Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) نے 15 جون 2026 کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    کمیٹی نے مہنگائی، عالمی تیل کی قیمتوں اور معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا اعلان کیا، اس سے قبل اپریل 2026 کے اجلاس میں اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر کے اسے 11.5 فیصد کیا تھا۔

    اعلامیے کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے معاشی اشاریوں اور جیو پولیٹیکل حالات کا جائزہ لیا، مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں معیشت کیلئے نئے چیلنجز پیدا ہوئے اجلاس میں ایران امریکا معاہدے ، تیل کی گرتی قیمت اور بجٹ اقدامات کے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا، بیان کے مطابق تیل کی بڑھتی قیمت کے دباؤ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔

    معاشی ماہرین کے مطابق رواں مالی سال کی آخری اور بجٹ کے فوری بعد آنے والی یہ مانیٹری پالیسی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ اس وقت ملک میں بنیادی شرح سود 11.5 فیصد ہے جبکہ اس سے قبل مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔

    مالیاتی ماہرین اور بروکریج ہاؤسز کی آراء شرحِ سود میں اضافے اور اسے برقرار رکھنے (Status Quo) پر برابر منقسم تھیں، تاہم کمیٹی نے محتاط معاشی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح برقرار رکھنے کو ترجیح دی۔

  • قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان

    قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے 2026 سے نئے فریم ورک کے نفاذ کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کا مقصد میرٹ، شفافیت اور کارکردگی کو بنیاد بنا کر قومی کرکٹ کے معیار کو مزید بہتر بنانا ہے۔

    چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے اپنی پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ سال 2026 سے سینٹرل کنٹریکٹس کے لیے رائج اے، بی، سی اور ڈی کیٹیگریز پر مشتمل پرانا ماڈل ختم کردیا جائے گا، جبکہ کھلاڑیوں کی درجہ بندی ان کی کارکردگی، دستیابی اور مختلف فارمیٹس میں کردار کی بنیاد پر کی جائے گی۔

    نئے فریم ورک میں ٹیسٹ کرکٹ کے تحفظ اور فروغ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے اس مقصد کے تحت ریڈ بال کرکٹ اور ٹیسٹ اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کے لیے الگ ترقیاتی راستہ متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ طویل فارمیٹ کے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

    پی سی بی کا کہنا ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹس کے نظام میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے کھلاڑیوں کے لیے واضح، منظم اور قابلِ فہم ترقی کا راستہ متعارف کرایا جائے گا اس کے علاوہ کارکردگی کی بنیاد پر اضافی انعامات اور مراعات بھی دی جائیں گی تاکہ کھلاڑی بہتر نتائج دینے کے لیے مزید متحرک ہوں۔

    نئے فریم ورک کے تحت سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت لازمی قرار دی جائے گی، جس کا مقصد قومی ٹیم اور ڈومیسٹک کرکٹ کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا اور مقامی سطح پر کرکٹ کے معیار کو بلند کرنا ہے۔

    پی سی بی نے مزید بتایا کہ نئے نظام میں پانچ مختلف فارمیٹ ٹریکس متعارف کرانے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ فرنچائز کرکٹ سے وابستہ کھلاڑیوں کے لیے بھی الگ درجہ بندی کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔ کھلاڑیوں کی دستیابی کو بھی درجہ بندی کے عمل میں ایک اہم عنصر کے طور پر شامل کیا جائے گا۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق 2026 کے سینٹرل کنٹریکٹس نئے قواعد و ضوابط کے تحت دیے جائیں گے اور توقع ہے کہ یہ جدید فریم ورک قومی کرکٹ کے ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے کھلاڑیوں کے لیے بھی بہتر مواقع فراہم کرے گا۔

    نئے فریم ورک کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اب ایک مخصوص کرکٹ فارمیٹ سے وابستگی کو باضابطہ اور سٹرکچرل حیثیت دی گئی ہے۔ سینٹرل کانٹریکٹ رکھنے والے ہر کھلاڑی کو ایک مخصوص فارمیٹ پاتھ وے (Pathway format ) سے منسلک کیا جائے گا۔ بعض پاتھ ویز ریڈ بال یعنی ٹیسٹ کرکٹ پر مبنی ہوں گے جبکہ دیگر وائٹ بال یا ٹی20 کرکٹ پر مرکوز ہوں گے۔ کھلاڑی کا منتخب کردہ پاتھ وے اس بات کا تعین کرے گا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس سے کیا توقعات رکھتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے کیا سہولیات اور مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ یہ انتخاب واضح، دستاویزی اور عملی اثرات کا حامل ہوگا۔

    اہم ترین بات یہ ہے کہ اس فریم ورک میں مختلف فارمیٹس کی ترجیح اور عدم ترجیح کو شفاف انداز میں متعین کیا گیا ہے۔ نئے سسٹم میں ٹیسٹ کرکٹ کو خصوصی تحفظ دیا گیا ہے۔ چونکہ قومی فرائض کے علاوہ ٹیسٹ کرکٹرز کے لیے آمدنی کے مواقع محدود ہوتے ہیں، اس لیے سینٹرل کانٹریکٹ سسٹم کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ سے وابستہ کھلاڑیوں کو اضافی تحفظ اور مراعات مل سکیں۔

    مختصر فارمیٹ کے ماہر کرکٹرز کے لیے اب ایک واضح اور باعزت راستہ موجود ہوگا۔ کوئی بھی فارمیٹ غیر متعین کردہ نہیں رہے گا۔ ہر پاتھ وے کے اپنے تقاضے اور اپنے مواقع ہوں گے۔ تمام فارمیٹس کی باضابطہ درجہ بندی کی گئی یے اور ترجیحی نظام اس فریم ورک کو عالمی سطح پر منفرد بناتا ہے-

  • برطانیہ میں  16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کا اعلان

    برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کا اعلان

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی کا اعلان کرتے ہوئے اسے بچوں کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی اقدام قرار دیا ہے۔

    پیر کے روز میڈیا بریفنگ میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت 16 سال سے کم عمر تمام بچوں کی بڑی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی بند کر دے گی ان کا کہنا تھا کہ وہ بچوں کی سلامتی اور خوشی پر کوئی سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں، اسی لیے یہ پابندی ہر صورت نافذ کی جائے گی پابندی کے تحت کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ آن لائن گیمنگ اور لائیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر بھی اجنبی افراد سے بلا نگرانی رابطے کی اجازت نہیں ہوگی ان اقدامات کو انہوں نے بچوں کے تحفظ کے لیے ’عالمی معیار کی کارروائی‘ قرار دیا۔

    اس حوالے سے قانون سازی رواں سال کے اختتام تک مکمل کر لی جائے گی جبکہ پابندی کا عملی نفاذ 2027 کے موسمِ بہار سے شروع ہوگا عمر کی تصدیق کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی، تاہم یوٹیوب کڈز اور گوگل کلاس روم جیسی بعض تعلیمی سروسز کو استثنی حا صل ہوگا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ صارفین کو اپنی جانب مسلسل متوجہ رکھیں ان کے بقول ’لامحدود اسکرول‘ جیسی خصوصیات بچوں کو ہوم ورک، مطالعے، کھیل کود اور بروقت آرام سے دور کر دیتی ہیں۔

    دوسری جانب اس فیصلے پر تنقید بھی سامنے آئی ہے اپوزیشن جماعت لبرل ڈیموکریٹس نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سیاسی مقاصد کے لیے ایک نامکمل اور جلد بازی میں تیار کی گئی پالیسی نافذ کر رہی ہے۔ بعض حکومتی حلقوں میں بھی اس فیصلے کے وقت اور طریقہ کار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو اپنی جماعت کے اندر سیاسی دباؤ، کابینہ میں استعفوں اور دفاعی اخراجات سے متعلق تنازعات کا سامنا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ بچوں کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے اور دونوں مقاصد ایک ساتھ حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

  • ایرانی سفیر کی پاکستان کو امن معاہدے کے لیے کامیاب سفارتکاری پر مبارکباد

    ایرانی سفیر کی پاکستان کو امن معاہدے کے لیے کامیاب سفارتکاری پر مبارکباد

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی-

    ملاقات میں ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے، پاک۔ایران تعلقات اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے پر ایرانی قیادت اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے معاہدے کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے فروغ کی جانب ایک مثبت اور حوصلہ افزا قدم ہے، جو علاقائی اور عالمی سطح پر امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    اس موقع پر ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدے کے حصول کے لیے پاکستانی پارلیمنٹ اور سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں کو سراہا،انہوں نے پاکستان کی پارلیمانی، سیاسی، سفارتی، سول اور عسکری قیادت کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے امن معاہدے کے لیے کامیاب سفارتکاری پر مبارکباد پیش کی۔

    ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران کی حکومت اور عوام، ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدے کے لیے پاکستان کی پارلیمنٹ، حکومت، عسکری قیادت اور عوام کی جانب سے ادا کیے گئے مخلصانہ کردار کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاک ایران دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور، پارلیمانی روابط کے فروغ اور خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا،بعد ازاں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اپنے وفد کے ہمراہ قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی بھی دیکھی۔

  • اسرائیل  امریکا کے مطالبات کا پابند نہیں ہے،انتہا پسند اسرائیلی وزیر

    اسرائیل امریکا کے مطالبات کا پابند نہیں ہے،انتہا پسند اسرائیلی وزیر

    اسرائیل کے وزیرِ قومی سلامتی بن گویر نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ایک خودمختار اور آزاد ملک ہے اور وہ امریکا کے مطالبات کا پابند نہیں ہے۔

    اسرائیلی اخبار دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایتامار بن گویر نے کہا کہ یہ معاہدہ اسرائیل کی قومی سلامتی کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا، اس لیے اسرائیل اس کا فریق نہیں ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا اسرائیل پر کوئی اطلاق نہیں ہوتا ٹرمپ کا معاہدہ ہمارے لیے پابند نہیں ہے اسرائیل امریکا کے تابع نہیں بلکہ ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی نے مزید کہا کہ اسرائیل کو لبنان میں اپنی افواج کے زیرِ قبضہ آنے والے کسی بھی علاقے سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے ہم اس معاہدے کے شراکت دار نہیں ہیں کیونکہ یہ ہماری سلامتی کی ضمانت فراہم نہیں کرتا ہمیں لبنان میں اپنے جنگجوؤں کے قبضے میں آنے والے کسی بھی علاقے سے واپس نہیں ہٹنا چاہیے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار 14 جون کو اعلان کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ مکمل ہو چکا ہےانہوں نے امریکی بحری ناکہ بند ی فوری طور پر ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو عالمی بحری آمدورفت کے لیے ٹول فری کھولنے کا بھی اعلان کیا۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے، سب کو مبارک ہو میں آبنائے ہرمز کو ٹول فری بنیادوں پر مکمل طور پر کھولنے کی اجازت دیتا ہوں اور ساتھ ہی امریکا کی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرنے کی منظو ری دیتا ہوں دنیا کے جہاز اپنے انجن شروع کریں، تیل کو آزادانہ بہنے دیں۔

  • اسرائیل کا لبنان میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا سے انکار

    اسرائیل کا لبنان میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا سے انکار

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل لبنان میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا نہیں کرے گا۔

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نےواضح کیا کہ اگر ایران نے لبنان میں پیش آنے والے واقعات کے ردعمل میں اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل بھرپور جوابی کارروائی کرے گا ، اس حملے کا ہدف ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے جنگجو تھے۔

    یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان پر اسرائیلی حملے پر تنقید کی تھی،صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک معاہدہ تقریباً طے پا چکا ہے معاہدہ اب بھی ممکن حد تک قریب ہے۔

    ایران کے مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے جنوبی بیروت کے مضافات پر اسرائیلی حملے کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ امریکا اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت یا سیاسی عزم نہیں رکھتا،ایران کی وزارت خارجہ نے اس حملے کی ذمہ داری امریکا پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اس کے سخت جواب کا حق محفوظ رکھتا ہے،ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انگلی ٹریگر پر ہے اور وہ دشمن کے دل پر وار کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ بیروت پر حملہ ایسے دن نہیں ہونا چاہیے تھا جب ایران کے ساتھ امن معاہدہ قریب تر ہے۔

  • بجٹ پر مثبت ردعمل آیا  آئندہ مالی سال میں مزید معاشی بہتری کی توقعات ہیں، محمد اورنگزیب

    بجٹ پر مثبت ردعمل آیا آئندہ مالی سال میں مزید معاشی بہتری کی توقعات ہیں، محمد اورنگزیب

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ ایران امریکا جنگ بندی میں نمایاں کردار پاکستان کے لیے قابل فخر بات ہے وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل پر امریکا اور ایران کی قیادت نے اعتماد کیا۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں گونگ تقریب سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی مسلسل، مخلصانہ اور انتھک ثالثی کوششوں نے معاہدے کو حتمی مرحلے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیامفاہمتی یادداشت پر دستخط کے اعلان سے نہ صرف خطے بلکہ پاکستان کے لیے بھی مثبت معاشی امکانات پیدا ہوئے ہیں،ایران امریکا جنگ بندی معاہدے پر آئندہ جمعہ کو دستخط ہوں گے گزشتہ 3 ماہ سے پاکستان اس معاہدے کی تگ دو کر رہا تھا۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ بجٹ پیش ہوچکا ہے اور پارلیمنٹ میں اس پر بحث جاری ہے بجٹ نے سفر کی درست سمت کی نشاندہی کر دی ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کیسے ہو گی بجٹ کے حوالے سے مثبت ردعمل آیا آئندہ مالی سال میں مزید معاشی بہتری کی توقعات ہیں گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان نے تنازع کے ابتدائی معاشی اثرات کو مؤثر انداز میں سنبھالا، جبکہ امن معاہدہ ممکنہ ثانوی معاشی اثرات کے خدشات کو بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج کے ہال میں سرمایہ کاروں کا اعتماد گونج رہا ہےاکستان اسٹاک ایکسچینج کی مضبوط کارکردگی اور سرمایہ کاروں، خصوصاً نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی شمولیت کو معیشت پر اعتماد کا مظہر قرار دیا بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران ملک میں 11 آئی پی اوز ہوئے، جو قریباً 2 دہائیوں کی بلند ترین سطح ہے سروس لانگ مارچ ٹائرز کا پروجیکٹ اس وقت پنپ رہا تھا جب دنیا بھر میں کورونا کے سبب معاشی دباؤ تھا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم کے چین کے دورے کے دوران سی پیک بی ٹو بی ہو گیا ہے پاکستان اور چین کے درمیان بی ٹو بی تعلقات میں روز بروز بہتری آرہی ہےپاکستان جیسا منافع دنیا کے کسی ملک کی اسٹاک مارکیٹ میں نہیں ہے،سی پیک کے اگلے مرحلے میں کاروباری اداروں کے درمیان روابط کلیدی اہمیت کے حامل ہوں گے اور سروس لانگ مارچ اس کی ایک نمایاں مثال ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سرمایہ کاری، سرمایہ منڈیوں کے فروغ اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو پاکستان اسٹاک ایکسچینج فرخ سبزواری نے کہا کہ معاشی دباؤ کے باوجود وزیر خزانہ نے ایک مثبت بجٹ پیش کیا ہے، جس میں سپر ٹیکس کے خاتمے کے ساتھ دیگر کئی ریلیف دیے گئے ہیں، امریکی صدر ٹرمپ کے بیان ’تیل کو بہنے دو‘ نے عالمی منڈیوں میں تبد یلی رونما کی ہےکمپنی کی لسٹنگ سے چینی سرمایہ کاروں اور باہمی شراکتی کاروباروں کے لیے نئی راہیں کھلیں گی، رواں سال پی ایس ایکس میں جین زی کی جانب سے متعدد نئے اکاؤنٹس کھلوائے گئے ہیں۔

    سروس لانگ مارچ کے سی ای او عمر سعید نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں بہت کم ایسی کمپنیاں ہیں جو خاندانی اقدار اور پیشہ ورانہ مہارت کو اس کامیابی سے یکجا کر پاتی ہیں سروس گروپ کی کمپنیوں کی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مجموعی مارکیٹ کیپ 1ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے سروس انڈسٹریز، ایس ایل ایم اور سروس گلوبل کی مشترکہ مارکیٹ کیپ ایک ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے سروس گروپ پاکستان کے کاروباری شعبے میں نئی مثا لیں قائم کرتے ہوئے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔

  • کراچی پورٹ نے 8 سال کے بعد 2 ہزار جہازوں کی آمد کا سنگ میل عبور کرلیا

    کراچی پورٹ نے 8 سال کے بعد 2 ہزار جہازوں کی آمد کا سنگ میل عبور کرلیا

    وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے بتایا ہے کہ کراچی پورٹ نے 8 سال بعد 2 ہزار جہازوں کی آمد کا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔

    وفاقی وزیر بحری امورجنید انوار چوہدری نے کہا کہ ایک سال کے دوران کراچی پورٹ پر مجموعی طور پر 2 ہزار 3 جہاز لنگر انداز ہوئے، جو بندرگاہ کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافے کی عکاسی کرتا ہے کراچی پورٹ پر جہازوں کی آمد میں گزشتہ سال کے مقابلے 7.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے بندرگاہ پر آنے والے جہازوں کا مجموعی ٹنیج 8 کروڑ 44 لاکھ ٹن سے تجاوز کر گیا، جبکہ گراس رجسٹرڈ ٹنیج میں بھی 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے بحری تجارت میں یہ اضافہ ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے اور اس سے تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کی عکاسی ہوتی ہے –

    دوسری جانب چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ شاہد احد نے اس کامیابی کو شپنگ سرگرمیوں اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری کا نتیجہ قرار دیا انہوں نے کہا کہ بہتر انتظامی اقدامات اور بندرگاہی آپریشنز میں بہتری کے باعث کراچی پورٹ یہ تاریخی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے 1887 میں قائم ہونے والا کراچی پورٹ آج بھی ملک کا سب سے اہم بحری تجارتی گیٹ وے ہے اور قومی و بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

  • پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی اور قیمتوں میں معمولی کمی کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی اور قیمتوں میں معمولی کمی کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی اور پیٹرول کی قیمتوں میں معمولی کمی کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کردی گئی۔

    درخواست جوڈیشل ایکٹوزم پینل کے سربراہ اظہرصدیق نےدائرکی ، درخواست میں وفاقی حکومت اور متعلقہ وزارتوں کو فریق بنایا گیا ، موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت پیٹرول پر 125 اورڈیزل پر 100 فی لیٹرلیوی ٹیکس وصول کررہی ہے،ڈیزل اورپیٹرول مہنگا ہونے سےکسان اور مزدور طبقہ براہ راست متاثر ہوا ہے بین الاقوامی مارکیٹ کے برعکس حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں انتہائی معمولی کمی کی گئی جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔

    درخواست گزار کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کی گئی، حکومت کے پاس پیٹرولیم کی قیمتوں میں کمی یا اضافے کا کوئی میکنزم نہیں ہے، لہذا عدالت ست استدعا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی کی وصولی کو روکاجائے، عدالت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور کمی پرمیکنزم طے کرنے کا حکم دے۔

  • پنجاب حکومت  5131 ارب روپے کا بجٹ کل پیش کرے گی

    پنجاب حکومت 5131 ارب روپے کا بجٹ کل پیش کرے گی

    پنجاب حکومت کل 5131 ارب روپے کا بجٹ پیش کرے گی-

    پنجاب کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ 3569 ارب 60 کروڑ روپے ہوگا بجٹ میں تنخواہوں کیلئے 650ارب،پنشن کیلئے 505 ارب 80 کروڑمختص ہیں، سرکار ی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق ہوگا،سماجی تحفظ کیلئے 25 ارب،ستھرا پنجاب پروگرام کیلئے 150 ارب،آپریشنل اخراجا ت کیلئے 580 ارب 20 کروڑ رکھنے کی سفارشات کی گئی ہے، دیگر پروگرام سرمایہ کاری کیلئے 221 ارب 90 کروڑ رکھے جائیں گے۔

    بیرونی معاونت سے جاری منصوبوں کیلئے 54 ارب رکھنے کی سفارشات،دیگر ترقیاتی و سرمایہ جاتی اخراجات کیلئے 570 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،صحت کےلیے 680 ارب روپےکےمجموعی حجم کا تخمینہ،مفت ادویات کے لیے 100 ارب روپے کے اخراجات کا تخمینہ،تعلیم کے لیے پنجا ب حکومت 900 ارب روپے سے زائد کے بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے-

    طلبا کے لیے لیپ ٹاپ ، الیکٹرک سکوٹیز اور سائیکل کی اسکیمیں شامل ہے، طلبہ کے لیے ہونہار اسکالرشپ منصوبہ کے لیے 20 ارب روپے سے زائد کا تخمینہ،یونیورسٹی گرانٹس کی مد میں 18 ارب روپے کا تخمینہ ہے پرواز کارڈ کے لیےپنجاب حکومت 7 ارب روپے کا تخمینہ ہے،رمضان پیکج کے لیے 35 ارب روپے کا بجٹ مختص کرنے کا تخمینہ ہے،سبسڈی کی مد میں 80 ارب روپےسےزائدکا،کسان کارڈ کے لیے 10 ارب روپے ہمت کارڈ اور اقلیتی کارڈ کے لیے 3 ارب روپے کا تخمینہ ہے-