Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 بل کے خلاف درخواستیں دائر

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 بل کے خلاف درخواستیں دائر

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 بل کے خلاف درخواستیں دائر کر دی گئی

    درخواست میں وفاقی حکومت، صدر مملکت اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، راجہ عامر اور عبداللہ ملک ایڈووکیٹ کی جانب سے درخواستیں دائر کی گئی ہیں ۔درخواستیں خواجہ طارق رحیم جانب سے دائر کی گئی ہیں۔درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا کہ پارلیمان کو سپریم کورٹ کے معاملات میں مداخلت کا کوئی آئینی اختیار نہیں، آئین کے آرٹیکل 191 اور 142، 70 اور انٹری 55فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ کے تحت پارلیمان کو سپریم کورٹ کے معاملات میں اختیار نہیں، سپریم کورٹ کے رولز 1980 سے بنے ہوئے ہیں، قومی اسمبلی، سینیٹ اور باقی سب کے اپنے رول ہیں جو انہوں نے خود بنائے ہیں، آئین کے آرٹیکل 184/ 3 کے تحت اپیل کا حق نہیں دیا گیا تو ایکٹ کے تحت بھی نہیں دیا جا سکتا،بینچ بنانے کا اختیار چیف جسٹس کا ہے،سپریم کورٹ اپنے فیصلوں اور از خود نوٹس کے معاملے کے حوالے سے معیارات طے کر چکی ہے،یہ قانون بنیادی حقوق کے متصادم ہے،بل بدنیتی پر مبنی ہے،یہ بل آئین کے ساتھ دھوکہ ہے، موقف بل کو کالعدم قرار دیا جائے، صدر مملکت کو بل پر دستخط سے روکا جائے،عدالتی کارروائی تک بل کو معطل رکھا جائے،

    علاوہ اذیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے سیکشن 4 کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔ لاہورہائیکورٹ میں شہری مشکور حسین نے ندیم سرور ایڈووکیٹ کی وساطت سےدائر درخواست میں وفاقی حکومت اورصدر کوبذریعہ پرنسپل سیکرٹری فریق بنایا ہے۔

    سردار تنویرالیاس کی نا اہلی کے بعد خواجہ فاروق آزاد کشمیر کے قائم مقام …

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ دونوں ایوانوں سے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجربل منظور ہوکر ایکٹ بن چکا ہے اور ایکٹ کے سیکشن 4 کے ذریعے سوموٹو فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دیاگیا ہے البتہ سوموٹو کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دینا آرٹیکل 184 اور 185 کے منافی ہے اپیل کا حق صرف آرٹیکل 184 اور 185 میں ترمیم کرکے ہی دیا جاسکت ہے۔

    درخواست گزار نے استدعا کی ہےکہ عدالت سپریم کورٹ پریکٹس اینڈپروسیجر ایکٹ کے سیکشن 4کوکالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست کے حتمی فیصلے تک سیکشن 4 پر عملدرآمد روکے۔

    بالاکوٹ میں بھارتی فضائیہ کا ہیلی کاپٹر مار گرانے کا واقعہ،گروپ کیپٹن کی کورٹ مارشل …

    قبل ازیں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا سپریم کورٹ میں محمد شافع منیر ایڈووکیٹ نے درخواست دائر کی ہے جس میں وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا جبکہ وکیل سعید آفتاب نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کو چیلنج کیا گیا-

    نیشنل ڈائیلاگ ہوں تو معاملہ حل ہونے میں دیر نہیں لگے گی. وفاقی وزیرداخلہ رانا …

  • بالاکوٹ میں بھارتی فضائیہ کا ہیلی کاپٹر مار گرانے کا واقعہ،گروپ کیپٹن کی کورٹ مارشل رپورٹ میں سچائی سامنے آ گئی

    بالاکوٹ میں بھارتی فضائیہ کا ہیلی کاپٹر مار گرانے کا واقعہ،گروپ کیپٹن کی کورٹ مارشل رپورٹ میں سچائی سامنے آ گئی

    نئی دہلی: بھارتی فضائیہ کا گروپ کیپٹن کو اپنی ہی قیادت کی غلطی کا خمیازہ بھگتنا پڑ گیا، کورٹ مارشل کی رپورٹ میں سچائی سامنے آ گئی-

    باغی ٹی وی: بھارتی موقر ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا آپریشن ’ سوفٹ رٹارٹ‘ کے دوران بھارت کا ہیلی کاپٹر ایم آئی 17 گرائے جانے کا دعویٰ سچ ثابت ہوا بھارتی فضائیہ کے گروپ کیپٹن سری نگر ایئر فورس اسٹیشن کے چیف آپریشنز آفیسر (سی او او) سمن رائے چوہدری کی کورٹ مارشل رپورٹ سے سچائی سامنے آگئی۔

    پاکستان ائیرفورس نے فروری 2019 میں شاندار صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کا جنگی طیارہ مارگرایا تھا۔ آپریشن ’ سوفٹ رٹارٹ ‘ کے دوران پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے بھارتی غلطی کا پردہ فاش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ بھارت نے اپنا ہی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔ بھارت نے اسے مسترد کرتے ہوئے من گھڑت اور جھوٹ قرار دیا تھا۔

    واقعہ کی منظر عام پر آنے والی رپورٹ میں بھانڈا پھوٹ گیا کہ بھارتی فضائیہ کے گروپ کیپٹن سمن رائے چوہدری اور ونگ کمانڈر شیام نیتھانی نے پاک فضائیہ کی جوابی کاروائی کے دوران “گھبراہٹ” میں اپنا ہی ہیلی کاپٹر مار گرایا تھا۔

    بھارتی فضائیہ کی طرف سے گروپ کیپٹن سمن رائے چوہدری کو”کورٹ مارشل” اور ونگ کمانڈرشیام نیتھانی کو severe reprimand کی سزا سنا دی گئی۔ ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے نتیجے میں بھارتی ائیرفورس کے 6 اہلکاروں سمیت 7 افراد ہلاک ہوئے تھے

    گروپ کیپٹن سمن رائے چوہدری کا حکم عدولی اور بد حواسی میں اپنا ہی ہیلی کاپٹر مار گرانے پر کورٹ مارشل کیا گیاگھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں دئیے گئے احکامات سے بھارتی فضائیہ کو 133.3 کروڑ کا نقصان پہنچا۔

    اخبار کی رپورٹ کے مطابق، فضائیہ کے حکام نے، تاہم، کہا کہ جی سی ایم کے نتائج اور سزا ایئر اسٹاف کے سربراہ کی تصدیق سے مشروط ہے۔ 20 مارچ کو، پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے جی سی ایم کو گروپ کیپٹن چودھری کے خلاف نتائج سنانے کی اجازت دی تھی لیکن حکم دیا تھا کہ اس کے سامنے کیس کے نمٹانے تک ان کو اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔

    دی ٹریبیون کی خبر کے مطابق، ہائی کورٹ نے ابھی تک کیس کو نمٹانا ہے۔

    ہیلی کاپٹر کے حادثاتی طور پر مار گرائے جانے کے بارے میں تنازعہ پیدا ہوا جب آنے والے لوک سبھا انتخابات کی وجہ سے آئی اے ایف نے اس کے بارے میں معلومات کو پوشیدہ رکھا،ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورٹ آف انکوائری نے "اختیاری طور پر طے کیا” کہ Mi-17 V5 ہیلی کاپٹر کو اپنے ہی فائر کے ذریعے گرایا گیا تھا آئی اے ایف سے کہا گیا ہے کہ وہ انتخابات کے بعد تک نتائج کو "چھپائے” رکھیں۔

    مرنے والوں میں پائلٹ سکواڈرن لیڈر ایس وششت اور سکواڈرن لیڈر ننند ایم، سارجنٹ وی کے، پانڈے، سارجنٹ وکرانت سہراوت، کارپورل پنکج کمار، کارپورل ڈی پانڈے اور کفایت حسین گنی،اور بڈگام ضلع سے تعلق رکھنے والا ایک شہری شامل ہیں-

    گروپ کیپٹن چودھری نے جی سی ایم پر زور دیا تھا کہ جب تک کیس ہائی کورٹ میں نہ ہو سزا کے اعلان کو آگے نہ بڑھائے۔ ان کے وکیل کیپٹن سندیپ بنسل (ریٹائرڈ) نے اخبار کو بتایا کہ "گروپ کیپٹن نے 5 اپریل کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کی طرف سے اس معاملے کو نمٹانے تک سزا کے اعلان پر کارروائی نہ کرنے کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ لیکن جج ایڈووکیٹ کے مشورے پر، جی سی ایم آگے بڑھا۔ ہم اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔‘‘

    گروپ کیپٹن سمن رائے چوہدری اور ونگ کمانڈر شایام نتھانی کی سزا نے پاکستانی دعوے کی تصدیق کر دی۔ نت نئے اسکینڈلز نے بھارتی افواج کی ساکھ اور عزت خاک میں ملا دی ہے۔ آپریشن سوفٹ رٹارٹ کی ہزیمت کو چھپانے کیلئے ونگ کمانڈر ابھی نندن کو ویر چکرا کا اعزاز بھی دیا گیا تھا۔

    بھارتی عوام سوال کررہے ہیں کہ کیا اسکینڈلز زدہ بھارتی فوج ایک پیشہ ورانہ فوج کہلانے کی مستحق ہے جو مسلسل آنکھوں میں دھول جھونکتی رہی ہے۔

  • اردو کے معروف  شاعر، ادیب،صحافی اور کالم نگار احفاظ الرحمان

    اردو کے معروف شاعر، ادیب،صحافی اور کالم نگار احفاظ الرحمان

    کر دیتا ہے مٹی کے اندر بھی اجالا سا
    ہو جائے اگر کوئی مینار سپرد خاک

    احفاظ الرحمان اردو کے معروف شاعر، ادیب،صحافی اور کالم نگار تھے۔ وہ 04 اپریل 1942 کو جبل پور ہندوستان میں پیدا ہوئے۔
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    (1)چین،عظیم انقلاب،عظیم تاریخ
    کراچی،فرید پبلشرز ،
    (2)چیئرمین ماؤ کے ساتھ لانگ مارچ۔ ترجمہ
    (3)نئی الف لیلہ(Nai Alif Laila)
    کراچی،فرید پبلشرز، (شاعری)
    (4)چو این لائی(Chou En Lai)
    کراچی،فرید پبلشرز، (سوانح)
    (5)تاریخِ چین۔ کراچی۔ فرید بک پبلشرز
    (6)جنگ جاری رہے گی
    کراچی،سٹی بک پوائنٹ، (مضامین)

    احفاظ الرحمن
    ۔۔۔۔۔۔
    زندہ ہے زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    زاہدہ حنا
    ۔۔۔۔۔۔

    زندگی کے کئی برس اُس احفاظ الرحمن کے ساتھ گزرے جو شعلہ نفس اور شرر بار تھا۔ یہ وہ دن تھے جب جنرل ضیاء الحق کی آمریت کا ڈنکا بجتا تھا۔ باضمیر صحافیوں کا مقدر زنداں تھا، ان کی پشت کوڑوں سے ادھیڑی جاتی تھی اور معاش کا پرندہ ان کے گھر کی منڈیر سے اڑا دیا جاتا تھا، اُس کے پر کتر دیے جاتے تھے۔ ایسے میں کئی تھے جو خموشی سے ملک چھوڑ گئے۔ چند نے سرِ تسلیم خم کر لینے میں عافیت سمجھی اور کچھ وہ بھی تھے جنھوں نے دمشق کے دربار کی طرف قدم نہیں اٹھایا، نہ قلم کی آبرو کسی ملٹی نیشنل کے ہاتھوں فروخت کی۔ نوک قلم سے لفظوں کی مزدوری کی اور اپنے گھر والوں کو روکھی سوکھی کھلائی، ادھڑے ہوئے جوتوں اور گِھسی ہوئی قمیصوں میں زندگی گزارنے کو اپنا اعزاز جانا۔

    احفاظ کا اور میرا ان ہی کڑے موسموں کا ساتھ ہے۔ ہم نے بھنی ہوئی شکرقندی پر نمک اور کُٹی ہوئی سرخ مرچ بُرک کر کھائی اور یوں خوش ہوئے جیسے مغلئی دستر خوان کے شاہی ٹکڑوں سے لطف اندوز ہوئے ہوں۔ مفلسی کا جشن مناتے ہوئے بُھنے ہوئے گرم چنوں کی سوندھی خوشبو ہماری سنگی ساتھی تھی۔ احفاظ اگر یہ مشکل زندگی ہنس کر گزار سکے تو اس لیے کہ مہ ناز ان کے دکھ سکھ کی شریک تھی اور صبر کے دریا میں شکر کی نائو ہنستے ہوئے کھیتی تھی۔ میرا جی خوش ہوا کہ اپنے نئے مجموعے ’زندہ ہے زندگی‘ کا انتساب احفاظ نے مہ ناز اور اپنے بچوں کے نام کیا ہے۔

    احفاظ الرحمان سے میری دوستی پر 35 برس کے سورج طلوع ہوئے اور چاند چمک گئے۔ پھر وہ دن آئے جب احفاظ، مہ ناز اور بچوں کے ساتھ چین چلے گئے‘ میں نے انگلستان کا رخ کیا۔ وہ دونوں وہاں استقامت سے آٹھ برس ڈٹے رہے۔ مجھ سے لندن میں نہ رہا گیا اس لیے بی بی سی کو رخصتی سلام کیا اور ڈیڑھ برس میں ہی واپس آ گئی۔ عرصۂ دراز بعد ملاقات ہوئی تو اندازہ ہوا کہ وقت نے احفاظ کا کچھ نہیں بگاڑا۔ ان کی نازک مزاجی اور اپنے ایمان پر یقینِ کامل آج بھی ان کے وجود کا بنیادی جزو ہیں۔

    جہاں تک ان کے ایمانِ کامل کا معاملہ ہے تو اس کی گواہ ان کی تحریریں‘ ان کی صحافتی جدوجہد اور کراچی پریس کلب کے در و دیوار ہیں۔ انھوں نے کتنی ہی جیلیں کاٹیں‘ کتنی ہی لاٹھیاں کھائیں اور اس سے بڑھ کر یہ کہ کتنی ہی تحریصات اور ترغیبات کے دام سے بچ کر نکلے، اس کا حساب ان کے قریب ترین لوگ خوب جانتے ہیں۔ زیادہ پرانی نہیں 2007ء کی بات ہے یہ جنرل مشرف کی بے لگام حکمرانی کے آخری دن تھے، جب میں نے پریس کلب کے سامنے انھیں سڑک پر گرتے ہوئے اور پولیس کی لاٹھیاں کھاتے اور گرفتاری دیتے دیکھا۔

    انھوں نے نثر لکھی، شاعری کی ۔ ان کے لکھے ہوئے اور بولے ہوئے ہر لفظ کا قبلہ راست رہا۔ ہمارے یہاں ایسے متعدد شاعر گزرے ہیں، جنھوں نے بغاوت اور سیاستِ دوراں کو اپنی شاعری کے ماتھے کا جھومر بنایا اور غیروں کے یہ بول سہے کہ شاعری اور سیاست کا بھلا کیا سمبندھ۔ احفاظ بھی ان ہی میں سے ہیں جن کی شاعری میں سیاست لہو کی طرح گردش کرتی ہے۔

    احفاظ الرحمان بغاوت، آزادی اور جمہوریت کی لڑائی لڑنے والے اس نام دار قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جس کا شجرۂ نسب ڈھائی ہزار سال پرانا ہے اور یونانی ادیبوں سے ملتا ہے اور جس میں اٹھارہویں، انیسویں اور بیسویں صدی کے کیسے نامی گرامی برطانوی، فرانسیسی، امریکی، ایرانی، لبنانی، عراقی اور فلسطینی شاعروں کے نام آتے ہیں۔

    یہ وہ ہیں جو رگِ گل سے بلبل کے پر نہیں باندھتے۔ جن کی لکھی ہوئی سطروں میں اپنے عہد کا آشوب سانس لیتا ہے۔ ہم عشقی، نازک الملائکہ اور نزار قبانی کو کیسے بھلا سکتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ کیسے بُھلائے جا سکتے ہیں جو دنیا کے سات براعظموں میں زندہ رہے اور انسانوں کے بارے میں لکھتے رہے۔ جنھوں نے رنگ، نسل، مذہب اور علاقے کی تفریق کے بغیر مظلوموں کا ساتھ دیا اور اپنے ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں قتل ہوئے، ان ہی میں سے ایک جون لینن تھا جو بیٹیلز گروپ کا سب سے متحرک رکن تھا۔

    اس کے 25 کروڑ سے زیادہ البم فروخت ہو چکے ہیں اس کا شمار برطانیہ کی ہزار برس کی تاریخ کے چند عظیم ترین موسیقاروں اور گلوکاروں میں ہوتا تھا۔ انگریزوں نے اسے اپنی تاریخ کی 100 عظیم شخصیات کی فہرست میں آٹھویں نمبر پر رکھا۔ وہ امن و انصاف کی جدوجہد میں پیش پیش رہا‘ اس نے ویت نام کی جنگ کے خلاف اپنی شاعری اور گلوکاری سے نوجوانوں کو بغاوت پر آمادہ کیا۔

    انہیں ملکہ برطانیہ نے ممبر آف دی آرڈر آف دی برٹش امپائر اپنے ہاتھوں سے دیا تھا لیکن بیافرا نائیجیریا کے تنازعہ میں برطانوی مداخلت اور ویت نام میں برطانیہ کی امریکی حمایت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انہوں نے برطانیہ کا یہ اعلیٰ ترین اعزاز واپس کر دیا تھا پھر انہوں نے امریکا میں رہائش اختیار کی جہاں ایف بی آئی نے اس کی کڑی نگرانی شروع کر دی‘ وہ حق و انصاف کی بات کر رہا تھا، سی آئی اے نے طے کیا کہ وہ اپنے سیاسی نظریات کا زہر اپنے گانوں کے ذریعے ان گنت امریکی نوجوانوں میں منتقل کر رہا ہے۔ اس جرم بے گناہی میں وہ قتل کر دیا گیا۔ احفاظ نے اس کے گیت ترجمہ کیے جو ’’زندہ ہے زندگی‘‘ میں شامل ہیں۔

    احفاظ نے باب ڈیلن ایسے باغی گلوکار اور شاعر کے گیت کے ترجمے بھی اپنے تازہ مجموعے میں شامل کیے ہیں۔ یہ وہی باب ڈیلن ہے جس نے امریکی سماج میں طاقت اور دولت کی بازی گری اور منافقانہ سیاست کی سفاکیوں کو بے نقاب کیا۔ جسے ٹائم میگزین نے بیسویں صدی کی سب سے اثر انگیز اور پرُکشش شخصیات میں سے ایک قرار دیا اور جو ایک دردمند دانش ور کی حیثیت سے امریکی سماج کی منتشر اور متضاد تصویروں کے اندر جھانکتا ہے‘ انھیں ٹٹولتا ہے اور ان کے اندر اپنی موسیقی کے تیکھے اور باغی رنگ بھر دیتا ہے۔ اس کے خیالات کو وہ اردو کا جامہ یوں پہناتے ہیں:

    تم چاہتے ہو، میں مان لوں کہ… عالمی جنگ جیتی جا سکتی ہے… لیکن میں تمہاری آنکھوں کے اندر… اتر سکتا ہوں… اور میں تمہارے دماغوں کے اندر… جھانک سکتا ہوں… تم ٹریگر فکس کرتے ہو… کہ لوگ اس سے فائر کریں… پھر تم آرام سے بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہو۔‘‘

    احفاظ ہمیشہ خوابوں کے تعاقب میں رہے اور اسی تعاقب کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ ’’زندگی بہت سخت جان، بہت توانا ہے۔ زندگی محبت کی خوشبو پھیلاتی ہے اور وہ نفرت کی آگ بھڑکاتے ہیں۔ زندگی کے ہاتھ پہیا ایجاد کرتے ہیں، اس کے دشمن اپنی بالادستی اور برتری کی ہوس میں ایٹم بم بناتے ہیں۔

    دوسروں کو اپنا محتاج اور غلام بنانے کی یہ ہوس سیاسی اور معاشی غلامی کا چلن عام کرتی ہے، نا انصافی کی بھیانک شکلوں کو فروغ دیتی ہے، اونچ نیچ کی دیواریں کھڑی کرتی ہے، لمحہ لمحہ محرومیوں کا زہر پینے والے مجبور اور نادار لوگوں پر قہقہے لگاتی ہے، رات دن مئے عشرت کے جام لنڈھانے والے حاکموں کو بڑھاوا دیتی ہے اور رنگ، نسل، مذہبی عقیدے اور جغرافیائی حد بندیوں کے نام پر ہر گلی، ہر کوچے کو نفرتوں اور تعصبات کے سانپوں سے بھر دیتی ہے۔

    ہم اس خونیں تماشے کے چشم دید گواہ ہیں۔ ہمارے شہروں پر یہ عذاب گزر رہے ہیں۔ ہم ملکوں ملکوں استعمار کی مسلط کردہ جنگیں دیکھتے ہیں، درندہ صفت دہشت گردوں کے خود کش حملوں کو سہتے ہیں۔ شہروں شہروں خون کا دریا بہتا دیکھتے ہیں۔ اسی خوں آشام قبیلے کے بارے میں احفاظ نے لکھا: فصل کانٹوں کی جو اُگاتے ہیں… پھول کے دل کا حال کیا جانیں… خون جن کی غذا ہے، وہ وحشی… پیار کی بول چال کیا جانیں… بچیوں پر جو وار کرتے ہیں… مامتا کا ملال کیا جانیں… امن کے دشمنوں کی بم باری… موت کے خوگروں کی خوں باری۔

    ہمارے شہر جس آشوب سے دوچار ہیں، بارود ان پر جس طور برستی ہے، ہنستے ہوئے بچوں کی چلبلاہٹیں جس طرح خون میں نہلائی جاتی ہیں، اس کی اذیت انھیں فیضؔ کے اس مصرعے کی تصویر بنا دیتی ہے کہ ’آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی‘ اور بے اختیار پکار اٹھتے ہیں۔… کہیں سے کوئی روشنی… کہیں سے کوئی راگنی… اُمڈ کے آئے اور… ملال کی رگوں سے کلفتیں نچوڑ لے… فریب خوردہ شہر کو صلیب سے اتار لے۔

    فریب خوردہ شہر صلیب سے کب اترے گا اور کون اسے اتارے گا، ہم نہیں جانتے، وہ بھی اس سے آگاہ نہیں، اسی لیے وہ ’ہوائے ملال کی تیزی‘ کا شکوہ کر نے کے ساتھ ہی یہ مژدہ سناتے ہیں کہ ’قفس کوئی بھی ہو، اس کا مقدر ٹوٹ جانا ہے زندگی پر ان کے ایمان کا اندازہ ان سطروں سے ہوتا ہے۔… وقت صدیوں سے یوں ہی… مچلتا ہوا، گنگناتا ہوا، رقص کرتا ہوا… ایک پیغام لکھتا رہا سدا… یہ زمیں سانس لیتی رہے گی سدا… زندگی کا ترانہ تو سرسبز ہے… کچھ رہے نہ رہے، زندہ ہے زندگی۔

    ان کی نظموں میں نوم چومسکی، خلیل جبران اور ہوزے مارتی کے حوالے ہیں، ان کی سطروں میں گزرے ہوئے اور موجود دانشوروں کے خیال کی خوشبو سانس لیتی ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ یہ انصاف ہے جو کسی سماج کی تعمیر کرتا ہے۔ ناانصافی… انتشار اور زوال کو جنم دیتی ہے۔ طاقت… انصاف کے خون سے اپنی پیاس بجھاتی ہے اور جہاں جمہوریت نہ ہو، وہاں سرسبز پیڑ جل کر راکھ ہو جاتے ہیں۔
    احفاظ کے لفظوں اور لکھت میں جو طاقت اور دانش ہے، وہ ان کی شاعری میں جھلکتی ہے اور اسے دیکھتے ہوئے جی چاہتا ہے کہ کاش احفاظ اپنا زیادہ وقت اپنی تخلیقات کو دے سکیں اور اپنے پیچھے دانشوری اور شاعری کا ایک شاندار خزینہ چھوڑ جائیں۔
    (آرٹس کونسل کراچی کی چھٹی عالمی اردو کانفرنس میں پڑھا گیا)

    احفاظ الرحمان 12 اپریل 2020ء کو کراچی میں خالق حقیقی سے جا ملے-

  • مجھ کو انسانوں کی دنیا میں ہے انسان کی تلاش

    مجھ کو انسانوں کی دنیا میں ہے انسان کی تلاش

    اور ہی وہ لوگ ہیں جن کو ہے یزداں کی تلاش
    مجھ کو انسانوں کی دنیا میں ہے انسان کی تلاش

    محمد نظیر الدین صدیقی المعروف نظیر صدیقی 7؍نومبر 1930ء کو سرائے ساہو، ضلع چھپرا (بہار) میں پیدا ہوئے۔ 1953ء میں ڈھاکہ سے اردو میں ایم اے کیا۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی میں 1976ء میں ایم اے کیا۔ڈھاکا میں مختلف کالجوں میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔ 1990ء میں بیجنگ یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے سربراہ مقرر ہوئے۔ نظیر صدیقی نے اردو کے علاوہ انگریزی میں بھی مضامین اور ریویو اورکالم لکھے۔ انھوں نے انشائیے اور شخصی خاکے بھی لکھے۔ تنقید نگاری ان کا بنیادی ذریعہ اظہار تھا۔ وہ اردو کے ایک بہترین نثر نگار تھے۔

    12؍اپریل 2001ء کو اسلام آباد میں وفات پاگئے۔ انھوں نے مختلف موضوعات پر اردو اور انگریزی میں 20 سے زائد کتابیں تصنیف کی ہیں۔
    چند کتابوں کے نام یہ ہیں: ’شہرت کی خاطر‘ (انشائیے)، ’تأثرات وتعصبات‘، ’میرے خیال میں‘، ’ادبی جائزے‘، ’تفہیم وتعبیر‘، ’اردو ادب کے مغربی دریچے‘، ’ڈاکٹر عندلیب شادانی۔ایک مطالعہ‘(تنقیدی مضامین)، ’جان پہچان‘ (شخصی خاکے)، ’حسرتِ اظہار‘ (مجموعہ کلام)، ’جدید اردو غزل۔ایک مطالعہ‘، ’اقبال اینڈ رادھا کرشن‘ (انگریزی)، ’گزرگاہ خیال‘، ’اعتراف‘ (جاپانی کتاب کا ترجمہ)، اس کتاب پر اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ایوارڈ دیا گیا۔

    👈 بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:248

    نظیرؔ صدّیقی کے منتخب اشعار

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور ہی وہ لوگ ہیں جن کو ہے یزداں کی تلاش
    مجھ کو انسانوں کی دنیا میں ہے انساں کی تلاش

    ابھی سے وہ دامن چھڑانے لگے ہو
    جو اب تک مرے ہاتھ آیا نہیں ہے

    آئے تو دل تھا باغ باغ اور گئے تو داغ داغ
    کتنی خوشی وہ لائے تھے کتنا ملال دے گئے

    جس درجہ نیک ہونے کی ملتی رہی ہے داد
    اس درجہ نیک بننے کا ارماں کبھی نہ تھا

    جو لوگ موت کو ظالم قرار دیتے ہیں
    خدا ملائے انہیں زندگی کے ماروں سے

    رات سے شکایت کیا بس تمہیں سے کہنا ہے
    تم ذرا ٹھہر جاؤ رات کب ٹھہرتی ہے

    چشمِ نم کچھ بھی نہیں اور شعر تر کچھ بھی نہیں
    اب یہاں خونِ جگر نقشِ ہنر کچھ بھی نہیں

    کسی کی مہربانی سے محبت مطمئن کیا ہو
    محبت تو محبت سے بھی آسودہ نہیں ہوتی

    ماتم نہیں مناسب اب جان کے جہاں کا
    دشتِ طلب کے رستے ہموار ہو گئے ہیں

    ہر شخص بن گیا ہے خدا تیرے شہر میں
    کس کس کے در پہ مانگیں دعا تیرے شہر میں

    اگر بخش دینے پہ تیار ہو تم
    مجھے جرم سے اپنے انکار کیوں ہو

    علم و ہنر کے فیض سے علم و ہنر کے باوجود
    محفلِ زیست میں نظیرؔ رنگ ہے روشنی نہیں

    کس قوت‌ بے درد کا اظہار ہے دنیا
    ہر دل کو گلا ہے کہ دلِ آزار ہے دنیا

    اہلِ کمال کو نظیرؔ اہلِ جہاں نے کیا دیا
    اہلِ جہاں کو کیا نہیں اہلِ کمال دے گئے

  • میانمار میں فوج کی فضائی بمباری کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد ہلاک

    میانمار میں فوج کی فضائی بمباری کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد ہلاک

    میانمار میں فوج کی فضائی بمباری کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق میانمار کے شمال مغربی علاقےساگانگ میں منگل کوفوج نےفضائی حملےکیے، حملے میں ایک ہال کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں ایک تقریب جاری تھی فوجی فضائی حملے میں 53 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں 15 خواتین، بچوں اور عام شہریوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔

    امریکی کانگریس رہنما کاعمران خان کےحق میں امریکی وزیرخارجہ کو خط

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فضائی بمباری میں اس علاقے کو نشانہ بنایا گیا جہاں میانمار کی فوجی حکومت کی مخالفت کی جاتی ہے2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد میانمار کی فوج کی جانب سے اپنے مخالفین پر فضائی بمباری میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نےمیانمار کی مسلح افواج کےحملے کی شدید مذمت کرتےہوئے فوج سے پرتشدد کارروائیاں روکنےکا مطالبہ کیا ہےاقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے میانمار میں فضائی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

    ناسا نے فضائی آلودگی کا جائزہ لینے والا سیٹلائٹ لانچ کر دیا

  • امریکی کانگریس رہنما  کاعمران خان کےحق میں امریکی وزیرخارجہ کو خط

    امریکی کانگریس رہنما کاعمران خان کےحق میں امریکی وزیرخارجہ کو خط

    امریکا کی امور خارجہ کمیٹی کے سینیئر رکن اور کانگریس رہنما بریڈ شرمین نے سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان اور پی ٹی آئی کے حق میں امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کے نام خط لکھا ہے۔

    باغی ٹی وی: بریڈ شرمین کی جانب سے امریکی وزیرخارجہ کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ یہ امریکی مفاد میں ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کو سپورٹ کیا جائےپاکستان کے داخلی حکومتی معاملات میں امریکا مداخلت نہیں کرتا مگرہمیں اس وقت منہ نہیں موڑنا چاہیے جب پاکستانی عوام کے انسانی حقوق کو خطرات لاحق ہوں۔

    مصر کا روس کو 40 ہزار راکٹس خفیہ طور پر دینے کا منصوبہ


    خط میں مزید کہا گیا کہ امریکا کے اس مؤقف کا اعادہ کیا جانا چاہیے کہ حکومت پاکستان لوگوں کے آزادی اظہار ، جمع ہونے، اور پر امن مظاہرے کےحق کا احترام کرے، یہ اہم ہےکہ ایسا جمہوری اور خوشحال پاکستان ہو جہاں لوگ آزادانہ اور کھلے انداز سے جمہوری ڈائیلاگ کرسکیں۔

    بریڈ شرمین نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہےکہ پچھلے سال سیاسی شخصیات بشمول سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل اور صحافی جمیل فاروقی کو مبینہ تشدد اور جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا امین گنڈا پور کی گرفتاری نے خدشات اور بڑھا دیئے ہیں –

    بریڈ شرمین نے کہا کہ عمران خان کے خلاف کئی مقدمات کا اندراج تشویشناک ہےاور ان کےحامیوں کے خلاف طاقت کا استعمال، مظاہرین کی گرفتاریاں بھی باعث پریشانی ہیں، عمران خان کی تقاریر اور پریس کانفرنس دکھانے پر پابندی لگائی جاچکی ہے رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو سیاسی میدان سے ختم کر دیا جائے گا۔

    آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے اجلاس، پاکستانی وفد امریکا پہنچ گیا

    انہوں نے کہا کہ حکام کی جانب سے دو اہم صوبوں میں الیکشن کا التواء جمہوری عمل پر چوٹ ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرے اور الیکشن وقت پر کرائے سپریم کورٹ کے ججوں کے پینل کا فیصلہ حتمی ہے تاہم وزیراعظم شہباز شریف مطالبہ کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کے تمام ججز مقدمے کی سماعت کریں، یہ معاون ہوگا کہ محکمہ خارجہ کے قانونی ماہرین اس نکتے کو واضح کریں۔

    شرمین نےامریکی وزیرخارجہ سے مطالبہ کیا کہ آپ پاکستان پالیسی سے متعلق امریکا کی رہنمائی کریں۔ جس میں انسانی حقوق کے احترام پر زور ہو۔ پاکستانی اتھارٹیز سے مطالبہ کرنے کے لیے تمام سفارتی چیلنز کو استعمال کیا جائے تاکہ مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کوانصاف کےکٹہرےمیں لایا جائےیہ یقینی بنایاجائےکہ مظاہرہ کرنے والی سیاسی شخیصات یا شہریوں کو غیرجمہوری نتائج کا شکا رنہیں بنایا جائے گا۔

    بریڈ شرمین نے کہا کہ پاکستانی امریکن ڈیموکریٹ ڈاکٹر آصف محمود نے ان کی بہترین مشاورت کی جس پر وہ شکر گزار ہیں، ڈاکٹرآصف ہی نے ان کی عمران خان سے فون پربات کرائی تھی۔

    بھارت نے سری نگر میں جی 20 اجلاس طلب کر لیا

  • سردار تنویرالیاس کی نا اہلی کے بعد  خواجہ فاروق آزاد کشمیر کے قائم مقام وزیراعظم

    سردار تنویرالیاس کی نا اہلی کے بعد خواجہ فاروق آزاد کشمیر کے قائم مقام وزیراعظم

    توہین عدالت کیس میں وزیراعظم آزادکشمیر سردار تنویرالیاس کی نا اہلی کے بعد خواجہ فاروق قائم مقام وزیراعظم بن گئے ۔

    باغی ٹی وی: خواجہ فاروق نئے وزیراعظم کے انتخاب تک فرائض سر انجام دیں گے، صدر آزاد کشمیر بیر سٹر سلطان محمود نے دستخط کر کے سمری بھجوا دی ۔

    آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کا انتخاب؛ پارٹی نے عبدالقیوم نیازی کو طلب کرلیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روزعدالت نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم سردار تنویرالیاس کو عدالت برخاست ہونے تک سزا سنائی اور انہیں کسی بھی پبلک عہدے کے لیے نااہل قرار دیا جبکہ ان کی غیر مشروط معافی کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی تھی۔

    تنویر الیاس پر تقاریر میں ججوں کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرنے کا الزام ہے،آزاد کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار کسی وزیراعظم کو توہینِ عدالت پر نا اہل قرار دیا گیا۔

    بریکنگ، وزیراعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس کو عدالت نے نااہل قرار دے دیا

  • ناسا نے فضائی آلودگی کا جائزہ لینے والا سیٹلائٹ لانچ کر دیا

    ناسا نے فضائی آلودگی کا جائزہ لینے والا سیٹلائٹ لانچ کر دیا

    کیلیفورنیا: گزشتہ برسوں میں ناسا نے ارضی و فضائی آلودگی پر نظر رکھنے کے لیے کئی سیٹلائٹ بنائے اور مدار میں بھیجے ہیں جبکہ اب ٹیمپو نامی ایک نیا سیٹلائٹ شمالی امریکا پر نظر رکھے گا۔

    باغی ٹی وی: ’ٹروپوسفیرک ایمیشن مانیٹرنگ آف پلیوشن انسٹرومنٹ‘ یا ٹیمپو ایک ملک کے دوسرے ملک یا پھر ایک علاقے کے دوسرے علاقے میں بدلتی ہوئی فضا کا باہمی موازنہ کرے گااس کے سینسر بنیادی طورپرتین خوفناک گیسوں یا اجزا کا جائزہ لےگا جن میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، فورملڈیہائڈ اور زمین کے قریب اوزون کی سطح جیسے اہم عوامل ہے اسموگ میں اوزون کی بڑھی ہوئی مقدار پائی جاتی ہے۔

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    ناسا کے ماہر جان ہائنز نے بتایا کہ ان علاقوں میں تیل کے کارخانے ہیں جہاں فضائی آلودگی بہت زیادہ ہے۔ تاہم ہرجگہ زمینی سینسر اور مانیٹر موجود نہیں اور اسی ضرورت کے تحت ٹیمپو لانچ کیا گیا ہے۔

    ٹیمپو سیٹلائٹ، ارضِ ساکن (جیواسٹیشنری) مدار میں رہتے ہوئے ایک ہی جگہ پر گویا معلق رہے گا اور یوں وہ ایک جگہ پر آلودگی ریکارڈ کے گا تاہم ٹیپمو کا ڈیٹا عوام تک پہنچنے میں کچھ ماہ لگ سکتے ہیں کیونکہ مئی یا جون میں یہ اپنے تمام آلات کھول کر کام شروع کرے گا۔

    پینٹاگون نے حساس دستاویزات کا افشا ہونا قومی سلامتی کیلئےانتہائی سنگین خطرہ قرار دے دیا

  • مصر کا روس کو 40 ہزار راکٹس خفیہ طور پر دینے کا منصوبہ

    مصر کا روس کو 40 ہزار راکٹس خفیہ طور پر دینے کا منصوبہ

    امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہےکہ مصری صدر نے روس کو 40 ہزار راکٹس خفیہ طور پر دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہےکہ مصر نے روس یوکرین جنگ کے دوران روس کی اسلحہ سپلائی میں مدد کے لیےاسے خفیہ طور پر 40 ہزار راکٹس دینےکامنصوبہ بنایا ہےجس کی تفصیلات امریکی انٹیلی جنس کی لیک دستاویزات سے حاصل کی گئی ہیں۔

    ڈالر ملک کی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر

    رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے اعلیٰ عسکری حکام سے ایک اہم میٹنگ بھی کی ہے جس میں روس کو فوجی بنیادوں پر اسلحے کی فراہمی پر بات چیت کی گئی جب کہ اس دوران مصری صدر نے حکام کو یہ منصوبہ بندی خفیہ رکھنے کی ہدایت کی امریکی انٹیلی جنس کی لیک دستاویزات پر 17 فروری کی تاریخ درج ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ نے یہ دستاویز ڈسکارڈ پر فروری اور مارچ میں پوسٹ کی گئی کلاسیفائیڈ فائلوں کی تصاویر کے مجموعے سے حاصل کی، جو گیمرز میں مقبول ایک چیٹ ایپ ہے۔ دستاویز کی پہلے اطلاع نہیں دی گئی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق مصر کی جانب سے روس کو راکٹس کی فراہمی کی خبروں پر امریکی حکام نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مصری صدر کی جانب سے روس کو خفیہ طور پر راکٹس فراہمی کی خبریں درست ہیں تو پھر ہمیں دونوں ممالک کے تعلقات کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

    عمران خان نے 25 سال میں اپنا اینٹی امریکا امیج بنایا،حسین حقانی

    دوسری جانب فاکس نیوز نے کہا کہ امریکی قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے خفیہ دستاویزات پر کسی بھی تبصرے سے گریز کیا ہے لیکن خبردار کیا ہے کہ یہ مواد عوامی استعمال کے لیے نہیں ہے۔

    یہ مصر کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے، جو مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں اس کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے جنوری کے آخر میں قاہرہ میں السیسی سے ملاقات کی، جس کے بعد محکمہ خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ مسٹر بلنکن نےمصر کے ساتھ امریکہ کی یکجہتی کا اظہار کیا کیونکہ یہ روس کی وحشیانہ جنگ کے اقتصادی اثرات کا مقابلہ کرتا ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی گزشتہ سال نومبر میں مصر کا دورہ کیا تھا اور السیسی سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے مصری صدر کی جنگ کے بارے میں اپنے ملک کے موقف کو سراہا۔

    فوجی پیداوار کے وزیر مملکت محمد صلاح الدین نامی ایک اہلکار کے مطابق مصر نے ماسکو کی "پہلے غیر متعینہ مدد” کی ادائیگی کے لیے روس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اس مدد کی نوعیت واضح نہیں ہے۔ تاہم، خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق، یوکرین میں روس کی جنگ کے نتیجے میں عالمی منڈی میں آنے والی رکاوٹوں کے درمیان مصر نے گزشتہ سال روسی گندم پر اپنا انحصار بڑھا دیا۔

    پینٹاگون نے حساس دستاویزات کا افشا ہونا قومی سلامتی کیلئےانتہائی سنگین خطرہ قرار دے دیا

  • نواز شریف کی تقریر پر پابندی سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار

    نواز شریف کی تقریر پر پابندی سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی تقریر پر پابندی سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی : ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی تقریر پر پابندی سےمتعلق درخواست دائر کی سماعت ہوئی،درخواست پر سماعت چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے کی۔

    آج پاکستان بھر میں لاکھوں مسلمان اعتکاف بیٹھیں گے

    درخواست گزارسمیرا مہدی کے وکیل نے موقف دیا کہ نوازشریف کی تقریرمیڈیا پر نشر کی جارہی ہےنواز شریف اپنی تقریر میں عدلہ اور معزز ججز پر الزام تراشی کرتے ہیں تمام ٹی وی چینلز کو نواز شریف تقریر نشر سے روکا جائے۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے نواز شریف نے عدالت سےضمانت حاصل رکھی ہےشہباز شریف بھی ضمانت پر ہیں تو کیا شہبازشریف کی تقریر پرپابندی بھی لگادیں؟عدالت نےہدایات کی کہ جن عدالتوں سےنوازشریف ضمانت ملی ہےآپ اس عدالت سےرجوع کریں عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی۔

    عمران خان نے 25 سال میں اپنا اینٹی امریکا امیج بنایا،حسین حقانی