Baaghi TV

پاک و چین کا ‘فولادی بھائی چارہ’ ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مضبوط ہورہا ہے،اسحاق ڈار

ishaq dar

نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ جہاں پاکستان اور چین اپنے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، وہیں ان کا ‘فولادی بھائی چارہ’ ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے۔

ہانگژو میں آئی ٹی و ٹیلی کام، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز اور زراعت کے موضوع پر منعقدہ ‘پاک چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس’ سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہماری دوستی بدلتی ہوئی عالمی حقیقتوں، وقت کی آزمائشوں اور علاقائی چیلنجز کے سامنے ہمیشہ پورا اتری ہے، مجھے اس بات پر خاصی مسرت ہے کہ ہمارے تاریخی حکومتی سطح کے (جی ٹو جی) تعلقات کو اب ایک متحرک اور پھیلتی ہوئی تجارتی و کاروباری (بی ٹو بی) شراکت داری سے مزید تقویت مل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجربات سے سیکھنے پر مبنی چین کا معاشی ماڈل پاکستان کے لیے بہترین سبق فراہم کرتا ہے و زیر اعظم شہباز شریف کی متحرک قیادت میں حکومت معاشی بحالی، صنعتی توسیع اور پائیدار ترقی کے ایک پرعزم ایجنڈے پر گامزن ہے بیرونی چیلنجز کے باوجود گزشتہ 4 سالوں کے دوران معاشی استحکام حاصل کیا گیا ہے اور آج ملکی معیشت کا رخ مضبوطی سے اوپر کی طرف ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اسحاق ڈار نے چینی سرمایہ کاروں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کاروبار کے لیے مکمل طور پر کھلا ہے۔ پاکستان میں اصلاحات ہو رہی ہیں اور پاکستان ابھر رہا ہے، وزارتِ خارجہ نے بھی اپنے روایتی کردار کو بنیادی طور پر تبدیل کرتے ہوئے اب معاشی سفارت کاری کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنا دیا ہے ، چین کے ساتھ ہمارا بڑھتا ہوا کاروباری (بی ٹو بی) رابطہ اس نئی سمت کی ایک بہترین اور واضح مثال ہے۔

نائب وزیر اعظم نے بتایا کہ اب تک ہم چین میں 2 اور پاکستان میں 2 بی ٹو بی کانفرنسیں منعقد کر چکے ہیں اور مخصوص شعبوں پر مرکوز یہ اس سلسلے کی پانچویں کانفرنس ہےمجموعی طور پر اب تک 300 سے زائد مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) اور تقریباً 3 درجن مشترکہ منصوبوں (Joint Ventures) پر دستخط کیے جا چکے ہیں، جن کی کل مالیت 13 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔

نائب وزیر اعظم نے شرکا کو بتایا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے ہی اسلام آباد میں ‘آئی بی آئی پاکستان ڈیجیٹل اکانومی ہیڈ کوارٹرز’ کا افتتاح کیا ہے۔ بیجنگ میں وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ آئی بی آئی کے چیئرمین کیان کی ملاقات کے بعد محض 8 ماہ سے بھی کم عرصے میں آئی بی آئی نے پاکستان میں اپنا دفتر قائم کر کے آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے،آئی بی آئی کے گزشتہ ہفتے دورہ پاکستان کے دوران ایک ارب ڈالر سے زائد کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

اسحاق ڈار نے پاکستان کے سروس گروپ اور چین کے لانگ مارچ ٹائرز کے درمیان کامیاب مشترکہ منصوبے کا بھی ذکر کیا، جو 5 سال کے اندر اب پا کستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ ہونے والی ایک ارب ڈالر کی جائنٹ وینچر کمپنی بننے جا رہی ہے،کہا کہ تمام کامیابیاں وزیر اعظم کی رہنمائی میں پاکستان کے متعد د اداروں کی مربوط کوششوں کا نتیجہ ہیں، میں اس مشن میں حصہ ڈالنے والے ہر فرد اور ادارے کو سراہتا ہوں، میں بالخصوص سفیرِ پاکستان خلیل ہاشمی کی تعریف کرنا چاہوں گا جنہوں نے ہمارے ترجیحی شعبوں میں بی ٹو بی کاروباری روابط کو فروغ دینے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے،خوشی ہے کہ اس ہال میں دونوں اطراف سے 500 سے زائد کمپنیاں موجود ہیں اور جن شعبوں کو اس کانفرنس کے لیے منتخب کیا گیا ہے، وہ پاکستان کی معاشی تبدیلی اور صنعتی جدید کاری کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

اس موقع پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف، صوبہ ژجیانگ کے گورنر لیو جی، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شیزا فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین، صنعت و پیداوار کے لیے وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی، سروس گروپ آف پاکستان کے سی ای او عمر سعید، لانگ مارچ ٹائر کے چیئرمین جن یونگ شینگ، آئی بی آئی گولیان گوفن کے صدر کیان شیاؤجون اور چائنا کونسل فار دی پروموشن آف انٹرنیشنل ٹریڈ (ژجیانگ پروونشل کمیٹی) کے چیئرمین چن جیان ژانگ بھی موجود تھے۔

More posts