Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • پی پی پی اور جے یو آئی کا  ایک پلیٹ فارم سے سینیٹ الیکشن لڑنے پر اتفاق

    پی پی پی اور جے یو آئی کا ایک پلیٹ فارم سے سینیٹ الیکشن لڑنے پر اتفاق

    پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے ایک پلیٹ فارم سے سینیٹ الیکشن لڑنے پر اتفاق کرلیا۔

    ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی اور جے یو آئی کے وفود کی ملاقات آج اسلام آباد میں ہوئی، پیپلزپارٹی اور جے یوآئی نے ایک پلیٹ فارم سے سینیٹ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرلیا،پیپلزپار ٹی اور جے یوآئی اپوزیشن اتحاد کے لیے دیگر پارٹیز سے رابطے کریں گی، پیپلز پارٹی اور جے یوآئی کے درمیان ملاقات میں فیصلہ ہوا۔

    پیپلز پارٹی کے وفد میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کنڈی، خورشید شاہ اور ظاہر شاہ شریک تھے، جبکہ ملاقات کے دوران جے یو آئی کے اکرم خان درانی، مولانا لطف الرحمان، اسعد محمود ،اسجد محمود موجود تھے۔

    دوسری جانب مولانا فضل الرحمان اپنے ایک بیان میں کہہ چکے ہیں پی ٹی آئی سے تعلقات میں میانہ روی اور اختلاف کو اختلاف تک رکھنا چاہتے ہیں،کہا کہ میں پی ٹی آئی کے ساتھ اختلاف ختم نہیں کررہا لیکن تعلقات کو بہتر بنانا میرے مقاصد میں سے ہے، میں پی ٹی آئی سے اختلاف کو اختلاف کی حد تک رکھ کر تلخیوں کو دور کرنا چاہتاہوں، میں پی ٹی آئی کی تلخی اور بداخلاقی پر کوئی جواب نہیں دینا چاہتا۔

    چار گھنٹوں میں انڈیا کو لپیٹنے والی ہماری ریاست اتنی کمزور نہیں،مولانا فضل الرحمان

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا جواب ان سے پوچھ لیں اس غیر معقول سوال کا جواب میں کیوں دوں؟ میں نے خیبر پختون خوا میں عدم اعتماد کی بات پی ٹی آئی کے خلاف نہیں کی، میں نے مشورہ دیا ہے کہ صوبے میں تبدیلی کی ضرورت ہے، میں نے پی ٹی آئی کے اندر تبدیلی لانے کی بات کی ہے، میں نے اپوزیشن کی سودا بازیوں اور ارکان توڑنے کے بجائے پی ٹی آئی کے اندر نئی ایڈمنسٹریشن کی بات کی ہے۔

    اٹلی سے غزہ کیلئے امدادی کشتی “ہندالہ” روانہ

  • چار گھنٹوں  میں انڈیا کو لپیٹنے والی ہماری ریاست اتنی کمزور نہیں،مولانا فضل الرحمان

    چار گھنٹوں میں انڈیا کو لپیٹنے والی ہماری ریاست اتنی کمزور نہیں،مولانا فضل الرحمان

    سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے تعلقات میں میانہ روی اور اختلاف کو اختلاف تک رکھنا چاہتے ہیں-

    چارسدہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ مدارس بل پر حکومتی اتحاد کے بدنیتی ظاہر ہو چکی ہے، صدر مملکت نے مدارس آرڈیننس ایکٹ پر دستخط کیے ہیں، مدارس آرڈیننس کو توسیع دی جار ہی ہے مگر قانون سازی نہیں ہو رہی، مدارس ترمیمی بل کے حوالے سے حکومت کے عزائم ٹھیک نہیں ہیں، مدارس ترمیم بل کے حوالے سے فیصلہ وفاق المدارس اور تنظیمات مدارس کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ امن و امان اور شہریوں کے جان ومال کی ذمہ داری ریاست کی ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کےجان و مال کی حفاظت کریں چار دہائیوں سے دہشت گردی کے واقعات ریاستی اداروں کا منہ چڑا رہے ہیں، چار گھنٹوں میں انڈیا کو لپیٹنے والی ہماری ریاست اتنی کمزور نہیں، سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ چار دہائیوں سے جاری دہشت گردی پر قابو کیوں نہیں پایا جارہا؟ ریاستی ادارے دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے سنجیدہ نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے عوام پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگا رہے ہیں،عوام نے سوات سے لے کروزیرستان تک چند گھنٹوں میں علاقے خالی کیے، آج بھی وہ لوگ اپنے ہی ملک میں مہاجر ہیں، سیکیورٹی ادارے ایک بار پھر عوام کو علاقے خالی کرنے کا کہہ رہے ہیں، ریاستی ادارے اپنی ناکامی کی ذمہ داری عوام پر نہ ڈالیں، ادارے اپنے گریباں میں جھانک اپنا امتحان لیں مگر یہاں تو ادارے ٹانگ پر ٹانگ ڈال کر عوام پر رعب ڈال رہے ہیں، ریاستی اداروں کا لب و لہجہ رعب والا ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے ہر میٹنگ اور جرگہ میں عام لوگوں کو اپنے لہجے سے مرعوب کر رہے ہیں، ریاستی ادارے اپنا لب و لہجہ سیدھا کرلیں، ادارے ہمارے ساتھ انسان اور پاکستانی بن کر بات کریں، اداروں کے لوگ مافوق الفطرت نہیں ہیں اور نہ یہ عوام سے بالاتر ہیں، ریاستی اداروں کے لوگ ہماری طرح کے انسان ہیں اور ہمارا اور ان کا شناختی کارڈ ایک ہے، مجھے اس بات پر تشویش ہے کہ ریاستی ادارے جرگے بلاکر ان کو دھمکیاں دیتے ہیں۔

    سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ صرف اور صرف اسٹیبلشمنٹ موجودہ حالات کی ذمہ دار ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے عوام پر الزامات لگا رہے ہیں، خیبر پختون خوا میں اپوزیشن پارٹیاں ایک مخصوص نشست کے لیے عدالتوں میں جا رہی ہے، مسلم لیگ ن نے مخصوص نشست پر عدالت میں جے یو آئی کے خلاف کیس دائر کیا ہے، موجود ہ حالات میں مسلم لیگ ن کا یہ اقدام کس کو فائدہ دے گا؟ ایسی اپوزیشن کا میں کیا کرو ں جس کا ہر قدم صوبائی حکومت کے فائدے میں جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختون وا میں موجودہ اپوزیشن کے ساتھ ان حالات میں کیسے چلیں گے؟ہم معتدل سیاست کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں، حکمران بھی ہمیں لچر زبان میں جوا ب اور گالیاں دے رہے ہیں، اپوزیشن جماعتیں بھی ہمارے خلاف عدالتوں میں جار ہی ہے، ایسی صورتحال میں خیبر پختون خوا میں عدم اعتماد کا سوچ غلط ہے۔

    انہوں ںے کہا کہ افغانستان سے تعلقات بہتر بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے، ہم افغانستان کے خلاف پہلے کاروائی اور بعد میں بات چیت شروع کرتے ہیں، افغانستان کے خلاف کارروائی سے تلخیاں پیدا ہوتی ہے اور مذاکرات کا ماحول ختم ہو جاتا ہے، میثاق جمہوریت پر ہم ایک بار ہاں کر چکے ہیں، جے یو آئی آج بھی میثاق جمہوریت پر قائم ہے، اگر سیاست دان میثاق جمہوریت پر عمل کریں تو ایک بہتر ماحول پیدا ہو سکتا ہے میں پی ٹی آئی کے ساتھ اختلاف ختم نہیں کررہا لیکن تعلقات کو بہتر بنانا میرے مقاصد میں سے ہے، میں پی ٹی آئی سے اختلاف کو اختلاف کی حد تک رکھ کر تلخیوں کو دور کرنا چاہتاہوں، میں پی ٹی آئی کی تلخی اور بداخلاقی پر کوئی جواب نہیں دینا چاہتا۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا جواب ان سے پوچھ لیں اس غیر معقول سوال کا جواب میں کیوں دوں؟ میں نے خیبر پختو خوا میں عدم اعتماد کی بات پی ٹی آئی کے خلاف نہیں کی، میں نے مشورہ دیا ہے کہ صوبے میں تبدیلی کی ضرورت ہے، میں نے پی ٹی آئی کے اندر تبدیلی لانے کی بات کی ہے، میں نے اپوزیشن کی سودا بازیوں اور ارکان توڑنے کے بجائے پی ٹی آئی کے اندر نئی ایڈمنسٹریشن کی بات کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں خیبر پختونخوا سیاسی کشمکش کا متحمل نہیں ہوسکتا، آج بھی کہتا ہوں کہ اس صوبے کی اکثریت جعلی ہے، پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہے اور عدالت نے تسلیم بھی کیا ہے، ساری دنیا پی ٹی آئی کی حکومت مان رہی ہے ،اس میں ہم کچھ نہیں کرسکتے، تاریخ فیصلہ کرے گی کہ مینڈیٹ چوری کے حوالے سے ہمارا دعویٰ غلط یا درست ؟-

  • چیئرمین پی اے آر سی اور ڈائریکٹر اسٹیبلشمنٹ   3 دن کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

    چیئرمین پی اے آر سی اور ڈائریکٹر اسٹیبلشمنٹ 3 دن کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

    ایف آئی اے نے پاکستان ایگریکلچر ریسرچ (کونسل پی اے آرسی) کے چیئرمین ڈاکٹرغلام محمد علی کو غیر قانونی بھرتیوں کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے-

    ایف آئی اے کی جانب سے دائر مقدمہ کے مطابق چئیرمین پی اے آر سی پر آڈٹ اعتراض تھا کہ انہوں نے اپنے ادارے میں بھرتیوں میں مروجہ طریقہ کار نظر انداز کیا ہے اور 154 افراد کی بجائے 332 افراد کو بھرتی کیا اس بڑے حجم کی غیرقانونی بھرتیوں کے بعد ایف آئی اے نے تحقیقات شروع کیں اور گرفتاری عمل میں لائی گئی-

    ڈائریکٹر اسٹیبلشمنٹ اخلاق ملک کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے ایف آئی اے نے مقدمہ درج کر کے پی اے آر سی کے دونوں اعلیٰ افسران کو گرفتار کرکے تحقیقات شروع کر دیں مقدمے میں دیگر 17 افسر و اہلکار بھی نامزد ہیں جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل نے دونوں ملزمان کو 3 دن کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا ہے ایف آئی اے نے 14 دن کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست دی تھی تاہم عدالت نے تین دن کی منظوری دی جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ملزمان کو 17 جولائی کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    ایف آئی اے نے بتایا ہے کہ دیگر ملوث افسران کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ اس کیس کو مکمل طور پر شفاف اور قانون کے مطابق حل کیا جا سکے۔

  • اٹلی سے غزہ کیلئے امدادی کشتی  “ہندالہ”  روانہ

    اٹلی سے غزہ کیلئے امدادی کشتی “ہندالہ” روانہ

    روم: اٹلی کے شہر سیراکوس سے فلسطینیوں کی حمایت میں ایک اور امدادی کشتی “ہندالہ” غزہ کے لیے روانہ ہو گئی۔

    عالمی میڈیا کے مطابق اٹلی سے روانہ ہونے والی کشتی میں تقریباً15 بین الاقوامی کارکن سوار ہیں۔ جو انسانی ہمدردی کے تحت ادویات، خوراک، طبی سازوسامان اور بچوں کا سامان لے کر روانہ ہوئے ہیں یہ مشن فریڈم فلوٹیلا کولیشن کے تحت ترتیب دیا گیا ہے جس کا مقصد غزہ پر اسرائیلی ناکہ بندی توڑنا اور فلسطینیوں کو درپیش انسانی بحران کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔

    روانگی کے موقع پر بندرگاہ پر موجود افراد نے فلسطینی پرچم لہرا کر اور “فری فلسطین” کے نعرے لگا کر عملے کا استقبال کیا یہ کشتی بحیرہ روم میں ایک ہفتے کا سفر کرے گی اور تقریباً ایک ہزار 800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے غزہ کے ساحل تک پہنچنے کی کوشش کرے گیکشتی راستے میں اٹلی کے شہر گلیپولی میں رکے گی، جہا ں فرانس کی جماعت “فرانس انبوڈ” کے 2 ارکان بھی مشن میں شامل ہوں گے۔

    امریکی صدر کا روس پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی

    یہ مشن اس کشتی “میڈلین” کے بعد سامنے آیا ہے جسے 6 ہفتے قبل اسرائیلی فوج نے غزہ پہنچنے سے قبل روک کر اس پر سوار افراد، بشمول معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو ملک بدر کر دیا تھافرانسیسی رکن پارلیمنٹ گیبریل کتھالا نے روانگی سے قبل کہا کہ یہ مشن غزہ کے بچوں کے لیے ہے۔ تاکہ موجودہ خاموشی کو توڑا جا سکے۔ اگر ہمیں روکا گیا تو یہ اسرائیل کی بین الاقوامی قوانین کی ایک اور خلاف ورزی ہو گی۔

    اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں جاری جنگ کے نتیجے میں اب تک 57 ہزار 882 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

    چیف جسٹس کا ملک کے ہر صوبے میں لاء کمیشن کے نمائندے تعینات کرنے کا اعلان

  • امریکی صدر  کا روس پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی

    امریکی صدر کا روس پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس یوکرین جنگ بندی نہ ہونے کی صورت میں روس پر سخت ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے دی۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 50 دن میں جنگ بندی معاہدہ نہ ہوا تو روس پر بہت سخت ٹیرف نافذ کریں گے اور یوکرین کو ہتھیاروں کی ترسیل نیٹو کی معاونت سے ہو گی، صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر 50 روز میں امن معاہدہ نہ ہوا تو روس پر اضافی 100 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بات نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے سے اوول آفس میں ملاقات کے بعد میڈیا سےگفتگو کے دوران کہی۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ روسی صدر ولادیمیرپیوٹن سے خوش نہیں کیونکہ صدر پیوٹن کو یوکرین سے 2 ماہ قبل ہی امن معاہدہ کرلینا چاہیےتھا لیکن روسی صدر نے ایسا نہیں کیا وہ روس کو یوکرین سے امن معاہدے کےلیے 50 دن کا وقت دے رہے ہیں، اگر روس معاہدہ کرنے میں ناکام رہا تو سخت ٹیرف عائد کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ نیٹو کو بہترین ساز و سامان بھیجنے والے ہیں جبکہ تجارت جنگیں ختم کرانے کے لیے بہترین طریقہ ہے اربوں ڈالر کا فوجی سازوسامان فوری طور پر تقسیم کیا جائے گا،ثانوی ٹیرف بہت سخت ہوں گے آج یوکرین کو ہتھیار بھیجنے کا معاہدہ کیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل دفاعی سسٹم فراہم کرنے کا بھی اعلان کردیا کہا کہ وہ یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل سسٹم فراہم کریں گے تاکہ یوکرین روس کے خلاف جنگ میں اپنا دفاع کرسکے تجارت جنگوں کے خاتمے کا بہترین ذریعہ ہے، ہم نے پاکستان بھارت کے درمیان جنگ رُکوائی، دونوں ممالک تیزی سے جوہری جنگ کی طرف جا رہے تھےتجارتی ٹیکسوں میں اضافے پر یورپی یونین اور دیگر ممالک سے بات چیت کے لیے تیار ہیں اور اس حوالے سے یورپی یونین حکام بات چیت کے لیے آرہے ہیں۔

    دوسری جانب سیکرٹری جنرل نیٹو نے کہا کہ یورپی ممالک آگے بڑھ رہے ہیں، اور یہ پہلا مرحلہ ہے جب مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 روز قبل یورپی یونین اور میکسیکو پر 30 فیصد تجارتی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیاتھا، کہا تھا کہ یکم اگست سے یورپی یونین کی مصنوعات اور میکسیکو سے درآمد کی جانے والی اشیا پر 30 فیصد ٹیکس نافذ ہوگا۔

  • چیف جسٹس کا ملک کے ہر صوبے میں لاء کمیشن کے نمائندے تعینات کرنے کا اعلان

    چیف جسٹس کا ملک کے ہر صوبے میں لاء کمیشن کے نمائندے تعینات کرنے کا اعلان

    سپریم کورٹ رجسٹری کوئٹہ میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ملک کے ہر صوبے میں لاء کمیشن کے نمائندے تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے-

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰی آفریدی نے سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری برانچ میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں بار ایسوسی ایشنز اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے درمیان تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ اجلاس میں انصاف کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر غور کیا گیا۔

    اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس روزی خان اور بلوچستان ہائیکورٹ کے رجسٹرار، سپریم کورٹ بار، پاکستان بار اور بلوچستان بار کے نمائندوں نے شرکت کی جبکہ اجلاس میں وفاقی و صوبائی محکموں، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ حکام بھی شریک ہوئے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ملک کے ہر صوبے میں لاء کمیشن کے نمائندے تعینات کرنے کا اعلان کیا، جو ضلعی بارز میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کریں گے۔

    چیف جسٹس کا ملک کے ہر صوبے میں لاء کمیشن کے نمائندے تعینات کرنے کا اعلان

    انہوں نے کم ترقی یافتہ اضلاع میں عدالتی بنیادی ڈھانچے کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی سطح پر انصاف کے منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد کی ہدایت کی،غریب سائلین کو مفت قانونی نمائندگی فراہم کرنے کا اعلان کیا جس کے تحت وکلاء کو ریاست کی جانب سے 50 ہزار روپے تک معاوضہ دیا جائے گا جبکہ قانونی معاونت کا دائرہ کا سپریم کورٹ تک بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

    چیف جسٹس نے بارز سے اہل وکلاء کے نام نامزد کرنے اور وکلاء کی تربیت کے لیے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے پروگرامز سے استفادہ کرنے کی ہدایت کی جبکہ تربیتی کیلنڈر کو بارز میں وسیع پیمانے پر تقسیم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا کراچی میں ہونے والے اگلے اجلاس میں بارز کے مسائل پر مزید مشاورت کی جائے گی۔

    اوکاڑہ: بارش کے دوران چھتیں گرنے کے 3 واقعات، 8 سالہ بچے سمیت 8 افراد زخمی

    قبل ازیں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی آج اپنے پہلے دورے پر کوئٹہ پہنچے تھے، دورے کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے جبکہ سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری آمد پر ان کا استقبال کیا گیا تھاچیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 بینچ کوئٹہ رجسٹری میں مختلف نوعیت کے کیسز کی سماعت کر رہے ہیںبینچ نمبر ایک میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد شامل ہیں جبکہ بینچ نمبر 2 جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل ہے،چیف جسٹس کے اس دورے کو عدالتی نظام کی بہتری اور بلوچستان میں زیر التواء مقدمات کی مؤثر سماعت کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

    سونے کی قیمت میں آج پھر اضافہ

  • سونے کی قیمت میں آج پھر  اضافہ

    سونے کی قیمت میں آج پھر اضافہ

    ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 1600 روپے کا اضافہ ہو ا ہے-

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے رپورٹ کیا کہ 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت ایک ہزار 600 روپے بڑھ کر 3 لاکھ 59 ہزار 700 روپے ہو گئی اسی طرح 24 قیراط 10 گرام سونا 1,371 روپے مہنگا ہو کر 3 لاکھ 8 ہزار 384 روپے تک جاپہنچا جبکہ 22 قیراط 10 گرام سونا 1,257 روپے اضافے سے 2 لاکھ 82 ہزار 695 روپے میں فروخت ہوا،بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 16 ڈالر اضافے سے 3 ہزار 372 ڈالر ہو گئی۔

    جبکہ چاندی کے فی تولہ اور 10 گرام کی قیمت میں بالترتیب 65 اور 55 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمت 4 ہزار 87 روپے اور 3 ہزار 503 روپے ہوگئی۔

    سب کو بنیادی امور پر ’چارٹر آف اکانومی‘ پر متفق ہونا چاہیے،رانا ثنااللہ

    ایف سی میں عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق نئے ونگز بنائے جائیں گے، طلال چودھری

    پی آئی اے کی نجکاری کیلیے چار پارٹیاں شارٹ لسٹ

  • سب کو بنیادی امور پر ’چارٹر آف اکانومی‘ پر متفق ہونا چاہیے،رانا ثنااللہ

    سب کو بنیادی امور پر ’چارٹر آف اکانومی‘ پر متفق ہونا چاہیے،رانا ثنااللہ

    وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کا مقصد ملک کو غیر مستحکم کرنا ہے اور وہ سیاستدانوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی خواہاں ہے، اپوزیشن اور حکومت دونوں کے لیے، اور سب کو بنیادی امور پر ’چارٹر آف اکانومی‘ پر متفق ہونا چاہیے-

    رانا ثنااللہ نےپی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ سیاستدانوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی خواہاں ہے، ان کے احتجاج کا مقصد ملک کو غیر مستحکم کرنا ہے ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، علی امین گنڈا پور کے الفاظ سے واضح ہے کہ پی ٹی آئی کا مقصد ’معرکہ حق کے فوراً بعد‘ جس سے پاکستان کو استحکام کا موقع ملا کو غیر مستحکم کرنا ہے اس کے علاوہ ان کا اور کیا ایجنڈا ہے، یہ معلوم نہیں ہے،اگر یہ پُرامن رہیں تو ٹھیک ہے، احتجاج ان کا جمہوری حق ہے، لیکن اگر انہوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی تو پھر قانون اپنا راستہ لے گا ملک کو غیر مستحکم کرنا ’شروع سے ہی پی ٹی آئی کا ایجنڈا رہی ہے‘، انہوں نے آئی ایم ایف کے دفتر کے باہر بھی مظاہرہ کیا تھا، تاکہ پاکستان کو دیے گئے ہنگامی قرضے کی مخالفت کی جا سکے۔

    ایف سی میں عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق نئے ونگز بنائے جائیں گے، طلال چودھری

    انہوں نے یہ تاثر مسترد کیا کہ حکومت، جو اب نسبتاً مستحکم ہے، عمران خان کی رہائی کے لیے مذاکرات میں زیادہ نرمی برتے گی پی ٹی آئی نے خود پہلے مذاکرات میں یہ مؤقف اپنایا تھا کہ عمران خان کی رہائی پر بات نہیں ہو گی، کیونکہ عمران خان نے خود کہا تھا کہ وہ اپنے کیس میں میرٹ پر بری ہونا چاہتے ہیں حکومت پی ٹی آئی سے دیگر معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن پارٹی کی حالیہ اپیلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ’حکومت سے نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی جماعتوں یا سیاستدانوں کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں، وہ اب بھی اپنے ایجنڈے پر قائم ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے دوبارہ اقتدار میں آئیں،ہماری صرف ایک خواہش اور کوشش پاکستان کی معیشت کی بحالی اور کامیابی ہےتاکہ ہر شہری کی فلاح کو یقینی بنایا جا سکےاور پاکستان کو ایک فلاحی ریاست کے طور پر عالمی نقشے پر مقام ملے اگر پی ٹی آئی اور دیگر جماعتیں اس مقصد کے لیے تعاون پر تیار ہوں تو حکومت مذاکرات کے لیے بیٹھنے کو تیار ہے، یہ سب کے باہمی مفاد میں ہے، اپوزیشن اور حکومت دونوں کے لیے، اور سب کو بنیادی امور پر ’چارٹر آف اکانومی‘ پر متفق ہونا چاہیے، جب کہ اس حوالے سے ہم ہر مفاہمت یا معاہدے کے لیے تیار ہیں۔

    پی آئی اے کی نجکاری کیلیے چار پارٹیاں شارٹ لسٹ

    واضح رہے کہ علی امین گنڈا پور اور پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک کا باضابطہ آغاز کرنے کے لیے لاہور کا دورہ کیا تھا جس کا مقصد ملک گیر احتجاج کی حکمت عملی ترتیب دینا تھا اور اس کا آغاز 5 اگست سے ہوگا، جس دن سابق وزیراعظم کو جیل میں 2 سال مکمل ہوں گے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے ایک روز قبل ریاستی اداروں سے پی ٹی آئی سے مذاکرات کرنے کی اپیل کی تھی، تاہم ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خود کو جوابدہ بھی ٹھہرائیں-

  • ایف سی میں  عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق نئے ونگز بنائے جائیں گے، طلال چودھری

    ایف سی میں عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق نئے ونگز بنائے جائیں گے، طلال چودھری

    وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ ایف سی دیگر لاء فورس اداروں کی طرح کام کرے گی، عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق نئے ونگز بنائے جائیں گے۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طلال چودھری نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد ایف سی فیڈرل حکومت کے تحت کام کرتی رہی ہے، ایف سی کا قیام 1913 میں ہوا، ماضی میں ایف سی وفاقی حکومت کے انڈر بھی کام کرتی رہی ہےایف سی نے ملک کے لیے بہت سی قربانیاں دی ہیں، ایف سی کی تنخواہیں پولیس سے کم تھیں، ایف سی کے بہت سے اہلکار دہشتگردی کیخلاف شہید ہوئے، ایف سی کے حوالے سے اقدامات کررہے ہیں، فیڈرل کا نسٹیبلری اورپولیس دونوں مختلف محکمے ہیں، فرنٹیئر کانسٹیبلری اب فیڈرل کانسٹیبلری کہلائے گی، اب پورے پاکستان سے ایف سی میں لوگ بھرتی کئے جا ئیں گے۔

    پی آئی اے کی نجکاری کیلیے چار پارٹیاں شارٹ لسٹ

    اس موقع پر کمانڈنٹ ایف سی ریاض نذیرگاڑا نے کہا کہ ایف سی جس ایکٹ کے تحت کام کررہی تھی اس کو 100 سے زائد سال گزر گئے، وقت کے ساتھ ضرورت تھی کہ ایف سی میں اصلاحات لائی جائیں، ایف سی کو جدید خطوط پر استوار کررہے ہیں، فیڈرل کانسٹیبلری کے 41 ونگز ہوں گے، فیڈرل کانسٹیبلری کے ڈھانچے کو مختلف شعبوں میں اور 6 مختلف ڈیویژنز میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کو ملک بھر میں کام کرنے کا بااختیار بنا دیا ہے۔ لا اینڈ جسٹس ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صدر مملکت نے فرنٹیئر کانسٹیبلری ری آرگنائزیشن آرڈیننس 2025 جاری کر دیا ہے، جس کے تحت فرنٹیئر کانسٹیبلری کا نام بدل کر فیڈرل کانسٹیبلری رکھا جائے گا۔

    انڈونیشیا میں 6.7 شدت کا زلزلہ

  • پی آئی اے کی نجکاری کیلیے چار پارٹیاں شارٹ لسٹ

    پی آئی اے کی نجکاری کیلیے چار پارٹیاں شارٹ لسٹ

    اسلام آ باد:اسکروٹنی کمیٹی نے چار پارٹیوں کو نیلامی میں شرکتِ کیلئے منظوری دے دی، جلد نیلامی کی تاریخ طے کی جائے گی۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نجکاری کا اجلاس چیئرمین فاروق ستار کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں، پی آئی اے کی نجکاری، بجلی کی صورتحال، پوسٹل لائف کا محکمہ اور دیگر ایشوز زیر بحث آئے۔

    سیکرٹری نجکاری کمیشن عثمان باجوہ نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے 5 پارٹیوں نے اظہار دلچسپی ظاہر کی اور درخواستیں جمع کروائیں، اسکروٹنی کمیٹی نے چار پارٹیوں کو نیلامی میں شرکتِ کیلئے منظوری دی، ان پارٹیوں کو کل سے پی آئی اے کے دفاتر میں اکاؤنٹس اور آپریشنز کا جائزہ لینے کی اجازت دی گئی ہے پارٹیوں کی ڈیو ڈیلیجنس کے بعد بولی کی تاریخ مقرر کی جائے گی۔

    انڈونیشیا میں 6.7 شدت کا زلزلہ

    سیکرٹری نجکاری کمیشن نے کہا کہ حکومت قومی ایئر لائن کی نجکاری رواں سال کی آخری سہ ماہی تک مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، سرمایہ کاروں کی تسلی کے بعد ہی پی آئی اے کی نجکاری کی جائے گی، ہم نے خطے کی دیگر ائیر لائنز کو بھی نیلامی میں شرکت کی دعوت دی تھی، پاکستان کے بڑے بزنس گروپس پی آئی اے کی نجکاری میں دلچسپی رکھتے ہیں، پی آئی اے کو سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور یہ گروپس سرمایہ کاری کی سکت رکھتے ہیں۔

    فاروق ستار نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب بھی تو پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی رکھتی تھیں؟اس پر سیکریٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ پنجاب حکومت اپنی ایئر لائن شروع کرنا چاہتی ہے، پنجاب حکومت نے پی آئی اے کی نجکاری میں اظہار دلچسپی ظاہر نہیں کی۔

    15 سے 17 جولائی تک شدید بارشوں کی پیشگوئی

    سی ای او پی آئی اے نے کہا کہ پی آئی اے نے فرانس کی فلائٹس شروع کر دیں ہیں، مانچسٹر کی فلائٹس کسی بھی وقت بحال ہو جائیں گی، پی آئی اے کے حالات گزشتہ سال کے مقابلے میں بہت بہتر ہیں،سیکرٹری نجکاری کمیشن نے کہا کہ ادارے کی نجکاری کے دوران پی آئی اے ملازمین کی جاب سیکیورٹی کیلئے کام کریں گے، نئے خریدار کو پی آئی اے کے 19 جہازوں کے فلیٹ کو 45 تک لے کر جانا ہوگا۔