Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • یو اے ای کی علیحدگی کے باوجود اوپیک پلس متحد رہے گا،روس

    یو اے ای کی علیحدگی کے باوجود اوپیک پلس متحد رہے گا،روس

    روس نے کہا ہے کہ تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کا اتحاد اوپیک پلس متحد رہے گا-

    روسی خبر رساں اداروں کے مطابق روس کے نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ یو اے ای کے اخراج کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کسی پرائس وار کا امکان نہیں کیونکہ اس وقت مارکیٹ میں پہلے ہی سپلائی کی کمی موجود ہے۔

    الیگزینڈر نوواک نے انٹرفیکس خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں قیمتوں کی جنگ کی بات نہیں کی جا سکتی کیونکہ مارکیٹ میں پہلے ہی تیل کی قلت موجود ہے اس وقت صنعت ایک گہرے بحران سے گزر رہی ہے بڑی مقدار میں تیل مارکیٹ تک نہیں پہنچ رہا جبکہ طلب رسد سے کہیں زیادہ ہے، جس کے باعث شدید عدم توازن پیدا ہو گیا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی اور لاجسٹک رکاوٹیں ہیں، روس 2016 میں قائم ہونے والے اوپیک پلس اتحاد کا حصہ بنا رہے گا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

    واضح رہے کہ منگل کے روز متحدہ عرب امارات نے اوپیک سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا، جسے توانائی کی عالمی منڈی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی بحران شدت اختیار کر چکا ہے-

  • آبنائے ہرمز ایرانی قوم کی مزاحمت، خودمختاری اور قومی وقار  کی علامت ہے،ایرانی صدر

    آبنائے ہرمز ایرانی قوم کی مزاحمت، خودمختاری اور قومی وقار کی علامت ہے،ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنی سرحدوں اور اسٹریٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا-

    خلیج فارس کے قومی دن کے موقع پر ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے یہ طاقتیں خطے میں غیر ضروری مداخلت کرکے امن کو نقصان پہنچا رہی ہیں، ایران دشمن ممالک کو اس آبی راستے میں داخل نہیں ہونے دے گا-

    انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز صرف ایک تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ ایرانی قوم کی مزاحمت، خودمختاری اور قومی وقار کی علامت ہے اس آبی گزرگاہ کی حفاظت ایران کے لیے انتہائی قومی اہمیت کی حامل ہے اور اس سلسلےمیں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائےگی ایران اپنی سرحدوں اور اسٹریٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔

  • اماراتی ٹیلی کام  ای اینڈ (اتصالات) کا پی ٹی سی ایل سے باہر نکلنے پر غور

    اماراتی ٹیلی کام ای اینڈ (اتصالات) کا پی ٹی سی ایل سے باہر نکلنے پر غور

    اماراتی ٹیلی کام جائنٹ ای اینڈ (اتصالات) پاکستان کے پی ٹی سی ایل سے باہر نکلنے پر غور کر رہا ہے-

    متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کام کمپنی ‘ای اینڈ’ (اتصالات) نے 2005ء میں پی ٹی سی ایل (PTCL) کی نجکاری کے وقت سے جاری بقایا جات ($800 ملین سے زائد) اور جائیدادوں کی منتقلی کے دیرینہ تنازع کے باعث پاکستان سے باہر نکلنے پر غور کیا ہے، تاہم، حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور پی ٹی سی ایل نے حال ہی میں ٹیلی نار پاکستان کا انتظام بھی سنبھال لیا ہے۔

    جمعرات کو گردش کرنے والی رپورٹس کے مطابق، اماراتی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ای اینڈ (سابقہ ​​اتصالات) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) میں اپنی سرمایہ کاری اور انتظامی کردار کا جائزہ لے رہی ہے ابتدائی طور پر بیان کیا گیا ہے، جس میں تقسیم، تنظیم نو، یا اخراج کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ پی ٹی سی ایل انتظامیہ نے اشارہ کیا ہے کہ وہ حصص یافتگان کی کسی بھی آنے والی تبدیلی سے لاعلم ہے اور اپنے کاروباری منصوبوں کو آگے بڑھانا جاری رکھے ہوئے ہے، بشمول 5G رول آؤٹ کی تیاری۔

    اس پیشرفت نے 2005-2006 کی نجکاری سے متعلق ایک طویل عرصے سے مالیاتی اختلاف کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے اتصالات نے 2005 میں $2.6 بلین میں پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص خریدے تھے، لیکن جائیدادوں کی ملکیت منتقل نہ ہونے پر 800 ملین ڈالر کی بقیہ ادائیگی روک رکھی ہے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اس بقایا رقم کو بڑھ کر 6 ارب ڈالر تک پہنچنے کی اطلاع دی ہے، جبکہ حکومتِ پاکستان اور اتصالات کے حکام دبئی میں اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں اس تمام صورتحال کے باوجود، پی ٹی سی ایل نے 1 جنوری 2026ء کو ٹیلی نار پاکستان (Telenor Pakistan) اور اوریون ٹاورز کے 100% حصص کی خریداری مکمل کر لی ہے۔

    واضح رہے کہ ای اینڈ (اتصالات) اور پاکستان کے درمیان یہ تنازعہ تقریباً دو دہائیوں سے جاری ہے،کئی سالوں میں ہونے والی بات چیت نے متنازعہ اثاثوں کی قیمتوں کا تعین اور حوالے کرنے پر توجہ دی ہے، رپورٹس کے مطابق 34 اور 100 سے زائد جائیدادیں ابھی بھی تنازعہ میں ہیں۔

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور اتصالات کی قیادت کے درمیان جنوری 2026 میں دبئی میں ہونے والی ملاقات سمیت اعلیٰ سطحی مذاکرات نے اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کی، تاہم یہ مسئلہ مکمل تصفیے کے بغیر برقرار ہے کچھ تخمینے، ممکنہ دلچسپی یا ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے، متنازعہ رقم کو نمایاں طور پر زیادہ رکھتے ہیں، حالانکہ دونوں فریقوں نے دو طرفہ تعلقات کے تحفظ کے لیے رسمی قانونی چارہ جوئی پر بات چیت کی حمایت کی ہے۔

  • آبنائے ہرمز میں نیا باب شروع ہو رہا ہے،ایرانی سپریم لیڈر

    آبنائے ہرمز میں نیا باب شروع ہو رہا ہے،ایرانی سپریم لیڈر

    ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں نیا باب شروع ہو رہا ہے، امریکا کی ناکامی کے بعد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں نئی صورتحال سامنے آ رہی ہے-

    ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنےنئے پیغام میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں نیا باب شروع ہو رہا ہے، امریکا کی ناکامی کے بعد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں نئی صورتحال سامنے آ رہی ہے، دو ماہ کی کشیدگی اور امریکی منصوبے کی ناکامی کے بعد خطے میں نیا مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔

    مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ اسٹریٹیجک اثاثہ ہرمز صدیوں سے کئی شیطانی طاقتوں کی لالچ کو ابھارتا رہا ہے، خلیج فارس نہ صرف اقوام کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے بلکہ آبنائے ہرمز اور بحیرۂ عمان کے ذریعے عالمی معیشت کے لیے ایک اہم اور منفرد راستہ بھی فراہم کرتی ہے، ہرمز محض ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ ایک ایسی نعمت ہے جس نے ہماری شناخت اور تہذیب کا حصہ تشکیل دیا ہے۔

    سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ خلیج فارس مسلم اقوام، بالخصوص اسلامی ایران کے عوام کے لیے اللہ تعالیٰ کی ایک بے مثال نعمت ہے، اسلامی انقلاب خطے میں “مغرور طاقتوں” کے اثر و رسوخ کے خاتمے کا اہم موڑ تھا، ایران کی خلیج فارس کے ساتھ سب سے طویل ساحلی پٹی ہے، ایرانی قوم نے خطے کی آزادی اور غیر ملکی مداخلت کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔

  • وزیر اعلیٰ پنجاب کا کچہ کے لیے ’اپنا کھیت، اپنا روزگار‘ پیکیج کا اعلان

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا کچہ کے لیے ’اپنا کھیت، اپنا روزگار‘ پیکیج کا اعلان

    ر وزیراعلیٰ نے ’اپنا کھیت، اپنا روزگار‘ پروگرام شروع کرنے کا اعلان بھی کیا اور ہدایت کی کہ کچہ ایریا کے لوگوں کو 14 ہزار 500 ایکڑ سرکاری اراضی فراہم کی جائے تاکہ وہ زراعت کے ذریعے روزگار حاصل کر سکیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کچہ ایریا کی ترقی، امن و امان اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے 23 ارب روپے کے بڑے پیکیج کا اعلان کر دیا، جس میں انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور سیکیورٹی کے متعدد منصوبے شامل ہیں انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ کچہ کے علاقے میں گزشتہ 5 ماہ کے دوران کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا اور تاریخ میں پہلی بار حکومت کی رٹ مؤثر انداز میں قائم ہوئی ہے۔

    اعلان کردہ پیکیج کے تحت 23 ارب روپے کی لاگت سے اسکول، اسپتال، سڑکیں اور پل تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ امن و امان کے قیام کے لیے 7.1 ارب روپے، سوشل انفراسٹرکچر کے لیے 13.9 ارب اور دیگر منصوبوں کے لیے 1.7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ نے کچہ ایریا میں ٹرانسپورٹ سہولیات، کلینک آن ویلز، موبائل وٹرنری اسپتال اور لیبارٹریز فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی اس کے ساتھ ساتھ جدید سولر انرجی سے چلنے والے ڈرونز کے ذریعے 24 گھنٹے نگرانی کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جبکہ پولیس گاڑیوں اور چیک پوسٹوں کو بھی سیف سٹی کیمر وں سے منسلک کیا جائے گا۔

    تعلیمی شعبے میں 65 سکولوں کی تعمیر و بحالی، 16 نئے اسکولوں اور 2 گرلز کالجز کے قیام کی منظوری دی گئی ہے اس کے علاوہ 6551 طالبات کو اسکول میل ملک پیک، 300 طلبہ کو ہونہار اسکالرشپس اور 300 کو لیپ ٹاپ فراہم کیے جائیں گے انفراسٹرکچر کے حوالے سے 108 کلومیٹر سولنگ اور 144 کلومیٹر سڑکوں پر مشتمل 27 منصوبے مکمل کیے جائیں گے، جبکہ مثالی گاؤں منصوبہ، سیوریج، ڈرینج اور سپورٹس پراجیکٹس بھی شروع کیے جائیں گے، مزید برآں 125 ملین روپے کی لاگت سے اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام بھی شروع کیا جائے گا۔

    کچہ ایریا میں نادرا رجسٹریشن کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ شہریوں کو کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور ب فارم کے اجرا میں آسانی ہو،سیکیورٹی اقدامات کے تحت ناجائز اسلحہ کی واپسی کے لیے خصوصی پلان تیار کیا گیا ہے، جس میں اسلحہ جمع کرانے والوں کو اس کی نوعیت کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا اور اس عمل کی ڈیجیٹل نگرانی کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ نے کچہ کی مرکزی سڑکوں کے اطراف لمبی فصلوں کی کاشت پر پابندی بھی عائد کر دی تاکہ سیکیورٹی خدشات کو کم کیا جا سکے مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ کچہ کے عوام کو بھی پنجاب کے دیگر علاقوں کی طرح ترقی اور خوشحالی کا حق حاصل ہے انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ کچہ ایریا کو ایک محفوظ، مثالی اور ترقی یافتہ خطہ بنایا جائے گا جہاں کے لوگ باعزت روزگار حاصل کر سکیں گے۔

  • وفاقی وزیر پیٹرولیم سے ایرانی سفیر کی ملاقات

    وفاقی وزیر پیٹرولیم سے ایرانی سفیر کی ملاقات

    وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے پاکستان میں ایران کے سفیر رضا علی مقدم نے ملاقات کی-

    ملاقات میں میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،جبکہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    ایرانی سفیر نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار پر حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران پاکستان کی امن کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    علی پرویز ملک نے سفیر کے خیالات کا خیرمقدم کرتے ہوئے خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

  • سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

    سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

    مقامی اور انٹرنیشنل مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں آج پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے،پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 4400 روپے کا اضافہ ہوگیا۔

    ملک میں فی تولہ سونا 4400 روپے اضافے کے بعد 483,962 روپے کا ہوگیا جب کہ 10 گرام سونا 3772 روپے اضافے کے بعد 414,919 روپے کا ہو گیاہے اس کے علاوہ 10 گرام 22 قیراط سونے کی قیمت 380,356 روپے ہوگئی،جبکہ عالمی مارکیٹ میں سونا 44 ڈالر اضافے کے بعد 4616 ڈالر فی اونس کا ہو گیا ہے۔

    اسی طرح، فی تولہ چاندی کی قیمت 55 روپے کے اضافے سے 7ہزار 821 روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 47روپے کے اضافے سے 7ہزار 705روپے کی سطح پر آگئی۔

  • اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی نائب صدر  کے درمیان رابطہ

    اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی نائب صدر کے درمیان رابطہ

    دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی نائب صدر اور اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔

    گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال، اس کے معاشی اثرات اور وسیع تر علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا،یورپی یونین کی نائب صدر نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری اور سہولت کار کردار کو سراہا۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں مذاکرات، روابط اور پرامن حل کے فروغ کے لیے پرعزم ہےانہوں نے اسلام آباد میں پاک یورپی یونین بزنس فورم کے کامیاب انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دو طرفہ شراکت داری کو مضبوط بنانے اور کاروباری مواقع بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بھی قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • سپر ٹیکس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپر ٹیکس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد میں وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 4C کے تحت سپر ٹیکس کے نفاذ کو آئینی قرار دے دیا ہے۔

    293 صفحات پر مشتمل یہ تفصیلی فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان نے تحریر کیا،عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سپر ٹیکس کو انکم ٹیکس سے الگ اور ایک علیحدہ ٹیکس رجیم کے طور پر تصور کیا جائے گا، فیصلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سیکشن 4C کے خلاف دیے گئے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہو ئے کہا گیا کہ ٹیکس کے نفاذ کا اختیار پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔

    تفصیلی فیصلے کے مطابق سیکشن 4C کا اطلاق ٹیکس سال 2022 اور اس کے بعد کے سالوں پر ہوگا، عدالت نے قرار دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ایف بی آر کو سرکلر جاری کرنے کی ہدایت دائرہ اختیار سے باہر تھی، سپر ٹیکس عام انکم ٹیکس کا متبادل نہیں بلکہ اس کے علاوہ ایک اضافی ٹیکس ہے، جو مخصوص آمدنیوں پر لاگو ہوتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سیکشن 4C کا اطلاق ان تمام آمدنیوں پر ہوگا جو علیحدہ ٹیکس نظام کے تحت آتی ہیں، جبکہ سرمایہ میں اضافہ پر بھی یہ ٹیکس لاگو ہو سکتا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ پٹرولیم اور ایکسپلوریشن کمپنیوں پر سپر ٹیکس کا اطلاق مخصوص قانونی حدود اور معاہدوں کے مطابق ہوگا عدالت نے واضح کیا کہ فلاحی اور پنشن فنڈز کو استثنیٰ حاصل ہو سکتا ہے، تاہم انہیں متعلقہ سرٹیفکیٹس کی تصدیق کرانا لازمی ہوگا قانون سازی کے ذریعے ماضی سے ٹیکس لگانا قانونی طور پر جائز ہے اور مخصوص شعبوں پر زیادہ شرح سے ٹیکس لگانا امتیازی سلوک نہیں بلکہ قانون سازوں کا اختیار ہے۔

    عدالت نے کہا کہ سپر ٹیکس صرف اسی آمدن پر لاگو ہوگا جس پر بنیادی انکم ٹیکس عائد ہوتا ہے، جبکہ جو آمدن قانون کے تحت ٹیکس سے مستثنیٰ ہے وہ سپر ٹیکس سے بھی مستثنیٰ رہے گی جائیداد، شیئرز کی فروخت، وراثت یا مخصوص مدت کے بعد حاصل ہونے والی آمدن اور زرعی زمین سے حاصل آمدن پر سپر ٹیکس لاگو نہیں ہوگا،یہ فیصلہ ملک کے ٹیکس نظام اور مالیاتی پالیسی کے حوالے سے ایک اہم قانونی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ٹرمپ نے  ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سنبھالنےکی روسی پیشکش مسترد کردی

    ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سنبھالنےکی روسی پیشکش مسترد کردی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سنبھالنے اور اسے روس منتقل کرنے کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

    پیوٹن نے ایران کے ساتھ جوہری تنازع کو حل کرنے کے لیے یہ تجویز دی تھی، لیکن ٹرمپ نے اسے ٹھکرا دیا اور پیوٹن پر زور دیا کہ وہ اس کے بجائے یوکرین میں جنگ ختم کرنے پر توجہ دیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیوٹن سے کہا: "میں چاہوں گا کہ آپ یوکرین میں جنگ ختم کرنے میں شامل ہوں، میرے لیے، یہ زیادہ اہم ہو گا”۔

    پیوٹن نے ایران کے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم (جسے ٹرمپ اکثر "گرد” یا ‘dust’ کہتے ہیں) کے ذخیرے کو روس منتقل کرنے کی پیشکش کی تھی تاکہ ایران کے ساتھ جوہری بحران کو کم کیا جا سکے۔

    ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کی ترجیح یوکرین کے تنازع کا خاتمہ ہے، نہ کہ ایران کے جوہری مواد کے انتظامات میں روس کی مدد لینا، یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران نے 2018ء میں امریکا کے جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد 11 ٹن سے زائد افزودہ یورینیم جمع کر لیا ہے اور 2025ء کے آخر میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے بعد سے کشیدگی جاری ہے۔

    یہ بات چیت میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران سامنے آئی۔

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور یوکرین کے تنازع پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ کال تقریباً 90 منٹ سے زائد جاری رہی اور دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو دو ٹوک اور پیشہ ورانہ نوعیت کی تھی۔ اس گفتگو کے دوران صدور نے خاص طور پر ایران کی صورتحال اور خلیج فارس کے معاملات پر توجہ مرکوز کی۔

    یوری اوشاکوف کے مطابق ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی پیوٹن کا ماننا ہے اس فیصلے سے مذاکرات کو ایک موقع ملے گا اور مجموعی طور پر خطے کی صورتحال کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

    تاہم پیوٹن نے اس خطرے سے بھی آگاہ کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا تو اس کے نتائج نہ صرف ایران اور اس کے پڑوسیوں بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے انتہائی تباہ کن ہوں گےانہوں نے واضح کیا کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ہر ممکن سفارتی مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور یہ رابطہ ماسکو کی پہل پر کیا گیا تھا۔

    دونوں رہنماؤں نے یوکرین کی جنگ پر بھی تبادلہ خیال کیا جو سن 2022 میں روسی حملے کے بعد اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہےاوشاکوف نے بتایا کہ ٹرمپ کی درخواست پر ولادیمیر پیوٹن نے فرنٹ لائن کی تازہ صورتحال بیان کی جہاں ان کے بقول روسی افواج اسٹریٹجک برتری حاصل کیے ہوئے ہیں اور دشمن کو پیچھے دھکیل رہی ہیں۔

    یوری اوشاکوف کا کہنا تھا کہ ولادیمیر پیوٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے زیلنسکی کی قیادت میں کیف حکومت کے رویے کے بارے میں تقریباً ایک جیسی رائے کا اظہار کیا، جس کے مطابق یورپی ممالک کی حمایت سے اس تنازع کو طول دینے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔

    یوکرین میں جاری اس جنگ نے اب تک ہزاروں شہریوں کی جانیں لے لی ہیں اور لاکھوں افراد کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہےگفتگو کے دوران پیوٹن نے ’یومِ فتح‘ کی تقریبات کے موقع پر جنگ بندی کا اعلان کرنے پر آمادگی ظاہر کی، جس کی ٹرمپ نے فعال طور پر حمایت کی۔

    ٹرمپ نے اس بات کو نوٹ کیا کہ یہ دن دونوں ممالک کی مشترکہ فتح کی علامت ہے۔ روس ہر سال 9 مئی کو دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی فتح کی یاد میں یومِ فتح مناتا ہے، تاہم یوکرین کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خطرے کے پیشِ نظر اس بار ماسکو میں ہونے والی فوجی پریڈ کو محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔