Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • نیتن یاہو پر واضح کردیا تھا کہ کشیدگی میں اضافہ کیا تو ایران کیخلاف  خود کو اکیلا پائےگا،ٹرمپ

    نیتن یاہو پر واضح کردیا تھا کہ کشیدگی میں اضافہ کیا تو ایران کیخلاف خود کو اکیلا پائےگا،ٹرمپ

    مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے خلاف کشیدگی میں مزید اضافہ کیا گیا تو ممکن ہے اسرائیل ایران کے خلاف تنہا رہ جائے۔

    ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا کو ایران پر ہونے والے حالیہ اسرائیلی حملوں کے بارے میں آخری لمحے میں اطلاع دی گئی تھی اسرائیلی چینل 12 سے گفتگو میں ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ رات فون پر نیتن یاہو سے کہا تھا کہ اسرائیل ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں کا جواب نہ دے-

    اس گفتگو کا کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا تھا تاہم ٹرمپ کے معاونین کا کہنا تھا کہ انہیں یہ تاثر ملا کہ امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے اسرائیلی ردعمل کو چند دن کے لیے مؤخر کروانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے اسی رات نیتن یاہو نے اعلیٰ سکیورٹی حکام سے مشاورت کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو آگاہ کیا کہ انہوں نے ایران پر حملے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل نے حملوں سے متعلق امریکا کو اس وقت اطلاع دی جب میزائل ایران کی جانب داغے جاچکے تھے، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ حملوں کی شدت کو محدود کروانے میں کامیاب رہے۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں شامل خطے کے پانچ ممالک نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ نیتن یاہو پر دباؤ ڈالیں تاکہ حملے روکے جائیں اور معاہدے کی جانب پیش رفت ہو سکےاسی روز ایرانی حکام نے بھی امریکا سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ مزید حملے نہیں کریں گے اور اسرائیل سے بھی کارروائی روکنے کی درخواست کی۔ اس کے بعد انہوں نے دوبارہ نیتن یاہو سے بات کی اور انہیں مزید حملے روکنے پر آمادہ کیا ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے اور ایران اس پر دستخط کرنا چاہتا ہے۔

  • افغانستان میں لباس کے ضوابط پر عمل نہ کرنے کے الزام میں خواتین کی گرفتاریاں، اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

    افغانستان میں لباس کے ضوابط پر عمل نہ کرنے کے الزام میں خواتین کی گرفتاریاں، اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

    طالبان نے اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد خواتین پر عائد پابندیوں میں بتدریج اضافہ کیا ہے ملک بھر میں خواتین کے لیے گھر سے باہر نکلتے وقت مکمل پردہ لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ بیشتر خواتین عبایا، اسکارف اور چہرہ ڈھانپنے کے لیے نقاب استعمال کرتی ہیں۔

    افغانستان کے مغربی شہر ہرات کے رہائشیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان حکومت کی اخلاقی پولیس نے لباس سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں متعدد خواتین کو حراست میں لیا ہے، جس پر اقوام متحدہ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) نے اپنے بیان میں کہاکہ اسے ہرات میں خواتین کی مبینہ طور پر لباس کے ضوابط پر عمل نہ کرنے کے الزام میں ہونے والی متعدد گرفتاریوں اور حراستوں پر تشویش ہے۔

    ہرات کے بعض رہائشیوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ہفتے کے روز ایسی خواتین کو حراست میں لیا گیا جو مکمل جسم ڈھانپنے والی چادر یا برقع نہیں پہنے ہوئے تھیں۔

    23 سالہ ایک خاتون نے بتایا کہ انہوں نے وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے 2 اہلکاروں کو دیکھا، جن میں سے ایک کے ہاتھ میں کوڑا بھی تھا، جو 2 خواتین کو گاڑی میں بٹھا رہے تھے گرفتار کی جانے والی خواتین نے سر ڈھانپ رکھا تھا اور وہ مکمل طور پر پردے میں تھیں اس صورتحا ل کے باعث ہر شخص خوفزدہ ہے۔

    27 سالہ ایک اور خاتون نے بتایا کہ انہوں نے وزارت کے اہلکاروں کو گاڑیاں روک کر مسافروں کے لباس کی جانچ کرتے دیکھا، جبکہ متعدد خواتین کو حرا ست میں لے کر وینوں میں منتقل کیا گیاگرفتار ہونے والی بیشتر خواتین وہ تھیں جو چادر نہیں پہنے ہوئے تھیں۔

    کریک ڈاؤن کے آغاز کے بعد ایک صحافی اور ہرات کے متعدد رہائشیوں نے بتایا کہ گھروں سے باہر نکلنے والی خواتین کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے20 سالہ ایک ٹیکسی ڈرائیور نے کہاکہ خواتین اب شہر میں تقریباً نظر ہی نہیں آتیں انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ چادر کے بغیر خواتین کو اپنی گاڑی میں سوار نہ کریں۔

    33 سالہ ایک خاتون نے موجودہ صورتحال کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ اس بات پر شدید افسردہ ہیں کہ انہیں آزادانہ طور پر سانس لینے کا حق بھی حاصل نہیں،خواتین کے لیے زندگی انتہائی مشکل ہو چکی ہے۔

    دوسری جانب وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے خواتین کی گرفتاریوں کے حوالے سے کوئی براہِ راست تبصرہ نہیں کیا وزارت کے شعبہ اطلاعات نے کہاکہ ہرات میں کوئی غیر معمولی صورتحال نہیں ہے لباس سے متعلق ضابطہ ایک الٰہی حکم اور نافذ شدہ قانون ہے، جس پر عملدرآمد ان کی ذمہ داری ہے۔

  • خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا رویہ برقرار رہا تو  این ایف سی اجلاس میں شرکت مشکل ہو جائے گی،سہیل آفریدی

    خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا رویہ برقرار رہا تو این ایف سی اجلاس میں شرکت مشکل ہو جائے گی،سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے وفاقی وزیر احسن اقبال اور وفاقی حکومتی مذاکراتی ٹیم کی ملاقات ہوئی ، ملاقات میں این ایف سی اجلاس اور صوبے کے مالی حقوق سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی نے کہاکہ اگر خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا رویہ برقرار رہا تو صوبائی حکومت کے لیے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں شرکت مشکل ہو جائے گی بجٹ اور قومی اہمیت کے دیگر معاملات پر فیصلوں سے قبل عمران خان سے مشاورت اور ان کی منظوری ناگزیر ہےتمام سیاسی جماعتیں اہم قومی اور سیاسی فیصلوں سے پہلے اپنی قیادت سے مشاورت کرتی ہیں اور خیبرپختونخوا حکومت بھی اسی جمہوری اور سیاسی روایت پر عمل پیرا ہے۔

    وزیراعلیٰ نے وفاق کی جانب سے صوبے کے مالی حقوق میں مسلسل کٹو تیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے مختص اے آئی پی فنڈز 37 ارب روپے سے کم کر کے 27 ارب روپے کر دیے گئے ہیں، جبکہ ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی اے آئی پی بجٹ کو 66 ارب روپے سے کم کر کے 56 ارب روپے تک محدود کر دیا گیا ہے ضم شدہ اضلاع کا این ایف سی حصہ گزشتہ 8 برسوں سے غیر آئینی طور پر روکا جا رہا ہے، جو وہاں کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔

    وزیراعلیٰ کے مطابق وفاقی نمائندوں کے ساتھ ہر ملاقات کے بعد مسائل کے حل کے بجائے صوبے کے ساتھ مزید ناانصافیوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے خیبرپختونخوا روزانہ 500 ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد گیس پیدا کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود صوبے کے عوام کو گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے صوبے کی مجموعی کھپت صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، اس کے باوجود گیس کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا کرنا ناقابلِ قبول ہے سوات میں مکمل شدہ ڈیم منصوبے کے آغاز کے لیے چینی انجینیئرز کو تاحال این او سی جاری نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث منصوبہ تاخیر کا شکار ہے۔

    انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ خیبرپختونخوا کے آئینی، مالی اور ترقیاتی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائے اگر پنجاب خیبرپختونخوا کو گندم فراہم نہیں کرنا چاہتا تو آئین کے آرٹیکل 151 اور آرٹیکل 158 کی عملی حیثیت پر سوال اٹھتا ہے، آئین بین الصوبائی تجارت، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مقامی وسائل پر ترجیحی حق کی واضح ضمانت دیتا ہے، لہٰذا اس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جانا چاہیےبس ٹرمینل کا منصوبہ مکمل ہونے کے باوجود نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی جانب سے این او سی جاری نہ کیے جانے کے باعث تاحال فعال نہیں ہو سکا۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بس ٹرمینل کے لیے 24 گھنٹوں کے اندر این او سی جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی وفاقی حکومتی مذاکراتی ٹیم نے خیبرپختونخوا حکومت کے تحفظات، مطالبات اور تجاویز وزیراعظم اور دیگر متعلقہ فورمز کے سامنے اٹھانے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

  • 10 لاکھ نوجوانوں کو مفت ’اے آئی‘ ٹریننگ دی جائے گی،شزا فاطمہ

    10 لاکھ نوجوانوں کو مفت ’اے آئی‘ ٹریننگ دی جائے گی،شزا فاطمہ

    وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن (آئی ٹی ) شزا فاطمہ خواجہ نے10 لاکھ نوجوانوں کو ’اے آئی‘ کی ٹریننگ دینے کا اعلان کیا ہے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) سے آنے والے عالمی انقلاب کے باعث زندگی کے تمام شعبوں میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں، اور پاکستان کو اس ریس میں پیچھے نہیں چھوڑا جا سکتا حکومت نے اگلے 3 سال کے دوران 10 لاکھ نوجوانوں کو مصنو عی ذہانت (اے آئی) کی جدید ترین تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا ہے نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے یہ تمام ٹریننگز بالکل ‘مفت’ فراہم کی جائیں گی تاکہ مالی وسائل کسی بھی طالب علم کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔

    شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار باقاعدہ ’اے آئی پالیسی‘ منظور کر لی ہے انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو ’پاکستانی نکتہ نظر‘، ہماری ثقافت، زبان اور مقامی ضروریات کے مطابق ٹرینڈ کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ ملکی مسائل کا مقامی سطح پر حل نکالا جا سکے۔

    ماضی میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور رابطے کے مسائل کو تسلیم کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں موزوں سپیکٹرم دستیاب نہ ہونا ایک بڑا چیلنج تھا تاہم اب حکومت نے اس کا مستقل حل نکال لیا ہےپاکستان کے بڑے شہروں میں 5Gسروسز کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس سلسلے میں حکومت نے انقلابی اقدامات کرتے ہوئے سپیکٹرم کی دستیابی کو 270 میگا ہرٹز سے براہ راست بڑھا کر 750 میگا ہرٹز کر دیا ہے، جبکہ حال ہی میں 480 میگا ہرٹز سپیکٹرم کامیابی سے نیلام کیا گیا ہے مزید برآں، ملک بھر میں تیز ترین انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے نئی سب میرین کیبلز بھی بچھائی جا رہی ہیں۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ عالمی کمپنی ‘گوگل’ کے ساتھ پاکستان میں براہ راست کام کرنے اور سرمایہ کاری بڑھانے کے حوالے سے مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں اب گوگل کروم بکس کی پاکستان میں مقامی سطح پر تیاری شروع ہو چکی ہے، جو کہ ’میڈ ان پاکستان‘ ٹیک انڈسٹری کے لیے ایک سنگ میل ہے، ان تمام اقدامات کا مقصد پاکستان کو خطے کا ڈیجیٹل ہب بنانا اور نوجوانوں کو عالمی مارکیٹ کے قابل بنانا ہے۔

  • سہیل آفریدی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

    سہیل آفریدی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مفتی محمود مرکز میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔

    ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، صوبائی حقوق کے حصول کے لیے مشترکہ جد و جہد پر تبادلہ خیال کیا گیا اگلے مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ ، صوبے کے شیئر سے متعلق امور پر بھی گفتگو ہوئی، پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سینیئر رہنما بھی ملاقات میں شریک تھے۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو این ایف سی میں ضم اضلاع کا حصہ نہیں مل رہا، پنجاب حکومت نے خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے گندم کی فراہمی بند کر رکھی ہے، وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کو گیس کی فراہمی میں رکاوٹیں انتہائی تشویش ناک ہیں،وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا 500 ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد گیس پیدا کرتا ہے لیکن اس کے باوجود صوبے کو اس کے جائز حصے سے محروم رکھا جا رہا ہے، صوبہ صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کرتا ہے، اس کے باوجود گیس کی فراہمی میں رکاوٹیں ناقابل قبول ہیں، وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کا طرز عمل آئین کے آرٹیکل 151 اور آرٹیکل 158 کی صریح خلاف ورزی ہے وفاق خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہا ہے-

  • صفائی کا کام کرنیوالی خاتون نے خود پڑھ کر ماسٹر ڈگری میں داخلہ لے لیا

    صفائی کا کام کرنیوالی خاتون نے خود پڑھ کر ماسٹر ڈگری میں داخلہ لے لیا

    یونیورسٹی میں صفائی کا کام کرنے والی ایک خاتون نے ایک سال تک خود پڑھائی کرکے ماسٹر پروگرام میں داخلہ لے لیا-

    33 سالہ لی جیا کا تعلق چین کے صوبے سیچوان کے علاقے چینگڈو سے ہے اور وہ چینگڈو یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں کل وقتی کلینر کے طور پر کام کرتی ہیں وہ اور ان کے شوہر ماضی میں یونیورسٹی کیمپس کے قریب ایک ریسٹورینٹ چلاتے تھے مگر مالی مشکلات کے باعث اسے بند کرنا پڑا اس کے بعد خاتون نے یونیورسٹی میں صفائی کا کام شروع کر دیا، جس کی وجہ گھر کے قریب ہونا اور کام کے لچکدار اوقات تھے، جس سے انہیں بچوں کا خیال رکھنے میں مدد ملتی تھی۔

    صفائی کے کام کے دوران وہ اکثر چین کے نیشنل ایگزم کے وینیو بھی جاتی تھیں اور ملک بھر سے آنے والے طالبعلموں سے ملتی تھیں انہوں نے بتایا کہ کچھ طالبعلم اسٹریٹ لائٹس کی روشنی میں پڑھتے تھے جبکہ کچھ ایسے تھے جن کے بالوں میں سفیدی آچکی تھی اور پھر بھی امتحان دے رہے ہوتے تھےیہ ناممکن تھا کہ میں اس طرح کے مناظر سے متاثر نہ ہوں۔

    دوستانہ فطرت کی مالک لی جیا ایسے متعدد طالبعلموں سے انٹرنیٹ کے ذریعے رابطے میں رہیں اور ہر سال امتحانات کے موقع پر ان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ان افراد کی پوسٹس سے بھر جاتا ان طالبعلموں سے متاثر ہوکر خاتون اپنے بچوں کے لیے ایک مثال بننا چاہتی تھیں اور اسی لیے انہوں نے ماسٹر ڈگری کے داخلہ امتحان میں شرکت کا فیصلہ کیا مگر ان کے لیے یہ امتحان کافی مشکل ثابت ہوا۔

    انہوں نے ایک ووکیشنل اسکول سے تعلیم حاصل کی تھی اور گریجویشن ڈگری سے محروم تھیں اور ماسٹر ڈگری میں داخلے کے لیے انہیں 2 اضافی مضامین کے امتحانات دینا تھے ان کے پاس محض 8 ماہ تھے جس کے بعد ابتدائی امتحانات ہونا تھے اور ان پر کام کا دباؤ بھی تھاتو وہ صبح 6 بجے یونیورسٹی آتیں، سیا ست اور انگلش کے لیکچر ہیڈفونز سے سنتے ہوئے صفائی کرتیں ان کے شوہر نے بھی لی جیا کو مکمل تعاون فراہم کیا اور اپریل 2026 میں لی جیا کو 3 سالہ ماسٹر پروگرام میں داخلہ مل گیا۔

  • راولاکوٹ میں شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا

    راولاکوٹ میں شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا

    راولاکوٹ میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے پرتشدد حملوں میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ، شہدا کی نماز جنازہ سول لائنز راولا کوٹ میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی ۔

    اس موقع پر آئی جی آزاد کشمیر پولیس کا کہنا تھا کہ شہریوں نے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو مسترد کردیا ہے،کسی کو امن وامان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے سیکیورٹی فورسز آزاد کشمیر میں قیام امن یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہیں ، پرتشدد حملوں میں 3 اہلکار شہید جبکہ 40 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں پرتشدد عناصر نے معصوم لوگوں کو ورغلاکرامن وامان خراب کرنے کی مذموم کوشش کی،سیکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ طرزعمل سے امن وامان کو برقرار رکھا۔

  • ساس نے بھاگ کر گھر داماد سے کورٹ میرج کرلی

    ساس نے بھاگ کر گھر داماد سے کورٹ میرج کرلی

    بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع کانپور کی ایک عدالت میں حیران کن اور غیر معمولی واقعے میں گھر داماد نے ساس سے شادی کر لی،عدالت میں اس متنازع شادی کی ویڈیو جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو پولیس بھی ایکشن لینے پر مجبور ہوگئی دونوں کے خلاف انڈین میرج ایکٹ کے تحت تحقیقات شروع کر دی گئیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق کان پور کی عدالت میں شادی کرنے والا جوڑا داماد اور ساس تھے یہ شخص سسرال میں ہی رہتا تھا اور ساس سے تعلقات استوار کرلیے،دونوں میں رفتہ رفتہ محبت پروان چڑھی اور 4 سال تک خفیہ تعلقات کے بعد داماد نے اپنی بیوی کو چھوڑ کر ساس سے شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ شخص گھر داماد تھا اور کچھ عرصے قبل اپنی بیوی کو چھوڑ کر چلا گیا تھا جب تلاش کیا گیا تو پتا چلا کہ گھر سے ساس بھی غائب ہے تب ہی اہل خانہ پر حقیقت کھلی بعد ازاں اچانک یہ دونوں کانپور کی ضلعی عدالت میں نظر آئے اور وہاں ایک وکیل کی مدد سے شادی رجسٹر کروائی، ایک دوسرے کو ہار پہنائے اور ساتھ آنے والے لوگوں سے آشیرباد بھی لی۔

    سوشل میڈیا پر صارفین نے اس شادی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں نے خاندانی روایات اور رشتوں کے احترام کو پامال کیا ہے جس کی انھیں سزا ملنی چاہیےتاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

  • سورج سے نکلنے والا خوفناک طوفان  کسی بھی وقت ہماری زمین سے ٹکرا سکتا ہے، ناسا میں ہائی الرٹ

    سورج سے نکلنے والا خوفناک طوفان کسی بھی وقت ہماری زمین سے ٹکرا سکتا ہے، ناسا میں ہائی الرٹ

    سورج کی سطح پر ہونے والے ایک بہت بڑے دھماکے کے بعد مقناطیسی گیسوں کا ایک تیز رفتار طوفان کورونل ماس ایجیکشن (سی ایم ای) زمین کی طرف بڑھ رہا ہے جو کسی بھی وقت ہماری زمین سے ٹکرا سکتا ہے –

    امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا اور اسپیس ویدر پریڈکشن سینٹر نے اس صورتحال کے پیش نظر شدید نوعیت کے مقناطیسی طوفان ’جی 3‘ کا الرٹ جاری کر دیا ہے، اس طوفان کے نتیجے میں رات کے وقت آسمان پر خوبصورت اور رنگ برنگی روشنیاں، جنہیں قطبی روشنیاں یا ارورا کہا جاتا ہے، نمودار ہونے کی قو ی امید ہے۔

    سائنسدانوں کے مطابق سورج گزشتہ کئی روز سے شدید تبدیلیوں کا شکار ہے اور اس کی سطح سے مسلسل توانائی اور گیسوں کے اخراج کا سلسلہ جاری ہے، بالکل ایسے جیسے کوئی شہر مسلسل آتش بازی کر رہا ہو اس سے پہلے ہونے والے زیادہ تر دھماکوں کا رخ زمین کی طرف نہیں تھا لیکن 6 جون 2026 کی صبح سورج کے ایک مخصوص حصے ایکٹو ریجن 4461 سے ایک درمیانے درجے کا زوردار دھماکہ ہوا جسے ’سولر فلیر‘ کہا جاتا ہے یہ دھماکہ اصل میں سورج کی مقنا طیسی توانائی کے اچانک اخراج کا نتیجہ تھا۔

    اس دھماکے کی سب سے خاص بات اس کے اندر موجود ایک گھنا اور انتہائی تیز رفتار مادہ ہے جسے سائنسی زبان میں فلامنٹ کہتے ہیں عام فہم زبان میں آپ اسے بجلی سے بنا ہوا ایک ایسا پل سمجھ سکتے ہیں جو سورج کے انتہائی گرم ماحول میں مقناطیسی قوتوں کی وجہ سے ہوا میں معلق رہتا ہےاس کے اندر موجود گیسیں اگرچہ ہزاروں ڈگری سینٹی گریڈ گرم ہوتی ہیں، لیکن سورج کے بیرونی ماحول کے لاکھوں ڈگری درجہ حرارت کے مقابلے میں یہ بہت سرد اور بھاری ہوتی ہیں.0جب اسے قابو میں رکھنے والی مقناطیسی قوتیں غیر متوازن ہو جاتی ہیں، تو یہ ربر بینڈ کی طرح ٹوٹ کر پیچھے ہٹتی ہیں اور تمام تر دباؤ کے ساتھ یہ بھاری گیسیں خلا میں پھیل جاتی ہیں۔

    اس وقت یہ مادہ تقریباً 1400 کلومیٹر فی سیکنڈ کی طوفانی رفتار سے سفر کرتا ہوا زمین کے قریب پہنچ چکا ہے، امریکی خلائی موسم کی پیشگوئی کرنے والے مرکز نے اسے جی 3 یعنی ایک طاقتور مقناطیسی طوفان قرار دیا ہے، جب سورج کی یہ توانائی زمین کی مقناطیسی ڈھال سے ٹکراتی ہے تو زمین کے ماحول میں ایک عارضی ہلچل پیدا ہوتی ہے جسے ’جیو میگنیٹک اسٹورم‘ کہا جاتا ہے، اسی ٹکراؤ کے نتیجے میں چارج شدہ ذرات زمین کے بالائی ماحول کی گیسوں سے مل کر سبز، ارغوانی اور سرخ رنگ کی خوبصورت لہریں بناتے ہیں جو آسمان پر تیرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

    زمین کی اپنی مقناطیسی ڈھال ہمیں ان طوفانوں کے براہ راست اثرات سے محفوظ رکھتی ہے، لیکن یہ روشنیاں کتنی چمکدار ہوں گی اور کتنی دور تک دیکھی جا سکیں گی، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ سورج سے آنے والے اس طوفان کا مقناطیسی رخ زمین کے مقناطیسی رخ کے کتنا مخالف ہے اگر یہ رخ بالکل الٹ ہوا تو زمین کی ڈھال میں کچھ دیر کے لیے شگاف بنتا ہے اور سورج کی توانائی اندر داخل ہو کر آسمان کو رنگوں سے بھر دیتی ہے۔

    3سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ طوفان کی شدت اگر زیادہ بڑھی تو یہ روشنیاں قطبی علاقوں سے نکل کر کم بلندی والے علاقوں جیسے کہ چین اور بھارت کے کچھ علا قے، وسطی یورپ کے کچھ حصے، جنوی آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور امریکا کے مختلف حصوں میں بھی آسمانوں پر سبز، جامنی اور سرخ روشنیوں کے خوبصورت مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔، بشرطیکہ وہاں رات کو آسمان صاف اور تاریک ہو۔

    سائنسدانوں کے مطابق اس طوفان کی شدت کا اصل فیصلہ اس وقت ہوگا جب یہ شمسی مواد زمین کے قریب موجود سیٹلائٹس تک پہنچے گا، اس وقت صرف 15 سے 60 منٹ پہلے واضح اندازہ ہو سکے گا کہ اس کے اثرات کتنے مضبوط ہوں گے۔

    اس سے قبل مئی 2024 میں بھی اسی طرح کا ایک شدید طوفان آیا تھا جس نے دنیا بھر کے آسمان کو رنگین کر دیا تھا فلکیات کے ماہرین اور تصویریں بنانے کے شوقین افراد اب اس طوفان کے زمین سے ٹکرانے کے حتمی لمحات کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ اس نایاب منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں اور کیمروں میں محفوظ کر سکیں۔

  • وفاقی بجٹ کی تاریخ پھر تبدیل ہونے کا امکان

    وفاقی بجٹ کی تاریخ پھر تبدیل ہونے کا امکان

    وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں ایک بار پھر تبدیلی پر غور کررہی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بجٹ 10 جون کے بجائے 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے،بجٹ کی تاریخ میں ممکنہ ردوبدل سے متعلق حتمی فیصلہ آج یا کل متوقع ہے، جبکہ حکومت مختلف آپشنز پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ بجٹ سے متعلق کئی اہم امور ابھی حتمی مرحلے میں نہیں پہنچے ، بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں مختلف معاملات پر مشاورت جاری ہے اور ابھی کئی چیزوں کو حتمی شکل دینا باقی ہے وقت بہت کم ہے جبکہ محرم الحرام بھی قریب آ رہا ہے، اس لیے موجودہ شیڈول کے مطابق تمام امور کو مکمل کرنا ایک چیلنج ہے، بجٹ پیش ہونے کے بعد بھی بعض تبدیلیاں اور ایڈجسٹمنٹس کا عمل جاری رہتا ہے، اس لیے اس مرحلے پر تاریخوں میں ردوبدل ہوگا یا نہیں، اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے شہباز شریف کی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات مکمل ہو چکے ہیں اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے معاملات پر اتحادی جماعتوں میں باہمی مفاہمت موجود ہے آئندہ مالی سال کے دوران وفاقی حکومت نسبتاً چھو ٹے صوبوں کے ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ وسائل خرچ کرے گی،سب سے زیادہ فنڈز بلوچستان کے لیے مختص کیے جائیں گے، اس کے بعد سندھ اور پھر خیبر پختونخوا کا نمبر آئے گا، جبکہ پنجاب کے لیے سب سے کم ترقیاتی فنڈز رکھے گئے ہیں-

    انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 265 ارب روپے مختص کیے جائیں گے، سندھ کو 195 ارب روپے ملیں گے، خیبر پختونخوا کے لیے 98 ارب روپے جبکہ پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 72 ارب روپے رکھے گئے ہیں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے مجموعی طور پر 150 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے سندھ میں سکھر حیدرآباد موٹروے منصو بے پر رواں سال کام شروع کرنے کا ارادہ ہے، جبکہ کراچی کے اہم آبی منصوبے کےفور کے لیے بھی وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں فنڈز فراہم کرے گی۔