Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کےسکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع

    حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کےسکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع

    واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں،اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلوما ت میڈیا تک پہنچائیں، کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔

    یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔

    رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھےاس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی، میر ین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہےتاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔

    تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہےسیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔

  • سونم وانگچک کی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم، طلبہ کا احتجاج جاری

    سونم وانگچک کی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم، طلبہ کا احتجاج جاری

    سماجی کارکن سونم وانگچُک نے میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے کے خلاف 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے، تاہم طلبہ کی قیادت میں جاری احتجاج ختم نہیں ہوگا اور مظاہرین نے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق احتجاجی تحریک ”کاکروچ جنتا پارٹی“ (سی جے پی) کا مؤقف ہے کہ مئی میں ہونے والے میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے سے تقریباً 20 لاکھ طلبہ متاثر ہوئے جبکہ اس معاملے کو کئی طلبہ کی خودکشیوں سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

    سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے دو وفاقی وزرا کی موجودگی میں اپنی بھوک ہڑتال ختم کی، متعدد ارکان پارلیمنٹ کی اپیل ، مختلف شرائط پر طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشے کے پیش نظر انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مذاکرات کی تفصیلات جلد ایک ویڈیو پیغام میں جاری کریں گے۔

    دوسری جانب سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے سونم وانگچک کی قربانی اور حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہو جاتے انہوں نے کہا کہ سونم وانگچک کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا،وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے منگل کی شب اپنے پہلے عوامی بیان میں کہا تھا کہ حکومت امتحانات سے متعلق خدشات دور کرنے اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے پُرعزم ہے۔

    رائٹرز کے مطابق یہ احتجاج نریندر مودی کے 2014 سے اقتدار میں آنے کے بعد ان کی حکومت کو درپیش نوجوانوں کی جانب سے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے اپوزیشن جماعتوں نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کی ہے اور اسی معاملے پر پارلیمنٹ کے جاری مون سون اجلاس میں ہنگامہ آرائی کی۔

    سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم ہونے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کرنے اور بھوک ہڑتال کے دوران کم ہونے والا وزن دوبارہ بحال کرنے کا مشورہ دیا۔

    احتجاج کرنے والوں نے جمعہ کو ملک بھر میں مظاہروں کی اپیل بھی کی ہے ان کا کہنا ہے کہ پیر کے روز پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تھا۔ دوسری جانب حکومت نے مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات میں شامل ہوں۔

    جمعرات تک ہزاروں افراد نئی دہلی کے جنتر منتر پر جمع تھے، جہاں سخت سکیورٹی کے درمیان حکومت مخالف نعرے لگائے گئے اور بینرز اٹھائے گئے۔ احتجاج کے باعث دہلی کے مرکزی علاقوں میں میٹرو اسٹیشن بند رہے، موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی اور کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق رانچی، پونے، ترواننت پورم اور کولکتہ سمیت دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

  • سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر

    سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر

    وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کے خلاف دائر مختلف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں-

    چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی عدالت کا 3 رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گاعدالت نے خیبرپختونخوا حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں، آئینی عدالت اس سے قبل 9 مئی کے مقدمات کی واپسی کے حکومتی فیصلے پر حکم امتناع بھی جاری کرچکی ہے،جبکہ عمران خان رہائی فورس کے خلاف دائر درخواست اور خیبرپختونخوا میں 9 مئی کے مقدمات واپس لینے کے خلاف اپیل پر 29 جولائی کو سماعت ہوگی۔

    ریڈیو پاکستان کی جانب سے پشاورمیں ریڈیو پاکستان پر حملے سے متعلق مقدمہ واپس لینے کے خیبرپختونخوا حکومت کے فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا ،درخواست میں ریڈیو پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مقدمہ خیبرپختونخوا سے کسی دوسرے صوبے منتقل کیا جائے، جس کی استدعا بھی عدالت کے سا منے زیر غور آئے گی۔

  • حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں ،وزیراعظم

    حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں ،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں ،بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور امن کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش ہے، تاہم پاکستان دہشت گردی کے اس چیلنج کا پوری قوت سے مقابلہ کرے گا۔

    بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچ اور پشتون عوام نے قیامِ پاکستان کے وقت تاریخی کردار ادا کیا اور اپنی قیادت کے ذریعے پاکستان میں شمولیت اختیار کرکے قومی وحدت کو مضبوط بنایا، بلوچستان کی محب وطن قیادت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی اور صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی میں بھرپور شریک رہا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا لیکن رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں طویل فاصلے اور دشوار جغرافیہ ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ وسائل خرچ کرنے کا تقاضا کرتے ہیں، اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق میں نمایاں اضافہ کیا گیا، اس فیصلے میں تمام صوبوں نے اتفاق کیا، جبکہ پنجاب نے رضاکارانہ طور پر سالانہ 11 ارب روپے اضافی دینے کا فیصلہ کیا اور 2010 سے اب تک تقریباً 150 ارب روپے بلوچستان کے لیے فراہم کیے جا چکے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ یہ کسی پر احسان نہیں بلکہ وفاقی یکجہتی اور بھائی چارے کا تقاضا تھا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ میاں نواز شریف کے ادوارِ حکومت میں بھی بلوچستان کی ترقی کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے، جبکہ موجودہ حکومت نے بھی صوبے کے جائز مطالبات پورے کرنے کو ترجیح دی ہے بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے تقریباً 75 ارب روپے کا منصوبہ شروع کیا گیا، جس میں وفاق نے تقریباً 50 ارب روپے فراہم کیے، تاکہ کسانوں کو بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے نجات مل سکے،بلوچستان کی ترقی کےلیے وفاقی حکومت کوئی کمی نہیں چھوڑے گی-

    وزیراعظم نے کہا کہ کراچی سے چمن تک ایم-25 شاہراہ، جسے ماضی میں مسلسل حادثات کے باعث “خونی سڑک” کہا جاتا تھا، اسے جدید ایکسپریس وے میں تبدیل کیا جا رہا ہے، تقریباً 300 ارب روپے لاگت کے اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف سفری سہولیات بہتر ہوں گی بلکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ بھی ممکن ہوگا، انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ ڈیڑھ سے دو برس میں یہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد یہ شاہراہ ترقی، تجارت اور امن کی علامت بن جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں اگر صرف ایک یا دو صوبے ترقی کریں اور د یگر پیچھے رہ جائیں تو اسے پاکستان کی ترقی نہیں کہا جا سکتا وفاق کی ذمہ داری ہے کہ ملک کے ہر حصے کو مساوی ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

    وزیراعظم نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس عبدالقادر اور ان کے ساتھی اہلکار سمیت دہشت گردی میں شہید ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ قوم ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اب تک 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، جن میں شہری، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور افواجِ پاکستان کے افسران و جوا ن شامل ہیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ 2017 اور 2018 تک پاکستان دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پا چکا تھا، لیکن بعد ازاں دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، جو دہشت گرد عناصر کو مالی اور دیگر معاونت فراہم کر رہا ہےپاکستان نے بارہا افغان عبو ری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گرد تنظیموں کے استعمال سے روکے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان دو ہزار کلومیٹر سے زائد مشترکہ سرحد موجود ہے اور خطے میں امن دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، تاہم، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس حوالے سے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آ سکے۔

    انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان نے دفاعی اور سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن سے دنیا میں ملک کا وقار بلند ہوا ہے، مگر پاکستان کے دشمن ان کامیابیوں کو برداشت نہیں کر پا رہے انہوں نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر معاشی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے سفر کو آگے بڑھائے تاکہ پاکستان دنیا میں اپنا حقیقی مقام حاصل کر سکے۔

    اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے علامہ اقبال کا شعر پڑھتے ہوئے قومی اتحاد، مشترکہ جدوجہد اور انتھک محنت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ چاروں صوبوں اور 24 کروڑ عوام کی مشترکہ کوششوں سے ہی پاکستان ایک مضبوط، خوشحال اور باوقار ریاست بن سکتا ہے۔

  • پاکستان ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے،اسحاق ڈار

    پاکستان ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغز جمہوریہ کے خوبصورت شہر چولپون آتا میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی کونسل برائے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کہا کہ پاکستان ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے اور رکن ممالک کے درمیان تعاون، روابط اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے لیے اپنی بھرپور حمایت جاری رکھے گا-

    دفتر خارجہ کے مطابق سینیٹر اسحاق ڈار نے اجلاس کی میزبانی پر کرغز قیادت اور وزیر خارجہ ژین بیک کولوبایف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے شاندار انتظامات کو سراہا نائب وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کی 25ویں سالگرہ پر رکن ممالک کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ایس سی او گزشتہ 25 برس کے دوران خطے میں امن، سلامتی، خوشحالی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے،انہوں نے علاقائی امن، استحکام، رابطہ کاری اور مشترکہ ترقی کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے اور رکن ممالک کے درمیان تعاون، روابط اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے لیے اپنی بھرپور حمایت جاری رکھے گااسحاق ڈار نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا، جن میں اسلام آباد مذاکرات اور اس کے نتیجے میں طے پانے والا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت شامل ہیں انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل پر یقین کی عکاسی کرتے ہیں۔

    انہوں نے اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششو ں کو سراہااور اس موقع پر اعلان کیا کہ پاکستان ستمبر 2026 میں شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی سربراہی سنبھالنے کے لیے تیار ہے، انہوں نے تمام رکن ممالک کو 2027 میں پاکستان میں منعقد ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

  • ایس او سی اجلاس:اسحاق ڈار کی چینی وزیرخارجہ سےملاقات

    ایس او سی اجلاس:اسحاق ڈار کی چینی وزیرخارجہ سےملاقات

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کے موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور چین کے دوطرفہ تعلقات، خطے کی تازہ صورتحال اور مختلف کثیرالجہتی فورمز پر باہمی تعاون کے فروغ سے متعلق امور پر مفصل اور نتیجہ خیز تبادلۂ خیال کیانائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران پاکستان کی علاقائی امن، استحکام اور سفارتی کوششوں کو سراہنے پر چینی وزیر خارجہ وانگ یی کا شکریہ ادا کیا۔

    اس موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی آئندہ سربراہی سنبھالنے اور 2027 میں ایس سی او سربراہ اجلاس کی میزبانی پر نیک تمناؤں کا اظہار کیا،دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، علاقائی امن و استحکام کے فروغ اور بین الاقوامی و علاقائی فورمز پر قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

  • بھارت میں احتجاج:معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے

    بھارت میں احتجاج:معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے

    بھارت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے ہیں۔

    کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر، اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا، یوراج سنگھ، شیکھر دھون، محمد کیف، میرابائی چانو، ونیش پھوگاٹ اور منو بھاکر نے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی نظامِ تعلیم کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مؤثر اصلاحات کی اپیل کی ہے۔

    سچن ٹنڈولکر نے اپنے مرحوم والد جو پیشے کے اعتبار سے پروفیسر تھے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ناکامی قابلِ قبول ہے لیکن دھوکہ دہی نہیں، کبھی بھی شارٹ کٹ اختیار نہ کریں، بطور معاشرہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسی اقدار کو فروغ دیں جہاں محنت کو نتائج پر ترجیح دی جائے،اگر معاشرہ محنت کے بجا ئے صرف نتائج کو اہمیت دے گا تو لوگ میرٹ کے بجائے شارٹ کٹس تلاش کریں گے-

    سچن نے کہا کہ آج اگر طلبہ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو یہ قابلِ فہم ہے ہمیں مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں انہیں دوبارہ ایسا محسوس نہ ہو،بھارت کے نوجوان خوابوں اور توانائی سے بھرپور ہیں اور والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، منتظمین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں محنت کا صلہ ملے، دیانت داری کی حوصلہ افزائی ہو اور میرٹ کامیاب ہو۔

    اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا نےبھی اسی مؤقف کی حمایت کرتےہوئےکہا کہ تعلیم کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیےمیں نے خود کو کبھی سیاسی شخصیت نہیں سمجھا لیکن میرا یقین ہے کہ کچھ معاملات ہم سب کے ہیں، چاہے ہمارے نظریات کچھ بھی ہوں، تعلیم انہی میں سے ایک ہے، کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی معیشت یا کامیابیوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو کتنے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے ایسا نظامِ تعلیم جو اعتماد پیدا کرے، میرٹ کو فروغ دے اور تجسس کی حوصلہ افزائی کرے کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے، ہمیں مل کر اپنے تعلیمی نظام کو مز ید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے امید، مواقع اور جدت کا ذریعہ بن سکے۔

    اولمپک سلور میڈلسٹ میرابائی چانو نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سی اچھی چیزیں بھی ہو رہی ہیں لیکن کچھ افسوسناک واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جب ہم ایسے واقعات دیکھتے یا سنتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے میں نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بارے میں سنا ہے میرا خیال ہے کہ وہ درست کام کر رہے ہیں۔

    سابق بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ نے اپنے پیغام میں کہا ہر بچے، ہر طالب علم، ہر عورت اور ہر مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پُرامن ماحول میں تعلیم حاصل کرے، محفوظ رہے اور اپنے خواب پورے کرے آپ کی فلاح و بہبود ہی روشن بھارت کی بنیاد ہے۔ بات چیت کے ذریعے ہم بھارت کے مستقبل کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کر سکتے ہیں۔

    سابق اوپنر شکھر دھون نے بھی طلبہ کے جذبات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خوابوں کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن مشکل وقت میں صبر اور ملک کے اداروں اور حکومت پر اعتماد برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہر مسئلے کا حل صبر سے نکلتا ہے۔

    سابق کرکٹر محمد کیف نے کہا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ تعلیم کے نظام میں خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس طاقت استعمال کر رہی ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر طلبہ پر لاٹھیاں برسنا بند ہونا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ اس مسئلے کا جلد حل نکلے گا۔

    ریسلر ونیش پھوگاٹ نے احتجاجی مقام پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر کی تصاویر نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا جب ملک کے طلبہ اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنے خوابوں کے لیے سڑکوں پر نکلے تو انہیں عزت کے بجائے خوف اور تشدد کا سامنا کرنا پڑاانہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ ہر حال میں پرامن رہیں اور کہا آپ کی سب سے بڑی طاقت آپ کا صبر، نظم و ضبط اور پُرامن جدوجہد ہے۔ پیچھے مت ہٹیں، تاریخ ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے۔

    اولمپک شوٹر منو بھاکرنے کہا کہ یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کے مستقبل کا سوال ہے میں خود ایک طالبہ رہی ہوں اور ہم سب کبھی نہ کبھی طالب علم رہے ہیں۔ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور زندگی میں مساوی مواقع ملنے چاہییں۔ یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ بنیادی حقوق ہیں۔ جن طلبہ اور بچوں نے اپنی جانیں گنوائیں، وہی اس ملک کا مستقبل تھے۔ ان کے خواب، ان کی صلاحیتیں اور ان کا مستقبل محفوظ ہونا چاہیے تھا۔

  • کویت میں امریکی فوجی اڈوں کے خلاف احتجاج

    کویت میں امریکی فوجی اڈوں کے خلاف احتجاج

    عرب ممالک میں لوگوں نے امریکی اڈوں کے خلاف سڑکوں پہ احتجاج شروع کر دیا ہے،کویت میں امریکی اڈوں کے خلاف لوگوں نےاحتجاج کیا-

    کویت اور خلیجی خطے میں حالیہ عوامی احتجاج اور کشیدگی کا تعلق بنیادی طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی جھڑپوں اور تہران کی جانب سے کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر کیے جانے والے ڈرون و میزائل حملوں کے دعوؤں سے ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور رپورٹس کے مطابق،عوام میں خطے کی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے، اب ان شاہی خاندانوں کو معلوم ہو چکا ہے کہ سوشل میڈیا کا دور ھے اور ان کی اپنی بادشاہتوں کے در ودیوار ہلنا شروع ہو گئے ہیں –

    ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب نے کویت میں کیمپ عریفجان، کیمپ دوحہ اور علی السالم ایئر بیس جیسے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔ سوشل میڈیا اور مقامی سطح پر لوگ خطے کی جنگی صورتحال میں اپنے ممالک کے کردار اور غیر ملکی فوجی موجودگی پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں، کویت اور دیگر خلیجی ریاستوں نے ملکی دفاع اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہائی الرٹ جاری کر رکھا ہے۔

  • سلمان خان کی  طلبہ سے احتجاج ختم کرنے اور سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل

    سلمان خان کی طلبہ سے احتجاج ختم کرنے اور سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل

    بالی ووڈ سُپراسٹار سلمان خان نے طلبہ سے احتجاج ختم کرنے اور سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کر دی۔

    سلمان خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ طلبہ کی تعلیم اور سلامتی اولین ترجیح ہونی چاہیے، اس لیے انہیں اپنی یا اپنے والدین کی پریشانی کا باعث نہیں بننا چاہیے،انہیں یقین ہے کہ بھارتی وزیراعظم کی جانب سے یقین دہانی کے بعد امتحانی پرچہ لیک کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، لہٰذا طلبہ اپنے والدین اور گھروں کو واپس چلے جائیں۔

    سلمان خان نے سماجی کارکن سونم وانگچک کو مخاطب کرتے ہوئے لکھاکہ سونم، اب کافی ہو گیا دوست، بھوک ہڑتال مزید نہ بڑھائیں اگر ضرورت پڑی تو بعد میں بھی جدوجہد جاری رکھی جا سکتی ہے اب کچھ کھا لیں، اگر چاہیں تو میں اپنے گھر سے کھانا بھی بھیج دیتا ہوں۔

    واضح رہے کہ سلمان خان نے اس سے قبل بھی طلبہ کے احتجاج کی حمایت کی تھی، تاہم اب انہوں نے حکومت کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم کرنے اور سونم وانگچک سے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے،یہ اپیل ایک روز بعد سامنے آئی جب سلمان خان نے مبینہ NEET-UG 2026 پرچہ لیک کے خلاف طلبہ کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے اسے تعلیمی نظام کا سنگین مسئلہ قرار دیا تھا۔

    دہلی کے جنتر منتر پر گزشتہ کئی ہفتوں سے ہزاروں طلبہ، والدین اور سماجی کارکن احتجاج کر رہے ہیں، مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ مبینہ امتحانی پرچہ لیک کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے، متاثرہ طلبہ کو انصاف فراہم کیا جائے اور امتحانی نظام میں جامع اصلاحات متعارف کرائی جا ئیں،اسی مطالبے کے حق میں سماجی کارکن سونم وانگچک نے طویل بھوک ہڑتال بھی کی، جسکے دوران ان کی صحت بگڑنے پر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔

    طلبہ تحریک نے حالیہ دنوں میں ملک بھر میں توجہ حاصل کی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے پرچہ لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کی یقین دہانی کے بعد احتجاج کے مستقبل پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

  • ٹرمپ کی اثاثے ضبط کرنے کی دھمکی پر ایرانیِ وزیر خارجہ کا سخت انتباہ

    ٹرمپ کی اثاثے ضبط کرنے کی دھمکی پر ایرانیِ وزیر خارجہ کا سخت انتباہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر سخت ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں، سامان یا دیگر املاک کو کسی بھی ممکنہ نقصان کی صورت میں اس کا معاوضہ امریکا کے قبضے میں موجود ایرانی رقوم سے ادا کیا جائے گا۔

    عباس عراقچی نے جمعے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے ضبط کرکے مستقبل میں سامنے آنے والے غیر متعلقہ دعووں کی ادائیگی کرنا ایک انتہائی خطرناک مثال قائم کرے گا جو لوگ ایسے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا اس پر خوش ہوتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب حکومتیں دوسرے ممالک کے اثاثے ضبط کرنے کو معمول بنا لیں گی تو پھر کسی کے بھی اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے، اس کے بعد پیدا ہونے والا انتشار نہ خوشگوار ہوگا اور نہ ہی پُرامن۔

    عباس عراقچی کا یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی چیز کو پہنچنے والے تمام نقصانات کی ادائیگی امریکا کے قبضے اور کنٹرول میں موجود ایرانی رقوم سے کی جائے گی۔

    تاہم صدر ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ وہ کن مخصوص ایرانی اثاثوں کی بات کر رہے ہیں۔ البتہ امریکی پابندیوں کے باعث ایران کے اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے اب بھی امریکا کے کنٹرول میں منجمد ہیں۔

    اس سے قبل ایکس پر جاری ایک اور بیان میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلسل دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بے سوچے سمجھے جارحانہ اقدامات کا راستہ اختیار کرنے کی صورت میں صدر ٹرمپ کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

    عباس عراقچی نے امریکی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کے بعض عہدیدار زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی حقیقی صورتحال کے بجائے صرف 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز ہے،امریکی انتظامیہ میں موجود بعض گمراہ افراد نے حقیقت سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ وہ زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جن کے نتائج خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

    اگرچہ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کسی ممکنہ معاہدے یا امریکی اقدامات کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں، تاہم ان کے ریمارکس سے واضح ہوتا ہے کہ تہران امریکی پالیسیوں اور بیانات کو خطے کے امن و استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دے رہا ہے۔