Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • رمیز راجہ کا پی سی بی دفتر میں رہ جانے والی ذاتی اشیا وصول کرنے سے انکار

    رمیز راجہ کا پی سی بی دفتر میں رہ جانے والی ذاتی اشیا وصول کرنے سے انکار

    لاہور: سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) رمیز راجا نے دفتر میں رہ جانے والی اپنی ذاتی استعمال کی اشیا وصول کرنے سے انکار کردیا۔

    باغی ٹی وی : سابق چیئرمین رمیز راجا کی قذافی اسٹیڈیم کے دفتر میں رہ جانے والی چیزوں میں انکا لیپ ٹاپ، 1992 ورلڈکپ کی ریپلیکا شرٹ، 2 عینک باکس، سونف کی ڈبی، شیلڈ، کیپ، پی سی بی بیگ اور چند ایکریڈیشن کارڈز شامل ہیں۔

    پہلی اننگزمیں نیوزی لینڈ کھیلا بھی اچھا:قسمت بھی مہربان نظرآئی:محمد یوسف


    بورڈ کی مینجمنٹ کمیٹی کے رکن شکیل شیخ نے سامان کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے رمیز راجہ کے اس رویے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یہ اشیا 2 مرتبہ سابق چیئرمین کے گھر بھجوائیں، دونوں مرتبہ رمیز راجا نے پی سی بی کے نمائندے سے ملاقات نہیں کی جبکہ دوسری بار ان کی اہلیہ نے چیزیں وصول کرنے سے انکار کیا۔

    تیسری بار پی سی بی کے نمائندے نے رمیز کو سامان بذریعہ کوریئر بھجوانے کیلئے کال کی تاہم انہوں نے ایک بار پھر وصول کرنے سے انکار کردیا۔

    کراچی ٹیسٹ؛ 295 رنز کے خسارے کے ساتھ پاکستان کی اننگز جاری

  • ایم کیو ایم میں شمولیت کے معاملہ: پاک سرزمین پارٹی نے آج جنرل ورکرز اجلاس طلب کرلیا

    ایم کیو ایم میں شمولیت کے معاملہ: پاک سرزمین پارٹی نے آج جنرل ورکرز اجلاس طلب کرلیا

    کراچی: پاک سرزمین پارٹی نے ایم کیو ایم میں شمولیت کے معاملے پر آج جنرل ورکرز اجلاس طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی : پی ایس پی ذرائع کے مطابق پارٹی کا جنرل ورکرز اجلاس شام 7 بجے پاکستان ہاؤس میں ہوگا جس میں ایم کیو ایم کے احتجاج میں شرکت اور پارٹی میں شمولیت پر کارکنان کی رائے لیے جانے کا امکان ہے۔

    چترال :گدھوں کے ذریعے دیار کی قیمتی لکڑی اسمگلنگ کیس کا فیصلہ سنادیا گیا۔گدھے بھی بحق سرکار ضبط

    گزشتہ روز ایم کیو ایم کا وفد پاک سرزمین پارٹی کے مرکز پاکستان ہاؤس آیا تھا جہاں وفد نے مصطفیٰ کمال کو 9 جنوری کو احتجاج میں شرکت اور پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی تھی۔

    واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے جنرل ورکرز اجلاس سے قبل رابطہ کمیٹی کی اہم بیٹھک ہوئی تھی جس میں حلقہ بندیوں اور ووٹر لسٹوں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے بڑھانے اور مل کر جدوجہد کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

    ایم کیو ایم نے حلقہ بندیوں اور ووٹر لسٹوں کو مسترد کردیا جبکہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں حکومت سے علیحدگی کے حوالے سے فی الحال کوئی فیصلہ نہٰں کیا گیا۔

    خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں ایم کیو ایم پاکستان کا وفد پاک سرزمین پارٹی کے قائدین سے ملاقات کے لیے پاکستان ہاؤس پہنچا، جہاں اُن کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ مہمانوں کے پہنچنے پر انیس قائم خانی نے ایم کیو ایم رہنماؤں کو خوش آمدید کہا۔

    بلدیاتی انتخابات؛ جماعت اسلامی کا سندھ حکومت کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم

    خالد مقبول صدیقی نے پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ کو 9 جنوری کی ریلی میں شرکت اور ماضی بھلا کر مستقبل کی جدوجہد ساتھ کرنے کی دعوت دی، دونوں جماعتوں نے کراچی کے معاملے پر ساتھ چلنے پر اتفاق کیا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم دعوت دینے آئے ہیں جس پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہم خالد مقبول صدیقی کی کوشش کا مثبت جواب دیں گے، کارکنان کا اجلاس بلا کر جلد جواب دیں گے سب اچھی خبریں آئے گی۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے یہ متحد ہونے کا وقت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات آرہے ہیں، سب چاہتے ہیں انتخابات ہوں، اس وقت ملک میں بنیادی جمہوریت کیلئےبلدیاتی انتخابات ضروری ہیں، جب تک ملک میں بنیادی جمہوریت نہیں ہوگی انتخابات کا فائدہ نہیں ہوگا،ایسی قانون سازی ہونی چاہیےکہ عام انتخابات سےپہلے بلدیاتی انتخابات ہوں۔

    خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ سب کو الیکشن لڑنے اور جیتنے کا حق ہے، کسی کو الیکشن چھیننے نہیں دیں گے، جعلی مردم شماری اور جعلی حلقہ بندیوں کے ذریعے انتخابی نتائج کوئی نہیں مانے گا، مصطفی کمال اور انیس کی ٹیم نے جس طرح استقبال کیا وہ قابل ستائش ہے ،کراچی کی معیشت سے پاکستان کی معیشت جڑی ہوئی ہے ،مختلف سیاسی جماعتوں سے رابط کریں گے، میں امید کرتا ہوں آواز سے آواز ملے گی۔

    ایم کیو ایم پاکستان نےحکومت کے خلاف احتجاج کی کال دے دی

    اس موقع پر ایس پی سربراہ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی میں رہنے والے تمام لوگ متاثر ہو رہے ہیں، کراچی بدحالی کی طرف جائے گا تو ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی ایک جماعت بھی ملک کے حالات کو ٹھیک نہیں کرسکتی، ملک کو معاشی بحران سے آئی ایم ایف نہیں صرف کراچی نکال سکتا ہے، کراچی ، حیدرآباد میں نوکریاں نہیں ہےاس شہر میں رہنے والے تمام زبان کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں، ایک یونین کونسل 30 ہزار اور ایک یونین کونسل 80ہزار پر ہے،کیا مذاق ہےکراچی کے لیے جو آواز اٹھائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ ہماری سپورٹ ہر اُس شخص اور جماعت کے لیے ہے جو کراچی اور یہاں کے لوگوں کے لیے بات کرتا ہے،ایم کیو ایم ہمارے پاس آئی ہے ہم مثبت جواب دیں گےہم قومی مفاد کے لئے مشکل فیصلہ بھی کریں گے،ہم سب ایک ہیں، ہم اجتماعی فائدے کی بات کریں گےہم نے پہلے بھی ذاتی مفاد کے لیے کوئی کام نہیں کیا ہم جلد کارکنان کا اجلاس بلاکر فیصلہ کریں گے، انشاء اللہ ساری اچھی خبریں ہی آئیں گی۔

    ماڈلز اور اداکارائوں کے حق میں اور میجرعادل راجہ کے خلاف ٹویٹر ٹرینڈ

    اُدھر ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنونیئر وسیم اختر کا جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان سے رابطہ ہوا، جس میں موجودہ سیاسی صورت حال اور حلقہ بندیوں کے حوالے سے گفتگو کی گئی ایم کیو ایم کا وفد آج جماعت اسلامی کے مرکز ادارہ نور حق کا دورہ کرے گا۔

    علاوہ ازیں ایم کیو ایم پاکستان کا وفد خالد مقبول کی سربراہی میں آج مسلم لیگ ن کے صوبائی دفتر کا دورہ کرے گا اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر اور ن لیگی صدر سندھ سلمان خان سے ملاقات کرے گا۔ ایم کیو ایم ترجمان کے مطابق مسلم لیگ ن کو متنازع حلقہ بندیوں کے خلاف احتجاج میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔

  • حضرت عیسیٰ کیجانب سےپیدائشی اندھےکوشفا دینےکامقام 2 ہزارسال میں پہلی مرتبہ عوام کیلئےکھولا جائیگا

    حضرت عیسیٰ کیجانب سےپیدائشی اندھےکوشفا دینےکامقام 2 ہزارسال میں پہلی مرتبہ عوام کیلئےکھولا جائیگا

    اسرائیلی حکام نے اعلان کیا ہے کہ جس جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پیدائشی اندھے کو بینائی کا تحفہ دیا تھا، اسے 2 ہزار سال میں پہلی مرتبہ عوام اور سیاحوں کیلئے کھولا جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی: مقبوضہ بیت المقدس کے آثارِ قدیمہ میں مدینۃ الداؤد کے نام سے مشہور مقام کے جنوب میں برکہ سلوان (Pool of Siloam) نام کی جگہ ہے جسے مسیحی اور یہودی انتہائی اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں۔

    اسرائیل نوادرات اتھارٹی، اسرائیل نیشنل پارکس اتھارٹی اور سٹی آف ڈیوڈ فاؤنڈیشن نے نئے سال سے کچھ دن پہلے اعلان کیا تھا کہ پول آف سائلوم، جو کہ عیسائیوں اور یہودیوں کی طرف سے ایک بائبل کی جگہ ہے، 2,000 سالوں میں پہلی بار عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔

    کرسچن یونائیٹڈ فار اسرائیل کے بانی اور چیئرمین امریکی پادری جان ہیگی نے فاکس نیوز ڈیجیٹل کو بتایا کہ "سیلوم کی کھدائی کا تالاب دنیا بھر کے عیسائیوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔” "یہ وہ جگہ تھی جہاں حضرت عیسیٰ نے اندھے آدمی کو شفا دی تھی اور یہ اسی جگہ پر ہے کہ، 2,000 سال پہلے، یہودی زائرین نے دوسرے ہیکل میں داخل ہونے سے پہلے صاف کیا تھا۔

    "سیلوم کا تالاب اور پیلگریمیج روڈ، دونوں شہر ڈیوڈ کے اندر واقع ہیں، بائبل کے سب سے متاثر کن آثار قدیمہ کے اثبات میں سے ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فی الحال ماہرین آثارِ قدیمہ اس جگہ پر کھدائی کر رہے ہیں اور یہ کام مکمل ہونے تک زمین کے اس ٹکڑے کو حصوں میں عوام کیلئے کھولا جائے گا تاہم اس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

    عوام ایک قلیل تعداد میں پہلے ہی اس علاقے کا محدود حد تک دورہ کر رہے ہیں لیکن بائبل میں بیان کردہ واقعات کا مکمل جائزہ لینے کیلئے مکمل کھدائی کی ضرورت ہے۔

    برکہ سلوان کا یہ علاقہ عوام کے سامنے پیش کرنے کا اعلان اسرائیل کے اینٹیکوئٹیز اتھارٹی کی جانب سے نئے سال کے موقع پر کیا گیا تھا، 8 ویں صدی قبل مسیح میں یہ علاقہ مقبوضہ بیت المقدس میں آبی نظام قائم کرنے کے دوران تعمیر کیا گیا تھا، یہ علاقہ عین سلوان (Gihon Spring) سے پانی حاصل کرکے ذخیرہ کرتا تھا اور اس کے بعد پانی زیر زمین سرنگوں میں چھوڑا جاتا تھا۔

    شہر کے میئر موشے لیون کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ تاریخی، ملکی اور بین الاقوامی اہمیت کا حامل ہے، علاقہ سیاحوں اور عوام کیلئے کھولنے سے ہر سال لوگ یہاں آئیں گے۔

    کتاب سلاطین (Book of Kings) میں بتایا گیا ہے کہ برکہ سلوان کی تعمیرات بادشاہ حزقیا (King Hazekia) کے دور میں شروع ہوئی تھی۔

    یوحنا کی انجیل (Gospel of John) کے باب 9؍ کے مطابق، یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت عیسیٰ ؑ نے مادر زاد اندھے کو شفا دی تھی، اور یہی وہ مقام ہے جہاں یہودی عازمین دوسرے معبد (Second Temple) میں داخل ہونے کیلئے خود کو پاک کیا کرتے تھے۔

  • روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ اور جرمنی کی معیشت

    روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ اور جرمنی کی معیشت

    روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ نے جرمنی کی معیشت کو ڈبو دیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جرمنی میں افراط زر 70 سال بعدانتہائی سطح تک پہنچ گئی 2021 میں جرمنی میں افراط زر کی شرح 3.1 فیصد تھی اور جنگ کے بعد2022 میں جرمنی میں افراط زرمیں 7.9 فیصد کا اضافہ ریکارڈکیا گیا۔

    طیارے کے انجن میں پھنس کرشہری ہلاک

    1951 میں جرمنی میں سالانہ افراط زر 7.6 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی جب کہ افراط زرمیں اضافے کی وجہ توانائی اور خوراک کی بڑھتی قیمتیں ہیں۔

    دوسری جانب جرمن وزیر دفاع کرسٹائن لیمبرچ کو نئے سال کیلئے ویڈیو پیغام میں آتش بازی کے دوران روس یوکرین جنگ کا تذکرہ کرنا مہنگا پڑگیا،وزیر دفاع نے نئے سال کےموقع پر جاری کئے گئےویڈیوپیغام میں آتش بازی کے دوران روس یوکرین جنگ کا تذکرہ اور کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر گفتگو کی تھی۔

    ایران کے جوہری منصوبے کے خلاف عالمی محاذ بنانے کیلئے کوشاں ہیں

    https://twitter.com/RikeFranke/status/1609635971221409792?s=20&t=yLYKzOQg_NM9bjaOYgEQwA
    بعد ازاں جرمن وزیر دفاع کے غیر سنجیدہ رویےکا نوٹس لیتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں نے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا ہے اپوزیشن کا کہنا ہے کے مستقبل بنیادوں پر وزیر دفاع کی طرف سے آنے والے بیانات شرمندگی کا باعث ہیں جس کی تازہ مثال حالیہ بیان ہے۔

    لیمبرج کی سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہونے والی ویڈیو پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں انتہائی غیر سنجیدہ کہا جارہا ہے۔

    تیونس میں تنخواہوں اور بونس کی ادائیگی میں تاخیرپرہڑتال

  • ایران میں خواتین کیلئے گاڑیوں میں سر پر اسکارف لازمی پہننے کی وارننگ دوبارہ جاری

    ایران میں خواتین کیلئے گاڑیوں میں سر پر اسکارف لازمی پہننے کی وارننگ دوبارہ جاری

    ایران میں خواتین کیلئے گاڑیوں میں سر پر اسکارف لازمی پہننے کی وارننگ دوبارہ جاری کی گئی ہیں۔

    باغی ٹی وی : ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پولیس کی جانب سے ’نذیر ون پروگرام‘ کا نیا مرحلہ پورے ایران میں شروع ہو گیا ہے۔

    جنرل سلیمانی کا قتل،انتقام ایران کی دفاعی پالیسی کا حصہ

    مبینہ طور پر پولیس کی جانب سے بھیجے گئے پیغام میں گاڑی میں حجاب نہ پہننے پر لکھا ہے کہ معاشرے کے اصول کا خیال رکھنا ضروری ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ عمل نہ دہرایا جائے۔

    گاڑیوں میں حجاب نہ پہننے پر نذیر ون پروگرام 2020 میں شروع کیا گیا تھا، ایران کی اخلاقی پولیس کے پاس عوامی علاقوں میں داخل ہونے کا مینڈیٹ ہے تاکہ لباس کے سخت ضابطے کے نفاذ کو چیک کیا جا سکے۔

    ایران کے جوہری منصوبے کے خلاف عالمی محاذ بنانے کیلئے کوشاں ہیں

    ایران میں حجاب نہ پہننے پر گرفتار 22 سالہ مہسا امینی کی دورانِ حراست مبینہ تشدد سے ہلاکت ہوئی تھی جس کے خلاف ایران بھر میں ستمبر سے مظاہرے جاری ہیں۔

    دوسری جانب ایران میں انسانی حقوق سے وابستہ ’’ہرانا‘‘ ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ مظاہروں میں مرنے والوں کی تعداد 516 تک پہنچ گئی ہے۔ان میں اٹھارہ سال سے کم عمر کے 70 بچے بھی شامل ہیں۔ ایجنسی نے کہا کہ ایرانی حکام نے 687 طلبہ کے علاوہ 19 ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا اورایران میں انقلابی عدالتوں نے مظاہروں کے آغاز سے اب تک 670 زیر حراست افراد کے خلاف فیصلے جاری کیے ہیں۔

    فرانسیسی بحریہ کی بحیرہ عرب میں کاروائی،5 کروڑ 32 لاکھ ڈالر سے زائد کی منشیات پکڑ…

  • امریکا:ملکی تاریخ میں پہلی بارخواجہ سرا کو سزائے موت

    امریکا:ملکی تاریخ میں پہلی بارخواجہ سرا کو سزائے موت

    میسوری: امریکی عدالت نے پہلی مرتبہ دوست کے قتل کے الزام میں خواجہ سرا کو سزائے موت دیدی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سزائے موت کے انفارمیشن سینٹر کے مطابق، ریاستہائے متحدہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار کسی کھلے عام خواجہ سرا کو پھانسی دی گئی، تاہم، ایک جیوری یہ فیصلہ نہیں کر سکی کہ آیا میک کو اس کے جرم کے لیے مر جانا چاہیے، اور اس کی سزا اس کے بجائے سینٹ لوئس کے جج نے سنائی تھی۔

    اپنی سابقہ ​​گرل فرینڈ بیورلی گوینتھر کے 2003 کے فرسٹ ڈگری قتل کے جرم میں سزا یافتہ 49 سالہ امبر میک لوگلن کی زندگی کا خاتمہ منگل کو انجیکشن کے ذریعے کیا گیا-

    امبر میک کے وکیل کا کہنا ہے کے سزا کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کردی گئی ہیں ، ان کا کہنا تھا کے عدالت کے سامنے قتل کی وجوہات بیان کرنےکے باوجود انہیں کوئی رعائت نہیں دی گئی۔

    طیارے کے انجن میں پھنس کرشہری ہلاک

    وکیل کے مطابق بچپن سے سخت معاشرتی رویوں سے متاثرہ امبر نے اپنی دوست کو جان بوجھ کر قتل نہیں کیا تھا، ڈپریشن کا شکار امبر کئی مرتبہ خود اپنی جان لینے کی بھی کوشش کرچکی ہے۔

  • متعدد ممالک کی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے شرط،چینی حکومت کا شدید ردعمل

    متعدد ممالک کی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے شرط،چینی حکومت کا شدید ردعمل

    متعدد ممالک میں چین سے آنے والے مسافروں کے منفی کوروناٹیسٹ لازمی کرنے کے اقدام پرچین نے جوابی اقدام کرنے کا انتباہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے چین سے آنے والے مسافروں پر منفی کورونا ٹیسٹ کی شرط سائنسی طور پر بے بنیاد اور غیرمعقول ہے۔

    آسٹریلیا اور کینیڈا نے بھی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے منفی کورونا ٹیسٹ کی شرط عائد کردی

    ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہناہے کہ چین سےآنےوالےمسافروں پر منفی کوروناٹیسٹ کےاقدام کی سخت مخالفت کرتےہیں،چین سے آنےوالےمسافروں پر منفی کوروناٹیسٹ لازمی کرنے پر جوابی اقدامات کریں گے۔

    واضح رہے کہ امریکا،برطانیہ،بھارت سمیت متعدد ممالک چین میں کورونا کیسز کے پھیلاو پروہاں سے آنے والے مسافروں پر منفی کورونا ٹیسٹ کی شرط لازمی کر چکے ہیں۔

    5 جنوری سے آسٹریلیا اور کینیڈا آنے والے چین کےمسافروں کو کورونا کے منفی ٹیسٹ لازمی دکھانے ہوں گے،آسٹریلوی وزیرصحت کے مطابق مسافروں کو چین،مکاؤ ،ہانگ کانگ سے روانگی کے 48 گھنٹوں کے اندرکرائے گئے کورونا کےمنفی ٹیسٹ پیش کرنےکی ضرورت ہوگی۔آسٹریلوی حکومت مسافروں کے رضاکارانہ نمونے لینے سمیت اضافی اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے۔

    کورونا کا خطرہ،امریکا نے بھی چین پر پابندیاں لگا دیں

    کینیڈا کی حکومت نے کہا ہے کہ چین کے مسافروں کیلئے منفی کورونا ٹیسٹ دکھانے کا عارضی اقدام 30 دن تک جاری رہے گا اور یہ پابندی مکاؤ اور ہانگ کانگ سے آنے والے مسافروں پر بھی لاگو ہوگی۔

    دوسری طرف چین میں کورونا کیسز میں اضافے کی صورتحال پر چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ ملک میں وبا پر قابو پانے کی کوششیں نئے دور میں داخل ہو رہی ہیں ہم سب کو مل کر اس پر قابو پانے کے لیے محنت کرنی ہے۔

    نئے سال کے آغاز پر چینی صدر شی جن پنگ کا کورونا وبا سے متعلق پیغام میں کہنا تھا کہ چین نےکورونا کےخلاف جنگ میں غیرمعمولی مشکلات اور چیلنجز پر قابو پایا ہے، اب وبا سے تحفظ اور اس پر قابو پانے کےنئےدورمیں داخل ہورہےہیں ابھی بھی وبا کےخلاف کوششوں کا وقت ہے، وبا سے بچاؤ کے لیے سب انتھک محنت کر رہے ہیں، وبا کے خلاف سخت محنت کا تسلسل اور ہمارا اتحاد ہی کامیابی کا ضامن ہے۔چین میں کورونا پابندیاں نرم ہونے کے بعد حالیہ دنوں میں کورونا کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔

    پاکستان میں کووڈ-19 کی صورتحال قابو میں ہے. وزیرِ اعظم شہباز شریف

  • برِ صغیر کی معروف علمی، ادبی اور سماجی شخصیت،عطیہ فیضی

    برِ صغیر کی معروف علمی، ادبی اور سماجی شخصیت،عطیہ فیضی

    برِ صغیر کی معروف علمی، ادبی اور سماجی شخصیت

    عطیہ فیضی (ولادت: 1 اگست 1877ء، وفات: 4 جنوری 1967)

    عطیہ فیضی کون تھی؟

    یہ تین بہنیں تھیں۔ سب سے بڑی نازی بیگم، ان سے چھوٹی زہرا بیگم اور آخری عطیہ بیگم۔ صرف عطیہ نے اپنا نام اپنے خاندانی لقب فیضی کی نسبت سے عطیہ فیضی رکھا۔ ان کے والد علی حسن آفندی کا تعلق ایک عرب نژاد خاندان سے تھا جو اپنے ایک بزرگ فیض حیدر کے نام کی نسبت سے فیضی کہلاتا تھا۔ یہ لوگ تجارت پیشہ تھے اور تجارتی کاموں کے سلسلے میں بمبئی سے لے کر کاٹھیاواڑ تک پھیل گئے تھے۔ عرب، ترکی اور عراق کے عمائد اور عوام سے بھی تعلقات تھے۔ اس خاندان میں علم وادب کا چرچا تھا۔ عطیہ کبھی کبھی دعویٰ کیا کرتی تھیں کہ ان کا خاندان ترکی النسل ہے لیکن عام طور پر انھیں عرب نژاد ہی خیال کیا جاتا تھا۔

    نازی بیگم: علی حسن آفندی کی سب سے بڑی بیٹی عطیہ فیضی سے نو سال بڑی تھیں۔ یہ بھی استنبول میں ۱۸۷۲ء کو پیدا ہوئیں۔ نازی بیگم نے ترکی کے اعلیٰ تعلیمی اداروںمیں تعلیم حاصل کی۔ ان کو ترکی، انگریزی، عربی اور فارسی میں اچھی دستگاہ حاصل تھی۔ بعد میں انھوں نے گجراتی اور اُردو زبان میں بھی مہارت پیدا کر لی۔ ابھی ۱۳ برس کی تھیں کہ ان کی شادی بمبئی کے قریب واقع ایک چھوٹی سی ریاست جنجیرہ کے نواب سرسیدی احمد خاں سے کر دی گئی۔

    سرسیدی احمد خاں کے اجداد حبشہ (ایتھیوپیا) کے ساحل پر آباد تھے۔ وہاں سے نقل مکانی کر کے یہ بمبئی آئے اور جنجیرہ کے جزیرے میں آباد ہو گئے۔ بعد میں وہ اس جزیرے کے حکمران بن گئے۔ یہ تحقیق نہیں ہو سکی کہ یہ خاندان جنجیرہ میں کب آباد ہوا اور کب وہاں ان کی حکمرانی قائم ہوئی۔ سسرال میں نازی بیگم کو رفیعہ سلطان کا لقب دیا گیا اور وہ ہر ہائی نس نازی رفیعہ سلطان آف جنجیرہ کہلائیں۔

    اپنے حسنِ عمل کی بدولت یہ جزیرے میں کافی ہر دل عزیز تھیں۔ ان کو علم و ادب سے گہرا لگائو تھا اور وہ اربابِ علم کی بے حد قدر دان تھیں۔ مولانا شبلی نعمانی کی شہرہ آفاق تصنیف سیرت النبیﷺ کی تیاری میں ان کی تحریک اور اعانت بھی شامل تھی۔ مولانا نے اس کا کافی حصہ جنجیرہ کی پر سکون فضا میں رہ کر مکمل کیا۔

    سفرِ یورپ کے دوران نازی بیگم کو علامہ اقبال اور کئی دوسرے مشاہیر سے بھی ملاقات کا موقع ملا۔ علامہ اقبال ان کی علمی وجاہت سے بہت متاثر ہوئے اور یہ شعر ان کی نذر کیے:
    اے کہ تیرے آستانے پر جبیں گستر قمر
    اور فیضِ آستاں بوسی سے گل برسر قمر
    روشنی لے کر تیری موجِ غبارِ راہ سے
    دیتا ہے ایلائے شب کو نور کی چادر قمر

    نازی بیگم نے شبلی نعمانی کی میزبانی کے علاوہ کئی بار علامہ اقبال، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، قائد اعظم محمد علی جناح، مسز سروجنی نائیڈو اور ملک کے متعدد دوسرے نامور اربابِ علم اور اہل سیاست کی میزبانی کا شرف بھی حاصل کیا۔ بقول نازی بیگم قائد اعظم ان سے فرمایا کرتے تھے کہ مجھے جنجیرہ آ کر بہت آرام اور سکون ملتا ہے۔ وہ جنجیرہ میں اپنا بیشتر وقت محل سے ملحق باغ میں گزارا کرتے تھے۔

    عطیہ فیضی نے بھی اپنی بہنوں کی طرح استنبول میں اعلیٰ تعلیم پائی اور ترکی، عربی، فارسی، انگریزی، اُردو اور گجراتی میں اچھی استعداد بہم پہنچائی۔ ان کی بڑی بہن نازی بیگم کی شادی ۱۸۸۵ء میں نواب جنجیرہ (بمبئی) سے ہوئی تو یہ بھی ان کے ساتھ جنجیرہ میں رہنے لگیں۔ عطیہ اپنے والدین کی بہت لاڈلی تھیں اور سب بہنوں میں زیادہ شوخ وچنچل بھی۔ اس کے ساتھ ہی وہ بڑی ذہین و فطین اور علم و ادب کی شیدائی بھی تھیں۔ جنجیرہ ایک پُر فضا جزیرہ تھا۔

    نازی بیگم کی دعوت پر ملک کے بڑے بڑے اہلِ سیاست اور اربابِ علم کی یہاں آمد آمد ہوئی ان میں مولاناشبلی نعمانی بھی شامل تھے۔ ان کو عطیہ کی ذہانت، علم وادب سے شغف اور دوسرے اوصاف نے بے حد متاثرکیا اور وہ ان کے مداح بن گئے۔ عطیہ بھی شبلی نعمانی کی بہت قدر دان تھیں۔ ان کے درمیان خط وکتابت بھی ہوتی رہتی تھی۔ جس میں بے تکلفی کا ایک مخصوص رنگ پایا جاتا تھا۔ بالخصوص مولانا شبلی کے خطوں میں، بعض اصحاب نے اس بے تکلفی کو کوئی اور رنگ دینے کی کوشش کی ہے لیکن یہ بے تکلفی ہمیشہ ایک حد کے اندر رہی اور عطیہ ہمیشہ انھیں (شبلی کو) عزت کا ایک مقام دیتی رہیں۔

    ۱۹۰۳ء میں عطیہ کی شادی ایک عالمی شہرت یافتہ مصور رحیمن (رحمین) سے ہوئی۔ وہ یہودی نژاد تھے لیکن مسلمان ہو گئے تھے۔ یہ ڈاکٹر فیضی رحیمن کے نام سے مشہور تھے۔ ان کی بنائی ہوئی تصویریں دنیا کے مختلف عجائب گھروں اور آرٹ گیلریوں کی زینت رہیں۔ ہندوستان میں پیدا ہوئے لیکن تعلیم و تربیت یورپ میں ہوئی۔ وہیں مصوری، افسانہ نگاری اور مضمون نویسی میں شہرت حاصل کی۔ وہاں سے اچانک ہندوستان آ گئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔

    قیام پاکستان کے بعد نازی بیگم اور عطیہ فیضی کے ساتھ یہ پاکستان آ گئے اور کراچی میں مستقل اقامت اختیار کی۔ کراچی میں ان کی زندگی کے آخری چند سال بڑی پریشانیوں میں گزرے اس کی کچھ تفصیل آگے آئے گی۔ بعض لوگوں نے اس شادی پر اعتراض کیا، شبلی نعمانی کو خبر ہوئی تو انھوںنے یہ شعر کہے:

    عطیہ کی شادی پہ کسی نے نکتہ چینی کی
    کہا میں نے جاہل ہے یا احمق ہے یا ناداں ہے
    بتانِ ہند کافر کر لیا کرتے تھے مسلم کو
    عطیہ کی بدولت آج اک کافر مسلماں ہے

    مولانا شبلی نے ایک مرتبہ قیامِ جنجیرہ کے دوران عطیہ کو مخاطب کر کے یہ اشعار کہے:

    کسی کو یاں خدا کی جستجو ہو گی تو کیوں ہو گی
    خیالِ روزہ و فکرِ وضو ہو گی تو کیوں ہو گی
    ہوائے روح پرور بھی یہاں کی نشہ آور ہے
    یہاں فکرِ مے وجام و سبو ہو گی تو کیوں ہو گی
    کہاں یہ لطف، یہ سبزہ یہ منظر یہ بہارستان
    عطیہ تم کو یادِ لکھنو ہو گی تو کیوں ہو گی

    اور جب ان کو لکھنو میں جنجیرہ کی یاد ستاتی تو کہتے:

    یاد میں صحبت ہائے رنگیں جو جزیرے میں ہیں
    وہ جزیرے کی زمین تھی یا کوئی مے خانہ تھا

    ۷،۱۹۰۶ء میں نازی بیگم اپنے شوہر اور دوسرے اہل خاندان کے ساتھ یورپ گئیں تو عطیہ بھی ان کے ساتھ تھیں۔ انگلستان میںان کی علامہ اقبال سے خوب ملاقاتیں رہیں اور ابنِ عربی کے فلسفۂ تصوف پر طویل مباحث ہوتے (علامہ اس وقت بسلسلۂ تعلیم انگلستان میںتھے) علامہ اقبال عطیہ سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کو راز دار بنا لیا۔ اپنے ذاتی حالات اور ذہنی کیفیات تک سے ان کو آگاہ کرتے تھے اور اپنا کلام بھی انھیں بھیجتے تھے۔ اقبال کے خطوط عطیہ بیگم کے نام طبع ہو چکے ہیں۔

    ان کو دیکھ کر دونوں کے باہمی روابط کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ عطیہ فیضی بڑی خوبیوں کی مالک تھیں لیکن فی الحقیقت ان کو ملک گیر شہرت مولانا شبلی کی شاعری اور علامہ اقبال کے قلم نے عطا کی اور وہ برصغیر کی نامور خواتین میں شمار ہوئیں۔ ماہر القادری نے عطیہ سے بعض ذاتی ملاقاتوں اور ان مجالس کا کچھ احوال بھی لکھا ہے جو عطیہ کے خصوصی ذوق اور خود ان کے رونقِ محفل ہونے کی وجہ سے منعقد ہوئیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کے آخری ایام کی دھندلی سی ایک تصویر ہمیں دکھاتے ہیںجس سے پتا چلتا ہے کہ دھوپ چھائوں کا کھیل بھی کیا کھیل ہے۔ لکھتے ہیں:

    ’’یہ قصہ نشاطیہ تو ہے ہی مگر کسی حد تک المیہ (ٹریجڈی) بھی ہے۔ شبلی نعمانی کے تذکرے میں عطیہ فیضی کا نام آتا ہے۔ مولانا شبلی نعمانی سے مجھے بے انتہا محبت بھی ہے اور عقیدت بھی۔ اسی نسبت اور تعلق کے سبب عطیہ فیضی کے نام سے میں بہت دنوں سے واقف تھا۔ فنون لطیفہ سے عطیہ کو جو خاص شغف تھا اس کے تذکرے بھی لوگوں کی زبانی سنے تھے۔

    ماہرالقادری

  • دہشتگردی کے خلاف دفاع کرنا پاکستان کا حق ہے،افغان طالبان اپنے وعدوں کو پورا کریں،امریکا

    دہشتگردی کے خلاف دفاع کرنا پاکستان کا حق ہے،افغان طالبان اپنے وعدوں کو پورا کریں،امریکا

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف دفاع کرنا پاکستان کا حق ہے-

    باغی ٹی وی : واشنگٹن میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے نیڈ پرائس نے کہا کہ پاکستانی عوام نے دہشتگرد حملوں سے شدید نقصان اٹھایا ہے طالبان کو کہا جائے کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کریں، افغان سرزمین دہشتگردی کیلئے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال نہ ہو۔

    فرانسیسی بحریہ کی بحیرہ عرب میں کاروائی،5 کروڑ 32 لاکھ ڈالر سے زائد کی منشیات پکڑ…

    نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ طالبان کے فیصلوں کے خلاف کیا اقدامات لیے جا سکتے ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے خبردارکیا کہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکا کی طرف سے رسپانس دیا جائے گا۔

    دوسری جانب افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے بارے میں امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں کہا کہ امارت اسلامیہ افغانستان پاکستان سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے ہمسائے کے طور پر بہتر تعلقات چاہتی ہے اور ان تمام وسائل و ذرائع پر یقین رکھتی ہے جو اس ہدف تک ہمیں پہنچاسکتے ہیں۔

    ایران کے جوہری منصوبے کے خلاف عالمی محاذ بنانے کیلئے کوشاں ہیں

    ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ حالیہ دنوں پاکستانی حکام کی جانب سے افغانستان کےخلاف بیانات دیئے جارہے ہیں جو قابل افسوس ہیں امارت اسلامیہ اپنی پوری کوشش کر رہی ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان یا کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔

    انہوں نے کہا کہ ہم اس مقصد کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہیں، پاکستانی فریق کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ حالات کو قابو رکھنے کی کوشش کرے۔ بے بنیاد باتوں اور اشتعال انگیز خیالات کے اظہار سے احتراز کرے۔ کیوں کہ ایسی باتیں اور بداعتمادی کی فضا کسی فریق کے مفاد میں نہیں۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ امارت اسلامیہ جس طرح اپنے ملک کے اندر امن و استحکام کو اہمیت دیتی ہے اسی طرح پورے خطے کے لیے امن و استحکام چاہتی ہے اور اس سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

    آئی فون نے خاتون کی جان بچا لی

  • پی ایس ایل 8: پشاور زلمی کی کٹس کی رونمائی کر دی گئی

    پی ایس ایل 8: پشاور زلمی کی کٹس کی رونمائی کر دی گئی

    کراچی: پاکستان سپر لیگ سیزن 8 کے لیے پشاور زلمی کی کٹس کی رونمائی کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی : پشاور زلمی کے کپتان اسٹار بیٹسمین بابر اعظم نے منفرد انداز میں کٹس کی رونمائی کی، بابر اعظم پہلی بارمنفرد فیشن اسٹائل میں جلوہ گر ہیں۔

    پاکستانی بولرز نے عمدہ کارکردگی دکھاکرہمیں بہت پریشان کیا ،ڈیوون کانوے


    ترجمان زلمی کےمطابق پی ایس ایل 8 کے لیے پشاور زلمی کی پلیئنگ، متبادل اور ٹریننگ کٹس لانچ کی گئیں ہےجس کی ویڈیومیں پاکستان اور پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم موجود ہیں۔ دنیا کےبہترین بیٹر میں شمارہونےوالے بابر اعظم نے پاکستان سپ لیگ کی سب سے مقبول فرنچائز پشاور زلمی کی کٹس رونمائی کو چار چاند لگا دیئے۔

    پروفیشنل کھلاڑی کو ہر طرز کی وکٹ پر خود کو تیار رکھنا چاہیے،سلمان علی آغا

    چیف کمرشل آفیسر پشاور زلمی نوشیرواں آفندی نے کہا کہ کٹس رونمائی ویڈیو میں کرکٹ، میوزک اور فیشن کا حسین امتزاج ہے، پشاور زلمی کٹ کی رونمائی میں انٹرنیشنل راک بینڈ ایولنیشن کا مشہور گانا سیل شامل کیا گیا ہے۔

    پشاور زلمی کے چیئرمین جاوید آفریدی کا کہنا ہے کہ پشاور زلمی کی ٹریننگ کٹ کو ایک بار پر پھر ہوم سٹی پشاور سے منسوب کیا گیا ہے، ٹریننگ کٹ میں شامل ڈیزائن کو پھولوں کے شہر پشاور سے تشبیہ دی گئی ہے، ٹریننگ کٹ پر پاکستان کی قومی جانور اور زلمی ماسکوٹ مارخور کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔

    کراچی ٹیسٹ؛ نیوزی لینڈ کی آٹھویں وکٹ 340 رنز پر گرگئی