Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • مشینی و جدید کاشتکاری اور موسمیاتی سمارٹ فارمنگ کے طریقوں پرمبنی گرین پاکستان انیشیٹیو کا منصوبہ

    مشینی و جدید کاشتکاری اور موسمیاتی سمارٹ فارمنگ کے طریقوں پرمبنی گرین پاکستان انیشیٹیو کا منصوبہ

    گرین پاکستان اقدام SIFC کے تحت سیمینارمنعقد کیا گیا-

    باغی ٹی وی:گرین پاکستان اقدام SIFC کے تحت پاکستان اور کھیت کے نام سے ایک دستاویزی فلم بنائی گئی جس میں پاکستان کی معشیت میں زراعت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے اور کس طرح موسمیاتی تبدیلیوں سے زراعت اور جنگلات کو نقصان پہنچ رہا ہے اس کے لئے کیا اقدامات کئے جانے چاہیئے اس ڈاکیومینٹری کے ذریعے پیغام پھیلانے کی کاوش ہے-

    پاکستان کے کھیت و کھلیان آزادی کے وقت سے ہی اپنے لوگوں کا ذریعہ معاش رہے ہیں،تاہم آب و ہو ا کی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے اہم چیلنجز اب خوارک کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں خوشحالی کا بیج گرین پاکستان انیشی ایٹو ایس آئی ایف سی کے تحت بنائی گئی ایک ایسی دستاویزی فلم ہے جو آپ کو پاکستان کے زراعت کے ماضی کے سفر پر لے جاتی ہے اور اسے درپیش چیلنجوں سے پردہ اٹھاتی ہے اور اس شعبہ میں موجود لامحدود امکانات کا احاطہ کرتی ہے-

    اب جائے جہاں قافلہ دہر ترابی، رہبر نظر آتا ہے رہزن کی طرح

    پاکستان کا سرسبز مستقبل:گرین پاکستان انیشیٹیو کا منصوبہ مشینی و جدید کاشتکاری اور موسمیاتی سمارٹ فارمنگ کے طریقوں پرمبنی ہے،یہ پاکستان میں سبز پاکستان کے انقلاب کی بنیاد رکھے گا اور یہ اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کرنے شراکت کرنے پائیدار اور منافع بخش مستقبل کی راہ ہموار کرنے کا ایک منفرد موقع ہےکسان کمیونٹی اور پالیسی ساز مل کر اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے-

    قازقستان کی ایس سی اے ٹی ائیر لائنز کی افتتاحی پرواز کی لاہور آمد …

  • رنج و الم کی کوئی حقیقت نہ پوچھیے، کتنی ہے میرے درد کی عظمت نہ پوچھیئے

    رنج و الم کی کوئی حقیقت نہ پوچھیے، کتنی ہے میرے درد کی عظمت نہ پوچھیئے

    رحمت النساء ناز

    (پیدائش: 28 جون 1932ء
    وفات: 9 جولائی 2008ء)

    منتخب کلام

    کتنے لگے ہیں زخم جگر پر کسے خبر
    ڈھائی ہے کس نے کتنی قیامت نہ پوچھیے
    ——
    اب تو ہے صرف آمد فصل بہار یاد
    دل ایک پھول تھا جو سر شاخ جل گیا
    ——
    میں سب کچھ بھول جاتی ہوں
    کبھی موسم بھی بدلے تھے
    دھنک کے رنگ پھیلے تھے
    مرے آنگن میں بھی شاید
    کبھی اک چاند اترا تھا
    میں اکثر یاد کرتی ہوں
    مگر پھر بھول جاتی ہوں
    وہ دن جب زندگی کو
    زندگی کی چاہ ہوتی تھی
    کسی کے اک اشارے پر
    دھڑکتا تھا کسی کا دل
    میں اکثر یاد کرتی ہوں
    مگر پھر بھول جاتی ہوں
    ستاروں کا تبسّم
    مسکرانا غنچہ وگل کا
    مرا شہر نگاراں
    اور کئی مانوس رستے بھی
    میں اکثر یاد کرتی ہوں
    مگر پھر بھول جاتی ہوں
    ——
    جب دل کا درد منزلِ شب سے نکل گیا
    محسوس یہ ہوا کوئی طوفان ٹل گیا
    اب تو ہے صرف آمدِ فصلِ بہار یاد
    دل ایک پھول تھا جو سرِ شاخ جل گیا
    جب تک کسی کا نقشِ کفِ پا ہمیں ملا
    ہم سے کچھ اور دور زمانہ نکل گیا
    ہر گُل کے ساتھ ساتھ ہے اک پاسبانِ گُل
    گُل چیں کو ارتباطِ گل و خار کھل گیا
    کچھ راہروانِ شوق بھٹکنے سے بچ گئے
    ہم کیا سنبھل گئے کہ زمانہ سنبھل گیا
    ممکن نہیں کہ بزمِ طرب تک پہنچ سکیں
    اب کاروانِ شوق کا رستہ بدل گیا
    اے نازؔ غم نہیں جو فرشتہ نہ بن سکا
    کیوں اہرمن کے روپ میں انسان ڈھل گیا
    ——
    ایک بوڑھا خزاں رسیدہ شجر
    جس نے اِک عمر سب کا ساتھ دیا
    جب مسافر اگر کوئی تھکتا
    یا، تپش دھوپ کی ستاتی اسے
    اس کے سائے میں بیٹھ جاتا تھا
    اس کے سائے میں کھیل کر بچّے
    ایسے خوش ہوتے جیسے جنت ہو
    اس کی بانہوں میں جُھولتے تھے کبھی
    اور شاخوں سے کھیلتے تھے کبھی
    چھاؤں میں اس کی بیٹھ کر کچھ لوگ
    اپنے دکھ سکھ کے قصّے کہتے تھے
    راز کتنے ہی دفن تھے اس جا
    آج اس میں نہ شاخ ہے نہ ثمر
    اب کسی کو نہیں ہے اس کا خیال
    ہائے بوڑھا خزاں رسیدہ شجر!
    ——
    رنج و الم کی کوئی حقیقت نہ پوچھیے
    کتنی ہے میرے درد کی عظمت نہ پوچھیئے
    کتنے لگے ہیں زخمِ جگر پر کسے خبر
    ڈھائی ہے کس نے کتنی قیامت نہ پوچھیے
    اشکوں نے راز دل کا کیا جب کبھی عیاں
    کتنی ہوئی ہے مجھ کو ندامت نہ پوچھیے
    ——
    کتنے لمحے ، کتنی گھڑیاں ، کتنے دن
    وقت کے بہتے سمندر کے حوالے کر گئے
    کتنی خوشیاں ، کتنے جذبے ، کتنے رشتے
    بھیک کے پیار کی خاطر غیروں سے منسوب کیے
    کتنا درد چھپایا اپنا ، کتنے پرائے دکھ اپنائے
    کتنے پتھر موم کیے ، کتنے پتھر کنکر چُن کر
    کتنے رستے آسان کیے
    ——
    اگر پیروں میں اک زنجیر پڑ جاتی تو اچھا تھا
    مرے سینے میں بھی پتھر کا دل ہوتا تو اچھا تھا
    مرے ہونٹوں پہ بھی اک مُہر لگ جاتی تو اچھا تھا
    سماعت بھی اگر میری کھو جاتی تو اچھا تھا
    جگر کی آگ بھی ٹھنڈی ، جو ہو جاتی تو اچھا تھا
    بھرم میرا اگر تھوڑا سا رہ جاتا تو اچھا تھا
    مگر جو کچھ ہوا ، اچھا ہوا ، اچھا ہوا ، اچھا ہوا
    وہ باقی آنکھ بھی پتھر کی ہو جاتی تو اچھا تھا
    مگر جو کچھ ہوا ، اچھا ہوا ، اچھا ہوا ، اچھا ہوا

  • عمران خان آرمی چیف کیخلاف مذموم اور بدنیتی پر مبنی مہم میں مصروف ہیں،وزیراعظم

    عمران خان آرمی چیف کیخلاف مذموم اور بدنیتی پر مبنی مہم میں مصروف ہیں،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر پر قاتلانہ حملے کی سوشل میڈیا پر مہم چلانے کی شدید مذمت کی ہے۔

    باغی ٹی وی: شہباز شریف نے ٹوئٹر پرجاری بیان میں کہا کہ عمران خان سی او اے ایس جنرل سید عاصم منیر کے خلاف مذموم، مذموم اور بدنیتی پر مبنی مہم میں مصروف ہیں۔ آرمی چیف کو قاتلانہ حملے کی دھمکی دینے کے لیے استعمال کرنے کی اس کی چال بری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔ قوم اس گھناؤنی سازش کو بھی اسی طرح ناکام بنائے گی جس طرح 9 مئی کو ملک میں خانہ جنگی کی سازش ناکام بنائی تھی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا کہ 9 مئی کے منصوبہ ساز، سہولت کار اور ہینڈلرز کو دوٹوک پیغام ہے کہ پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف ہر سازش کچل دیں گے،ریاستی علامتوں پر اس کے طریقہ کار سے منصوبہ بند حملے کے ناکام ہونے کے بعد، وہ واضح طور پر بے چین ہے اور اقتدار میں واپسی کے لیے مجبور ہونا چاہتا ہے، اسے بہت کم علم ہے کہ اس کی دھمکی، تشدد اور نفرت کی سیاست کا وقت ختم ہو گیا ہے اس طرح کی انتہائی قابل مذمت حرکات کے ذریعے وہ صرف اپنے آپ کو بے نقاب کر رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد اپنے ذاتی مفاد (اقتدار پر قبضہ) کو باقی تمام چیزوں پر ڈالنا ہے۔

    قازقستان کی ایس سی اے ٹی ائیر لائنز کی افتتاحی پرواز کی لاہور آمد …

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور سیاسی جماعتیں اپنے آرمی چیف اور مسلح افواج کے پیچھے چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور ان کے وقار، عزت اور سالمیت کو مجروح کرنے کی کسی بھی کوشش اور سازش کو ناکام بنائیں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ آرمی چیف اور فوج کے خلاف گھٹیا، مذموم اور شر انگیز میڈیا مہم شیطانی ذہن کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، سازشی ذہن اور عناصر ملک میں سیاسی و معاشی استحکام کے خلاف پھر سے سرگرم عمل ہیں، شہداء کے خلاف غلیظ میڈیا مہم چلانے والوں کی نئی میڈیا مہم ایک ہی منصوبے کی کڑی ہے۔

    لندن: پی ٹی آئی کا حامی پاکستان ہائی کمیشن کو نقصان پہنچانے کا مجرم قرار

    وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو میڈیا مہم چلانے والوں کے خلاف اندرون و بیرون ملک قانونی اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف میڈیا مہم آزادی اظہار کے زمرے میں نہیں آتا، یہ صرف سازش ہے جسے پوری قوت سے روکنا قانونی فرض ہے قوم اس گھناؤنی سازش کو بھی اسی طرح ناکام بنائے گی جس طرح 9 مئی کو ملک میں خانہ جنگی کی سازش ناکام بنائی تھی، مایوس عناصر کو بوکھلاہٹ اور مایوسی میں ملک میں نیا بحران پیدا نہیں کرنے دیں گے، ان شاءاللہ قوم اپنی فوج اور اس کے سربراہ کے ساتھ کھڑی ہے۔

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں چھوٹا طیارہ گر کرتباہ ہوگیا

  • جہلم میں سلنڈر  پھٹنے سے 3 منزلہ عمارت گرگئی، 25  افراد کے دبے ہونےکا خدشہ،3 افرادجاں بحق

    جہلم میں سلنڈر پھٹنے سے 3 منزلہ عمارت گرگئی، 25 افراد کے دبے ہونےکا خدشہ،3 افرادجاں بحق

    جہلم میں جی ٹی روڈ پر 3 منزلہ ہوٹل میں سلنڈر پھٹنے سے عمارت گرگئی جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: ریسکیو اہلکاروں کے مطابق ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے، ملبے تلے 25 افراد کے دبے ہونےکا خدشہ ہے، اب تک 7 افراد کو ریسکیو کرکے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے ملبے سے تین افرادکی لاشیں نکالی گئی ہیں، لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

    قبل ازیں سرگودھا کے علاقہ بھلوال میں مسافر وین میں گیس سلنڈر پھٹ گیا ، پولیس اور ریسکیو ادارے موقع پر پہنچ گئی، گاڑی میں 21 مسافر سوار تھے جن میں سات کی موت ہو گئی جبکہ 14 زخمی ہو گئے، جنہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ، پولیس حکام کے مطابق گاڑی بھلوال سے کوٹ مومن جا رہی تھی کہ راستے میں سلنڈر دھماکا ہو گیا-

    تصادم ،4 افراد شدید زخمی

    نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے مسافر وین میں سلنڈر پھٹنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر اور آر پی او سرگودھا سے رپورٹ طلب کرلی ، نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے زخمیوں کوعلاج کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی-

    سیالکوٹ : دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ پر نچلے درجے کا سیلاب

    علاوہ ازیں نقیب آباد فیروزپور روڈ قصور کے نزدیک پرائیویٹ ایمبولینس اور کار میں تصادم ہوا جس میں چار افراد شدید زخمی ہوئے ان کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،ہسپتال ذرائع کا کہنا تھا کہ تین افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔

    سیالکوٹ : پولیس کی کارروائی ۔22 لاکھ روپے مالیت کی ہیروئن برآمد ، …

  • قازقستان کی  ایس سی اے ٹی ائیر لائنز کی افتتاحی پرواز کی لاہور آمد و روانگی

    قازقستان کی ایس سی اے ٹی ائیر لائنز کی افتتاحی پرواز کی لاہور آمد و روانگی

    قازقستان کی ایس سی اے ٹی ائیر لائنز کی افتتاحی پرواز ہفتے کی شب لاہورعلامہ اقبال انتر نیشنل ائیر پورٹ پہنچی جو مسافروں کو لے کر روانہ ہوگئی۔

    باغی ٹی وی: پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان کی طرف سے ہفتہ کو جاری بیان کے مطابق الماتے سے روانہ ہونے والی ایس سی اے ٹی ائیرلائنز کی افتتاحی پرواز ڈی وی 849 نے رات 8 بج کر 10 منٹ پر لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر لینڈ کیا افتتاحی پرواز رات تقریباً 10 بجے 110 مسافروں اور عملےکے 7 افراد کے ساتھ واپس الماتے روانہ ہوئی۔

    ایس سی اے ٹی ائیر لائنز ہفتہ وار ہر بدھ اور ہفتہ کو پرواز چلائے گی جب کہ ائیر لائن کی جانب سے اس سیکٹر پر بوئنگ 737 میکس 8 طیارے استعمال کیے جا رہے ہیں قازقستان کے سفیر کستافن یرزہان بھی اسی افتتاحی پرواز سے الماتے سے لاہور پہنچے۔

    کراچی میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری،مزید بارش کی پیشگوئی

    واضح رہے کہ قبل ازیں اس حوالے سے ٹی ڈی اے پی کے چیف ایگزیکٹو جناب محمد زبیر موتی والا نے قازقستان اور پاکستان کے در میان دو طرفہ تعلقات پر کہا تھاک ہ دونوں قوموں کے درمیان براہ راست ہوائی پرواز کا آغاز ایک اہم تبدیلی لائے گا، جس سے تجارت میں اضافہ، ثقافتی تبادلے اور باہمی مفاہمت کو فروغ ملے گا۔

    تجھ سے سب کچھ کہہ کے بھی کچھ ان کہی رہ جائے گی

    ان کا کہنا تھا کہ قازقستان اور پاکستان کے درمیان براہ راست فضائی راستہٍ تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے اور دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے نقل و حمل کے آسان اور موثر ذرائع فراہم کرتے ہوئے یہ براہ راست پرواز بلاشبہ دونوں ممالک کے تاجروں، سیاحوں اور سرمایہ کاروں کو نئے مواقع تلاش کرنے، اپنے آپریشنز کو وسعت دینے اور مضبوط اقتصادی تعلقات استوار کرنے کی ترغیب دے گی۔

    نواز شریف کی واپسی کیلئے قانونی مشاورت جاری ہے،عطا تارڑ

    انہوں نے اقتصادی اہمیت کے علاوہ، قازقستان اور پاکستان کے درمیان ثقافتی تبادلے کی اہمیت پر زور دیا۔ براہ راست ہوائی پرواز دونوں ممالک کے لوگوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ تعامل میں سہولت فراہم کرے گی، جس سے وہ ایک دوسرے کے متحرک ثقافتی ورثے میں اپنے آپ کومتعارف کرا سکیں گے۔ یہ تبادلہ بلاشبہ دونوں ممالک کے درمیان گہری افہام و تفہیم، تعریف اور دوستی کو فروغ دے گا۔

    9 مئی واقعات میں ملوث ایک اور شرپسند گرفتار

  • لندن: پی ٹی آئی کا حامی پاکستان ہائی کمیشن کو نقصان پہنچانے کا مجرم قرار

    لندن: پی ٹی آئی کا حامی پاکستان ہائی کمیشن کو نقصان پہنچانے کا مجرم قرار

    لندن کی ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر پاکستان تحریک انصاف کے حمایتی شخص کو پاکستان ہائی کمیشن کو نقصان پہنچانے کا مجرم قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مشرقی لندن کے رہائشی51 سالہ عامر وسیم چوہدری نے چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری پر احتجاج کرتے ہوئے 18 مئی کو پاکستان ہائی کمیشن کو نقصان پہنچایا تھا عامر وسیم چوہدری نے ہائی کمیشن میں داخل ہونے سے پہلے گالم گلوچ کی، بلڈنگ میں موجود سفارتی عملے کو بھی گالیاں دی تھیں۔

    عامر وسیم چوہدری پر پاکستان ہائی کمیشن پر ’کرمنل ڈیمج‘ کی فرد جرم عائد کی گئی تھی ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں ابتدا میں جرم سے انکار کرنے والے عامروسیم نے شواہد دیکھنےکےبعد جرم تسلیم کرلیا،عدالت نےعامروسیم چوہدری کوپاکستان ہائی کمیشن کو پہنچائے گئے نقصان کا ازالہ کرنے کا حکم دے دیا۔

    9 مئی واقعات میں ملوث ایک اور شرپسند گرفتار

    واضح رہے کہ رواں برس 9 مئی کو پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں نے پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کیا تھا پی ٹی آئی کارکنوں نے جناح ہاؤس لاہور سمیت فوجی تنصیبات، تاریخی عمارتوں، سرکاری املاک اور گاڑیوں کو آگ لگا دی تھی، ان واقعات میں ملوث ملزمان کےخلاف آرمی ایکٹ اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل جاری ہے۔

    کراچی میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری،مزید بارش کی پیشگوئی

    دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی کو 9 مئی کے پُرتشدد واقعات کے دوران جلاؤ گھیراؤ اور جی ایچ کیو پر حملے کے کیس میں نامزد کیا گیا ہے پولیس کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو 9 مئی کے روز جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور جی ایچ کیو پر شرپسندوں کے حملے کے خلاف تھانہ آر اے بازار اور نیو ٹاؤن میں درج مقدمات میں نامزد کیا گیا جی ایچ کیو پر شرپسندوں کے حملے کا مقدمہ تھانہ آر اے بازار میں درج ہے اور اس مقدمے میں پی ٹی آئی رہنما راجہ بشارت سمیت 15 افراد پہلے ہی نامزد ہیں۔

    نواز شریف کی واپسی کیلئے قانونی مشاورت جاری ہے،عطا تارڑ

  • تجھ سے سب کچھ کہہ کے بھی کچھ ان کہی رہ جائے گی

    تجھ سے سب کچھ کہہ کے بھی کچھ ان کہی رہ جائے گی

    حرص کے طوفاں میں ڈھہ جائیں گے سارے محل
    شہر میں درویش کی اک جھونپڑی رہ جائے گی

    خالد سہیل

    پیدائش:09 جولائی 1952ء
    کراچی، پاکستان
    شہریت:پاکستانی
    تعلیم:ایم بی بی ایس
    مادر علمی:خیبر میڈیکل کالج
    پشاور میموریل یونیورسٹی، کینیڈا
    اصناف:ماہر نفسیات، افسانہ نگاری

    نمایاں کام:
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)مذہب ، سائنس ، نفسیات
    ۔ (2)شائزو فرینیا
    ۔ (3)Love Letters to Humanity
    ۔ (4)Freedom of Religion
    ۔ (5)The art of living
    ۔ in your Green Zone

    ڈاکٹر خالد سہیل مشہور ماہرِ نفسیات، ناول نگار، افسانہ نگار، ادیب اور شاعر ہیں ۔
    حالاتِ زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر خالد سہیل 09 جولائی 1952 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پروفیسرعبدالباسط تھے۔ جو1947 میں امرتسر سے لاہور اور پھر 1954 میں لاہور سے کوہاٹ ہجرت کی۔ وہ گورنمنٹ کالج کوہاٹ میں بھی شعبہِ ریاضی کے استاد رہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل نے ابتدائی تعلیم پشاور سے ہی حاصل کی۔ بی ایس سی مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر خالد سہیل نے 1974 میں خیبر میڈیکل کالج پشاور سے ایم بی بی ایس کیا۔

    ایک سال کے ہاؤس جاب کے بعد ایران چلے گئے۔ پھر انہوں نے 1977 میں کنیڈا کی میموریل یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ 1983 میں انہوں نے فیلو شپ ( ایف۔ آر۔ سی۔ پی ) کا امتحان پاس کیا۔ انھوں نے چند سال مختلف ہسپتالوں میں کام کیا۔ وہ 1995 سے لے کر اس وقت تک اپنی نرسوں این ہینڈرسن اور بے ٹی ڈیوس کے ساتھ اپنے(کریٹو سائیکو تھراپی کلینک )میں کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر خالد سہیل نہ صرف بہترین ماہرِ نفسیات اور ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں بلکہ انھیں اردو ادب سے بھی گہرا لگاؤ ہے اور ان کے افسانے، کالم اور شاعری اور تراجم مختلف اخبارات اور مجلوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر خالد سہیل کی تقریباً 66 کتب اردو اور انگریزی میں اب تک شائع ہو چکی ہیں۔ ان میں ادبی موضوعات کی بھی کتب ہیں لیکن زیادہ تر کتب نفسیاتی مسائل سے متعلق ہیں۔

    اردوتصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    شاعری
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ 1۔ تلاش(شاعری)
    ۔ 1986
    ۔ 2۔ سمندر اور جزیرے
    ۔ (شاعری)2006

    افسانے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ 1۔ ادھورے خواب
    ۔ (افسانے، مضامین)2013
    ۔ 2۔ زندگی میں خلا (افسانے)
    ۔ 1987
    ۔ 3۔ دو کشتیوں میں سوار
    ۔ (افسانے)1994
    ۔ 4۔ دھرتی ماں اداس ہے
    ۔ (افسانے)1997
    ۔ 5۔ چند گز کا فاصلہ(افسانے)
    ۔ 2013
    ۔ 6۔ ادھورے خواب
    ۔ (افسانے۔ مضامین)2013

    ناول
    ۔۔۔۔۔
    ۔ 1۔ ٹوٹا ہوا آدمی(ناول)1990
    ۔ 2۔ ورثہ(لوک کہانیاں)1993
    ۔ 3۔ دریا کے اس پار
    ۔ (ناولٹ)1997

    مضامین
    ۔۔۔۔۔
    ۔ 1۔ انفرادی اور معاشرتی نفسیات
    ۔ (مضامین اور خطوط)1991
    ۔ 2۔ پگڈنڈیوں پہ چلنے والا مسافر
    ۔ (مضامین۔ انٹرویو)1996[4]
    ۔ 3۔ میرے قبیلے کے لوگ
    ۔ (مضامین)1998

    فلسفہ
    ۔۔۔۔۔
    ۔ 1۔ بھگوان،ایمان،انسان
    ۔ (فلسفہ)1988
    ۔ 2۔ خدا، مذہب اور ہیومنزم
    ۔ (فلسفہ)2006
    ۔ 3۔ انسانی شعور کا ارتقا
    ۔ (فلسفہ)2012

    تراجم
    ۔۔۔۔۔
    ۔ 1۔ سوغات (تراجم)
    ۔ 1987
    ۔ 2۔ مغربی عورت، ادب اور زندگی
    ۔ 1988
    ۔ 3۔ کالے جسموں کی ریاضت
    ۔ (ترجمہ)1990
    ۔ ( ترجمہ خالد سہیل، جاوید دانش)
    ۔ 4۔ اک باپ کی اولاد
    ۔ (مشرقِ وسطیٰ کا ادب)1994
    ۔ 5۔ ہر دور میں مصلوب1995
    ۔ 6۔ اپنا اپنا سچ(سوانح عمری)
    ۔ 2009

    سیاست اور نفسیاتی تجزیئے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ 1۔ امن کی دیوی
    ۔ خلیج کی جنگ(1992)
    ۔ 2۔ سماجی تبدیلی(ارتقا یا انقلاب)
    ۔ 2009
    ۔ 3۔ القاعدہ، امریکا اور پاکستان
    ۔ (سیاست)2011
    ۔ 4۔ اپنا قاتل(سیریل قاتل کی نفسیات)
    ۔ 2003
    ۔ 5۔ شائزو فرینیا
    ۔ (نفسیات)1998
    ۔ 6۔ نفسیاتی مسائل اور ان کا علاج
    ۔ (از خالد سہیل، گوہر تاج) 2011
    ۔ 7۔ مذہب، سائنس، نفسیات
    ۔ 8۔ ہجرت کے دکھ سکھ
    ۔ (از خالد سہیل، گوہر تاج )2016

    آڈیو کتب
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ 1۔ تازہ ہوا کا جھونکا (شاعری)
    ۔ 2۔ چنگاریاں (افسانے)
    ۔ 3۔ دور کی آواز(نظمیں۔ آواز: ترنم ناز)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تجھ سے سب کچھ کہہ کے بھی کچھ ان کہی رہ جائے گی
    گفتگو اتنی بڑھے گی کچھ کمی رہ جائے گی
    اپنے لفظوں کے سبھی تحفے تجھے دینے کے بعد
    آخری سوغات میری خامشی رہ جائے گی
    کشتیاں مضبوط سب بہہ جائیں گی سیلاب میں
    کاغذی اک ناؤ میری ذات کی رہ جائے گی
    حرص کے طوفان میں ڈھہ جائیں گے سارے محل
    شہر میں درویش کی اک جھونپڑی رہ جائے گی
    چھوڑ کر مجھ کو چلے جائیں گے سارے آشنا
    صبح دم بس ایک لڑکی اجنبی رہ جائے گی
    رات بھر جلتا رہا ہوں میں سہیلؔ اس آس میں
    میں تو بجھ جاؤں گا لیکن روشنی رہ جائے گی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ہماری ذات کے جب در کھلے ہیں
    کبھی اندر کبھی باہر کھلے ہیں
    ہمارے گھر میں وہ اپنائیت ہے
    وہاں آ کر کئی بے گھر کھلے ہیں
    خزاؤں میں جو ڈوبے تھے تو ہم پر
    بہاروں کے حسیں منظر کھلے ہیں
    بظاہر وہ بہت ہی کم سخن تھے
    کتابوں میں مگر جوہر کھلے ہیں
    جو بالوں میں سفیدی آ گئی ہے
    تو پھر جا کر کہیں خود پر کھلے ہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سجا سجا سا نئے موسموں کا چہرہ ہے
    خزاں کا حسن بہاروں سے بڑھ کے نکھرا ہے
    رفاقتوں کے سمندر میں شہر بستے ہیں
    ہر ایک شخص محبت کا اک جزیرہ ہے
    سفر نصیب ہوا جب سے شاہراہوں پر
    تو فاصلوں کا بھی احساس مٹتا جاتا ہے
    ہمارے دور کی تاریکیاں مٹانے کو
    سحاب درد سے خوشیوں کا چاند ابھرا ہے

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    خواب نگر
    ۔۔۔۔۔
    میرا من اک خواب نگر ہے
    میرے من کی گلیوں، بازاروں اور چوراہوں میں
    لفظوں، رنگوں اور خوشبوؤں کی
    ہلکی ہلکی بارش ہوتی رہتی ہے
    میرا من اک خواب نگر ہے
    میرے من میں
    چاہ کے چشمے
    امن کی نہریں
    آس کے دریا
    پیار سمندر
    ہر سو بہتے رہتے ہیں
    جن میں نہا کر
    اپنے بھی بیگانے بھی
    دانائی کی دھوپ میں لیٹے
    سحر زدہ سے رہتے ہیں
    میرا من اک خواب نگر ہے
    میرے من میں
    درویشوں کا ڈیرا بھی ہے
    اس ڈیرے پر
    شاعر، صوفی، پاپی، دانا سب آتے ہیں
    کچھ سپنے وہ لے جاتے ہیں
    کچھ سپنے وہ دے جاتے ہیں
    ان سپنوں کی دھرتی سے جب
    غزلوں، نظموں، گیتوں کے کچھ
    پھول کھلیں تو برسوں پھر وہ
    خواب نگر کو مہکاتے ہیں
    میرا من اک خواب نگر ہے
    میرے من کی گلیوں، بازاروں اور چوراہوں پر
    لفظوں، رنگوں اور خوشبوؤں کی
    ہلکی ہلکی بارش ہوتی رہتی ہے

  • اب جائے جہاں قافلہ دہر ترابی، رہبر نظر آتا ہے رہزن کی طرح

    اب جائے جہاں قافلہ دہر ترابی، رہبر نظر آتا ہے رہزن کی طرح

    اب جائے جہاں قافلہ دہر ترابی
    رہبر نظر آتا ہے رہزن کی طرح

    علامہ رشید ترابی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رضا حسین المعروف علامہ رشید ترابی (پیدائش: 09 جولائی 1908ء- وفات: 18 دسمبر 1973ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے عالم اسلام کے بلند پایہ خطیب، عالم دین اور شاعر ہیں۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    علامہ رشید ترابی 9 جولائی 1908ء کو برطانوی ہند کی ریاست حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ ان اصل نام رضا حسین تھا لیکن رشید ترابی کے نام سے مشہور ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم علامہ سید علی شوستری، آغا محمد محسن شیرازی، آغا سید حسن اصفہانی اور علامہ ابوبکر شہاب عریضی سے حاصل کی، شاعری میں نظم طباطبائی اور علامہ ضامن کنتوری کے شاگرد ہوئے اور ذاکری کی تعلیم علامہ سید سبط حسن صاحب قبلہ سے اور فلسفہ کی تعلیم خلیفہ عبدالحکیم سے حاصل کی عثمانیہ یونیورسٹی سے بی اے اور الہ آباد یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم اے کیا۔

    علامہ رشید ترابی نے 10 برس کی عمر میں اپنے زمانے کے ممتاز ذاکر مولانا سید غلام حسین صدر العلماء کی مجالس میں پیش خوانی شروع کردی تھی۔ سولہ برس کی عمر میں انہوں نے عنوان مقرر کرکے تقاریر کرنا شروع کیں۔ تقاریر کا یہ سلسلہ عالم اسلام میں نیا تھا اس لیے انہیں جدید خطابت کا موجد کہا جانے لگا 1942ء میں انہوں نے آگرہ میں شہید ثالث کے مزار پر جو تقاریر کیں وہ ان کی ہندستان گیر شہرت کا باعث بنیں علامہ رشید ترابی اس دوران عملی سیاست سے بھی منسلک رہے اور قائد ملت نواب بہادر یار جنگ کے ساتھ مجلس اتحاد المسلمین کے پلیٹ فارم پرفعال رہے۔ قائد اعظم کی ہدایت پر انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور 1940ء میں حیدرآباد دکن کی مجلس قانون ساز کے رکن بھی منتخب ہوئے۔

    پاکستان آمد
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دسمبر 1947ء میں علامہ رشید ترابی کو محمد علی جناح نے پاکستان مدعو کیا تاکہ حضرت مالک اشتر کے نام لکھے گئے حضرت علی ابن ابی طالب کے مشہور خط کا انگریزی میں ترجمہ کریں۔ یہ صفر کا مہینہ تھا، رشید ترابی کی کراچی میں موجودگی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے کراچی کے ایک مہتممِ مجالس سید محمد عسکری نے رشید ترابی کو خالق دینا ہال کراچی میں صفر کے دوسرے عشرہ مجالس سے خطاب کرنے کی درخواست کی۔ علامہ نے یہ درخواست قبول کرلی اور 10 صفر، 1367ھ (24 دسمبر، 1947ء) سے چہلم تک خالق دینا ہال میں اپنے پہلے عشرہ مجالس سے خطاب کیا۔ اس کے بعد (سے 26 سال تک) وہ جب تک زندہ رہے وہ خالق دینا ہال میں ہر برس مجالس کے عشرے سے مستقل خطاب کرتے رہے انہوں نے 1951ء سے 1953ء تک کراچی سے روزنامہ المنتظرکا اجرا کیا۔ اس سے قبل انہوں نے حیدرآباد دکن سے بھی ایک ہفت روزہ انیس جاری کیا تھا۔ 1957ء میں ان کی مساعی سے کراچی میں 1400 سالہ جشن مرتضوی بھی منعقد ہوا۔

    ادبی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    علامہ رشید ترابی ایک قادر الکلام شاعر بھی تھے۔ ان کے کلام کا ایک مجموعہ ”شاخ مرجان“ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی مرتب کردہ کتابیں طب معصومین، حیدرآباد کے جنگلات اور دستور علمی و اخلاقی مسائل بھی شائع ہوچکی ہیں۔

    تصنیف و تالیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    شاخ مرجان
    طب معصومین
    حیدرآباد کے جنگلات
    دستور علمی و اخلاقی مسائل

    وفات
    ۔۔۔۔۔
    علامہ رشید ترابی 18 دسمبر 1973ء کو کراچی میں وفات پاگئے اور کراچی میں حسینیہ سجادیہ کے احاطے میں آسودۂ خاک ہوئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    وہ جو اک قطرہ ہے پانی کا ہوا سے خالی
    دلِ دریا میں ہے اور فکرِ فنا سے خالی
    اب خلش ہے کہ نہیں پوچھنے والا کوئی
    ہائے وہ گھر جو ہو سائل کی صدا سے خالی
    فطرتِ ظُلم جو دم لے تو سنبھل کر دیکھو
    کتنے ترکش ہیں یہاں تیرِ جفا سے خالی
    ہے نتیجے میں وہ ناکام ، زمانے کی قسم
    زندگی جس کی رہی کرب و بلا سے خالی
    دیدنی نور سے ہے نار کا یہ فصل قریب
    دل ہی دوزخ ہے جو ہو صدق و صفا سے خالی
    میں ہوں صیاد قفس میں تو رہے ذکرِ قفس
    اب رہا گھر تو رہے تیری بلا سے خالی
    باغباں دل پہ گراں سخت گراں ہے یہ بہار
    پھول ہیں پھول مگر بوئے وفا سے خالی
    غفلت اک سانس کی رستے سے ہٹا دیتی ہے
    دلِ بیدار ہے اِمکانِ خطا سے خالی
    زندگی کو تو بہرحال گزرنا ہے رشیدؔ
    کام آ جاتے ہیں پھر بھی یہ دلاسے خالی ​

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سفرِ زیست جو لازم ہے ہر اک گام چراغ
    جیسے جلتے ہوں سرِ رہ گزرِ عام چراغ
    کیا سحر تک کوئی جلنے کی تمنا کرتا
    بجھتے دیکھے ہیں اسی دل نے سرِ شام چراغ
    منتظر آنکھ میں خود ہے کوئی تارا روشن
    کیوں جلاتا ہے فلک شام سے گمنام چراغ
    جاگنے والے محبت میں یہی جانتے ہیں
    ہجر کو کہتے ہیں شب داغ کا ہے نام چراغ
    شوق سے آپ جلائیں مگر اتنا سُن لیں
    زرد ہو جاتا ہے خود صبح کے ہنگام چراغ
    کارواں جاتا ہے لے صبح ہوئی چونک رشیدؔ
    اب کہیں اور جلا جا کے سرِ شام چراغ ​

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ارمان نکلتے دلِ پُر فن کے برابر
    ویرانہ جو ہوتا کوئی گلشن کے برابر
    کیوں اہلِ نظر ایک ہے دونوں کی طبیعت
    سُنبل نے جگہ پائی جو سوسن کے برابر
    میں دام پہ گرتا نہیں اے ذوقِ اسیری
    ہاں کوئی قفس لائے نشیمن کے برابر
    میں بھول نہ جاؤں کہیں انجامِ تمنا
    بجلی بھی چمکتی رہی خرمن کے برابر
    کیا لطف اندھیرے کا ، اجالے میں تو آؤ
    پھر داغ نظر آئیں گے دامن کے برابر
    اتنی تو محبت ہو کہ جتنی ہے عداوت
    میزان میں ہر دوست ہو دشمن کے برابر
    لازم ہے اندھیرے کا اجالا وہ کہیں ہو
    تاریک ہے اک رخ مہِ روشن کے برابر
    بس طور جلا اور ادھر غش ہوئے موسٰیؑ
    لوگ اور بھی تھے وادیِ ایمن کے برابر
    اب جائے جہاں قافلۂ دہر ترابیؔ
    رہبر نظر آتا رہے رہزن کے برابر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • آج مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کا یوم وفات منایا جارہا ہے

    آج مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کا یوم وفات منایا جارہا ہے

    کراچی: قائداعظم محمد علی جناح کی بہن اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی 56 ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔

    باغی ٹی وی: حصولِ پاکستان کی جدوجہد میں مسلمان عورتوں میں زندگی کی نئی روح پھونکنے والی مادرِ ملت محترمہ فاطمہ کو دنیا سے رخصت ہوئے 56 سال گزر گئے، فاطمہ جناح 31 جولائی 1893 کو کراچی میں پیدا ہوئیں فاطمہ جناح بچپن سے زندگی کے آخری لمحات تک اپنے بھائی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ ساتھ رہیں اور قوم کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیامادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح 73 برس کی عمر میں 9 جولائی 1967 کو کراچی میں وفات پاگئیں، وہ اپنے عظیم بھائی کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک ہیں،جہاں‌ ہر سال ان کی برسی کے موقع پر خصوصی طور پر لوگ فاتحہ خوانی کے لیے جاتے ہیں۔

    پاکستان کی عظیم خاتون رہنماء مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی قومی خدمات کی کہیں نظیر نہیں ملتی، انہوں نے اپنے بھائی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے شانہ بشانہ وطن عزیزاور پاکستانی قوم کے لئے اپنی زندگی وقف کردی تھی،فاطمہ جناح نے قائدِاعظم کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے برصغیر کی مسلمان خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے حصولِ پاکستان کی منزل کو آسان بنایا اور ان کی گراں قدر خدمات پر انھیں مادرِ ملت کا خطاب دیا گیا-

    محترمہ فاطمہ جناح نے کراچی میں قائم قائد اعظم ہاؤس میں اپنی زندگی کے 17 برس گزارے، یہ جگہ ماضی میں فلیگ اسٹاف ہاؤس کہلاتی تھی،قائد اعظم محمد علی جناح 1944 سے تا وفات اسی میں رہائش پذیر رہے، جبکہ ان کی ہمشیرہ فاطمہ جناح یہاں 1964 تک رہائش پذیر رہیں۔ یہ عمارت حکومت پاکستان نے 1985ء میں اپنی تحویل میں لے لی،محترمہ فاطمہ جناح نے سابق صدر جنرل (ر) ایوب خان کے خلاف اسی عمارت سے الیکشن لڑا، ان کا انتخابی نشان لالٹین اب بھی یہاں محفوظ ہے۔

    ان کے ڈریسنگ روم میں آج بھی محترمہ کے زیر استعمال پرفیوم اور بیڈ روم میں ان کی چپل اور دیگرسامان بھی موجود ہے۔ جن گاڑیوں میں انہوں نے سفر کیا وہ بھی اس میوزیم میں محفوظ کی گئی ہیں۔

  • امریکی ریاست کیلیفورنیا میں چھوٹا طیارہ گر کرتباہ ہوگیا

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں چھوٹا طیارہ گر کرتباہ ہوگیا

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں چھوٹا طیارہ گر کرتباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک ہوگئے، طیارہ فرانسیسی ویلی ایئر پورٹ کے قریب حادثے کا شکار ہوا-

    باغی ٹی وی : امریکی حکام کے مطابق ہفتے کی صبح جنوبی کیلیفورنیا کے ہوائی اڈے پر اترنے کی کوشش کے دوران ایک جڑواں انجن والے طیارے میں سوار تمام 6 افراد اس وقت ہلاک ہو گئے جب یہ خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا،طیارے کو آگ لگنے سے ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت نہ ہوسکی۔

    طیارہ گرنے کے بعد ریسکیو ٹیمیں اور پولیس موقع پر پہنچی تاہم ان کے پہنچنے سے پہلے ہی تمام افراد ہلاک ہوچکے تھے۔ حادثے کا شکار ہونے والا بدقسمت کمرشل طیارہ لاس ویگاس سے جنوبی کیلیفورنیا جارہا تھا۔

    خاکروب کی معمولی غلطی سے امریکی لیبارٹری میں 20 سال کی سائنسی تحقیق ضائع

    نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کے مطابق 1979 کا سیسنا سی 550 بزنس جیٹ لاس ویگاس کے ہیری ریڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے مقامی وقت کے مطابق 3 بج کر 15 منٹ پر روانہ ہوا جبکہ حادثہ ریور سائیڈ کاؤنٹی کے موریٹا میں صبح 4 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا۔

    ریور سائیڈ کاؤنٹی فائر ڈپارٹمنٹ نے ٹویٹ کیا کہ طیارہ "ایک کھیت میں گرا” اور "مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں آگیا۔” صبح 5:35 بجے کے قریب آگ پر قابو پانے سے پہلے "تقریباً ایک ایکڑ پودوں” کو جلا دیا۔

    سمپسن نے کہا کہ لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے، سمندری تہہ نے کم چھتوں اور مرئیت والے علاقے کو لپیٹنا شروع کر دیا۔” "پائلٹ نے ائیر ٹریفک کنٹرول کو اطلاع دی کہ وہ ایک مسڈ اپروچ کرنے والا ہے، جو عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب پائلٹ رن وے کا ماحول نہیں دیکھ سکتا طیارہ اس سے پہلے بھی کئی بار فرنچ ویلی ایئرپورٹ پر اترا تھا۔

    لبنان میں مسجد کے اندر فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق،متعدد زخمی

    ریور سائیڈ کاؤنٹی شیرف کے دفتر نے ایک نیوز ریلیز میں کہا کہ سوار تمام چھ افراد کو جائے وقوعہ پر ہی مردہ قرار دے دیا گیا۔ سمپسن نے کہا کہ تمام متاثرین بالغ تھے۔ فوری طور پر کوئی نام جاری نہیں کیے گئے۔

    FAA اور نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ تحقیقات کر رہے ہیں۔ NTSB تقریباً دو ہفتوں کے اندر حادثے کی ابتدائی رپورٹ جاری کرے گا۔

    ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں علاقے میں یہ دوسرا حادثہ ہے ایک اور سیسنا دوپہر 2 بجے سے کچھ دیر پہلے فرانسیسی ویلی ہوائی اڈے کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ منگل کو ایک شخص ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوئے مقتول کی شناخت 39 سالہ ٹیمیکولا کے رہائشی جیرڈ نیومین کے طور پر ہوئی ہے، جو تین زندہ بچ جانے والے مسافروں کے والد ہیں۔ مبینہ طور پر وہ تربیتی لائسنس کے تحت ہوائی جہاز چلا رہا تھا، جس پر وفاقی ضابطوں کی ممانعت ہے۔

    تھریڈز پراکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے کی کیا قیمت ادا کرنی ہوگی؟