Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • نوجوان پر تشدد کیس: ملزم سلمان فاروقی کے خلاف مقدمہ ختم

    کراچی: پولیس نے نوجوان پر تشدد کے کیس میں نامزد ملزم سلمان فاروقی کے خلاف مقدمہ ختم کر دیا۔

    کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ڈیفنس میں نوجوان پر تشدد سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی، جس دوران پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم سلمان فاروقی کے خلاف کارروائی ختم کر دی گئی ہے۔

    گزری تھانے کی پولیس نے مقدمہ ختم کرنے کی رپورٹ عدالت میں جمع کراتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ نوجوان دھیرج عرف دھن راج نے ملزمان کے خلاف مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور بیان حلفی میں لکھا ہے کہ ملزمان نے نہ تو اس سے اور نہ ہی اس کی بہن سے کوئی بدتمیزی کی، مدعی کے حلفیہ بیان کی بنیاد پر جان سے مارنے کی دھمکی اور دیگر الزامات بھی ختم کر دیے گئے ہیں۔

    عدالت نے پولیس رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ ڈیفنس خیابان اتحاد میں موٹرسائیکل سوار نوجوان کو اُس کی بہنوں کے سامنے تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں سلمان فاروقی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا گیا تھا کہ مبینہ طور پر معمولی ٹکر کے واقعے پر کار سوار سلمان فاروقی نے نوجوان کو سڑک پر روک کر مارا پیٹا، حالانکہ اُس کی بہنیں منتیں کرتی رہیں۔ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے سلمان فاروقی اور اویس ہاشمی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا-

  • انڈونیشیا  میں 6.7 شدت کا زلزلہ

    انڈونیشیا میں 6.7 شدت کا زلزلہ

    مشرقی انڈونیشیا کے ساحل کے قریب 6.7 شدت کا زلزلہ آیا-

    عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یو ایس جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے بتایا ہے کہ پیر کو مشرقی انڈونیشیا کے قریب 6.7 شدت کا زلزلہ آیا زلزلہ مغربی انڈونیشیا کے وقت کے مطابق شب 12 بج کر 49 منٹے ( پاکستانی وقت کے مطابق رات10 بج کر 49 منٹ پر ) آیا اور اس کا مرکز مشرقی مالوکو صوبے کے شہر ٹوال سے تقریباً 177 کلومیٹر مغرب میں 66 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔

    بحرالکاہل سونامی وارننگ سینٹر کا کہنا تھا کہ سونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے، اور انڈونیشیا کی جیو فزکس ایجنسی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ زلزلے میں ’ سونامی پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں تھی،زلزلے کے نتیجے میں ساحلی علاقے میں فوری طور پر کسی نقصان یا جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

    15 سے 17 جولائی تک شدید بارشوں کی پیشگوئی

    وسیع جزیرہ نما ملک انڈونیشیا بحرالکاہل کے ’ رنگ آف فائر’ پر اپنی پوزیشن کی وجہ سے کثرت سے زلزلوں کا سامنا کرتا ہے’ رنگ آف فائر’ شدید زلزلہ سرگر میو ں کا مرکز ایک قوس نما علاقہ ہے جہاں ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ٹکراتی ہیں جو جاپان سے جنوب مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کے طاس تک پھیلا ہوا ہے۔

    اس علاقے میں جنوری 2021 میں سولاویسی میں آنے والے 6.2 شدت کے زلزلے سے 100 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو گئے تھے 2018 میں، سولاویسی کے پالو میں 7.5 شدت کے زلزلے اور اس کے بعد آنے والے سونامی سے 2200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور 2004 میں، آچے صوبے میں 9.1 شدت کا زلزلہ آیا، جس سے سونامی آیا اور اس کے نتیجے میں انڈونیشیا میں 170000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    ٹیکس گوشوارے کا آسان اور اردو میں ہونا خوش آئند امر ہے، وزیرِ اعظم

  • 15 سے 17 جولائی تک شدید بارشوں کی پیشگوئی

    15 سے 17 جولائی تک شدید بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے مون سون کے موجودہ اسپیل میں پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ کے مختلف علاقوں میں معتدل سے شدید بارشوں کا امکان ظاہر کردیا۔

    محکمہ موسمیات نے مون سون کے موجودہ اسپیل کے دوران 15 سے 17 جولائی تک تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ شدید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، 14 سے 17 جولائی کے دوران کشمیر میں بارش اور کئی مقامات پر موسلادھار بارش کی توقع ہے، جبکہ انہی ایام میں گلگت بلتستان میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی ہے۔

    14 سے 17 جولائی کے دوران خیبرپختونخوا میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور کئی مقامات پر شدید موسلادھار بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے،پیر تا جمعرات پنجاب ، اسلام آباد راولپنڈی میں گرج چمک کے ساتھ اور مختلف مقامات پر موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 14 سے 16 جولائی کے دوران سندھ میں تھرپارکر، میرپور خاص، شہید بے نظیر آباد میں وقفے وقفے سے تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ہےمحکمہ موسمیات نے مری، گلیات، مانسہرہ، سوات، کوہستان، گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی ظاہر کیا ہے اور مسافروں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاط کی ہدایت کی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے جس کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

  • حمیرا اصغر کی موت کیسےہوئی ؟پولیس کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل

    حمیرا اصغر کی موت کیسےہوئی ؟پولیس کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل

    اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

    کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 میں ایک فلیٹ سے معروف ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش برآمد ہونے کے واقعے کی تحقیقات کا عمل جاری ہے، وہ گزشتہ 7 سال سے اس کرائے کے فلیٹ میں مقیم تھیں ایس ایس پی ساؤتھ نے واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایس پی کلفٹن کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

    تحقیقاتی کمیٹی اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا اداکارہ کی موت طبعی تھی، حادثاتی، خود کشی کا نتیجہ تھی یا یہ کوئی قتل کا واقعہ ہے کمیٹی شواہد جمع کرکے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہےتحقیقاتی ٹیم میں ایس ڈی پی او ڈیفنس، اے ایس پی ندا جنید، ایس ایچ او گزری فاروق سنجرانی، سب انسپکٹر محمد امجد اور آئی ٹی برانچ سے پولیس کانسٹیبل محمد عدیل شامل ہیں،ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر حکام کو تفتیش سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کرے۔

    پاکستان میں 2025 اور اس کے بعد مزید ترقی کی توقع ہے،آئی ایم ایف

    ذرائع کے مطابق، پولیس نے حمیرا اصغر کے زیر استعمال تین موبائل فون، ایک لیپ ٹاپ اور آئی پیڈ کا ڈیٹا حاصل کرلیا ہے جنہیں تفتیش کے لیے کھول دیا گیا ہے،تحقیقاتی ٹیم نے اب تک دو افراد کے بیانات قلمبند کرلیے گئے ہیں، جبکہ مزید دو افراد کو طلب کیا گیا ہےپولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قبل تمام شواہد کا مکمل تجزیہ ضروری ہے۔

    تاجک سوشل میڈیا اسٹار کی چوری کے الزام میں دبئی ائیرپورٹ پر گرفتاری و رہائی

  • پاکستان میں 2025 اور اس کے بعد مزید ترقی کی توقع ہے،آئی ایم ایف

    پاکستان میں 2025 اور اس کے بعد مزید ترقی کی توقع ہے،آئی ایم ایف

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان میں 2025 اور اس کے بعد مزید ترقی کی توقع ہے،لیکن بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی، جغرافیائی سیاسی تقسیم اور عالمی تعاون کی کمزوری عالمی معاشی منظرنامے پر غیر معمولی غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے –

    عالمی مالیاتی فنڈ کے پاکستان میں نمائندے ماہر بینیچی نے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) میں اپنے لیکچر میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ (مینا) خطے اور پاکستان میں بدلتے ہوئے معاشی منظرنامے پر روشنی ڈالی اور پاکستان کی معاشی اور موسمیاتی اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے فنڈ کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔

    ایس ڈی پی آئی میں ماہرینِ معیشت، محققین اور پالیسی ماہرین سے خطاب کرتے ہوئے بینیچی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان میں ترقی 2025 اور اس کے بعد مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے لیکن بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی، جغرافیائی سیاسی تقسیم اور عالمی تعاون کی کمزوری عالمی معاشی منظرنامے پر غیر معمولی غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے جس سے محتاط اور دور اندیش پالیسی اقدامات کی فوری ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔’

    وفاقی حکومت سندھ کے سولر اور ونڈ پاور منصوبوں کی مخالفت بند کرے،شرجیل میمن

    پاکستان پر بات کرتے ہوئے بینیچی نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) کے تحت ملک کی کارکردگی ’ اب تک مضبوط رہی ہے’ ، اور انہوں نے مئی 2025 میں آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پہلے جائزے کی کامیاب تکمیل کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیا کہا کہ ابتدائی پالیسی اقدا ما ت نے بیرونی چیلنجز کے باوجود معاشی استحکام بحال کرنے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد دوبارہ قائم کرنے میں مدد دی ہے۔’

    انہوں نے زور دیا کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پاکستان کی طویل المدتی معاشی پائیداری کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں، خاص طور پر ایسی اصلاحات جو ٹیکس کے نظام میں برابری کو مضبوط بنائیں، کاروباری ماحول کو بہتر کریں اور نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری کو فروغ دیں۔

    5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا،علی امین

    انہوں نے آئی ایم ایف کے ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (RSF) کے تحت پاکستان کی موسمیاتی اصلاحات کی پیش رفت کو بھی اُجاگر کیا بینیچی کے مطابق، آر ایس ایف ایسے ممالک کو مدد فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے تاکہ وہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکیں اور بین الاقوا می موسمیاتی وعدوں کو پورا کر سکیں-

  • وفاقی حکومت سندھ کے سولر اور ونڈ پاور منصوبوں کی مخالفت بند کرے،شرجیل میمن

    وفاقی حکومت سندھ کے سولر اور ونڈ پاور منصوبوں کی مخالفت بند کرے،شرجیل میمن

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ کے پاس ملک کو توانائی کے بحران سے نکالنے کے لیے وافر وسائل موجود ہیں، وفاقی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے صوبے کے توانائی کے شعبے کی ترقی شدید متاثر ہو رہی ہے-

    شرجیل انعام میمن نےکہا کہ نئی نمبر پلیٹ اسکیم گاڑیوں کی رجسٹریشن کے عمل کو جدید بنانے، جرائم کی روک تھام اور گاڑیوں کی چوری جیسے مسائل کو حل کرنے کے لیے شروع کی گئی، سندھ حکومت عوام کی حقیقی شکایات سننے کو تیار ہے، عوامی فلاح کے اقدامات پر سیاست ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کے پاس ملک کو توانائی کے بحران سے نکالنے کے لیے وافر وسائل موجود ہیں وفاقی حکومت کی جانب سے اختیار کی گئی پالیسیوں کی وجہ سے صوبے کے توانائی کے شعبے کی ترقی شدید متاثر ہو رہی ہے، اگر سندھ کو اس کے وسائل کے مطابق اختیار اور سہولیات فراہم کی جائیں تو توانائی کے شعبے میں انقلاب لایا جا سکتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ اسٹیک ہولڈرز، ماہرین اور پالیسی ساز صوبے کے وسیع توانائی ذخائر اور پائیدار توانائی کے حل پر کھل کر بات کریں۔

    تاجک سوشل میڈیا اسٹار کی چوری کے الزام میں دبئی ائیرپورٹ پر گرفتاری و رہائی

    شرجیل میمن نے کہا کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران تھر کول منصوبے کے تحت 30 ملین ٹن کوئلہ مختلف آزاد پاور پروڈیوسرز (IPPs) کو فراہم کیا گیا، کوئلے سے 31 گیگا واٹ بجلی پیدا کی گئی، اس بجلی سے تقریباً 30 لاکھ گھروں کو بجلی مہیا ہوئی، تھر کے کوئلے میں اتنی صلاحیت ہے کہ یہ آئندہ کئی دہائیوں تک پاکستان کی بجلی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی کاوشوں سے 105 کلومیٹر طویل ریلوے لائن تعمیر کی جا رہی ہے، یہ ریلوے لائن تھر کول کو قومی اور عالمی منڈیوں سے جوڑ دے گی، سندھ نے متبادل توانائی کے شعبے میں بھی اہم اقدامات کیے ہیں، سندھ کا ونڈ کوریڈور فعال ہے، متعدد سولر انرجی منصوبے بھی زیر تکمیل ہیں، نوری آباد پاور پروجیکٹ اس وقت کراچی کو 100 میگا واٹ بجلی فراہم کر رہا ہے، صوبائی حکومت نے سولر انرجی منصوبوں کے لیے 2.5 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا ہے، تھر کے مستحق رہائشیوں کے لیے 200 یونٹ تک بجلی کے بل بھی صوبائی حکومت ادا کر رہی ہے۔

    90 روزہ تحریک لگتاہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے،عظمی بخاری

    انہوں نے کہا کہ کراچی کے لیے دو نئے سولر پارکس کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، حیدرآباد ریجن کے لیے منجھند میں سولر منصوبہ اور سکھر و لاڑکانہ کے لیے سولر پارکس بھی زیر منصوبہ بندی ہیں، وفاقی حکومت صوبے کے منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرے اور مکمل تعاون فراہم کرے، وفاقی حکومت سندھ کے سولر اور ونڈ پاور منصوبوں کی مخالفت بند کرے، پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے۔

    وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ صوبے بھر میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری ہے، شہری علاقوں میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے صرف سکھر میں 37 خطرناک عمارتوں کو نوٹس جاری کیے ہیں، کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور نوابشاہ میں بھی عمارتوں کی جانچ پڑتال جاری ہے، غیر قانونی تعمیرات میں ملوث افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی اور قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

    5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا،علی امین

    شرجیلمیمن نے کہا کہ دریائے سندھ میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے، گڈو اور سکھر بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب کی اطلاعات ہیں، سندھ ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی تمام بیراجوں، پشتوں اور حساس علاقوں کی کڑی نگرانی کر رہی ہیں، کچے کے علاقوں اور نشیبی بستیوں میں امدادی کیمپ اور ضروری لوجسٹکس پہلے سے فعال کر دیے گئے ہیں، عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ممکنہ انخلا کی صورت میں حکام سے مکمل تعاون کریں۔

  • تاجک سوشل میڈیا اسٹار کی چوری کے الزام میں دبئی ائیرپورٹ پر گرفتاری و رہائی

    تاجک سوشل میڈیا اسٹار کی چوری کے الزام میں دبئی ائیرپورٹ پر گرفتاری و رہائی

    تاجکستان کے سوشل میڈیا اسٹار اور بھارتی شو بگ باس سے شہرت حاصل کرنے والے عبدو روزق کو دبئی ایئرپورٹ پر گرفتار کرلیا گیا۔

    عرب میڈیا کے مطابق 21 سالہ عبدو روزوق کو مبینہ طور پر چوری کے الزام میں سیکیورٹی فورسز نے دبئی ائیرپورٹ سے حراست میں لیا تاجکستان کے پستہ قد گلوکار اور سوشل میڈیا اسٹار کو مونٹی نیگرو سے دبئی ایئرپورٹ پہنچے تھے جب انھیں حراست میں لے لیا تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت پر گزشتہ روز رہا کر دیا گیا تاہم ان کے بیرونِ ملک سفر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، ان معلومات کی سرکاری ذرائع سے آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جاسکی –

    اس حوالے سے عبدو رزوق کی ٹیم اور دبئی حکام کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا نہ ہی تاجکستان کی حکومت نے کوئی ردعمل دیا ہے عبدو روزوق کی ٹیم کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا لیکن ہمیں معلوم ہوا ہے کہ گرفتاری چوری کے الزام میں ہوئی ہے۔

    5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا،علی امین

    خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 21 سالہ عبدو روزِق نے چند گھنٹوں بعد انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس میں وہ 12 جولائی کو دبئی کے حیات ریجنسی دبئی کریک ہائٹس ہوٹل میں منعقدہ انڈیا انٹرنیشنل انفلوئنسرز ایوارڈز (آئی آئی آئی اے) میں ایوارڈ وصول کرتے نظر آرہے ہیں، تاہم ویڈیو میں گرفتاری یا حراست کا
    کوئی ذکر نہیں کیا گیا –

    دبئی میڈیا آفس نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا جبکہ دبئی پولیس کی جانب سے اتوار کی دوپہر تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں ہوا تھا۔

    ہارمون کی کمی کے باعث عبدو روزِق کا قد محض 3 فٹ سے کچھ زیادہ ہے، وہ خلیجی خطے کی نمایاں ترین نوجوان عوامی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں،وہ یو اے ای گولڈن ویزا کے حامل ہیں اور کئی برسوں سے دبئی میں مقیم ہیں، انہوں نے موسیقی، وائرل ویڈیوز، اور رئیلٹی شوز بگ باس 16 میں شرکت سے شہرت حاصل کی۔

    علی امین گنڈاپور خود تین میں ہیں نہ تیرہ میں،ووٹ سے نہیں بلکہ نوٹ سے جتوایا گیا، حافظ حمد اللہ

    سال 2024 میں انہوں نے دبئی کے کوکا کولا ایرینا میں اپنا پہلا باکسنگ میچ لڑا اور برطانیہ میں اپنے ریستوران حبیبی کا آغاز کیا، اسی سال انہیں بھارت میں ایک منی لانڈرنگ کیس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا تھا، اگرچہ انہیں ملزم نامزد نہیں کیا گیا۔

  • 5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا،علی امین

    5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا،علی امین

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی نے تحریک چلائی ہے تو وہ بانی پی ٹی آئی نے چلائی ہے، تحریک شروع ہو چکی ، حکومت میں رہیں یا نہ رہیں ، 90 دن میں آر یا پار کریں گے۔

    لاہور میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ عام انتخابات سے پہلے پی ٹی آئی سے انتخابی نشان چھینا گیا، بانی پی ٹی آئی کیخلاف بوگس اورسیاسی کیسز ہیں ، ہمارے خلاف کیسز میں انہیں کچھ نہیں ملا،ہمارے خلاف ابھی بھی کارروائیاں جاری ہیں، پی ٹی آئی کو احتجاج کرنے کے آئینی حق سے روکا جا رہا ہے، پاکستان کے ہر شہر اور محلے سے لوگوں کو اکٹھا کریں گے، تحریک کو آگے کیسے لے کرجائیں گے اس حوالے سے لائحہ عمل دیں گے۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پاکستان کے لیے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، مذاکرات فیصلہ سازوں سے ہوں گے ، ملک میں آئین اور قانون کی عملداری ہونی چاہیے ،ہم نے کوئی غلطی کی ہے تو سزا کے لیے تیار ہیں، اگر سازش ثابت ہو جائے تو مجھے چوک میں لٹکا دیں، اگر سزا پر بات آئے تو پھر سب کو سزا ہو گی،تحریک کا اعلان بانی نے کیا وہی لیڈ کریںگے ، ہماری گزارش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، عوام دیگر سیاسی جماعتوں کو مسترد کر چکے ہیں۔

    90 روزہ تحریک لگتاہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے،عظمی بخاری

    انہوں نے کہ میں نے اپنی غیرموجودگی میں مولانا فضل الرحمان کو ہرایا ،میرے بھائی نے بھی مولانا فضل الرحمان کو شکست دی، مولانا فضل الرحمان اپنے حلقے میں الیکشن نہیں لڑ سکتےمجھے کہا گیا فضل الرحمان کے بارے میں بات نہ کریں، مولانا فضل الرحمان اور پورے صوبے میں ان لوگ فارم 47 پر آئے، مولانا اندر سے اب بھی ملے ہوئے ہیں۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ سیاسی تحریک کے 90 دن کا آغاز گزشتہ رات سے ہو چکا ہے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے واضح کیا کہ یہ تحریک ”آر یا پار“ ہوگی اور اس کی قیادت خود بانی پی ٹی آئی کریں گے، بانی پی ٹی آئی کے دور میں دہشت گردی پر قابو پایا گیا، امن قائم ہوا اور ملک کی معیشت نے بہتری کی راہ پکڑی۔ موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہ سیاسی کارکنوں کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، لیکن وقت آنے پر ہمارے سیاسی مخالفین خود ہی میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔

    علی امین گنڈاپور خود تین میں ہیں نہ تیرہ میں،ووٹ سے نہیں بلکہ نوٹ سے جتوایا گیا، حافظ حمد اللہ

    علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ 5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا، حکومت نے ہمارے خلاف درجنوں مقدمات بنائے لیکن انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا ’ہم نے ہمیشہ آئینی راستہ اپنایا، سڑکوں پر احتجاج کرنا میرا قانونی اور جمہوری حق ہے جسے کوئی طاقت مجھ سے نہیں چھین سکتی، موجودہ سیاسی و معاشی بحران کا حل صرف اور صرف شفاف انتخابات اور آئینی بالادستی میں ہے، اور اس کیلئے پی ٹی آئی کی تحریک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے،اس بار صرف تحریک نہیں بلکہ ایک نظریاتی بیداری کی لہر ہے جو پاکستان بھر میں پھیل چکی ہے۔ ’آنے والے 90 دنوں میں فیصلہ ہو جائے گا کہ عوام کا حق غالب آئے گا یا جبر کا نظام باقی رہے گا۔‘

    تربیلا ڈیم کے اسپل ویز کھولے جارہے ہیں، دریائے سندھ میں سیلاب کا خدشہ، ایڈوائزری جاری

  • 90 روزہ تحریک  لگتاہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے،عظمی بخاری

    90 روزہ تحریک لگتاہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے،عظمی بخاری

    پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا مطالعاتی دورے پر لاہور آئے ہیں ، 90 روزہ تحریک حکومت بچانے کا بہانہ ہے،علی امین گنڈا پور صرف بڑھکیں مارتے ہیں، سیاسی لوگ ہی سیاسی لوگوں سے مذاکرات کرتے ہیں-

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ علی امین گنڈاپور بطور وزیر اعلیٰ آئیں تو ان کی مہمان نوازی کریں گے، اگر اسلحے کیساتھ آئیں گے تواس کی اجازت نہیں ہو گی کسی کو پنجاب میں ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دی جائے گی، پنجاب کی ترقی کو آگ نہ لگائیں تو ہمیں وزیراعلیٰ کے لاہور آنے پر کوئی اعتراض نہیں،علی امین گنڈا پور صرف بڑھکیں مارتے ہیں، سیاسی لوگ ہی سیاسی لوگوں سے مذاکرات کرتے ہیں ، جن پر تنقید کرتے ہیں انہی لوگوں کو ہی مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں ،ایک اور 90 دن کا پلان آیا ہے، لگتا ہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور میں پریس کانفرنس میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پارٹی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور اب تحریک باقاعدہ طور پر شروع کی جا رہی ہے پاکستان میں صرف بانی پی ٹی آئی ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے حقیقی معنوں میں تحریک چلائی اور ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی کی بات کی۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف قائم مقدمات بے بنیاد ہیں، ان میں کچھ بھی نہیں، اور دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں کسی پارٹی کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا جیسا پی ٹی آئی کے ساتھ ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ فسطائیت کے باوجود پی ٹی آئی کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ ’ہم ہر گلی، کوچے، اور قصبے سے عوام کو جمع کریں گے، ہم سے سوال کیا جا رہا ہے کہ ملک کو کہاں لے کر جانا چاہتے ہیں؟ ہم کہتے ہیں ملک کو قانون کی راہ پر لے جانا چاہتے ہیں،سیاسی تحریک کے 90 دن کا آغاز گزشتہ رات سے ہو چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے واضح کیا کہ یہ تحریک ”آر یا پار“ ہوگی اور اس کی قیادت خود بانی پی ٹی آئی کریں گے، اس بار صرف تحریک نہیں بلکہ ایک نظریا تی بیداری کی لہر ہے جو پاکستان بھر میں پھیل چکی ہے،آنے والے 90 دنوں میں فیصلہ ہو جائے گا کہ عوام کا حق غالب آئے گا یا جبر کا نظام باقی رہے گا۔‘

  • علی امین گنڈاپور خود تین میں ہیں نہ تیرہ میں،ووٹ سے نہیں بلکہ نوٹ سے جتوایا گیا، حافظ حمد اللہ

    علی امین گنڈاپور خود تین میں ہیں نہ تیرہ میں،ووٹ سے نہیں بلکہ نوٹ سے جتوایا گیا، حافظ حمد اللہ

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور خود فارم 47 کے وزیر اعلیٰ ہیں جو چند مہینوں کے مہمان ہیں۔

    وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن سے متعلق بیان پر حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو فارم 47 کا بینفشری کہنے والے گنڈاپور بتائیں وہ کس کے این او سی پر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ بنے؟

    حافظ حمد اللہ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ پورا صوبہ خیبرپختونخوا جل رہا ہے، خیبر پختونخوا کے عوام امن کے لیے ترس رہے ہیں، لیکن وزیراعلی لاؤ لشکر سمیت پنجاب فتح کرنے نکلے ہیں اور لاہور میں بڑھکیں مار رہے ہیں علی امین گنڈاپور خود تین میں ہیں نہ تیرہ میں، ان کی حکومت دولت اور طاقت کے بل پر کھڑی ہے،8 فروری کے انتخابات میں علی امین کو ووٹ سے نہیں بلکہ نوٹ سے جتوایا گیا،پی ٹی آئی کے اندر سے بھی خیبرپختونخوا کی حکومت کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں، آئے روز خیبرپختونخوا کے عوام اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں۔

    5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا،علی امین

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ باجوڑ جانے کے بجائے لاہور میں سیر سپاٹا کر رہے جو انتہائی شرمناک ہے، وزیر اعلیٰ اپنے سابق وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کے اعتراف کے مطابق جعلی مینڈیٹ پر براجمان ہیں صوبائی حکومت سر تا پاؤں کرپشن میں ڈوبی ہے، صوبائی خزانہ سے لاہور کا ٹور کرنے والوں سے پائی پائی کا حساب لیا جائے گا مولانا فضل الرحمٰن کے حقیقت پر مبنی بیان نے وزیر اعلیٰ کی ڈرامہ بازی پر پانی پھیر دیا۔

    90 روزہ تحریک لگتاہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے،عظمی بخاری