Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ایرانی سپریم لیڈر  کا اعلیٰ عسکری عہدوں پر نئی تعیناتیوں کا اعلان

    ایرانی سپریم لیڈر کا اعلیٰ عسکری عہدوں پر نئی تعیناتیوں کا اعلان

    ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مسلح افواج، پاسدارانِ انقلاب اور بسیج فورس کے اعلیٰ عہدوں پر نئی تعیناتیوں کا اعلان کردیا ہے۔

    مجتبیٰ خامنہ ای نے فروری میں اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بار اتنی بڑے پیمانے پر عسکری تبدیلیاں کی ہیں،نئی تعیناتیوں کے مطابق، میجر جنرل علی عبداللّٰہی کو ایرانی مسلح افواج کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ بریگیڈیئر جنرل کیومرث حیدری ان کے نائب (ڈپٹی چیف) کے طور پر فرائض سرانجام دیں گے۔

    اسی طرح احمد وحیدی کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر ایران کی انتہائی بااثر فورس، پاسدارانِ انقلاب کا کمانڈر ان چیف (سربراہ) مقرر کر دیا گیا ہے، اور مصطفیٰ ایزدی ان کے نائب کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے،اس کے علاوہ، ریئر ایڈمرل علی عظمیٰی کو پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا کمانڈر بنایا گیا ہے، جبکہ حسین طائب کو بسیج فورس کے سربراہ کی اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

    ان تعیناتیوں سے قبل، اتوار کو جاری کردہ ایک حکم نامے کے ذریعے، سپریم لیڈر نے پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی کو سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کیا تھااس حوالے سے سپریم لیڈر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کہا گیا کہ یہ تقرری محسن رضائی کے عراق کے ساتھ آٹھ سالہ جنگ کے دوران ابتدائی کمانڈر کے طور پر تجربے کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

    یہ عسکری تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے بارے میں مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں اور وہ عوامی منظر نامے سے غائب ہیں،ان افواہوں کے درمیان، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سپریم لیڈر کے ساتھ تقریباً سات گھنٹے طویل ملاقات کے بعد ان کی صحت کے حوالے سے وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔

    صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر ”مکمل طور پر صحت مند“ ہیں انہوں نے ملک کی معیشت، عوامی گزر بسر اور امریکی پابندیوں کے اثرات پر بات چیت کی، جبکہ سپریم لیڈر نے ملک میں ”اتحاد اور یکجہتی“ کی ضرورت پر زور دیا۔

  • ملک میں،آج پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں

    ملک میں،آج پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی رد و بدل نہیں کیا گیا۔

    پاکستان میں آج بھی پیٹرول 327 روپے 62 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 380 روپے 86 پیسے فی لیٹر کی قیمت پر فروخت ہو رہا ہے،حکومت کی جانب سے اس سے قبل 10 جولائی کے لیے پیٹرول 2 روپے 20 پیسے فی لیٹر سستا کیا گیا تھا جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں صرف 1 روپے 50 پیسے فی لیٹر کی کمی کی گئی تھی۔

    اگر 20 جولائی سے لے کر اب تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے مجموعی اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر آٹھ بار کمی کی گئی اور 7 بار اضافہ کیا گیااس کے برعکس ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اس پورے عرصے کے دوران چھ بار کمی کی گئی جبکہ 8 بار اس کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کی پالیسی کے حوالے سے وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ ”پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا، اور اوگرا روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرکے ویب سائٹ پر لگایا کرے گی“۔

    حکومت کی جانب سے یہ وضاحت سامنے آئی ہے کہ ماضی میں بین الاقوامی منڈی کے نرخوں، ڈالر کی قدر اور ٹیکسوں کی شرح کا جائزہ ہر 15 روز بعد لیا جاتا تھا، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں، اسی لیے عوامی سہولت اور منڈی کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے یہ نیا روزانہ کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔

  • کولمبیا میں زلزلہ: وزیراعظم کا جانی و مالی تباہی  پر اظہارِ افسوس

    کولمبیا میں زلزلہ: وزیراعظم کا جانی و مالی تباہی پر اظہارِ افسوس

    وزیراعظم شہبا زشریف،نے کولمبیا میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں ہونے والی جانی و مالی تباہی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    وزیراعظم،شہبا زشریف نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام اس المناک سانحے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر کولمبیا کے عوام اور متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں،انہوں نے کولمبیا کے صدر ایبلارڈو ڈی لا ایسپریئلا، وہاں کے عوام اور ان تمام خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا جنہوں نے زلزلے کی تباہ کاری کے باعث اپنے پیاروں کو کھو دیا وزیراعظم نے متاثرہ خاندانوں کے لیے صبر اور حوصلے کی دعا بھی کی۔

    وزیراعظم نے زلزلے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد اور اس قدرتی آفت سے متاثر ہونے والے تمام لوگوں کے لیے بھی ہمدردی کا اظہار کیا، کہا کہ پاکستان کی دعائیں اور نیک خواہشات اس مشکل وقت میں زخمیوں اور متاثرین کے ساتھ ہیں،پاکستان اس مشکل گھڑی میں کولمبیا کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے، قدرتی آفت سے پیدا ہونے والی اس صورتحال میں پاکستانی عوام اور حکومت کولمبیا کے متاثرین کے دکھ کو محسوس کرتے ہیں اور ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

  • مخالفین کو ہر معاملے میں تنقید کے بجائے حقائق سامنے رکھنے چاہئیں،عظمیٰ بخاری

    مخالفین کو ہر معاملے میں تنقید کے بجائے حقائق سامنے رکھنے چاہئیں،عظمیٰ بخاری

    صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت عوام کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کررہی ہے-

    لاہور میں نیوز کانفرنس میں عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ 4 اضلاع میں واٹر فلٹریشن پلانٹس مکمل طور پر فعال ہیں، جبکہ اب تک 4 لاکھ 45 ہزار 582 بوتلیں گھرانوں میں تقسیم کی جاچکی ہیں، جن سے 2 لاکھ 84 ہزار افراد مستفید ہوئے ہیں،کئی کئی کلومیٹر پیدل چل کر پانی لانے والے خاندانوں کو 19 لیٹر پانی کی بوتلیں فراہم کی جارہی ہیں۔ پروگرام کو مرحلہ وار مزید اضلاع تک توسیع دی جائے گی اور آنے والے برسوں میں 2 کروڑ سے زائد افراد اس منصوبے سے مستفید ہوں گے۔

    عظمیٰ بخاری نے کہا کہ لاہور کو دیگر بڑے شہروں کے مقابلے میں محفوظ بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں، تاہم مزید کام کی ضرورت ہے بعض افسوسناک واقعات کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے حقائق سامنے لانے چاہئیں پنجاب حکومت غلطیوں کو دور کرنے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی پر یقین رکھتی ہے، ایک بچی کے واقعے میں ڈی آئی جی آپریشنز نے پورے تھانے کو معطل کرکے محکمانہ کارروائی کی سفارش کی، جبکہ 2 بہنوں کے کیس کا عدالت نے نوٹس لیا ہے اور عدالت کی جانب سے تجویز کردہ سزا پر عمل کیا جائے گا۔

    صوبائی وزیر اطلاعات نے سندھ حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں ترقی کے دعووں اور زمینی حقائق میں واضح فرق نظر آتا ہے سندھ کے بڑے اسپتالوں کی صورتحال سے متعلق حقائق جلد عوام کے سامنے لاؤں گی سیاسی رہنماؤں کو دوسروں پر تنقید سے پہلے اپنی حکومت کی کارکردگی بھی دیکھنی چاہیے۔

    صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ مخالفین کو ہر معاملے میں تنقید کے بجائے حقائق سامنے رکھنے چاہئیں مکہ معاہدے کے فوراً بعد اس کے خلاف منفی مہم شروع کی گئی، حالانکہ معاہدے کو پوری دنیا میں سراہا جا رہا ہےمکہ معاہدے کی کامیابی کو متنازع بنانے کی کوشش افسوسناک ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا کے بیان پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔

    صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگانے والوں کو پہلے اپنی سیاسی تاریخ دیکھنی چاہیے۔ 40 سال سے پنجاب میں انتخابات نہ جیتنے والی جماعت ہر بار دھاندلی کا الزام لگانا شروع کردیتی ہےہمیں گورننس کے مشورے دینے والوں کو پہلے سندھ میں اپنی کارکردگی بہتر کرنی چاہیے سندھ میں نہ مناسب انفراسٹرکچر ہے اور نہ امن و امان کی صورتحال تسلی بخش ہے 18 سال سے حکومت کرنے والے عوام کو ایک بوند صاف پانی تک فراہم نہیں کرسکے۔

    عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب حکومت نے صرف 2 ماہ میں 4 اضلاع میں بوٹلنگ پلانٹس فعال کرکے ہزاروں خاندانوں تک صاف پانی پہنچایا ہے جو لوگ اپنے صوبے میں سڑکیں، گلیاں اور نکاسی آب کا نظام بہتر نہیں کرسکتے، انہیں پنجاب کو گورننس کے بھاشن نہیں دینے چاہئیں سندھ میں پولیس اور امن و امان کی صورتحال پر سوال اٹھانے والوں کو پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے نوجوانوں کو جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑنے والے پنجاب کو گورننس کے مشورے نہ دیں۔

    صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ایک بار پھر منظم مہم کے ذریعے سیاسی بیانیہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے پی ٹی آئی کی کال پر نہ عوام نکلتے ہیں، نہ اس کے ارکان اسمبلی، ایسے میں احتجاج کی سیاست کیسے کامیاب ہوگی پی ٹی آئی قیادت کو پہلے اپنی جماعت کے اندر عوامی رابطہ اور سیاسی تنظیم مضبوط کرنی چاہیے رات کو یہ کہنا کہ صبح لوگ اکٹھے ہوجائیں، سیاست اس طرح نہیں ہوتی سلمان اکرم راجا نے بھی اعتراف کیا ہے کہ پارٹی آج تک لوگوں کو بڑی تعداد میں اکٹھا نہیں کرسکی۔

  • اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا، جن میں کثیرالجہتی تعاون اور علاقائی صورتحال شامل ہے،دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ سطح کے ساتھ ساتھ کثیرالجہتی فورمز پر بھی مسلسل قریبی رابطے اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

  • لاہور پولیس کی حراست میں خواتین کی پراسرار ہلاکت کے واقعے میں اہم پیشرفت

    لاہور پولیس کی حراست میں خواتین کی پراسرار ہلاکت کے واقعے میں اہم پیشرفت

    لاہور میں پولیس حراست کے دوران دو خواتین کی پراسرار ہلاکت کے واقعے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے-

    پولیس ذرائع نے رپورٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ساڑھے 17 سالہ آمنہ اور 22 سالہ انمول کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں پایا گیا، اور دونوں خواتین کی موت مبینہ طور پر ہارٹ اٹیک یعنی دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوئی۔

    یاد رہے کہ ان نند بھابھی کو 4 اگست کو چوری اور دھوکہ دہی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور اسی روز پولیس تھانے میں ان کی موت واقع ہوئی تھی،4 اگست کو درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دو خواتین، جن کی شناخت بعد میں آمنہ اور انمول کے نام سے ہوئی، گلی میں بھیک مانگتے ہوئے مدعی مقدمہ کے گھر آئیں۔

    ایف آئی آر میں مدعی مقدمہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ’دو خواتین جو کہ گلی میں بھیک مانگ رہی تھیں، ہمارے گھر میں داخل ہو گئیں اور پانی مانگا میری بہن نے اُن کو پانی دیا تو انہوں نے کہا کہ ہم دم بھی کرتی ہیں اِس ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 379، جو چوری پر لگائی جاتی ہے، اور 420، جو دھوکہ دہی و فراڈ کے الزامات پر لگائی جاتی ہے، شامل کی گئیں۔

    ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ ’دونوں خواتین نے دھوکہ دہی سے میری بہن کی سونے کی بالیاں اور پانچ ہزار روپے ہتھیا لیے، اور اسی دوران جب میں گھر پہنچا تو ان دونوں خواتین نے سونے کی بالیاں تو واپس کر دیں، لیکن پیسے واپس نہیں کر رہی تھیں انہوں نے محلے میں واویلا شروع کر دیا اور اپنے کپڑے پھاڑ لیےاس صورتحال کے بعد، ’ہم نے ریسکیو 15 پر کال کی تو پولیس پہنچ گئی۔ ہم نے دونوں خواتین کو پولیس کے حوالے کر دیا۔‘

    بعد ازاں، پولیس حراست میں مبینہ طور پر دونوں خواتین کی موت واقع ہونے کی اطلاع دی گئ،اس واقعے نے شدید تنازع کھڑا کر دیا تھا کیونکہ متوفی خواتین کے اہلِ خانہ نے سنگین الزامات عائد کیے تھے اہلِ خانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں خواتین موت پولیس حراست میں بہیمانہ تشدد کی وجہ سے ہوئی ہے۔

    دوسری طرف، لاہور پولیس کے اعلیٰ حکام، بشمول ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں خواتین منشیات کی عادی تھیں اور خدشہ ہے کہ ان کی موت نشے کی زیادہ مقدار استعمال کرنے کی وجہ سے ہوئی۔

    تاہم، ورثاء نے پولیس کے منشیات استعمال کرنے کے دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا تھا متوفی خاتون انمول کے شوہر اور آمنہ کے بھائی ثقلین نے الزام عائد کیا کہ جب انہوں نے میت دیکھی تو اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور چہرے اور کمر پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔

    دوسری جانب، آمنہ کی والدہ اور انمول کی ساس زینب بی بی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے تھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی ہے جس میں لڑکیاں صحیح سلامت نظر آرہی ہیں، اور پولیس کا یہ مؤقف غلط ہے کہ انہیں محلے والوں نے مارا تھااگر وہ نشے میں ہوتیں تو پولیس اہلکار سے اُس طرح بات نہ کرتیں جیسا کہ ویڈیو میں نظر آ رہا ہے۔“

    اس متضاد صورتحال اور سنگین نوعیت کے پیش نظر، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج لاہور کے احکامات پر جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے واقعے کی عدالتی تحقیقات (انکوائری) کا باقاعدہ آغاز کیا گیا قانون کے مطابق، پولیس تحویل میں کسی ملزم کی ہلاکت پر جوڈیشل انکوائری لازمی ہے، جس کی رپورٹ 30 روز کے اندر جاری کی جاتی ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگر جوڈیشل انکوائری یا فارنزک رپورٹس میں پولیس تشدد ثابت ہوجائے تو ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جاتی ہے،ورثاء نے یہ بھی شکایت کی ہے کہ انہیں ابھی تک پوسٹ مارٹم رپورٹ کی کاپی باقاعدہ طور پر فراہم نہیں کی گئی ہے۔

    دوسری،جانب دونوں خواتین کی پولیس حراست میں جانے سے قبل کی موبائل ویڈیو منظر عام پر آگئی، جسے معاملے کی جاری انکوائری کا حصہ بنا لیا گیا ہےویڈیو میں دونوں خواتین کو ٹاؤن شپ کے بی بلاک میں علاقہ مکینوں کے ساتھ تکرار کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق علاقہ مکین مبینہ واردات میں ہتھیائی گئی رقم واپس کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے،موبائل ویڈیو کے مطابق خواتین نے پولیس کے پہنچنے سے قبل جائے وقوعہ سے نکلنے کی کوشش بھی کی، تاہم بعد ازاں پولیس انہیں حراست میں لے کر تھانے منتقل کرگئی۔

    واضح رہے کہ پولیس کے مطابق دونوں خواتین کو 4 اگست کو دوپہر 2 بج کر 59 منٹ پر ایک کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا تھا، جبکہ خواتین نوسربازی کے مقدمات میں ریکارڈ یافتہ تھیں،ونوں خواتین کے خلاف لاہور اور گجرات میں نوسربازی کے مقدمات پہلے بھی درج ہوچکے تھے۔ ٹاؤن شپ میں درج سابقہ مقدمہ نمبر 1423/26 کے مدعیان نے بھی دونوں خواتین کو شناخت کیا تھا 15 کی کال موصول ہونے پر کارروائی کرتے ہوئے دونوں خواتین ملزمان کو تھانے لایا گیا۔ بعد ازاں شہری ذیشان کی درخواست پر دونوں خواتین کے خلاف مقدمہ نمبر 1476/26 بھی درج کیا گیا۔

  • سونے کی قیمت میں آج بھی اضافہ

    سونے کی قیمت میں آج بھی اضافہ

    عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں آج بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 800 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ ، 57 ہزار 336 روپے ہو گئی،اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 685 روپے بڑھنے کے بعد 3 لاکھ 92 ہزار 91 روپے پر پہنچ گئی،جبکہ،بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 08 ڈالر کے اضافے سے 4 ہزار 349 ڈالر کی سطح پر آگئی،5 روزمیں فی تولہ سونے کی قیمت میں 29 ہزار 400 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

    اس کے علاوہ فی تولہ چاندی کی قیمت 77 روپے کے اضافے سے 6 ہزار 903 روپے کی سطح پر آگئی، فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 66 روپے کے اضافے سے 5 ہزار 918 روپے کی سطح پر آگئی۔

    خیال رہے کہ عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال، مختلف خطوں میں جاری کشیدگی، مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسیوں اور امریکی ڈالر کی قدر میں تبدیلی جیسے عوامل سونے کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ہونے والی معمولی تبدیلی بھی مقامی صرافہ بازار میں قیمتیں متاثر ہوتی ہیں۔

  • عظمیٰ بخاری کی ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست خارج

    عظمیٰ بخاری کی ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست خارج

    لاہور: سیشن کورٹ نے فیک ویڈیو سوشل میڈیاپر وائرل کرنے کے مقدمے میں عظمیٰ بخاری کو بیان ریکارڈ کرانے لیے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کردی۔

    لاہور کی سیشن عدالت میں صوبائی وزیرعظمیٰ بخاری کی فیک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں ایڈیشنل سیشن جج نصرت علی صدیقی نے فیصلہ سنایا۔

    عدالت نے عظمیٰ بخاری کی ویڈیو لنک پربیان قلمبند کرانےکی درخواست خارج کردی اور صوبائی وزیر کو آئندہ سماعت پر بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیش ہونے کی ہدایت کی،عظمیٰ بخاری نے جوڈیشل مجسریٹ کی جانب سے ذاتی حیثیت میں پیش ہوکر بیان ریکارڈ کروانے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

    صوبائی وزیر نے فلک جاوید کے خلاف این سی سی آئی اے میں مقدمہ درج کرا رکھا ہے۔

  • عازمین حج  پرائیویٹ آپریٹر کو براہ راست رقم جمع نہ کرائیں،وزیر  مذہبی امور

    عازمین حج پرائیویٹ آپریٹر کو براہ راست رقم جمع نہ کرائیں،وزیر مذہبی امور

    وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف کا کہنا ہے کہ نجی عازمین بھی پاک حج ایپ کی ذریعے پرائیویٹ آپریٹر کا انتخاب کرسکیں گے، عازمین پرائیویٹ آپریٹر کو براہ راست رقم جمع نہ کرائیں-

    وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سردار یوسف نے کہا کہ حج کو مکمل ڈیجیٹائز کردیا ہے اب عازمین حج گھر بیٹھے درخواستیں جمع کرواسکتے ہیں،کیونکہ عازمین کو انتظار اور طویل قطاروں سے بچانا چاہتے ہیں 4 لاکھ رجسٹرڈ عازمین گھر بیٹھے درخواستیں جمع کروا سکیں گے، عازمین کے پاس ادائیگی کے لیے 3 آپشن موجود ہیں، حج اخراجات کریڈٹ کارڈ یا پی ایس آئی ڈی سے جمع کرا سکیں گے، چالان فارم پرنٹ کرکے نقد رقم بھی جمع کروائی جاسکے گی۔

    ان کا کہنا ہے کہ سرکاری حج اسکیم کی تعداد ایک لاکھ 7 ہزار 526 ہے، پہلی قسط کی وصولی 17 اگست سے شروع کی جائے گی، حج اخراجات دوسری قسط اکتوبر میں وصول کی جائے گی، پہلے آئیے، پہلے پائیے کی بنیاد پر درخواستیں وصول کی جائیں گی، کوٹہ مکمل ہوتے ہی درخواستوں کی وصولی روک دی جائے گی،نجی عازمین بھی پاک حج ایپ کی ذریعے پرائیویٹ آپریٹر کا انتخاب کرسکیں گے، عازمین پرائیویٹ آپریٹر کو براہ راست رقم جمع نہ کرائیں۔

  • پیپلز پارٹی کا پارلیمان میں حکومت سے تعاون جاری نہ رکھنے کا فیصلہ

    پیپلز پارٹی کا پارلیمان میں حکومت سے تعاون جاری نہ رکھنے کا فیصلہ

    پیپلز پارٹی کی جانب سے پارلیمان میں حکومت سے تعاون نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی نے تاحکمِ ثانی پارلیمان میں حکومت سے تعاون نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پیپلزپارٹی قانون سازی کے عمل میں بھی حکومت کا ساتھ نہیں دے گی، پیپلزپارٹی قائمہ کمیٹیوں میں حکومتی بلوں کو سپورٹ نہیں کرے گی، جبکہ منظوری کے مرحلے میں بھی حکومتی بلوں کی مخالفت کی جائے گی،پیپلزپارٹی قائمہ کمیٹیوں میں حکومتی بلوں کے حوالے سے ضروری ترامیم بھی پیش کرے گی۔