Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج،نئی دہلی میں سخت سیکیورٹی

    کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج،نئی دہلی میں سخت سیکیورٹی

    ڈیجیٹل یوتھ موومنٹ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے کی بھارت آمد اور مجوزہ احتجاج کے پیشِ نظر دہلی پولیس نے شہر بھر میں خصوصاً جنتر منتر کے اطراف سکیورٹی انتہائی سخت کر دی ہے۔

    بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں آج کاکروچ جنتا پارٹی کا ملک کے اہم امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے خلاف پُرامن احتجاج ہونے جا رہا ہے جس کی قیادت کرنے پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے بھی بھارت پہنچ چکے ہیں

    رائٹرز کے مطابق بھارت کی وائرل نوجوان تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے ہفتے کے روز نئی دہلی پہنچے اور انہوں نے جنتر منتر کے مقا م پر ہونے والے احتجاج کی قیادت کی، یہ پہلا موقع ہے کہ اس آن لائن تحریک نے اپنی بڑی ڈیجیٹل موجودگی کو منظم عوامی احتجاج میں تبدیل کیا ہے۔

    ابھیجیت دیپکے جو گزشتہ 2 برس سے امریکا میں مقیم تھے، نے پہلے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بھارت واپسی پر انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے احتجاج کے دوران دارا لحکومت کے حساس علاقے جنتر منتر کے اطراف سخت سیکیورٹی تعینات رہی اور پولیس نے کئی سڑکیں بند کر دیں، جبکہ مظاہرین نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے میں نعرے بازی کی۔

    بھارتی پولیس حکام کے مطابق مرکزی دہلی اور جنتر منتر کے گرد ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جو اہم مقامات کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں احتجاجی مقام تک پہنچنے والے تمام مرکزی راستوں پر کئی سطحوں پر بھاری بیریکیڈز نصب کیے گئے ہیں تاکہ مظاہرین کے داخلے کو منظم اور کنٹرول کیا جا سکے۔

    سینئر پولیس افسران مقام کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں جبکہ ممکنہ ہجوم کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بھی حقیقی وقت میں نگرانی کی جا رہی ہے،دہلی پولیس نے سیکیورٹی اقدامات کے تحت ڈرون یونٹس بھی تعینات کر رکھے ہیں جو نئی دہلی میں ہجوم کی تعداد، طلبہ کے اجتما عات اور نقل و حرکت کے انداز کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی کے عہدیداروں نے احتجاج میں شرکت کے لیے آنے والے تمام طلبہ حامیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مکمل طور پر پرامن رہیں، کسی بھی قسم کے تصادم سے گریز کریں، قومی پرچم (ترنگا) اپنے ساتھ رکھیں اور ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو پھول پیش کریں۔

    حکومت کی جانب سے اس تحریک کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو بھارت میں بلاک کیا جا چکا ہے، جس پر تنظیم نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ دوسری جانب بھارتی حکومت کے ایک سینیئر وزیر نے اس گروپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مخالف عناصر سے رابطے رکھتا ہے، تاہم تحریک نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

    یہ تحریک مختصر عرصے میں لاکھوں نوجوانوں کی توجہ حاصل کر چکی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ بھارت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، امتحانی پرچوں کے بار بار لیک ہونے اور معاشی دباؤ جیسے مسائل کو اجاگر کر رہی ہے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس تحریک کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے وزیرِاعظم مودی کی سیاسی شبیہ پر اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے، اگرچہ حکمران جماعت حالیہ ریاستی انتخابات میں کامیاب رہی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی دباؤ بھی نوجوان طبقے میں بے چینی کو بڑھا رہا ہے بھارت میں 15 سے 29 سال کی عمر کے تقریباً 40 کروڑ افراد موجود ہیں، اور ماہرین کے مطابق اس بڑی نوجوان آبادی کے لیے روزگار کی فراہمی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

  • ایران کے کویت اور بحرین پر میزائل حملے، خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ

    ایران کے کویت اور بحرین پر میزائل حملے، خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ

    امریکا کی جانب سےساحلی فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت اور بحرین کی سمت میزائل داغنے اور خطے میں ’دشمن اڈوں‘ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تمام میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے گئے۔

    سی این این اور عرب نیوز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک کی سمت میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جس کے بعد پورے خطے میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے، امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ ایران کے 4 حملہ آور ڈرونز کو آبنائے ہرمز کی جانب بڑھتے ہوئے مار گرایا گیا، جبکہ بعد ازاں کویت اور بحرین کی سمت داغے گئے 7 میزائلوں میں سے چھ کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا اور ساتواں میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا، ان حملوں میں کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور ایران کی جانب سے بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی بے بنیاد ہے۔

    دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ اس نے امریکی جارحیت کے جواب میں خطے میں موجود ’دشمن اڈوں‘ کو ایرو اسپیس فورس کے میزائلوں سے نشانہ بنایا ایرانی میڈیا کے مطابق خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری جہازوں کی سرگرمیوں کے جواب میں ایرانی بحریہ نے انتباہی فائرنگ بھی کی۔

    کشیدہ صورتحال کے باعث بحرین میں ہفتے کی صبح خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور وزارتِ داخلہ نے شہریوں اور غیر ملکی رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت جاری کی۔

    اسی طرح کویتی فوج نے بھی ’دشمن میزائل اور ڈرون خطرات‘ سے نمٹنے کے لیے فضائی دفاعی نظام متحرک کرنے کا اعلان کیا، کویت میں متعدد فضائی خطرے کے الارم بجائے گئے جبکہ بعض پروازوں کو بھی عارضی طور پر انتظار کی حالت میں رکھا گیا۔

    ادھر ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کیں تو خطہ ایک وسیع جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے، ایرانی حکام کے مطابق ممکنہ امن معاہدہ اس شرط سے مشروط ہے کہ امریکا ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالر جاری کرے،اس دوران لبنان کے صدر جوزف عون نے بھی ایران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ تہران اپنے علاقائی تنازعات میں لبنان کو ’سودے بازی کے آلے‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

  • محسن نقوی  کی  پانچ ممالک کے وزرائے داخلہ سے اہم ملاقاتیں

    محسن نقوی کی پانچ ممالک کے وزرائے داخلہ سے اہم ملاقاتیں

    بشکیک: وزیر داخلہ محسن نقوی نے روس سمیت پانچ ممالک کے وزرائے داخلہ سے اہم ملاقاتیں کیں-

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے داخلہ اجلاس کے موقع پر روس، تاجکستان، ازبکستان، کرغزستان اور قازقستا ن کے وزرائے داخلہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں سیکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی، غیر قانونی امیگریشن اور انسدادِ منشیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

    روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولٹسیف کے ساتھ ملاقات میں پاکستان اور روس کے درمیان غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام، غیر قانونی طور پر مقیم شہریوں کی وطن واپسی اور انسدادِ منشیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

    تاجکستان کے وزیر داخلہ رمضان رحیم زادہ کے ساتھ ملاقات میں افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں، دہشت گردوں کے کیمپوں اور منشیات کی پیداوار سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی خدشات پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ افغانستان میں دہشت گردی اور منشیات کی سرگرمیاں پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں۔

    ازبکستان کے وزیر داخلہ میجر جنرل عزیز تاشپولاتوف کے ساتھ ملاقات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون اور مشترکہ تربیتی پروگراموں پر غور کیا گیا، جبکہ دونوں وزارتوں کے درمیان رابطوں کو مؤثر بنانے کے لیے ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

    کرغزستان کے وزیر داخلہ نیاز بیکوف اولان اوموکانوچ کے ساتھ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا محسن نقوی نے کرغزستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور ایس سی او اجلاس کے بہترین انتظامات پر اپنے ہم منصب کا شکریہ ادا کیا۔

    قازقستان کے وزیر داخلہ یرژان سادینوف کے ساتھ ملاقات میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام اور سیکیورٹی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے وزارت داخلہ کی سطح پر مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

  • ایران کے پاس معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس صرف 21 سے 22 فیصد میزائل باقی رہ گئے ہیں اور بالآخر اس کے پاس معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

    وسکونسن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگوں اور تنازعات کے حل میں وقت لگتا ہے اور ایسے معاملات فوری طور پر طے نہیں ہوتے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران مستقبل میں ایسے اقدامات کرنے پر مجبور ہوگا جن کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔

    امریکی صدر کے مطابق ایران نے جنگ بندی کے لیے کسی معاہدے پر اتفاق نہیں کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ ایران نے ایسا اس لیے نہیں کیا کیونکہ وہ خود کو طاقتور اور غیور سمجھتا ہے ایران کے ساتھ معاملات اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ایران کی موجودہ صورتحال بھی مثبت سمت میں پیش رفت کر رہی ہے۔

    اپنی تقریر میں انہوں نے امریکی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نئی فیکٹریاں قائم ہو رہی ہیں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

  • طالبان رجیم کی نااہلی ، افغانستان میں انسانی و سیاسی بحران شدید

    طالبان رجیم کی نااہلی ، افغانستان میں انسانی و سیاسی بحران شدید

    طالبان رجیم کی نااہلی کے نتیجے میں افغانستان میں انسانی و سیاسی بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔

    ناروے کی ریفیوجی کونسل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق افغانستان میں جاری معاشی بحران، غربت اور غذائی قلت نے شہریوں کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے طالبان رجیم کی ناکام اور سخت پالیسیوں کے باعث ملک سیاسی، اقتصادی اور انسانی مسائل کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے افغانستان میں انسانی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے ملک کی تقریباً آدھی آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت ہے جبکہ 40 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بڑھتے ہوئے معاشی مسائل اور بنیادی سہولیات کی کمی نے لاکھوں افغان شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے طالبان رجیم کے دوران 400 سے زائد صحت کے ادارے بند ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بنیادی طبی سہولیات اور علاج سے محروم ہو گئے ہیں افغا نستا ن عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ انسانی صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے، طالبان رجیم کی جانب سے خواتین پر عائد سخت پابندیوں نے افغان معاشرے کے آدھے حصے کو عملی طور پر نظام سے باہر کر دیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ کمزور معاشی ڈھانچہ، طالبان رجیم کی ناکامی اور نااہلی نے افغان عوام کو مکمل طور پر عالمی امداد کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے افغانستان ایک دہشت گرد گروہ کے قبضے میں ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک میں سیاسی، اقتصادی، انسانی اور سیکیورٹی بحران میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

  • امریکی ملٹری کمپنی میں خوفناک حادثہ

    امریکی ملٹری کمپنی میں خوفناک حادثہ

    تربیتی مشق کے دوران امریکا کی اربوں ڈالر مالیت کی دفاعی کمپنی شیلڈ اے آئی کے فوجی ڈرون سے پیش آنے والے ایک خوفناک حادثے میں رومانیہ کی بحریہ کی خاتون اہلکار دو انگلیاں گنوا بیٹھی۔

    رائٹرز کے مطابق 12 مئی کو امریکی ریاست ٹیکساس کے ساحل کے قریب ایک کشتی پر ہونے والی تربیتی مشق کے دوران رومانیہ کی بحریہ کی ایک خاتون اہلکار کا ہاتھ شیلڈ اے آئی کے وی-بیٹ ڈرون کے پروپیلر میں پھنس گیا۔

    رومانیہ کی وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق حادثے میں اہلکار کی دو انگلیاں جسم سے الگ ہوگئیں جبکہ تیسری انگلی فریکچر ہوگئی زخمی اہلکار کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انگلیاں دوبارہ جوڑنے کے لیے دو آپریشن کیے گئے، تاہم بعد میں ان کی حالت مزید خراب ہونے پر انہیں میری لینڈ کے والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر منتقل کر دیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق یہ پہلا واقعہ نہیں رائٹرز کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران وی-بیٹ ڈرون 50 سے زائد مرتبہ حادثات کا شکار ہو چکا ہے سابق ملازمین، سرمایہ کاروں اور صنعت سے وابستہ افراد نے دعویٰ کیا کہ کمپنی کئی برسوں سے تکنیکی خرابیوں اور حفاظتی مسائل سے دوچار ہے بعض سابق ملازمین کا الزام ہے کہ جن افراد نے حفاظتی خدشات اٹھائے انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک موقع پر شیلڈ اے آئی کے ایک ملازم اور اس کے بچے کو لے جانے والا سیسنا طیارہ وی-بیٹ ڈرون سے ممکنہ فضائی تصادم سے بچنے کے لیے ہنگامی کارروائی پر مجبور ہوگیا تھاشیلڈ اے آئی نے اپنے تقریباً 10 لاکھ ڈالر مالیت کے وی-بیٹ ڈرون کی بعض تکنیکی خامیوں کو چھپایا تاکہ فوجی معاہدے حاصل کیے جا سکیں۔ اس حوالے سے محکمہ محنت میں ایک شکایت بھی دائر کی گئی ہے۔

    کمپنی نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا حفاظتی ریکارڈ مضبوط ہے اور وی-بیٹ آج بھی اپنی نوعیت کے سب سے زیادہ آزمودہ ڈرونز میں شمار ہوتا ہے۔ کمپنی کے مطابق 2019 سے اب تک یہ ڈرون 18 ہزار گھنٹے سے زائد پروازیں کر چکا ہےرومانیہ کی اہلکار کے زخمی ہونے کا واقعہ کسی تکنیکی خرابی کے باعث نہیں بلکہ مقررہ حفاظتی طریقہ کار کی خلاف ورزی کی وجہ سے پیش آیا۔

    واضح رہے کہ شیلڈ اے آئی نے 2021 میں مارٹن یو اے وی نامی کمپنی خریدنے کے بعد وی-بیٹ ڈرون پروگرام حاصل کیا تھا۔ مارچ 2026 میں ہونے والے سرمایہ کاری کے ایک دور کے بعد کمپنی کی مالیت 12.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جس کے بعد اسے سلیکون ویلی کی بڑی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

  • ٹرمپ کو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امریکی عوام کے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے،ایران

    ٹرمپ کو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امریکی عوام کے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے،ایران

    ایرانے کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں کریں گےانہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں ایسی کسی ملاقات کا امکان نہیں ہے

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں کریں گےانہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں ایسی کسی ملاقات کا امکان نہیں ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بات چیت کے عمل کو تعطل کا شکار کر رکھا ہے، تاہم اگر امریکا مثبت اقدامات کرے تو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں ٹرمپ کو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امریکی عوام کے مفادا ت کو ترجیح دینی چاہیے۔

    انٹرویو میں ان کا کہنا تھا اگر امریکا ایران کےخلاف عائد محاصرہ اور دباؤ کی پالیسی ختم کرے اور ایران کےمنجمد اثاثے بحال کرےتو ایران اور امریکا کے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے ایک نیا افق ابھر سکتا ہے،اگر ڈونلڈ ٹرمپ سیاسی عزم اور ہمت کا مظاہرہ کریں تو دونوں ممالک کے درمیان موجود کئی پیچیدہ معاملات حل کیے جا سکتے ہیں۔

    انہوں نے زور دیا کہ کشیدگی کے بجائے سفارت کاری اور باہمی احترام پر مبنی اقدامات خطے اور دنیا کے مفاد میں ہوں گےایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں، اور پابندیوں کے خاتمے سمیت اعتماد سازی کے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان پیش رفت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوڈ فورس ون پوڈ کاسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے مستقبل میں ان کی کسی موقع پر ملاقات ہوسکتی ہےایران کی اعلیٰ قیادت امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں کردار ادا کر رہی ہے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی اس عمل سے آگاہ اور اس میں شامل ہیں امکان ہے کہ وہ کسی مرحلے پر آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں گے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔

    بعد ازاں ایک اور موقع پر میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں بھی افزودہ یورینیم حاصل کیا جا سکتا ہے، تاہم اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات بھی ممکن ہو سکتی ہےایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • سونے کی  قیمت میں اضافہ، چاندی سستی

    سونے کی قیمت میں اضافہ، چاندی سستی

    مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ چاندی کا بھاؤ کم ہوا ہے-

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج جمعرات کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 14ڈالر کا اضافہ ریکارڈ ہوا، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4ہزار 468ڈالر کی سطح پر آگئی جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت بھی 1523روپے کے اضافے سے 4لاکھ 69 ہزار 285روپے کی سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 1305روپے بڑھ کر 4لاکھ 02ہزار 335روپے ہوگئی۔

    دوسری جانب ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 97 روپے کی کمی سے 7ہزار 797 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 83روپے کی کمی سے 6ہزار 684روپے کی سطح پر آگئی۔

  • رواں ماہ ملک بھر میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان

    رواں ماہ ملک بھر میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان

    محکمہ موسمیات نے جون 2026 کے لیے بارشوں اور درجہ حرارت کا آؤٹ لک جاری کر دیا،جس کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول کے مطابق یا معمول سے کم بارشوں اور درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں بارشیں معمول سے کم رہنے کی توقع ہے،گلگت بلتستان اور بالا ئی خیبر پختونخوا میں معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے جبکہ شمالی سندھ اور مغربی پہاڑی علاقوں میں بارشیں معمول کے قریب رہنے کی توقع ہے۔اسی طرح جون میں ملک بھر میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے گلگت بلتستان، کشمیر اور شمالی خیبر پختونخوا میں درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہےمحکمہ موسمیات کے مطابق گرمی کی شدت کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔

  • فیفا ورلڈکپ: اسٹیڈیم آنے والے شائقین کو بڑی پابندی کا سامنا

    فیفا ورلڈکپ: اسٹیڈیم آنے والے شائقین کو بڑی پابندی کا سامنا

    فیفا نے 2026 ورلڈ کپ کے دوران شائقین کے لیے اسٹیڈیم میں دوبارہ استعمال ہونے والی پانی کی بوتلیں لے جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ فیصلہ اسٹیڈیم ضابطہ اخلاق میں آخری وقت میں کی گئی تبدیلی کے بعد سامنے آیا ہے ابتدائی طور پر فیفا نے شفاف اور خالی پلاسٹک کی ری یوزایبل بوتلوں کو اسٹیڈیم میں لانے کی اجازت دی تھی تاہم منگل سے نافذ ہونے والے نئے ضابطے کے تحت اب ایسی بو تلیں بھی ممنوع قرار دے دی گئی ہیں۔

    فیفا کے مطابق بوتلیں، کپ، جار اور کین جیسی اشیا کو میدان میں پھینکے جانے کی صورت میں کھلاڑیوں اور تماشائیوں کے زخمی ہونے کا خطرہ موجود ہوتا ہے اسی لیے یہ اقدام کیا گیا ہےکھلاڑیوں، ریفریز، رضاکاروں، عملے اور شائقین کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے، بعض میزبان اسٹیڈیمز میں پہلے ہی بیرونی بوتلو ں پر پابندی تھی جسے اب پورے ٹورنامنٹ میں یکساں طور پر نافذ کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب شائقین نے گرم موسم میں پانی کی دستیابی پر تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ بعض مقامات پر درجہ حرارت 26 سے 28 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کی توقع ہے فیفا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اسٹیڈیمز کے اطراف مسٹنگ اسٹیشنز، ہائیڈریشن پوائنٹس، کولنگ ٹینٹس اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

    واضح رہے کہ 48 ٹیموں پر مشتمل ورلڈ کپ 11 جون سے 19 جولائی تک امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہوگا-