Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • فیفا اور اے ایف سی کے وفد کا فٹ بال ہاؤس کا دورہ

    فیڈریشن انٹرنیشنل ڈی فٹ بال ایسوسی ایشن (فیفا) اور ایشین فٹ بال کنفیڈریشن (اے ایف سی) کے وفد نے پیر (16 جنوری) کو فٹ بال ہاؤس کا دورہ کیا-

    باغی ٹی وی : وفد میں ایم اے گورننس (فیفا) کے سربراہ رالف ٹینر، ریجنل آفس ڈویلپمنٹ کوآرڈینیٹر (فیفا) آندرے واشکیوچ اور ساؤتھ ایشیا یونٹ (اے ایف سی) کے سربراہ پرشوتم کٹل شامل تھے-

    بلدیاتی انتخابات،کراچی اور حیدر آباد ڈویژن میں پیپلز پارٹی کو دیگر جماعتوں پر برتری

    مہمانوں نے فیفا کی مقرر کردہ PFF نارملائزیشن کمیٹی (NC) کے چیئرمین ہارون ملک اور NC ممبران سے ملاقات کی مہمانوں کو پاکستان میں فٹ بال کی صورتحال، قومی اور بین الاقوامی سطح پر جاری سرگرمیوں اور انتظامی امور کے بارے میں بریفنگ دی گئی-

    مزید برآں، پاکستان فٹ بال کنیکٹ (PFC) کے تحت کلبوں کی رجسٹریشن کے لیے موبائل یونٹ کی افتتاحی تقریب ہوئی۔ اس موبائل یونٹ ‘PFF @Your Doorstep’ پروگرام کے تحت، فیڈریشن کے نمائندے کلبوں اور اکیڈمیوں کے دروازے پر پہنچ کر انہیں PFC پروگرام کی تکمیل میں سہولت فراہم کریں گے۔

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کراچی الیکشن کے نتائج میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار

    اس پروگرام کا مقصد ان کلبوں اور اکیڈمیوں کی محرومیوں کا ازالہ کرنا ہے جو سیلاب، موسم کی خراب صورتحال اور دیگر مسائل کی وجہ سے رجسٹریشن نہیں کروا سکے۔

    وفد ‘PFF@Your Doorstep’ کی لانچنگ تقریب کا بھی حصہ تھا سرکاری پی ایف ایف ٹون بھی شروع کیا گیا-

    اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے وفد کی آئی جی اسلام آباد سے ملاقات

  • بھارت میں دولت کی غیر منصفانہ  تقسیم میں اضافہ،ایک فیصد اشرافیہ ملک کی 40 فیصد سے زائد دولت کی مالک

    بھارت میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم میں اضافہ،ایک فیصد اشرافیہ ملک کی 40 فیصد سے زائد دولت کی مالک

    بھارت کی ایک فیصد اشرافیہ ملک کی 40 فیصد سے زائد دولت کی مالک ہے جبکہ غریب مزید غربت کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: انسداد غربت کے لیےکام کرنے والے برطانوی ادارے آکسفیم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ بھارت میں جہاں امیر ترین افراد میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں غریب عوام مزید غربت کا شکار ہو رہے ہیں۔

    آکسفیم کی رپورٹ کے مطابق 2012 سے لےکر 2021 تک بھارت میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم میں بہت زیادہ اضافہ ہوا، اس عرصے میں ملک کی 40 فیصد سے زیادہ دولت صرف ایک فیصد آبادی کے پاس چلی گئی اور 2021 میں 40 فیصد سے زیادہ ملکی دولت بھارت کی ایک فیصد اشرافیہ کی ملکیت رہی۔

    رپورٹ کے مطابق 2022 میں بھارتی ارب پتی شہریوں کی تعداد 166 تک پہنچ گئی جو کہ 2020 میں 102 تھی۔

    آکسفیم کا کہنا ہےکہ گزشتہ سال دنیا کے چوتھے اور بھارت کے امیر ترین شخص گوتم اڈانی کی دولت میں 46 فیصد اضافہ ہوا جب کہ بھارت کے 100 امیر ترین افراد کی مشترکہ دولت 660 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

    2022 میں، مسٹر اڈانی بلومبرگ کے دولت کے انڈیکس میں دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص تھے۔ وہ ان لوگوں کی فہرست میں بھی سرفہرست رہے جن کی دولت میں سال کے دوران عالمی سطح پر سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ بھارت میں اشیائے ضروریہ اور مختلف سہولیات پر دیے جانے والے کُل ٹیکس میں سے64 فیصد ٹیکس 50 فیصد ملکی آبادی ادا کرتی ہے۔

    آکسفیم کا کہنا ہےکہ بھارت میں بنیادی ضروریات کی اشیاء بدستور غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو رہی ہیں، حکومت کی جانب سے غریب اور متوسط ​​طبقے پرامیروں کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس لگایا جا رہا ہے جب کہ ملک کے امیر ترین افرادکم کارپوریٹ ٹیکس، ٹیکس چھوٹ اور دیگر مراعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

    آکسفیم نے وزیر خزانہ سے بھارت میں معاشی عدم مساوات سے نمٹنےکے لیے امیر افراد پر ویلتھ ٹیکس لگانےکا مطالبہ کیا ہے دریں اثنا، اس نے مزید کہا کہ ہندوستان میں غریب "زندہ رہنے کے لیے بنیادی ضروریات بھی برداشت کرنے سے قاصر ہیں”۔

    رپورٹ – سروائیول آف دی ریچسٹ – سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم شروع ہوتے ہی جاری کی گئی۔

    رپورٹ میں ہندوستان میں دولت کی تقسیم میں بڑے تفاوت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2012 سے 2021 تک ملک میں پیدا ہونے والی 40 فیصد سے زیادہ دولت صرف 1 فیصد آبادی کے پاس چلی گئی تھی جبکہ صرف 3 فیصد کم ہوکر 50 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

    آکسفیم انڈیا کے سی ای او امیتابھ بہار نے کہا، "ہندوستان بدقسمتی سے صرف امیروں کا ملک بننے کے لیے تیز رفتار راستے پر ہے ملک کے پسماندہ – دلت، آدیواسی، مسلمان، خواتین اور غیر رسمی شعبے کے کارکن ایک ایسے نظام میں مسلسل مشکلات کا شکار ہیں جو امیر ترین لوگوں کی بقا کو یقینی بناتا ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امیر، فی الحال، کم کارپوریٹ ٹیکس، ٹیکس چھوٹ اور دیگر مراعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اس تفاوت کو درست کرنے کے لیے چیریٹی نے وزیر خزانہ سے کہا کہ وہ آئندہ بجٹ میں ترقی پسند ٹیکس اقدامات جیسے کہ ویلتھ ٹیکس کو نافذ کریں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے ارب پتیوں کی پوری دولت پر 2 فیصد ٹیکس اگلے تین سالوں تک ملک کی غذائی قلت کا شکار آبادی کی غذائیت کو سہارا دے گا۔

    اس نے مزید کہا کہ 1% ویلتھ ٹیکس نیشنل ہیلتھ مشن کو فنڈ دے سکتا ہے، جو کہ 1.5 سال سے زیادہ عرصے کے لیے ہندوستان کی سب سے بڑی صحت کی دیکھ بھال کی اسکیم ہے۔

    Oxfam نے کہا کہ سرفہرست 100 ہندوستانی ارب پتیوں پر 2.5% ٹیکس لگانا یا 5% ٹاپ 10 ہندوستانی ارب پتیوں پر ٹیکس لگانے سے تقریباً 150 ملین بچوں کو اسکول میں واپس لانے کے لیے درکار پوری رقم پوری ہو جائے گی۔

    آکسفیم انٹرنیشنل کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر گیبریلا بوچر نے کہا، "اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس آسان افسانے کو ختم کر دیں کہ ان کی دولت میں سب سے زیادہ دولت کے لیے ٹیکس میں کٹوتی کسی نہ کسی طرح ہر کسی کے لیے ‘نیچے’ ہو جاتی ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ "عدم مساوات کو کم کرنے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے” امیروں پر ٹیکس لگانا ضروری تھا۔

  • کراچی کا میئر جیالا ہی ہو گا، سندھ کے صوبائی وزیر کا باغی ٹی وی کو انٹرویو

    کراچی کا میئر جیالا ہی ہو گا، سندھ کے صوبائی وزیر کا باغی ٹی وی کو انٹرویو

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں بلدیاتی الیکشن ہو چکے ہیں حیدرآباد میں پیپلز پارٹی اپنا میئر بنائے گی تو کراچی کے نتائج ابھی تک آ رہے ہیں موصولہ نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کو برتری حاصل ہے جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر ہے ۔

    بلدیاتی انتخابات،کراچی اور حیدر آباد ڈویژن میں پیپلز پارٹی کو دیگر جماعتوں پر برتری

    جماعت اسلامی کراچی کے حافظ نعیم اسوقت اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی جماعت اسلامی کے ساتھ ملکر مقامی حکومت بنا سکتی ہے ۔ باخبر ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی میں رابطے شروع ہو چکے ہیں تاہم جماعت اسلامی کیا فیصلہ کرتی ہے آنیوالے ایک دو روز میں واضح ہو جائے گا

    کراچی کے بلدیاتی الیکشن کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے حوالہ سے سندھ کے صوبائی وزیر نواب تیمور تالپور کا باغی ٹی وی نے انٹرویو کیا ہے۔

    اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے وفد کی آئی جی اسلام آباد سے ملاقات

    نواب تیمور تالپور کا کہنا تھا کہ عمران خان کا صرف بلدیاتی انتخابات میں نہیں ملکی سیاست میں بھی صفایا ہونے جا رہا ہےجیسے الطاف حسین کا پاکستان سے خاتمہ ہوا اور مستقبل نہیں اگلے انتخابات میں عمران خان کا بھی پاکستان سے خاتمہ ہو جائے گا-

    کراچی کا میئر ایک جیالا ہی ہو گا، ہم اتحاد جماعت اسلامی سے کریں گے ، تحریک انصاف کو ہم سیاسی جماعت نہیں مانتے ہیں۔عمران خان کے ہاتھ میں تسبح ہوتی ہے اور دماغ میں غلاظت ہوتی ہے-

    صوبائی وزیر سندھ نواب تیمور تالپور کا مکمل انٹرویو سننے کے لئے باغی ٹی وی کا یوٹیوب چینل وزٹ کریں-

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کراچی الیکشن کے نتائج میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار

  • کراچی بلدیاتی الیکشن کے مکمل نتائج ، پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا

    کراچی بلدیاتی الیکشن کے مکمل نتائج ، پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا

    الیکشن کمیشن نے کراچی ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات کے مکمل نتائج جاری کردیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: الیکشن کمیشن نےکراچی کی تمام 235 یونین کونسلز(یوسیز) کےنتائج جاری کیے ہیں نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی 93 یوسیز میں کامیابی کے بعد سرفہرست ہے جب کہ جماعت اسلامی 86 یوسیز میں کامیابی کے بعد دوسرے نمبرپر ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کو کراچی ڈویژن میں 40 سیٹوں پرکامیابی ملی ہے جب کہ مسلم لیگ نے7، جمعیت علمائے اسلام نے 3 اور تحریک لبیک نے 2 ایم کیو ایم نے 1 اورآزاد امیدواروں نے 3 نشستوں پرکامیابی حاصل کی ہے-

    الیکشن کمیشن کےمطابق شہر کی 170 یونین کمیٹیز کے نتائج میں پیپلزپارٹی چیئرمین اور وائس چیئرمین کی 80 نشستیں لےکر سب سے آگے ہے جبکہ جماعت اسلامی 49 نشستوں کے ساتھ دوسرے اور تحریک انصاف 29 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

    لکی مروت: اسسٹنٹ کمشنر دفتر کے قریب سڑک کنارے دھماکہ

    الیکشن کمیشن کےمطابق مسلم لیگ ن نے 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ جے یو آئی 2، آزاد امیدوار 2، تحریک لبیک اور مہاجر قومی مومنٹ ایک ایک نشست جیت سکی ہے جبکہ شہر کی 65 نشستوں پر چیئرمین اور وائس چئیرمین کے نتائج آنا باقی ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق شہر کی 246 میں سے 235 یونین کمیٹیز میں انتخابات ہوئے جبکہ 11 نشستوں پر امیدواروں کے انتقال کی وجہ سے انتخابات ملتوی ہوئے۔

    کراچی الیکشنز کے نتائج میں غیر معمولی تاخیر پر صوبائی الیکشن کمشنر سندھ کا مؤقف،صوبائی الیکشن کمشنر سندھ اعجاز انور چوہان نے کہا کہ تمام پولنگ اسٹیشنز سے نتائج آر اوز کے دفتر پہنچ رہے ہیں، یہ ایک گھمبیر معاملے ہے، ایک یوسی کا رزلٹ بنانے میں وقت لگتا ہے، ہر یوسی کے 4 وارڈز ہیں اور اوسط 20 پولنگ اسٹیشنز ہیں ایک بھی پولنگ اسٹیشن کا نتیجہ نہ آئے تو یوسی کا نتیجہ مکمل نہیں ہوتا، کمپیوٹر ایکسل پر رزلٹ بن رہا ہے، ان انتخابات میں آرٹی ایس سسٹم کا استعمال نہیں کیا گیا۔

    دھاندلی کا الزام لگانے والے 2018 والے لوگ ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی کے ضلع جنوبی کے چیئرمین کا نتیجہ مکمل ہوگیا جس میں 26 میں سے 15 یونین کمیٹیز پر پیپلز پارٹی اور 9 پر تحریک انصاف کامیاب ہوئی ہے، ضلع جنوبی میں ایک نشست پر تحریک لبیک کا پینل منتخب ہوا اور ایک نشست پر انتخاب ملتوی ہوگیا۔

    لیاری ٹاؤن کی 13 میں سے 12 نشستوں کے نتائج سامنے آ چکے ہیں جن میں سے 11 نشستیں پیپلز پارٹی نے جیت لی ہیں اور پی ٹی آئی ایک نشست پر کام یاب ہو سکی ہے۔

    صدر ٹاؤن کی تمام 13 نشستوں کے نتائج سامنے آ چکے ہیں جن میں پی ٹی آئی اب تک 8 نشستیں حاصل کر چکی ہے جب کہ پیپلز پارٹی نے صدر ٹاؤن کی 4 نشستیں حاصل کی ہیں، صدر ٹاؤن کی ایک نشست تحریک لبیک نے حاصل کی ہے۔

    کراچی کے ضلع ملیر میں بھی پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا، کراچی کے ضلع ملیر کی تمام 30 یو سیز کے مکمل نتائج موصول ہوچکے ہیں ضلع ملیر 3 ٹاؤن اور 30 یونین کونسلز (یو سیز) پرمشتمل ہے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق ضلع ملیر میں پیپلز پارٹی 20 یو سیز پر کامیاب ہوئی۔ پی ٹی آئی ملیر سے 4 یو سیز پرکامیاب ہوئی۔

    جر ائم میں ملوث 18گینگ کے 42 ارکان سمیت 474 ملزمان

    اس کے علاوہ جماعت اسلامی 3 یو سیز پر کامیاب ہوئی، پاکستان مسلم لیگ ن 2 یو سیز پر کامیاب ہوئی، ایک یو سی پر آزاد امیدوار کامیاب ہوا۔

    حیدرآباد ،سچل سرمست ٹاون کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ سامنے آ گیا ،سچل سرمست ٹاون میں پیپلز پارٹی 14نشستوں پر کامیاب ہوئی جبکہ پی ٹی آئی کے 4 امیدواروں نے کامیابی سمیٹی جبکہ ایک یوسی پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئی-

    ماتلی سے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق میونسپل کمیٹی کے 12 وارڈوں میں سے پی پی کے11 نامزد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں وارڈ 1 سے پی پی کا امیدوارعبدالرحمٰن ہالی پوٹہ نے 938 ووٹ جبکہ مدمقابل پی ٹی آئی کےظہیراحمد نظامانی نے 343 ووٹ لیے وارڈ 2 سے پی پی امیدوار عزیز اﷲ ببر 535 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے عبدالسلام مدو پٹھان نے357 ووٹ لیے۔

    وارڈ3 سے پی پی کے امیدوار الھبخش چوھان 825 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ ان کے مد مقابل آزاد امیدوار عمران کمبوہ نے 267 ووٹ لیے۔ وارڈ4 سے پی پی امیدوار عبیداﷲ نظامانی نے 952 ووٹ لیے ان کے مخالف پی ٹی آئی کے امیدوار عبدالہادی نظامانی نے 246 ووٹ حاصل کیے وارڈ 5 سے پی پی امیدوار محمد جمیل لڈو کشمیری نے 798 ووٹ لیے اور ان کے مقابلہ میں موجود پی ٹی آئی کے امیدوار عبدالقدر بنگش نے397 ووٹ لیے۔

    چودھری شجاعت نے پرویز الہٰی کی پارٹی رکنیت معطل کردی

    سیہون میونسپل کمیٹی کے تمام 15 وارڈز پر پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کرلی،مٹیاری میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مٹیاری شہر میں جی ڈی اے نے میدان مار لیا،غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق مٹیاری کے 7وارڈ میں سے چار وارڈز میں جی ڈی اے کے نامزد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی جبکہ تین وارڈ میں پیپلزپارٹی کے نامزد امیدوار جیت گئے۔

    بدین میں پیپلز پارٹی نے ضلع کونسل بدین68 ارکین اور یونین کونسل 68 چئیرمین اور وائس چئیرمین میں سے 63 پر10 ٹاؤن کمیٹی میں سے9 اور2 میونسپل کمیٹی کی26 کی نشستوں پر1980 امیدوار انتجاب میں حصہ لیا جن کی اکثریت پیپلز پارٹی نے اپنےنام کرلی جبکہ47 امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں۔

    ضلع کونسل میونسپل کمیٹی بدین اور ماتلی کے علاوہ دس ٹاؤن کمیٹی پر پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی اکثریت کامیاب رہی۔ اتوار کے روز ہونے والے بلدیاتی انتخاب میں ضلع کونسل بدین کے68 ارکین اور68 یونین کونسل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین میں سے پانچ پانچ امیدوار بلامقابلہ منتخب ہونے کے باعث63 پر انتجاب ہوا ضلع بھر کی10 ٹاؤن کمیٹی میں سے9 پر اور2 میونسپل کمیٹی کی26 کی نشستوں پر1980 امیدوار انتجاب میں حصہ لیا جبکہ47 کونسلر بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔

    جج آفتاب آفریدی قتل کیس کا مرکزی ملزم صوابی سے گرفتار

    میونسپل کمیٹی میہڑ کے تمام 14 وارڈوں میں پی ٹی آئی نے میدان مار لیا اور 9 نشستیں اپنے نام کرلیں۔ پی پی پی 4 نشستیں حاصل کرسکی۔ پی پی پی(شہید بھٹو) بھی ایک سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

    دادو میونسپل کمیٹی کے 24 وارڈز میں سے پی پی پی کے 18، پی ٹی آئی کے 3 اميدوار اور 2 آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔ جبکہ ایک امیدوار کے انتقال پر انتخابات روک دیے گئے پیپلزپارٹی کے شہزاد بھنڈ 3948 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، یوسی پیری سے پیپلزپارٹی کے رضوان شاہ 3915 ووٹ لے کر چیئرمین منتخب ہوئے۔

    مٹیاری میں ٹاؤن کمیٹی کے 7 وارڈ میں سے جی ڈی اے 4 پر اور پیپلز پارٹی 3 پر کامیاب ہوگئی۔

  • امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کراچی الیکشن کے نتائج میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کراچی الیکشن کے نتائج میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کراچی الیکشن کے نتائج میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی: سراج الحق نے کہا کہ 2018 کی طرح الیکشن پر کسی کو شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے، انتخابات الیکشن کمیشن کا امتحان، نتائج میں تاخیر سے عوام کے ذہنوں میں شبہ پیدا ہو رہا ہے-

    دھاندلی کا الزام لگانے والے 2018 والے لوگ ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    انہوں نے کہا کہ دھاندلی ہوئی تو کراچی سمیت پورے ملک میں احتجاج ہو گا،کراچی کے عوام کا جماعت اسلامی پر اعتماد کا شکریہ، ملک بھر کے کارکنوں کو مبارکباد پیش کرتاہوں-

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ عوامی مینڈیٹ کا ہر حال میں احترام ہونا چاہیے، عوام کا فیصلہ ہی آخری فیصلہ ہو گا،صوبائی حکومت انتخابات کو کھلے دل سے تسلیم اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کرے-

    چودھری شجاعت نے پرویز الہٰی کی پارٹی رکنیت معطل کردی

  • سسلین مافیا کا "آخری گاڈ فادر” گرفتار

    سسلین مافیا کا "آخری گاڈ فادر” گرفتار

    اٹلی میں سیکیورٹی اداروں نے سسلین مافیا کے مطلوب ترین سرغنہ میٹیو میسینا ڈینارو کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق سسلین مافیا کے آخری "گاڈ فادر” اور دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب مجرموں میں سے ایک میٹیو میسینا دینارو کو 30 سال فرار ہونے کے بعد پالرمو میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    سو کمار سین بنگالی زبان کے مشہور ماہر لسانیات اور ادبی تاریخ داں

    اطالوی سکیورٹی اداروں نے سسلی میں کارروائی کرتے ہوئے ایک نجی کلینک سے میٹیو میسینا کو گرفتارکیا،جہاں ذرائع کے مطابق، وہ وقتاً فوقتاً ایک سال سے ’’اینڈریا بونافیڈ‘‘ کے جھوٹے نام سے علاج کرواتا رہا تھا،گرفتاری کے بعد اسے سخت سکیورٹی میں نامعلوم مقام منتقل کردیا گیا۔

    60 سالہ میٹیو میسینا بدنام زمانہ سسلین مافیا کے بڑے گروہ کا سرغنہ تھا اور وہ اطالوی سکیورٹی اداروں کو گزشتہ 30 سال سے مطلوب تھا، 1992 میں اس کی غیر موجودگی میں مقدمہ چلایا گیا اور عدالت نے متعدد افراد کے قتل کے الزام میں اسے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
    +
    کہا جاتا ہےکہ ایک مرتبہ میٹیو میسینا نے فخریہ انداز میں کہا تھا کہ میں قبرستان بھر سکتا ہوں مافیا سرغنہ پر متعدد افرادکے قتل کے علاوہ منی لانڈرنگ اور منشیات اسمگلنگ کے الزامات ہیں۔

    چین: لامحدود وقت تک ہوا میں رہنے والے لیزرڈرون کا تجربہ کامیاب

    سالوں تک اطالوی سکیورٹی اداروں کو چکمہ دینے والے مافیہ سرغنہ کی چند پرانی تصاویر ہی سامنے آئی تھیں جب کہ 2012 سے قبل اس کی آواز بھی ریکارڈ نہیں کی جاسکی تھی۔

    پولیس ذرائع کے مطابق ڈینارو نے پولیس کو آتے دیکھ کر کلینک سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن ایک بار گھیرنے کے بعد اس نے مزاحمت نہیں کی۔

    2016 میں برنارڈو پروونزانو اور 2017 میں سالواتور رینا کی موت کے بعد، موبسٹر کو ایک بار سسلین مافیا کے باسز کا امیدوار سمجھا جاتا تھا۔

    مافیا کے مخبروں اور استغاثہ کے مطابق، اس کے پاس سسلین مافیا کے ذریعے کیے گئے کچھ انتہائی گھناؤنے جرائم کی کلید ہے، جس میں وہ بم حملے بھی شامل ہیں جن میں مافیا مخالف مجسٹریٹس جیوانی فالکون اور پاولو بورسیلینو ہلاک ہو گئے تھے 2002 میں، اسے ذاتی طور پر قتل کرنے یا درجنوں لوگوں کے قتل کا حکم دینے کے جرم میں مجرم قرار دیا گیا اور غیر حاضری میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

    تین سیکنڈ میں آواز نقل کرنے ولا سوفٹ ویئر

  • بھارت میں سڑک چوڑی کرنے کے بہانےتاریخی مسجد شہید

    بھارت میں سڑک چوڑی کرنے کے بہانےتاریخی مسجد شہید

    بھارتی ریاست اترپردیش میں قائم تاریخی مسجد کو سڑک چوڑی کرنے کے بہانے شہید کردیا گیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

    باغی ٹی وی: اترپردیش میں الہٰ آباد کے علاقے ہندیا میں 16 ویں صدی میں تعمیر کی گئی تاریخی شاہی مسجد کو شہید کردیا گیا۔ ٹوئٹر پر بھارتی پروفیسر اور یونیسکو کے چیئرپرسن اشوک سوائیں کی جانب سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں یوپی کی ایک سڑک پر قائم مسجد کو ہیوی مشینری کے ذریعے شہید کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    امریکی پولیس کے تشدد سے سیاہ فام خاتون ہلاک


    اشوک سوائیں نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ مسجد کو بھارتی ریاست اتر پردیش میں ایک سڑک چوڑی کرنے کے لیے شہید کیا گیا ہے۔


    دوسری جانب مسلم اسپیس نامی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بتا یا گیا کہ یو پی کے شہر الہ آباد کے ہنڈیا نامی گاؤں میں واقع شاہی مسجد کو شہید کردیا گیا ہے، مسجد شیر شاہ سوری کے دور سے قائم تھی۔

    بھارت؛120خواتین کیساتھ جنسی زیادتی کرنےوالے’جلیبی بابا‘کو14سال قید:پیروکاروں کا…

    اس حوالے سے امام مسجد کا کہنا ہے کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت تھا اور 16 جنوری کو کیس کی سماعت ہونی تھی۔

    مقامی مسلم تنظیم کے عہدیدار نے بتایا کہ عدالت میں سماعت کے لیے تاریخ مقرر ہونے کے باوجود گزشتہ روز پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ نے اہلکاروں نے بھاری مشینری کے ذریعے مسجد کو سڑک چوڑا کرنے کے بہانے شہید کردیا۔

    پیپلز یونین فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ کے مطابق صرف گجرات میں 500 کے قریب مساجد اور عبادت گاہوں کو مسمار کیا گیا جس سے بھارت کے سیکولر اسٹیٹ ہونے کا نام نہاد دعویٰ بے نقاب ہوگیا۔

    معاشی بحران سےنکلنےکےلیےسری لنکا کافوج کی تعداد میں کمی کرنے کا فیصلہ

  • زمین جیسا سیارہ دریافت

    زمین جیسا سیارہ دریافت

    واشنگٹن: ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اپنا پہلا سیارہ دریافت کر لیا اور اس چٹانی سیارے کا حجم تقریباً ہماری زمین جیسا ہی ہے۔

    باغی ٹی وی : LHS 475 b نامی یہ ایگزو پلینٹ 99 فیصد زمین کے قطر کے برابر ہےتاہم، زمینی سطح ہونے کے باوجود سائنسدانوں کو یہ نہیں معلوم کہ آیا اس کا کوئی ماحول ہے کہ نہیں۔ ایگزو پلینٹ ان سیاروں کو کہا جاتا ہے جو نظامِ شمسی سے باہر موجود ہوتے ہیں۔

    شُترمُرغ کے 4000 سال قدیم انڈے دریافت


    اگرچہ ماہرین کی ٹیم یہ نہیں بتاسکتی کہ وہاں کیاموجودہےلیکن اس بات کی نشاندہی ضرورکرسکتی ہےکہ وہاں کیاموجودنہیں ہے سائنسدانوں نے اس سیارے میں میتھین کی موٹی تہہ کی موجودگی نہ ہونے کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔


    زمین سے 41 نوری سال کے فاصلے پر موجود اس سیارے کا درجہ حرارت زمین کے مقابلے میں کچھ سو ڈگری زیادہ ہے اور یہ اپنے مرکزی ستارے کے گرد دو دن میں چکر مکمل کر لیتا ہے۔


    ایسے ایگزو پلینٹ خلائی دور بینوں سے اب تک چھپے ہوئے تھے لیکن اس کی دریافت کے بعد یہ بات ایک بار پھر ثابت ہوگئی کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی ٹیکنالوجی کتنی جاندار ہے۔

    تین سیکنڈ میں آواز نقل کرنے ولا سوفٹ ویئر


    واشنگٹن میں ناسا ہیڈکوارٹرز کے آسٹروفزکس ڈویژن کے ڈائریکٹر مارک کلیمپِن نے ایک بیان میں کہا کہ زمین کے حجم کے چٹانی سیارے سے ملنے والے ان ابتدائی مشاہداتی نتائج سے مستقبل میں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے چٹانی سیاروں کے ماحول کے مطالعے کے متعدد امکانات کا باب کھلتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ٹیلی اسکوپ ہمیں ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود زمین کے جیسے سیاروں کے متعلق نئے فہم سے قریب سے قریب تر لے جارہی ہے، زمین کے سائز کے، چٹانی سیارے کے یہ پہلے مشاہداتی نتائج ویب کے ساتھ چٹانی سیارے کے ماحول کا مطالعہ کرنے کے لیے مستقبل کے بہت سے امکانات کے دروازے کھولتے ہیں ویب ہمیں ہمارے نظام شمسی سے باہر زمین جیسی دنیا کی نئی تفہیم کے قریب اور قریب لا رہا ہے، اور مشن ابھی ابھی شروع ہو رہا ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

  • ابراہیم اشک معروف شاعر اور نغمہ نگار

    ابراہیم اشک معروف شاعر اور نغمہ نگار

    تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے
    ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے

    ابراہیم اشک کا اصل نام ابراہیم خاں غوری تھا (20 جولائی 1951ء اجین ہندوستان، 16 جنوری 2022ء) ان کا شمار معروف شاعروں اور نغمہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے کئی مقبول فلموں اور سیریلوں کے لیے نغمے اور اسکرپٹ لکھیں۔ نغمہ نگاری کا آغاز فلم ”کہو نہ پیار ہے“ سے کیا۔ اس فلم کے نغمے آج بھی اسی دلچسپی کے ساتھ سنے جاتے ہیں۔ نغموں کے علاوہ ان کی غزلوں کے متعدد البم ریلیز ہوئے۔

    اشک کی پیدائش 20 جولائی 1951ء کو اجین، مدھیہ پردیش میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اجین میں ہی حاصل کی۔ اس کے بعد ہندی ادبیات میں ایم اے کیا۔

    اشک بہت زرخیز تخلیقی طبیعت کے مالک تھے۔ انھوں نے متعدد شعری اصناف میں بہت کثرت سے شاعری کی۔ غزلیں کہیں، نظمیں کہیں، دوہے کہے۔ ان کی شاعری کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ’الہام‘ اور ’ آگہی‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اشک نے شاعری کے ساتھ تنقید بھی لکھی ۔ اقبال اور غالب پر ان کی کتابیں ان کی ثروت مند تنقیدی فکر کی اعلامیہ ہیں۔

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے
    ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے

    خود اپنے آپ سے لینا تھا انتقام مجھے
    میں اپنے ہاتھ کے پتھر سے سنگسار ہوا

    زندگی وادی و صحرا کا سفر ہے کیوں ہے
    اتنی ویران مری راہگزر ہے کیوں ہے

    دنیا بہت قریب سے اٹھ کر چلی گئی
    بیٹھا میں اپنے گھر میں اکیلا ہی رہ گیا

    نہ دل میں کوئی غم رہے نہ میری آنکھ نم رہے
    ہر ایک درد کو مٹا شراب لا شراب دے

    کریں سلام اسے تو کوئی جواب نہ دے
    الٰہی اتنا بھی اس شخص کو حجاب نہ دے

    بس ایک بار ہی توڑا جہاں نے عہد وفا
    کسی سے ہم نے پھر عہد وفا کیا ہی نہیں

    چلے گئے تو پکارے گی ہر صدا ہم کو
    نہ جانے کتنی زبانوں سے ہم بیاں ہوں گے

    زندگی اپنی مسلسل چاہتوں کا اک سفر
    اس سفر میں بارہا مل کر بچھڑ جاتا ہے وہ

    کوئی بھروسہ نہیں ابر کے برسنے کا
    بڑھے گی پیاس کی شدت نہ آسماں دیکھو

    کوئی تو ہوگا جس کو مرا انتظار ہے
    کہتا ہے دل کہ شہر تمنا میں لے کے چل

    کس لیے کترا کے جاتا ہے مسافر دم تو لے
    آج سوکھا پیڑ ہوں کل تیرا سایا میں ہی تھا

    نام کو بھی نہ کسی آنکھ سے آنسو نکلا
    شمع محفل میں جلاتی رہی پروانے کو

    مجھے نہ دیکھو مرے جسم کا دھواں دیکھو
    جلا ہے کیسے یہ آباد سا مکاں دیکھو

    تھی حوصلے کی بات زمانے میں زندگی
    قدموں کا فاصلہ بھی یہاں ایک جست تھا

    نہیں ہے تم میں سلیقہ جو گھر بنانے کا
    تو اشکؔ جاؤ پرندوں کے آشیاں دیکھو

    بکھرے ہوئے تھے لوگ خود اپنے وجود میں
    انساں کی زندگی کا عجب بندوبست تھا

    یہ اور بات ہے کہ برہنہ تھی زندگی
    موجود پھر بھی میرے بدن پر لباس تھا

  • سو کمار سین بنگالی زبان کے مشہور ماہر لسانیات اور ادبی تاریخ داں

    سو کمار سین بنگالی زبان کے مشہور ماہر لسانیات اور ادبی تاریخ داں

    سو کمار سین (16 جنوری 1900ء-3 مارچ 1992ء) بنگالی زبان کے مشہور ماہر لسانیات اور ادبی تاریخ داں ہیں۔ بنگالی زبان کی طرح وہ پالی، پراکرت اور سنسکرت میں یکساں طور پر مقبول ہیں۔

    تعارف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سو کمار سین کی ولادت 1900ء میں ہوئی۔ ان کے والد ہریندر ناتھ سین ایک وکیل تھے اور والدہ کا نام نبانالینی دیوی تھا۔ ان کا تعلق مشرقی بردھامن ضلع سے ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم بردھامن میونسپل ہائی اسکول ہوئی۔ انہوں نے 1917ء میں ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد ایف اے کی ڈگری 1919ء میں بردھامن راج کالج سے حاصل کی اور بعد ازاں کلکتہ یونیورسٹی سے ملحق ہو گئے۔

    1921ء میں گورنمنٹ سنسکرت کالج سے سنسکرت میں اول درجہ سے کامیابی حاصل کی اور انہیں اسکالرشپ ملی۔ انہوں نے فلولوجی کا تقابلی مطالعہ کیا اور اس کی ڈگری لی۔ انہوں نے 1923ء میں امتیازی نمبرات سے کامیابی حاصل کی ان کے استاد مشہور ماہر لسانیات سنیتی کمار چٹرجی اور ایراچ جہانگیر سوربجی تراپوریوالا تھے۔ انہیں پریم چند رائے چند فیلوشپ ملی اور پی ایچ ڈی کی ڈگری سے بھی نوازا گیا۔ وہ 1964ء میں یونیورسٹی سے فارغ ہوئے۔

    کیرئر
    ۔۔۔۔۔
    وہ 1930ء میں یونیورسٹی آف کلکتہ میں بحیثت معلم مقرر ہوئے اور یہاں وہ 34 برس تک تدریسی خدمت انجام دیتے رہے۔ 1954ء میں سنیتی کمار چٹرجی کے بعد اور فلولوجی کے دوسرے پروفیسر بنے۔ سین اپنی کتاب میں قدیم ہند آریائی زبان کا حوالہ دینے والے پہلے مصنف ہیں۔ انہوں نے یوز آف کیسی ان ویدک پروز (1958ء) اور بدھشٹ ہائیبرڈ سنسکرت (1928ء) میں اس مضمون پر مفصل بحث کی ہے۔ انہوں نے وسطی ہند آریائی زبانوں کا مطالعہ کیا اس کا مفصل تجزیہ لکھا۔ انہوں نے بنگالی زبان میں ادبی تخلیقات بھی دی ہیں اور بالخصوص دیو مالائی کہانی اور پران کو موضوع سخن بنایا ہے۔

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1984ء میں لندن ایشیاٹک سوسائٹی نے انہیں گولڈن جوبلی میڈل سے نوازا۔ وہ اس اعزاز کے حاصل کرنے والے پہلے ایشائی تھے۔ 1963ء میں رابندر پرسکار، 1966ء اور 1984ء میں آنند پرسکار، 1981ء میں ودیاساگر پرسکار، 1982ء میں دیسی کوٹم اور 1990ء میں پدم بھوشن اعزاز سے نوازا گیا۔ ایشیاٹک سوسائٹی کولکاتا نے انہیں جدوناتھ سرکار میڈل سے نوازا۔ 1973ء میں انہیں ساہتیہ اکیڈمی فیلوشپ کے لیے بھی منتخب کیا گیا۔