرفتار

  • ملک بھر میں بارشوں کے باعث دریاؤں اور نالوں میں طغیانی،سیکڑوں مکانات تباہ

    ملک بھر میں بارشوں کے باعث دریاؤں اور نالوں میں طغیانی،سیکڑوں مکانات تباہ

    کراچی ،کشمیر، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں ہونے والی بارشوں کے باعث دریاؤں اور نالوں میں طغیانی آگئی ہے، جس سے سیکڑوں مکانات تباہ ہوگئے جبکہ 24 گھنٹوں میں ہونے والے مختلف حادثات میں 3 بچوں سمیت 9 جاں بحق اور 17 افراد زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : کراچی کے مختلف علاقوں میں رات گئے اور گزشتہ روز تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش سے سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی، گلستان جوہر، گلشن اقبال، ملیر، لانڈھی اور شاہ فیصل سمیت مختلف علاقوں میں برسات ہوئی، جس سے گرمی اور حبس کا زور ٹوٹ گیا بارش کے دوران بلدیہ اتحاد ٹاؤن میں گھر کی دیوار گرنے سے بچہ جاں بحق اور ماں شدید زخمی ہوگئی۔

    سندھ کے مختلف علاقوں میں بھی رات گئے بارش ہوئی سکھر، لاڑکانہ اور جیکب آباد میں موسلا دھار بارش سے جل تھل ایک ہوگیا اور متعدد فیڈرز ٹرپ کرگئے بارش سے کھجور کی فصل کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

    سعودیہ عرب کا انسانی اسمگلنگ کیخلاف اقدامات پر زور

    بلوچستان میں بھی بارشوں نے تباہی مچادی، مختلف واقعات میں 6 افراد جاں بحق اور 13 زخمی ہوگئےبلوچستان کے شہروں میں طوفانی بارشوں کے پیشِ نظر سیلابی صورتِ حال ہے-

    رپورٹس کے مطابق بسیمہ اور نواحی علاقے پتک میں بارشوں اور ریلوں نے تباہی مچا دی ہے ، سیلابی ریلے شہری آبادی میں داخل ہوگئے جس کی وجہ سے متعدد گھر ، دکانیں اور ہوٹل گِر گئے،اس کے علاوہ بارش سے نشیبی علاقوں میں تیار فصلیں برباد ہوگئيں،سیلابی ریلہ باغات کے ساتھ ساتھ مساجد اور مدرسے میں بھی داخل ہو گیا۔ شیرینزہ میں بھی کئی بند ٹوٹ گئے آواران کے علاقوں میں بارش کے بعد مقامی ندی میں پانی کا بہاؤ تيز ہوگيا،حفاظتی بند ٹوٹنے کا بھی خدشہ ہے۔

    کلاؤڈ برسٹ،گلئیشرز کے پگھلنے اور بارشوں نے کشمیر،خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں سیلابی صورتحال پیدا کر دی طوفانی بارشوں سے دریاؤں میں شدید طغیانی آگئی ہے، آزاد کشمیر کی وادی نیلم کے نالہ تہجیاں میں سیلابی ریلے سے ایک مسجد سمیت چار مکانات پانی میں بہہ گئے، علاقے میں بجلی اور انٹرنیٹ کی سروسز شدید متاثر ہے۔

    محسن نقوی نےغفلت برتنے پر ایم ایس سروسز اسپتال کو عہدے سے ہٹا دیا

    گزشتہ روز سوات کی تحصیل بحرین کے علاقہ مدین کوز کلے گٹ میں مکان پر پہاڑی تودہ گرنے سے دو بچے جاں بحق اور تین افراد زخمی ہوگئے۔ ریسکیو اور مقامی لوگوں نے لاشوں کو نکال لیا۔

    مظفرآباد میں مون سون کی طوفانی بارشوں کا سلسلہ تھم گیا ہے، تاہم بارشوں سے دریائے نیلم اور دریائے جہلم میں پانی کی سطح بلند ہوگئی ہے وادی نیلم میں دودنیال نالہ میں طغیانی نے تباہی مچادی، طغیانی سے گیارہ مکانات تباہ ہوگئے اور چھ کو جزوی نقصان پہنچا دریائے غذر میں بھی طغیانی سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے، حفاظتی پشتے ٹوٹنے سے سیلابی پانی آبادی کی طرف مُڑ گیا سیلابی ریلہ گاؤں اور بازار وں میں داخل ہو گیا –

    بھارتی آبی جارحیت سے دریائے راوی میں ہیڈبلوکی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہےپروونشل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے دریائے راوی پر عام شہریوں کی آمد پر پابندی لگا رکھی ہے۔

    امریکہ انتخابات منعقد کرانے کے فیصلہ کو خوش آئند قرار دے دیا

  • وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی، سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار تبدیل

    وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی، سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار تبدیل

    کوئٹہ میں قتل ہوئے وکیل عبدالرزاق شر کے مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پرسماعت کرنے کے لیے تشکیل کردہ پہلا بینچ بحال کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : کوئٹہ میں قتل ہوئے وکیل عبدالرزاق شر کے مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی کے خلاف کیس میں سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار تبدیل کر دیا گیا چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پرسماعت کرنے کے لیے تشکیل کردہ پہلا بینچ بحال کر دیا گیا۔

    سپریم کورٹ سے جاری نئی کاز لسٹ کے مطابق جسٹس مسرت ہلالی 3 رکنی بینچ کا حصہ ہوں گی ، جمعہ کو جاری کاز لسٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کرنے والا بینچ تبدیل کرتے ہوئے جسٹس مسرت ہلالی کی جگہ جسٹس محمد علی مظہر کو شامل کیا گیا تھا جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کل کیس کی سماعت کرے گا ، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی 3 رکنی بینچ کا حصہ ہیں-

    وزیراعظم کا صحت کےحوالے سے آگاہی مہم شروع کرنے کا اعلان

    سپریم کورٹ نے وکیل قتل کیس میں ضمانت کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی کو ذاتی حیثیت میں بلایا ہے۔

    واضح رہے کہ چند ہفتے پہلے کوئٹہ میں ائر پورٹ روڈ پر عالمو چوک کے قریب فائرنگ سے سپریم کورٹ کے وکیل عبدالرزاق شر جاں بحق ہوگئے تھےوہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سنگین غداری کیس کے درخواست گزار تھےجس کے بعد 7 جون 2023 کو سنگین غداری کیس کے پٹیشنر اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل عبدالرزاق شر کے قتل کا مقدمہ کوئٹہ میں پی ٹی آئی چئیرمین کیخلاف درج کیا گیا تھا۔

    نگران وزیراعظم کے لئے اسحاق ڈار کے نام پر غور

    مقدمہ مقتول وکیل کے بیٹے کی مدعیت میں شہید جمیل کاکڑ تھانہ میں درج کیا گیا تھا پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف جمیل شہید پولیس تھانے میں زیر تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 109، 34 اور انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 6 اور 7 کے تحت درج کیا گیا تھا۔

    اس سے قبل 15 جون کو وکیل ایڈووکیٹ عبدالرزاق شر قتل کیس میں کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی عدالت (ون) نے چیئرمین تحریک انصاف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، جبکہ تحریک انصاف کے وکلاء نے وان ارنٹ گرفتاری بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا تھا 21 جون کو لاہور ہائیکورٹ نے کوئٹہ میں وکیل کے قتل کے مقدمے میں سابق وزیراعظم عمران خان کی 3 جولائی تک حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔

    اگر مندر تشدد کا سبب بنیں تو انہیں بند کر دینا بہتر ہے،بھارتی عدالت

  • بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر

    بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر

    صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر 23 جولائی 1966 کو لاہور میں پیدا ہوئے حامد میر، بین الاقوانی شہرت یافتہ پاکستانی صحافی اور مدیر ہیں روزنامہ جنگ میں اپنے اردو مضامین اور جیو نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام کیپیٹل ٹاک (Capital Talk) کی وجہ سے مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ بھی پاکستان میں آزادیِ صحافت کے لیے ان کی بڑی جدوجہد اور کاوشیں ہیں۔ ان کے والد پروفیسر وارث میر بھی بہت بڑے اور بااصول صحافی اور دانشور تھے۔

    تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    حامد میر نے 1989ء میں ابلاغ عامہ (Mass Communication) میں جامعہ پنجاب لاہور سے ماسٹرز کی سند حاصل کی۔

    صحافتی سفر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    حامد میر 1987ء میں مدیر کی حیثیت سے روزنامہ جنگ لاہور سے منسلک ہوئے اور نامہ نگاری اور اشاعت کے شعبوں سے منسلک رہے۔ 1994ء میں آبدوز کیس مر روزنامہ جنگ میں ایک مکالمہ لکھا۔ اس مکالمہ کے چھپتے ہی انھیں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔
    1996ء میں روزنامہ پاکستان اسلام آباد کے مدیر اعلیٰ بنے اور پاکستانی صحافت کے سب سے کم عمر مدیر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ 1997ء میں ایک بار پھر انہیں پاکستانی وزیر اعظم پر بد عنوانی پر روزنامہ پاکستان پر مکالمہ لکھنے پر اپنے منصب سے سبکدوش ہونا پڑا۔ 1997ء میں روزنامہ اوصاف اسلام آباد کے بانی مدیر بنے۔

    حامد میر نے دس دن مشرقی افغانستان میں گزارے اور دسمبر 2001ء میں تورا بورا کی پہاڑیوں سے اسامہ بن لادن کے فرار کی تحقیق کی اور 2002ء میں جیو ٹیلی ویژن میں شمالی علاقہ کے مدیر کی نوکری اختیار کی۔ نومبر 2002ء سے سیاسی گفتگو کے بر نامہ کیپیٹل ٹالک کی میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آج کل وہ اسامہ بن لادن کی سوانح حیات پر کام کر رہے ہیں اور روزنامہ جنگ اور دی نیوز(انگریزی: The News) میں ہفت روزہ کالم لکھتے ہیں۔

    قاتلانہ حملہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    19 اپریل 2014ء کو حامد میر نے ڈرون حملوں کے خلاف ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے کراچی کا دورہ کیا۔ کراچی ہوائی اڈے سے جیو کے دفتر جاتے ہوئے راستے میں ناتھا پل کے قریب ان پر مسلح افراد نے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں حامد میر کو چھ گولیاں لگیں۔ ہسپتال سے خبر کے مطابق اب ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ (اور اب ایک بار پھر عیدالفطر کے بعد حامد میر نے جیو۔ ٹی۔ وی اپنا۔ پروگرام (کیپٹیل ٹاک دوبارہ شروع کر کے یہ ثابت کیا کہ پاکستان میں صحافت اگر کرنی ہو تو اس کے لیے بہت بڑا دل اور ہمت چاہیے۔

    قابل قدر مکالمے
    ۔۔۔۔۔۔
    اور انعامات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ 2000ء سے 2002ء تک فرائڈے ٹائمز (Friday Times) اور 2002ء سے 2003ء تک دی انڈیپنڈنٹ (The independent) میں ہفت روزہ کالم لکھتے رہے-

    ۔ بھارتی اخبارات ٹائمز آف انڈیا (Times of India)، آؤٹ لک (Outlook)، دہلی، دی ویک (The Week)، انڈیا، دینک بھاسکر اور Rediff.com میں بھی کالم لکھے-

    ۔ 1996،1997،1998ء میں کل جماعتی اخباراتِ پاکستان (All Pakistan Newspaper Society) کی طرف سے بہترین کالم نویس کا اعزاز حاصل کیا-

    ۔ مارچ 2005ء جودھپور میں صحافت میں امتیازی کارکردگی پر ”ٹرسٹ برائے تعلیماتِ وسیط“ کی جانب سے مہاشری سمان اعزاز
    ۔ وزارت ترقی نسواں، حکومتِ پاکستان کی جانب سے عورتوں کے حقوق کے لیے لکھنے اور بولنے پر اگست 2005ء میں فاطمہ جناح طلائی تمغا حاصل کیا-

    ۔ 1994ء میں روزنامہ جنگ کے لیے اسرائیلی وزیر خارجہ شیمون پیریس سے سوئٹزرلینڈ میں ملاقات کی-

    ۔ 1997 میں روزنامہ پاکستان کے لیے اور 1998ء میں روزنامہ اوصاف کے لیے اسامہ بن لادن سے مکالمےاور 2001ء میں روزنامہ ڈان کےلیےگفتگو کی۔ آخری ملاقات 9/11 کے بعد کسی بھی صحافی کی ان سےپہلی ملاقات تھی بی بی سی اور سی این این نےاسے بین الاقوامی دھماکا قرار دیا۔ ماہنامہ ہیرالڈ نے اس ملاقات کو اپنے دسمبر 2001 کے شمارے میں سال کا سب سے بڑا دھماکا قرار دیا-

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    حامد میر نے ذو الفقار علی بھٹو کے سیاسی فلسفہ پر ایک کتاب بھی لکھی ہے جو 1990ء میں طبع ہوئی بھٹو کی سیاسی پیش گوئیاں اور چوتھا مارشل لا جمہوری پبلیکیشنز لاہور

    کارہائے نمایاں:30 برس کی عمر میں ایڈیٹر مقرر ہوئے اسامہ بن لادن سے تین مرتبہ مکالمہ کیا،فلسطین، عراق، افغانستان، لبنان، چیچنیا، بوسنیا اورسری لنکا کی جنگوں کا احاطہ کیا-

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    ہلال امتیاز
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وکیپیڈیا سے ماخوذ
    ترتیب و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • کسی صورت تو ظاہر ہو مری رنجش مرا غصہ

    کسی صورت تو ظاہر ہو مری رنجش مرا غصہ

    میں اکثر مرچ سالن میں زیادہ ڈال دیتی ہوں
    کسی صورت تو ظاہر ہو مری رنجش مرا غصہ

    شازیہ نیازی بہار شریف، شیخ پورہ میں 23 جولائی 1990 بی اے تک تعلیم حاصل کی انہوں نے 2016 سے شاعری کا آغاز کیا ادبی نام تسلیم نیازی استعمال کیا ان کی تصنیفات میں شعری مجموعہ 2020 میں لفظوں کی سازش چھپا ،تسلیم نیازی، بشیر بدر، پروین شاکر اور تہذیب حافی ان کے پسندیدہ شاعر ہیں ،سرکاری انعامات و اعزازات: ۔Eastern Railway، ۔Asansol Division، ۔Kavyanga،۔15/8/2018

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بس ایک بار کہا نا نہیں بنا سکتی
    میں روز روز بہانا نہیں بنا سکتی
    ترا خیال مری روٹیاں جلاتا ہے
    میں اطمینان سے کھانا نہیں بنا سکتی
    ضرور وہ کسی آسیب کی گرفت میں ہے
    میں اس قدر تو دِیوانہ نہیں بنا سکتی
    سبھی کی تنگ خیالی نے گھر کو بانٹ دیا
    اکیلی سوچ گھرانا نہیں بنا سکتی
    نئے نئے سے یہ انداز چبھ رہے ہیں مگر
    میں تم کو پھر سے پرانا نہیں بنا سکتی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ہمیشہ دھیان میں رکھیو، بڑی کرسی بڑا غصہ
    کہیں مہنگا نہ پڑجائے ہمیں سرکار کا غصہ
    میں اکثر مرچ سالن میں زیادہ ڈال دیتی ہوں
    کسی صورت تو ظاہر ہو مری رنجش مرا غصہ
    چلو اب مان بھی لو تم، تمھیں ذہنی مسائل ہیں
    ذرا سی بات پر کرتے ہو تم اچھا بھلا غصہ
    مری ہر ڈانٹ پر بچے جواباً مسکراتے ہیں
    بس اک مسکان سے اڑ جاتا ہے بن کر ہوا غصہ
    تری خفگی کے سارے ذائقوں کا علم ہے مجھ کو
    کبھی ہے نیم سا کڑوا کبھی ہے چٹپٹا غصہ
    زمانے، میری من مانی پہ کیوں آنکھیں دکھاتا ہے
    بہت دیکھے ترے جیسے تونگر، چل ہٹا غصہ

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کیسا جنون عشق کے دفتر میں آگیا
    سب فائلیں سمیٹ کے دل گھر میں آگیا
    اک درد بچ گیا تھا جو سہنے کے واسطے
    احساس میرا راہ کے پتھر میں آگیا
    تلخی تمھاری ذات کی مشہور ہوگئی
    مہندی کا رنگ چھوٹ کے چادر میں آگیا
    اس کی ہتھیلیوں سے بھی راحت نہیں ملی
    یہ کس طرح کا درد مرے سر میں آگیا
    مجھ کو ملا تھا باغ میں اک بولتا گلاب
    ہونٹوں سے جب لگایا تو پیکر میں آگیا
    پھر آج اک پرندہ ترا شہر چھوڑ کر
    دستک دیے بغیر مرے گھر میں آگیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بےاجازت تو بس آتی ہے ہوا کمرے میں
    کون رہتاہے ترے ساتھ بتا کمرے میں
    روز آتی ہے دبے پاؤں کسی کی خوشبو
    چھوڑ جاتی ہے کوئی نام پتا کمرے میں
    اپنے حالات بتائیں تو بتائیں کس کو
    ایک کُرتا ہے ترے بعد ٹنگا کمرے میں
    ہر نئی بات پہ جی بھر کے تماشا کرنا
    یہ فرائض تو وہ کرتے ہیں ادا کمرے میں
    مجھ سے تُو میری اداسی کا سبب پوچھتاہے
    جا کبھی تو مری تصویر لگا کمرے میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ہر ایک جلوہ نمائی سے جھوٹ بولتے ہیں
    ہم اپنے دستِ حنائی سے جھوٹ بولتے ہیں
    کسی سوال کی ہوتی نہیں ہے گنجائش
    کہ آپ ایسی صفائی سے جھوٹ بولتے ہیں
    دہائی دیتے ہیں کیوں مذہبی نظام کی آپ
    یہاں ہم اپنے ہی بھائی سے جھوٹ بولتے ہیں
    یقیں کو وار کے مایوسیوں کی راہوں میں
    کبھی کبھار خدائی سے جھوٹ بولتے ہیں
    ذرا سی بات پہ آنچل بھگونے لگتی ہے
    یہی سبب ہے کہ مائی سے جھوٹ بولتے ہیںی

  • اگر مندر تشدد کا سبب بنیں تو انہیں بند کر دینا بہتر ہے،بھارتی عدالت

    اگر مندر تشدد کا سبب بنیں تو انہیں بند کر دینا بہتر ہے،بھارتی عدالت

    بھارتی ریاست مدراس کی اعلیٰ عدالت کا کہنا ہے کہ اگر مندر تشدد کا سبب بنیں تو انہیں بند کر دینا بہتر ہے۔

    باغی ٹی وی : مدراس ہائی کورٹ کے جج جسٹس آنند وینکٹیش نے جمعہ کو ایک مندر کے تہوار پر دو گروہوں کے درمیان جھگڑے کے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئےکہ مذہبی گروہ مندروں کے تہواروں کو اپنی طاقت اور اثر دکھانے کا موقع سمجھتے ہیں ان تہواروں کے انعقاد میں کوئی عقیدت شامل نہیں ہے بلکہ یہ ایک یا دوسرے گروہ کی طاقت کا مظاہرہ بن گیا ہے-

    بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت نے تمل ناڈو کے مائیلادوتھرائی شہر میں شری روتھرا مہا کلیممان الائم مندر میں ایک تہوار کے انعقاد کے لیے پولیس تحفظ کی درخواست کو مسترد کر دیا اپنی درخواست میں مندر کے موروثی ٹرسٹی ہونے کا دعویٰ کرنے والے درخواست گزارکے تھنگراسو نے استدعا کی تھی کہ اتوار سے شروع ہونے والے تہوار کے لیے پولیس کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے، کیونکہ ناخوشگوار واقعات کے خدشات ہیں۔

    بنگلادیش میں مسافروں سے بھری بس تالاب میں گر گئی، تین بچوں سمیت 17 افراد …

    اپنے فیصلے میں، عدالت نے کہا کہ پولیس کے پاس زیادہ اہم کام ہیں، اور ان کا وقت اور توانائی کسی مندر میں حریف گروپوں کے درمیان تنازعات کو حل کرنے میں نہیں لگائی جانی چاہیے اگر مندر تشدد کو دوام بخشنے والے ہیں تو مندروں کے وجود کا کوئی مطلب نہیں ہوگا اور ایسے تمام معاملات میں ان مندروں کو بند کرنا بہتر ہوگا تاکہ تشدد کو روکا جاسکے، اس نوعیت کے تنازعات میں ریونیو اور پولیس افسران کا قیمتی وقت ضائع نہیں کیا جا سکتا-

    عدالت نے پولیس کو یہ بھی ہدایت کی کہ امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کی صورت میں ضروری کارروائی کی جائے۔

    جسٹس وینکٹیش نے نشاندہی کی کہ ان کے سامنے موجودہ رٹ پٹیشن تھنگاراسو عرف کے تھنگراج نے دائر کی تھی جس میں سرکلی تالوک میں سری روتھا مہا کلیممان الائم کے موروثی ٹرسٹی ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر اے دامودرن نے عدالت کو بتایا کہ مندر کے اندر ونیاگر مورتی رکھنے پر دو گروپوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔

    پی ٹی آئی کے رہنما ساتھیوں سمیت ن لیگ میں شامل

    تحصیلدار نے تحقیقات کی تھی اور حکم دیا تھا کہ کوئی بھی شخص ونایاگر کی مورتی کو مندر کے اندر نہ رکھے کیونکہ اس سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے اور اسی لیے عرضی گزار نے پولیس تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ اے پی پی کی جمع کرانے کے بعد، جج نے مندر کے تہوار کے لئے پولیس کی حفاظت کا حکم دینے سے انکار کر دیا.

    دریں اثنا، تمل ناڈو حکومت نے عدالت کو بتایا تھا کہ دو حریف گروپ اس بات پر جھگڑے میں مصروف ہیں کہ تہوار کے دوران مندر کے اندر مورتی رکھنے کا حق کس کو ہے ایک امن کمیٹی کی جانب سے تنازعہ کو حل کرنے میں ناکامی کے بعد، ریاستی حکومت نے عدالت میں عرض کیا کہ تہوار کے انعقاد سے امن و امان کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں اور کسی بھی گروپ کو مورتی رکھنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔

    وزیراعظم کا صحت کےحوالے سے آگاہی مہم شروع کرنے کا اعلان