Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • کچے کےعلاقے میں پولیس کا آپریشن 3 ڈاکو ہلاک 6 گرفتار

    کچے کےعلاقے میں پولیس کا آپریشن 3 ڈاکو ہلاک 6 گرفتار

    کچے کے علاقے میں پولیس کا آپریشن ، 3 ڈاکو ہلاک 6 گرفتار

    باغی ٹی وی:ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ مقصود الحسن کےمطابق آپریشن کے دوران 6 ڈاکوؤں کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ڈاکوؤں کی پناہ گاہیں راکٹ لانچرز سے بھی تباہ کی گئی ہیں جب کہ ڈاکوؤں کے درجنوں گھروں کو آگ لگادی گئی ہے،ڈاکو کچے کے جنگل میں نکل گئے ہیں جن کا پیچھا کیا جارہا ہے۔

    خاتون کو سنگسار کرنے کا فتویٰ، امام سمیت 4 افراد گرفتار

    دوسری جانب آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے بھی ڈاکوؤں کے مبینہ سرپرستوں کوکھُلی وارننگ دے دی،رونتی تھانے کے حفاظتی بند پر قائم چوکی کا افتتاح کرتےہوئے آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا کہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر تین ماہ میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

    آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے ڈاکوؤں کے مبینہ سرپرستوں کوکھُلی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ کچے کے ڈاکوؤں کے پکے میں موجود سہولت کاروں کو ٹف ٹائم دیں گےآپریشن کے لیے جدید اسلحے کی خریداری کے فنڈز جلد ریلیز ہوں گے-

    شیخوپورہ میں 14سال کی یتیم لڑکی سے مبینہ زیادتی کا واقعہ

  • اسرائیلی جاسوسی کمپنی نے کتنے ملکوں کو ٹارگٹ کیا،رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

    اسرائیلی جاسوسی کمپنی نے کتنے ملکوں کو ٹارگٹ کیا،رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

    بدنام زمانہ پیگاسس پروگرام ، جسے جاسوسی کے لیے اسرائیلی نئے آلات نے مختلف ملکوں میں اپوزیشن سیاستدانوں اور صحافیوں کو ہدف بنایا ہے۔

    باغی ٹی وی : کینیڈین واچ ڈاگ نے منگل کے روز کہا کہ بدنام زمانہ پیگاسس پروگرام سےمشابہت رکھنے والے نئے اسرائیلی ساختہ اسپائی ویئر کو کئی ممالک میں صحافیوں اور حزب اختلاف کے سیاست دانوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

    بالاکوٹ میں بھارتی فضائیہ کا ہیلی کاپٹر مار گرانے کا واقعہ،گروپ کیپٹن کی کورٹ مارشل …

    سٹیزن لیب کے مطابق، سپائی ویئر اور متعلقہ استحصال یا ہیکنگ سافٹ ویئر کو غیر معروف کمپنی QuaDream نے بنایا تھا، جسے ایک سابق اسرائیلی فوجی اہلکار اور پیگاسس تیار کرنے والے این ایس او گروپ کے سابق فوجیوں نے قائم کیا تھا-

    سٹیزن لیب، جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے غلط استعمال کا مطالعہ کرتی ہے، نے کہا کہ اس نے کم از کم پانچ افراد کی نشاندہی کی ہے جنہیں QuaDream اسپائی ویئر کے ذریعے نشانہ بنایا گیا اور شمالی امریکہ، وسطی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا، یورپ اورمشرق وسطیٰ میں لوگوں جو نشانہ بنایا گیا –

    اسرائیل، سنگاپور، میکسیکو، بلغاریہ اور امارات سمیت دس ملکوں کے سرورزکو متاثرین کا ڈیٹا پہنچا ہےجبکہ QuaDream نےجن ملکوں کو جاسوسی کے آلات بیچےہیں ان میں سعودی عرب، مراکش،انڈونیشیا اورگھانا بھی شامل ہےمتاثرین میں صحافی، سیاسی حزب اختلاف کی شخصیات اور ایک این جی او (غیر سرکاری تنظیم) کے کارکن شامل ہیں،” اس نے کہا کہ یہ فی الحال ان کی شناخت نہیں کرے گا۔

    بھارتی پنجاب میں فوجی اڈے میں فائرنگ سے 4 اہلکار ہلاک

    دعویٰ کیا گیا ہےکہ جاسوسی کا نیا نظام کسی بھی شخص کو پتا لگے بغیر اس کے فون کال کی آڈیو ریکارڈ کرسکتا ہے،کیمرے سے تصاویر لے سکتا ہے اور فون میں موجود تمام مواد کھنگال سکتا ہے، اس سے کلاؤڈ اکاونٹ تک بھی اس کی رسائی ممکن ہے جب کہ ڈیٹا کھنگالنے کے بعد یہ خود کار نظام سے اپنی موجودگی کے تمام شواہد مٹاسکتا ہے۔

    پیگاسس جیسے اسپائی ویئر کو حکومتوں اور دیگر اداکاروں نے مخالفین، میڈیا اور کارکنوں کی جاسوسی کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا ہے۔

    پروگراموں کو کمپیوٹر اور سیل فونز پر فشنگ کمیونیکیشنز اور بیک ڈور کارناموں کے ذریعے رکھا جا سکتا ہے، اور صارف کے علم کے بغیر فون پر معلومات کا سروے اور آپریٹر کو واپس منتقل کر سکتے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس نے مارچ کے آخر میں کہا تھا کہ پیگاسس کو حکومتیں "جبر کو آسان بنانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو قابل بنانے کے لیے” استعمال کرتی رہی ہیں۔

    کیا دنیا بھر میں جاسوسی کرنے والے پیگاسس کی مدد واٹس ایپ نے کی اور پاک فوج کیسےمحفوظ رہی؟ پی ٹی اے حکام کے انکشافات

    سٹیزن لیب نے کہا کہ صارفین کے علم میں لائے بغیر ایک بار صارف کے فون یا کمپیوٹر پر رکھنے کے بعد، QuaDream کا اسپائی ویئر کسی فون کال سے آڈیو ریکارڈ کر سکتا ہے، ڈیوائس کے مائیکروفون سے بیرونی آوازیں ریکارڈ کر سکتا ہے، کیمروں سے تصاویر لے سکتا ہے، اور ڈیوائس کی فائلوں کو تلاش کر سکتا ہے-

    اسپائی ویئر ڈیوائس کے مالک کے کلاؤڈ اکاؤنٹس تک مسلسل رسائی کو فعال کرنے کے لیے اپنے دو فیکٹر تصدیقی کوڈ بھی بنا سکتا ہے۔

    سٹیزن لیب نے کہا کہ اسپائی ویئر میں اپنی پچھلی موجودگی کو چھپانے کے لیے خود کو تباہ کرنے والی خصوصیت شامل ہے، ایک بار جب اسے مزید استعمال نہ کیا جائے۔

    اسرائیل کا جاسوس سافٹ وئیر "پیگاسس” کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

  • شیخوپورہ میں 14سال کی یتیم لڑکی سے مبینہ زیادتی کا واقعہ

    شیخوپورہ میں 14سال کی یتیم لڑکی سے مبینہ زیادتی کا واقعہ

    شیخوپورہ میں 14سال کی یتیم لڑکی سے مبینہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق شیخوپورہ کے علاقے صدر میں 14سال کی یتیم لڑکی سے مبینہ زیادتی کی گئی جس کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے،متاثرہ لڑکی نے نگران وزیراعلی اور آئی جی پنجاب سے انصاف کی اپیل کی ہے۔

    خاتون کو سنگسار کرنے کا فتویٰ، امام سمیت 4 افراد گرفتار

    پولیس کا کہنا ہےکہ ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں اور جلد ملزم کو گرفتار کرلیا جائے گا۔

    دوسری جانب کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں 6 سال کی بچی کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا پولیس کے مطابق واقعے کےبعد کارر و ائی کرتے ہوئے متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا جب کہ کچھ افراد کے ڈی این اے نمونے بھی لیے گئے ہیں دریں اثنا ملیر کھو کھرا پار میں گھر سے خاتون کی لاش ملی ہے۔

    ٹھٹھہ : گھاروپولیس کی کارروائی ،گٹکا سپلائی کرنے والی وین پکڑی گئی ، ایک ملزم …

  • بھارتی پنجاب میں فوجی اڈے میں فائرنگ سے 4 اہلکار ہلاک

    بھارتی پنجاب میں فوجی اڈے میں فائرنگ سے 4 اہلکار ہلاک

    نئی دہلی: بھارتی پنجاب میں فوجی اڈے میں فائرنگ سے 4 اہلکار ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی فوج کی ساؤتھ ویسٹرن کمانڈ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بدھ کی صبح بھارتی پنجاب کے شہر بھٹنڈہ میں پنجاب ملٹری اسٹیشن میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 4 اہلکار ہلاک ہوگئے۔

    بالاکوٹ میں بھارتی فضائیہ کا ہیلی کاپٹر مار گرانے کا واقعہ،گروپ کیپٹن کی کورٹ مارشل …

    بھارتی میڈیا کے مطابق مقامی پولیس نے بتایا ہےکہ فائرنگ کا واقعہ بھٹنڈا میں ملٹری اسٹیشن کی کینٹین میں پیش آیا فائرنگ کے بعد حملہ آور فرارہوگئےحملہ آوروں کی تلاش جاری ہےحملہ آوروں کے پاس گولہ بارود بھی موجود ہےجبکہ فائرنگ کےفوری بعد کوئیک رسپونس ٹیم نے فوجی اڈے کی ناکہ بندی کردی اور سرچ آپریشن کیا جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    بھٹنڈہ کے سینئر سپریٹنڈنٹ پولیس نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ پولیس کی ٹیمز فوجی اڈے کےباہرانتظار کررہی ہیں تاہم فوجی حکام نے پولیس ٹیمز کو تحقیقات کے لیے اسٹیشن کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی بھٹنڈا ملٹری اسٹیشن میں فائرنگ کا واقعہ دہشت گرد حملہ نہیں ہے اور حالات کنٹرول میں ہیں۔

    میانمار میں فوج کی فضائی بمباری کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد ہلاک

    بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ فائرنگ کرنے والابھارتی پولیس اہل کار ہے جس نےکوارٹرگارڈ سے اسلحہ چھینا تھا۔

  • مظفر آباد میں زلزلے کے شدید جھٹکے،شہری خوفزدہ

    مظفر آباد میں زلزلے کے شدید جھٹکے،شہری خوفزدہ

    مظفر آباد میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر کے دارالحکومت اور گرد و نواح کے علاقوں میں بدھ کی علی الصبح شدید جھٹکے محسوس کئے گئے مظفر آباد میں زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی شہری خوفزدہ ہوکر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اوردفاتر سے باہر نکل آئے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کی شدت 3.7 ریکارڈ ہوئی-

  • یوم شہادت حضرت علیؓ

    یوم شہادت حضرت علیؓ

    یوم شہادت حضرت علیؓ پر ملک کے مختلف شہروں میں جلوسوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    باغی ٹی وی: لاہور سے مرکزی جلوس صبح مبارک حویلی اکبری منڈی سے برآمد ہوگا جب کہ پشاور میں یوم علی کا جلوس کوچی بازار سے برآمد ہوکر سحری کے وقت ختم ہوا اسلام آباد کا مرکزی جلوس امام بارگاہ زینبیہ سے برآمد ہو کر امام بارگاہ سیکٹر جی 6 ٹو میں ختم ہوا۔

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا سیکشن 4 لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

    کراچی میں یوم علی کا مرکزی جلوس نشترپارک سے آج دوپہر میں برآمد ہوگا، جلوس کی گزرگاہ کی طرف آنے والے راستے بند ہیں جب کہ جلوس کی گزر گاہوں پر موبائل فون سروس بھی معطل رہےگی یوم علی کے موقع پر سندھ بھر کے تعلیمی ادارے آج بند رہیں گے۔

    کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن میں بھی جلوس نکالا گیا جب کہ راولپنڈی میں یوم علی کا مرکزی جلوس امام بارگاہ کرنل مقبول پہنچ کر ختم ہو ا۔

    آپؓ کا نام علی، لقب حیدر و مرتضٰی، کنیت ابو الحسن اور ابوتراب آپؓ کا نسب حضور ﷺ کےبہت قریب ہےآپؓ کے والد ابو طالب اور حضور ﷺکے والد ماجد حضرت عبد اللہ دونوں بھائی بھائی ہیں، آپؓ کی والدہ فاطمہ بنت اسد تھیں ماں باپ دونوں طرف سےآپؓ ہاشمی ہیں حضور ﷺ کی سب سے چھوٹی اورلاڈلی بیٹی خاتونِ جنت سیدہ حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے ساتھ آپؓ کا نکاح ہوا اوران سےآپؓ کی اولاد ہوئی، صحابہ کرامؓ میں جو لوگ اعلیٰ درجہ کے فصیح و بلیغ اور اعلیٰ درجہ کے خطیب اور شجاعت و بہاد ری میں سب سے فائق مانے جاتے تھے ان میں آپؓ کا مقام و مرتبہ بہت نمایاں تھا-

    بالاکوٹ میں بھارتی فضائیہ کا ہیلی کاپٹر مار گرانے کا واقعہ،گروپ کیپٹن کی کورٹ مارشل …

    آپؓ ”بیعتِ رضوان“ میں شریک ہوئے اور ”اصحابُ الشجرہؓ“ کی جماعت میں شامل ہوئے جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں راضی ہونے اور جنت کی بشارت و خوشخبری دی، آپؓ ”اصحابِ بدرؓ“ میں سے بھی ہیں جن کی تمام خطائیں اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیں، مکی زندگی میں حضور ﷺ کے ساتھ ہر قسم کے مصائب و مشکلات کو جھیلتے رہے…… حضور ﷺ نے آپؓ کو اپنا ”مواخاتی بھائی“ بنایا اور چند سال بعد حضور ﷺ نے ان کو اپنے ساتھ وہی نسبت دی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حضرت ہارون علیہ السلام سے تھی۔

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 بل کے خلاف درخواستیں دائر

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 بل کے خلاف درخواستیں دائر

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 بل کے خلاف درخواستیں دائر کر دی گئی

    درخواست میں وفاقی حکومت، صدر مملکت اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، راجہ عامر اور عبداللہ ملک ایڈووکیٹ کی جانب سے درخواستیں دائر کی گئی ہیں ۔درخواستیں خواجہ طارق رحیم جانب سے دائر کی گئی ہیں۔درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا کہ پارلیمان کو سپریم کورٹ کے معاملات میں مداخلت کا کوئی آئینی اختیار نہیں، آئین کے آرٹیکل 191 اور 142، 70 اور انٹری 55فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ کے تحت پارلیمان کو سپریم کورٹ کے معاملات میں اختیار نہیں، سپریم کورٹ کے رولز 1980 سے بنے ہوئے ہیں، قومی اسمبلی، سینیٹ اور باقی سب کے اپنے رول ہیں جو انہوں نے خود بنائے ہیں، آئین کے آرٹیکل 184/ 3 کے تحت اپیل کا حق نہیں دیا گیا تو ایکٹ کے تحت بھی نہیں دیا جا سکتا،بینچ بنانے کا اختیار چیف جسٹس کا ہے،سپریم کورٹ اپنے فیصلوں اور از خود نوٹس کے معاملے کے حوالے سے معیارات طے کر چکی ہے،یہ قانون بنیادی حقوق کے متصادم ہے،بل بدنیتی پر مبنی ہے،یہ بل آئین کے ساتھ دھوکہ ہے، موقف بل کو کالعدم قرار دیا جائے، صدر مملکت کو بل پر دستخط سے روکا جائے،عدالتی کارروائی تک بل کو معطل رکھا جائے،

    علاوہ اذیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے سیکشن 4 کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔ لاہورہائیکورٹ میں شہری مشکور حسین نے ندیم سرور ایڈووکیٹ کی وساطت سےدائر درخواست میں وفاقی حکومت اورصدر کوبذریعہ پرنسپل سیکرٹری فریق بنایا ہے۔

    سردار تنویرالیاس کی نا اہلی کے بعد خواجہ فاروق آزاد کشمیر کے قائم مقام …

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ دونوں ایوانوں سے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجربل منظور ہوکر ایکٹ بن چکا ہے اور ایکٹ کے سیکشن 4 کے ذریعے سوموٹو فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دیاگیا ہے البتہ سوموٹو کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دینا آرٹیکل 184 اور 185 کے منافی ہے اپیل کا حق صرف آرٹیکل 184 اور 185 میں ترمیم کرکے ہی دیا جاسکت ہے۔

    درخواست گزار نے استدعا کی ہےکہ عدالت سپریم کورٹ پریکٹس اینڈپروسیجر ایکٹ کے سیکشن 4کوکالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست کے حتمی فیصلے تک سیکشن 4 پر عملدرآمد روکے۔

    بالاکوٹ میں بھارتی فضائیہ کا ہیلی کاپٹر مار گرانے کا واقعہ،گروپ کیپٹن کی کورٹ مارشل …

    قبل ازیں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا سپریم کورٹ میں محمد شافع منیر ایڈووکیٹ نے درخواست دائر کی ہے جس میں وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا جبکہ وکیل سعید آفتاب نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کو چیلنج کیا گیا-

    نیشنل ڈائیلاگ ہوں تو معاملہ حل ہونے میں دیر نہیں لگے گی. وفاقی وزیرداخلہ رانا …

  • بالاکوٹ میں بھارتی فضائیہ کا ہیلی کاپٹر مار گرانے کا واقعہ،گروپ کیپٹن کی کورٹ مارشل رپورٹ میں سچائی سامنے آ گئی

    بالاکوٹ میں بھارتی فضائیہ کا ہیلی کاپٹر مار گرانے کا واقعہ،گروپ کیپٹن کی کورٹ مارشل رپورٹ میں سچائی سامنے آ گئی

    نئی دہلی: بھارتی فضائیہ کا گروپ کیپٹن کو اپنی ہی قیادت کی غلطی کا خمیازہ بھگتنا پڑ گیا، کورٹ مارشل کی رپورٹ میں سچائی سامنے آ گئی-

    باغی ٹی وی: بھارتی موقر ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا آپریشن ’ سوفٹ رٹارٹ‘ کے دوران بھارت کا ہیلی کاپٹر ایم آئی 17 گرائے جانے کا دعویٰ سچ ثابت ہوا بھارتی فضائیہ کے گروپ کیپٹن سری نگر ایئر فورس اسٹیشن کے چیف آپریشنز آفیسر (سی او او) سمن رائے چوہدری کی کورٹ مارشل رپورٹ سے سچائی سامنے آگئی۔

    پاکستان ائیرفورس نے فروری 2019 میں شاندار صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کا جنگی طیارہ مارگرایا تھا۔ آپریشن ’ سوفٹ رٹارٹ ‘ کے دوران پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے بھارتی غلطی کا پردہ فاش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ بھارت نے اپنا ہی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔ بھارت نے اسے مسترد کرتے ہوئے من گھڑت اور جھوٹ قرار دیا تھا۔

    واقعہ کی منظر عام پر آنے والی رپورٹ میں بھانڈا پھوٹ گیا کہ بھارتی فضائیہ کے گروپ کیپٹن سمن رائے چوہدری اور ونگ کمانڈر شیام نیتھانی نے پاک فضائیہ کی جوابی کاروائی کے دوران “گھبراہٹ” میں اپنا ہی ہیلی کاپٹر مار گرایا تھا۔

    بھارتی فضائیہ کی طرف سے گروپ کیپٹن سمن رائے چوہدری کو”کورٹ مارشل” اور ونگ کمانڈرشیام نیتھانی کو severe reprimand کی سزا سنا دی گئی۔ ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے نتیجے میں بھارتی ائیرفورس کے 6 اہلکاروں سمیت 7 افراد ہلاک ہوئے تھے

    گروپ کیپٹن سمن رائے چوہدری کا حکم عدولی اور بد حواسی میں اپنا ہی ہیلی کاپٹر مار گرانے پر کورٹ مارشل کیا گیاگھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں دئیے گئے احکامات سے بھارتی فضائیہ کو 133.3 کروڑ کا نقصان پہنچا۔

    اخبار کی رپورٹ کے مطابق، فضائیہ کے حکام نے، تاہم، کہا کہ جی سی ایم کے نتائج اور سزا ایئر اسٹاف کے سربراہ کی تصدیق سے مشروط ہے۔ 20 مارچ کو، پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے جی سی ایم کو گروپ کیپٹن چودھری کے خلاف نتائج سنانے کی اجازت دی تھی لیکن حکم دیا تھا کہ اس کے سامنے کیس کے نمٹانے تک ان کو اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔

    دی ٹریبیون کی خبر کے مطابق، ہائی کورٹ نے ابھی تک کیس کو نمٹانا ہے۔

    ہیلی کاپٹر کے حادثاتی طور پر مار گرائے جانے کے بارے میں تنازعہ پیدا ہوا جب آنے والے لوک سبھا انتخابات کی وجہ سے آئی اے ایف نے اس کے بارے میں معلومات کو پوشیدہ رکھا،ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورٹ آف انکوائری نے "اختیاری طور پر طے کیا” کہ Mi-17 V5 ہیلی کاپٹر کو اپنے ہی فائر کے ذریعے گرایا گیا تھا آئی اے ایف سے کہا گیا ہے کہ وہ انتخابات کے بعد تک نتائج کو "چھپائے” رکھیں۔

    مرنے والوں میں پائلٹ سکواڈرن لیڈر ایس وششت اور سکواڈرن لیڈر ننند ایم، سارجنٹ وی کے، پانڈے، سارجنٹ وکرانت سہراوت، کارپورل پنکج کمار، کارپورل ڈی پانڈے اور کفایت حسین گنی،اور بڈگام ضلع سے تعلق رکھنے والا ایک شہری شامل ہیں-

    گروپ کیپٹن چودھری نے جی سی ایم پر زور دیا تھا کہ جب تک کیس ہائی کورٹ میں نہ ہو سزا کے اعلان کو آگے نہ بڑھائے۔ ان کے وکیل کیپٹن سندیپ بنسل (ریٹائرڈ) نے اخبار کو بتایا کہ "گروپ کیپٹن نے 5 اپریل کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کی طرف سے اس معاملے کو نمٹانے تک سزا کے اعلان پر کارروائی نہ کرنے کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ لیکن جج ایڈووکیٹ کے مشورے پر، جی سی ایم آگے بڑھا۔ ہم اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔‘‘

    گروپ کیپٹن سمن رائے چوہدری اور ونگ کمانڈر شایام نتھانی کی سزا نے پاکستانی دعوے کی تصدیق کر دی۔ نت نئے اسکینڈلز نے بھارتی افواج کی ساکھ اور عزت خاک میں ملا دی ہے۔ آپریشن سوفٹ رٹارٹ کی ہزیمت کو چھپانے کیلئے ونگ کمانڈر ابھی نندن کو ویر چکرا کا اعزاز بھی دیا گیا تھا۔

    بھارتی عوام سوال کررہے ہیں کہ کیا اسکینڈلز زدہ بھارتی فوج ایک پیشہ ورانہ فوج کہلانے کی مستحق ہے جو مسلسل آنکھوں میں دھول جھونکتی رہی ہے۔

  • اردو کے معروف  شاعر، ادیب،صحافی اور کالم نگار احفاظ الرحمان

    اردو کے معروف شاعر، ادیب،صحافی اور کالم نگار احفاظ الرحمان

    کر دیتا ہے مٹی کے اندر بھی اجالا سا
    ہو جائے اگر کوئی مینار سپرد خاک

    احفاظ الرحمان اردو کے معروف شاعر، ادیب،صحافی اور کالم نگار تھے۔ وہ 04 اپریل 1942 کو جبل پور ہندوستان میں پیدا ہوئے۔
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    (1)چین،عظیم انقلاب،عظیم تاریخ
    کراچی،فرید پبلشرز ،
    (2)چیئرمین ماؤ کے ساتھ لانگ مارچ۔ ترجمہ
    (3)نئی الف لیلہ(Nai Alif Laila)
    کراچی،فرید پبلشرز، (شاعری)
    (4)چو این لائی(Chou En Lai)
    کراچی،فرید پبلشرز، (سوانح)
    (5)تاریخِ چین۔ کراچی۔ فرید بک پبلشرز
    (6)جنگ جاری رہے گی
    کراچی،سٹی بک پوائنٹ، (مضامین)

    احفاظ الرحمن
    ۔۔۔۔۔۔
    زندہ ہے زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    زاہدہ حنا
    ۔۔۔۔۔۔

    زندگی کے کئی برس اُس احفاظ الرحمن کے ساتھ گزرے جو شعلہ نفس اور شرر بار تھا۔ یہ وہ دن تھے جب جنرل ضیاء الحق کی آمریت کا ڈنکا بجتا تھا۔ باضمیر صحافیوں کا مقدر زنداں تھا، ان کی پشت کوڑوں سے ادھیڑی جاتی تھی اور معاش کا پرندہ ان کے گھر کی منڈیر سے اڑا دیا جاتا تھا، اُس کے پر کتر دیے جاتے تھے۔ ایسے میں کئی تھے جو خموشی سے ملک چھوڑ گئے۔ چند نے سرِ تسلیم خم کر لینے میں عافیت سمجھی اور کچھ وہ بھی تھے جنھوں نے دمشق کے دربار کی طرف قدم نہیں اٹھایا، نہ قلم کی آبرو کسی ملٹی نیشنل کے ہاتھوں فروخت کی۔ نوک قلم سے لفظوں کی مزدوری کی اور اپنے گھر والوں کو روکھی سوکھی کھلائی، ادھڑے ہوئے جوتوں اور گِھسی ہوئی قمیصوں میں زندگی گزارنے کو اپنا اعزاز جانا۔

    احفاظ کا اور میرا ان ہی کڑے موسموں کا ساتھ ہے۔ ہم نے بھنی ہوئی شکرقندی پر نمک اور کُٹی ہوئی سرخ مرچ بُرک کر کھائی اور یوں خوش ہوئے جیسے مغلئی دستر خوان کے شاہی ٹکڑوں سے لطف اندوز ہوئے ہوں۔ مفلسی کا جشن مناتے ہوئے بُھنے ہوئے گرم چنوں کی سوندھی خوشبو ہماری سنگی ساتھی تھی۔ احفاظ اگر یہ مشکل زندگی ہنس کر گزار سکے تو اس لیے کہ مہ ناز ان کے دکھ سکھ کی شریک تھی اور صبر کے دریا میں شکر کی نائو ہنستے ہوئے کھیتی تھی۔ میرا جی خوش ہوا کہ اپنے نئے مجموعے ’زندہ ہے زندگی‘ کا انتساب احفاظ نے مہ ناز اور اپنے بچوں کے نام کیا ہے۔

    احفاظ الرحمان سے میری دوستی پر 35 برس کے سورج طلوع ہوئے اور چاند چمک گئے۔ پھر وہ دن آئے جب احفاظ، مہ ناز اور بچوں کے ساتھ چین چلے گئے‘ میں نے انگلستان کا رخ کیا۔ وہ دونوں وہاں استقامت سے آٹھ برس ڈٹے رہے۔ مجھ سے لندن میں نہ رہا گیا اس لیے بی بی سی کو رخصتی سلام کیا اور ڈیڑھ برس میں ہی واپس آ گئی۔ عرصۂ دراز بعد ملاقات ہوئی تو اندازہ ہوا کہ وقت نے احفاظ کا کچھ نہیں بگاڑا۔ ان کی نازک مزاجی اور اپنے ایمان پر یقینِ کامل آج بھی ان کے وجود کا بنیادی جزو ہیں۔

    جہاں تک ان کے ایمانِ کامل کا معاملہ ہے تو اس کی گواہ ان کی تحریریں‘ ان کی صحافتی جدوجہد اور کراچی پریس کلب کے در و دیوار ہیں۔ انھوں نے کتنی ہی جیلیں کاٹیں‘ کتنی ہی لاٹھیاں کھائیں اور اس سے بڑھ کر یہ کہ کتنی ہی تحریصات اور ترغیبات کے دام سے بچ کر نکلے، اس کا حساب ان کے قریب ترین لوگ خوب جانتے ہیں۔ زیادہ پرانی نہیں 2007ء کی بات ہے یہ جنرل مشرف کی بے لگام حکمرانی کے آخری دن تھے، جب میں نے پریس کلب کے سامنے انھیں سڑک پر گرتے ہوئے اور پولیس کی لاٹھیاں کھاتے اور گرفتاری دیتے دیکھا۔

    انھوں نے نثر لکھی، شاعری کی ۔ ان کے لکھے ہوئے اور بولے ہوئے ہر لفظ کا قبلہ راست رہا۔ ہمارے یہاں ایسے متعدد شاعر گزرے ہیں، جنھوں نے بغاوت اور سیاستِ دوراں کو اپنی شاعری کے ماتھے کا جھومر بنایا اور غیروں کے یہ بول سہے کہ شاعری اور سیاست کا بھلا کیا سمبندھ۔ احفاظ بھی ان ہی میں سے ہیں جن کی شاعری میں سیاست لہو کی طرح گردش کرتی ہے۔

    احفاظ الرحمان بغاوت، آزادی اور جمہوریت کی لڑائی لڑنے والے اس نام دار قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جس کا شجرۂ نسب ڈھائی ہزار سال پرانا ہے اور یونانی ادیبوں سے ملتا ہے اور جس میں اٹھارہویں، انیسویں اور بیسویں صدی کے کیسے نامی گرامی برطانوی، فرانسیسی، امریکی، ایرانی، لبنانی، عراقی اور فلسطینی شاعروں کے نام آتے ہیں۔

    یہ وہ ہیں جو رگِ گل سے بلبل کے پر نہیں باندھتے۔ جن کی لکھی ہوئی سطروں میں اپنے عہد کا آشوب سانس لیتا ہے۔ ہم عشقی، نازک الملائکہ اور نزار قبانی کو کیسے بھلا سکتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ کیسے بُھلائے جا سکتے ہیں جو دنیا کے سات براعظموں میں زندہ رہے اور انسانوں کے بارے میں لکھتے رہے۔ جنھوں نے رنگ، نسل، مذہب اور علاقے کی تفریق کے بغیر مظلوموں کا ساتھ دیا اور اپنے ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں قتل ہوئے، ان ہی میں سے ایک جون لینن تھا جو بیٹیلز گروپ کا سب سے متحرک رکن تھا۔

    اس کے 25 کروڑ سے زیادہ البم فروخت ہو چکے ہیں اس کا شمار برطانیہ کی ہزار برس کی تاریخ کے چند عظیم ترین موسیقاروں اور گلوکاروں میں ہوتا تھا۔ انگریزوں نے اسے اپنی تاریخ کی 100 عظیم شخصیات کی فہرست میں آٹھویں نمبر پر رکھا۔ وہ امن و انصاف کی جدوجہد میں پیش پیش رہا‘ اس نے ویت نام کی جنگ کے خلاف اپنی شاعری اور گلوکاری سے نوجوانوں کو بغاوت پر آمادہ کیا۔

    انہیں ملکہ برطانیہ نے ممبر آف دی آرڈر آف دی برٹش امپائر اپنے ہاتھوں سے دیا تھا لیکن بیافرا نائیجیریا کے تنازعہ میں برطانوی مداخلت اور ویت نام میں برطانیہ کی امریکی حمایت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انہوں نے برطانیہ کا یہ اعلیٰ ترین اعزاز واپس کر دیا تھا پھر انہوں نے امریکا میں رہائش اختیار کی جہاں ایف بی آئی نے اس کی کڑی نگرانی شروع کر دی‘ وہ حق و انصاف کی بات کر رہا تھا، سی آئی اے نے طے کیا کہ وہ اپنے سیاسی نظریات کا زہر اپنے گانوں کے ذریعے ان گنت امریکی نوجوانوں میں منتقل کر رہا ہے۔ اس جرم بے گناہی میں وہ قتل کر دیا گیا۔ احفاظ نے اس کے گیت ترجمہ کیے جو ’’زندہ ہے زندگی‘‘ میں شامل ہیں۔

    احفاظ نے باب ڈیلن ایسے باغی گلوکار اور شاعر کے گیت کے ترجمے بھی اپنے تازہ مجموعے میں شامل کیے ہیں۔ یہ وہی باب ڈیلن ہے جس نے امریکی سماج میں طاقت اور دولت کی بازی گری اور منافقانہ سیاست کی سفاکیوں کو بے نقاب کیا۔ جسے ٹائم میگزین نے بیسویں صدی کی سب سے اثر انگیز اور پرُکشش شخصیات میں سے ایک قرار دیا اور جو ایک دردمند دانش ور کی حیثیت سے امریکی سماج کی منتشر اور متضاد تصویروں کے اندر جھانکتا ہے‘ انھیں ٹٹولتا ہے اور ان کے اندر اپنی موسیقی کے تیکھے اور باغی رنگ بھر دیتا ہے۔ اس کے خیالات کو وہ اردو کا جامہ یوں پہناتے ہیں:

    تم چاہتے ہو، میں مان لوں کہ… عالمی جنگ جیتی جا سکتی ہے… لیکن میں تمہاری آنکھوں کے اندر… اتر سکتا ہوں… اور میں تمہارے دماغوں کے اندر… جھانک سکتا ہوں… تم ٹریگر فکس کرتے ہو… کہ لوگ اس سے فائر کریں… پھر تم آرام سے بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہو۔‘‘

    احفاظ ہمیشہ خوابوں کے تعاقب میں رہے اور اسی تعاقب کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ ’’زندگی بہت سخت جان، بہت توانا ہے۔ زندگی محبت کی خوشبو پھیلاتی ہے اور وہ نفرت کی آگ بھڑکاتے ہیں۔ زندگی کے ہاتھ پہیا ایجاد کرتے ہیں، اس کے دشمن اپنی بالادستی اور برتری کی ہوس میں ایٹم بم بناتے ہیں۔

    دوسروں کو اپنا محتاج اور غلام بنانے کی یہ ہوس سیاسی اور معاشی غلامی کا چلن عام کرتی ہے، نا انصافی کی بھیانک شکلوں کو فروغ دیتی ہے، اونچ نیچ کی دیواریں کھڑی کرتی ہے، لمحہ لمحہ محرومیوں کا زہر پینے والے مجبور اور نادار لوگوں پر قہقہے لگاتی ہے، رات دن مئے عشرت کے جام لنڈھانے والے حاکموں کو بڑھاوا دیتی ہے اور رنگ، نسل، مذہبی عقیدے اور جغرافیائی حد بندیوں کے نام پر ہر گلی، ہر کوچے کو نفرتوں اور تعصبات کے سانپوں سے بھر دیتی ہے۔

    ہم اس خونیں تماشے کے چشم دید گواہ ہیں۔ ہمارے شہروں پر یہ عذاب گزر رہے ہیں۔ ہم ملکوں ملکوں استعمار کی مسلط کردہ جنگیں دیکھتے ہیں، درندہ صفت دہشت گردوں کے خود کش حملوں کو سہتے ہیں۔ شہروں شہروں خون کا دریا بہتا دیکھتے ہیں۔ اسی خوں آشام قبیلے کے بارے میں احفاظ نے لکھا: فصل کانٹوں کی جو اُگاتے ہیں… پھول کے دل کا حال کیا جانیں… خون جن کی غذا ہے، وہ وحشی… پیار کی بول چال کیا جانیں… بچیوں پر جو وار کرتے ہیں… مامتا کا ملال کیا جانیں… امن کے دشمنوں کی بم باری… موت کے خوگروں کی خوں باری۔

    ہمارے شہر جس آشوب سے دوچار ہیں، بارود ان پر جس طور برستی ہے، ہنستے ہوئے بچوں کی چلبلاہٹیں جس طرح خون میں نہلائی جاتی ہیں، اس کی اذیت انھیں فیضؔ کے اس مصرعے کی تصویر بنا دیتی ہے کہ ’آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی‘ اور بے اختیار پکار اٹھتے ہیں۔… کہیں سے کوئی روشنی… کہیں سے کوئی راگنی… اُمڈ کے آئے اور… ملال کی رگوں سے کلفتیں نچوڑ لے… فریب خوردہ شہر کو صلیب سے اتار لے۔

    فریب خوردہ شہر صلیب سے کب اترے گا اور کون اسے اتارے گا، ہم نہیں جانتے، وہ بھی اس سے آگاہ نہیں، اسی لیے وہ ’ہوائے ملال کی تیزی‘ کا شکوہ کر نے کے ساتھ ہی یہ مژدہ سناتے ہیں کہ ’قفس کوئی بھی ہو، اس کا مقدر ٹوٹ جانا ہے زندگی پر ان کے ایمان کا اندازہ ان سطروں سے ہوتا ہے۔… وقت صدیوں سے یوں ہی… مچلتا ہوا، گنگناتا ہوا، رقص کرتا ہوا… ایک پیغام لکھتا رہا سدا… یہ زمیں سانس لیتی رہے گی سدا… زندگی کا ترانہ تو سرسبز ہے… کچھ رہے نہ رہے، زندہ ہے زندگی۔

    ان کی نظموں میں نوم چومسکی، خلیل جبران اور ہوزے مارتی کے حوالے ہیں، ان کی سطروں میں گزرے ہوئے اور موجود دانشوروں کے خیال کی خوشبو سانس لیتی ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ یہ انصاف ہے جو کسی سماج کی تعمیر کرتا ہے۔ ناانصافی… انتشار اور زوال کو جنم دیتی ہے۔ طاقت… انصاف کے خون سے اپنی پیاس بجھاتی ہے اور جہاں جمہوریت نہ ہو، وہاں سرسبز پیڑ جل کر راکھ ہو جاتے ہیں۔
    احفاظ کے لفظوں اور لکھت میں جو طاقت اور دانش ہے، وہ ان کی شاعری میں جھلکتی ہے اور اسے دیکھتے ہوئے جی چاہتا ہے کہ کاش احفاظ اپنا زیادہ وقت اپنی تخلیقات کو دے سکیں اور اپنے پیچھے دانشوری اور شاعری کا ایک شاندار خزینہ چھوڑ جائیں۔
    (آرٹس کونسل کراچی کی چھٹی عالمی اردو کانفرنس میں پڑھا گیا)

    احفاظ الرحمان 12 اپریل 2020ء کو کراچی میں خالق حقیقی سے جا ملے-

  • مجھ کو انسانوں کی دنیا میں ہے انسان کی تلاش

    مجھ کو انسانوں کی دنیا میں ہے انسان کی تلاش

    اور ہی وہ لوگ ہیں جن کو ہے یزداں کی تلاش
    مجھ کو انسانوں کی دنیا میں ہے انسان کی تلاش

    محمد نظیر الدین صدیقی المعروف نظیر صدیقی 7؍نومبر 1930ء کو سرائے ساہو، ضلع چھپرا (بہار) میں پیدا ہوئے۔ 1953ء میں ڈھاکہ سے اردو میں ایم اے کیا۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی میں 1976ء میں ایم اے کیا۔ڈھاکا میں مختلف کالجوں میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔ 1990ء میں بیجنگ یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے سربراہ مقرر ہوئے۔ نظیر صدیقی نے اردو کے علاوہ انگریزی میں بھی مضامین اور ریویو اورکالم لکھے۔ انھوں نے انشائیے اور شخصی خاکے بھی لکھے۔ تنقید نگاری ان کا بنیادی ذریعہ اظہار تھا۔ وہ اردو کے ایک بہترین نثر نگار تھے۔

    12؍اپریل 2001ء کو اسلام آباد میں وفات پاگئے۔ انھوں نے مختلف موضوعات پر اردو اور انگریزی میں 20 سے زائد کتابیں تصنیف کی ہیں۔
    چند کتابوں کے نام یہ ہیں: ’شہرت کی خاطر‘ (انشائیے)، ’تأثرات وتعصبات‘، ’میرے خیال میں‘، ’ادبی جائزے‘، ’تفہیم وتعبیر‘، ’اردو ادب کے مغربی دریچے‘، ’ڈاکٹر عندلیب شادانی۔ایک مطالعہ‘(تنقیدی مضامین)، ’جان پہچان‘ (شخصی خاکے)، ’حسرتِ اظہار‘ (مجموعہ کلام)، ’جدید اردو غزل۔ایک مطالعہ‘، ’اقبال اینڈ رادھا کرشن‘ (انگریزی)، ’گزرگاہ خیال‘، ’اعتراف‘ (جاپانی کتاب کا ترجمہ)، اس کتاب پر اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ایوارڈ دیا گیا۔

    👈 بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:248

    نظیرؔ صدّیقی کے منتخب اشعار

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور ہی وہ لوگ ہیں جن کو ہے یزداں کی تلاش
    مجھ کو انسانوں کی دنیا میں ہے انساں کی تلاش

    ابھی سے وہ دامن چھڑانے لگے ہو
    جو اب تک مرے ہاتھ آیا نہیں ہے

    آئے تو دل تھا باغ باغ اور گئے تو داغ داغ
    کتنی خوشی وہ لائے تھے کتنا ملال دے گئے

    جس درجہ نیک ہونے کی ملتی رہی ہے داد
    اس درجہ نیک بننے کا ارماں کبھی نہ تھا

    جو لوگ موت کو ظالم قرار دیتے ہیں
    خدا ملائے انہیں زندگی کے ماروں سے

    رات سے شکایت کیا بس تمہیں سے کہنا ہے
    تم ذرا ٹھہر جاؤ رات کب ٹھہرتی ہے

    چشمِ نم کچھ بھی نہیں اور شعر تر کچھ بھی نہیں
    اب یہاں خونِ جگر نقشِ ہنر کچھ بھی نہیں

    کسی کی مہربانی سے محبت مطمئن کیا ہو
    محبت تو محبت سے بھی آسودہ نہیں ہوتی

    ماتم نہیں مناسب اب جان کے جہاں کا
    دشتِ طلب کے رستے ہموار ہو گئے ہیں

    ہر شخص بن گیا ہے خدا تیرے شہر میں
    کس کس کے در پہ مانگیں دعا تیرے شہر میں

    اگر بخش دینے پہ تیار ہو تم
    مجھے جرم سے اپنے انکار کیوں ہو

    علم و ہنر کے فیض سے علم و ہنر کے باوجود
    محفلِ زیست میں نظیرؔ رنگ ہے روشنی نہیں

    کس قوت‌ بے درد کا اظہار ہے دنیا
    ہر دل کو گلا ہے کہ دلِ آزار ہے دنیا

    اہلِ کمال کو نظیرؔ اہلِ جہاں نے کیا دیا
    اہلِ جہاں کو کیا نہیں اہلِ کمال دے گئے