Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • مریم نوازچھوٹی بہن ہیں،سیاست میں آئی ہیں کام کرنے کا موقع دیا  جائے،شاہد خاقان عباسی

    مریم نوازچھوٹی بہن ہیں،سیاست میں آئی ہیں کام کرنے کا موقع دیا جائے،شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ مریم نوازچھوٹی بہن ہیں،سیاست میں آئی ہیں کام کرنے کا موقع دیا جائے-

    باغی ٹی وی : رہنما مسلم لیگ ن اور سابق وازیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے مریم نوازچھوٹی بہن ہیں،سیاست میں آئی ہیں کام کرنے کا موقع دیا جائے مریم نواز کی اس بات سے کہ حکومت ہماری نہیں سے اتفاق نہیں کرتا حکومت ہماری ہے ،ہم اون کرتے ہیں الگ بات ہے میں اس کا حصہ نہیں ہوں۔

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سیاستدانوں کو اغوا کرنے کے حق میں بھی نہیں ،نظام میں درستگی کی ضرورت ہے۔ سیاستدانوں کو گرفتاری کی حمایت نہیں کرتا۔جیل بھرو تحریک سے مسائل کا حل نہیں ہوگا۔کیا پتہ جیل بھرو تحریک پر کوئی گرفتار ہی نہ کریں۔

    انہوں نے کہا کہ صدر مملکت آئین پڑھ لیں، الیکشن کی تاریخ دینا یا الیکشن کروانا صدر کا نہیں، الیکشن کمیشن کا کام ہے،لیکشن کمیشن ہی فیصلہ کرے گا الیکشن کب ہوں گے، آئین میں لکھا ہے کہ الیکشن نوے دن کے اندار کروانے ہیں، اگر وہ نہیں کروا سکیں گے تو پھر انہیں عدالت میں جواب دینا پڑے گا، حکومت بھی الیکشن نہ روک سکتی ہے نہ کروا سکتی ہے، موجودہ نظام کے پاس معاشی مسائل حل کرنے کی اہلیت ہے، نہ قابلیت اور نہ ہی نیت ہے۔

    ن لیگی رہنما نے کہا کہ الیکشن ہونے چاہییں ،نتیجہ جو بھی ہوگا دیکھا جائے گا۔بدقسمتی ہے الیکشن بھی قومی مسائل کا حل نہیں۔ملکی مسائل کا واحد حل ملکر بیٹھنے میں ہیں،نئی جماعت بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں نہ ہی مقصد ہے۔

    انہوں نے چیئر مین نیب کے مستعفی ہونے پر کہا ہے کہ آفتاب سلطان بہت محنتی اور ایماندار انسان ہیں، جو وجوہات ہوں گی وہ درست ہی ہوں گی میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ نیب کو ختم کر دینا چاہیےیہ ادارہ اتنا خراب اور کرپٹ ہو چکا ہے کہ اپنی خرابیوں کو چھپانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اگر انہوں نے کام میں مداخلت کا کہا ہے تو بتائیں کہ کس نے اور کیا مداخلت کی ہے۔ میں بھی حکومتی جماعت کا رکن ہوں، میرے خلاف دو کیس چل رہے ہیں جن کا نہ سر ہے نا پاوں ہے، اگر مداخلت ہوتی تو یہ ختم ہو چکے ہوتے مداخلت اسٹیبلشمنٹ اور عدالتوں کی طرف سے بھی ہو سکتی ہےنیب کو جڑ سے اکھاڑنے کی ضرورت ہےملک میں معاشی بدحالی کی بڑی وجہ نیب ہے۔

  • ایک ایک پلاٹ والے کو کہا جاتا ہے اندر کر دو اور اربوں والے باہر ہیں ، چئیرمین نیب آفتاب سلطان کا الوداعی خطاب

    ایک ایک پلاٹ والے کو کہا جاتا ہے اندر کر دو اور اربوں والے باہر ہیں ، چئیرمین نیب آفتاب سلطان کا الوداعی خطاب

    مستعفی چیئرمین نیب آفتاب سلطان کا کہنا ہے کہ ایک ایک پلاٹ والے کو کہا جاتا ہے اندر کر دو اور اربوں والے باہر ہیں-

    باغی ٹی وی : نیب ہیڈکوارٹرز میں مستعفی چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے الوداعی خطاب میں کہا کہ نیب افسران غیر قانونی اور غیر آئینی احکامات نہ مانیں ،نیب میں دیگر اداروں کی مداخلت برداشت نہیں کر سکتا،میں نہ کچھ لے کر آیا تھا نہ ہی کچھ لے کر جا رہا ہوں، نیب افسران صرف قانون کی سنیں اور کسی کی مداخلت برداشت نہ کر دیں-

    مستعفی چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے کہا کہ نیب افسران ڈٹ کر آزادی سے کام کریں ، نیب کو ایمانداری سے چلایا ،کسی کی مداخلت قبول نہیں کی ،نیب کے99 فیصد لوگ اچھے ہیں ،ایک فیصد میں مسئلہ ہے ،مجھے کہا گیا کہ فلاں بھائی کوچھوڑ دو، اس کے پاس ایک پلاٹ ہے، اپنی اربوں روپےکی پراپرٹی اور ایک پلاٹ والے کو پکڑلوں؟ ملک کے دو صوبوں میں آئین کے مطابق انتخابات کرائیں،آنے والی نئی حکومتوں کو تسلیم کریں-

    واضح رہے کہ چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے استعفیٰ دے دیا ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف سے چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے ملاقات کی اور اپنا استعفیٰ پیش کیا، جس کے بعد ان کا استعفی وزیراعظم نے منظور کر لیا ہے۔

    سابق چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے کہا کہ میں نے کچھ دن پہلے استعفا دیا تھا اور مجھے کچھ چیزوں کے بارے میں کہا گیا جو مجھے قبول نہیں تھیں میں نے بتایا کہ میں شرائط کےساتھ کام جاری نہیں رکھ سکتا، میرا استعفیٰ قبول کرلیا گیا ہے اور ہمارا اختتام اچھے موڑ پر ہوا ہے، وزیراعظم نے میرے لیے نیک خواہشات کا اظہارکیا، میری بھی ان کے لیے نیک خواہشات ہیں۔

    ذرائع کے مطابق آفتاب سلطان قانون کے مطابق چیزوں کو کرنے کے حق میں تھے اور ان پر گرفتاریوں کے لیے دباؤ تھا آفتاب سلطان نے کسی کی خواہش پر کام کرنے سے انکار کردیا تھا، وہ نہیں چاہتے تھےکہ وہ سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کی طرح کا کردار ادا کریں۔

    آفتاب سلطان کا تعلق پولیس سروس پاکستان سے ہے اور وہ گریڈ 22 کے آفیسر ہیں، آفتاب سلطان ڈی جی آئی بی سمیت دیگر اہم عہدوں پر بھی تعینات رہے آفتاب سلطان نے سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کی ریٹائرمنٹ کے بعد جولائی 2022 کو نیب کی سربراہی سنبھالی تھی۔

  • شاہد خاقان عباسی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    شاہد خاقان عباسی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایل این جی ریفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

    احتساب عدالت نے ایل این جی کیس میں شاہد خاقان عباسی کو آج طلب کیا تھا لیکن ان کی جانب سے ان کے وکیل بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے احتساب عدالت کے جج نے ناصر جاوید نے کیس میں عدم حاضری اور استثنیٰ کی درخواست دائر نہ کرنے پر وارنٹ جاری کیے ہیں۔

    عدالت نے شریک ملزمہ عظمیٰ عادل کے بھی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

  • مستونگ میں لیویز چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملہ، دو اہلکار شہید

    مستونگ میں لیویز چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملہ، دو اہلکار شہید

    کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع مستونگ میں لیویز چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں دو اہلکار شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی :اسسٹنٹ کمشنر برکت بلوچ کے مطابق دہشت گرد اہلکاروں کا اسلحہ بھی ساتھ لے گئے، فورسز نے ناکہ بندی کرکے دہشت گردوں کی تلاش شروع کر دی شہید لیویز اہلکاروں کی لاشیں اسپتال منتقل کر دی گئیں۔

    مقامی افراد نے واقعےکے خلاف کوئٹہ تفتان قومی شاہراہ بلاک کردی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے مستونگ میں لیویز چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملےکی مذمت کرتے ہوئے شہید ہونے والے لیویز اہلکاروں کے بلند درجات کی دعا اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے-

    وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کا قلع قمع کرنےکے لیے سکیورٹی فورسز کے عزم اور حوصلے بلند ہیں، شہداءکو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے مستونگ میں2 لیویز اہلکاروں کی شہادت اورچمن میں پولیس چیک پوسٹ پرفائرنگ کی مذمت کی ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہےکہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات باعث تشویش ہیں، دشمن صوبےکا پرامن ماحول خراب کرنا چاہتا ہے، دہشت گرد عناصرکو قانون کی گرفت میں لانےکے لیے تمام وسائل بروئےکارلائے جائیں ملک دشمن عناصرکی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے مزید مستعد اور چوکنا رہنا ہوگا۔

    وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء لانگو نے مستونگ لیویز چیک پوسٹ اور چمن ناکے پر حملوں کی مذمت کی ہے۔

  • ملک میں انتخابات نہیں ہوئے تو خانہ جنگی ہوگی،شیخ رشید

    اسلام آباد: عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہےکہ ملک میں انتخابات نہیں ہوئے تو خانہ جنگی ہوگی۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد کچہری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ آبپارہ پولیس منشیات فروشی کے لیے مشہور ہے، پولیس نے میرے گھر پر ڈاکا ڈالا اور قیمتی اشیا بھی چوری کیں، میں نے فون کے پاسورڈ پولیس کو دے دیے ہیں، امید ہے لائسنس شدہ اسلحہ اور گھڑیاں واپس مل جائیں گی۔


    انہوں نے کہا کہ آبپارہ پولیس منشیات فروشی کے لیے مشہور ہے تاہم 23 فروری کو مری جاوں گا امید ہے لائیسنس شدہ اسلحہ اور گھڑیاں واپس مل جائیں گی پولیس سابق منسٹرز کے گھرپرڈکیتی کرتی ہے اور کوئی تھانہ پرچہ لینے کو تیار نہیں ہے لیکن یہ انتقام کی سیاست اپنے انجام کو پہنچے گی اور 30 اپریل سے پہلے نتیجہ آئے گا۔

    شیخ رشید نے کہا کہ مریم نواز نے کہا ان کی حکومت نہیں، تو کون آپ کو لے کر آیا؟ معلوم نہیں انتخابات ہوتے ہیں یا نہیں لیکن ڈھول حکومت کے گلے میں لٹکا رہےگا۔


    صدر کی جانب سے الیکشن کے اعلان پر شیخ رشید نے کہا کہ صدر نے ٹھیک آئینی و قانونی اعلان کیا ہے جو سیاسی جماعت انتخابات سے بھاگتی ہے وہ مافیا ہے، صدر عارف علوی نے اپنا حق ادا کردیا ہے، ملک میں انتخابات نہیں ہوئے تو خانہ جنگی ہوگی۔


    اپنے ایک ٹوئٹ میں بھی انہوں نے کہا ہےکہ صدر عارف علوی کا فیصلہ آئینی اور قانونی ہے اگر صدر کی بات نہیں مانی گئی تو ملک میں آئینی بحران پیدا ہوجائے گا اور ملک بند گلی میں داخل ہوجائے گادونوں صوبوں میں 9 اپریل کوالیکشن کرانےہوں گےورنہ گھمبیراور سنگین حالات پیدا ہوجائیں گے ملک جسکا متحمل نہیں ہوسکتا اور آخری فیصلہ سپریم کورٹ کے کندھوں پر آجائے گا-

    شیخ رشید نے کہا کہ جس تیزی سے حالات بگڑ رہے ہیں اور ملک آئینی بحران کی طرف جارہا ہے اس میں خاموشی گناہ ہے، بحران کے وقت ملک کے وزیر خارجہ اور خزانہ دونوں ہی لاپتہ ہیں۔

  • ایف نائن پارک اجتماعی زیادتی کیس:عدالت نےایس ایچ اوکو اگلی تاریخ پر ریکارڈ سمیت طلب کرلیا

    ایف نائن پارک اجتماعی زیادتی کیس:عدالت نےایس ایچ اوکو اگلی تاریخ پر ریکارڈ سمیت طلب کرلیا

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے ایف نائن پارک میں اجتماعی زیادتی کے ملزمان کی مبینہ مقابلے میں ہلاکت پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایس ایچ او تھانہ گولڑہ کو اگلی تاریخ پر ریکارڈ سمیت طلب کرلیا-

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہلاک شدگان کے لواحقین کی جانب سے جوڈیشل انکوائری کی درخواست پر سماعت کی۔ اس موقع پر لواحقین کی جانب سے ایڈووکیٹ قاضی عادل عدالت میں پیش ہوئے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ مجسٹریٹ کے پاس گئے۔ اگر ہم تھوڑے قاعدے قانون کو فالو کر لیں تو اچھا ہے ناں۔ وکیل قاضی عادل نے سوال کیا ہم ڈیڈ باڈی کے حصول کے لیے کس کو درخواست دیں ؟-

    جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مجھے بتائیں کہ ہائیکورٹ کے پاس جوڈیشل کمیشن بنانے کا کونسا اختیار ہے؟مجھے تو اچھا لگے گا کہ ایسا ہو لیکن ہائیکورٹ کے پاس جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا اختیار ہو متعلقہ ایس ایچ او کو بلا کر اصل حقائق معلوم کرلیتے ہیں-

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اصل داد رسی کوئی بھی نہیں چاہ رہا کیا آپ نے انہیں مشورہ دیا کہ مجسٹریٹ کے پاس جائیں ؟۔ جب میں بطور وکیل پریکٹس کررہا تھاتو تحصیلدار سےہائیکورٹ تک خود ہی جاتا تھا مجھے پورے سسٹم کا اس لیے پتا ہوتا ہے کیوں کہ میں نے فیلڈ میں مار کھائی ہوئی ہے۔ معذرت کے ساتھ وکلا اپنے کلائنٹ کو بھی اچھا مشورہ نہیں دیتے۔

    چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمے میں کہا کہ بلیک کوٹ کی اہمیت آج بھی ہے ، یہ مثبت اور منفی دونوں اطراف سے کہہ رہا ہوں۔ ایک کالے کوٹ والے کا ایس ایچ او کے پاس جانا اور شہری کا جانا مختلف ہےہم غلطیاں بھی وہیں کرتے ہیں جہاں ہم شارٹ کٹس لیتے ہیں آپ تھانے تو جائیں ، مجسٹریٹ کے پاس تو جائیں۔ تھانے اور مجسٹریٹ سے ریلیف نہ ملے تو ہائیکورٹ آجائیں۔

    بعد ازاں عدالت نے ایس ایچ او تھانہ گولڑہ کو اگلی تاریخ پر ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔

  • شاعرہ ہاجرہ نور زریاب کا یوم پیدائش

    شاعرہ ہاجرہ نور زریاب کا یوم پیدائش

    انسانوں کی اس منڈی میں کب پیش نظر معیار رہا
    جب لاکے ترازو میں رکھا جو لوگ تھے بھاری جیت گئے

    21فروری 1978 میں پیدا ہونے والی شاعرہ ہاجرہ نور زریاب کا پورا نام ہاجرہ پروین ہے جبکہ ہاجرہ نور زریاب ان کا قلمی نام ہے ان کی تصنیفات میں ،چاند کے زینے پر، گم شدہ خیالوں کے عکس شامل ہیں-

    ایوارڈ
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1 )پروین شاکر ایوارڈ، صراط مستقیم کالج سلطان پور لکھنو
    ۔ (2) سرسید احمد خان ایوارڈ، جے پور

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    شاہوں کے مصاحب جیت گئے، طاقت کے حواری جیت گئے
    غربت کو شکست ِفاش ہوئی، دولت کے پجاری جیت گئے
    ایامِ اسیری بیت گئے، حالات کے بندی خانے میں
    سچائی یہاں مصلوب ہوئی ،جلسوں کے مداری جیت گئے
    اس جنگل کے قانون کی بھی بجھ پائی نہیں ہے پیاس کبھی
    معصوم پرندے ہار گئے، بے رحم شکاری جیت گئے
    دنیا کے تجارت خانے میں، ہر جنس گراں پامال ہوئی
    ارباب ِہنر ناکام رہے، زر کے بیوپاری جیت گئے
    انسانوں کی اس منڈی میں کب پیش نظر معیار رہا
    جب لاکے ترازو میں رکھا جو لوگ تھے بھاری جیت گئے
    جو راہ وفا میں ان کو ہوئی،ہیں اہل جنوں اس مات پہ خوش
    اور تم مغرور کہ یاروں سے، کرکے غداری جیت گئے
    وہ لوگ خس و خاشاک ہوئے، پھولوں میں جو رکھنے والے تھے
    زریاب مگر کچھ پتھر دل احساس سے عاری جیت گئے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    جب تیری توجہ کے طلبگار ہوئے ہیں
    اشعار میں الفاظ گرفتار ہوئے ہیں
    کھوئے ہوئے لمحات مری نیند میں آ کر
    خوابوں کے جھروکوں میں نمودار ہوئے ہیں
    تم جب بھی گئے یاد کی راہوں سے گزر کر
    ہم ایک نئے کرب سے دوچار ہوئے ہیں
    موجود ہے بس ذات کی خستہ سی عمارت
    دلکش تھے خدوخال جو مسمار ہوئے ہیں
    چھیڑا ہے دکھی ساز کے تاروں کو کسی نے
    سوے ہوئے نالے کہیں بیدار ہوئے ہیں
    تسکین تو دی ہے ترے آنے کی خبر نے
    لمحات مگر اور بھی دشوار ہوئے ہیں
    زریاب تھے جو آبرو ، کل صحن چمن کی
    نیلام وہی گل سر بازار ہوئے ہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دل مرا مضطر بہت پیہم رہا
    زندگی بھر زندگی کا غم رہا
    کچھ تو حاوی درد کا موسم بھی تھا
    کچھ مقدر بھی مرا برہم رہا
    معجزے ہیں سب تمھارے عشق کے
    وصل میں بھی ہجر کا عالم رہا
    منزلیں پھر سے مقدر ہو گئیں
    راہ بھر پھر یاد کا عالم رہا
    کس طرف لے آئی ہے یہ زندگی
    وقت ہم پر مہرباں کیوں کم رہا
    پھر کسی کے تلخ لہجے کے سبب
    ہر چراغ آرزو مدھم رہا
    قہقہوں کے ساتھ آنسو تھے رواں
    رات خوشیوں میں بپا ماتم رہا
    میں نے چھو کر دیکھا اُس کے ہاتھ کو
    میرے ہاتھوں میں بھی جامِ جم رہا
    جب بھی دیکھا آئنہ زریاب نے
    عکس دھندلا ہی سہی تاہم رہا

  • ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے،زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

    ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے،زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

    ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
    زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

    امیر مینائی

    پیدائش: 21 فروری 1829
    وفات: 13 اکتوبر 1900ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امیر مینائی اردو کے مشہور و معروف شاعر و ادیب تھے۔ وہ 1829ء میں شاہ نصیر الدین شاہ حیدر نواب اودھ کے عہد میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ امیر احمد نام مولوی کرم محمد کے بیٹے اور مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تھے۔ لکھنؤ میں پیداہوئے درسی کتب مفتی سعد اللہ اور ان کے ہمعصر علمائے فرنگی محل سے پڑھیں۔ خاندان صابریہ چشتیہ کے سجادہ نشین حضرت امیر شاہ سے بیعت تھی۔

    شاعری میں اسیر لکھنوی کے شاگرد ہوئے۔ 1852ء میں نواب واجد علی شاہ کے دربار میں رسائی ہوئی اور حسب الحکم دو کتابیں شاد سلطان اور ہدایت السلطان تصنیف کیں۔ 1857ء کے بعد نواب یوسف علی خاں کی دعوت پر رامپور گئے۔ ان کے فرزند نواب کلب علی خاں نے اُن کو اپنا استاد بنایا۔ نواب صاحب کے انتقال کے بعد رامپور چھوڑنا پڑا۔ 1900 میں حیدرآباد گئے وہاں کچھ دن قیام کیا تھا۔ کہ بیمار ہو گئے۔ اور وہیں انتقال کیا۔

    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    متعدد کتابوں کے مصنف تھے۔ ایک دیوان غیرت بہارستان، 1857ء کے ہنگامے میں ضائع ہوا۔ موجودہ تصانیف میں دو عاشقانہ دیوان مراۃ الغیب، صنم خانہ عشق اور ایک نعتیہ دیوان محمد خاتم النبین ہے۔ دو مثنویاں نور تجلی اور ابرکرم ہیں۔ ذکرشاہ انبیا بصورت مسدس مولود شریف ہے۔ صبح ازل آنحضرت کی ولادت اور شام ابد وفات کے بیان میں ہے۔

    چھ واسوختوں کاایک مجموعہ بھی ہے۔ نثری تصانیف میں انتخاب یادگار شعرائے رام پور کا تذکرہ ہے، جو نواب کلب علی خان کے ایما پر 1890ء میں لکھا گیا۔ لغات کی تین کتابیں ہیں۔ سرمہ بصیرت ان فارسی عربی الفاظ کی فرہنگ ہے جو اردو میں غلط مستعمل ہیں۔ بہار ہند ایک مختصر نعت ہے۔ سب سے بڑا کارنامہ امیر اللغات ہے جس کی دو جلدیں الف ممدودہ و الف مقصورہ تک تیار ہو کر طبع ہوئی تھیں کہ انتقال ہو گیا۔

    چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ
    سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

    تم کو آتا ہے پیار پر غصہ
    مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے

    وصل کا دن اور اتنا مختصر
    دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے

    ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
    زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

    ابھی آئے ابھی جاتے ہو جلدی کیا ہے دم لے لو
    نہ چھیڑوں گا میں جیسی چاہے تم مجھ سے قسم لے لو

    ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری
    کیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میری

    مانگ لوں تجھ سے تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے
    سو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے

    آنکھیں دکھلاتے ہو جوبن تو دکھاؤ صاحب
    وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے

    امیرؔ اب ہچکیاں آنے لگی ہیں
    کہیں میں یاد فرمایا گیا ہوں

    فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا
    کبھی تکیہ ادھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا

    کسی رئیس کی محفل کا ذکر ہی کیا ہے
    خدا کے گھر بھی نہ جائیں گے بن بلائے ہوئے

    آہوں سے سوز عشق مٹایا نہ جائے گا
    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

    پھر بیٹھے بیٹھے وعدۂ وصل اس نے کر لیا
    پھر اٹھ کھڑا ہوا وہی روگ انتظار کا

    ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں
    تمہارے دیکھنے والوں میں یار ہم بھی ہیں

    اللہ رے سادگی نہیں اتنی انہیں خبر
    میت پہ آ کے پوچھتے ہیں ان کو کیا ہوا

    جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ
    حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ

    بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میری
    میری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری

    کون اٹھائے گا تمہاری یہ جفا میرے بعد
    یاد آئے گی بہت میری وفا میرے بعد

    سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ
    نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ

    جو چاہئے سو مانگیے اللہ سے امیرؔ
    اس در پہ آبرو نہیں جاتی سوال

  • توشہ خانہ ریفرنس:عمران خان پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی

    توشہ خانہ ریفرنس:عمران خان پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی

    اناسلام آباد: توشہ خانہ ریفرنس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان پر آج بھی فرد جرم عائد نہ ہو سکی-

    باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں توشہ خانہ ریفرنس سے متعلق عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کے کیس کی سماعت ہوئی، کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نےکی۔

    عمران خان کے وکیل گوہر علی خان اور الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن عدالت میں پیش ہوئے جب کہ عمران خان آج بھی عدالت میں پیش نہ ہوئے، وکلاء کی جانب سے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی گئی-

    الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے اعتراض کیا، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کل لاہور ہائیکورٹ اپنے پاؤں پرکھڑے ہوکرگئے۔

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان زمان پارک سے لاہور ہائیکورٹ گئے، سکیورٹی کے باعث وقت لگا، اسلام آباد کچہری میں پیشی تھوڑی مشکل ہے، عمران خان کو ڈاکٹروں نے آرام کا مشورہ دیا ہے، ڈاکٹروں کی ہدایت اور سکیورٹی وجوہات کے باعث عمران خان نہیں آئے، ان پر انسداد دہشت گردی اور دیگر عدالتوں میں بھی کیسز ہیں، 28 فروری کو عمران خان کا ایکسرے ہو جائےگا۔

    عدالت نے کہا کہ 28 فروری کو بھی ایکسرے ہونے ہیں؟ 9 سے 21 تاریخ تک عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں آرہی ہیں، ایسے رہا تو ٹرائل لمبا ہوتا چلا جائےگا۔

    جج نے ریمارکس دیئےکہ عمران خان کی پمز سے طبی رپورٹ بنوا لیتے ہیں، عمران خان کی میڈیکو لیگل رپورٹ دکھا دیں تاکہ انجری کی نوعیت دیکھ لیں، قانون کے مطابق کیس کی کاپیاں ملزم کو دی جاتی ہیں، عمران خان کو آج بھی ذاتی حیثیت میں عدالت نے طلب کر رکھا تھا، عمران خان کو ہر تاریخ پر حاضری سے استثنیٰ دیا جارہا ہے ہم مسلسل آپ لوگوں کی مان ہی رہے ہیں، صرف کاپیاں فراہم کرکے فرد جرم عائدکرنی ہے۔

    عدالت نے الیکشن کمیشن کو عمران خان کے وکلاء کو کاپیاں فراہم کرنےکی ہدایت کردی۔

    وکیل الیکشن کمیشن نےکہا کہ عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ پر آج اعتراض نہیں کریں گے، اگلی سماعت پر عمران خان کی حاضری یقینی بنائیں عدالت نےکہا کہ28 فروری کی تاریخ دے دیتے ہیں، عمران خان کی حاضری یقینی بنائیں۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نےکیس کی سماعت 28 فروری تک ملتوی کردی۔

    واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو بھجوایا تھا، ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرکا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ عمران خان پرکرپٹ پریکٹس کا ٹرائل کرے.

    توشہ خانہ ریفرنس الیکشن ایکٹ کےسیکشن 137 ،170 ،167 کے تحت بھجوایا گیا ہے، ریفرنس میں استدعا کی گئی ہےکہ عدالت شکایت منظور کرکے عمران خان کو سیکشن 167 اور 173 کے تحت سزا دے، ریفرنس میں 3 سال جیل اور جرمانےکی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

  • طالبان کا امریکی فوجی اڈوں کو اکنامک زونز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ

    طالبان کا امریکی فوجی اڈوں کو اکنامک زونز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ

    کابل: طالبان کے نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر نے کہا ہے کہ ملک بھر میں سابق غیر ملکی فوجی اڈوں کو’’ اسپیشل اکنامک زونز‘‘میں تبدیل کرنے کا منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق طالبان حکومت کےنائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادرنےکہا ہےکہ طویل مشاورت کے بعد وزارت صنعت و تجارت کو امریکا سمیت غیرملکی فوجی اڈوں کی جگہ ’’اکنامک اسپیشل زونز‘‘ کی تعمیر کی اجازت دیدی گئی۔

    نائب وزیراعظم ملا عبد الغنی برادر نے کہا کہ دارالحکومت کابل اور شمالی صوبہ بلخ میں فوجی اڈوں کو تبدیل کرنے کا ایک پائلٹ منصوبہ جلد ہی شروع کیا جائے گا جس سے افغان معیشت کو استحکام ملے گا۔

    نائب وزیر اقتصادی امور نے بتایا کہ اس حوالے سے ایک کمیٹی دسمبر میں بنائی گئی تھی-

    خیال رہے کہ 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان کے عالمی فنڈز منجمد ہیں جس کے باعث 20 سال سے جنگ کے شکار ملک کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے اور غربت نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اس وقت حکومت کی تمام تر توجہ تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے معاشی خود کفالت کو بڑھانے پر مرکوز ہےملک میں دو دہائیوں سے غیر ملکی فوجی دستے موجود تھے۔

    ورلڈ بینک کا بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور طالبان انتظامیہ 2022 میں محصولات کو بڑی حد تک مستحکم رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔

    سنگاپور کے ایس راجارتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز سے تعلق رکھنے والے محمد فیضل بن عبدالرحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کو اپنے خزانے میں اضافہ کرنے کی اشد ضرورت ہے اگر وہ بہتر حکومت کرنا چاہتے ہیں اور کچھ ملکی قانونی حیثیت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

    زیادہ اہم بات یہ ہےکہ، طالبان کو اقتصادی منصوبہ بندی کے لیے اپنی وابستگی کو ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں چینی جیسے ممکنہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے دارالحکومت اور سرحدوں کے قریب محفوظ زونز کا قیام اور پڑوسی ممالک کے ساتھ علاقائی تجارت کو بحال کرنا شامل ہے۔

    ایک اندازے کے مطابق افغانستان قدرتی وسائل پر بیٹھا ہے – بشمول قدرتی گیس، کاپر اور نایاب زمین – جس کی مالیت $1tn (£831.5bn) سے زیادہ ہے تاہم، ملک میں کئی دہائیوں کے ہنگاموں کی وجہ سے ان میں سے زیادہ تر ذخائر استعمال نہیں کیے جا رہے ہیں۔

    اگست 2021 میں، آخری امریکی فوجی پرواز نے کابل ہوائی اڈے سے روانہ کیا، جو افغانستان میں 20 سالہ موجودگی اور امریکہ کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کی علامت ہے اس تنازعے میں دسیوں ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں۔

    غیر ملکی فوجی دستوں کے انخلا کے بعد سے افغانستان کے مالی معاملات کئی دوسرے بڑے مسائل کی زد میں ہیں۔ حکومت کے ارکان پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں، مرکزی بینک کے بیرون ملک اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں، اور زیادہ تر غیر ملکی امداد – جو پہلے اس کی معیشت کو سہارا دیتی تھی – کو معطل کر دیا گیا ہے۔

    اس سال کے شروع میں، طالبان نے کہا تھا کہ اس نے شمالی افغانستان میں تیل کی کھدائی کے لیے ایک چینی فرم کے ساتھ معاہدہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے 25 سالہ معاہدہ خطے میں چین کی اقتصادی شمولیت کو واضح کرتا ہے۔

    بیجنگ نے افغانستان کی طالبان انتظامیہ کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے لیکن اس کے ملک میں اہم مفادات ہیں، جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے لیے اہم خطے کے مرکز میں ہے۔

    Xi Jinping کی طرف سے 2013 میں شروع کیا گیا، یہ اقدام ابھرتے ہوئے ممالک کو بندرگاہوں، سڑکوں اور پلوں جیسے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے مالی اعانت فراہم کی-