Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا

    امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا

    امریکااور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد دونوں ملکوں نے لبنان سمیت ہر جگہ پر جاری لڑائی اور فوجی کارروائیوں کو فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ امریکا اورایران کے درمیان معاہدہ طے پانے پر عالمی برادری کا ردعمل سامنے آ گیا۔

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس بڑی کامیابی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ طویل اور مشکل مذاکرات کے بعد ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط کی تقریب 19 جون بروز جمعہ سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔

    وزیراعظم نے اس امن عمل میں مدد کرنے پر سعودی عرب، ترکیہ اور خاص طور پر قطر کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم برادر ملک قطر کی عظیم قیادت کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں جن کی حمایت نے اس معاہدے تک پہنچنے میں بےحد اہم اور قابلِ قدر خدمات انجام دیں، اس ہفتے ثالثی کرنے والے ملک مزید ملاقاتیں کروائیں گے تاکہ آگے کے تکنیکی مذاکرات اور دستخط کی تقریب کو اچھے طریقے سے پورا کیا جا سکے۔

    دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بڑی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سب کو مبارکباد دی اور اپنے سوشل میڈیا پر سب کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو گیا ہے اور جمعہ کو اس عظیم ڈیل پر دستخط کے بعد سمندر کا اہم راستہ یعنی آبنائے ہرمز کھول دیا جائے گا، اس عظیم ڈیل سے پورے خطے میں امن ہوگا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مجھ سے پہلے کے تمام امریکی صدور ایران کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کی کوششوں میں ناکام ہو گئے تھے، لیکن خطے کے رہنماؤں کو پہلی بار کوئی ایسا صدر ملا ہے جس نے ان کی اصل امن کے حصول میں سچی مدد کی ہے جمعہ کو سمندر سے بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لیے ڈیل پر دستخط ہوں گے جس کے بعد تیل لانے اور لے جانے والے جہاز دونوں طرف سے آسانی سے گزر سکیں گے، ہمیں ایران سے ایٹمی مواد نکالنے کی کوئی جلدی نہیں ہے، یہ کام بعد میں بھی کیا جا سکتا ہے اور اس معاہدے کے بدلے ایران کو کوئی نقد رقم یا پیسہ نہیں دیا جائے گا۔

    امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق اس معاہدے میں یہ خاص شرط شامل ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور آبنائے ہرمز کو فوراً کھولا جائے گا۔

    ادھر ایران نے بھی اس امن معاہدے کے طے پانے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہےایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اتوار کے روز لبنان پر اسرائیلی حملے کے بعد، ایران کی جانب سے معاہدے کے کاغذات میں تجویز کی گئی کچھ تبدیلیاں قبول کر لی گئی ہیں، جس کے بعد امریکا کے ساتھ مختلف محاذوں پر جاری جنگ اور عسکری کارروائیاں فوری طور پر ختم کرنے کا عمل آج سے ہی شروع کر دیا جائے گا،اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب جمعہ کو ہوگی اور اس کے بعد ہی اس کا متن عوام کے سامنے لایا جائے گا۔

    انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ امریکا اپنے وعدوں کی کتنی پاسداری کرتا ہے اور جب ہمیں اس بات کا پورا یقین ہو جائے گا تو پھر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دنوں کا مذاکراتی عمل شروع ہوگا ان 60 دنوں کے مذاکرات میں جوہری معاملات، ایران کے روکے گئے پیسوں کی بحا لی، ناکہ بندی کے خاتمے، جنگ کی مکمل بندش، ایران پر لگی اقتصادی پابندیوں کو ہٹانے اور ایران کی دوبارہ تعمیرِ نو کے طریقوں پر تفصیلی بات چیت ہو گی تاہم اگر امریکا نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو ایران اس کا سخت ردِعمل دے گا۔

    ایران کے سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی بہترین حکمتِ عملی سے امریکا کو اس معاہدے پر مجبور کیا ہے اور صدر ٹرمپ کی اپیل پر اسرائیل پر ہونے والا ممکنہ جوابی حملہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔

    ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز نے اپنی قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ کے حکم سے امریکا اور اسرائیل کو شکستِ فاش ہوئی ہے اور ایرانی قوم کی مرضی دشمن پر مسلط کر دی گئی ہے، ہم اپنی مسلح افواج اور مزاحمت کاروں کی ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

    اس تاریخی امن معاہدے کا دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا جا رہا ہے،سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ،ترکیہ قطر ،برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے بھی اس معاہدے کی کھل کر حمایت کی ہے

    قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نے اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اپنے برادر ملک پاکستان کا، نیز ان تمام علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس مفاہمت تک پہنچنے کے لیے ایک اچھا ماحول پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا، اور ہمیں امید ہے کہ تمام فریق آئندہ کے مذاکرات میں بھی مثبت اور تعمیری جذبے کے ساتھ حصہ لیں گے قطر ہمیشہ امن کی کوششوں اور دنیا میں سلامتی کو فروغ دینے والے اقدامات کا حامی رہے گا۔

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میں امن معاہدے پر امریکا، پاکستان، قطر اور دیگر فریقین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اب آبنائے ہرمز میں بغیر کسی رکاوٹ کے کشتیوں اور جہازوں کی آمدورفت بحال ہونی چاہیے۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس ڈیل پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کی تصویر شیئر کی اور لکھا کہ فیلڈ مارشل نے ایک بار پھر کر دکھایا ہے، اور انہوں نے یہ کام نہ صرف اپنے ملک کے لیے بلکہ اس بار پوری دنیا کے امن کے لیے کر کے دکھایا ہے۔

    سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتیرس نے کہا کہ یہ تنازع کے پرامن حل کی جانب اہم اور مثبت پیشرفت ہے، معاہدہ مستقل جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھلنے کی جانب اہم قدم ہے، مذاکراتی عمل میں پاکستان، قطر،سعودی عرب اور دیگر ممالک کا کردار قابل تعریف ہے۔

    ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ معاہدے سے خطے میں دیرپا امن اور سلامتی کی راہ ہموار ہو گی، دنیا کو طویل عرصے سے ایسی مثبت خبر کا انتظار تھا معاہدے سے قبل اشتعال انگیزی اور کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کیا جائے، ممکنہ تخریب کاری کے خلاف چوکس رہنے کی ضرورت ہے، پاکستان کی غیر معمولی ثالثی کوششیں قابل ستائش ہیں، پاکستان کی کامیاب سفارتکاری نے معاہدے کی راہ ہموار کی۔

    جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر اور ایرانی قیادت کو سفارتی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، معاہدہ عالمی معیشت کو نئی توانائی دے سکتا ہے، امن معاہدے سے مشرقِ وسطیٰ محفوظ بنے گا۔

  • امریکا میں  چھوٹا طیارہ گر کر تباہ ، پائلٹ سمیت 12 افراد ہلاک

    امریکا میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ ، پائلٹ سمیت 12 افراد ہلاک

    امریکی ریاست میسوری میں کینساس سٹی کے قریب ایک چھوٹا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار 11 اسکائی ڈائیورز اور پائلٹ سمیت تمام 12 افراد ہلاک ہوگئے۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میسوری اسٹیٹ ہائی وے پیٹرول نے بتایا کہ امریکا میں ایک چھوٹا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا، طیارہ امریکی ریاست مسوری میں گرکر تباہ ہوا، طیارہ ٹیک آف کے بعد اچانک واپس پلٹا اور پھر گر گیا، طیارہ اسکائی ڈائیونگ کے لیے لوگوں کو لے جا رہا تھا اور حادثے کے بعد آگ لگ گئی۔

    حکام کے مطابق یہ حادثہ بٹلر میموریل ایئرپورٹ کے قریب پیش آیا، جو کینساس سٹی سے تقریباً 60 میل جنوب میں واقع ہے طیارے میں 11 اسکائی ڈائیورز اور ایک پائلٹ سوار تھا، جو موقع پر ہلاک ہوگئے ہیں۔ حادثے کے فوراً بعد طیارہ شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا۔

    میسوری ہائی وے پیٹرول کے سارجنٹ جسٹن ایونگ نے بتایا کہ اتوار کی صبح تقریباً 11 بج کر 30 منٹ پر ایمرجنسی سروسز کو اطلاع ملی کہ ایک طیارہ گر گیا ہے اور اس میں آگ لگی ہوئی ہے طیارہ ایئرپورٹ کے ساتھ واقع ایک کھیت میں جا گرا جب کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر قریبی سڑک کو بند کرنے پر بھی غور کیا گیا۔

    نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (این ٹی ایس بی) نے حادثے کی تحقیقات شروع کردی ہیں جب کہ ادارے کے ترجمان کے مطابق واقعے سے متعلق معلومات جمع کی جا رہی ہیں اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی،حادثے کے بعد بٹلر پولیس ڈیپارٹمنٹ، بیٹس کاؤنٹی شیرف آفس اور دیگر امدادی ادارے موقع پر موجود رہے۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کی اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

    امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کی اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

    امریکہ اور ایران کے درمیان زیرِ غور مجوزہ امن و مفاہمتی معاہدے کی اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں جن کا مقصد کشیدگی کا خاتمہ اور خطے میں استحکام لانا ہے تاحال ایران کی جانب سے اس معاہدے پر حتمی دستخط نہیں کیے گئے ہیں اور تہران میں اس کا تفصیلی جائزہ جاری ہے-

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے اعلیٰ ایرانی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اس بات پر متفق ہوا ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم ذخائر کو ملک کے اندر ہی کم درجے پر لائے گا جبکہ اس کے طریقہ کار پر آئندہ 60 دنوں میں مزید بات چیت کی جائے گی۔

    عہدیدار کے مطابق امریکا ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کو مخصوص مدت کے لیے نرم کرے گا جس سے ایران کو تیل فروخت کرنے اور اس کی آمدنی حاصل کرنے کی اجازت ہو گی حتمی معاہدہ ہونے تک امریکا ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد نہیں کرے گامجوزہ معاہدے کے تحت امریکا ایران کے 25 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بھی جاری کرے گا ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھول دے گا جبکہ امریکا بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔

  • سعودی عرب نے ایک ہفتے میں ہزاروں غیر قانونی باشندوں کو ملک بدر کردیا

    سعودی عرب نے ایک ہفتے میں ہزاروں غیر قانونی باشندوں کو ملک بدر کردیا

    سعودی میڈیا کے مطابق سعودی سکیورٹی حکام نے ایک ہفتے کے دوران مجموعی طور پر 10ہزار 725 غیر قانونی مقیم افراد کو گرفتار جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم 7 ہزار سے زائد افراد کو ملک بدر کردیا-

    سعودی وزارت داخلہ نے بتایاکہ یہ گرفتاریاں 4 جون سے 10 جون کے درمیانی عرصے کے دوران سکیورٹی فورسز کی جانب سے متعلقہ سرکاری اداروں کے تعاون سے کیے گئے مشترکہ معائنے کے دوران کی گئیں ، گرفتار افراد میں ریزیڈنسی قانون کی خلف ورزی کرنے والے 5 ہزار 899 افراد بھی شامل ہیں اس کے علاوہ بارڈر سکیورٹی قانون کی خلاف ورزی کرنے والے 3 ہزار 84 افراد جبکہ لیبر لاء کی خلاف ورزی کرنے والے ایک ہزار 742 افراد شامل ہیں مجموعی طور پر 7 ہزار 989 غیر قانونی مقیم افراد کو ملک بدر کیا گیا جبکہ 14ہزار 268 افراد کو سفری دستاویزات کے حصول کے لیے ان کے سفارتی مشنز میں بھیجا گیا۔

    سعودی میڈیا کے مطابق سرحد پار کرکے مملکت میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار ہونے والے افراد کی کل تعداد ایک ہزار418 تھی جن میں سے 43 فیصد یمنی، 55 فیصد ایتھوپیا کے شہری اور 2 فیصد دیگر قومیتوں سے تعلق رکھتے تھے،اس کے علاوہ غیر قانونی طور پر مملکت چھوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے کل 34 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

  • اسلام آباد معاہدے پر دستخط کا قریب آ جانا تاریخی لمحہ ہے،بلاول بھٹو

    اسلام آباد معاہدے پر دستخط کا قریب آ جانا تاریخی لمحہ ہے،بلاول بھٹو

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ اسلام آباد معاہدے پر دستخط کا قریب آ جانا تاریخی لمحہ ہے-

    بلاول بھٹو نے کہا کہ اسلام آباد معاہدے پر دستخط کا قریب آ جانا تاریخی لمحہ ہے، جب عالمی توجہ پاکستان پر مرکوز ہے، آزاد کشمیر میں جاری بے چینی کشمیری کاز اور پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہےیہ صورتحال دشمن عناصر، بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کو اپنے مقاصد کے لیے فائدہ اٹھانے کا غیر ضروری موقع فراہم کر رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ میں تمام مظاہرین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے احتجاج کو پرامن طور پر ختم کریں، جن افراد نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے انہیں چاہیے کہ وہ خود کو مقامی حکام کے حوالے کریں تمام سیاسی شکایات اور اختلافات کا حل جمہوری، آئینی اور پرامن ذرائع سے نکالا جانا چاہئے، پیپلز پارٹی پہلے ہی الیکشن کمیشن سے قبل از وقت جاری کیے گئے انتخابی شیڈول کو واپس لینے کا مطالبہ کر چکی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی حل کے حصول کے لیے پُرعزم ہیں اور زیر التوا شکایات کے ازالے کیلئے ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن قائم کرنے کی کوشش کریں گے، کشمیر کے عوام کو بار بار احتجاج، محاذ آرائی اور غیر یقینی صورتحال کے چکروں سے نہیں گزرنا چاہئے اگر وفاقی حکومت سمیت تمام فریق متفق ہوں تو آزاد کشمیر حکومت مناسب وقت پر احتجاج کرنے والی جماعتوں سے متعلق جاری کردہ نوٹیفکیشنز کا جائزہ لے سکتی ہے۔

  • بجٹ محض نمبرز آگے پیچھے کرنے کا نام ہی رہ گیا ہے،حافظ نعیم الرحمان

    بجٹ محض نمبرز آگے پیچھے کرنے کا نام ہی رہ گیا ہے،حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کا ظالمانہ نظام نافذ ہے، بجٹ میں عوام کو ریلیف نہیں ملتا، صرف نمبرز تبدیل کردیئے جاتے ہیں۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم کا بجٹ جی ڈی پی کا 0.5 فیصد ہے، جب آپ تعلیم اور صحت کو آؤٹ سورس کر ر ہے ہیں تو کیسے نظام چلے گا، تعلیم کی ایمرجنسی نافذ کر کے بجٹ کم کر دیا ہے، اگر تعلیم پر بجٹ مختص بھی ہے تو خرچ نہیں ہوتا بجٹ میں عوام کو کچھ نہیں ملا، بجٹ محض نمبرز آگے پیچھے کرنے کا نام ہی رہ گیا ہے، ایف بی آر اپنا ہدف پورا نہیں کرتا، عام آدمی 60 فیصد ٹیکسز دے رہا ہے، پیٹرولیم لیوی کو ختم کرنا چاہیے، پی ایس ڈی پی میں ایم این ایز کے فنڈز کو ختم کیا جائے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سرکاری گاڑی 1300سی سی سے زائد کی نہیں ہونی چاہیے، آپ سرکار کی گاڑی 1300 سی سی سے کم کر دیں، آئی پی پیز کے کیپیسٹی چارجز ختم کریں، یہ ایف بی آر کے بابو 3400 سی سی گاڑیوں پر گھومیں اور بوجھ عوام پر پڑے؟ اس ملک میں سودی نظام کا خاتمہ نہیں ہو سکا، 26 ویں ترمیم میں جنہوں نے سود ختم کرنے کی شق ڈلوائی وہ بتائیں پالیسی ریٹ ایک فیصد کیسے بڑھ گیا صرف مفادات کے حصول کے لیے نورا کشتی کی جاتی ہے، بجلی، پیٹرول، گیس کی قیمتوں سے براہ راست عوام کو فرق پڑتا ہے، حکومت خود تسلیم کرتی ہے کہ آئی ایم ایف کا دباؤ ہے، بجٹ میں بہت سی رقم اپنی نااہلی چھپانے کے لیے رکھی گئی ہے۔

  • ایران اور امریکا  مذاکرات میں پیشرفت:قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد تہران پہنچ گیا

    ایران اور امریکا مذاکرات میں پیشرفت:قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد تہران پہنچ گیا

    ایرانی میڈیا کے مطابق قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تہران پہنچ گیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق اس ثالثی وفد کی قیادت قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی کے مشیر کر رہے ہیں وفد کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینا اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے امکانات پر بات چیت کرنا ہے۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دورہ گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کے تسلسل میں کیا جا رہا ہے قطر طویل عرصے سے ایران اور امریکا کے درمیان اہم ثالثی کردار ادا کرتا رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کے لیے ایک مؤثر سفارتی پل سمجھا جاتا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق قطری وفد اپنے دورے کے دوران مذاکراتی عمل سے متعلق تازہ ترین پیش رفت، ممکنہ معاہدوں اور مستقبل کے سفارتی اقدامات پر ایرانی حکام سے تبادلہ خیال کرے گا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قطر کے اس دورے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • مشرق وسطیٰ تنازع: اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے،روسی میڈیا

    مشرق وسطیٰ تنازع: اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے،روسی میڈیا

    ایران اور اسرائیل کے درمیان تاریخ کی پہلی براہِ راست اور کھلی جنگ کو 1 سال مکمل ہو چکا ہے، اس تنازع سے یہ پورا خطہ ایک ایسے غیر متوقع دور میں داخل ہو گیا ہے جہاں اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔

    روس کے سرکار ی ٹی وی نیٹ ورک ’آرٹی‘ نےاپنےمضمون میں ایران اسرائیل جنگ سے متعلق اہم انکشافات کیے گئے ہیں، ’آرٹی‘ کے مطابق دہائیوں سے جاری بالواسطہ یا ’خفیہ جنگ‘ کا اب باقاعدہ خاتمہ ہو چکا ہے اور یہ پورا خطہ ایک ایسے غیر متوقع دور میں داخل ہو گیا ہے جہاں اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا موڑ پچھلے سال 13 جون 2025 کو آیا تھا، جب اسرائیل نے دہائیوں پرانی خفیہ دشمنی کو سامنے رکھتے ہوئے ایران کی فوجی اور جوہری تنصیبات سے وابستہ حساس مقامات پر براہِ راست فضائی حملے کیے۔

    ’آر ٹی ‘ میں شائع مضمون کے مطابق ان حملوں کے ساتھ ہی برسوں سے جاری وہ خفیہ معرکہ آرائی کھلے فوجی تصادم میں بدل گئی جو اس سے قبل صرف سائبر حملوں،اقتصادی پابندیوں، پراکسی گروپوں، سفارتی دباؤ اور محدود نوعیت کی خفیہ کارروائیوں تک محدود تھی اسرائیل کا بنیادی مقصد ان حملوں کے ذریعے ایران کی اسٹرٹیجک اور دفاعی صلاحیتوں کو ایسا نقصان پہنچانا تھا جس سے وہ مفلوج ہو جائے، تاہم توقعات کے برعکس تہران نہ تو سیاسی طور پر کمزور ہوا اور نہ ہی اس نے پسپائی اختیار کی۔

    ’آر ٹی‘ کے مطابق ایران نے فوری اور مؤثر جوابی عسکری کارروائی کے ذریعے دنیا پر واضح کر دیا کہ وہ شدید ترین دباؤ کو برداشت کرنے اور اس کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہےاکتوبر 2023 میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی اگرچہ بعض اسرائیلی حکام نے حماس کو ایران کا نمائندہ قرار دیا، تاہم کئی تجزیہ کاروں کے مطابق حماس اپنی الگ سیاسی حکمتِ عملی اور اہداف رکھتی ہے اس کے باوجود اس بحر ان نے ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست تصادم کے خدشات کو مزید تقویت دی۔

    ’آر ٹی ‘ نے لکھا کہ اسرائیل کا مقصد ایران کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچانا تھا اوراس میں سب سے اہم بات ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای تھے، تاہم آیت اللہ علی خامنہ ای سےزیادہ ایران کے اسٹرٹیجک اثاثے ہدف تھے تاہم توقعات کے برعکس ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے یہ ظاہر کیا کہ وہ شدید دباؤ برداشت کرنے اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے جنگ نے نہ صرف دونوں ممالک کی عسکری طاقت بلکہ ریاستی استحکام، اتحادوں اور عوامی یکجہتی کا بھی امتحان لیا بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے جنگ بندی عمل میں آئی، لیکن یہ معاہدہ تنازع کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنے میں ناکام رہا۔ بداعتمادی برقرار رہی اور مستقبل میں دوبارہ کشیدگی کے خدشات بھی ختم نہ ہو سکے۔

    ’آر ٹی‘ نے لکھا کہ مبصرین کے مطابق جون 2025 کی جنگ دراصل ایک بڑے تصادم کی ’آزمائش‘ تھی، نہ کہ اس تنازع کا اختتام۔ اگرچہ ایران کو فوجی، سیاسی اور بنیادی ڈھانچے کے لحاظ سے نقصان اٹھانا پڑا، لیکن وہ اپنی دفاعی اور علاقائی صلاحیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اس دوران ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے امکانات پر غور کیا گیا تھا، اگرچہ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر کبھی تصدیق نہیں ہوئی 2026 کے دوران دوبارہ ابھرنے والی کشیدگی نے یہ تاثر مزید مضبوط کیا ہے کہ یہ تنازع ابھی ختم نہیں ہوا اور مستقبل میں ایک نئی محاذ آرائی کا امکان موجود ہے۔

    ’آر ٹی ‘ نے لکھا کہ جون 2025 کی جنگ نے خطے کی سیاسی اور سکیورٹی حکمتِ عملیوں کو بدل کر رکھ دیا اس نے ثابت کر دیا کہ ایران اور اسرائیل کے در میان بالواسطہ جنگ کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب براہِ راست تصادم ایک حقیقت بن چکا ہے ایران کے لیے یہ جنگ قومی عزم اور مزاحمت کی علامت بن گئی، جبکہ اسرائیل کے لیے یہ اس کی پیشگی فوجی کارروائیوں کی پالیسی کا اہم امتحان ثابت ہوئی دونوں ممالک نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا، لیکن ساتھ ہی ایک بڑے علاقائی بحران کے خطرات بھی واضح ہو گئے، جس میں آج مشرقِ وسطیٰ سب سے زیادہ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہے۔

    ایک سال بعد بھی سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا خطہ مستقبل میں کسی اور بڑی جنگ سے بچ سکے گا یا نہیں ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پچھلی جنگ ختم ہو چکی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اگلی جنگ کی نوعیت کیا ہوگی اور اس کے اثرات کتنے وسیع ہوں گے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف نے ریاست کی بقاء کیلئے سیاست کی قربانی دی،عطااللہ تارڑ

    وزیراعظم شہباز شریف نے ریاست کی بقاء کیلئے سیاست کی قربانی دی،عطااللہ تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا گیا، پچاس ہزار سے کم تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہے،ملک میں میکرو اکنامک استحکام آ چکا ہے، اپوزیشن تسلیم کرے، اپوزیشن کو مثبت اقدامات کی تعریف کرنا چاہیے ۔

    قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ جمہوری روایات کا یہ ہاؤس امین ہے، لیڈر آف اپوزیشن نے جس ماحول میں بات کی ہم نے انہی ڈیسک سے کتابیں جلتی دیکھیں، کاغذ پھینکے جاتے رہے اپوزیشن کو مثبت اقدامات کی تعریف کرنا چاہیے، تنخواہ دار طبقے کو خاطر خواہ ریلیف دیا گیا ہے، پچاس ہزار سے کم تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہے،پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک ایک فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے، ملک ڈیفالٹ ہونے پر شرطیں لگ رہی تھیں، کئی افسران چھٹی لے کر چلے گئے۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ریاست کی بقاء کیلئے سیاست کی قربانی دی، آئی ایم ایف کے ساتھ میٹنگ ہوئی، اگر وہ میٹنگ نہ ہوتی تو آج والی خوشحالی نہ آتی، پاکستان میں ایکسچینج ریٹ ایسے تبدیل ہو رہا تھا جیسے پنکھا چلتا ہے، کاروباری حضرات کی ایل سیز نہیں کھل رہی تھیں مہنگائی 38 فیصد تھی اسی ایوان میں بطور اپوزیشن لیڈر دعوت دی کہ آئیں میثاق معیشت کرتے ہیں، ان کے وزراء خزانہ نے آئی ایم ایف کو خط لکھے، یہ چاہتے تھے کہ ملک دیوالیہ ہو، آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ یہاں سے خط لکھ رہے تھے کہ پاکستان کو بیل آؤٹ نہ ملے، اداروں کی بہت کاوش ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ٹیم کا کردار ہے کہ ملک میں استحکام ہوا، مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ پر آ سکتی تھی، شرح سود بائیس فیصد پر رہتا گیارہ فیصد پر نہ آتا تو کیا حالات ہوتے ہم ایسی معیشت بنیں گے کہ ساری دنیا دیکھے گی، پوری دنیا معترف ہے کہ پاکستان نے امن کے لیے کردار ادا کیا، آج پاکستان کی عزت ہے، معیشت درست سمت میں گا مزن ہے،ہر کوئی بجٹ پر مثبت بات کر رہا ہے، بجٹ پر تنقید اور احتجاج اپوزیشن کا حق ہے، بجٹ میں مثبت اقدامات کی تعریف ضرور ہونی چاہیے،

  • ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا بنگلورو اور جے پور میں بھی بڑے احتجاج کا اعلان

    ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا بنگلورو اور جے پور میں بھی بڑے احتجاج کا اعلان

    بھارت میں سیاسی تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے اب باقاعدہ ایک بڑی احتجاجی مہم کی شکل اختیار کر لی ہے۔

    امرتسر میں تعلیمی نظام کے خلاف ایک بڑے عوامی اجتماع کے بعد’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی اس بڑی نئی تنظیم نے اب بنگلورو اور جے پور میں بڑے پیما نے پر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریک اب ملک کے مختلف حصوں میں تیزی سے جڑیں پکڑ رہی ہے۔

    تنظیم کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ باقاعدہ بیانات کے مطابق حامیوں اور عام شہریوں کو 14 جون کو بنگلورو اور 15 جون کو جے پور میں ہونے والے پُرامن احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کی دعوت دی گئی ہے،ان مظاہروں کا مقصد عوامی مسائل بالخصوص بے روزگاری اور مہنگائی پر حکومت کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔

    یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز امرتسر گیٹ پر ایک بہت بڑا احتجاجی اجتماع منعقد ہوا تھا، جہاں مظاہرین نے وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا تھا،اس تحریک کو اس وقت ایک بڑی کامیابی ملی جب نامور بھارتی اداکار، فلم ڈائریکٹر اور سماجی کارکن پرکا ش راج نے بنگلورو میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں خود شرکت کرنے کی تصدیق کی۔

    ابتدا میں یہ مہم صرف حکمران جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ (بی جے پی) کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے لیے ایک طنزیہ آن لائن ٹرینڈ کے طور پر شروع ہوئی تھی، لیکن اب یہ نوجوانوں کی بے روزگاری، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی جوابدہی جیسے سنجیدہ مطالبات پر مبنی ایک وسیع قومی تحریک بن چکی ہے۔

    گزشتہ ماہ سپریم کورٹ آف انڈیا کے ایک جج سوریا کانت نے ایک کیس کی سماعت کے دوران مبینہ طور پر بعض احتجاج کرنے والے بے روزگار نوجوا نو ں کے لیے ‘کاکروچ’ یعنی لال بیگ کی اصطلاح استعمال کی تھی، جس پر نوجوانوں اور سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے شدید ردِعمل سامنے آیا بھارتی نوجو انوں نے اس توہین آمیز لفظ کو ایک گالی کے طور پر لینے کے بجائے اسے اپنی ‘مزاحمت اور استقامت’ کی علامت بنا لیا۔

    ان کا مؤقف ہے کہ جس طرح کاکروچ سخت ترین حالات اور ہر قسم کے موسم میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی طرح معاشی بدحالی اور بے روز گاری کے باوجود بھارت کا غریب اور مڈل کلاس نوجوان بھی حکومتی بے حسی کے خلاف ڈٹا رہے گا، تعلیمی نظام میں خرابیوں اور حالیہ امتحانی سکینڈلز کی وجہ سے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان اس تحریک کا بنیادی ہدف بنے ہوئے ہیں۔