اقوام متحدہ کے بین الاقوامی میری ٹائم ادارے (آئی ایم او) نے آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 ہزار سے زائد ملاحوں کے مرحلہ وار انخلا کا آغاز کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے بین الاقوامی میری ٹائم ادارے (IMO) کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 ہزار سے زائد ملاحوں کے انخلا کا عمل ایران، عمان، خطے کے دیگر ساحلی ممالک، امریکا اور عالمی بحری صنعت کے تعاون سے انجام دیا جائے گا اس آپریشن کے لیے ضروری حفاظتی ضمانتیں حاصل کر لی گئی ہیں اور محفوظ بحری آمدورفت کے تمام انتظامات کی مکمل جانچ پڑتال کی جا چکی ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں تجارتی اور مال بردار جہاز اس اہم آبی گزرگاہ میں پھنس گئے تھے تاہم گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے بعد بحری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
شپنگ انٹیلی جنس ادارے کلیپر کے مطابق پیر کے روز کم از کم 36 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو جنگ شروع ہونے کے بعد ایک دن میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
عمان کی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ آئی ایم او کے منصوبے کے تحت انخلا کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا تاکہ موجودہ حالات میں کسی بھی ممکنہ حادثے یا جہازوں کے تصادم کے خطرات سے بچا جا سکے بحری راستے میں غیر معمولی دباؤ کے باعث جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم اور تدریجی انداز میں بحال کرنا ضروری ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو متحدہ عرب امارات پہنچ گئے ہیں انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی ٹول ٹیکس یا فیس عائد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت کوئی بھی ملک یہاں سے گزرنے پر فیس وصول نہیں کر سکتا۔ ان کے بقول خطے کے تمام ممالک اس مؤقف سے اتفاق کریں گے۔
دوسری جانب ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اس سے قبل کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کبھی بھی جنگ سے پہلے والی صورتحال کی طرف واپس نہیں جائے گی، اگر چہ دونوں فریق اس اہم آبی راستے کو کھلا رکھنے کے لیے رابطے کے مستقل ذرائع قائم کرنے پر متفق ہو چکے ہیں۔









