Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • دبئی میں ہونےوالی مشاورت میں پی ڈی ایم کےسربراہ کو کیوں دوررکھا گیا؟ حافظ حمداللہ

    دبئی میں ہونےوالی مشاورت میں پی ڈی ایم کےسربراہ کو کیوں دوررکھا گیا؟ حافظ حمداللہ

    اسلام آباد: اپاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے ترجمان حافظ حمد اللہ کا کہنا ہے کہ دبئی میں ہونے والی مشاورت میں پی ڈی ایم کے سربراہ کو کیوں دور رکھا گیا؟انہیں کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے؟-

    باغی ٹی وی: ترجمان پی ڈی ایم حافظ حمد اللہ نے کہا کہ آئینی طور پر الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہونے چاہئیں، اسمبلیوں کی مدت 12 اور 13 اگست کو ختم ہوگی، اسمبلی وقت سے پہلے توڑ دی جاتی ہے تو الیکشن 90 روز کے اندر ہوگا، اگر اسمبلی وقت پر ختم ہوتی ہے تو 60 روز کے اندر الیکشن ہوگا الیکشن کرانا پی ڈی ایم کی نہیں، الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، ہم مقررہ وقت پر الیکشن چاہتے ہیں ہر جماعت علیحدہ علیحدہ الیکشن لڑےگی، البتہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پشاور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ مسلم لیگ ن پی ڈی ایم کا حصہ ہے، دبئی میں پیپلز پارٹی کی قیادت سے ہونے والی ملاقات پر اعتماد میں نہیں لیاگیا، اتنا بڑا قدم اٹھانے پر ہم سے مشاورت نہیں کی گئی، یہ سوال میرے ذہن میں ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کے شکوے، وزیر اعظم سے ملاقات

    بعد ازاں گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملاقات کی جس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی، جبکہ ملاقات میں ملکی موجودہ سیاسی صورتحال اوراتحادی امورپربات چیت پر وزیراعظم مولانا فضل الرحمان کو موجودہ صورتحال پراعتماد میں لیں گے۔

    اس ملاقات میں دبئی مذاکرات ، آئندہ عام انتخابات اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت ہوئی ،سربراہ پی ڈی ایم نےمستقبل کے سیاسی لائحہ عمل پر مشاورت نہ کرنے کےگلے شکوے کئے وزیر اعظم شہباز شریف نے پی ڈی ایم سربراہ اور جمعیت علماا سلام کے سربراہ کو میاں نواز شریف کا پیغام بھی پہنچایا، وزیر اعظم نے مولانا فضل الرحمان کو ، دبئی میں میاں نواز شریف کی ملاقاتوں پر بریف کیا ۔ اور یقین دہانی کرائی کہ نگران سیٹ اپ اور عام انتخابات کےحوالے سے فیصلے مشاورت سےکئےجائیں گے۔

    وزیر اعظم کا عمران خان کو جواب

  • پی ٹی آئی رہنما نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیارکرلی

    پی ٹی آئی رہنما نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیارکرلی

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کے رہنما انجینئر ایم عمیر نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کر لیا-

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کے رہنما انجینئر ایم عمیر نے اسلام آباد پاکستان پیپلز پارٹی سینٹرل سیکرٹریٹ میں سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری سے ملاقات کی اور پیپلزپارٹی میں باقاعدہ شمولیت کا فیصلہ کیا۔

    اس موقع پر سید نیئر حسین بخاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک وفاقی جماعت ہے جس نے ہمیشہ آئین قانون اور سول سپریمیسی کے حصول اور جمہوریت کے استحکام کیلئے جانوں کے نذرانے اور جہد مسلسل میں زندگیاں قربان کی ہیں پیپلز پارٹی عوامی جماعت ہے اور اس کے دروازے تمام جمہوریت پسند لوگوں کیلئے ہمیشہ کھلے ہیں،انجینئر ایم عمیر کا کہنا تھا کہ میں جمہوری روایات اور جمہوریت پسند پارٹی پیپلز پارٹی کا حصہ بن رہاہوں جو میرے لیے سعادت ہے۔

    نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی عوامی جماعت ہے جو اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی نہیں رکھتی بلکہ آئین کی بالادستی اور تمام اداروں کو آئینی حدود میں کام کرنے پر یقین رکھتی ہے،اس موقع پر انچارج سینٹرل سیکرٹریٹ سید سبط الحیدر بخاری بھی موجود تھےصدر آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن کےتعاون سے جمہوری نظام کے تسلسل کو یقینی بنایا ماورائے آئین و قانون اقدامات کے مجرمین کو آئینی ہتھیار عدم اعتماد کے ذریعے نکالا ۔

    دریائے ستلج میں بھی بھارت نے پانی چھوڑ دیا،روای میں مزید پانی چھوڑے جانے کا …

    اس موقع پر انجینئر ایم عمیر نے کہا کہ میں جمہوری روایات اور جمہوریت پسند پارٹی پیپلز پارٹی کا حصہ بن رہاہوں جو میرے لیے فخر کا باعث ہے پیپلزپارٹی عوامی جماعت ہے جو آئین کی بالادستی اور اداروں کے آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے پریقین رکھتی ہے۔

    نیئر بخاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کارکردگی کی بنیاد پر انتخابات میں اپنے نشان منشور پروگرام پر حصہ لے گی ،پیپلز پارٹی عوامی جماعت ہے اوراس کے دروازے تمام جمہوریت پسند لوگوں کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔

    300 کنال قیمتی اراضی جعلسازی سےاپنےنام ٹرانسفرکروانےکا الزام،عمران خان کی بہن کےخلاف مقدمہ درج

    ادھر ضلع بہاولنگر کے حلقہ پی پی 237 سےپی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر نواب سلمان خان گدھوکا وٹو نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا۔ ایک ویڈیو بیان میں نواب سلمان خان گدھوکا وٹو نے پی ٹی آئی سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 9 مئی کے پرتشدد واقعات کی بنا پر پارٹی چھوڑ رہا ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ پرتشدد سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا پارٹی سے لاتعلقی کا اعلان کرتا ہوں، مشتعل ہجوم نے ہماری قومی اور فوجی املاک کاجلاؤ گھیراؤ کیاسلمان گدھوکا کاکہنا تھا کہ جب تک ہمارے ادارے مضبوط نہیں ہوتے ملک کیسے مضبوط ہوگا،موجودہ ملکی حالات کے پیش پی ٹی آئی کو خیرآباد کہتا ہوں، افواج پاکستان ہماری ہیں اور ہم ان کے ساتھ ہیں۔

    پاکستان کو اپنا مسئلہ خود حل کرنا چاہیے،افغان طالبان

  • 300 کنال قیمتی اراضی جعلسازی سےاپنےنام ٹرانسفرکروانےکا الزام،عمران خان کی بہن کےخلاف مقدمہ درج

    300 کنال قیمتی اراضی جعلسازی سےاپنےنام ٹرانسفرکروانےکا الزام،عمران خان کی بہن کےخلاف مقدمہ درج

    اینٹی کرپشن فیصل آباد نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بہن عظمیٰ خان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

    باغی ٹی وی : اینٹی کرپشن فیصل آباد نے اٹھارہ ہزاری میں 300 کنال قیمتی اراضی جعلسازی سے اپنے نام ٹرانسفر کروانے کے الزام میں چیئرمین پی ٹی آئی کی بہن عظمیٰ خان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    اینٹی کرپشن کے مطابق سابق وزیراعظم اور چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے چک نمبر 7/2 تھل جنوبی، اور چک نمبر 11/2 تھل جنوبی میں دھوکہ دہی اور جعلسازی سے رقبہ اپنے نام کروایا عظمیٰ خان کے علاوہ تحصیلدار، نائب تحصیل دار، پٹواری، اراضی ریکارڈ سینٹر کے عملہ سمیت 9 افراد ایف آئی آر میں ملزم نامزد ہیں –

    اینٹی کرپشن پولیس نے نائب تحصیلدار اور پٹواری کو بھی گرفتار کر لیا ۔

    دریائے ستلج میں بھی بھارت نے پانی چھوڑ دیا،روای میں مزید پانی چھوڑے جانے کا …

    قبل ازیں اینٹی کرپشن پنجاب نے لیہ اراضی کرپشن اسکینڈل میں سابق وزیر اعظم ، بہن اور بہنوئی کو طلب کرلیا ترجمان اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ لیہ اراضی کرپشن اسکینڈل میں چیئرمین پی ٹی آئی کو 19 جون کو دوبارہ ہیڈ کوارٹرز طلب کیا گیا ہے،علاوہ ازیں سابق وزیراعظم کی بہن عظمیٰ خان اور بہنوئی احد مجید کو بھی اینٹی کرپشن ڈی جی خان میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اینٹی کرپشن نے طلبی کا نوٹس زمان پارک کی رہائش گاہ پر چسپاں کر دیا۔

    پاکستان کو اپنا مسئلہ خود حل کرنا چاہیے،افغان طالبان

    اینٹی کرپشن حکام کا کہنا تھا کہ عظمیٰ خان اور ان کے شوہر پر لیہہ میں 5162 کنال زمین کی غیرقانونی طور پر حاصل کرنے کا مقدمہ درج ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کو کیس میں 16 جون کو طلب کیا گیا تھا تاہم وہ پیش نہیں ہوئے تھے، ٹیم نے طلبی کے دوسرے نوٹس کی زمان پارک میں تعمیل کروائی اور اسے دیوار پر چسپاں بھی کردیا۔

    تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو ، اب تجھے میں یاد آنا چاہتا …

  • دریائے ستلج میں بھی بھارت نے پانی چھوڑ دیا،روای میں مزید پانی چھوڑے جانے کا امکان

    دریائے ستلج میں بھی بھارت نے پانی چھوڑ دیا،روای میں مزید پانی چھوڑے جانے کا امکان

    دریائے ستلج میں بھی بھارت نے پانی چھوڑ دیا ہے، راوی میں بھی مزید پانی چھوڑے جانے کے امکانات ہیں۔

    باغی ٹی وی : بھارت نے ہریکے کے مقام سے 70614 کیوسک پانی دریائے ستلج میں چھوڑا ہے، جو آج ضلع قصور میں گنڈا سنگھ کے مقام سے پاکستانی حدود میں داخل ہو گا پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے ڈپٹی کمشنر قصور، اوکاڑہ، وہاڑی اور پاکپتن کے ڈپٹی کمشنرز کو پیشگی انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ پنجاب میں سیلاب کے خدشے کے پیش نظر پی ڈی ایم اے نے ہائی الرٹ جاری کر رکھا ہے۔

    بھارت کی طرف سے چھوڑے گئے سیلابی ریلوں سے دریائے راوی، چناب اور ستلج میں مختلف مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، اب تک درجنوں دیہات زیرِ آب آچکے ہیں انتظامیہ کی طرف سے فلڈ ریلیف کیمپ لگا دیئے گئے ہیں اور ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ دیہاتیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا ہے۔

    قصور میں دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند ہونے سے دریا سے ملحقہ علاقوں میں کئی گاؤں زیر آب آگئے ہیں راجن پور میں دریائے سندھ میں اس وقت بہاؤ ایک لاکھ 86 ہزار کیوسک ہے، جہاں ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر انتظامیہ الرٹ ہے۔

    بھارت: طوفانی بارشوں کے بعد دریائے بیاس بپھر گیا، پل، گاڑیاں اور گھر بہا لے …

    شکر گڑھ میں دریائے راوی کا پانی نالہ بین میں داخل ہونے سے مزید درجنوں دیہات زیر آب آنے کا خدشہ ہے، شکر گڑھ میں نہر کا پانی روکنے کیلئے بنایا گیا حفاظتی بند بھی ٹوٹ گیا ہے۔

    چنیوٹ میں دریائے چناب میں اس وقت 90 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے، آئندہ 48 گھنٹوں میں دریائے چناب سے 2 لاکھ کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے ممکنہ سیلاب کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے قریبی علاقوں میں متعلقہ اداروں نے ہائی الرٹ کردیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر چنیوٹ آصف رضا کی جانب سے تمام اداروں کے ذمہ داران کو دریا کنارے ڈیوٹیاں دینے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں، اور اس حوالے سے ریسکیو کی جانب سے 9 فلڈ ریلیف کیمپ ضلع بھر کے اہم پوائنٹس پر لگا دیئے گئے ہیں۔

    ممکنہ سیلاب کے پیش نظر دریائے چناب کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے کنٹرول روم بھی بنا دیا گیا ہے دو لاکھ کیوسک پانی کا ریلا گزرنے سے دریائے چناب کے قریبی دیہاتوں میں پانی داخل ہوجائے گا اس حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے اعلانات کرائے گئے ہے کہ اپنے مال مویشیوں کے ساتھ دریائے چناب کی حدود سے نکال لیں اور 24 گھنٹے کے لئے اونچے مقام پر چلے جائیں۔

    بھارت نے پانی چھوڑ دیا،درجنوں دیہات زیرآب

    دوسری جانب ملک کے مختلف علاقوں کے موسم کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں دن بھر موسم گرم اور مرطوب رہے گا جب کہ پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بھی موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے بلوچستان کےبیشتر اضلاع میں موسم گرم و مرطوب رہنے کا امکان ہے، اس کے علاوہ سندھ کے اکثر مقامات پر آج موسم گرم اور مرطوب رہے گا سوات، کو ہستان، ایبٹ آباد، بالاکوٹ، شانگلہ کے علاوہ مری،گلیات اور گردونواح میں بارش متوقع ہے جب کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بارش ہو سکتی ہے۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بارشوں سے جانی و مالی نقصان کی رپورٹ جاری کردی ہے،ملک بھر میں سیلاب کے باعث گزشتہ چوبیس گھنٹے میں مزید 6 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، سندھ اور پنجاب میں 3، 3 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 9 افراد زخمی ہیں 25 جون سے اب تک 86 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں مرنے والوں میں 37 بچے، 33 مرد اور 16 خواتین شامل ہیں سب سے زیادہ 52 اموات پنجاب میں ہوئیں، خیبرپختونخوا میں 20، بلوچستان میں 6، سندھ میں 5 اور آزاد کشمیر میں 3 افراد جاں بحق ہوئے۔

    پاکستان پہلی بار اولمپک ہاکی کوالیفائنگ راؤنڈ کی میزبانی کرے گا

  • 18 ویں گریڈ کے افسر کی بیٹی کے ہاتھوں ہوئی موت

    18 ویں گریڈ کے افسر کی بیٹی کے ہاتھوں ہوئی موت

    شہر قائد کراچی کے علاقے لالا زار سوسائٹی میں گریڈ 18 کے افسر کو اسکی بڑی بیٹی نے ہی قتل کر دیا،

    پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے بیٹی کو گرفتار کر لیا، پولیس حکام کے مطابق کے پی ٹی کے افسر 53 سالہ عتیق الرحمان میمن کو ایک روز قبل قتل کیا گیا تھا، مقتول عتیق نے دو شادیاں کر رکھی تھیں، مقتول گزشتہ روز گھر آئے تو انکی پہلی بیوی سے ہوئی بڑی بیٹی کے ساتھ جھگڑا ہوا، جس کے بعد عتیق نے اپنی بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنایا، اس دوران ہاتھا پائی ہوئی، اور کوئی تیز دھار آلہ عتیق کی گردن پر لگا، خون زیادہ بہنے کی وجہ سے اسکی موت ہوئی

    پولیس حکام کے مطابق ملزمہ مقتول کی بیٹی کی عمر 22 برس ہے اور اسکا نام صبا ہے، صبا نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے،صبا نے پولیس کو بتایا کہ "والد اسے قتل کرنا چاہتا تھا والد نے اسے تشدد نیچے گرا کر گردن زور سے دبائے رکھی تھی ، اس نے جان بچانے کیلئے مزاحمت کی تھی” صبا نے پولیس کو بتایا کہ اسکے والد کی گردن سے خون نکلا، وہ نیچے گرے، بچانے کی کوشش کی لیکن خون بند نہیں ہوا، ہسپتال پہنچے تو والد کی موت یو گئی تھی،

    پولیس نے مقتول کے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا ہے پولیس حکام کے مطابق پہلی بیوی کی موت کے بعد مقتول عتیق نے دوسری شادی کی تھی، مقتول کے پہلی بیوی سے 3 اور دوسری سے 4 بچے ہیں جو ایک ہی فلیٹ میں رہتے ہیں

    واضح رہے کہ سرکاری فلیٹ میں کے پی ٹی کے افسر کو قتل کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق کیماڑی ضلع کے ڈاکس تھانے کی حدود میں مولوی تمیز الدین خان روڈ پر واقع لالہ زار سوسائٹی میں 53 سالہ عتیق الرحمن میمن ولد حاجی کریم بخش کو تیز دھار آلے کے وار سے گھر میں قتل کیا گیا، مقتول کے پی ٹی میں گریڈ 18 کے افسر اور ایکٹنگ مینجر اسٹور تھے۔

    پولیس کے مطابق لالا زار میں واقع کے پی ٹی اپارٹمنٹس میں فلیٹ نمبر DL.8 میں عتیق الرحمان میمن، ان کی دوسری اہلیہ اور ان کے بچوں کے علاوہ پہلی متوفیہ بیوی کے تین بچے بھی ساتھ رہائش پذیر تھے متوفی اور ان کے بچوں کے درمیان گھر میں لڑائی جھگڑا ہوا اس دوران عتیق الرحمان میمن گردن کی بائیں جانب تیز دھار آلہ لگنے سے ہلاک ہوئے، انہیں کیماڑی میں واقع کے پی ٹی اسپتال لایا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی، بعد ازاں پوسٹ مارٹم کے لیے لاش سول اسپتال منتقل کی گئی۔

    کراچی؛ مختلف مقامات سے اغواء ہونے والی 4 لڑکیاں بازیاب

    دوسری جانب کراچی میں سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے چیف میڈیکل آفیسر کے قتل شبے میں خاتون سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا فیروز آباد نرسری سے 6 جولائی کو اغوا ہونے والے ڈاکٹر رحم علی شاہ کی لاش 9 جولائی کو سہراب گوٹھ کے قریب سے ملی تھی، ان کے قتل کے شبے میں خاتون سمیت 4 ملزمان گرفتار کیا گیا ہے۔

    وفاقی وزیر کے کزن کی گاڑی پر فائرنگ، دو افراد جاں بحق

    پولیس کے مطابق ورثا نے تھانہ فیروز آباد میں ڈاکٹر رحم علی کے اغواء کا مقدمہ درج کرایا تھا جب کہ مقتول کی لاش 7 جولائی کو ایدھی پہنچائی گئی اور ان کی گاڑی سرجانی ٹاؤن سے ملی تھی ممکنہ طور پر ایس ایس جی سی میڈیکل آفسر ڈاکٹر رحم کو سر پر وار کر کے قتل کیا گیا جس کے بعد ملزمان لاش سول اسپتال میں چھوڑ کر فرار ہوئے۔

    میرپور ساکرو: پی پی رہنماامیر حسین ہدیو بلوچ کا ٹاؤن کمیٹی عملے کے ہمراہ شہر …

  • پاکستان کو اپنا مسئلہ خود حل کرنا چاہیے،افغان طالبان

    پاکستان کو اپنا مسئلہ خود حل کرنا چاہیے،افغان طالبان

    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف علی درانی کا کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق بیان مسترد کر دیا۔

    باغی ٹی وی: پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف علی درانی نے افغان میڈیا کو انٹرویو کے دوران ٹی ٹی پی کو افغان علاقوں میں منتقل کرنے کے امارات اسلامیہ افغانستان کے فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا۔

    افغان میڈیا کے مطابق آصف علی درانی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ وزیرستان کے مہاجرین جو تنازعات کی وجہ سے افغانستان میں داخل ہوئے ہیں انہیں پاکستان منتقل کیا جائے گا۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا ان افراد کی منتقلی پاکستان کو افغانستان سے خطرات کے تحفظ کی یقین دہانی کے طور پرکی جائے گی،اگر پاکستان میں کوئی سرگرم ہے یا کسی کی تحریک چل رہی ہے تو یہ پاکستان کا مسئلہ ہے پاکستان کو اپنا مسئلہ خود حل کرنا چاہیے، ہم افغان سرزمین سے پاکستان کے لیے خطرہ بننے کی کسی کو اجازت نہ دینے کے پابند ہیں۔

    آدھا گھنٹہ حرکت قلب بند، عراقی حاجی کی جان بچالی گئی

    واضح رہے کہ رواں برس مئی میں آصف درانی کو وزیراعظم کا نمائدہ خصوصی برائے افغانستان تعینات کیا گیا تھا ،وزارت خارجہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ آصف درانی کو وزیراعظم کا نمائندہ خصوصی برائے افغانستان تعینات کردیا گیا آصف درانی اس سے قبل افغانستان، ایران اور متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں، صادق خان کے استغفےٰ کے بعد نمائندہ خصوصی برائے افغانستان کا عہدہ خالی تھا۔

    افغانستان کے امور کے لیے پاکستان کے سابق خصوصی نمائندے محمد صادق نے تین سال عہدے پر رہنے کے بعد گزشتہ سال اگست کے آغاز میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

    تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو ، اب تجھے میں یاد آنا چاہتا …

  • تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو ، اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

    تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو ، اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

    حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا
    ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا

    قتیل شفائی

    قتیل شفائی یا اورنگزیب خان (پیدائش 24 دسمبر، 1919ء – وفات 11 جولائی، 2001ء) پاکستان کے ایک مشہور و معروف اردو شاعر تھے۔ قتیل شفائی خیبر پختونخوا، ہری پور، ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور بہت سی فلموں کے لیے گیت لکھے۔

    ابتدائی زندگی اور کیرئر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی 1919ء میں برطانوی ہند (موجوہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام محمد اورنگ زیب تھا۔ انھوں نے 1938ء میں قتیل شفائی اپنا قلمی نام رکھا اور اردو دنیا میں اسی نام سے مشہور ہیں۔ اردو شاعری میں وہ قتیل تخلص کرتے ہیں۔ شفائی انھوں نے اپنے استاد حکیم محمد یحیی شفاؔ کانپوری کے نام کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ لگایا۔ 1935ء میں ان کے والد کی وفات ہوئی اور ان پر اعلیٰ تعلیم چھوڑنے کا دباؤ بنا۔ انھوں نے کھیل کے سامان کی ایک دکان کھول لی مگر تجارت میں وہ ناکام رہے اور انھوں نے اپنے چھوٹے سے قصبے سے راولپنڈی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا جہاں انھوں نے ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ بعد میں 1947ء میں انھوں نے پاکستانی سنیما میں قدم رکھا اور نغمہ لکھنے لگے۔ ان کے والد ایک تاجر تھے اور ان کے گھر میں شعر و شاعری کا کوئی رواج نہ تھا۔ ابتدا میں امھوں حکیم یحیی کو اپنا کلام دکھانا شروع کیا اور بعد میں احمد ندیم قاسمی سے اصلاح لینے لگے اور باقاعدہ ان کے شاگرد بن گئے۔ قاسمی ان کے دوست بھی تھے اور پڑوسی بھی۔

    فلمی دنیا
    ۔۔۔۔
    1948ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم ’’تیری یاد‘‘ کی نغمہ نگاری سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ جس کے بعد انھوں نے مجموعی طور پر 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کیے۔ وہ پاکستان کے واحد فلمی نغمہ نگار تھے جنھیں ہندستانی فلموں کے لیے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ انھوں نے کئی فلمیں بھی بنائیں جن میں پشتو فلم عجب خان آفریدی کے علاوہ ہندکو زبان میں بنائی جانے والی پہلی فلم ’’قصہ خوانی‘‘ شامل تھی۔ انھوں نے اردو میں بھی ایک فلم ’’اک لڑکی میرے گائوں کی‘‘ بنانی شروع کی تھی مگر یہ فلم مکمل نہ ہوسکی تھی۔ فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ قتیل شفائی کا ادبی سفر بھی جاری رہا۔ اپنی عمر کے آخری دور میں متعدد مرتبہ ممبئی کا بھی سفر کیا اور ’سر‘، ’دیوانہ تیرے نام کا‘، ’بڑے دل والا‘ اور ’پھر تیری کہانی یاد آئی‘ جیسی ہندستانی فلموں کے لیے بھی عمدہ گیت لکھے۔

    اُن کے گیتوں کی مجموعی تعداد ڈھائی ہزار سے زیادہ بنتی ہے، جن میں ’صدا ہوں اپنے پیار کی‘، ’اے دل کسی کی یاد میں ہوتا ہے بے قرار کیوں‘، ’یوں زندگی کی راہ سے ٹکرا گیا کوئی‘ کے ساتھ ساتھ ’یہ وادیاں، یہ پربتوں کی شاہزادیاں‘ جیسے زبان زدِ خاص و عام گیت بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی گیتوں پر اُنھیں خصوصی اعزازات سے نوازا گیا

    کلام کی خصوصیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ ان کے لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انھوں نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کی شاعری میں سماجی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے۔ اور انھیں صف اول کے ترقی پسند شعرا میں اہم مقام حاصل ہے۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انھوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام پاکستان اور ہندستان دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔

    اعزازت
    ۔۔۔۔۔
    صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی 1994ء، آدم جی ادبی انعام، امیر خسرو ایورڈ، نقوش ایورڈ۔ نیز ہندستان کی مگدھ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاول پور یونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا۔

    فلمی نغمہ نگاری
    ۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔ انہیں نیشنل فلم ایورڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایورڈ بھی دیے گئے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ہریالی
    ۔ (2)گجر
    ۔ (3)جلترنگ
    ۔ (4)روزن
    ۔ (5)جھومر
    ۔ (6)مطربہ
    ۔ (7)چھتنار
    ۔ (8)گفتگو
    ۔ (9)پیراہن
    ۔ (10)آموختہ
    ۔ (11)ابابیل
    ۔ (12)برگد
    ۔ (13)گھنگرو
    ۔ (14)سمندر میں سیڑھی
    ۔ (15)پھوار
    ۔ (16)صنم
    ۔ (17)پرچم
    انتخاب (منتخب مجموعہ)
    کلیات
    ۔۔۔۔۔
    رنگ خوشبو روشنی (تین جلدیں)
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    11 جولائی 2001ء کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ اقبال ٹائون کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے
    منسوبات
    ۔۔۔۔۔
    لاہور جہاں رہتے تھے وہاں سے گزرنے والی شاہراہ کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جبکہ ہری پور میں ان کے رہائشی محلے کا نام محلہ قتیل شفائی رکھ دیا گیا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
    میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو
    میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن
    میں ہوں گر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو
    ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم
    تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو
    مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
    یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو
    میں سمندر بھی ہوں موتی بھی ہوں غوطہ زن بھی
    کوئی بھی نام مرا لے کے بلا لے مجھ کو
    تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی
    خود پرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے مجھ کو
    باندھ کر سنگ وفا کر دیا تو نے غرقاب
    کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو
    خود کو میں بانٹ نہ ڈالوں کہیں دامن دامن
    کر دیا تو نے اگر میرے حوالے مجھ کو
    میں کھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارے
    تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو
    کل کی بات اور ہے میں اب سا رہوں یا نہ رہوں
    جتنا جی چاہے ترا آج ستا لے مجھ کو
    بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیلؔ
    شرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں
    لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں
    بکھرا پڑا ہے تیرے ہی گھر میں ترا وجود
    بے کار محفلوں میں تجھے ڈھونڈتا ہوں میں
    میں خودکشی کے جرم کا کرتا ہوں اعتراف
    اپنے بدن کی قبر میں کب سے گڑا ہوں میں
    کس کس کا نام لاؤں زباں پر کہ تیرے ساتھ
    ہر روز ایک شخص نیا دیکھتا ہوں میں
    کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
    دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں
    پہنچا جو تیرے در پہ تو محسوس یہ ہوا
    لمبی سی ایک قطار میں جیسے کھڑا ہوں میں
    لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
    دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں
    جاگا ہوا ضمیر وہ آئینہ ہے قتیلؔ
    سونے سے پہلے روز جسے دیکھتا ہوں میں

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
    ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

    آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے
    موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں

    جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
    جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں

    چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی
    وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

    اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن
    دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں

    یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا
    جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا

    دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں
    لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں

    دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
    اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

    ہم اسے یاد بہت آئیں گے
    جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا

    یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
    خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے

    تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو
    اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

    گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
    ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

    تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں
    ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں

    میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا
    گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا

    اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
    ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا

    گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
    لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

    احباب کو دے رہا ہوں دھوکا
    چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں

    کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیں
    میرا نہیں تو دل کا کہا مان جائیے

    اچھا یقیں نہیں ہے تو کشتی ڈبا کے دیکھ
    اک تو ہی ناخدا نہیں ظالم خدا بھی ہے

    لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
    دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں

    کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
    دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں

    وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم
    دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے

    مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
    یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

    رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر
    یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے

    جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج
    بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں

    ابھی تو بات کرو ہم سے دوستوں کی طرح
    پھر اختلاف کے پہلو نکالتے رہنا

    نہ جانے کون سی منزل پہ آ پہنچا ہے پیار اپنا
    نہ ہم کو اعتبار اپنا نہ ان کو اعتبار اپنا

    ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپنا
    قبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی کی طرح

    حالات سے خوف کھا رہا ہوں
    شیشے کے محل بنا رہا ہوں

    حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
    ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں

    وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
    میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے

    گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
    کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے

    میں اپنے دل سے نکالوں خیال کس کس کا
    جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے

    جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں

    وہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔ
    پھر کیا ہوا اگر وہ بھی ہرجائی بن گیا

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت
    اب کھل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

    کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔ
    مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا

    رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ
    ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ

    جیت لے جائے کوئی مجھ کو نصیبوں والا
    زندگی نے مجھے داؤں پہ لگا رکھا ہے

    یوں تسلی دے رہے ہیں ہم دل بیمار کو
    جس طرح تھامے کوئی گرتی ہوئی دیوار کو

    ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے
    اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

    آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام
    کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے

    شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
    ہم اسی آگ میں گم نام سے جل جاتے ہیں

    تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی
    تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

    اپنے لیے اب ایک ہی راہ نجات ہے
    ہر ظلم کو رضائے خدا کہہ لیا کرو

    انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی
    تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کی

    حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا
    اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں

    مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہے
    لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں

    ترک وفا کے بعد یہ اس کی ادا قتیلؔ
    مجھ کو ستائے کوئی تو اس کو برا لگے

    کس طرح اپنی محبت کی میں تکمیل کروں
    غم ہستی بھی تو شامل ہے غم یار کے ساتھ

    ثبوت عشق کی یہ بھی تو ایک صورت ہے
    کہ جس سے پیار کریں اس پہ تہمتیں بھی دھریں

    کیوں شریک غم بناتے ہو کسی کو اے قتیلؔ
    اپنی سولی اپنے کاندھے پر اٹھاؤ چپ رہو

    دشمنی مجھ سے کئے جا مگر اپنا بن کر
    جان لے لے مری صیاد مگر پیار کے ساتھ

    یوں برستی ہیں تصور میں پرانی یادیں
    جیسے برسات کی رم جھم میں سماں ہوتا ہے

    ہم ان کے ستم کو بھی کرم جان رہے ہیں
    اور وہ ہیں کہ اس پر بھی برا مان رہے ہیں

    اپنی زباں تو بند ہے تم خود ہی سوچ لو
    پڑتا نہیں ہے یوں ہی ستم گر کسی کا نام

    قتیلؔ اب دل کی دھڑکن بن گئی ہے چاپ قدموں کی
    کوئی میری طرف آتا ہوا محسوس ہوتا ہے

    یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
    کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے

    تھوڑی سی اور زخم کو گہرائی مل گئی
    تھوڑا سا اور درد کا احساس گھٹ گیا

    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
    میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو

    نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ بت خانہ
    تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

    تم آ سکو تو شب کو بڑھا دو کچھ اور بھی
    اپنے کہے میں صبح کا تارا ہے ان دنوں

    داد سفر ملی ہے کسے راہ شوق میں
    ہم نے مٹا دئے ہیں نشاں اپنے پاؤں کے

    میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
    برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے

    یارو یہ دور ضعف بصارت کا دور ہے
    آندھی اٹھے تو اس کو گھٹا کہہ لیا کرو

    بہ پاس دل جسے اپنے لبوں سے بھی چھپایا تھا
    مرا وہ راز تیرے ہجر نے پہنچا دیا سب تک

    رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
    ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لیا پاؤں میں

    میں جب قتیلؔ اپنا سب کچھ لٹا چکا ہوں
    اب میرا پیار مجھ سے دانائی چاہتا ہے

    سوچ کو جرأت پرواز تو مل لینے دو
    یہ زمیں اور ہمیں تنگ دکھائی دے گی

    زندگی میں بھی چلوں گا ترے پیچھے پیچھے
    تو مرے دوست کا نقش کف پا ہو جانا

    قتیل اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
    تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے

    سوکھ گئی جب آنکھوں میں پیار کی نیلی جھیل قتیلؔ
    تیرے درد کا زرد سمندر کاہے شور مچائے گا

    نہ چھاؤں کرنے کو ہے وہ آنچل نہ چین لینے کو ہیں وہ بانہیں
    مسافروں کے قریب آ کر ہر اک بسیرا پلٹ گیا ہے

    تیز دھوپ میں آئی ایسی لہر سردی کی
    موم کا ہر اک پتلا بچ گیا پگھلنے سے

  • ہم کو شاہوں کی عدالت کی توقع تو نہیں، آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلا دیتے ہیں

    ہم کو شاہوں کی عدالت کی توقع تو نہیں، آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلا دیتے ہیں

    ہم کو شاہوں کی عدالت کی توقع تو نہیں
    آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلا دیتے ہیں

    احمد ندیم قاسمی

    احمد ندیم قاسمی کا خاندانی نام احمد شاہ جو پیر غلام نبی شاہ کے صاحبزادے تھے ۔ 20 نومبر 1916 ء کو انگہ تحصیل خوشاب ، ضلع سرگودھا ، پنجاب (پاکستان) میں پیدا ہوئے ۔ خشونت سنگھ بھی خوشاب کے رہنے والے تھے ۔ ان کے قبیلے کو اعوان کہا جاتا ہے ۔ جب احمد ندیم 8 سال کے ہی تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا ۔ انہوں نے والد کے انتقال کے ایک سال بعد انگہ کی مسجد میں قرآن کی تعلیم حاصل کی اور وہیں سے پرائمری اسکول کا امتحان پاس کیا ۔ بی اے کرنے کے بعد ان کی پہلی نظم محمد علی جوہر شائع ہوئی تھی ۔ کئی لوگوں نے اس نظم کے بارے میں لکھا ہے کہ 15 سال کی عمر میں لکھی گئی ہے لیکن غلط ہے ۔

    یتیمی نے انہیں زندگی کی چکی میں پسنے کے لئے اس طرح مجبور کردیا کہ انہیں جو بھی کام ملتا گیا ، کرتے گئے ۔ اس کے آگے کا راستہ ڈھونڈتے رہے ۔ ایسی حالت نے ان کے جینے کے انداز کو نیا کردیا ۔ ندیم کی زندگی جی کر اس سے جو تلخ تجربات حاصل کئے ، اس کو زمانے کے سامنے اپنی تحریر سے ظاہر کرتے رہے ۔

    پہلی نوکری احمد ندیم قاسمی نے لاہور میں ریفارم کمشنر کے دفتر میں محرر کے طور پر کی ۔ اس وقت انھیں وہاں سے صرف 20 روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی ۔ٹیلی فون آپریٹر کا بھی کام کیا ۔ چند سال کسٹم میں بھی رہے ۔ اس کے بعد پشاور ریڈیو اسٹیشن پر اسکرپٹ رائٹرکی حیثیت سے بھی کام کیا۔ ایک خاص بات 14 اگست 1947ء کو جب پاکستان آزاد ہوا تو اس وقت وہ اسی ریڈیو اسٹیشن پر تھے ۔ پشاور ریڈیو نے اپنے پروگرام کا آغاز احمد ندیم قاسمی کے لکھے ترانے سے کیا ۔

    انہوں نے ادب کے تمام صنفوں میں طبع آزمائی کی ، غزلیں لکھیں ، افسانے لکھے ، صحافی کا کام کیا ۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے آخری جنرل سکریٹری رہے ۔ تحقیق و تنقید میں بھی بڑا نام کیا ۔ بچوں کے ادب میں کام کیا ۔ ان کی موت تک 17 افسانوی مجموعے ، 8 شعری مجموعے ، 3 تحقیق و تنقید ، 6 ترجمے اور 3 بچوں کے لئے کتابیں لکھیں ۔ اخبار کے کالم اور اداریہ کی تعداد تو بے شمار ہیں جو شائع ہونے سے رہ گئے ۔

    اس سلسلے میں ان کا خاص کام ’’فنون‘‘ کی ادارت تھی جو ملک کیا بیرون ملک میں بھی پڑھا جاتا تھا ۔ اس کی آخری عمر تک سرپرستی کی ، مختلف روزناموں میں کالم لکھا ۔ امروز ، ہلال پاکستان ، لاہور ، احسان ، جنگ کراچی میں مختلف عنوانات سے کالم لکھتے رہے ۔ انہوں نے فرضی نام سے مختلف سیاسی کالم لکھے ۔ اس دوران انہوں نے پاکستان کی کئی نسلوں کی رہنمائی کی ۔ ابتداء میں مسلم لیگ سے جڑے رہے ، پھر ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوئے ۔ لیکن ان کے خیالات جب ترقی پسندوں سے میل نہیں کھانے لگے تو اسے بھی چھوڑ دیا ۔ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کو بھی ناپسند کیا ۔ 1951 ء میں آپ کو نظر بند رکھا گیا ۔

    فلموں کے ڈائیلاگ اور گانے بھی لکھے ۔ مختلف اعزازات اور انعام سے انہیں نوازا گیا جس میں پاکستانی ادب کا انعام ’ستارہ امتیاز‘ پاکستان اور آدم جی ایوارڈ بھی انہیں ملا ۔ شاعری کے میدان میں بہت اچھے اچھے اشعار کے خالق بنے ۔ انھوں نے پاکستان ، سعودی عرب ، عرب امارات اور مغربی ممالک کے سینکڑوں مشاعروں اور سمیناروں میں شرکت کرکے اپنے ملک کا نام روشن کیا ہے ۔ میں نے ان کی شاعری کے برمحل اشعار کا انتخاب کیا ہے جو میری مستقبل میں آنے والی کتاب برمحل اشعار (حصہ دوم) میں شامل ہیں ۔
    انداز ہو بہو تری آوازِ پا کا تھا
    دیکھا اسے پلٹ کے تو جھونکا ہوا کا تھا
    (جدید اردو غزل بخط شاعر خود ص 79)
    آپ سے جھک کے جو ملتا ہوگا
    اس کا قد آپ سے اونچا ہوگا
    (جدید اردو غزل بخط شاعر خود ص 13)
    کون کہتا ہے موت آئی تو مرجاؤں گا
    میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
    (جدید اردو غزل بخط شاعر خود ص 20)
    شب وصال ہے گل کردو ان چراغوں کو
    خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا
    (مشہور اشعار ص 206)
    دائم آباد رہے گی دنیا
    ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا
    (مشہور اشعار ص 206)
    ہم کو شاہوں کی عدالت کی توقع تو نہیں
    آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلادیتے ہیں
    (اردو غزل ص 294)
    عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
    یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
    (ضرب المثل ص 51)
    اور یہ شعر ہمارے ذہن میں برسوں سے محفوظ ہے لیکن مآخذ نہیں ملا ۔ پاکستانی شعراء کے مجموعے یہاں دستیاب نہیں ہیں ۔ اس لئے میں انہیں پڑھ نہیں سکا ۔ ہاں پاکستان میں ان کے مجموعے جلال و کمال ، محیط ، دوام ، رم جھم ، شعلہ گل ، دشت وفا ، لوح خاک ، کے نام سے شائع ہو کر مقبول ہوچکے ہیں ۔ ان کے تبصرے میں نے پڑھے ہیں ۔ ان کے چیدہ چیدہ اشعار ہمارے مطالعے میں رہے ۔ رسالوں میں غزلیں بھی پڑھیں ہیں۔ ٹی وی پر مشاعرے میں نے پڑھتے ہوئے سنا بھی ہے۔

    یاد رکھو تو دل کے پاس ہیں ہم
    بھول جاؤ تو فاصلے ہیں بہت

    ان کے ان اشعار کی خاص حوبی لفظیات کی برکھارت کی ٹھنڈی بجلیاں ہیں ،جس سے پڑھنے والوں کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ جاتی ہے ۔ حقائق کی پردہ کشائی بڑی احتیاط سے کرتے ہیں ۔ کبھی معنی کو ننگا نہیں ہونے دیتے ۔ یہ سننے والوں کے دل میں گھر کرجاتی ہے ۔

    احمد ندیم قاسمی ترقی پسندوں کی نسل سے ابھرنے والے شاعروں میں کافی تیز و طرار تھے ۔ انہوںنے بدلتے رجحانات سے پیدا ہونے والے کرب کو اپنی شاعری میں شامل ہونے نہیں دیا جس کی وجہ سے محرومی اور نارسائی نے اس جدید نسل کو اپنی ذات کے غم سمیٹنے پر مجبور کردیا تھا ۔ کسی نے شراب پینے میں زندگی تباہ کردی ۔ کوئی ریل کے آگے آکر مرگیا ۔ کسی نے دنیاسے علحدگی حاصل کرلی ۔
    احمد ندیم قاسمی بہت دنوں تک دمے کے مرض سے پریشان رہے ۔ موت سے دو روز قبل پتہ چلا کہ انہیں انجائنا ہوگیا ہے ۔ لاہور کے اسپتال میں لے جائے گئے مگر وہ بچ نہیں سکے ۔ پاکستان کا یہ شاعر اپنے ہزاروں شیدائی اور علمائے ادب کو چھوڑکر 10 جولائی 2006 ء کو اس دار فانی سے کوچ کرگیا۔ ان کی خواہش کے مطابق مرکر بھی ان کی موت بے کار نہیں جائے گی ۔ ندیم ہم جیسے لاکھوں ادب نوازوں کو ایک نئی راہ دکھاتے رہیں گے ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
    میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
    تیرا در چھوڑ کے میں اور کدھر جاؤں گا
    گھر میں گھر جاؤں گا صحرا میں بکھر جاؤں گا
    تیرے پہلو سے جو اٹھوں گا تو مشکل یہ ہے
    صرف اک شخص کو پاؤں گا جدھر جاؤں گا
    اب ترے شہر میں آؤں گا مسافر کی طرح
    سایۂ ابر کی مانند گزر جاؤں گا
    تیرا پیمان وفا راہ کی دیوار بنا
    ورنہ سوچا تھا کہ جب چاہوں گا مر جاؤں گا
    چارہ سازوں سے الگ ہے مرا معیار کہ میں
    زخم کھاؤں گا تو کچھ اور سنور جاؤں گا
    اب تو خورشید کو گزرے ہوئے صدیاں گزریں
    اب اسے ڈھونڈنے میں تا بہ سحر جاؤں گا
    زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیمؔ
    بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    انداز ہو بہو تری آواز پا کا تھا
    دیکھا نکل کے گھر سے تو جھونکا ہوا کا تھا
    اس حسن اتفاق پہ لٹ کر بھی شاد ہوں
    تیری رضا جو تھی وہ تقاضا وفا کا تھا
    دل راکھ ہو چکا تو چمک اور بڑھ گئی
    یہ تیری یاد تھی کہ عمل کیمیا کا تھا
    اس رشتۂ لطیف کے اسرار کیا کھلیں
    تو سامنے تھا اور تصور خدا کا تھا
    چھپ چھپ کے روؤں اور سر انجمن ہنسوں
    مجھ کو یہ مشورہ مرے درد آشنا کا تھا
    اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر
    عادی فنا کا تھا تو پجاری بقا کا تھا
    ٹوٹا تو کتنے آئنہ خانوں پہ زد پڑی
    اٹکا ہوا گلے میں جو پتھر صدا کا تھا
    حیران ہوں کہ وار سے کیسے بچا ندیمؔ
    وہ شخص تو غریب و غیور انتہا کا تھا

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جس بھی فن کار کا شہکار ہو تم
    اس نے صدیوں تمہیں سوچا ہوگا

    آخر دعا کریں بھی تو کس مدعا کے ساتھ
    کیسے زمیں کی بات کہیں آسماں سے ہم

    کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
    میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

    کچھ کھیل نہیں ہے عشق کرنا
    یہ زندگی بھر کا رت جگا ہے

    میں نے سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے
    تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی

    مر جاتا ہوں جب یہ سوچتا ہوں
    میں تیرے بغیر جی رہا ہوں

    مسافر ہی مسافر ہر طرف ہیں
    مگر ہر شخص تنہا جا رہا ہے

    اس وقت کا حساب کیا دوں
    جو تیرے بغیر کٹ گیا ہے

    صبح ہوتے ہی نکل آتے ہیں بازار میں لوگ
    گٹھریاں سر پہ اٹھائے ہوئے ایمانوں کی

    خدا کرے کہ تری عمر میں گنے جائیں
    وہ دن جو ہم نے ترے ہجر میں گزارے تھے

    زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیمؔ
    بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا

    اک سفینہ ہے تری یاد اگر
    اک سمندر ہے مری تنہائی

    آج کی رات بھی تنہا ہی کٹی
    آج کے دن بھی اندھیرا ہوگا

    تجھ سے کس طرح میں اظہار تمنا کرتا
    لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی

    انداز ہو بہ ہو تری آواز پا کا تھا
    دیکھا نکل کے گھر سے تو جھونکا ہوا کا تھا

    اتنا مانوس ہوں سناٹے سے
    کوئی بولے تو برا لگتا ہے

    میں کشتی میں اکیلا تو نہیں ہوں
    مرے ہم راہ دریا جا رہا ہے

    اک عمر کے بعد مسکرا کر
    تو نے تو مجھے رلا دیا ہے

    ساری دنیا ہمیں پہچانتی ہے
    کوئی ہم سا بھی نہ تنہا ہوگا

    دل گیا تھا تو یہ آنکھیں بھی کوئی لے جاتا
    میں فقط ایک ہی تصویر کہاں تک دیکھوں

    کس توقع پہ کسی کو دیکھیں
    کوئی تم سے بھی حسیں کیا ہوگا

    جنت ملی جھوٹوں کو اگر جھوٹ کے بدلے
    سچوں کو سزا میں ہے جہنم بھی گوارا

    بھری دنیا میں فقط مجھ سے نگاہیں نہ چرا
    عشق پر بس نہ چلے گا تری دانائی کا

    مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ بھی پیار آتا ہے
    تری الفت نے محبت مری عادت کر دی

    پا کر بھی تو نیند اڑ گئی تھی
    کھو کر بھی تو رت جگے ملے ہیں

    ان کا آنا حشر سے کچھ کم نہ تھا
    اور جب پلٹے قیامت ڈھا گئے

    میں تیرے کہے سے چپ ہوں لیکن
    چپ بھی تو بیان مدعا ہے

    فریب کھانے کو پیشہ بنا لیا ہم نے
    جب ایک بار وفا کا فریب کھا بیٹھے

    مرے خدا نے کیا تھا مجھے اسیر بہشت
    مرے گنہ نے رہائی مجھے دلائی ہے

    مجھے منظور گر ترک تعلق ہے رضا تیری
    مگر ٹوٹے گا رشتہ درد کا آہستہ آہستہ

    تو نے یوں دیکھا ہے جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا
    میں تو دل میں ترے قدموں کے نشاں تک دیکھوں

    عجب تضاد میں کاٹا ہے زندگی کا سفر
    لبوں پہ پیاس تھی بادل تھے سر پہ چھائے ہوئے

    مرا وجود مری روح کو پکارتا ہے
    تری طرف بھی چلوں تو ٹھہر ٹھہر جاؤں

    خود کو تو ندیمؔ آزمایا
    اب مر کے خدا کو آزماؤں

    لوگ کہتے ہیں کہ سایا ترے پیکر کا نہیں
    میں تو کہتا ہوں زمانے پہ ہے سایا تیرا

    عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
    یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ

    شام کو صبح چمن یاد آئی
    کس کی خوشبوئے بدن یاد آئی

    آغوش میں مہکوگے دکھائی نہیں دو گے
    تم نکہت گلزار ہو ہم پردۂ شب ہیں

    کس دل سے کروں وداع تجھ کو
    ٹوٹا جو ستارہ بجھ گیا ہے

    جکڑی ہوئی ہے ان میں مری ساری کائنات
    گو دیکھنے میں نرم ہے تیری کلائیاں

    ہر لمحہ اگر گریز پا ہے
    تو کیوں مرے دل میں بس گیا ہے

    تم مرے ارادوں کے ڈولتے ستاروں کو
    یاس کے خلاؤں میں راستہ دکھاتے ہو

    غم جاناں غم دوراں کی طرف یوں آیا
    جانب شہر چلے دختر دہقاں جیسے

    یکساں ہیں فراق وصل دونوں
    یہ مرحلے ایک سے کڑے ہیں

  • نوبل ادب انعام یافتہ ایلس منرو

    نوبل ادب انعام یافتہ ایلس منرو

    ایلس منرو 10جولائی1931 ء کو کینیڈا کے صوبے، اونٹاریو میں واقع قصبے،ونگہیم (Wingham) میں پیدا ہوئیں۔ متوسط گھرانے سے تعلق تھا۔ رقم کی کمی کے باعث ہی دورانِ تعلیم ویٹرس،لائبریری کلرک اور تمباکو چننے کی ملازمتیں کر کے اپنے تعلیمی اخراجات برداشت کرتی رہیں۔ انیس سال کی تھیں جب پہلا افسانہ لکھا۔ تب بھی یہی مدعا تھا کہ اسے رسالے میں شائع کراکر آمدنی بڑھائی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایلس ناول نگار بننا چاہتی تھیں۔ لکھنے کی مشق کرنے کی خاطر انھوں نے افسانے لکھنے شروع کیے۔ تب کئی ادباء کے مانند وہ بھی ناول کو افسانے پہ ترجیح دیتی تھیں لیکن رفتہ رفتہ وہ طلسم ِافسانہ کی اسیر ہو کر رہ گئیں۔ حتیٰ کہ ایک وقت ایسا آن پہنچا کہ وہ ناول کو تصیحِ اوقات کی شے سمجھنے لگیں۔ افسانوی ادب کے عاشقوں اور نقادوں کا خیال ہے-

    ایلس منرو کو نوبل انعام ملنا اس سچائی کا غماز ہے کہ عالمی افسانہ اب اپنے سنہرے دور میں داخل ہو چکا۔ یاد رہے،ماضی میں بیشتر نوبل ادب ایوارڈ شاعری کرنے یا ناول لکھنے والے ادباء کو دیے گئے۔ کینیڈین دیہی ماحول،نسوانی مسائل اور مرد وعورت کے پیچیدہ تعلقات ایلس کی کہانیوں کے بنیادی موضوع ہیں۔ ان کے افسانوں کا مجموعی انداز عظیم روسی افسانہ نگار،چیخوف کے طرز تحریر سے ملتا جلتا ہے۔ چیخوف کے مانند ایلس کے افسانوں میں بھی پلاٹ ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ نیز اچانک کوئی چونکا دینے والی بات سامنے نہیں آتی۔ ایلس کے افسانے چلتے چلتے میٹھے یا کڑوے جذبات و احساسات اور سچ عیاں کرتے چلے جاتے ہیں۔ انگریزی دنیا میں ایلس کی تخلیقات کے جملے اکثر قلمکار اپنی تحریروں میں بیان کرتے ہیں۔

    مثلاً ان کے ایک افسانے کا یہ جملہ:The constant happiness is curiosity(مسلسل خوشی تجسّس کی طرح ہے)کینیڈین انگریزی میں مقولے کا درجہ پا چکا۔ ایلس منرو کی زندگی کا بیشتر عرصہ دیہات میں گزرا۔ آج بھی وہ فطرت کے قریب رہنا پسند کرتی ہیں۔ سادہ اور پُروقار خاتون ہیں۔ دولت و شہرت کی دلداہ نہیں،اسی باعث ’’کمپنی کی مشہوری‘‘کی خاطر کبھی کوئی مہم نہ چلائی۔ عمر کے اس حصے میں ہیں جب ایوارڈ انسان کے لیے بے معنی بن جاتا ہے۔ تاہم نوبل ادب انعام ملنے پہ انھوں نے اظہار مسرت کیا۔ وہ اب تک ادبی دنیا کے کئی نامور ایوارڈ جیت چکیں۔ ان میں پین/مالمود ایوارڈ،او ہنری ایوارڈ،مان بوکر انٹرنیشنل پرائز اور کامن ویلتھ رائٹرز پرائز شامل ہیں۔ ایلس منرو انگریزی دنیا میں جانی پہچانی افسانہ نگار ہیں۔ نوبل کمیٹی نے انھیں جدید افسانہ نگاری کا امام (Master) قرار دیا۔

  • جہالت کے تالے اسلام نے کھلوائے

    جہالت کے تالے اسلام نے کھلوائے

    جہالت کے تالے اسلام نے کھلوائے

    ازقلم غنی محمود قصوری

    مورخہ 3 جولائی 2023 کو طاہرہ کاظمی کا ایک کالم ویب چینل،ہم سب ڈاٹ کام، پہ شائع ہوا جس کا نام ہے ویجائنا کو تالا لگا ہے

    ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا کہنا ہے کہ یہ کالم انہوں نے پاکستان میں کام کرنے والی گائناکالوجسٹ( لیڈی ڈاکٹروں و گائنی سٹاف) کی وساطت سے پوری نیک نیتی سے اور پوری ذمہ داری سے لکھا ہے جس میں یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان کے کچھ قبائلی علاقوں میں عورت کی ویجائنا ( عورت کی شرم گاہ) کو ان کے شوہر تالا لگا دیتے ہیں تاکہ وہ عورت کہیں اور منہ نا مار سکے یعنی اپنے خاوند کے علاوہ کسی اور سے راہ مراسم نا رکھ سکے

    خیر ایک کالم انہوں نے لکھا جس کو میں سچ مان لیتا ہوں اور بطور ثبوت ڈاکٹر طاہرہ کاظمی سے سوال کرتا ہوں کہ اگر ایسا ہے تو خدارا یہ بات پورے ثبوت کے ساتھ سامنے لے کر آئیں اور ایسے غلیظ لوگوں کو سزا دلوانے میں کلیدی کردار ادا کریں تاکہ آپکی وجہ سے کئی عورتوں کی زندگیاں اذیت سے بچ سکیں اور وہ اسلام کی دی ہوئی آزادی میں پوری آب و تاب سے زندگی گزار سکیں کیونکہ اسلام کے مطالعہ میں کہیں بھی ایسا کوئی تصور نہیں اور نا ہی ایسا جبر ہے بلکہ اسلام تو عورت کو ایک خاص مقام مہیا کرتا ہے اور اس بات پہ زور دیا گیا ہے کہ مرد اپنی بیوی کی ہر ضرورت اپنی بساط کے مطابق لازمی پوری کرے اگر وہ نا پورا کر سکے تو اسلام نے جہالت کے تالے توڑتے ہوئے عورت کو خلع کا اختیار دیا ہے-

    مجھے قطعاً علم نہیں کہ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نے یہ تالے حقیقت میں دیکھے ہیں یاں نہیں مگر پروف دینا ان پہ لازم ہے تاکہ ریاست پاکستان اس ظلم کو روکےاور اگر انہوں نے یہ بات محض اڑتا تیر کے مصداق چھوڑی ہے تو یہ بہت ہی غلط بات ہےراقم نے تحقیق کی خاطر ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی فیسبک وال کا وزٹ کیا جہاں اس بات پہ سخت مایوسی ہوئی کہ کچھ نام نہاد دین کے ٹھیکیدار ملاں حضرات بجائے طاہرہ کاظمی سے پروف مانگنے کے اور ایسے ظالم مردوں کو سزا دینے کے مطالبے کے بجائے انتہائی گندی زبان استعمال کرتے ہوئے اپنی گندگی ظاہر کر رہے ہیں-

    چاہئیے تو یہ تھا یہ لوگ عملاً پروف دیتے ہاں یاں پھر نا کے مگر یہ لوگ تو گندگی پہ اتر آئے اگر کوئی مجھ جیسا دنیا دار ایسا کرتا بات تب بھی کچھ اور تھی مگر یہاں تو نام نہاد ملاں جن میں سے اکثر کو میں ذاتی جانتا ہوں ٹھیک ہے انسان خطاء کار ہے گالی بھی دے سکتا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی کی بات کی تحقیق کی بجائے اس پہ گندی اچھالی جائے اور بجائے بات کی تہہ تک جانے کے ایک عورت پہ ٹھرک، ہوس، فرسٹریشن یا جنسی ہراسمنٹ کا راستہ بنایا جائے-

    خیر میں ایک قلمکار ہوں میں دونوں طبقوں ڈاکٹر طاہرہ کاظمی اور نام نہاد دین کے ٹھیکیدار بنے بغیر دلیل ملاؤں کو مخاطب کرکے بتلاتا ہوں کہ کس طرح دین اسلام میں عورت پہ لگے جہالت کے تالے تڑوائے اسلام میں مرد حاکم تو ضرور ہے مگر درحقیقت ایک وفا شعار مرد اپنی بیوی،بہن,،بیٹی کا درحقیقت رکھوالا اور چوکیدار ہونے کیساتھ اس کا غلام بھی ہے اور اس غلامی پہ فخر بھی ہے کیونکہ عورت صنف نازک ہے اور اسے سماج کے ظالم درندوں سے بچانا اسی طاقتور مرد کا فرض ہے-

    آج بھی مغرب میں عورت اپنے مرد کے شانہ بشانہ کام کرکے بچے پالتی ہے جبکہ اسلام میں مرد کو حاکم قرار دیتے ہوئے گھر کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے سو مطالعہ اسلام کرلیں کمانا اور گھر چلانا مرد پہ فرض ہے نا کہ عورت پہ ہاں عورت اگر اپنی مرضی سے مرد کی معاون بنے تو کوئی روک ٹوک نہیں بلکہ گھر و معاشرے میں مذید خوشحالی آتی ہے آج ارض پاک میں عورت وزیر اعظم ،ایم پی اے, ایم این اے،سینیٹرز،ڈاکٹرز،پائلٹ، جج بلکہ سب سے اہم و مشکل محکمے فوج میں جرنیل تک جا پہنچی ہے اور یہ سب اسلام کی عورت کو دی گئی برابری کے باعث ہی ممکن ہوا –

    حالانکہ اسلام نے جو مقام عورت کو دیا وہ کسی اور مذہب نے نا تو دیا ہے نا ہی دے پائے گا قران مجید فرقان حمید میں ایک سورہ کا نام نساء ہے جس سے عورت کی حرمت وضع ہوتی ہے یعنی صنف نازک کا اس قدر احترام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قران کی ایک سورہ کو عورت نام کی نسبت سے نساء رکھ دیا کیا کسی اور مقدس کتاب میں بھی ایسا ہے؟ہرگز نہیں دورِ جاہلیت میں عرب کی عورتوں کی قدر و منزلت ذرہ برابر بھی نہ تھی وہ ہر قسم کے انفرادی و اجتماعی حقوق سے محروم تھی اس دور جاہلیت میں عورت صرف ورثے ہی سے محروم نہیں رکھی جاتی تھی بلکہ اس کا شمار اپنے باپ، شوہر یا بیٹے کی جائیداد میں شمار ہوتا تھا چنانچہ مال و جائیداد کی طرح اسے بھی ورثے اور ترکے میں تقسیم کر دیا جاتا تھا اور بازاروں میں مویشیوں کی طرح بیچ دیا جاتا یا پھر زندہ درگور کر دیا جاتا تھا-

    پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور عورت کو برابری نہیں بلکہ مرد سے زیادہ تکریم و تعظیم کے درجات ملے ، اللہ تعالی نے اپنے محبوب نبی کریم سے بذریعہ وحی پیغام بجھوایا جو آج بھی ویسے ہی ہے

    وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ ۔يَتَوَارَىٰ مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ ۚ أَيُمْسِكُهُ عَلَىٰ هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ أَلَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ۔

    (النحل:59 ۔۔60)

    ترجمہ ۔ (اور) جس بات کی اسے خبر دی گئی ہے اس کی(مزعومہ) شناعت کے باعث وہ لوگوں سے چھپتا (پھرتا) ہے (وہ سوچتا ہے کہ) آیا وہ اسے(پیش آنے والی) ذلت کے باوجود( زندہ ) رہنے دے یا اسے( کہیں ) مٹی میں گاڑ دے ۔ سنو جو رائے وہ قائم کرتے ہیں بہت بری ہیں

    یہ آیت اس بابت نازل ہوئی کہ عورتوں کو زندہ درگور کرنا سخت گناہ ہے سو حضرت آدم کا بیٹا اس گناہ عظیم سے دور رہے
    دوسری جگہ فرمایا

    خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا۔

    (النساء:1)

    ترجمہ ۔ اللہ نے تمہیں ایک (ہی) جان سے پیدا کیا اور اس کی جنس سے ہی اس کا جوڑا پیدا کیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس آیت سے بہت اچھی طرح واضح کر دیا ہے عورت اور مرد بحیثیت انسان ایک ہی منصب پر فائز ہیں، مطلب یہ کہ عورت سے غیر انسانی برتاؤ کی مکمل نفی ہو گئی اور جو ایسا کرے گا اس پہ حد لگے گی کیونکہ وہ عورت بھی انسان ہے اور ہر مرد کی طرح اس کے بھی جذبات ہیں احساسات ہیں، وہ بھی مردوں کی طرح کھاتی، پیتی ، سانس لیتی اور دیگر معاملات میں مردوں کی طرح مساوی حیثیت کی حامل ہے

    اس آیت سے عورت کی مرد پر بعض امور میں برابری واضع ہے

    اسلام نے جہاں مردوں کے لئے علم کو فرض قرار دیا وہاں عورت کے لیے اس کے دروازے کھولے اور جو بھی اس راہ میں رکاوٹ و پابندیاں تھیں سب کو ختم کردیا اسلام نے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کی طرف خاص توجہ دلائی اور اس کی ترغیب دی
    جیسا کہ رسولِ خدا نے فرمایا کہ

    طَلَبُ العِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ۔

    (سنن ابن ماجہ)

    عِلم کا حاصل کرنا ہرمسلمان مرد (و عورت)پر فرض ہے اور دوسری جگہ حضرت ابوسعید خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ

    فَلَہُ الْجَنَّةُ مَنْ عَالَ ثَلاثَ بَنَاتٍ فَأدَّبَہُنَّ۔

    (ابو داؤد)

    ترجمہ : جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی ان کو تعلیم تربیت دی، ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ (بعد میں بھی) حسنِ سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے

    واغع رہے کہ نا تو دور جہالت میں مرد کو زندہ درگور کیا جاتا تھا نا ہی مرد کو وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا یہ سب قدغنیں عورتوں کے لئے ہی تھیں جن کو میرے نبی نے برابر حقوق دے کر اعلی مقام عطا فرمایا اور جہالت کے سارے تالے توڑ ڈالے پھر بھی کوئی آج عورت کی تضحیک کرے تو وہ اپنی عقل کا علاج کروائے اور مطالعہ اسلام کرے کیونکہ ایک پکے سچے مسلمان کے ہاں عورت ماں کے روپ میں جنت،بیوی کے روپ میں عزت،بہن کے روپ میں راز دان اور غرور،بیٹی کے روپ میں رحمت ہے میں حکومت وقت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی بات کا نوٹس لیا جائے اور اگر اس بات میں صداقت ہے تو ایسے لوگوں کو فی الفور سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ دنیا کو پتہ چل سکے کہ پاکستان ایک آزاد اسلامی ملک ہے-