مسجد عثمان بن عفان سعودی شہر جدہ کے تاریخی علاقے میں واقع ہے اور اسے شہر کے قدیم ترین آثارِ قدیمہ میں شمار کیا جاتا ہے اس مسجد کی بنیاد 33 ہجری (654 عیسوی) میں رکھی گئی تھی، جس سے اس کی تاریخی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
حالیہ کھدائی کے دوران ماہرین نے انکشاف کیا کہ یہ مقام گزشتہ 1300 سال سے مسلسل استعمال میں رہا ہے تحقیق کے دوران مختلف ادوار کے آثار سا منے آئے جن میں اموی دور، عباسی دور اور مملوک دور شامل ہیں، کھدائی کے دوران ایک جدید نوعیت کا تقریباً 800 سال پرانا آبی نظام بھی دریافت ہوا، جو اس دور کی انجینئرنگ مہارت کو ظاہر کرتا ہے اس کے علاوہ محراب میں نصب نایاب آبنوسی ستون بھی ملے، جن کے بارے میں سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ لکڑی قدیم سری لنکا سے لائی گئی تھی، جو جدہ کے قدیم بحری تجارتی روابط کا ثبوت ہے۔
ماہرین نے مسجد کی تعمیر کے سات مختلف ادوار کو ڈیجیٹل طور پر محفوظ کیا ہے، اس میں روایتی ساحلی طرزِ تعمیر، جیسے مرجانی پتھر اور لکڑی کے استعمال کو نمایاں کیا گیا ہے، جو اس علاقے کی مخصوص تعمیراتی پہچان ہے۔
کھدائی کے دوران ہزاروں نوادرات بھی دریافت ہوئے، جن میں ابتدائی چینی مٹی کے برتن شامل ہیں یہ دریافت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مسجد صدیوں سے جدہ کی ثقافتی اور تجارتی تاریخ کا اہم حصہ رہی ہے، خاص طور پر اس وقت سے جب حضرت عثمان بن عفان نے جدہ کو اسلامی دنیا کی مرکزی بندرگاہ قرار دیا تھا، آج یہ مسجد جدہ کے ثقافتی راستوں کا ایک اہم مرکز بن چکی ہے، جہاں اسلامی تاریخ اور جدید سرگرمیوں کو یکجا کر کے سعودی عرب کی مذ ہبی اور تعمیراتی شناخت کو محفوظ رکھا جا رہا ہے۔









