امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی اور سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال نہ کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔
اپنے تازہ بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا مرحلہ وار ایران کے اہم پاور پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس کا آغاز بڑے بجلی گھروں سے ہوگا، واشنگٹن اس معاملے میں کسی تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ٹرمپ کے بیان پر ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس نوعیت کی کوئی کارروائی کی گئی تو مشرق وسطیٰ میں امریکی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
یاد رہے کہ ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک، توانائی کے انفراسٹرکچر اور آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والی شپنگ کو نشانہ بنایا ہے، جس کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہو کر معطل ہو چکی ہے، اور عالمی منڈی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
یو اے ای کے صدر کا امارات میں تمام افراد کو خصوصی ایس ایم ایس
امریکی صدر نے ایک اور موقع پر میڈیا پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکا ایران کے خلاف اپنے اہداف حاصل کر چکا ہے، جبکہ بعض رپورٹس اس کے برعکس تاثر دے رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے امریکی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کو نقشے سے مٹا چکا ہے، انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا ایران میں اپنے اہداف کئی ہفتے پہلے ہی حاصل کر چکا ہے، ایرانی قیادت ختم ہو چکی ہے جبکہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ بھی تباہ ہو چکی ہیں،ایران کے پاس اب دفاع کے لیے کچھ باقی نہیں بچا اور وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس وقت کسی معاہدے کے خواہاں نہیں۔
واضح رہے کہ اس سے ایک روز قبل ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیاں محدود کرنے پر غور کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے ممالک کو اپنی سکیورٹی خود یقینی بنانا چاہیے۔








