Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • عدلیہ کو اس منصب پر بٹھایا اس لیے ہے کہ انصاف کریں، علی امین گنڈاپور

    عدلیہ کو اس منصب پر بٹھایا اس لیے ہے کہ انصاف کریں، علی امین گنڈاپور

    اسلام آباد:وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہم 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف تھے اور آئندہ بھی رہیں گے۔

    وفاقی دارالحکومت میں ہائیکورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ہم عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں، آپ کو اس منصب پر بٹھایا اس لیے ہے کہ آپ انصاف کریں،26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ہم تھے اور رہیں گے، ہم عدلیہ کو کہتے ہیں کہ آپ انصاف پر فیصلے دیں، آج ہمیں 5 تاریخ کے لیے پیشی ملی ہے، کس طرح سے یہ لوگ پاکستان کے آئین و قانون کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں، عمران خان کے ساتھ ہم تھے ہیں اور رہیں گے۔

  • پاک بنگلادیش ٹی ٹوئنٹی سیریز کے میچ آفیشلز کا اعلان

    پاک بنگلادیش ٹی ٹوئنٹی سیریز کے میچ آفیشلز کا اعلان

    پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان 3 میچز پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کے میچ آفیشلز کا اعلان کر دیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق آئی سی سی ایلیٹ میچ ریفریز پینل کے ممبر سری لنکا کے رنجن مدوگالے ہوں گےپہلے ٹی ٹوئنٹی کے لیے آصف یعقوب اور راشد ریاض وقار آن فیلڈ امپائر ہوں گے احسن رضا تھرڈ امپائر ہوں گے فیصل خان آفریدی فورتھ امپائر کے فرائض انجام دیں گے۔

    دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں راشد ریاض اور وقار فیصل خان آفریدی آن فیلڈ امپائرز ہوں گے، جبکہ احسن رضا تھرڈ امپائر ہوں گے اور آصف یعقوب فورتھ امپائر ہوں گے،تیسرے ٹی ٹوئنٹی میں احسن رضا اور آصف یعقوب آن فیلڈ امپائر ہوں گے، فیصل خان آفریدی تھرڈ امپائر ہوں گے جبکہ راشد ریاض وقار چوتھے امپائر ہوں گے۔

  • ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد جرمانے 10 گنا تک بڑھا نے کا فیصلہ

    ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد جرمانے 10 گنا تک بڑھا نے کا فیصلہ

    ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد جرمانے 10 گنا تک بڑھا دیئے جائیں گے-

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ٹریفک نظام میں بہتری سے متعلق اعلیٰ سطح کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر سخت اقدامات کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد جرمانے 10 گنا تک بڑھا دیے جائیں گے۔ کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ پر ان کے والدین کو ذمہ دار ٹھہرا کر مقدمات درج کیے جائیں گے وزیراعلیٰ نے گاڑیوں سے باہر خطرناک انداز میں لٹکتے سریے کو فوری طور پر روکنے اور ایسی گاڑیوں کو بند کرنے کی ہدایت کی، جب کہ ون ویلنگ یا خطرناک ڈرائیونگ پر بھی مقدمہ درج کیا جائے گا۔

    اجلاس میں بیدیاں اور دیگر اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی میں حائل رکاوٹوں کو فوری دور کرنے کا حکم دیا گیا۔ پنجاب کے 372 اور لاہور کے 77 پوائنٹس کی ری ماڈلنگ پر بھی غور کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ ٹریفک چالان کے ساتھ ویڈیو اور تصویری ثبوت منسلک کیے جائیں، اور ٹریفک جام کی پیشگی نشاندہی کے لیے روڈ سائیڈ پر ڈیجیٹل اسکرینز نصب کی جائیں دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال پر بھاری جرمانہ عائد کرنے پر بھی اصولی اتفا ق ہوا، جب کہ بند یا خراب ہیڈ لائٹس کے ساتھ گاڑی چلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    اجلاس میں ٹریفک پولیس کی یونیفارم کی تبدیلی اور پانچ مختلف کیٹگریز میں تقسیم پر بھی غور کیا گیا۔ شفافیت کے لیے ٹریفک وارڈنز کو ان کیمرہ چالان کا اختیار دیا جائے گا وزیراعلیٰ نے ٹریفک پولیس کو جدید پٹرول گاڑیاں اور جدید ترین آلات فراہم کرنے کی منظوری بھی دی۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ ٹریفک کے نظام میں بہتری نظر نہیں آ رہی، ہمیں ٹھوس اور پائیدار اقدامات کرنا ہوں گےٹریفک حادثات کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے مؤثر اقدامات ہی کامیابی ہے، میں خود نکل کر مختلف سڑکوں پر ٹریفک کی صورتحال کا جائزہ لیتی ہوں۔

  • پاک بھارت کشیدگی:  سفارتی کمیٹی کا دورہ امریکا طے

    پاک بھارت کشیدگی: سفارتی کمیٹی کا دورہ امریکا طے

    پاک بھارت کشیدہ صورتحال پر پاکستان نے دنیا کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرنے کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر تشکیل دی گئی سفارتی کمیٹی 2 جون کو امریکا کا دورہ کرے گی-

    ذرائع کے مطابق وفد کی قیادت سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کریں گے، وفد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے خصوصی ملاقات کرے گا، جبکہ واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، امریکی کانگریس کے اراکین، تھنک ٹینکس اور میڈیا سے بھی ملاقاتیں طے کی گئی ہیں۔

    پاکستانی وفد ان ملاقاتوں میں خطے کی سلامتی کو درپیش خطرات، خصوصاً سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور اس کے ممکنہ اثرات پر دنیا کو آگاہ کرے گا اس کے علاوہ پاک بھارت تناؤ پر پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں عالمی برادری کے سامنے رکھا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق اس سفارتی سرگرمی کا مقصد بین الاقوامی سطح پر بھارت کی پالیسیوں کے منفی اثرات کو اجاگر کرنا اور عالمی حمایت حاصل کرنا ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم نے حال ہی میں موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں ایک اعلیٰ سطح سفارتی کمیٹی تشکیل دی تھی جو مختلف ممالک کا اہم دورہ کرے گی۔ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں قائم سفارتی کمیٹی بھارت کے خلاف عالمی محاذ پر پاکستان کی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

  • خیبرپختونخوا پولیس کیلئے صوبائی حکومت سے تین گنا زائد بجٹ کا مطالبہ

    خیبرپختونخوا پولیس نے مالی سال 26-2025 کے لیے صوبائی حکومت سے تین گنا زائد بجٹ کا مطالبہ کر دیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق پولیس نے نئے بجٹ میں 20 ارب روپے کی ڈیمانڈ پیش کی ہے، جس میں جدید ہتھیار، تھرمل گنز، بکتربند گاڑ یاں، آئی ٹی ساز و سامان اور ضم اضلاع میں پولیس انفراسٹرکچر کی بہتری شامل ہے رواں مالی سال کی نسبت نئے بجٹ میں ترقیاتی منصو بوں کے لیے خطیر رقم مانگی گئی ہے بندوبستی اضلاع کے لیے 14.5 ارب روپے جبکہ ضم شدہ اضلاع کے لیے 3 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    مخصوص نشستیں نظر ثانی کیس: کبھی کبھار ہار کر بھی جیت جاتے ہیں، وکیل فیصل صدیقی

    آئی جی خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ موجودہ سیکیورٹی چیلنجز اور درپیش خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ماضی کی نسبت تین گنا زیادہ بجٹ کی ڈیمانڈ کی گئی ہے تاکہ پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے،بجٹ تجاویز میں پولیس تھانوں، چیک پوسٹوں اور دیگر عمارتوں کی مرمت و تعمیر، جنوبی اضلاع میں سیف سٹی پراجیکٹ کا آغاز، اور زیر التوا ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل بھی شامل ہے۔

    نوشکی میں فائرنگ،پولیو ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار شہید

    ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ بجٹ ترجیحات میں جدید اسلحہ، اے پی سی گاڑیاں اور تھرمل گنز شامل ہیں، جبکہ ناکافی وسائل کی وجہ سے تاخیر کا شکار منصوبے اس بار ’ون ٹائم‘ بنیاد پر مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

  • مخصوص نشستیں نظر ثانی کیس: کبھی کبھار ہار کر بھی جیت جاتے ہیں، وکیل فیصل صدیقی

    مخصوص نشستیں نظر ثانی کیس: کبھی کبھار ہار کر بھی جیت جاتے ہیں، وکیل فیصل صدیقی

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستوں پرسماعت میں وکیل فیصل صدیقی سے جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ آپ سنی اتحاد کونسل کے وکیل ہیں، آپ پی ٹی آئی کی نمائندگی کیسے کر سکتے ہیں؟-

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستوں پرسماعت جاری ہے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں گیارہ رکنی آئینی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے، جسے سپریم کورٹ کے یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر کیا جا رہا ہے۔

    سماعت کے دوران وکیل فیصل صدیقی سے جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ آپ ریویو کی حمایت کر رہے ہیں یا مخالفت؟‘ آپ کو تو اس کی حمایت کرنی چاہیے تھی، جس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ ہمارا انداز محبت والا ہے، ہم ہار کر بھی جیت جاتے ہیں۔

    بعد ازاں معروف وکیل سلمان اکرم راجہ بھی روسٹرم پر آ گئے، اس دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ایک بار پھر فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ نظرثانی کو سپورٹ کر رہے ہیں یا مخالفت؟جس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ میں جسٹس مندو خیل کے فیصلے کو کسی حد تک سپورٹ کر رہا ہوں، کبھی کبھار ہار کر بھی جیت جاتے ہیں، جس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سب سے زیادہ متاثرہ آپ تھے، تو فیصل صدیقی نےکہاہمیں تو سب سے زیادہ خوشی ہے۔

    جسٹس مندوخیل نے سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی کیس میں وہ پی ٹی آئی کی طرف سے سنی اتحاد کونسل کو سپورٹ کر رہے تھے، جس پر وکیل حامد خان نے کہا کہ جان بوجھ کر پی ٹی آئی کو فریق نہیں بنایا گیا، فیصل صدیقی نے نشاندہی کی کہ بینچ میں شامل اکثریت ججز نے مرکزی کیس نہیں سنا، اور موجودہ بینچ میں چھ نئے ججز شامل ہیں، یہ آٹھ ججز کا نہیں، گیارہ ججز کا فیصلہ تھا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ نظرثانی کی درخواست صرف اقلیتی فیصلے کے خلاف دائر کی گئی فیصل صدیقی نے کہا کہ نظرثانی درخوا ست میں جسٹس جمال مندوخیل کے فیصلے پر انحصار کیا گیا ہے، میں اپنی سات گزارشات عدالت کے سامنے رکھوں گا‘۔

    فیصل صدیقی نے کہا پہلے اسی اعتراض کا جواب دوں گا کہ پی ٹی آئی فریق نہیں تھی تو ریلیف کیسے دیا گیا؟‘ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم نہیں کیے اور ان کا انتخابی نشان واپس لے لیا، یہی وہ نکتہ تھا جہاں سے تنازعہ شروع ہوا۔

    جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ یہ حقائق ہمارے سامنے نہیں ہیں،جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر میں یہ حقائق نہیں بتاؤں گا تو نئے ججز کو تنازعہ سمجھ نہیں آئے گا،الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ کیا اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا؟‘ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ ’سلمان اکرم راجہ نے چیلنج کیا، اس کا ذکر رپورٹڈ فیصلے میں موجود ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے صرف انتخابی نشان کا فیصلہ کیا تھا، پارٹی برقرار تھی، جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ دس ججز نے قرار دیا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ فیصلے کی غلط تشریح کی۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی نے اس فیصلے کی غلط تشریح کو چیلنج کیا؟ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ سلمان اکرم راجہ نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ چیلنج کیا تھا،ریٹرننگ افسر نے سلمان اکرم راجہ کو پی ٹی آئی امیدوار تسلیم نہیں کیا، جس پر سلمان اکرم راجہ نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور کیس ریمانڈ کر دیا گیا جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ کیا سلمان اکرم راجہ نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی؟

    جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے پی ٹی آئی نے خود ہی سمجھ لیا تھا کہ وہ سیاسی جماعت نہیں رہی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پی ٹی آئی خود کو پارٹی سمجھتی تھی تب ہی ٹکٹ جاری کیے تھے،فیصل صدیقی نے بتایا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے درخواست دائر کی، جبکہ ن لیگ، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور جے یو آئی نے بھی درخواستیں دائر کیں جن میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دی جائیں بلکہ یہ نشستیں انہیں دی جائیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ اصل کیس تھا، فیصل صدیقی نے نشاندہی کی کہ ان جماعتوں کو ان کی متناسب نمائندگی کے مطابق نشستیں مل چکی تھیں، جبکہ مخصوص نشستوں سے متعلق قومی اور صوبائی اسمبلی کی 78 نشستیں ہیں جن پر تنازع ہے اگر یہ نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں کو دے دی جائیں تو حکومت کو دو تہائی اکثریت مل جائے گی، اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ یہ متنازعہ دو تہائی اکثریت ہو گی، جس روز انتخابی نشان الاٹ ہونا تھا، اسی روز سپریم کورٹ نے انٹرا پارٹی انتخابات کا فیصلہ دیا-

    جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ جی ہاں، جو رات تک کیس سنا گیا اور فیصلہ دیا گیا، فیصل صدیقی نے کہا کہ اسی روز تحریک انصاف نے ایک نشان پر الیکشن لڑنے کے لیے تحریک انصاف نظریاتی کے ٹکٹس جمع کرائے، کچھ دیر بعد پی ٹی آئی نظریاتی کے چیئرمین نے میڈیا پر آ کر ٹکٹس سے انکار کر دیا، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو نشان دینے سے انکار کر دیا۔

    وکیل فیصل صدیقی ن بتایا کہ مخدوم علی خان نے اعتراض اٹھایا تھا کہ یہ درخواست پشاور ہائیکورٹ میں قابلِ سماعت نہیں تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کہا انتخابی نشان نہ دینا الیکشن کمیشن کا فیصلہ تھا یا سپریم کورٹ کا؟‘ جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ انتخابی نشان نہ دینا الیکشن کمیشن کا فیصلہ تھا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپریم کورٹ میں تو صرف تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کا مقدمہ تھا۔

    فیصل صدیقی نے عدالت میں اکثریتی فیصلے کے پیرا گراف پڑھ کر سنائے اس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ حقائق پر تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے نشاندہی کی کہ الیکشن کے دوران بھی تحریک انصاف نے سرٹیفیکیٹس جمع کروائے۔

    جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ فیصلے میں آدھے جیتے ہوئے امیدواروں کو حق دیا گیا کہ کسی سیاسی جماعت میں جائیں، کیا بہتر نہ ہوتا کہ تمام امیدواروں کو یہ حق دیا جاتا؟ فیصل صدیقی نے جواب میں کہا کہ آپ درست کہہ رہے ہیں، میری ہار میں ہی میری جیت ہے۔

    اس موقع پر جسٹس مسرت ہلالی نے سوال اٹھایا کہ آپ سنی اتحاد کونسل کے وکیل ہیں، آپ پی ٹی آئی کی نمائندگی کیسے کر سکتے ہیں؟‘ اسی نقطے پر مرکزی کیس میں بھی آپ سے سوال پوچھا گیا تھا، کیا آپ نے تحریک انصاف کی نمائندگی کے لیے اجازت لی ہے‘

    فیصل صدیقی نے وضاحت دی کہ کیس کے حقائق کی وجہ سے مجھے اس اجازت کی ضرورت نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے پر الیکشن کمیشن نے عملدرآمد نہیں کیا، لہٰذا وہ امیدوار آج بھی سنی اتحاد کونسل کے ہیں، جب تک فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوتا، ان امیدواروں کو سنی اتحاد کونسل کا مانا جائے گا۔

    سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظرثانی درخواستیں ناقابل سماعت ہیں انہوں نے آرٹیکل 63 اے کے نظرثانی کیس سمیت دیگر عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نظرثانی صرف ان نکات پر ہوسکتی ہے جہاں فیصلے میں کوئی غلطی یا قانونی نقص ہو۔

    فیصل صدیقی نے عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ یہ بات کرنا چاہتے ہیں کہ نظرثانی کن نکات پر ممکن ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں کے خلاف دائر نظرثانی درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں کیونکہ ان میں وہ قانونی بنیاد موجود نہیں جس کی بنیاد پر نظرثانی کی جا سکے۔

    عدالت نے سماعت کے بعد کیس کو 29 مئی تک ملتوی کر دیا سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

  • ڈالر کا متبادل یورو بن سکتا ہے، صدر یورپی بینک

    ڈالر کا متبادل یورو بن سکتا ہے، صدر یورپی بینک

    یورپی مرکزی بینک کی صدر کرسٹین لاگارڈ نے کہا ہے کہ امریکی ڈالر کی پشت پناہی سے قائم عالمی معاشی نظام ’ٹوٹ پھوٹ کا شکار‘ ہو رہا ہے-

    عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برلن میں ہرٹی اسکول میں ایک تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ امریکا کی قیادت میں عالمی معیشت نے کھلے پن اور کثیرالجہتی پر مبنی بنیاد پر ترقی کی، واشنگٹن کے قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام اور ڈالر کی ریزرو کرنسی کے طور پر حمایت نے تجارت کو فروغ دینے اور مالیاتی نظام کو وسعت دینے کے لیے بنیاد فراہم کی۔

    کرسٹین لاگارڈ نے کہا کہ گزشتہ 80 برسوں سے امریکا کی قیادت میں قائم اس معاشی نظام نے یورپی یونین کو بے حد فوائد پہنچائے، لیکن آج یہ نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے،عالمی معاشی نظام کی تحلیل یورپ کے لیے خطرات پیدا کرے گی،یورو ڈالر کا متبادل بن سکتا ہے-

    یورپی مرکزی بینک کی صدر کا یہ بیان بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اہم شراکت داروں پر بڑے پیمانے پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عالمی تجارتی کشیدگی کی طرف اشارہ تھا۔

  • شراب پر سے پابندی اٹھانے کی خبریں، سعودی عرب کاردعمل

    شراب پر سے پابندی اٹھانے کی خبریں، سعودی عرب کاردعمل

    ریاض: سعودی عرب نے فیفا 2034 کے تناظر میں شراب پر عائد پابندی ختم کرنے کی افواہوں کی تردید کی ہے۔

    شراب پر عائد پابندی ختم کرنے کی افواہ سب سے پہلے ایک غیر معروف وائن بلاگ پر شائع ہوئی تھی جس کے بعد کچھ بین الاقوامی میڈیا اداروں نے اس خبر کو مزید پھیلایا۔شراب پر پابندی ہٹانے کی خبر منظر عام پر آتے ہی سعودی سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھاسوشل میڈیا صارفین نے شراب پر پابندی ہٹانے کے اقدام کو مذہبی اور ثقافتی اقدار کو مجروح کرنے کی کوشش قرار دیا۔

    عرب میڈیا کے مطابق سعودیہ کے ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ ملک میں 72 سال سے عائد شراب پر پابندی کو فیفا ورلڈکپ کے دوران ہٹانے کی خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں شراب پر عائد پابندی کو ہٹانے کی تجویز تک کہیں اور کبھی بھی زیر غور نہیں رہی ہے،اسلام کے مقدس ترین مقامات مکہ اور مدینہ کی سرزمین میں شراب کی فروخت یا استعمال کا تصور بھی ناقابل قبول ہے۔

    واضح رہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب نے حالیہ برسوں کے دوران ملک میں کئی سماجی اصلاحات کی ہیں جن میں خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی کا خاتمہ، عوامی مقامات پر مرد و خواتین کی علیحدگی میں نرمی، اور مذہبی پولیس کے اختیارات میں کمی شامل ہے،سعودی عرب میں شراب نوشی پر سخت قوانین نافذ ہیں، جن کی خلاف ورزی پر جرمانہ، قید یا ملک بدری کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اگرچہ ماضی میں درّے مارنے کی سزائیں بھی دی جاتی تھیں لیکن اب یہ سزا عموماً قید میں تبدیل کر دی جاتی ہے۔

  • اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر پی ٹی آئی کا احتجاج، سکیورٹی ہائی الرٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر پی ٹی آئی کا احتجاج، سکیورٹی ہائی الرٹ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور کارکنان اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے جمع ہو گئے،احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد ہائی کورٹ کے اطراف میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    علیمہ خان اور وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور ہائی کورٹ کے باہر پہنچ گئے،پولیس اور ایف سی کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے، جب کہ قیدی وین اور بکتر بند گاڑیاں بھی ہائی کورٹ کے باہر پہنچا دی گئی ہیں سکیورٹی اداروں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ کر دیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی تحریک انصاف کی سزا معطلی کی درخواست تاحال مقرر نہیں کی جا سکی، جس پر پارٹی میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہےقیادت کا کہنا ہے کہ وہ آج ایک بار پھر عدالت سے کیس مقرر کرنے کی اپیل کرے گی۔

    اس حوالے سے مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر آج بھرپور احتجاج ہوگا26ویں آئینی ترمیم کی زنجیریں توڑ کر بانی کے کیسز سنے جائیں عدالتی نظام مفلوج ہو چکا ہے اور انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہےکیسز میں تاخیر اس بات کا ثبوت ہےکہ ان میں کوئی صداقت نہیں اور ان کا مقصد صرف بانی کو قید رکھنا ہےبانی جعلی حکومت کے اعصاب پر سوار ہیں اور ان کی رہائی سے حکومت کو اپنا انجام نظر آ رہا ہے۔

  • انتظامی مسائل:3 پروازیں منسوخ ،17 پروازوں میں تاخیر

    انتظامی مسائل:3 پروازیں منسوخ ،17 پروازوں میں تاخیر

    ایئر لائنز کے انتظامی مسائل کے باعث کراچی لاہور کی 3 پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ 17 پروازوں میں تاخیر ہوئی ہے۔

    فلائٹ شیڈول کے مطابق کراچی لاہور کی 3 پروازیں پی کے 305، 304 اور پی اے 406 منسوخ کر دی گئی ہیں، کراچی اسلام آباد کی 2 پروازویں ای آر 503 اور 505 میں 6 سے7 گھنٹے تاخیر ہے جبکہ کراچی لاہور کی 2 پروازوں 9P843، 9P847 میں سوا گھنٹے تاخیر ہے۔

    فلائٹ شیڈول کے مطابق اسلام آباد سے شارجہ، دمام اور استنبول کی 5 پروازیں تاخیر کا شکار ہیں، لاہور ایئرپورٹ سے دبئی، بینکاک اور ریاض کی 4 پروازوں میں بھی تاخیر ہوئی ہے۔