Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • دہلی ہائی کورٹ نے مودی کی تعلیمی  اسناد  عوامی طور پر ظاہر کرنے کا حکمنامہ منسوخ کر دیا

    دہلی ہائی کورٹ نے مودی کی تعلیمی اسناد عوامی طور پر ظاہر کرنے کا حکمنامہ منسوخ کر دیا

    نئی دہلی ہائی کورٹ نے وفاقی انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) کی جانب سے 2016 میں رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) کارکن کو وزیر اعظم نریندر مودی کے گریجویشن (بی اے) کا ریکارڈ دیکھنے کی اجازت دینے کا حکم نامہ منسوخ کر دیا۔

    بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ کے مطابق،نئی دہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی تعلیمی اسناد عوامی طور پر ظاہر نہیں کی جاسکتیں،ساتھ،ہی،عدالت نے وہ حکم بھی کالعدم قرار دے دیا ہے، جس کے تحت آر ٹی آئی کارکن کو دہلی یونیورسٹی کے 1978 کے بی اے کے ریکارڈ دیکھنے کی اجازت ملنی تھی، یہ وہی سال ہے، جب نریندر مودی نے گریجویشن کیا تھا۔

    175 صفحات پر مشتمل مشترکہ فیصلے میں جسٹس سچن،دتہ نے یہ قرار دیا کہ سی آئی سی کا سی بی ایس ای کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی لیڈر سمرتی ایرانی کی دسویں اور بارہویں جماعت کے ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت درست نہیں، اور درخواست کے مطابق مطلوبہ معلومات کے بارے میں کوئی پوشیدہ عوامی مفاد نہیں ہے، ہر وہ چیز جو عوامی دلچسپی کا باعث ہو، وہ ’عوامی مفاد‘ کے مترادف نہیں ہے، اور 21 دسمبر 2016 کے سی آئی سی کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا،عدالت نے کہا کہ مودی نے اپنی تعلیمی قابلیت کے بارے میں مختلف بیانات دیے، لیکن یہ حیران کن ہے کہ اگر انہوں نے گریجویٹ ہونے کا دعویٰ کیا تو عوامی تجسس کی خاطر اس کی تصدیق کیوں کی جائے؟۔

    آسٹریلیا کا ایران پر یہودی مخالف حملوں میں ملوث ہونے کا الزام، ایرانی سفیر کی ملک بدری کا حکم

    آر ٹی آئی کارکن نیرج کی درخواست پر سی آئی سی نے دہلی یونیورسٹی کو حکم دیا تھا کہ 1978 کے بی اے امتحان کے رجسٹر کا معائنہ کرایا جائے، جس میں تمام طلبہ کے رول نمبر، نام، والد کا نام اور نمبر درج ہوں، اور متعلقہ صفحات کی مصدقہ نقول فراہم کی جائیں۔

    سی آئی سی کے حکم کو دہلی یونیورسٹی نے عدالت میں چیلنج کیا، اور عدالت نے پہلی ہی سماعت (24 جنوری 2017) میں اس حکم پر عمل درآمد روک دیا،یونیورسٹی نے کہا کہ وہ 1978 میں بی اے کے امتحان دینے والے تمام طلبہ کی ذاتی معلومات ظاہر نہیں کر سکتی، کیوں کہ یہ معلومات ’رازداری‘ میں رکھی گئی ہیں، اور آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت ان کا انکشاف مستثنیٰ ہے، سی آئی سی کا حکم تمام یونیورسٹیوں کے لیے دور رس منفی نتائج کا باعث بن سکتا ہے، جن کے پاس کروڑوں طلبہ کے ڈگری ریکارڈ محفوظ ہیں۔

    جسٹس دتہ نے یونیورسٹی کے مؤقف سے اتفاق کیا اور کہا کہ عدالت اس حقیقت سے آنکھیں بند نہیں کر سکتی کہ جو چیز بظاہر ایک بے ضرر یا الگ تھلگ انکشاف لگے، وہ اندھا دھند مطالبات کے دروازے کھول سکتا ہے، جو کسی حقیقی عوامی مفاد کے بجائے غیر سنجیدہ تجسس یا سنسنی پھیلانے کے جذبے پر مبنی ہوں،یہ حقیقت کہ معلومات کسی عوامی شخصیت سے متعلق ہیں، اس بات کو ختم نہیں کرتی کہ ذاتی معلومات پر نجی حیثیت یا رازداری کا حق قائم ہے، خاص طور پر جب یہ عوامی ذمہ داریوں سے متعلق نہ ہوں،یہ ڈیٹا، جو کسی طالب علم کی تعلیمی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے متعلق ہے، یونیورسٹی اعتماد اور بھروسے کے ساتھ رکھتی ہے، اور طلبہ کو یہ جائز توقع ہوتی ہے کہ ان کے ریکارڈ کی رازداری قائم رکھی جائے گی۔

    ڈیرہ غازی خان: ممکنہ سیلاب، ضلعی انتظامیہ نے این جی اوز سے تعاون طلب کر لیا

    دہلی یونیورسٹی کی نمائندگی کرنے والے سولیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ آر ٹی آئی کا مقصد کسی تیسرے فریق کی تجسس کی تسکین نہیں ہے، آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ 6 اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ معلومات فراہم کی جائیں گی، یہی اس کا مقصد ہے، لیکن آر ٹی آئی کسی کا تجسس مٹانے کے لیے نہیں ہے۔

    سی آئی سی نے اپنے حکم میں دہلی یونیورسٹی کو معائنہ کرانے کو کہا تھا اور اس دلیل کو مسترد کر دیا تھا کہ یہ کسی تیسرے فریق کی ذاتی معلومات ہیں، اور کہا کہ اس دلیل میں ’کوئی وزن ہے نہ ہی کوئی قانونی حیثیت۔

    نارنگ منڈی میں مہنگائی کا طوفان، انتظامیہ کی طوطاچشمی

  • آسٹریلیا کا ایران پر یہودی مخالف حملوں میں ملوث ہونے کا الزام، ایرانی سفیر کی ملک بدری کا حکم

    آسٹریلیا کا ایران پر یہودی مخالف حملوں میں ملوث ہونے کا الزام، ایرانی سفیر کی ملک بدری کا حکم

    آسٹریلوی وزیرِاعظم نے اعلان کیا ہے کہ آسٹریلیا نے ایران کے سفیر احمد صادقی کو ملک بدر کر دیا ہے۔

    رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق،آسٹریلیا نے منگل کو اعلان کیا کہ وہ کینبرا میں ایران کے سفیر کو ملک بدر کرے گا وزیراعظم انتھونی البانیز نے تہران پر الزام لگایا کہ اس نے سڈنی اور میلبورن کے اہم شہروں میں دو یہود مخالف (اینٹی سیمیٹک) حملے کرائے، اکتوبر 2023 میں اسرائیل-غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے آسٹریلیا میں گھروں، اسکولوں، یہودی عبادت گاہوں (سیناگاگ) اور گاڑیوں کو یہود مخالف توڑ پھوڑ اور آتشزدگی کا نشانہ بنایا گیا۔

    البانیز نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ آسٹریلیا کی سیکیورٹی ایجنسی نے مصدقہ انٹیلی جنس اکٹھی کی ہے کہ ایرانی حکومت نے کم از کم 2حملوں کی ہدایت دی، ان کے مطابق آسٹریلین سیکیورٹی انٹیلی جنس آرگنائزیشن (اے ایس آئی او) کا کہنا ہے کہ ایران نے گزشتہ سال 20 اکتوبر کو سڈنی کے ’لوئس کونٹینینٹل کچن‘ اور 6 دسمبر کو میلبورن کے ’اَداس اسرائیل سیناگاگ‘ پر حملے کروائے، انہوں نے مزید کہا کہ اے ایس آئی او کا اندازہ ہے کہ ایران نے مزید حملوں کی بھی منصوبہ بندی کی تھی۔

    ڈیرہ غازی خان: ممکنہ سیلاب، ضلعی انتظامیہ نے این جی اوز سے تعاون طلب کر لیا

    البانیز نے کہا کہ یہ غیر معمولی اور خطرناک جارحیت تھی جو ایک غیر ملکی ریاست نے آسٹریلوی سرزمین پر منظم کی، یہ ہماری سماجی یکجہتی کو نقصان پہنچانے اور معاشرے میں پھوٹ ڈالنے کی کوششیں تھیں،آسٹریلیا نے تہران میں اپنے سفارتخانے کی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں اور تمام سفارتکار محفوظ ہیں اور ایک تیسرے ملک میں موجود ہیں، ان کی حکومت ایران کی پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد تنظیم قرار دے گی۔

    نارنگ منڈی میں مہنگائی کا طوفان، انتظامیہ کی طوطاچشمی

  • کینیڈا کا یوکرین کے لیے 2 ارب ڈالر کی امداد کااعلان

    کینیڈا کا یوکرین کے لیے 2 ارب ڈالر کی امداد کااعلان

    کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کیف میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے دوران 2 ارب ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کیا، جس میں ایک ارب ڈالر اسلحے، ڈرونز اور بکتر بند گاڑیوں کی خریداری کے لیے مختص ہیں۔

    کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات میں کہا کہ وہ یوکرین کے لئے مضبوط سکیورٹی گارنٹی کے مطالبے کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور کینیڈا ایسی کسی امن ڈیل کے تحت فوجی دستے بھیجنے کے امکان کو رد نہیں کرتاروس کی مکمل یلغار کو ساڑھے تین سال گزرنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ یوکرین اور یورپی اتحادی مستقبل کے سکیورٹی فریم ورک پر کام کر رہے ہیں۔

    مارک کارنی نے اپنے پہلے دورۂ یوکرین میں زیلنسکی کے ساتھ یوم آزادی کی تقریب میں شرکت کی، جس میں ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کیتھ کیلگ بھی شریک ہوئےاس موقع پر زیلنسکی نے کہا کہ اس جنگ کے خاتمے کا مطلب ایسا امن ہونا چاہیے جو آئندہ نسلوں کو جنگ کے خطرے سے محفوظ رکھے۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل کے سکیورٹی گارنٹی نیٹو کے آرٹیکل 5 کے قریب تر ہوں۔

    ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال میں ٹرینی نرس کے ساتھ مبینہ ہراسانی پر ہیڈ نرس معطل

    مارک کارنی نے کہا کہ صرف یوکرین کی فوجی طاقت پر انحصار کافی نہیں، اس کے لئے عالمی شراکت داری ضروری ہےدونوں رہنماؤں نے ڈرون کی مشترکہ تیاری کا معاہدہ بھی کیا، جبکہ کینیڈا نے اگلے ماہ ایک ارب کینیڈین ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

    حماد اظہر کا این اے 129 سے ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لینے کا اعلان

  • ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال میں ٹرینی نرس کے ساتھ مبینہ ہراسانی پر ہیڈ نرس معطل

    ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال میں ٹرینی نرس کے ساتھ مبینہ ہراسانی پر ہیڈ نرس معطل

    ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال کراچی میں زیر تربیت نرس کے ساتھ مبینہ ہراسانی کے واقعہ کے معاملے پر اسپتال انتظامیہ نے ہراساں کرنے والے ہیڈ نرس کو معطل کر دیا اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

    اسپتال انتظامیہ کے مطابق ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کی ویڈیو پر وائس چانسلر نے نوٹس لیا تھاپروفیسر جہاں آرا کے مطابق ہراسانی میں ملوث افراد کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی، ڈاؤ یونیورسٹی میں ہراسانی کے معاملے میں زیرو ٹالرنس پالیسی ہے اسپتال انتظامیہ کے مطابق مزید ملزمان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

    ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس کے اسپتال کی ایک وڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں میں مرد عملے کی جانب سے نرس کے سامنے غیر اخلاقی حرکات و اشارے کرتے دیکھا جا سکتا ہے یہ واقعہ دو روز قبل اوجھا کیمپس آئی سی یو میں پیش آیا تھا وڈیو میں عملے کے دو افراد نائٹ ڈیوٹی کے دوران نرس کو مجبور کرتے رہے، تاہم نرس نے مزاحمت کی۔

    زرائع کے مطابق ہراساں کرنے میں مبینہ طور پر ٹیکنیشن دلشاد، ہیڈ نرس دانش ملوث بتائے جا رہے ہیں قائم مقام وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی پروفیسر جہاں آرا نے بتایا کہ ملوث ملازمین کو معطل کردیا گیا ہے رجسٹرار کو واقعے کی فوری تحقیقات کرنے کی ہدایت بھی کر دی ہے، تحقیقاتی کمیٹی 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرے گی انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں انسداد ہراسانی کمیٹی موجود ہے، ملوث ہونے پر ملازمین سخت ایکشن لیا جائے گا، یونیورسٹی میں ایسے واقعات ناقابل برداشت ہیں، وائس چانسلر نے کہا کہ ہراسگی کے واقعات پر ملازمت سے برطرفی اور بھاری جرمانے بھی کیے جاتے ہیں۔

  • اسرائیل کے جرائم کی مذمت کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ممالک  اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی کریں،سعودی عرب

    اسرائیل کے جرائم کی مذمت کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ممالک اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی کریں،سعودی عرب

    جدہ:سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں مسلسل خلاف ورزیاں دو ریاستی حل کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کو کمزور کررہی ہیں،وہ ممالک جو اب تک اسرائیل کے جرائم کی مذمت کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، انہیں اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔

    سعودی عرب کے شہر جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہاکہ مملکت کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے جاری عالمی مہم میں مزید ممالک شامل ہو رہے ہیں،وہ ممالک جنہوں نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

    حماد اظہر کا این اے 129 سے ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لینے کا اعلان

    انہوں نے ایک بار پھر اس مؤقف کو دہرایا کہ سعودی عرب 1967 کی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست کے قیام کی غیر متزلزل حمایت کرتا ہے،سعودی عرب نے غزہ کی پٹی میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی قبضے کو ختم کرے،وہ ممالک جو اب تک اسرائیل کے جرائم کی مذمت کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، انہیں اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔

    این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کی ضروریات اور ترجیحات اجاگر کریں گے، وزیراعلیٰ بلوچستان

    اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا یہ اجلاس غزہ کی موجودہ صورتحال اور اسرائیلی جارحیت کے پس منظر میں منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کر رہے ہیں، جبکہ رکن ممالک کے دیگر وزرائے خارجہ بھی شریک ہیں، اسحاق ڈار مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیل کے مکمل انخلا کی حمایت کریں گے ساتھ ہی وہ غزہ پر اسرائیل کے مجوزہ مکمل فوجی قبضے اور فلسطینی عوام کو بے دخل کرنے کے مذموم منصوبے کو سختی سے مسترد کریں گے۔

    مودی بھی عمران خان کے نقش قدم پر،امریکہ سے تعلقات کی بہتری کیلئے فرم ہائر کر لی

  • حماد اظہر کا این اے 129 سے ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لینے کا اعلان

    حماد اظہر کا این اے 129 سے ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لینے کا اعلان

    پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے این اے 129 سے ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ انہیں فارم 47 والی پارلیمنٹ کا حصہ بننے کی کوئی خواہش نہیں، کیونکہ یہ جعلی ارکان اسمبلی سے بھری ہوئی ہے،گزشتہ انتخابات میں ان کے 82 سالہ والد کو ہراساں کیا گیا، پولیس نے گرفتار کیا اور ان کے گھر پر بارہا چھاپے مارے گئے-

    https://x.com/Hammad_Azhar/status/1959942479043563534

    پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ بطور اکلوتے بیٹے اور خاندانی جانشین وہ نہیں چاہتے کہ ان کی والدہ ایک اور صدمے سے گزریں،اپنی والدہ کی ہدایت پر انہوں نے اپنے کزن چوہدری ارسلان ظہیر کو اپنی جگہ نامزد کیا ہے، اگر پارٹی نے ان کے حلقے میں الیکشن کا بائیکاٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ جانشین ہوں گے۔

    سلمان اکرم راجہ کا پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل کے عہدے سے علیحدگی کا فیصلہ

    وفاقی کابینہ کی ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب ریلیف فنڈ میں دینے کا فیصلہ واپس

    سلمان اکرم راجہ کا پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل کے عہدے سے علیحدگی کا فیصلہ

  • این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کی ضروریات اور ترجیحات اجاگر کریں گے،  وزیراعلیٰ بلوچستان

    این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کی ضروریات اور ترجیحات اجاگر کریں گے، وزیراعلیٰ بلوچستان

    بلوچستان حکومت نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر تمام سیاسی جماعتوں اور ماہرین سے مشاورت کا فیصلہ کرلیا۔

    کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت این ایف سی ایوارڈ کی تیاری سے متعلق مشاورتی اجلاس ہوا،اجلاس کے دوران سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے تمام جماعتوں اور ماہرین سے مشاورت ہوگی، وسائل کی تقسیم میں شفافیت کو اہمیت دینا ہوگی،این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کی ضروریات اور ترجیحات اجاگر کریں گے، پارلیمنٹ میں نمائندگی نہ رکھنے والی جماعتوں سے بھی مشاورت کی جائے گی،وسائل کی تقسیم میں شفافیت اور شمولیت کو اہمیت دینا ہوگی، این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے عوام کی امیدیں اور توقعات شامل ہونی چاہئیں۔

    واضح رہے کہ 11واں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ اجلاس 29 اگست کو چیئرمین این ایف سی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت ہوگا،اجلاس میں 3 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا جائے گا، اجلاس میں این ایف سی ایوارڈ سے متعلق سفارشات پر غور ہوگا اور ذیلی گروپس قائم کرنے کا جائزہ لیا جائے گا جب کہ اجلاس میں مستقبل کے اجلاس کے حوالے سے شیڈول طے کیے جائیں گے۔

  • جاز کی کوالٹی آف سروس کا مسئلہ رہتا ہے،چیئرمین پی ٹی اےکا اعتراف

    جاز کی کوالٹی آف سروس کا مسئلہ رہتا ہے،چیئرمین پی ٹی اےکا اعتراف

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن (ٹیلی کام) نے ’جاز‘ کی سروس کے معیار پر عدم اطمینان کا اظہار کر دیا،چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعتراف کیا کہ سینیٹرز کی بات سے متفق ہوں، جاز کی کوالٹی آف سروس کا مسئلہ رہتا ہے۔

    پلوشہ خان کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، اجلاس میں جاز پر صارفین سے 6 ارب سے زائد روپے کی اضافی وصولیوں کا ایجنڈا کمیٹی میں زیر بحث آیا،چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ ٹیرف تو بڑھا دیے جاتے ہیں کیا جاز کوالٹی آف سروس بھی مہیا کرتا ہے؟ چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعتراف کیا کہ سینیٹرز کی بات سے متفق ہوں، جاز کی کوالٹی آف سروس کا مسئلہ رہتا ہے۔

    کمیٹی کے رکن سینیٹر ندیم بھٹو نے ٹیلی کام کمپنی جاز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جاز کو 2010 سے استعمال کر رہا ہوں، اکثر والد سے ڈانٹ پڑتی ہے کہ کال ہی نہیں لگتی، جاز کی سروس ہائی وے پر بالکل بھی نہیں ہوتی، جاز کی ہائی وے پر صرف ٹو جی کی سروس آتی ہے، کیا پی ٹی اے کوالٹی آف سروس کو بھی ریگولیٹ کرتا ہے؟۔

    ایف آئی اے کے نام پر جعلی ایف آئی آرز کا انکشاف

    چیئرمین پی ٹی اے نے جواب دیا کہ ہمارے پاس ٹیرف اور صارفین کے تحفظ کا ریگولیشن ہے، جاز جب بھی ٹیرف بڑھائے گا تو پی ٹی اے سے پہلے منظوری لے گا، آڈٹ نے جو پیرا لکھا ہے، پی ٹی اے نے جواب دے دیا ہے، سمجھنے میں غلط فہمی ہوئی ہے،2024 میں 19 فیصد ٹیرف جاز نے بڑھایا تھا، جاز کو ریگولیٹ کرتے ہیں تاکہ مارکیٹ میں بیلنس قائم رہے، اسپیکٹرم کی نیلامی تک کوالٹی کا مسئلہ رہے گا، پی ٹی اے اسپیکٹرم کی نیلامی کے لیے تیار ہے-

    انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم سے گزشتہ ہفتے ملاقات میں بھی درخواست کی کہ اسپیکٹرم کی نیلامی جلد کروائی جائےپاکستان میں ہر سیکٹر کے اندر کارٹیلائزیشن بنا ہوا ہے، ٹیلی کام سیکٹر کو ہم نے کارٹیلائزیشن نہیں بننے دیا،جاز کو ایک حد تک رکھا ہوا ہے، جاز تو اس سے زیادہ ٹیرف بڑھانا چاہتا ہے، اگر کہیں کسی صارفین سے اوور چارج ہوا ہو تو ہم واپس کروا دیتے ہیں، اس وقت واحد ٹیلی کام کمپنی یو فون ہے جو نقصان میں جارہی ہے، 18 ماہ سے یوفون اور ٹیلی نار کا انضمام تاخیر کا شکار ہے۔

    چین کا نیا میگا ڈیم ، بھارت میں آبی جنگ کے خدشات

    کمیٹی میں موجود سینٹرز نے ٹیلی کام کمپنی یوفون پر بھی تنقید کی، سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ یوفون پر ابھی تک حکومت کا اثر ہے، اس وجہ سے نقصان میں ہے، سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ یوفون کی ساری مینجمنٹ پرائیویٹ ہے، سرکار کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

    چیئرمین کمیٹی پلوشہ خان نے چیئرمین پی ٹی اے سے استفسار کیا کہ ابھی جاز جو ٹیرف بڑھا رہا ہے، کیا اس سے پی ٹی اے متفق ہے؟ جس پر چیئرمین پی ٹی اے نے جواب دیا کہ جاز کا کسی صورت دفاع نہیں کروں گاکمیٹی کو سیکریٹری آئی ٹی نے بتایا کہ اس وقت 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم ہم استعمال کر رہے ہیں، انٹرنیٹ کا مسئلہ انٹرنیٹ کی کیپسٹی کی وجہ سے ہے، مختلف عدالتوں میں اسپیکٹرم کے کیسز چل رہے ہیں۔

    سینیٹر سیف اللہ نیازی نے استفسار کیا کہ اسپیکٹرم کے کیسز عدالتوں میں کس نے دائر کیے ہیں؟ سیکرٹری آئی ٹی نے کہا کہ اسپیکٹرم سے متعلق عدالتوں میں کیسز کا فریق فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ ہے وزارت آئی ٹی کے حکام نے کمیٹی کو یہ تو بتا دیا کہ اسپیکٹرم کا عدالتوں میں کیسز سن ٹی وی نے کیا ہوا ہے، تاہم وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے حکام سن ٹی وی کے مالکان کے نام سے لاعلم نکلے-

    دریائے راوی اور ستلج میں پانی کے بہاؤ میں خطرناک حد تک اضافہ

    جس پر چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ سن ٹی وی کا مالک کون ہے؟ چیئرمین کمیٹی نے ممبر لیگل وزارت آئی ٹی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ ممبر لیگل ہیں اور آپ کو سن ٹی وی کے مالک کا نام تک معلوم نہیں ہے؟، آپ کمیٹی سے جائیں اور جاکر سن ٹی وی کے مالک کا نام پتہ کرکے لے آئیں-

    سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ میڈیا میں سب کو اس بارے میں پتہ ہے لیکن حکومت کے لوگ ڈر کے مارے عقیل کریم ڈھیڈی کا نام نہیں لیتے، سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ کمیٹی آئندہ اجلاس میں عقیل کریم ڈھیڈی کو بھی طلب کرلے۔

    بعد ازاں اجلاس میں چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جو لوگ گھروں میں بیٹھ کر چیزیں بیچ رہے ہیں، اس پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ٹیکس لگا رہا ہےسیکریٹری آئی ٹی نے کہا کہ ای کامرس آئی ٹی میں نہیں آتا، یہ وزارت کامرس کے ماتحت آتا ہےسینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ ای کامرس آئی ٹی کا حصہ ہے، اس پر ٹیکس لگنا شروع ہوگئے تو انڈسٹری آگے نہیں بڑھ سکے گی، قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں ای کامرس پر ٹیکس سے متعلق ایف بی آر حکام کو طلب کرلیا۔

    سپریم کورٹ نے بہن کے وراثتی حصہ کے خلاف بھائی کی درخواست خارج کر دی

    اجلاس میں سینیٹر ہمایوں مہمند نے اسلام آباد کی مختلف شاہراؤں پر موبائل فون سروس کا مسئلہ اجاگر کیاچیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) یونیورسل سروس فنڈ نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹیلی کام کمپنیاں آبادی کو مد نظر رکھ کر سروس فراہم کرتی ہیں، ٹیلی کام کمپنیاں آبادی سے دور ٹاورز لگائیں تو پھر بھی مسئلہ آتا ہے، گوادر میں ٹیلی کام کمپنیوں کے صرف 22 ٹاورز ہیں۔

    چیئرمین کمیٹی نے پوچھا کہ سیلاب میں کتنے ٹیلی کام ٹاورز کو نقصان پہنچا ہے، کمیٹی نے ٹیلی کام ٹاورز کی تفصیل مانگی تھی، تباہ ہونیوالے ٹاورز کی تفصیل نہیں لائے۔

    ورلڈ بینک نے پنجاب میں تعلیمی منصوبے کیلئے 47.9 ملین ڈالر گرانٹ منظور کر لی

  • ایف آئی اے کے نام پر جعلی ایف آئی آرز کا انکشاف

    ایف آئی اے کے نام پر جعلی ایف آئی آرز کا انکشاف

    وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر ایف آئی اے کے نام سے واٹس ایپ پر جعلی اور من گھڑت ایف آئی آرز بھیج کر عوام کو ہراساں کر رہے ہیں۔

    ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق ان جعلی ایف آئی آرز میں شہریوں کو جھوٹے مقدمات میں نامزد کر کے خوف و ہراس پھیلایا جا رہا ہے اس کے علاوہ، یہ عناصر فرضی نام اور جعلی شناخت استعمال کر کے خود کو ایف آئی اے کے اہلکار ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    ان پیغامات میں ’’سائبر کرائمز‘‘ اور ’’دہشت گردی‘‘ جیسے سنگین الزامات لگا کر شہریوں کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کہ سراسر غیر قانونی اور قابل گرفت اقدام ہے ایف آئی اے نے واضح کیا ہے کہ ادارہ کسی بھی شہری کو واٹس ایپ یا سوشل میڈیا کے ذریعے اس نوعیت کا پیغام نہیں بھیجتا۔

    عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کسی کو اس قسم کا مشکوک پیغام یا رابطہ موصول ہو تو فوری طور پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی میں شکایت درج کروائیں، جو سائبر کرائم کی تحقیقات کی مجاز اتھارٹی ہے۔

    ایف آئی اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسے فراڈ سے ہوشیار رہیں، کسی بھی مشتبہ فرد سے ذاتی یا مالیاتی معلومات شیئر نہ کریں۔ مزید معلومات اور مدد کے لیے ایف آئی اے کی ہیلپ لائن 1991 پر رابطہ کریں۔

  • چین کا نیا میگا ڈیم ، بھارت میں آبی جنگ کے خدشات

    چین کا نیا میگا ڈیم ، بھارت میں آبی جنگ کے خدشات

    بھارت کو خدشہ ہے کہ تبت میں چین کے مجوزہ میگا ڈیم کی تعمیر خشک موسم میں دریائے برہم پتر (یارلنگ زانگبو) کے پانی کے بہاؤ کو 85 فیصد تک کم کر دے گی۔

    رائٹرز کے مطابق بھارتی حکومت کی ایک تجزیاتی رپورٹ اور چار معتبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اس منصوبے کے ممکنہ اثرات نے نئی دہلی کو اپنے ڈیم منصوبوں کو تیز کرنے پر مجبور کر دیا ہےبھارتی حکومت 2000 کی دہائی کے آغاز سے تبت کے آنکسی گلیشیئر سے نکلنے والے پانی کو قابو میں رکھنے کے منصوبوں پر غور کر رہی ہے یہ گلیشیئر چین، بھارت اور بنگلہ دیش میں 10 کروڑ سے زائد افراد کے لیے پانی کا ذریعہ ہے تاہم ارونا چل پردیش کے مقامی باشندوں کی شدید مزاحمت کے باعث یہ منصوبے بار بار تعطل کا شکار رہے ہیں۔ مقامی آبادی کو خدشہ ہے کہ ڈیم کی تعمیر سے ان کے گاؤں ڈوب جائیں گے اور ان کا روایتی طرزِ زندگی ختم ہو جائے گا۔

    گزشتہ برس دسمبر میں چین نے اعلان کیا کہ وہ سرحد کے قریب یارلنگ زانگبو دریا پر دنیا کا سب سے بڑا پن بجلی ڈیم تعمیر کرے گا، جس کے بعد بھارت کے خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا۔ نئی دہلی کو اندیشہ ہے کہ چین اس منصوبے کو سفارتی دباؤ اور علاقائی اثرورسوخ کے لیے بطور ہتھیار استعمال کر سکتا ہےاسی خدشے کے پیشِ نظر بھارت نے مئی میں اپر سیانگ ملٹی پرپز اسٹوریج ڈیم کے لیے سروے کا آغاز کیا، جسے پولیس کی سخت نگرامی میں مکمل کیا گیا۔ اگر تعمیر مکمل ہوئی تو یہ بھارت کا سب سے بڑا ڈیم ہوگا۔

    سوات اور گلگت بلتستان میں سیلاب سے تباہی، امدادی کارروائیاں جاری

    ذرائع کے مطابق جولائی میں وزیراعظم نریندر مودی کے دفتر میں اس منصوبے کی رفتار بڑھانے کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد ہوابھارتی حکومت کے تجزیے کے مطابق چین کا ڈیم بیجنگ کو سالانہ 40 ارب مکعب میٹر پانی موڑنے کی صلاحیت دے گا، جو سرحدی مقام پر پانی کے سالانہ بہاؤ کا ایک تہائی سے زیادہ ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کا سب سے زیادہ اثر خشک موسم میں ہوگا، جب بھارت کے کئی علاقے بارش نہ ہونے کے باعث بنجر ہو جاتے ہیں،بھارت نے اپر سیانگ ڈیم میں 14 ارب مکعب میٹر پانی ذخیرہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر خشک موسم میں اسے چھوڑا جا سکے۔ اس سے آسام کے دارالحکومت گواہاٹی اور دیگر شہروں کو پانی کی کمی سے جزوی طور پر بچایا جا سکے گا۔

    لاہور: آئندہ ہفتے کچرا اٹھانے کے بل بھیجے جائیں گے،ایل ڈبلیو ایم سی

    چین کی وزارتِ خارجہ نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ڈیم کے منصوبے سخت سائنسی تحقیق اور ماحولیاتی تحفظ کے تقاضوں کے مطابق ہیں اور یہ نیچے کے ممالک، بشمول بھارت اور بنگلہ دیش، کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔

    دوسری جانب اروناچل پردیش کی آدی کمیونٹی اس منصوبے کی سخت مخالفت کررہی ہے۔ مقامی رہائشیوں نے احتجاج کے دوران پولیس کیمپ جلا دیے، مشینری تباہ کر دی اور سڑکوں پر ناکے قائم کر دیےان کا کہنا ہے کہ ان کی زمینوں پر اگنے والی اجناس ان کے بچوں کی تعلیم اور روزگار کا واحد ذریعہ ہیں، اس لیے وہ اپنی زمین قربان نہیں کریں گے۔

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کی بونیر میں مرکزی مسلم لیگ کے امدادی کیمپ آمد

    بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ اپر سیانگ ڈیم نہ صرف پانی کی سلامتی یقینی بنائے گا بلکہ سیلابی خطرات کو بھی کم کرے گاتاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تبت اور اروناچل پردیش زلزلہ خیز علاقے ہیں اور بڑے ڈیم مزید خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔

    ادھر، بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اعلیٰ سفارتکار ایس جے شنکر نے 18 اگست کو اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات میں ڈیم پر خدشات کا اظہار کیاے شنکر کے نائب نے بھی اگست میں قانون سازوں کو بتایا کہ حکومت شہریوں کی زندگیاں اور روزگار محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جن میں ڈیم کی تعمیر بھی شامل ہے۔

    اسپیس ایکس کا دسواں اسٹارشپ مشن مؤخر

    واضح رہے کہ خود بھارت پر بھی یہ الزام ہے کہ وہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ بھارت نے رواں سال پانی کے حوالے سے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو خود ہی معطل کردیا ہےتاہم، ایک بین الاقوامی ٹربیونل نے فیصلہ دیا ہے کہ بھارت کو معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے، لیکن نئی دہلی کا کہنا ہے کہ اس پینل کو دائرہ اختیار حاصل نہیں۔