Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر زمیندار کی غیرقانونی حراست سے 6 افراد بازیاب

    لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر زمیندار کی غیرقانونی حراست سے 6 افراد بازیاب

    لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر منڈی بہاؤالدین کے رہائشی محمد قاسم کی درخواست پر چھ افراد کو ایک مقامی زمیندار کی غیرقانونی حراست سے بازیاب کرا لیا گیا۔

    جسٹس طارق محمود باجوہ نے کیس کی سماعت کی اور افراد کی بازیابی کے لیے تنویر حسین کو بیلف مقرر کیا بیلف نے مقامی پولیس کی مدد سے پھالیہ کے گاؤں جوکالیاں میں زمیندار محمد اکرم کے ڈیرے پر چھاپہ مارا اور وہاں سے تمام مغوی افراد کو بازیاب کرایا،عدالت نے تمام بازیاب ہونے والے افراد کو فوری طور پر گھر جانے کی اجازت دے دی۔

    عدالت میں جمع کروائی گئی بیلف کی رپورٹ کے مطابق مغوی محمد سلیم کو زنجیروں سے جکڑ کر رکھا گیا تھا، جبکہ اس کی اہلیہ اور بچوں کو ایک کمرے میں بند کر کے باہر سے تالہ لگایا گیا تھا رپورٹ میں بتایا گیا کہ زمیندار محمد اکرم نے پورے خاندان کو غیرقانونی طور پر قید کر رکھا تھا۔

    عدالت نے تھانہ متعلقہ ایس ایچ او کو حکم دیا کہ مدعی کی درخواست کی روشنی میں مکمل چھان بین کرے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سینیارٹی کیسے اور کس اصول کے تحت دی گئی؟، جسٹس نعیم اختر افغان

    اہلیہ کے تھپڑ مارنے کی ویڈیو پر فرانسیسی صدر کا بیان سامنے آگیا

    قلات میں زلزلے کے جھٹکے

  • اسلام آباد ہائیکورٹ میں سینیارٹی کیسے اور کس اصول کے تحت دی گئی؟، جسٹس نعیم اختر افغان

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سینیارٹی کیسے اور کس اصول کے تحت دی گئی؟، جسٹس نعیم اختر افغان

    پریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر کیس میں جسٹس نعیم اختر افغان نے کہاکہ جسٹس ڈوگر کا لاہور ہائیکورٹ میں سینیارٹی لسٹ میں 15واں نمبر تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں سینیارٹی کیسے اور کس اصول کے تحت دی گئی۔

    سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی ٹرانسفر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،دورانِ سماعت اٹارنی جنرل نے دلائل مکمل کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کی درخواست کو میرٹ پر مسترد کیا جائے جبکہ دیگر درخواستوں کو ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کیا جائے۔

    سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفرنگ ججز کی نئی تقرری نہیں ہوئی اور ان ججز کو نئے حلف کی بھی ضرورت نہیں سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ سنیارٹی تقرری کے دن سے شروع ہوگی۔

    جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ سیکرٹری لاء نے ٹرانسفرنگ ججز کی حلف نہ اٹھانے کی وضاحت کیوں دی؟ جس پر اٹارنی جنرل نے وضاحت کی کہ ایڈوانس کی منظوری کے بعد ججز کے نوٹیفکیشن میں ابہام نہ ہو، اس لیے وضاحت دی گئی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ججز کی سنیارٹی کا تعین کیا اور وہ اس میں مکمل طور پر آزاد تھے چار ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز اور رجسٹرارز کی رپورٹس میں ججز کے تبادلے پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ججز کی ریپریزنٹیشن اور فیصلے کو درخواست گزار وکلاء نے دلائل میں ذکر تک نہیں کیا، اور کسی نے ریپریزنٹیشن اور فیصلے کو پڑھا نہ ہی دلائل دیے ریپریزنٹیشن میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے کیا استدعا کی تھی؟ جس پر اٹارنی جنر ل نے بتایا کہ ججز نے ٹرانسفرنگ ججز کے دوبارہ حلف اٹھانے پر سنیارٹی کے تعین کی استدعا کی تھی، جسٹس مظہر نے کہا کہ عدالت کو درخواست گزار ججز کے وکلاء نے تمام باتیں نہیں بتائیں۔

    اٹارنی جنرل نے آئین کے آرٹیکل 200 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ججز ٹرانسفرز کا طریقہ اس آرٹیکل میں واضح ہے اور اس پر ویٹو پاور عدلیہ کو دی گئی ہے، ایگزیکٹیو کو نہیں، ججز کے ٹرانسفر کے وقت تمام چیف جسٹسز نے اپنی آمادگی ظاہر کی تھی۔

    جسٹس صلاح الدین نے اعتراض کیا کہ سینیارٹی کے معاملے پر کسی چیف جسٹس سے رائے نہیں لی گئی اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کہ سنیارٹی کوئی ایسا معاملہ نہیں تھا جسے چیف جسٹسز کے علم میں لایا جاتا، اور یہ تعین اسلام آباد ہائیکورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس کا اختیار تھا۔

    جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال اٹھایا کہ ججز کے ٹرانسفر کے حوالے سے کون سا اصول اپنایا گیا اور کیوں جسٹس سرفراز ڈوگر کو ٹرانسفر کے لیے چنا گیا؟ انہوں نے نشاندہی کی کہ جسٹس ڈوگر لاہور ہائیکورٹ میں سنیارٹی میں 15ویں نمبر پر تھے اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں پہلے نمبر پر آ گئے۔

    جسٹس صلاح الدین نے کہا کہ دوسرے ہائیکورٹس سے ججز ٹرانسفر ہو کر آئے تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو سنیارٹی طے کرنے کا اختیار نہیں تھا، جبکہ اٹارنی جنرل نے کہا کہ چونکہ ججز اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہو چکے تھے، اس لیے چیف جسٹس ہی مجاز تھے،جسٹس صلاح الدین نے کہا کہ یہ طے ہونا ابھی باقی ہے کہ ٹرانسفر شدہ ججز اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز ہیں یا پرانی ہائیکورٹس کے۔

    جسٹس شکیل احمد نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ تین سوالات پر عدالت کی معاونت کی جائے اگر یہ ٹرانسفرز مستقل ہیں تو ججز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے کے ذریعے ہونی چاہیے، بلوچستان ہائیکورٹ سے جو ججز ٹرانسفر ہوئے، وہ ایڈیشنل ججز ہیں، اور سوال اٹھایا کہ ان کی کارکردگی کو کون جانچے گا، بلوچستان ہائیکورٹ یا اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس؟ ٹرانسفر کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کی ججز انتظا می کمیٹی پر کیا اثر پڑا؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم میں آرٹیکل 175 اے شامل ہوا مگر آئین سازوں نے آرٹیکل 200 کو نہیں نکالا یہ قابل قبول نہیں کہ آرٹیکل 175 اے کے بعد ججز کا آرٹیکل 200 پر تبادلہ نہ ہو سکے جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ججز کا تبادلہ آرٹیکل 200 کے تحت عوامی مفاد میں ہوگا، اور پوچھا کہ یہاں ججز کے تبادلہ میں عوامی مفاد کیا تھا کیونکہ نوٹیفکیشن میں اس کا ذکر نہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ججز کے ٹرانسفر پر سیفٹی وال لگا ہے۔

    جسٹس نعیم افغان نے سوال کیا کہ کیا آرٹیکل 200 کے ذیلی سیکشن 1 اور 2 کو ایک ساتھ پڑھا جائے اور آیا تبادلہ عبوری ہوگا؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ عارضی تبادلے کی صورت میں اضافی الاؤنسز ملتے ہیں جبکہ مستقل تبادلہ ہو تو کوئی اضافی الاؤنس نہیں ملتا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ذیلی سیکشن کی زبان واضح نہیں ہے اور نوٹیفکیشن میں یہ ذکر بھی نہیں کہ ٹرانسفر مستقل ہے یا عارضی۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹرانسفر ججز میں کسی نے عارضی یا مستقل ٹرانسفر کا اعتراض نہیں اٹھایا اور تمام سے مستقل ٹرانسفر کی رضامندی لی گئی تھی۔

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جوڈیشل کمیشن کے اجلاسوں کے منٹس آف میٹنگ بھی طلب کر لیے جسٹس نعیم اختر افغان نے 17 جنوری اور 10 فروری کے جوڈیشل کمیشن اجلاسوں کی تفصیلات طلب کیں جسٹس محمد علی مظہر نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ ان اجلاسو ں میں کیا ہوا تھا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 17 جنوری کے اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو ایڈیشنل ججز کی تقرری ہوئی جبکہ 10 فروری کے اجلاس میں جسٹس عامر فاروق کی سپریم کورٹ میں تقرری ہوئی۔

    جسٹس افغان نے پوچھا کہ کیا 10 فروری کے اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز لسٹ میں جسٹس ڈوگر بھی شامل تھے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی، وہ لسٹ میں شامل تھے مگر ان کے نام پر غور نہیں ہوا، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 29 مئی تک ملتوی کر دی۔

  • اہلیہ کے تھپڑ مارنے کی ویڈیو پر فرانسیسی صدر کا بیان سامنے آگیا

    اہلیہ کے تھپڑ مارنے کی ویڈیو پر فرانسیسی صدر کا بیان سامنے آگیا

    فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کا بیرون ملک دورے کے دوران اہلیہ کے تھپڑ مارنے کی ویڈیو پر ردعمل دیدیا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ویتنام کے دورے کے دوران جب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا طیارہ ایئرپورٹ پر اترا اور دروازہ کھلا تو ایک عجیب منظر دیکھا گیا جہاز کا دروازہ کھلتے ہی فرانسیسی صدر کو دیکھا جا سکتا ہے جو کھڑے ہوئے ہیں اور گفتگو کر رہے ہیں اچانک ایک ہاتھ ان کے چہرے پر پڑتا ہےفرانسیسی صدر کو جیسے ہی اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ یہ منظر فلم بند ہوچکا ہے وہ ایک لمحے کو گھبرا جاتے ہیں۔

    بعد ازاں وہ خود کو سنبھال لیتے ہیں اور اہلیہ کے ہمراہ سیڑھیوں سے اترنے لگتے ہیں اور سب کچھ نارمل دکھائی دینے کے لیے بیگم کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کرتے ہیں جسے ان کی اہلیہ ٹھکرا دیتی ہیں تاہم اس موقع پر بھی فرانسیسی صدر بالکل نارمل رہتے ہیں لیکن یہ ویڈ یو جنگل کی آگ طرح پھیل گئی جس کا فرانسیسی صدر کو جواب دینا پڑ گیا۔

    مالی پریشانیوں سے تنگ فیملی نے اجتماعی خودکشی کرلی

    فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ اہلیہ بریجیت میکرون کا انھیں چہرے پر مارنا محض "مذاق اور نوک جھونک” کا حصہ تھا صدر میکرون نے کہا کہ ہماری اس روایتی نوک جھوک کو دنیا بھر میں غلط تاثر دے کر پھیلایا جا رہا ہے یہ سب بکواس ہےفرانسیسی صدر نے حیرانگی کا اظہار کیا کہ کس طرح ایک سادہ سے مذاق کو عالمی بحران کی طرح پیش کیا جا رہا ہے۔

    صدر میکرون نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں ان کے خلاف بدنیتی پر مبنی اطلاعات کی ایک لہر شروع ہو چکی ہے، جن میں سے ہر ایک کا مقصد انہیں بدنام کرنا ہےاس سے پہلے یوکرین کے دورے کے دوران ان کی ایک ویڈیو میں ٹشو پیپر کو "کوکین کا پیکٹ” قرار دیا گیا تھا اسی طرح البانیا میں ترک صدر اردوان سے مصافحہ کو "جنگی مقابلہ” بنا کر پیش کیا گیا۔

    ایمانوئل میکرون نے آخر میں عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں اور جھوٹی خبروں پر کان نہ دھریں اور اصل مسائل پر توجہ دیں۔

    تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

  • قلات میں زلزلے کے جھٹکے

    قلات میں زلزلے کے جھٹکے

    قلات میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے –

    قلات میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ، جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، شہری خوفزدہ ہو کردعائیں اور کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 3.6 اور گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی ہے، زلزلے کا مرکز قلات سے 180 کلومیٹر مشرق میں تھا،

    مالی پریشانیوں سے تنگ فیملی نے اجتماعی خودکشی کرلی

    بلوچستان کے علاقے خضدار اور گردونواح میں بھی زلزلہ کے جھٹکے محسوس کیے گئے ، ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 3 اعشاریہ 6 ریکارڈ کی گئی تھی زلزلہ پیما مرکز کا مزید کہنا تھا کہ زلزلے کا مرکز خضدار سے 45 کلو میٹر جنوب میں تھا جبکہ گہرائی 12 کلو میٹر تھی-

    ریسکیو ادارے اور پولیس ممکنہ آفٹر شاکس کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز

  • مالی پریشانیوں سے تنگ فیملی نے اجتماعی خودکشی کرلی

    مالی پریشانیوں سے تنگ فیملی نے اجتماعی خودکشی کرلی

    بھارت میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد نے زہر کھا کر خودکشی کر لی۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر دیہرادون (Dehradun) میں پیش آیا جہاں سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 7 افراد نے مبینہ طور پر مالی پریشانیوں سے تنگ آکر زہر کھا کر خودکشی کر لی۔

    رپورٹ کے مطابق خودکشی کرنے والا خاندان شدید مالی بحران کا شکار تھا اور اسی وجہ سے انہوں نے یہ انتہائی قدم اٹھایاپریوین مِتّل جو دیہرادون کے رہائشی تھے، اپنے خاندان کے ساتھ پنچکولہ کے باگیشور دھام میں منعقدہ ایک روحانی پروگرام میں شرکت کے لیے آئے تھے افسوسناک واقعہ اُس وقت پیش آیا جب خاندان پروگرام کے اختتام کے بعد واپس دیہرادون جا رہا تھا۔

    سورج بیت اللہ کے عین اوپر ہو گا، قبلہ رخ کا تعین کیا جاسکے گا

    عینی شاہدین کے مطابق سب سے پہلے مقامی رہائشیوں نے گاڑی میں موجود لوگوں کو پریشانی کی حالت میں دیکھا انہوں نے کوشش کی کہ کار کا دروازہ کھول کر انہیں نکالا جائے اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔

    پُنیت نامی ایک عینی شاہد نے میڈیا کو بتایا کہ یہ واقعہ ہمارے گھر کے قریب پیش آیا کسی نے بتایا کہ ایک کار باہر کھڑی ہے جس پر تولیہ ڈالا گیا ہے جب ہم نے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ بابا کے پروگرام میں آئے تھے اور ہوٹل نہیں ملا، اس لیے کار میں سو رہے ہیں ہم نے انہیں گاڑی ہٹانے کو کہا اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ وہ آپس میں الٹیاں کر چکے تھے، تب ہم نے ایک شخص کو کار سے نکالا،جب انہوں نے ایک فرد کو نکالا تو وہ واحد شخص تھا جو سانس لے رہا تھا، باقی سب بے ہوش تھے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز

    متاثرہ شخص کے آخری الفاظ سناتے ہوئے پُنیت نے کہا کہ اس نے کہا کہ وہ بھی پانچ منٹ میں مر جائے گا کیونکہ اس نے بھی زہر کھا لیا ہے ہم قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں، پولیس وقت پر پہنچ گئی تھی، تاہم ایمبولینس 45 منٹ کی تاخیر سے پہنچی۔

    رپورٹ کے مطابق بعدازاں خاندان کے تمام افراد کو اسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں مردہ قرار دے دیا گیا خودکشی کرنے والے افراد میں 42 سالہ پریوین مِتّل، ان کے والدین، اہلیہ، اور تین بچے (دو بیٹیاں اور ایک بیٹا) شامل ہیں۔

    تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش سے واقعہ خودکشی کا معلوم ہوتا ہے فرانزک ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے ہم تمام شواہد اکٹھے کرنے کے بعد تجزیہ کریں گے،جائے وقوعہ سے ایک خودکشی نوٹ بھی برآمد ہوا ہے، لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے پنچکولہ کے ایک نجی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

  • سورج بیت اللہ کے عین اوپر ہو گا، قبلہ رخ کا تعین کیا جاسکے گا

    سورج بیت اللہ کے عین اوپر ہو گا، قبلہ رخ کا تعین کیا جاسکے گا

    سورج کل 28 مئی کو بیت اللہ کے عین اوپر سے گزرے گا اور اس دوران قبلہ رخ کا تعین کیا جا سکتا ہے۔

    فلکیاتی ماہرین نے اعلان کیا ہے کہ28 مئی 2025 کو، سورج دوپہر 12:18 بجے (مکہ مکرمہ کے وقت کے مطابق) خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا (یعنی پاکستانی وقت کے مطابق 2 بج کر 18 منٹ پر) اس نایاب فلکیاتی منظر کے دوران سورج عمودی طور پر کعبہ کے اوپر ہوگا، اس وقت دنیا بھر کے سایوں کا رخ بیت ا للہ کے مخالف سمت ہو گا، اس وقت پر سائے پر نشان لگا کر قبلہ رخ معلوم کیا جا سکتا ہے-

    سعودی عرب کی فلکیاتی سوسائٹی کے مطابق، یہ منظر سال میں دو بار رونما ہوتا ہے، جب سورج کا زاویہ زمین کے ایسے مقام پر آجاتا ہے کہ وہ خانہ کعبہ کے بالکل اوپر ہوتا ہے اس موقع پر دنیا کے کسی بھی مقام سے اگر سورج کو دیکھا جائے تو وہی سمت قبلہ کی ہوگی۔

    واضح رہے کہ رواں سال 2025 میں سورج کے خانہ کعبہ کے عین اوپر آنے کا یہ پہلا واقعہ ہے ماہرین نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے گھروں، مساجد اور دیگر مقامات پر قبلہ کی درستگی کو یقینی بنائیں، دوبارہ سورج 16 جولائی کو بیت ا للہ کے اوپر سے گزرے گا۔

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر مثبت رجحان رہا –

    کاروباری ہفتے کے دوسرے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز ہوا ، 100 انڈیکس میں 280 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا جس سے انڈیکس ایک لاکھ 18 ہزار 502 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتے دیکھا گیا، گزشتہ روز اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان رہا تھا جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    دوسری جانب انٹربینک میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر 9 پیسے سستا ہو گیا، جس کے بعد انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 281 روپے 97 پیسے ہو گئی ہے۔

  • تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے اسلام آباد راولپنڈی سمیت مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق منگل کے روز ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہےکشمیر، خیبرپختونخوا، اسلام آباد، بالائی/جنوبی پنجاب، شمال مشرقی بلوچستان اور گلگت بلتستان میں تیز ہوائیں چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کی توقع ہے اس دوران چند مقامات پر موسلادھار بارش اور ژالہ باری ہونے کا بھی امکان ہے۔

    اسلام آباد، پنجاب ، خیبر پختونخوا ، کشمیر اور گلگت بلتستان میں آج شام سے 31 مئی کے دوران آندھی اور بارش کا امکان ہے اس بارے میں این ڈی ایم اے نے بھی ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کو ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق اسلام آباد میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہےراولپنڈی، مری، سیالکوٹ، لاہور، فیصل آباد، سرگودھا، میانوالی اور جھنگ میں آندھی اور بارش کی توقع ہے، ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، لیہ، مظفر گڑھ میں بھی بارش کا امکان ہے –

    سوات، دیر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، چترال، بونیر، پشاور، مالاکنڈ، مردان، صوابی اور چارسدہ میں بھی بارش ہونے کا امکان ہے کوئٹہ، ژوب، بارکھان، خضدار اور قلات میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے وادی نیلم، مظفر آباد، راولا کوٹ، کوٹلی، میرپور، دیامر، استور، ا سکردو ، گلگت، ہنزہ اور شگر میں بارش اور ژالہ باری ہونے کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر کا موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 29.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جب کہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 سے 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاسکتاہے، ہوا میں نمی کا تناسب 72 فیصد ہے اور شمال مغرب سے گرم ہوائیں 10کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔

  • سینئر سیاستدان کمال الدین اظفر انتقال کر گئے

    سینئر سیاستدان کمال الدین اظفر انتقال کر گئے

    سابق وزیر خزانہ و گورنر سندھ کمال الدین اظفر رضائے الہیٰ سے کراچی میں انتقال کر گئے۔

    کمال الدین اظفر طویل عرصے سے ملکی سیاست اور قانون کے شعبے میں فعال کردار ادا کرتے رہے مرحوم کمال الدین اظفر نے 1970 میں پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی اور پارٹی کےوفادار کارکن کے طور پر پہچانے گئے وہ دو بار سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور سندھ کے وزیر خزانہ اور بعد ازاں گورنر سندھ کے اہم عہدوں پر فائز رہے۔

    کمال الدین اظفرکے انتقال پر سیاسی و سماجی شخصیات نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے-

  • کویت کیجانب سے 19 سال بعد پاکستانیوں کیلئے دروازے کھل گئے

    کویت کیجانب سے 19 سال بعد پاکستانیوں کیلئے دروازے کھل گئے

    کویت نے پاکستانی شہریوں کیلئے ویزوں پر عائد پابندی ختم کر دی۔

    کویت کی جانب سے انیس سال بعد پاکستانیوں کے لئے دروازے کھل گئے ہیں، وزارت اوورزسیز پاکستانیز کے فوکل پرسن مصطفی ملک نے کہا ہے کہ کویتنے پاکستانیوں کو ورک، فیملی، وزٹ، سیاحتی اور کمرشل ویزوں کے اجرا کا آغاز کردیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ویزوں کے اجرا سے ہزاروں افراد کو کویت میں روزگار، تجارت اور سیاحت کے مواقع میسر آئیں گے، ان کا کہنا تھا کہ تمام ویزے آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے حاصل کئے جا سکیں گے۔

    واضح رہے کہ کویتی دینار دنیا کی سب سے مضبوط کرنسی ہے اور ایک کویتی دینار کی قدر 914 پاکستانی روپے ہے کویت نے 2011 میں پاکستان، ایران، شام اور افغانستان کے شہریوں کو ویزے جاری کرنا بند کر دیئے تھے، جس کی وجہ ان ممالک میں خراب سیکیورٹی حالات بتائی گئی تھی اس کےبعد پاکستان نےکئی بار کوششیں کیں کہ پاکستانی شہریوں کے لیے ویزے کی بحالی ہوسکے لیکن کوئی کامیابی حاصل نہ ہو سکی سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی2017 میں اپنے کویت کے دورے کے دوران پاکستانی شہریوں کے لیے ویزے کی بحالی کی درخواست کی تھی۔

    گلف نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ کویت میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر ظفر اقبال نے آگاہ کیا ہے کہ کویتی حکومت نے پاکستانی شہریوں کو مختلف اقسام کے ویزے جاری کرنے کا عمل باضابطہ طور پر دوبارہ شروع کر دیا ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے اور اہم لیبر ضروریات کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

    پاکستانی سفیر نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ کویت کے شعبہ صحت میں بڑھتی ہوئی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ہزار 200 پاکستانی نرسوں کو بھرتی کرنے کا منصوبہ ہے اس ضمن میں نرسوں کا ابتدائی گروپ (جس میں 125 نرسیں شامل تھیں) پچھلے ہفتے پہنچنا تھا لیکن رہائش کے مسائل کی وجہ سے اس کی آمد تاخیر کا شکار ہوئی، خصوصی ٹیمیں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں، اور ہمیں امید ہے کہ نرسیں آئندہ چند دنوں میں کویت پہنچ جائیں گی۔