Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • سہیل آفریدی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

    سہیل آفریدی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مفتی محمود مرکز میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔

    ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، صوبائی حقوق کے حصول کے لیے مشترکہ جد و جہد پر تبادلہ خیال کیا گیا اگلے مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ ، صوبے کے شیئر سے متعلق امور پر بھی گفتگو ہوئی، پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سینیئر رہنما بھی ملاقات میں شریک تھے۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو این ایف سی میں ضم اضلاع کا حصہ نہیں مل رہا، پنجاب حکومت نے خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے گندم کی فراہمی بند کر رکھی ہے، وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کو گیس کی فراہمی میں رکاوٹیں انتہائی تشویش ناک ہیں،وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا 500 ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد گیس پیدا کرتا ہے لیکن اس کے باوجود صوبے کو اس کے جائز حصے سے محروم رکھا جا رہا ہے، صوبہ صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کرتا ہے، اس کے باوجود گیس کی فراہمی میں رکاوٹیں ناقابل قبول ہیں، وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کا طرز عمل آئین کے آرٹیکل 151 اور آرٹیکل 158 کی صریح خلاف ورزی ہے وفاق خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہا ہے-

  • صفائی کا کام کرنیوالی خاتون نے خود پڑھ کر ماسٹر ڈگری میں داخلہ لے لیا

    صفائی کا کام کرنیوالی خاتون نے خود پڑھ کر ماسٹر ڈگری میں داخلہ لے لیا

    یونیورسٹی میں صفائی کا کام کرنے والی ایک خاتون نے ایک سال تک خود پڑھائی کرکے ماسٹر پروگرام میں داخلہ لے لیا-

    33 سالہ لی جیا کا تعلق چین کے صوبے سیچوان کے علاقے چینگڈو سے ہے اور وہ چینگڈو یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں کل وقتی کلینر کے طور پر کام کرتی ہیں وہ اور ان کے شوہر ماضی میں یونیورسٹی کیمپس کے قریب ایک ریسٹورینٹ چلاتے تھے مگر مالی مشکلات کے باعث اسے بند کرنا پڑا اس کے بعد خاتون نے یونیورسٹی میں صفائی کا کام شروع کر دیا، جس کی وجہ گھر کے قریب ہونا اور کام کے لچکدار اوقات تھے، جس سے انہیں بچوں کا خیال رکھنے میں مدد ملتی تھی۔

    صفائی کے کام کے دوران وہ اکثر چین کے نیشنل ایگزم کے وینیو بھی جاتی تھیں اور ملک بھر سے آنے والے طالبعلموں سے ملتی تھیں انہوں نے بتایا کہ کچھ طالبعلم اسٹریٹ لائٹس کی روشنی میں پڑھتے تھے جبکہ کچھ ایسے تھے جن کے بالوں میں سفیدی آچکی تھی اور پھر بھی امتحان دے رہے ہوتے تھےیہ ناممکن تھا کہ میں اس طرح کے مناظر سے متاثر نہ ہوں۔

    دوستانہ فطرت کی مالک لی جیا ایسے متعدد طالبعلموں سے انٹرنیٹ کے ذریعے رابطے میں رہیں اور ہر سال امتحانات کے موقع پر ان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ان افراد کی پوسٹس سے بھر جاتا ان طالبعلموں سے متاثر ہوکر خاتون اپنے بچوں کے لیے ایک مثال بننا چاہتی تھیں اور اسی لیے انہوں نے ماسٹر ڈگری کے داخلہ امتحان میں شرکت کا فیصلہ کیا مگر ان کے لیے یہ امتحان کافی مشکل ثابت ہوا۔

    انہوں نے ایک ووکیشنل اسکول سے تعلیم حاصل کی تھی اور گریجویشن ڈگری سے محروم تھیں اور ماسٹر ڈگری میں داخلے کے لیے انہیں 2 اضافی مضامین کے امتحانات دینا تھے ان کے پاس محض 8 ماہ تھے جس کے بعد ابتدائی امتحانات ہونا تھے اور ان پر کام کا دباؤ بھی تھاتو وہ صبح 6 بجے یونیورسٹی آتیں، سیا ست اور انگلش کے لیکچر ہیڈفونز سے سنتے ہوئے صفائی کرتیں ان کے شوہر نے بھی لی جیا کو مکمل تعاون فراہم کیا اور اپریل 2026 میں لی جیا کو 3 سالہ ماسٹر پروگرام میں داخلہ مل گیا۔

  • راولاکوٹ میں شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا

    راولاکوٹ میں شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا

    راولاکوٹ میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے پرتشدد حملوں میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ، شہدا کی نماز جنازہ سول لائنز راولا کوٹ میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی ۔

    اس موقع پر آئی جی آزاد کشمیر پولیس کا کہنا تھا کہ شہریوں نے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو مسترد کردیا ہے،کسی کو امن وامان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے سیکیورٹی فورسز آزاد کشمیر میں قیام امن یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہیں ، پرتشدد حملوں میں 3 اہلکار شہید جبکہ 40 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں پرتشدد عناصر نے معصوم لوگوں کو ورغلاکرامن وامان خراب کرنے کی مذموم کوشش کی،سیکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ طرزعمل سے امن وامان کو برقرار رکھا۔

  • ساس نے بھاگ کر گھر داماد سے کورٹ میرج کرلی

    ساس نے بھاگ کر گھر داماد سے کورٹ میرج کرلی

    بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع کانپور کی ایک عدالت میں حیران کن اور غیر معمولی واقعے میں گھر داماد نے ساس سے شادی کر لی،عدالت میں اس متنازع شادی کی ویڈیو جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو پولیس بھی ایکشن لینے پر مجبور ہوگئی دونوں کے خلاف انڈین میرج ایکٹ کے تحت تحقیقات شروع کر دی گئیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق کان پور کی عدالت میں شادی کرنے والا جوڑا داماد اور ساس تھے یہ شخص سسرال میں ہی رہتا تھا اور ساس سے تعلقات استوار کرلیے،دونوں میں رفتہ رفتہ محبت پروان چڑھی اور 4 سال تک خفیہ تعلقات کے بعد داماد نے اپنی بیوی کو چھوڑ کر ساس سے شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ شخص گھر داماد تھا اور کچھ عرصے قبل اپنی بیوی کو چھوڑ کر چلا گیا تھا جب تلاش کیا گیا تو پتا چلا کہ گھر سے ساس بھی غائب ہے تب ہی اہل خانہ پر حقیقت کھلی بعد ازاں اچانک یہ دونوں کانپور کی ضلعی عدالت میں نظر آئے اور وہاں ایک وکیل کی مدد سے شادی رجسٹر کروائی، ایک دوسرے کو ہار پہنائے اور ساتھ آنے والے لوگوں سے آشیرباد بھی لی۔

    سوشل میڈیا پر صارفین نے اس شادی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں نے خاندانی روایات اور رشتوں کے احترام کو پامال کیا ہے جس کی انھیں سزا ملنی چاہیےتاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

  • سورج سے نکلنے والا خوفناک طوفان  کسی بھی وقت ہماری زمین سے ٹکرا سکتا ہے، ناسا میں ہائی الرٹ

    سورج سے نکلنے والا خوفناک طوفان کسی بھی وقت ہماری زمین سے ٹکرا سکتا ہے، ناسا میں ہائی الرٹ

    سورج کی سطح پر ہونے والے ایک بہت بڑے دھماکے کے بعد مقناطیسی گیسوں کا ایک تیز رفتار طوفان کورونل ماس ایجیکشن (سی ایم ای) زمین کی طرف بڑھ رہا ہے جو کسی بھی وقت ہماری زمین سے ٹکرا سکتا ہے –

    امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا اور اسپیس ویدر پریڈکشن سینٹر نے اس صورتحال کے پیش نظر شدید نوعیت کے مقناطیسی طوفان ’جی 3‘ کا الرٹ جاری کر دیا ہے، اس طوفان کے نتیجے میں رات کے وقت آسمان پر خوبصورت اور رنگ برنگی روشنیاں، جنہیں قطبی روشنیاں یا ارورا کہا جاتا ہے، نمودار ہونے کی قو ی امید ہے۔

    سائنسدانوں کے مطابق سورج گزشتہ کئی روز سے شدید تبدیلیوں کا شکار ہے اور اس کی سطح سے مسلسل توانائی اور گیسوں کے اخراج کا سلسلہ جاری ہے، بالکل ایسے جیسے کوئی شہر مسلسل آتش بازی کر رہا ہو اس سے پہلے ہونے والے زیادہ تر دھماکوں کا رخ زمین کی طرف نہیں تھا لیکن 6 جون 2026 کی صبح سورج کے ایک مخصوص حصے ایکٹو ریجن 4461 سے ایک درمیانے درجے کا زوردار دھماکہ ہوا جسے ’سولر فلیر‘ کہا جاتا ہے یہ دھماکہ اصل میں سورج کی مقنا طیسی توانائی کے اچانک اخراج کا نتیجہ تھا۔

    اس دھماکے کی سب سے خاص بات اس کے اندر موجود ایک گھنا اور انتہائی تیز رفتار مادہ ہے جسے سائنسی زبان میں فلامنٹ کہتے ہیں عام فہم زبان میں آپ اسے بجلی سے بنا ہوا ایک ایسا پل سمجھ سکتے ہیں جو سورج کے انتہائی گرم ماحول میں مقناطیسی قوتوں کی وجہ سے ہوا میں معلق رہتا ہےاس کے اندر موجود گیسیں اگرچہ ہزاروں ڈگری سینٹی گریڈ گرم ہوتی ہیں، لیکن سورج کے بیرونی ماحول کے لاکھوں ڈگری درجہ حرارت کے مقابلے میں یہ بہت سرد اور بھاری ہوتی ہیں.0جب اسے قابو میں رکھنے والی مقناطیسی قوتیں غیر متوازن ہو جاتی ہیں، تو یہ ربر بینڈ کی طرح ٹوٹ کر پیچھے ہٹتی ہیں اور تمام تر دباؤ کے ساتھ یہ بھاری گیسیں خلا میں پھیل جاتی ہیں۔

    اس وقت یہ مادہ تقریباً 1400 کلومیٹر فی سیکنڈ کی طوفانی رفتار سے سفر کرتا ہوا زمین کے قریب پہنچ چکا ہے، امریکی خلائی موسم کی پیشگوئی کرنے والے مرکز نے اسے جی 3 یعنی ایک طاقتور مقناطیسی طوفان قرار دیا ہے، جب سورج کی یہ توانائی زمین کی مقناطیسی ڈھال سے ٹکراتی ہے تو زمین کے ماحول میں ایک عارضی ہلچل پیدا ہوتی ہے جسے ’جیو میگنیٹک اسٹورم‘ کہا جاتا ہے، اسی ٹکراؤ کے نتیجے میں چارج شدہ ذرات زمین کے بالائی ماحول کی گیسوں سے مل کر سبز، ارغوانی اور سرخ رنگ کی خوبصورت لہریں بناتے ہیں جو آسمان پر تیرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

    زمین کی اپنی مقناطیسی ڈھال ہمیں ان طوفانوں کے براہ راست اثرات سے محفوظ رکھتی ہے، لیکن یہ روشنیاں کتنی چمکدار ہوں گی اور کتنی دور تک دیکھی جا سکیں گی، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ سورج سے آنے والے اس طوفان کا مقناطیسی رخ زمین کے مقناطیسی رخ کے کتنا مخالف ہے اگر یہ رخ بالکل الٹ ہوا تو زمین کی ڈھال میں کچھ دیر کے لیے شگاف بنتا ہے اور سورج کی توانائی اندر داخل ہو کر آسمان کو رنگوں سے بھر دیتی ہے۔

    3سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ طوفان کی شدت اگر زیادہ بڑھی تو یہ روشنیاں قطبی علاقوں سے نکل کر کم بلندی والے علاقوں جیسے کہ چین اور بھارت کے کچھ علا قے، وسطی یورپ کے کچھ حصے، جنوی آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور امریکا کے مختلف حصوں میں بھی آسمانوں پر سبز، جامنی اور سرخ روشنیوں کے خوبصورت مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔، بشرطیکہ وہاں رات کو آسمان صاف اور تاریک ہو۔

    سائنسدانوں کے مطابق اس طوفان کی شدت کا اصل فیصلہ اس وقت ہوگا جب یہ شمسی مواد زمین کے قریب موجود سیٹلائٹس تک پہنچے گا، اس وقت صرف 15 سے 60 منٹ پہلے واضح اندازہ ہو سکے گا کہ اس کے اثرات کتنے مضبوط ہوں گے۔

    اس سے قبل مئی 2024 میں بھی اسی طرح کا ایک شدید طوفان آیا تھا جس نے دنیا بھر کے آسمان کو رنگین کر دیا تھا فلکیات کے ماہرین اور تصویریں بنانے کے شوقین افراد اب اس طوفان کے زمین سے ٹکرانے کے حتمی لمحات کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ اس نایاب منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں اور کیمروں میں محفوظ کر سکیں۔

  • وفاقی بجٹ کی تاریخ پھر تبدیل ہونے کا امکان

    وفاقی بجٹ کی تاریخ پھر تبدیل ہونے کا امکان

    وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں ایک بار پھر تبدیلی پر غور کررہی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بجٹ 10 جون کے بجائے 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے،بجٹ کی تاریخ میں ممکنہ ردوبدل سے متعلق حتمی فیصلہ آج یا کل متوقع ہے، جبکہ حکومت مختلف آپشنز پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ بجٹ سے متعلق کئی اہم امور ابھی حتمی مرحلے میں نہیں پہنچے ، بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں مختلف معاملات پر مشاورت جاری ہے اور ابھی کئی چیزوں کو حتمی شکل دینا باقی ہے وقت بہت کم ہے جبکہ محرم الحرام بھی قریب آ رہا ہے، اس لیے موجودہ شیڈول کے مطابق تمام امور کو مکمل کرنا ایک چیلنج ہے، بجٹ پیش ہونے کے بعد بھی بعض تبدیلیاں اور ایڈجسٹمنٹس کا عمل جاری رہتا ہے، اس لیے اس مرحلے پر تاریخوں میں ردوبدل ہوگا یا نہیں، اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے شہباز شریف کی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات مکمل ہو چکے ہیں اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے معاملات پر اتحادی جماعتوں میں باہمی مفاہمت موجود ہے آئندہ مالی سال کے دوران وفاقی حکومت نسبتاً چھو ٹے صوبوں کے ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ وسائل خرچ کرے گی،سب سے زیادہ فنڈز بلوچستان کے لیے مختص کیے جائیں گے، اس کے بعد سندھ اور پھر خیبر پختونخوا کا نمبر آئے گا، جبکہ پنجاب کے لیے سب سے کم ترقیاتی فنڈز رکھے گئے ہیں-

    انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 265 ارب روپے مختص کیے جائیں گے، سندھ کو 195 ارب روپے ملیں گے، خیبر پختونخوا کے لیے 98 ارب روپے جبکہ پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 72 ارب روپے رکھے گئے ہیں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے مجموعی طور پر 150 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے سندھ میں سکھر حیدرآباد موٹروے منصو بے پر رواں سال کام شروع کرنے کا ارادہ ہے، جبکہ کراچی کے اہم آبی منصوبے کےفور کے لیے بھی وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں فنڈز فراہم کرے گی۔

  • وفاقی بجٹ میں عوامی فلاح، صوبوں کے حقوق اور معاشی استحکام کو ترجیح دی جائے،صدر کی وزیراعظم کو ہدایت

    وفاقی بجٹ میں عوامی فلاح، صوبوں کے حقوق اور معاشی استحکام کو ترجیح دی جائے،صدر کی وزیراعظم کو ہدایت

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم شہباز شریف نے ایوانِ صدر میں ملاقات کی، جس میں قومی سلامتی، داخلی و علاقائی صورتحال اور دیگر اہم قومی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایوان صدر کے مطابق ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیرا عظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ بھی موجود تھےملاقات میں سینیٹر شیری رحمان، رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور سینیٹر احد چیمہ بھی شریک تھے، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور اور رکن قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے بھی شرکت کی۔

    ملاقات کے دوران ملکی معیشت، آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ، گلگت بلتستان کے حالیہ انتخا بات، آزاد کشمیر کی صورتحال، امن و اما ن اور دیگر قومی اہمیت کے معاملات پر گفتگو کی گئی بجٹ تجاویز اور عوامی ریلیف کے اقدامات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے صدر مملکت نے زور دیا کہ وفاقی بجٹ میں عوامی فلاح، صوبوں کے حقوق اور معاشی استحکام کو ترجیح دی جائےصدر نے ہدایت کی کہ آنے والے بجٹ میں اقتصادی ترقی کی شرح اور عوامی فلاحی منصوبوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے صدرِ مملکت کو اپنے حالیہ دورہ ایران اور علاقائی سطح پر ہونے والے سفارتی رابطوں کے بارے میں بریفنگ دی۔

  • جنگ و جدل کے بجائے ’امن کو ایک اور موقع‘ دیں، شہباز شریف

    جنگ و جدل کے بجائے ’امن کو ایک اور موقع‘ دیں، شہباز شریف

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے مشرقِ وسطیٰ میں تازہ کشیدہ صورت حال اور تشدد کی نئی لہر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ و جدل کے بجائے ’امن کو ایک اور موقع‘ دیں تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر جاری اپنے ایک اہم اور اسٹرٹیجک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیل اور ایران کا نام لیے بغیر مشرقِ وسطیٰ کی تازہ نازک صورتحال کا احاطہ کیا،وزیراعظم نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ و جدل کے بجائے ’امن کو ایک اور موقع‘ دیں تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں تازہ کشیدگی اور تشدد اس بات کی واضح اور خطرناک یاددہانی ہے کہ ایک ’غیر مستحکم جنگ بندی‘ کتنے سنگین خطرات اور ناقا بلِ برداشت نتائج کا باعث بن سکتی ہے انہوں نے بین الاقوامی برادری کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ عارضی اور کمزور اقدامات مستقل امن کا متبادل نہیں ہو سکتے۔

    وزیراعظم نے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور ثالثی کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اس بحران سے لاتعلق نہیں رہ سکتا پاکستان اپنے برادر ممالک اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تنازع کے مستقل، پرامن اور سفارتی حل کے لیے سنجیدہ، تعمیری اور مسلسل کوششیں کر رہا ہے،جب ایک منصفا نہ اور پائیدار حل کے حصول کا مقصد قریب دکھائی دے رہا ہو، تو ایسے نازک وقت میں کشیدگی کا اچانک بڑھ جانا اب تک کی تمام سفارتی کوششوں اور امن کی امیدوں کو یکسر نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ حالیہ بحران محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سیکیورٹی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے پاکستا ن روایتی طور پر مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل، خاص طور پر مسئلہ فلسطین کے پائیدار اور دو ریاستی حل کا حامی رہا ہے۔

    شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی تمام متعلقہ عالمی اور علاقائی طاقتوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور جاری سفارتی کوششوں کو کامیا ب ہونے کا پورا موقع فراہم کریں تشدد، بارود اور تباہی کے راستے کے بجائے صرف اور صرف ’امن اور سفارت کاری کی راہ‘ اختیار کی جانی چاہیے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ یہی واحد راستہ ہے جو خطے میں حقیقی استحکام اور دیرپا امن کے حصول کی روشن امید فراہم کرتا ہے۔

    وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی اور علاقائی امن کے لیے اب یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ تمام فریقین اپنے اپنے تنازعات کے حل کے لیے میز پر بیٹھیں، مذاکرات کریں اور سفارت کاری کو ہر دوسرے راستے پر ترجیح دیں تاکہ مزید معصوم انسانی جانوں کے ضیاع اور بڑے پیما نے پر ہونے والی مالی و جغرافیائی تباہی کا راستہ روکا جا سکے۔

  • گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات

    گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے گورنر ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری، ترقیاتی تعاون اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران خیبرپختونخوا میں معدنیات، سیاحت، توانائی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیا گیا، جبکہ صوبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور معاشی تعاون بڑھانے کے امور بھی زیر بحث آئےفریقین کے درمیان قبائلی اضلاع اور خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کے لیے تعلیمی اسکالرشپس کے فروغ پر بھی گفتگو ہوئی اس موقع پر پاکستان اور امریکا کے درمیان خیبرپختونخوا میں ترقیاتی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔

    ملاقات میں توانائی، سیاحت اور انسانی وسائل کی ترقی کے نئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ صوبے میں پائیدار ترقی کے لیے نجی شعبے اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے کردار کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا،ملاقات میں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔

    اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا نے کہاکہ صوبہ قیمتی اور نایاب معدنی وسائل سے مالا مال ہے اور یہاں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں انہوں نے امریکی سرمایہ کاروں کو معدنیات، سیاحت، توانائی اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔

    ملاقات میں خیبرپختونخوا کے نوجوانوں میں موجود کھیلوں کے ٹیلنٹ کے فروغ پر بھی بات چیت ہوئی، گورنر نے بتایا کہ خیبر کرکٹ لیگ کا انعقاد جولائی میں کیا جا رہا ہے فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے حجم میں اضافے کے لیے تجارتی وفود کا تبادلہ ناگزیر ہے۔

    امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو جدید تربیت اور ہنر کی فراہمی میں دلچسپی کا اظہار کیا انہوں نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی پر گورنر خیبرپختونخوا کو مبارکباد بھی دی اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں بلاول بھٹو زرداری، آصفہ بھٹو زرداری اور پارٹی کارکنان کی مؤثر انتخابی مہم کے باعث پیپلز پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی۔

    ملاقات کے اختتام پر گورنر خیبرپختونخوا کی جانب سے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا گیا۔

  • بھارت کی جانب سے   ’سندھ طاس معاہدے ‘کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، فرانسیسی اخبار

    بھارت کی جانب سے ’سندھ طاس معاہدے ‘کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، فرانسیسی اخبار

    فرانس کے اخبار ’لی مونڈے‘ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ’سندھ طاس معاہدے ‘کی یکطرفہ معطلی کو جنوبی ایشیا کے امن اور آبی سلامتی کے لیے ’خطرناک ترین موڑ‘ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کو بڑے خطرے اورتشویش سے آگاہ کیا ہے۔

    پیر کو اخبار نے اپنی شائع شدہ ایک تفصیلی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتا ہوا یہ آبی تنازع اب صرف ان 2 جوہری ممالک تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کے بھیانک اثرات پورے خطے کے امن، معیشت اور ماحولیات پر مرتب ہو سکتے ہیں عالمی مبصرین اس رپورٹ کو خطے میں ابھرتے ہوئے ایک نئے بحران کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔

    فرانسیسی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اپریل 2025 میں رونما ہونے والے ’پہلگام واقعے‘ کے بعد نئی دہلی نے اپنے رویے میں جارحانہ تبدیلی لائی اور پانی کو ایک سفارتی و سیاسی دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا، 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ کوئی ایسا دستاویز نہیں جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کر سکے، اس تاریخی معاہدے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم صرف اور صرف دونوں ممالک (پاکستان اور بھارت) کی باہمی رضامندی اور دستخطوں سے ہی ممکن ہے عالمی ثالثی عدالت‘ کا مؤقف اس معاملے پر بالکل واضح ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اب بھی مکمل طور پر مؤثر، قانونی اور نافذ العمل ہے اور کوئی بھی ملک بین الاقوامی قوانین کو پسِ پشت ڈال کر اس سے انحراف نہیں کر سکتا۔

    اخبار نے بھارتی ہٹ دھرمی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نئی دہلی کی جانب سے پاکستان کو ’ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا‘ (پانی کے بہاؤ کے اعداد و شمار) فراہم نہ کرنا بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کے لیے بروقت سیلابی انتباہ جاری کرنا اور آبی خطرات کا مؤثر انتظام کرنا مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ ستمبر 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں ہوا تھا، جس کے تحت 3 مشرقی دریا بھارت اور 3 مغربی دریا پاکستان کو دیے گئے تھے۔ تاریخی طور پر یہ معاہدہ جنگوں کے دوران بھی برقرار رہا، لیکن حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کی تعمیر نے شدید قانونی اور تکنیکی تنازعات کھڑے کر دیے ہیں، جنہیں پاکستان اپنے آبی حقوق پر ڈاکہ تصور کرتا ہے۔

    فرانسیسی اخبار نے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے کسانوں اور مقامی آبادی پر پڑنے والے تباہ کن اثرات پر بھی روشنی ڈالی،رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی کے غیر متوقع اخراج یا بندش کے باعث اچانک آنے والے سیلابوں نے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور زرعی زمینوں پر ریت کی موٹی تہیں جم جانے سے وہ بنجر ہو رہی ہیں خاص طور پر ’دریائے چناب‘ کے کناروں پر آباد ہزاروں خاندانوں کو اپنے مویشیوں، تیار فصلوں اور گھریلو املاک کے ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے ایک بڑا انسانی اور معاشی المیہ جنم لے رہا ہے۔

    اخبار’لی مونڈے‘نے اس حساس معاملے پر پاکستان کے اصولی اور قانونی مؤقف کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلام آباد نے واضح کر دیا ہے کہ پانی کے قدرتی بہاؤ کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی بھارتی کوشش کو ایک ‘سنگین اشتعال انگیزی’ اور جارحیت تصور کیا جائے گااخبار نے بھارتی سیاسی قیادت کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں پانی جیسے اہم قدرتی وسیلے کو سیاست کی نذر کرنے کی بدترین مثال قرار دیا، جبکہ دوسری طرف پاکستان کی جانب سے بھارت کی ان دھمکیوں کو ‘واٹر ٹیررازم’ (آبی دہشت گردی) کا نام دیے جانے کے مؤقف کو بھی عالمی منظر نامے پر پیش کیا ہے۔

    اخبار کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خدشات محض روایتی سیاسی بیان بازی نہیں ہیں، بلکہ یہ براہِ راست انسانی حقوق، زراعت، غذائی تحفظ اور ملک کی بقا سے جڑے ہوئے ہیں یہ حقیقت انتہائی اہم ہے کہ پاکستان کی 80 فیصد سے زیادہ زراعت اور آبپاشی کا پورا نظام دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں پر انحصار کرتا ہے چونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس لیے ان دریاؤں کے پانی میں کوئی بھی غیر قانونی تبدیلی پوری ملکی معیشت کو زمین بوس کر سکتی ہے اور کروڑوں انسانوں کو قحط سالی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

    اس جیو پولیٹیکل تنازع کا ایک اور دلچسپ اور اہم رخ پیش کرتے ہوئے ’لی مونڈے‘ نے نشاندہی کی ہے کہ جو سلوک بھارت پاکستان کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہے، خود بھارت کو بھی بعینہ اسی قسم کے خطرات کا سامنا ہے بھارت کو بالائی علاقے کے ملک چین کی جانب سے پانی کے دباؤ کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں اور اسے ’دریائے برہم پترا‘ کے حوالے سے بالکل وہی تشویش درپیش ہے جو پاکستان کو دریائے سندھ کے طاس کے بارے میں ہے اگر بھارت یکطرفہ اقدامات کی روایت قائم کرتا ہے، تو وہ چین کے ہاتھوں اپنے ہی جال میں پھنس سکتا ہے۔

    اخبار نے خبردار کیا ہے کہ آبی تنازع اب محض 2 ممالک کا دوطرفہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ اب پوری علاقائی سلامتی اور ماحولیاتی استحکام کا ایک بڑا معاملہ بن چکا ہے‘موسمیاتی تبدیلی’، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلاؤ اور دونوں ممالک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث پانی کے دستیاب وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے ان حالات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سائنسی اور سفارتی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔

    انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کا شفاف اور بروقت تبادلہ ناگزیر ہے، ورنہ یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی آبی قوانین اور زیریں دھارے کے ممالک کے حقوق کے لیے ایک انتہائی خطرناک اور تباہ کن نظیر قائم کر دیں گے عالمی سطح پر اب پانی کو جنگ، سیاسی دباؤ یا انتقامی کارروائی کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرنے کے پاکستانی مؤقف کو بھرپور توجہ اور تائید حاصل ہو رہی ہے۔