Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • سپریم لیڈر پر حملہ  ایران کے خلاف ہمہ گیر جنگ کا اعلان ہوگا،ایرانی صدر

    سپریم لیڈر پر حملہ ایران کے خلاف ہمہ گیر جنگ کا اعلان ہوگا،ایرانی صدر

    تہران : ایران نے امریکا کو واضح خبردار کیا ہے کہ رہبر اعلیٰ آیت اللٰہ علی خامنہ ای پر کسی بھی حملے وہ پوری جنگ کا سبب سمجھیں گے-

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران کسی بھی ناانصافی پر مبنی جارحیت کا سخت اور افسوسناک جواب دے گا سپریم لیڈر پر حملہ دراصل ایران کے خلاف ہمہ گیر جنگ کا اعلان ہوگا۔

    یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد سامنے آیا، جنہوں نے ایران میں مظاہرین کے خلاف سخت کارروائیوں اور ممکنہ پھانسیوں پر سختی سے خبردار کیا تھاٹرمپ نے ہفتے کو پولیٹیکو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران میں نئی قیادت لانے کا وقت آ گیا ہے، جس پر ایرانی قیادت نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہےعلاوہ ازیں، ایرانی صدر نے ملک میں جاری معاشی بحران کا ذمہ دار امریکا اور اس کے اتحادیوں کو قرار دیا اور کہا کہ طویل عرصے سے جاری پابندیاں اور دشمنی نے ایرانی عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

    ’دی لائن کنگ‘ اور ’الہٰ دین‘ کے تخیلق کار انتقال کر گئے

    نااہل قرار دیے گئے 32 ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال

    پولیو مہم کی تاریخ کا اعلان ہوگیا

  • ’دی لائن کنگ‘ اور ’الہٰ دین‘ کے  تخیلق کار انتقال کر گئے

    ’دی لائن کنگ‘ اور ’الہٰ دین‘ کے تخیلق کار انتقال کر گئے

    ڈزنی کے معروف اینیمیٹر، ہدایت کار اور کہانی نویس راجر ایلرز 76 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    راجر ایلرز کے انتقال سے عالمی اینیمیشن انڈسٹری ایک ایسے تخلیق کار سے محروم ہو گئی ہے جس کے کام نے کروڑوں ناظرین کے بچپن کی یادوں کو ایک نئی شکل دی،راجر ایلرز نے دی لائن کنگ، الہٰ دین، دی لِٹل مرمیڈ اور بیوٹی اینڈ دی بیسٹ جیسی لازوال فلموں کی تخلیق میں کلیدی کردار ادا کیا۔

    ان کی وفات کی تصدیق ان کے قریبی ساتھی اور پروڈیوسر ڈیو بوسرٹ نے کی،بوسرٹ کے مطابق وہ چند روز قبل ہی مصر کے سفر کے دوران راجر ایلرز سے ای میل کے ذریعے رابطے میں تھے، جس کے باعث یہ خبر مزید ناقابلِ یقین محسوس ہو رہی ہےانہوں نے راجر ایلرز کو ڈزنی اینیمیشن کے سنہری دور کا مضبوط ستون بھی قرار دیا۔

    پولیو مہم کی تاریخ کا اعلان ہوگیا

    راجر ایلرز نے اپنے کیریئر کا آغاز 1982 میں فلم ٹرون کے لیے اسٹوری بورڈ آرٹسٹ کے طور پر کیا تھابعد ازاں انہوں نے اولیور اینڈ کمپنی اور دی لِٹل مرمیڈ پر کام کیا، جبکہ بیوٹی اینڈ دی بیسٹ میں ہیڈ آف اسٹوری کی حیثیت سے نمایاں مقام حاصل کیا1994 میں دی لائن کنگ کی مشترکہ ہدایت کاری نےانہیں عالمی شہرت دلائی،راجر ایلرز اپنی عاجزی، شفقت اور خوش مزاج شخصیت کے لیے جانے جاتے تھے۔

    نااہل قرار دیے گئے 32 ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال

  • پولیو مہم کی تاریخ کا اعلان ہوگیا

    پولیو مہم کی تاریخ کا اعلان ہوگیا

    ملک کے 159 اضلاع میں 2 تا 8 فروری قومی پولیو مہم شروع کی جائے گی۔

    نیشنل ای او سی کے مطابق 2 تا 8 فروری 2026 کی پہلی پولیو مہم میں 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے2 تا 8 فروری 2026 کی پہلی پولیو مہم کے دوران 4 لاکھ سے زائد مرد و خواتین پولیو ورکرز اپنی ذمہ داریاں سر انجام دیں گے والدین سے اپیل ہے کہ پولیو ورکرز کے لیے دروازے کھولیں اور اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلَوائیں پیدائش سے 15 ماہ تک کے تمام بچوں کا حفاظتی ٹیکوں کا کورس بروقت مکمل کروائیں، علا و ہ ازیں پولیو مہم سے متعلق معلومات کے لیے 1166 پر کال کریں یا 03467776546 پر واٹس ایپ پیغام بھیجیں۔

    اسحاق ڈار کی مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو

    نااہل قرار دیے گئے 32 ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال

    سوشل میڈیا پر بھارتی اور افغان میڈیا کا پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈہ بے نقاب

  • نااہل قرار دیے گئے 32 ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال

    نااہل قرار دیے گئے 32 ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اثاثہ جات اور واجبات کے گوشوارے جمع نہ کرانے پر نااہل قرار دیے گئے سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے متعدد ارکان کی رکنیت بحال کر دی ہے۔

    قومی اسمبلی کے 8 اور پنجاب اسمبلی کے 14 ارکان کی رکنیت بحال کی گئی ہے،سندھ اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے چار، چار اراکین کی رکنیت بحال کر دی گئی،سینٹ اور بلوچستان اسمبلی کے ایک ایک رکن کی رکنیت بحال کی گئی ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ ارکان نے مالی سال 2024-25 کے لیے اپنے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے جمع کرا دیے ہیں، جس کے بعد وہ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت قانونی تقاضے پورے کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

    اسحاق ڈار کی مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو

    نوٹیفکیشن کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 137 کے تحت تمام ارکانِ اسمبلی پر لازم ہے کہ وہ ہر سال 31 دسمبر تک اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں،اس قانون کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے 16 جنوری 2026 کو متعدد ارکان کو رکنیت سے محروم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اب تمام متعلقہ ارکان نے اپنے اثاثہ جات اور واجبات کے گوشوارے جمع کرا دیے ہیں، جس کے بعد الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 137(3) کے تحت ان کی اراکین اسمبلی کی حیثیت بحال کر دی گئی ہےیہ فیصلہ قانون کے مطابق اور فراہم کردہ اختیارات کے تحت کیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق جن ارکانِ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت بحال کی گئی ہے، ان میں سینیٹ سے عابد شیر علی (پنجاب) ، سید کاظم علی شاہ( سندھ)، نورالحق قادری(خیبر پختونخوا) اور عبد القدوس(بلوچستان) کی رکنیت بحال کی گئی-

    سوشل میڈیا پر بھارتی اور افغان میڈیا کا پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈہ بے نقاب

    قومی اسمبلی سے سردار غلام عباس، محمد محبوب سلطان، سید عبدالقادر گیلانی، میر عامر علی خان مگسی، ارشد عبداللہ ووہرا اور صوفیہ سعید شاہ کی رکنیت بحال کی گئی-

    پنجاب اسمبلی سے سردار محمد عاصم شیر میکن، علی حسین خان، جعفر علی ہوچھا ،محمد طاہر پرویز میاں محمد آصف ، امتیاز محمود، اسامہ فضل، محمد معین الدین ریاض، کاشف نوید، میاں علمدار عباس قریشی، محمد عون حمید، سردار شیر افغان گورچانی اور روبینہ نذیر کی رکنیت بحال کی گئی-

    سال 2026 کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کر دیاگیا

    جبکہ سندھ اسمبلی سے آغا شہباز علی درانی، نوابزادہ برہان چانڈیو، سید اویس قادر شاہ، شیراز شوکت راجپر، جام خان شورو، سعید غنی، فرح سہیل اور کو مل کی رکنیت بحال کی گئی ہے-

    اسی طرح خیبر پختونخوا اسمبلی میاں محمد عمر اور خدیجہ بی بی کی رکنیت بحال کی گئی،علاوہ ازیں بلوچستان اسمبلی سے فیصل خان جمالی، بخت محمد، زارق خان اور صفیہ بی بی کی رکنیت بحال کی گئی ہے-

    سونے کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کا اضافہ

    الیکشن کمیشن نےاس امر پر زور دیا ہے کہ ارکانِ اسمبلی کی جانب سے اثاثہ جات کی بروقت تفصیلات جمع کرانا شفافیت اور احتساب کے عمل کا اہم حصہ ہے، اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • اسحاق ڈار کی مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو

    اسحاق ڈار کی مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصری ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو کرکے خطے کی صورتحال پر گفتگو کی ہے۔

    ترجمان وزارتِ خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے ٹیلیفونک گفتگو کی،گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی حالیہ صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور کثیرالجہتی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے امور پر مسلسل رابطے اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

    گفتگو میں پر اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ دونوں رہنما عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ڈیووس میں ملاقات کریں گے تاکہ دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

    سوشل میڈیا پر بھارتی اور افغان میڈیا کا پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈہ بے نقاب

    سونے کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کا اضافہ

    سعودی شہزادہ بندر بن عبداللہ آل سعود انتقال کرگئے

  • سونے کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کا  اضافہ

    سونے کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کا اضافہ

    ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    فی تولہ سونے کی قیمت میں 7 ہزار 500 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 89 ہزار 362 روپے کی سطح پر پہنچ گیا ہےاسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 6 ہزار 431 روپے اضافہ ہوا، جس کے بعد 10 گرام سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 19 ہزار 549 روپے مقرر کی گئی ہے۔جبکہ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 75ڈالر کے بڑے اضافے سے 4ہزار 670ڈالر کی نئی بلند سطح پر آگئی۔

    دوسری جانب فی تولہ چاندی کی قیمت 300 روپے کے اضافے سے 9ہزار 782 روپے کی نئی بلند سطح پر آگئی جبکہ فی دس گرام چاندی کی قیمت 257روپے کے اضافے سے 8ہزار 386روپے کی سطح پر آگئی۔

    ایران میں قیادت کی تبدیلی کے لیے امریکا کی جانب سے منڈلاتے ہوئے جنگ کے بادل، امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں مزید کمی کی بازگشت اور جیو پولیٹیکل حالات سے عالمی و مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتیں وقفے وقفے سے تاریخ کی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔

    سال 2026 کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کر دیاگیا

    ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث مقامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی رجحان یہی رہا تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

    سعودی شہزادہ بندر بن عبداللہ آل سعود انتقال کرگئے

  • سال 2026 کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کر دیاگیا

    سال 2026 کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کر دیاگیا

    وفاقی حکومت نے سال 2026 کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے۔

    کابینہ ڈویژن نے سال 2026 کی تعطیلات کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، نوٹیفکیشن کے مطابق کشمیر ڈے 5 فروری، پاکستان ڈے 23 مارچ کو سرکاری تعطیل ہوگی،عیدالفطر کے لیے 21، 22 اور 23 مارچ 2026 کو عام تعطیل ہوگی، یومِ مزدور یکم مئی کو منایا جائے گا جبکہ یومِ تکبیر کی مناسبت سے 28 مئی کو تعطیل ہوگی۔

    کابینہ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق عیدالاضحیٰ کے لئے عام تعطیل 27، 28 اور 29 مئی 2026 کو ہوگی،یومِ آزادی 14 اگست اور عید میلادالنبی ﷺ کے سلسلے میں 25 اگست کو تعطیل دی جائے گی، علامہ اقبال ڈے 9 نومبر، قائداعظم ڈے اور کرسمس کے موقع پر 25 دسمبر کو عام تعطیل ہوگی۔

    سانحہ گل پلازہ،جس کی غلطی ہوئی،سزائیں ہوں گی،وزیراعلیٰ سندھ

    سعودی شہزادہ بندر بن عبداللہ آل سعود انتقال کرگئے

    جنید صفدر کی شادی، دلہن کے ملبوسات پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

  • سعودی شہزادہ بندر بن عبداللہ آل سعود انتقال کرگئے

    سعودی شہزادہ بندر بن عبداللہ آل سعود انتقال کرگئے

    سعودی عرب کے ایوانِ شاہی نے شہزادہ بندر بن عبداللہ آل عبدالرحمن آل سعود کے انتقال کی تصدیق کر دی ہے۔

    سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق شہزادہ بندر بن عبداللہ آل سعود گزشتہ روز انتقال کرگئےایوان شاہی کے بیان کے مطابق مرحوم کی نمازِ جنازہ بعد از نمازِ عصر ریاض کی جامع مسجد امام ترکی بن عبداللہ میں ادا کی گئی نمازِ جنازہ میں گورنر ریاض فیصل بن بندر بن عبدالعزیز، دیگر شہزادوں، اعلیٰ حکام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی،ایوان شاہی کی جانب سے مرحوم شہزادے کے لیے رحمت، مغفرت اور بلند درجات کی دعا کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ بھی سعودی عرب کے ایک اور شہزادے، عبد اللہ بن فہد بن عبد اللہ بن عبد العزیز بیرونِ ملک انتقال کرگئے تھے,ایوان شاہی کے مطابق ان کی نمازِ جنازہ بھی ریاض کی جامع امام ترکی بن عبد اللہ میں بعد از نمازِ عصر ادا کی گئی تھی۔

    سانحہ گل پلازہ،جس کی غلطی ہوئی،سزائیں ہوں گی،وزیراعلیٰ سندھ

    سانحہ گل پلازہ،50 سے زائد اموات کا خدشہ،وزیراعلیٰ کا پلازہ کی تعمیر نوکا اعلان

    جنید صفدر کی شادی، دلہن کے ملبوسات پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

  • ٹرمپ نے ایران پر حملہ اسرائیل کے راکٹس ختم ہونے کی وجہ سے روکا،امریکی میڈیا

    ٹرمپ نے ایران پر حملہ اسرائیل کے راکٹس ختم ہونے کی وجہ سے روکا،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ اسرائیل کے راکٹس ختم ہونے کی وجہ سے روکا۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ بدھ 14 جنوری کی صبح مشرقِ وسطیٰ اور واشنگٹن میں یہ تاثر مضبوط ہو چکا تھا کہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف سخت فضائی حملوں کی منظوری دینے والے ہیں یہ حملہ امریکی فوجی طاقت کے دوسرے بڑے استعمال کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، اس سے قبل امریکا کی خصوصی ڈیلٹا فورسز نے وینزویلا میں جرات مندانہ کارروائی کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا تھا۔

    اگرچہ صدر ٹرمپ نے باضابطہ طور پر حملوں کا حکم نہیں دیا تھا، تاہم ان کے اعلیٰ سیکیورٹی مشیروں کو توقع تھی کہ وہ پیش کیے گئے فوجی آپشنز میں سے کسی ایک کی جلد منظوری دے دیں گے، جس کے باعث رات گئے تک سرگرمیوں کے لیے تیاری کی جا رہی تھی۔

    امریکی افواج کا انخلا، عراق نے اپنے اہم فضائی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا

    اسی دوران پینٹاگون نے اعلان کیا کہ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس روزویلٹ خلیج فارس میں داخل ہو چکا ہے معاملے سے واقف ایک شخص کے مطابق امریکی اتحادیوں کو ممکنہ حملے سے آگاہ کر دیا گیا تھا، جبکہ بحری جہاز اور طیارے حرکت میں آ چکے تھ قطر میں واقع وسیع امریکی فضائی اڈے العدید پر موجود عملے کو ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر انخلا کا مشورہ دیا گیا تھا۔

    واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے منگل کی صبح سوشل میڈیا پر ایرانی مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مدد راستے میں ہے اور انہیں ریاستی اداروں پر قبضہ کرنے کی ترغیب دی تھی۔ متعدد امریکی اور غیر ملکی حکام نے اس بیان کو فوجی مداخلت کا اشارہ سمجھا، تاہم صدر ٹرمپ ایران پر دباؤ ڈالنے کے دیگر راستوں پر بھی غور کر رہے تھے تاکہ مظاہرین کے قتل کو روکا جا سکے۔

    
انڈونیشیا میں 11 افراد کو لے جانے والے لاپتا طیارے کا ملبہ برآمد

    بدھ کو صدر ٹرمپ کو خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ذریعے اطلاع ملی کہ ایرانی حکومت نے 800 افراد کی مجوزہ پھانسیوں کو منسوخ کر دیا ہےایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا ہم دیکھیں گے اور انتظار کریں گے بعد ازاں جمعرات کو امریکی انٹیلی جنس نے تصدیق کی کہ پھانسیاں عمل میں نہیں آئیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کے اس اچانک فیصلے نے ان کے کئی مشیروں کو حیران اور ایران مخالف عناصر کو مایوس کیا تھا درجن سے زائد موجودہ اور سابق امریکی و مشرقِ وسطیٰ کے عہدیداروں کے مطابق یہ فیصلہ اندرونی اور بیرونی دباؤ، سفارتی رابطوں اور فوجی تیاریوں کے تناظر میں کیا گیاجبکہ حکام کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو اس حقیقت کا سامنا کرنا پڑا کہ ایک اور مشرقِ وسطیٰ کے ملک کو غیر مستحکم کرنا غیر متوقع نتائج کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ امریکی فوجی طا قت کی بھی حدود ہیں۔

    بلاول بھٹو زرداری: وراثت سے ریاستی وژن تک،تجزیہ شہزاد قریشی

    امریکی اخبارمیں لکھا گیا کہ پینٹاگون کے عہدیداروں کو تشویش تھی کہ صدر کے حکم پر کیریبین میں طیارہ بردار بحری بیڑا بھیجنے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فائر پاور مطلوبہ حد سے کم ہو چکی ہے، جو ممکنہ بڑے ایرانی جوابی حملے کے لیے ناکافی ہو سکتی ہے۔

    امریکی اخبار کے مطابق ایک موجودہ اور ایک سابق امریکی عہدیدار کے مطابق اس بات پر اسرائیل نے بھی تشویش کا اظہار کیا تھا کیونکہ جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو روکنے کے لیے اسرائیل نے بڑی تعداد میں انٹرسیپٹر راکٹ استعمال کیے تھے جبکہ سعودی عرب، قطر اور مصر سمیت اہم امریکی اتحادیوں نے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کر کے تحمل اور سفارت کاری پر زور دیا تھا۔

    امریکی اخبار کے مطابق متعدد حکام کا کہنا تھا صدر ٹرمپ نے یہ بھی محسوس کیا تھا کہ ایران پر حملے ایک بار کی کارروائی نہیں ہوں گے بلکہ اس کے نتیجے میں معاشی بحران، وسیع جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں تعینات 30 ہزار امریکی فوجیوں کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں ایک سینئر یورپی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت اس مرحلے پر بڑے خطرے سے بچ گئی ہے، تاہم سڑکوں پر نکلنے والے ایرانی مظاہرین صدر ٹرمپ کے پیچھے ہٹنے پر خود کو دھوکا کھایا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔

    ناقص ڈیوٹی روسٹر منصوبہ بندی،انڈیگو پر ریکارڈ جرمانہ عائد

    امریکی اخبار کے مطابق اگرچہ حملے مؤخر کر دیے گئے ہیں، تاہم صدر ٹرمپ اور ان کے مشیر تمام آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے، جو اس وقت بحیرہ جنوبی چین میں موجود ہے اور ایک ہفتے سے زائد وقت میں خطے میں پہنچے گا خطے کے عرب ممالک نے متفقہ طور پر واشنگٹن کو پیغام دیا تھا کہ فوجی کارروائی سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس کے اثرات پورے خطے کی سلامتی اور معیشت پر پڑ سکتے ہیں اسرائیل نے بھی اپنی دفاعی تیاریوں کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے امریکا سے حملے مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی،آئندہ دو سے تین ہفتوں میں صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف کارروائی کی دوبارہ منظوری کا موقع مل سکتا ہے۔

  • امریکی افواج کا انخلا، عراق نے اپنے اہم فضائی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا

    امریکی افواج کا انخلا، عراق نے اپنے اہم فضائی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا

    عراق کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج نے مغربی عراق میں واقع عین الاسد ایئر بیس سے مکمل طور پر انخلا کر لیا ہے، جس کے بعد عراقی فوج نے اس اہم فضائی اڈے کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

    وزارتِ دفاع کے مطابق عین الاسد ایئربیس کا مکمل کنٹرول عراقی فوج نے سنبھال لیا ہے یہ اڈہ طویل عرصے سے امریکا کی قیادت میں قائم اتحاد کی افواج کے زیرِ استعمال تھا، تاہم اب تمام عسکری اور انتظامی اختیارات عراقی فورسز کے پاس منتقل ہو چکے ہیں، یہ پیش رفت عراق کی خودمختاری اور سکیورٹی کنٹرول کے عمل کا حصہ ہے یاد رہے کہ 2024 میں واشنگٹن اور بغداد کے درمیان ایک مفاہمت طے پائی تھی ،اب امریکی افواج اپنی توجہ شام میں موجود داعش کے باقی ماندہ عناصر کے خلاف کارروائیوں پر مرکوز کریں گی۔

    عراق کے جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کے نائب سربراہ قیس المحمداوی پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ حکومت کی اہم ترجیح ملک سے بین الاقوامی اتحاد کی موجودگی ختم کرنا اور دو طرفہ سکیورٹی معاہدوں کی طرف بڑھنا ہے وزیراعظم محمد شیاع السودانی نے ستمبر میں کہا تھا کہ اب 86 ممالک کی افواج کی عراق میں موجودگی کی ضرورت باقی نہیں رہی کیونکہ اتحاد کے قیام کا مقصد ختم ہو چکا ہے۔

    واضح رہے کہ 2024 میں واشنگٹن اور بغداد کے درمیان امریکی قیادت میں کام کرنے والے اتحاد کے تدریجی انخلا اور دو طرفہ دفاعی تعلقات کے قیام پر مفاہمت ہو چکی تھی ابتدائی منصوبے کے مطابق سیکڑوں فوجیوں نے ستمبر 2025 تک واپس جانا تھا جبکہ مکمل انخلا 2026 کے آخر تک ہونا تھا، تاہم تازہ پیش رفت کے بعد عمل تیز دکھائی دیتا ہے۔

    عین الاسد ایئربیس کئی برسوں سے امریکی اور اتحادی افواج کا اہم مرکز رہی ہے اور اسے ماضی میں ایران نواز مسلح گروہوں کی جانب سے متعدد حملوں کا سامنا بھی رہا، خاص طور پر 2020 میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد کشیدگی کے دوران۔

    ایک عراقی فوجی کرنل نے بھی تصدیق کی کہ امریکی افواج نے بیس چھوڑ دی ہے، تاہم چند اہلکار لاجسٹک معاملات کی وجہ سے عارضی طور پر موجود ہیں، عراق میں داعش کو 2017 میں شکست دی جا چکی ہے لیکن عراقی فورسز اب بھی اس کے باقی ماندہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔