Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • جنگ آپ نے شروع کی لیکن ختم ہم کریں گے،پاسداران انقلاب کی ٹرمپ کو دھمکی

    جنگ آپ نے شروع کی لیکن ختم ہم کریں گے،پاسداران انقلاب کی ٹرمپ کو دھمکی

    پاسداران انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ جنگ آپ نے شروع کی لیکن ختم ہم کریں گے امریکا براہ راست جنگ میں شامل ہو گیا ہے۔

    ایرانی فوج کے خاتم الانبیا یونٹ کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کو ایران کی 3 بڑی جوہری تنصیبات پر بمباری کے بعد سنگین نتائج کے حامل طاقت ور حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جنگ جواری ٹرمپ نے شروع کی، ختم ہم کریں گے۔

    پاسداران انقلاب کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایرانی سرزمین کی خلاف ورزی کی ہے، امریکا کیخلاف طاقتور،ٹارگٹڈ آپریشنز کیے جائیں گے، امریکا کوبھاری، افسوسناک، غیرمتوقع نتائج کاسامنا کرنا پڑے گا،یہ جارحانہ اقدام ایک دم توڑتی صہیونی حکومت کو زندہ کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔

    کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ امریکا سخت آپریشنز اورشدید نتائج کاانتظار کرے، اللہ کاحکم ہے دشمن کے مقابلے کے لیے جو ہو سکے تیاری کرو، اللہ نے حکم دیا کہ قوت تیارکروجس سے تم دشمن کو ڈرا سکو امریکا ایران کے ساتھ براہ راست جنگ میں کود چکاہے، امریکا اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا، امریکی اقدام سے خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کی راہ ہموار ہوگئی جنگ امریکا کیلیے ہرگز فائدہ مند ثابت نہیں ہوگی، مجاہدین کے جوابی آپریشنز سے دشمن کوسرپرائز ملے گا،جنگ جواری ٹرمپ نے شروع کی، ختم ہم کریں گے۔

    ایرانی میڈیا کی کمانڈر ان چیف امیر حاتمی کے خطاب کی ویڈیو جاری کی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں امریکا نے مجرمانہ کارروائیاں کیں، ایران نے’فیصلہ کن جواب دیا،اس بار بھی ایسا ہی ہو گا امریکی فوجیوں کیخلاف کارروائی کاامکان پیدا ہوگیا ایران کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا ماضی میں جب بھی امریکہ نے ایران کے خلاف ’مجرمانہ کارروائی‘ کی تو انہیں اس کا ’فیصلہ کن جواب ملا ہے، اور اس بار بھی ایسا ہی ہو گا۔

    ایرانی فوجی یونٹ خاتم الانبیاء کے ترجمان نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ امریکا طاقتور جواب کا انتظار کرے، امریکی حملے ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔

    ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی نے ایک بیان کہا کہ امریکی حملے کے بعد ان کی افواج کی جانب سے امریکی فوجیوں کے خلاف ’کسی بھی قسم کی کارروائی‘ کا امکان پیدا ہو گیا ہے، ایران ’کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

    واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے اتوار کی صبح ایران میں تین نیوکلیئر تنصیبات پر براہ راست فضائی حملے کیے گئے تھے، امریکی فضائیہ نے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان پر حملے کے دوران دنیا کے طاقتور ترین بموں میں شمار کیے جانے والے ”بنکر بسٹر“ بم “GBU-57A/B “Massive Ordnance Penetrator (MOP) استعمال کیے تھے۔

  • مودی سرکار نے اڈانی گروپ کو نوازنے کیلئے قومی سلامتی کے اصول نظر انداز کر دئیے

    مودی سرکار نے اڈانی گروپ کو نوازنے کیلئے قومی سلامتی کے اصول نظر انداز کر دئیے

    اڈانی گروپ کو نوازنے کے لیےاپریل 2023 میں مودی حکومت نے پاک بھارت سرحد کے قریبی علاقوں میں برسوں سے سیکیورٹی وجوہات کی پابندیوں میں اچانک نرمی کر دی-

    بین الاقوامی جریدے دی گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق مودی کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں میں نرمی اڈانی گروپ کے لیے مفید ثابت ہوئیں، جس کے بعد اڈانی گروپ کو 445 مربع کلو میٹر زمین پر بلا روک ٹوک قبضہ حاصل ہوگیا۔

    رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاستی ادارے سولر انرجی کارپوریشن آف انڈیا کے زیر کنٹرول زمین خاموشی سے اڈانی گروپ کو نجی مفادات کے لیے منتقل کر دی گئی، مودی سرکار نے ’’گرین انرجی‘‘ کی آڑ میں قومی وسائل کو مخصوص سرمایہ دار اڈانی گروپ کے منافع کے لیے قربان کر دیا۔

    بھارتی دفاعی ماہر اجے شکلا کے مطابق کھاودا منصوبے نے سرحدی دفاع، نقل و حمل اور نگرانی کی صلاحیت کو براہ راست متاثر کیا اور یہ معاملہ محض کاروباری لین دین کا نہیں، بلکہ قومی سلامتی کے اصولوں کی خلاف ورزی کا ہے، سرکار کی جانب سے دفاعی سرحدی پابندیوں میں نرمی نے اڈانی اور مودی گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا۔

    دی گارڈین کے مطابق اڈانی پر امریکی عدالتوں میں 265 ملین ڈالر کی رشوت کے الزامات بھارت کے لیے عالمی سطح پر باعثِ رسوائی ہیں، کرپشن الزامات کے باوجود مودی سرکار نے اڈانی گروپ کی حمایت میں معاشی فیصلے لیے، اس اسکینڈل کے بعد ٹوٹل انرجیز (Total Energies) جیسے سرمایہ کار بھارت کے توانائی منصوبوں سے دستبردار ہو چکے ہیں۔

    جب امریکا اڈانی کو احتساب کے کٹہرے میں لا رہا ہے، مودی سرکار کی مجرمانہ خاموش حمایت اسکے ممکنہ کردار کو بے نقاب کرتی ہے، مودی سرکار کی پالیسی سازی اب عوامی فلاح کے بجائے مخصوص سرمایہ داروں کے مفاد پر مبنی ہے، کھاودا منصوبہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح عوامی زمین کو نجی فائدے میں بدلا گیا اور قومی مفاد کو نظر انداز کیا گیابھارت کی توانائی حکمتِ عملی اب خودمختاری کی علامت نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ شکنجے کی علامت بن چکی ہے۔

  • وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلی فونک رابطہ، اسرائیل کی بلااشتعال جارحیت کی شدید مذمت

    وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلی فونک رابطہ، اسرائیل کی بلااشتعال جارحیت کی شدید مذمت

    وزیر اعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر عزت مآب مسعود پیزشکیان سے آج سہ پہر ٹیلی فون پر بات چیت کی جس دوران وزیراعظم نے پاکستان کی جانب سے امریکی حملوں، جو گزشتہ آٹھ دنوں کے دوران اسرائیل کی بلا اشتعال اور بلا جواز جارحیت کے بعد ہوئے، کی مذمت کی ، انہوں نے برادر ایرانی عوام اور حکومت کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

    وزیر اعظم نے تحفظات کا اظہار کیا کہ امریکی حملوں میں ان تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے تحفظات کے تحت تھیں۔ یہ حملے IAEA کے قانون اور دیگر بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

    اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ایران کے حق دفاع کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے امن کے لئے فوری طور پر مذاکرات اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا جو آگے بڑھنے کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔

    وزیر اعظم نے صورتحال کی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری اجتماعی کوششوں پر بھی زور دیا اور اس تناظر میں پاکستان کے تعمیری کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    صدر پیزشکیان نے ایران کے لیے پاکستان کی حمایت کو سراہا انہوں نے ایران کے عوام اور حکومت کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے پر وزیراعظم، حکومت اور پاکستان کے عوام بشمول عسکری قیادت کا دلی شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس نازک موڑ پر امت کے درمیان اتحاد قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

  • منی پور فسادات محض فرقہ وارانہ نہیں بلکہ منظم سیکیورٹی ناکامی کا نتیجہ ہیں،بھارتی لیفٹیننٹ جنرل

    منی پور فسادات محض فرقہ وارانہ نہیں بلکہ منظم سیکیورٹی ناکامی کا نتیجہ ہیں،بھارتی لیفٹیننٹ جنرل

    بھارتی ریاست منی پور مودی سرکار کی سیاسی نااہلی، سماجی غیر ذمہ داری اور سکیورٹی غفلت کا شکار ہے۔

    این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مئی 2023 سے منی پور میں شروع ہونے والی خونی جھڑپیں اب تک متعدد جانیں لے چکی ہیں، جس سے یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ مودی سرکار اپنی ریاستی رِٹ مکمل طور پر کھو چکی ہے بھارتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) نیشی کانتا سنگھ نے منی پور بحران کو محض فرقہ وارانہ نہیں بلکہ منظم سیکیورٹی ناکامی کا نتیجہ قرار دے دیا۔

    انہوں نے کہا کہ منی پور تصادم دو مرحلوں پر مشتمل تھا، پہلا مرحلہ 3 سے 10 مئی تک جاری رہا، جوکہ چھوٹے پیمانے کی جھڑپوں پر مبنی تھا، دوسرا مرحلہ 27 اور 28 مئی کو منظم حملوں کی صورت میں شروع ہوا وادی امفال کو چاروں اطراف سے گھیر کر بھارتی سکیورٹی فورسز کو مکمل طور پر بے بس کر دیا گیا، منی پور کے پولیس اسٹیشنوں سے چار ہزار سے زائد ہتھیار بھی چوری ہوئے۔

    این ڈی ٹی وی کے مطابق منی پور میں خواتین سے زیادتی، گھروں کی تباہی اور معصوم عوام کے قتل پر مودی سرکار کی مجرمانہ خاموشی ریاستی بے حسی کی واضح مثال ہے، اس تمام صورتحال کے باوجود، حکومت کی جانب سے نہ کوئی واضح پالیسی سامنے آئی اور نہ ہی کوئی ہنگامی سیکیورٹی پلان نافذ کیا گیا۔

    این ڈی ٹی وی کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی ناکامی چھپانے کے لیے ریاست بھر میں انٹرنیٹ کی بندش اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، منی پور کے پچاس ہزار سے زائد شہری اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر ریلیف کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں سرکاری اداروں کی غفلت کے نتیجے میں 180 سے زائد افراد ہلاک جبکہ سیکڑوں دیہات مکمل طور پر خاکستر ہو چکے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق منی پور ایک ایسی ریاست بن چکی ہے جہاں حکومتی ادارے محض علامتی حیثیت رکھتے ہیں، یہ سارا منظرنامہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا بھارت واقعی ایک متحد اور محفوظ ریاست ہے؟، منی پور جیسے علاقے بھارتی نظام کی کھلی دراڑوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔

  • محرم الحرام :پنجاب میں سائبر پیٹرولنگ اور فوری ریسپانس فورس کی تعیناتی  کا فیصلہ

    محرم الحرام :پنجاب میں سائبر پیٹرولنگ اور فوری ریسپانس فورس کی تعیناتی کا فیصلہ

    لاہور:محرم الحرام کے دوران پنجاب میں پہلی بار سائبر پیٹرولنگ اور فوری ریسپانس فورس کی تعیناتی اور موبائل فونز کی نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس 25 جون کو محرم سیکیورٹی پلان کی حتمی منظوری دے گا سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت جائزہ اجلاس میں دوران محرم ہر ضلع میں اسپوکس پرسن مقررکرنے کا فیصلہ کیا گیا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر فیک نیوز اور افواہ سازی کے خاتمے کی حکمت عملی تیار، خلاف ورزی پر پرچے اور سزائیں ہوں گی۔

    اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ محرم میں پنجاب بھر میں ایک لاکھ 10 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ 38 ہزار 217 محرم مجالس کی سیکیورٹی کے لیے 79 رینجر اہلکار بھی مدد کریں گے، دفعہ 144 نافذ ہوگی۔

    اجلاس میں صحت، خزانہ، داخلہ، خوراک سمیت تمام صوبائی سیکریٹریز اور ریجنل پولیس افسران نے شرکت کی، جس میں سیکیورٹی پلان کے تحت یکم سے دس محرم سے قبل، دوران محرم اور اس کے بعد کے تمام انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ علما اور امن کمیٹیوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت مکمل کر لی گئی جبکہ اجلاس کو جلوسوں کے راستوں، مرمت و صفائی، بجلی کے تاروں، خراب ٹرانسفارمز سے متعلق اقدامات سے آگاہ کیا گیا، وزیر اعلیٰ نے محرم میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی کی ہدایت کی۔

    اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ محرم سے متعلق انتظامات اور سکیورٹی دستوں کی پیشگی مشق کی جاچکی ہے، سیف سٹی کیمروں سے مکمل نگرانی ہوگی، شہریوں کی راہنمائی اور جلوس کے شرکاء کی سہولت کے لیے واضح نشانات آویزاں ہوں گے مرکزی اور ضلعی کنٹرول رومز، ڈی جی پی آر میں فیک نیوز کی نگرانی کا مرکز بنا دیا گیا،ایک ہی ڈیزائن کی سبیلیں لگیں گی اور شدید گرمی کے پیش نظر جلوسوں کے اوقات میں تبدیلی کی بھی تجویز ہے۔

    اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ متبادل ٹریفک، پارکنگ مقامات اور خواتین پولیس اہلکاروں کی فراہمی کے انتظامات بھی کر لیے گئے داتا صاحب اور گنج شکر کے عرس سمیت جھنگ اور دیگر اضلاع میں مذہبی تقریبات کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، خواتین پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی کے دوران ذاتی موبائل فون رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی، ڈرونز کے ذریعے جلوسوں کی نگرانی ہوگی، سکیورٹی فورسز کے سوا اسلحہ پر مکمل پابندی ہوگی جلوسوں کے داخلی مقامات پر چہروں سے شناخت کرنے والے کیمرے لگائے جائیں گے۔

    سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ محرم اسلامی کلینڈر کا مقدس مہینہ ہے اور وزیراعلی مریم نواز نے بہترین انتظامات کی ہدایت کی ہے شہریوں کے لیے سیکیورٹی، سہولت اور صفائی کا بڑی عید کی طرح ریکارڈ قائم کرنا ہے،وزیراعلیٰ نے سائے اور پانی کی فراہمی، فرسٹ ایڈ پوائنٹس کے قیام، فیلڈ اسپتال، کلینکس آن ویلز کی ہروقت دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی انہوں نے جلوس کے راستے میں پبلک ٹوائلٹس کے قیام، گٹروں کے ڈھکن چیک کرنے کے ساتھ ساتھ صفائی کا انتظام یقینی بنانے اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی کی بھی ہدایت کی۔

  • بھارتی وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلی فونک رابطہ، کشیدگی میں  کمی کی اپیل

    بھارتی وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلی فونک رابطہ، کشیدگی میں کمی کی اپیل

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے خطے میں کشیدگی میں فوری کمی کی اپیل کی ہے۔

    اتوار کو امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کو سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بات کی ہے، ہم نے موجودہ صورتحال پر تفصیل سے گفتگو کی،بات چیت کے دوران حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا، ہم نے ایک بار پھر فوری کشیدگی میں کمی، مکالمے اور سفارت کاری کو آگے بڑھنے کا راستہ قرار دیا اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کی جلد بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔

    https://x.com/narendramodi/status/1936721293682131386

    واضح رہے کہ اتوار کی صبح ا مر یکہ نے ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان جوہری سائٹس کو نشانہ بنایا جس سے متعلق ٹرمپ نے سوشل میڈیا سائٹ ٹرتھ سوشل پر بیان جاری کیا،اس کے علاوہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملے سے قبل ہی جوہری تنصیات کو خالی کرالیا گیا تھا۔

  • اسرائیلی جارحیت سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں،اسحاق ڈار

    اسرائیلی جارحیت سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران پر اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کرتے ہیں،ایران کو دفاع کا حق حاصل ہے-

    استنبول میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش ہے، ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں اسرائیلی جارحیت سے عالمی امن کو خطرہ ہے، اسرائیلی اقدامات عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، اسرائیلی جارحیت سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ یو این چارٹر کے تحت ایران کے حق دفاع کی مکمل حمایت کرتے ہیں، اسرائیل کے معاملے پر دہرا معیار اپنایا جاتا ہےمذاکرات سے ہی ایران اور اسرائیل جنگ کا حل ممکن ہے، پاکستان علاقائی امن و استحکام کے لیے تمام اقدامات کررہا ہے، قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے غزہ میں فوری اور غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا بھی مطالبہ کیا، کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، بھارت کو پاکستان کا پانی روکنے کی اجازت نہیں دیں گے، بھارت نے پانی روکا تو اسے جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔

  • ایران اپنی آزادی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا ،عباس عراقچی

    ایران اپنی آزادی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا ،عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ وہ صدر پیوٹن سے ملاقات کے لیے آج روس کا دورہ کر رہے ہیں ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عراقچی کل روسی صدر سے ماسکو میں باضابطہ ملاقات کریں گے تاکہ حالیہ بحران اور خطے کی صورتحال پر سنجیدہ مشاورت کی جا سکے۔

    عباس عراقچی نے استنبول میں ایک ہنگامی میڈیا بریفنگ میں کہا کہ روس ایران کا دیرینہ دوست ہے، اور دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے سے مشورے کرتے رہے ہیں،’ہم ایک دوسرے کے ساتھ کام جاری رکھیں گے‘۔

    سفارتی کوششوں کے ضمن میں عراقچی نے مذاکرات کے مستقبل پر بھی روشنی ڈالی انہوں نے کہا کہ ’ہم مذاکرات کی میز پر کیسے واپس آئیں جب ہم وہاں سے گئے ہی نہیں انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو اسرائیل نے جان بوجھ کر سبوتاژ کیا، جب کہ رواں ہفتے ایران اور یورپی نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہو چکے تھے۔

    عباس عراقچی نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایران اور یورپی عہدیداروں کے درمیان سفارتکاری کے اس نازک موقع کو ضائع کیاان کے بقول، ایران کسی ایسی جگہ کیسے لوٹ سکتا ہے جہاں سے وہ گیا ہی نہیں۔

    عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی فورسز نے ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو نشانہ بنایا، جو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ایران اپنی آزادی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا اور امریکی جارحیت کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ جنگوں کو ختم کریں گے، لیکن حملہ کرکے وہ اپنے ہی عوام سے کیے گئے وعدے سے منحرف ہو گئے ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا رکن ہوتے ہوئے عالمی امن کو نقصان پہنچا رہا ہے ایران عالمی ایٹمی عدم پھیلاؤ کی تنظیم (IAEA) سے اس حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے،امریکا نے براہ راست ایران پر حملہ کیا ہے اور اب سفارتی کوششوں کا کوئی مطلب باقی نہیں رہادنیا کو نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکا نے سفارتکاری کے راستے کو خود مسترد کیا ہے اور اب اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی امریکا پر عائد ہوگی۔

    انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایرانی عوام اپنے دفاع پر کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے اور اقوام متحدہ کا چارٹر ایران کو جواب دینے کا مکمل حق دیتا ہےعباس عراقچی نے زور دے کر کہا کہ خطے میں امن کے لیے یکطرفہ الزام تراشی یا طاقت کا استعمال نہیں، بلکہ سنجیدہ اور نتیجہ خیز سفارتکاری کی ضرورت ہے۔

  • روس کا ایران پر امریکی حملے پر محتاط ردعمل

    روس کا ایران پر امریکی حملے پر محتاط ردعمل

    کریملن نے واضح کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فوری طور پر بات کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، تاہم اس اہم معاملے پر جلد ہی فون کال متوقع ہے۔

    جبکہ روسی صدارتی معاون یوری اوشاکوف نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے امریکا کے دورے یا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روس کے دورے فی الحال ایجنڈے میں شامل نہیں ہیں،اوشاکوف نے روسی خبر رساں ادارے ’تاس‘ کے ایک سوال کے جواب میں کہ آیا ایسے دورے ممکن ہیں، جواب دیا ’فی الحال نہیں‘۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا دونوں رہنماؤں کی ممکنہ ملاقات کسی تیسرے ملک میں ہو سکتی ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ ابھی واضح نہیں ہے، یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ فریقین کیا طے کرتے ہیں، لیکن فی الحال اس حوالے سے کوئی بات چیت بھی نہیں ہو رہی۔

    سال کے آغاز اور صدر ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد سے، روسی اور امریکی صدور کے درمیان 5 بار ٹیلیفونک بات چیت ہو چکی ہے، اپنی پہلی گفتگو کے دوران ہی دونوں رہنماؤں نے براہ راست رابطے برقرار رکھنے اور ذاتی ملاقاتوں کی منصوبہ بندی پر اتفاق کیا تھا۔

    کریملن کی جانب سے زور دیا گیا ہے کہ ایک سربراہی اجلاس ضروری ہوگا تاکہ اعلیٰ سطح کی کوششوں کے ذریعے حاصل شدہ نتائج کو باقاعدہ شکل دی جا سکےجب تک ان نتائج کو واضح طور پر قائم نہ کر لیا جائے، ماسکو کے نزدیک ملاقات کے امکان پر بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔

  • بھارتی سیاستدان اور میڈیا امریکی صدر ٹرمپ کی کردار کشی کرنے لگے

    بھارتی سیاستدان اور میڈیا امریکی صدر ٹرمپ کی کردار کشی کرنے لگے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاک بھارت کشیدگی میں جنگ بندی کے دعوے پرھارتی حکومت اور میڈیا کی جانب سے اس بات کو لے کر امریکی صدر کی کردار کشی کی جا ری ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ کا 10 مئی کو ایکس پوسٹ کے ذریعے پاک بھارت جنگ بندی کا اعلان کرتے ہی بھارتی میڈیا اینکر ارناب گوسوامی نے امریکی صدر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایاارناب گوسوامی نے اپنے پروگرام میں کہا کہ ٹرمپ اپنا بیانیہ بیچ رہا ہے، یہ شخص اسرائیل، حماس اور روس یوکرین کے درمیان جنگ بندی نہیں کروا سکا، ٹرمپ کی ریٹنگ گر رہی ہے تو یہ پوائنٹ اسکورننگ کر رہا ہے۔‘‘

    بھارتی جماعت ’’عام آدمی پارٹی‘‘ نے بھی سوال اٹھایا کہ امریکی صدرکا کیا کام ہے کہ وہ جنگ بندی کرائے راجھستان کے سابق ڈپٹی وزیراعلیٰ سچن پائلٹ نے ٹرمپ سے یہ سوال بھی کیا کہ وہ دہشتگردی پر خاموش کیوں ہیں؟ بھارتی میڈیا میں ٹرمپ کا یہ بیان بھی چلایا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے جنگ بندی نہیں کرائی بلکہ مدد کی ہے،ارناب گوسوامی کا کہنا تھا کہ 28 اپریل کے بعد صدر ٹرمپ کی پوزیشن بدلی اور وہ پاکستان کا سپورٹر بن گیا۔

    بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈا کے مطابق ورلڈ لیبرٹی فنانشنل پاکستان کے ساتھ کرپٹو معاہدے میں شریک ہے، ورلڈ لیبرٹی فنانشل اور پاکستان کرپٹو کونسل کے درمیان یہ معاہدہ 26 اپریل یعنی پہلگام واقعے کے 4 روز بعد ہوا۔

    بھارتی میڈیا نے صدر ٹرمپ کی فیملی کے حوالے سے بھی الزام لگایا کہ کیا یہ کرپٹو معاہدے سے فائدہ نہیں اٹھا رہے؟ بھارتی میڈیا نے بغیر شواہد یہ الزام بھی عائد کیا کہ صدر ٹرمپ کے کرپٹو بزنس کو پاکستانی آرمی جنرل نے سنبھال رکھا ہےکور کمانڈر کے بھتیجے کا صدر ٹرمپ کو منانے یا راضی کرنے میں بڑا کردار ہے –

    جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد بھارتی میڈیا مزید بدحواس ہو گیا ہے ارناب گوسوامی نے صدر ٹرمپ کی جانب سے I LOVE PAKISTAN کہنے پر انہیں پاک فوج کا کارکن کہہ دیا۔ ارناب گوسوامی نے یہاں تک کہا کہ صدر ٹرمپ اور اس کی فیملی کے کرپٹو معاہدے پر تحقیقات کی جائیں۔

    بھارتی سوشل میڈیا پر امریکی صدر کو نوبیل پرائز کے حوالے سے بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ بھارتی سوشل میڈیا پر ان کے کارٹون بنا کر دہشتگرد کا ساتھی ظاہر کیا گیا، بھارتی میڈیا نے صدر ٹرمپ کو ایک مریض کے طور پر پیش کیا جبکہ بھارتی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ ایک ناکام سیاست دان ہے اور یہ شخص صدر نہیں ہونا چاہیے بھارتی سیاست دان نے کہا کہ امریکی صدر نے بھارت کو بہت زیادہ ناراض کر دیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق امریکی صدر پاک بھارت جنگ بندی کا کریڈٹ خود لینا چاہتے ہیں مگر یہ ممکن نہیں ہے امریکی صدر کو کچھ بھی پتہ نہیں انہیں زمینی حقائق تک معلوم نہیں اور وہ خود کو گلوبل پیس میکر ثابت کر رہا ہے، یہ کوئی آسان کام نہیں ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا اعتبار کیا جائےاور اس کی کئی وجوہات ہیں۔

    سیکریٹری خارجہ وکرم مسری کے مطابق مودی نے کہا ہے کہ پاک بھارت جنگ بندی میں ٹرمپ کا کوئی کردار نہیں تھا،بھارتی ایکس اکاؤنٹ پر بھی ٹرمپ کے حوالے سے کہا گیا کہ ایک روز ٹرمپ کہتا ہے اس کا اسرائیل کے ایران حملے سے کوئی تعلق نہیں اور دوسرے روز امریکا کہتا ہے کہ ان کا ایران کی فضا پر مکمل کنٹرول ہے۔