Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • اسٹیٹ بینک نے وزیراعظم کے ’اپنا گھر پروگرام‘ کی تفصیلات جاری کردیں

    اسٹیٹ بینک نے وزیراعظم کے ’اپنا گھر پروگرام‘ کی تفصیلات جاری کردیں

    اسٹیٹ بینک نے وزیراعظم کے ’اپنا گھر پروگرام‘ کی تفصیلات جاری کردیں-

    اسٹیٹ بینک کے مطابق وفاقی حکومت نے اسکیم کے لیے رواں بجٹ میں 71 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی ہے، جبکہ جون 2027 تک ڈیڑھ لاکھ گھروں کی فائنانسنگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اس اسکیم سے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ، نائیکوپ اور پاکستان اوریجن کارڈ رکھنے والے افراد مستفید ہو سکیں گے،اس کے تحت تیار شدہ گھر، فلیٹ، پلاٹ کی خریداری یا پلاٹ پر گھر کی تعمیر کے لیے قرض حاصل کیا جا سکے گا۔

    اعلامیے کے مطابق اسکیم کے تحت 250 گز تک کا گھر اور 1,500 مربع فٹ تک کا فلیٹ خریدا جا سکے گا، جبکہ گھر، فلیٹ، پلاٹ یا تعمیراتی مقاصد کے لیے بینک ایک کروڑ روپے تک قرض فراہم کریں گے قرض کی مدت 20 سال ہوگی اور ابتدائی 10 سال کے لیے 5 فیصد کا فکسڈ مارک اپ لاگو ہوگا، قر ض کےحصول کے لیے آن لائن پورٹل بھی قائم کر دیا گیا ہےجبکہ بینک درخواست گزاروں سے کسی قسم کے پروسیسنگ چارجز وصول نہیں کریں گے۔

    اعلامیے کے مطابق تنخواہ دار افراد صرف سیلری سلپ کی بنیاد پر قرض کے لیے درخواست دے سکیں گے، جبکہ دکانوں یا غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے افراد بجلی کے بل یا موبائل ٹاپ اپ کے ریکارڈ کی بنیاد پر اپنی درخواست جمع کرا سکیں گے بینک درخواست موصول ہونے کے بعد 15 روز کے اندر درخواست گزار کو فیصلہ دینے کے پابند ہوں گے اسکیم کے تحت قرض لینے والوں کو بغیر کسی جرمانے کے قرض کی قبل از وقت یکمشت ادائیگی کی سہو لت بھی حاصل ہوگی۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اس وقت ایک کروڑ گھروں کی کمی ہے، جو ہر سال تقریباً ساڑھے 3 لاکھ گھروں کے اضافے سے بڑھ رہی ہے جون 2026 تک بینکوں نے مجموعی طور پر 293 ارب روپے کے ہاؤسنگ قرضے فراہم کیے ہیں، جبکہ ہاؤسنگ فائنانس سے مستفید صارفین کی تعداد 65 ہزار 414 ہے۔

  • امتحانی پرچے لیک ہونے کا معاملہ:مودی کا فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

    امتحانی پرچے لیک ہونے کا معاملہ:مودی کا فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے نوجوانوں کے شدید احتجاج کے بعد امتحانی پرچے لیک کرنے میں ملوث افراد کو سزا دینے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کردیا۔

    مودی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی فلاح اور ان کا مستقبل سب سے زیادہ اہم ہے،ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پرچے لیک کرنے میں ملوث افراد کو فوری اور سخت سزا یقینی بنانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی، جو لوگ ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے، انہیں بخشا نہیں جائے گا۔

    دوسری جانب نوجوانوں کی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ترجمان نے بھارتی وزیراعظم مودی کے ڈیڑھ ماہ بعد نوٹس لینے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے وزیر تعلیم کے مستعفی ہونے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

    ترجمان سی جےپی اشوتوش رانکا کا کہنا ہے کہ یہ اچھی بات ہے کہ ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد آخرکار وزیر اعظم نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آخر پیپر لیک ہو ہی کیوں رہے ہیں؟ پیپر لیک اس لیے ہورہے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک وزیرتعلیم سمیت نااہل لوگ بیٹھے ہیں جو پیسہ بنارہےہیں، نظام چلانے والے لوگ نااہل ہیں، ہم یہاں سے اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک وزیر تعلیم دھر میندر پرد ھا ن استعفیٰ نہیں دے دیتے-

  • بھارت میں مودی حکومت کیخلاف احتجاج، بالی ووڈ کے کئی نامور فنکار بھی شریک

    بھارت میں مودی حکومت کیخلاف احتجاج، بالی ووڈ کے کئی نامور فنکار بھی شریک

    تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج میں بالی ووڈ کے کئی نامور فنکار بھی شریک ہو رہے ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق آج احتجاج کا 49واں روز ہے جس میں بالی ووڈ کے کئی مشہور فنکاروں جیسے عمران خان، ہما قریشی، ساقب سلیم اور گلوکار میکا سنگھ نے شرکت کر کے طلبہ کی حمایت کا اظہار کیا،عامر خان کے بھانجے اور اداکار عمران خان بھی ممبئی میں ہونے والے احتجاج کے دوران طلبہ کے ہمراہ مارچ میں شریک ہوئے،انہوں نے کہا کہ وہ ان طلبہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے آئے ہیں جن کی محنت کو نظر انداز کیا گیا ہےاور یہ ملک کے مستقبل کی لڑائی ہے-

    اداکارہ ہما قریشی اپنے بھائی ساقب سلیم کے ہمراہ نئی دہلی کے جنتر منتر میں ہونے والے احتجاج میں شریک ہوئیں اور طلبہ کے ساتھ مارچ کیا،جبکہ اسٹینڈ اپ کامیڈین ابیش میتھیو اور رونق راجانی بھی ممبئی احتجاج میں شریک ہوئے، جنہیں پولیس نے حراست میں لیا، تاہم بعد ازاں دونوں کو رہا کر دیا گیا۔

    گلوکار نے بھی پولیس کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ ہر شہری کو پرامن احتجاج کا جمہوری حق حاصل ہے اور طلبہ پر طاقت کا استعمال، خصوصاً خواتین کے ساتھ غلط سلوک، ناقابل قبول ہے۔

    قبل ازیں ایکس پر جاری بیان میں سلمان خان نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک نہایت پُرامن تحریک تھی اور یہ دیکھ کر دل بہت دکھا کہ یہ پرتشدد رخ اختیار کر گئی, جن طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ کو اس دوران تکلیف یا نقصان پہنچا، میری دلی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پرچہ لیک ہونا ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے اور یہ خوش آئند بات ہے کہ ملک بھر کے طلبہ بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے جبکہ والدین نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا,طلبہ نے اپنے مستقبل اور معیاری تعلیم کے لیے جس عزم، خلوص اور محنت کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ ستائش ہےیہ احتجاج مکمل طور پر پرامن تھا اور طلبہ نے انتہائی ذمہ داری کے ساتھ اپنے مطالبات پیش کیے جو ان کی بہادری اور تعلیم سے وابستگی کا ثبو ت ہے۔

    واضح رہے کہ سی جے پی کی قیادت میں جاری احتجاج تعلیمی اصلاحات کے مطالبات کے سلسلے میں جاری ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد اس معاملے پر ملک بھر میں بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔

  • برطانوی ہائی کمیشن کے وفد کی شرجیل میمن کی رہائش گاہ آمد

    برطانوی ہائی کمیشن کے وفد کی شرجیل میمن کی رہائش گاہ آمد

    برطانوی ہائی کمیشن کے اعلیٰ سطح کے وفد نے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی رہائش گاہ پر سندھ حکومت کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی۔

    برطانوی وفد میں پولیٹیکل کونسلر نکول رابرٹس، ڈپٹی ہائی کمشنر ٹام برج، سیکنڈ سیکریٹری (پولیٹیکل) سیم پلیس، ہدیٰ اکرام اور سارہ پینگ شامل تھے، جبکہ سندھ حکومت کے وفد کی قیادت سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کی ،وفد میں صوبائی وزراء سید ناصر حسین شاہ، سعید غنی، مکیش کمار چاولہ، معاونینِ خصوصی قاسم نوید قمر، قاسم سراج سومرو اور رکن سندھ اسمبلی امداد پتافی بھی شریک تھے۔

    سندھ حکومت کے وفد نے برطانوی وفد کو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے تحت سندھ حکومت کے اقدامات سے آگاہ کیا وفد کو عوامی فلاح و بہبود، تعلیم، روزگار، خواتین کے بااختیار بنانے، ماحولیاتی تحفظ اور سرمایہ کاری کے فروغ کے منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی جبکہ برطانوی وفد نے سندھ حکو مت کے عوامی فلاح، خواتین کی ترقی، ماحول دوست ٹرانسپورٹ، سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کو سراہتے ہوئے انہیں مثبت پیش رفت قرار دیا۔

    ملاقات کے دوران سندھ حکومت کے وفد نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم سے بھی برطانوی وفد کو آگاہ کیا اور عالمی برادری سے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان میں پہلی مرتبہ الیکٹرک بسیں متعارف کرا کے انقلابی اقدام کیا ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ملازمت پیشہ خواتین اور طالبات کو مفت پنک اسکوٹیز فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے ان کی نقل و حرکت میں آسانی پیدا ہوگی اور وہ معاشی و سماجی طور پر مزید مضبوط ہوں گی۔

    انہوں نے کہا کہ چند برس قبل خواتین کے ڈرائیونگ لائسنس کے لیے درخواست دینے والوں کی تعداد تقریباً 450 تھی، جو اب بڑھ کر 25 ہزار تک پہنچ چکی ہے یہ تبدیلی اس روایتی سوچ کو بدلنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے کہ خواتین گاڑی یا موٹر سائیکل نہیں چلا سکتیں سندھ حکومت خواتین کو ہر شعبے میں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کر رہی ہے اور جلد الیکٹرک ٹیکسی سروس بھی متعارف کرائی جا رہی ہے، جس میں خواتین ڈرائیورز، خواتین مسافروں کو سفری سہولت فراہم کریں گی۔

    شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ اسٹیشنز اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کر کے سرمایہ کاری کے لیے ساز گا ر ماحول پیدا کیا جا رہا ہے سندھ حکومت روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور پاکستان کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

    انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو کی ہدایت پر متعارف کرایا گیا "آئی ورک فار سندھ” پلیٹ فارم نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو رہا ہے، جبکہ فنی اور تکنیکی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ سندھ کے نوجوان دنیا کے کسی بھی حصے میں اپنی صلاحیتوں کے ذریعے باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت سیلاب متاثرین کے لیے 21 لاکھ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ منصوبہ ہے۔ اس منصوبے میں متاثرہ خاندان اپنے گھر خود تعمیر کر رہے ہیں، جس سے ان کی تعمیراتی مہارتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ گھروں کی ملکیت خواتین کے نام منتقل کی جا رہی ہے تاکہ انہیں سماجی طور پر بااختیار بنایا جا سکے۔

    شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت ہاری کارڈ کے ذریعے کسانوں کو مفت بیج اور کھاد فراہم کر رہی ہے، جس کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کی معاشی حالت بہتر بنانا ہے سندھ میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں، برطانیہ کے سرمایہ کار ان سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اور برطانوی سرمایہ کاروں کو سندھ میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے پر زور دیا۔

    انہوں نے تجویز دی کہ برطانیہ کی معروف جامعات سندھ میں اپنے کیمپس قائم کریں تاکہ ہزاروں پاکستانی طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیم مقامی سطح پر حاصل کر نے کا موقع مل سکے سندھ حکومت پاک و برطانوی سرمایہ کاروں کے لیے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کی غرض سے مشترکہ ورکشاپ کے انعقاد کے لیے بھی تیار ہے، جس کا مقصد باہمی تعاون اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

  • آسیان ریجنل فورم کے موقع پر اسحاق ڈار  سے برطانوی عہدیدارسے ملاقات

    آسیان ریجنل فورم کے موقع پر اسحاق ڈار سے برطانوی عہدیدارسے ملاقات

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر آج برطانیہ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے خارجہ، دولتِ مشترکہ و ترقیاتی امور ایڈ ملی بینڈ سے ملاقات کی۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر آج برطانیہ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے خارجہ، دولتِ مشترکہ و ترقیاتی امور ایڈ ملی بینڈ سے ملاقات کی جس میں پاکستان اور برطانیہ نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور موجودہ علاقائی کشیدگی کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے ایڈ ملی بینڈ کو ان کی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد دی اور ان کے لیے نیک خواہشا ت کا اظہار کیا،دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

    ملاقات کے دوران برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی مثبت خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی تارکین وطن دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال، بالخصوص خطے کی سیکیورٹی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    برطانوی وزیر خارجہ نے حالیہ امریکا ایران کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا اس موقع پر دونوں فریقوں نے خطے میں حالیہ کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن اور استحکام کے لیے مسلسل مذاکرات، سفارت کاری اور تعمیری روابط ناگزیر ہیں۔

  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی

    پشاور: ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفی دے دیا۔

    انعام یوسف زئی نے اپنا استعفیٰ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو ارسال کر دیا ہے،محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم تاہم ذاتی وجوہات کی بنا پر مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا-

    انہوں نے اپنے دورِ ملازمت کے دوران تعاون پر وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس اہم عہدے پر کام کرنے کا موقع ملا، جس پر وہ متعلقہ حکام کے شکر گزار ہیں دوسری جانب تاحال ان کے استعفے کی وجوہات یا حکومت کی جانب سے نئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

  • دہشتگردی عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، اسحاق ڈار

    دہشتگردی عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دہشتگردی عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے-

    آسیان ریجنل فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ساتھ بھرپور تعاون کا خواہاں ہے اور منیلا پلان آف ایکشن 2036 پر مؤثر عملدرآمد کی حمایت کا اعادہ کرتا ہے، موجودہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے اور عالمی برادری کو بین الاقوامی قانون کے تحفظ اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے اور اس سے متعلق یکطرفہ اقدامات نہ صرف تشویشناک اور اشتعال انگیز ہیں بلکہ ان سے 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں، بین الاقوامی معاہدوں کا احترام علاقائی استحکام کے لیے ناگزیر ہے دہشتگردی عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے چکا ہے اور 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے، تاہم ملک ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔

    اسحاق ڈار نےکہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا پاکستان نے خلیجی خطے میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کیا اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں سہولت کاری بھی کی-

    انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مفاہمتی عمل نے خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا ہے تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارتکاری و مکالمے کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں، کیونکہ خودمختاری، باہمی احترام اور بات چیت ہی مشترکہ اور پرامن مستقبل کی بنیاد ہیں،مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، جبکہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے منصفا نہ حل کی اپنی غیرمتزلزل حمایت جاری رکھے گا۔

    انہوں نے غزہ کی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیرمتزلزل حمایت جاری رکھے گا اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہےپاکستان خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

  • مون سون کا دوسرا اسپیل:لاہور میں شدید بارش،130 سے زائد مقامات زیرِ آب

    مون سون کا دوسرا اسپیل:لاہور میں شدید بارش،130 سے زائد مقامات زیرِ آب

    لاہور بارش سے متاثر، 130 سے زائد مقامات زیرِ آب

    مون سون کے دوسرے اسپیل نے لاہور کو اپنی لپیٹ میں لے لیا چوبرجی، جین مندر، بورڈ آف ریونیو، لائبریری چوک، چرچ چوک، ڈلٹن، اک موریا، کشمیری گیٹ، شالیمار چوک، تحسین چوک، شاہدرہ چوک، ٹمبر مارکیٹ، لاری اڈا، سبزی منڈی، حاجی کیمپ، لکشمی چوک، قرطبہ چوک، مولا بخش چوک، قادری چوک، جوڑے پل، افشاں چوک، غازی روڈ، گجومتہ، عسکری 11، وطین چوک، پیراگون، پیر بہاشاہ چوک، چلڈرن ہسپتال، چونگی امرسدھو، جنرل ہسپتال، فردوس مارکیٹ، برکت مارکیٹ، فاطمہ میموریل ہسپتال، بگریاں اور کجلباش چوک سمیت 130 سے زائد مقامات پر بارشی پانی جمع ہونے سے ٹریفک شدید متاثر ہے۔

    سی ٹی او لاہور سمیت تمام ٹریفک افسران و وارڈنز فیلڈ میں موجود ہیں،ٹریفک پولیس نے اپیل کی ہے کہ شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور متبادل راستے اختیار کریں۔

    دوسری جانب واسا لاہور کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر عبداللطیف نے کہا کہ مون سون سیزن کے لیے اس بار گزشتہ برس کے مقابلے میں کہیں بہتر تیاریاں کی گئی ہیں اور اگر شہر میں کہیں بھی بارش کا پانی جمع ہوتا ہے تو واسا کا ہدف ایک گھنٹے کے اندر اسے نکالنا ہے، واسا نے نئی مشینری خریدی ہے متعدد ری چارج ویلز نصب کیے گئے ہیں جبکہ لاہور میں موجود تقریباً 3 ہزار کلومیٹر طویل سیوریج لائنوں کی مکمل صفائی کی جا چکی ہے، اس کے علاوہ شہر کی 7 بڑی ڈرینز، جن کی مجمو عی لمبائی 94 کلومیٹر ہے ان کی صفائی کا عمل 3 مرتبہ مکمل کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر لاہور میں 100 سے 150 ملی میٹر تک بارش بھی ہو جائے تو واسا ایک گھنٹے کے اندر شہر کی اہم سڑکوں سے پانی نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے جہاں بھی بارش کا پانی جمع ہوگا اسے ایک گھنٹے کے اندر کلیئر کرنے کی کوشش کی جائے گی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبے بھر کے لیے تقریباً 700 نئی مشینیں خریدی گئی ہیں جن میں واسا کے ٹرک، سکر مشینیں اور ٹریکٹرز شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی وسائل کی بدولت اس سال مون سون کی تیاریاں گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور جامع ہیں۔

    عبد اللطیف کے مطابق لاہور میں تقریباً 18 ری چارج ویلز بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ یہ کنویں ان مقامات پر بنائے گئے ہیں جہاں ماضی میں بارش کا پانی کھڑا رہتا تھا اب بارش کا پانی ان ری چارج ویلز میں جمع ہو کر قدرتی انداز میں فلٹر ہوتا ہے اور بعد ازاں پارکس اور گرین بیلٹس کی آبپاشی سمیت دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ری چارج ویلز میں سیوریج کا پانی شامل نہیں ہوتا، اسی لیے یہ کنویں صرف ان مقامات پر تعمیر کیے گئے ہیں جہاں سیوریج کے پانی کے ملنے کا کوئی خدشہ موجود نہیں۔

  • مستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت  جاں بحق، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی

    مستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت جاں بحق، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی

    مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید جبکہ جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے،بلوچستان بار کونسل نے دو روزہ ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کردیا ،وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔

    ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے، ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کر نے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔

    بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی، واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

    بار کونسل کے مطابق وکلاء بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر عدالتوں میں پیش ہوں گے۔ بار کونسل نے حملہ آوروں کی فوری گرفتاری، ججز، وکلاء اور عدالتی عملے کی سیکیورٹی مزید مؤثر بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء برادری دہشت گردی کے خلاف اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے متحد رہے گی۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ پر حملہ دراصل ریاست پر حملہ ہے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہر قیمت پر منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، قانون کے محافظوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو کچل دیا جائے گا اور بلوچستان میں دہشت گردوں کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں رہے گی امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور دہشت گردی کے ہر نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔

    صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے آئی جی پولیس اور کمشنر سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، قانون کے محافظوں پر حملہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی ناکام کوشش ہے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک ہے قانون کے محافظوں پر حملہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی ناکام کوشش ہے، وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا گہری سازش کا حصہ ہے، تاہم دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور حکومت شہداء کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

  • استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ جنسی زیادتی اور  تشدد

    استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ جنسی زیادتی اور تشدد

    راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں ورک پلیس پر فیکٹری کے استاد نے 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی کی اور تشدد کیا۔

    استاد مبینہ زیادتی کے دوران بچے سے بربریت کا مظاہرہ بھی کرتا رہا، بچے کی حالت خراب ہونے پر ہسپتال منتقل کیاگیا تو حقیقت سامنے آگئی والد کی درخواست پر پولیس نے فیکری کے استاد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے بیٹے کے فیکٹری میں استاد اسد جہانگیر نے متعدد کالیں، دوسرے بیٹے نے جوابا فون کیا تو اسد جہانگیر نے بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگیئی اس کو ہسپتال لے آئے ہیں ۔

    اسد جہانگیر نے کہا ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں، ہسپتال پہنچا تو بیٹے نے سہمے ہوئے بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا، پولیس نے کہا کہ مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔