Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ٹرمپ کا ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پرغور

    ٹرمپ کا ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پرغور

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پرغور جاری ہے، جو پہلے ہونے والی کارروائیوں سے کہیں زیادہ بڑا ہوگا۔

    جمعرات کو امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر نئی فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، جو آپریشن ایپک فیوری کے دوران کیے گئے حملوں سے بھی زیادہ شدید ہو سکتا ہےمیں پہلے سے کہیں زیادہ بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں، میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور ہم اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ ابھی اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہوں نے کسی ٹائم لائن کا اعلان کیا۔

    رپورٹ کے مطابق دو امریکی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ تاحال صدر ٹرمپ کی جانب سے کوئی حتمی حکم جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی امریکی فوج کو نئی کارروائی کے لیے کوئی نیا حکم ملا ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ کے اندر نئی کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے تاہم ان کے بقول امریکا کو ایران کے خلاف کارروائی کے لیے کسی دوسرے ملک کی ضرورت نہیں، اگر اسرائیل اس کارروائی میں شامل ہوتا ہے تو اس کے نتائج بھی سامنے آئیں گے، جس سے انہوں نے ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کی طرف اشارہ کیا، ایرانی حکام مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن اس وقت وہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار نہیں ہیں ،ایران نے ابھی تک اتنی تکلیف نہیں اٹھائی کہ وہ معاہدے پر آمادہ ہو جائے،

    رپورٹ کے مطابق خطے میں ثالثی کی کوششوں سے آگاہ دو ذرائع نے بتایا کہ ایرانی قیادت نے اب تک پیش کی گئی تازہ تجویز قبول نہیں کی۔ ایک ذریعے کے مطابق مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں لیکن ایران کی جانب سے تعاون نہیں کیا جا رہا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 12 روز کے دوران امریکا نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کو روکنے کے لیے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارر و ائیوں میں اضافہ کیا ہے تاہم ایران نے بھی اپنے حملے تیز کر دیے ہیں اور کسی قسم کی پسپائی کے آثار نظر نہیں آئے۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر میں جہازوں پر دوبارہ حملہ کیا تو امریکا اس کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرائے گا، حوثی ایران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں، اس لیے ایسی صورت میں ایران اور حوثیوں دونوں کو سخت فوجی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو آئندہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی تعزیتی تقریب میں شرکت کرنا چاہتے ہیں،نیتن یاہو کے ساتھ ان کے تعلقات بہت اچھے ہیں اور اگر وہ واشنگٹن آئے تو ان سے ملاقات بھی کریں گے-

  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی

    لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان آرمی کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا، ہلالِ امتیاز (ملٹری)، ستارۂ بسالت کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے اور انہیں کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    وزیراعظم آفس کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ پاک فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے کے ساتھ کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا، ہلال امتیاز ملٹری، ستارہ بسالت کو ان کی ترقی اور تقرری پر مبارکباد دی اور اس اہم ذمہ داری کی انجام دہی کے لیے جنرل عامر رضا کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا،وزیراعظم نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ جنرل عامر رضا قومی سلامتی سے متعلق اس اہم ذمہ داری کو پیشہ ورانہ مہارت اور قومی عزم کے ساتھ انجام دیں گے۔

    کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا منصب ملک کی اسٹریٹجک صلاحیتوں اور قومی دفاعی حکمتِ عملی کے حوالے سے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے جب کہ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی کو پاکستان کی عسکری قیادت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا نے 1988 میں کمیشن پاس کیا، انہوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجویٹ کیا اس کے علاوہ وہ یونیورسٹی آف نوٹنگھم سے بین الاقوامی تعلقات کی ڈگری بھی حاصل کر چکے ہیں،انہیں جنوری 2025 میں چیف آف جنرل اسٹاف جی ایچ کیو تعینات کیا گیا تھا اس کے علاوہ وہ کمانڈر فور کور اور چیئرمین ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا بھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔

  • ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے اسکواڈ کا اعلان کردیا

    ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے اسکواڈ کا اعلان کردیا

    ویسٹ انڈیز نے پاکستان کیخلاف ٹیسٹ سیریز کیلئے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا ۔

    ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کے مطابق ر وسٹن چئیز ویسٹ انڈیز کے کپتان برقرار رکھے گئے ہیں جبکہ جومیل واریکن نائب کپتان ہوں گے،دیگر کھلاڑیوں میں جوشعوا بشپ، ٹیگنارائن چندرپال، جوشعوا ڈی سلوا شامل ہیں ، جسٹن گریوز، کیوم ہوج، شے ہاپ، عامر جنگو، شیمار جوزف بھی اسکواڈ کا حصہ ہیں برینڈن کنگ، کرک میکینزی، کیمو پال، کیمار روچ اور جیڈن سیلز بھی شامل ہیں،پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں 25 جولائی سے شروع ہوگا۔

    دوسری جانب قومی ٹیسٹ سکواڈ کا برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں پریکٹس سیشن ہوا،قومی کھلاڑیوں نے وارم اپ اور فیلڈنگ سیشن میں حصہ لیا ،کوچز نے کھلاڑیوں کو سلپ کیچز کی ڈرلز کروائیں،کوچز کے زیر نگرانی کھلاڑیوں نے بیٹنگ اور باؤلنگ کی نیٹ پریکٹس بھی کی ۔

  • بھارتی انکار سے نہ تاریخ بدل سکتی ہے اور نہ کشمیر کی متنازع حیثیت، پاکستان

    بھارتی انکار سے نہ تاریخ بدل سکتی ہے اور نہ کشمیر کی متنازع حیثیت، پاکستان

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے مسئلہ جموں و کشمیر، انسانی حقوق، سندھ طاس معاہدے اور خطے کی سلامتی سے متعلق بھارت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارتی انکار سے نہ تاریخ بدل سکتی ہے اور نہ کشمیر کی متنازع حیثیت-

    پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم نے بھارتی وفد کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بھارت سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے بھارتی انکار سے نہ تاریخ بدل سکتی ہے اور نہ کشمیر کی متنازع حیثیت،سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کوئی مدتِ معیاد نہیں ہوتی-

    اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، کیونکہ وہ خود بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی جیسے اقدامات کا مرتکب رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق موجود ہے ان کے مطابق ایک جانب سیاسی آزادی اور بنیادی حقوق کا ماحول ہے، جبکہ دوسری جانب مقبوضہ جموں و کشمیر میں جبر، گرفتاریوں، اظہارِ رائے پر پابندیوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہےحقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی کو ایک جیسا قرار نہیں دیا جا سکتا کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا جبکہ بھارت کا یکطرفہ مؤقف اس تنازع کی بین الاقوامی اور قانونی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔

    انہوں نے یاد دلایا کہ بھارت خود مسئلہ جموں و کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر گیا تھا، لیکن آج وہ انہی قراردادوں اور اپنے بین الاقوامی وعدوں سے انحراف کر رہا ہےمقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں بدستور جاری ہیں اور کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دینے کے بجائے ان پر مزید پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔

    پاکستانی قونصلر نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارت کے اقدامات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے دریائے سندھ کا پانی لاکھوں انسانوں کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگ یا سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

    صائمہ سلیم نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک اپنی سرگرمیاں عالمی سطح تک پھیلا چکے ہیں،بھارت کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کی سرپرستی کررہاہے ،بھارت خطے میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے،کلبھوشن یادیو سے عالمی قتل کی سازشوں تک، بھارتی دہشت گردی بے نقاب ہو چکی ہے، جس پر عالمی برادری کو سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے-

    انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی ہے، جس کے باعث مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کو امتیازی سلوک اور مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے،ہندوتوا کی سیاست سے بھارتی مسلمان، مسیحی، دلت اور سکھوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے،انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرے۔

  • پاکستان کے  ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر

    پاکستان کے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر

    پاکستان نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے-

    پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا افتتاح کیا گیاتقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا اس موقع پر دونوں رہنماؤ ں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

    ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہےامید ہے کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

    اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

    تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

  • مون سون اسپیل:مزید بارشوں کی پیشگوئی

    مون سون اسپیل:مزید بارشوں کی پیشگوئی

    پنجاب بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ محکمہ موسمیات نے آج جمعہ کے روز پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مون سون ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں پر اثرانداز ہیں، جبکہ مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ بھی موسم کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے باعث بالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کا امکان برقرار رہے گا اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیا لکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، فیصل آباد، سرگودھا، مری، گلیات، جہلم، اٹک اور چکوال سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش متوقع ہےخیبرپختونخوا کے پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، سوات، دیر، چترال، کوہستان اور دیگر بالائی علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے، جبکہ شمال مشرقی بلوچستان کے کوئٹہ، زیارت، ژوب، موسیٰ خیل، بارکھان اور ملحقہ علاقوں میں کہیں کہیں بارش ہو سکتی ہے۔ سندھ کے بالائی اور جنوب مشرقی علاقوں میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے، تاہم صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران شدید بارشوں کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، برساتی ندی نالوں اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے، مقامی ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔

    دوسری جانب قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں نے متعلقہ انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ نشیبی علاقوں سے پانی کی نکاسی کے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ شہریوں، بالخصوص سیاحوں اور پہاڑی علاقوں کا سفر کرنے والوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، تیز بارش اور گرج چمک کے دوران احتیاط برتنے اور موسم سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز لاہور میں 263 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ گوجرانوالہ میں 286 ملی میٹر، سیالکوٹ میں 278 ملی میٹر اور نارووال میں 235 ملی میٹر بارش ہوئی۔ شدید بارش کے باعث کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا، متعدد انڈر پاسز اور اہم شاہراہیں زیرِ آب آگئیں۔ لاہور کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے بعض علاقوں میں سڑکوں پر پانی اس قدر جمع ہوگیا کہ کشتی چلانے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔

    مسلسل بارشوں کے باعث دریائے راوی کے ہیڈ بلوکی کے مقام پر بھی سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے محکمہ آبپاشی کے مطابق ہیڈ بلوکی پر پانی کی آمد 84 ہزار 515 کیوسک جبکہ اخراج 61 ہزار 315 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کم سے کم درجہ حرارت 27 اور زیادہ سے زیادہ 32 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔ شہر کا موجودہ درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہوا کی رفتار 11 کلومیٹر فی گھنٹہ اور ہوا میں نمی کا تناسب 83 فیصد رہا۔

  • امریکی افواج کے ایران پر مسلسل 13ویں رات حملے

    امریکی افواج کے ایران پر مسلسل 13ویں رات حملے

    امریکی افواج نے ایران پر مسلسل 13ویں رات بھی حملےکئے-

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پرکہا کہ ایران کے خلاف مسلسل 13ویں رات فضائی حملے کامیابی سے مکمل کیے، حملوں میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں، مواصلاتی نیٹ ورکس، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا، یہ حملے اس لیےکیے گئے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے شہری ملاحوں اور تجارتی جہازوں کو ایران سے لاحق خطرات کو مزید کم کیا جا سکے۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی حالیہ کارروائیوں کے باوجود آبنائے ہرمز بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہوئی ہے اور امریکی فوج کی معاونت سے تجارتی جہاز معمول کے مطابق اس راستے سے گزر رہے ہیں اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں نئے حملوں کا آغاز امریکی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 45 منٹ پر کیا گیا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مغربی ایران کے شہر بندر عباس میں دھماکا سنا گیا ہےایرانی خبر ایجنسی کے مطابق ایران کے جنوبی شہر اہواز میں بھی دھماکے سنے گئے ہیں جبکہ جزیرہ قشم میں بھی دھماکے کی اطلاعات ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نےکہا ہے کہ تجارتی جہازوں کے نقصان کی ادائیگی ایران کے منجمد اثاثوں سے کی جائے گی، تمام نقصانات ایرانی رقم سے پورے کیے جائیں گےآج سے جہازوں، ان کے کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی قسم کے نقصان کا ازالہ امریکا کے زیرِ قبضہ اور کنٹرول میں موجود ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا۔

  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

    خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت پہلی مرتبہ مئی کے آخر کے بعد 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل کے سودے 6.58 ڈالر یعنی تقریباً 7 فیصد اضافے کے بعد 100.65 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے،جو گزشتہ دو ماہ کی بلند ترین سطح ہےجبکہ عالمی مارکیٹ میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی 91.65 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ چکی ہے۔

    دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کی تعداد کم ہو کر دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہےخبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، خام تیل لے جانے والا جہاز نیو جائنٹ، جس میں تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی خام تیل لدا تھا، جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزر کر چین کی بندرگاہ ریژاؤ پورٹ کی جانب روانہ ہوا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ حوثی بحیرہ احمر کے راستے باب المندب سے کن بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیتے ہیں اور کنہیں نشانہ بناتے ہیں۔

    حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب سے آنے والے تیل بردار جہازوں کی بحری ناکہ بندی کریں گے اور سعودی عرب، اسرائیل اور امریکا سے وابستہ آئل ٹینکروں کو باب المندب میں نشانہ بنائیں گے،یہ آبی گزرگاہ بحیرہ احمر کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہےجمعرات کو حوثیوں نے 2 سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی کہ ان میں سے ایک جہاز میں آگ لگ گئی۔

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل

    نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل

    سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے میں قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے،سپریم کورٹ نے 30 صفحات کا فیصلہ جاری کردیا۔

    جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعتیں کیں،بینچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے،جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا،نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی،نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

    سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا،اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

  • اسحاق ڈار شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کیلئے کرغزستان روانہ

    اسحاق ڈار شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کیلئے کرغزستان روانہ

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم کے 33ویں اجلاس میں شرکت کے بعد شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان روانہ ہوگئے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ 23 اور 24 جولائی کو ہونے والے ایس سی او کونسل آف فارن منسٹرز کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے،دورے کے دوران اسحاق ڈار ایس سی او کے رکن ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے اجلاس کے موقع پر دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں باہمی تعاون، علاقائی صورتحال اور مشترکہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے منیلا کے کامیاب دورے کے اختتام پر فلپائن کی حکومت اور آسیان ریجنل فورم کی ٹیم کا ان کی اور پاکستانی وفد کی پرتپاک مہمان نوازی پر شکریہ بھی ادا کیا۔