Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ٹرمپ انتظامیہ کیخلاف مظاہروں میں شدت ، فوج تعینات کرنیکا اعلان

    ٹرمپ انتظامیہ کیخلاف مظاہروں میں شدت ، فوج تعینات کرنیکا اعلان

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کیخلاف لاس اینجلس سے شروع ہونے والے مظاہرے امریکا کی دیگر ریاستوں تک پھیل گئے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق لاس اینجلس میں پرتشدد مظاہرین نے کچھ گاڑیوں کو آگ لگا دی ،اس کے علاوہ نیویارک، اٹلانٹا، کینٹکی، ڈیلاس اور واشنگٹن ڈی سی میں بھی مظاہرے کئے گئے،پولیس نے مظاہرین کیخلاف ربڑ بلٹ کا استعمال کیا جس سے مظاہرے کی کوریج کرتے آسٹریلوی صحافی لورین ٹوماسی ٹانگ پر لگنے سے زخمی ہو گئی۔

    اس کے علاوہ پولیس نے 150 افراد کو حراست میں لے لیا، حراست میں لئے جانے والوں میں امریکی میڈیا سی این این کا عملہ بھی شامل ہےٹرمپ انتظامیہ نے لاس اینجلس میں مظاہرین کو کنٹرول کرنے کیلئے نیشنل گارڈز کے 2 ہزار اہلکاروں کے علاوہ امریکی فوج کے 700 اہلکار بھی تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا کی ریاستی حکومت نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے جس میں عدالت سے نیشنل گارڈز کی تعیناتی کو غیر آئینی قرار دینے کی درخواست کی گئی ہے۔

    ہندوستان بغیر کسی جواز اور تحقیقات کے پاکستان پر الزام تراشی کا مرتکب ہوا ،پاکستانی وفد

    ڈاکٹرآصف محمود امریکی کمیشن کےوائس چیئرمین منتخب

    پوپ لیو کا قوم پرستانہ سیاست پر شدید تشویش کا اظہار

  • ہندوستان بغیر کسی جواز اور تحقیقات کے پاکستان پر الزام تراشی کا مرتکب ہوا ،پاکستانی وفد

    ہندوستان بغیر کسی جواز اور تحقیقات کے پاکستان پر الزام تراشی کا مرتکب ہوا ،پاکستانی وفد

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ کی قیادت میں پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد نے کہا ہے کہ شہری آبادی پر بھارتی حملے اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ خلاف ورزی بین الاقوامی قوانین اور جدید اصولوں کی بنیاد کے نظام کی صریح خلاف ورزی ہیں ہندوستان کی طرف سے یہ اقدامات علاقائی اور بین الا قوامی امن و سلامتی کے لیے خطرناک نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔

    پاکستانی وفد نے برٹش پارلیمنٹ میں آل پارٹی پارلیمانی گروپ (اے پی پی جی) برائے پاکستان کو ویسٹ منسٹر پیلس میں بریفنگ دی اے پی پی جی برائے پاکستان کی چیئر یاسمین قریشی ایم پی نے وفد کی میزبانی کی، یہ وفد پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت کی وجہ سے خطے کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر عالمی برادری تک پاکستان کی جاری سفارتی رسائی کا حصہ ہے۔

    پوپ لیو کا قوم پرستانہ سیاست پر شدید تشویش کا اظہار

    بلاول بھٹوزرداری نے برطانوی پارلیمنٹرینز کو بھارتی جارحیت اور پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری پر وار کے اثرات سے آگاہ کیا، انہوں نے آگاہ کیا کہ ہندوستان بغیر کسی جواز اور تحقیقات کے پاکستان پر الزام تراشی کا مرتکب ہوا انہوں نے مصدقہ تحقیقات اور قابل تصدیق شواہد کے بغیر پاکستان پر لگائے گئے بے بنیاد بھارتی الزامات کو واضح طور پر مسترد کیا۔

    وفد نے کہا کہ شہری آبادی پر بھارتی حملے اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ خلاف ورزی بین الاقوامی قوانین اور جدید اصولوں کی بنیاد کے نظام کی صریح خلاف ورزی ہیں ، ہندوستان کی طرف سے یہ اقدامات علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرناک نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔

    ڈاکٹرآصف محمود امریکی کمیشن کےوائس چیئرمین منتخب

    موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ کاری کے وزیر مصدق ملک نے پارلیمنٹیرینز کو بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے ماحولیاتی خطرات اور پاکستان کی 240 ملین آبادی کی غذائی تحفظ اور بقا کو درپیش خطرات سے آگاہ کیاوفد نے اس بات پر زور دیا کہ بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کا ردعمل ذمہ دارانہ اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق تھا، جس میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق بھی شامل ہے۔

    وفد نے تحمل سے کام لینے، سندھ طاس معاہدے کی بحالی اور تمام تصفیہ طلب مسائل بالخصوص جموں و کشمیر کے تنازعہ پر دونوں ممالک کے درمیان جامع مذاکرات کے آغاز کے لیے پاکستان کے عزم پر زور دیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کی کارکردگی رپورٹ جاری

  • پوپ لیو کا قوم پرستانہ سیاست پر شدید تشویش کا اظہار

    پوپ لیو کا قوم پرستانہ سیاست پر شدید تشویش کا اظہار

    ویٹی کن سٹی میں عظیم الشان عبادت (سنڈے ماس) کے دوران، پوپ لیو چہار دہم (XIV) نے بڑھتے ہوئے قوم پرستانہ سیاسی رجحانات پر شدید تشویش کا اظہار کیا، اور انہیں "افسوسناک” قرار دیا، تاہم انہوں نے کسی ملک یا رہنما کا نام نہیں لیا۔

    سینٹ پیٹرز اسکوائر میں ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو نے دعا کی کہ وہ سرحدوں کو کھول دے، دیواروں کو گرادے، اور نفرت کو مٹا دےانہوں نے کہا کہ تعصب، سیکیورٹی زونز اور ایک دوسرے سے دوری پیدا کرنے والے خیالات کے لیے ہماری زندگیوں میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے، افسو سناک با ت یہ ہے کہ یہ سوچ اب قومی سیاست میں بھی جگہ بنا رہی ہے۔

    پوپ لیو جن کا اصل نام رابرٹ پرویوسٹ تھا، 8 مئی کو پوپ فرانسس کے جانشین کے طور پر منتخب ہوئے، وہ کیتھولک چرچ کے پہلے امریکی پوپ ہیں، پو پ بننے سےقبل پرویوسٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس پر کھلےعام تنقید کی تھی ان کےپرانے ایکس اکاؤنٹ @drprevost پر ایسی کئی پوسٹس موجود تھیں، جو پوپ بننے کے بعد غیر فعال کر دیا گیا۔

    ڈاکٹرآصف محمود امریکی کمیشن کےوائس چیئرمین منتخب

    واضح رہے کہ سابق پوپ فرانسس بھی امیگریشن کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسیوں کے سخت ناقد تھے ، انہوں نے ٹرمپ کو 2016 میں "غیر مسیحی” قرار دیا تھا، اور جنوری 2025 میں کہا تھا: "لاکھوں تارکینِ وطن کی ملک بدری کا منصوبہ ایک شرمناک عمل ہےاتوار کو پوپ لیو پنٹی کوسٹ (Pentecost) کے مو قع پر یہ خصوصی عبادت ادا کر رہے تھے، جو عیسائی تقویم کا ایک اہم اور مقدس دن ہوتا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کی کارکردگی رپورٹ جاری

  • ڈاکٹرآصف محمود امریکی کمیشن کےوائس چیئرمین منتخب

    ڈاکٹرآصف محمود امریکی کمیشن کےوائس چیئرمین منتخب

    امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی یو ایس سی آئی آر ایف نے تاریخ میں پہلی بار ایک امریکن پاکستانی کو وائس چیئر مین منتخب کرلیا ہے۔

    کمیشن کی سربراہی سابق رکن کانگریس وکی ہرٹزلر کو سونپی گئی ہے ڈاکٹر آصف محمود نے کہا کہ ان کے لیے یہ انتہائی اعزاز کی بات ہے کہ وہ پہلےپاکستانی، پہلے جنوب ایشیائی اور پہلے مسلمان ہیں جو طاقتور کمیشن میں اس عہدے پر منتخب کیے گئے ہیں۔

    ڈاکٹر آصف محمود نے کہاکہ مذہب یا اعتقاد کی آزادی کیلئے کام کرنا ہمیشہ کی طرح آج بھی انتہائی اہم ہے، اس کیلئے سیاسی جماعتوں سے بالاتر ہوکر خدمات انجام دینے کی ضرورت ہوتی ہے چونکہ یوایس سی آئی آر ایف میں دونوں جماعتوں کی نمائندگی ہے اس لیے یہ کمیشن اس ضمن میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

    ڈاکٹرآصف محمود کا آبائی تعلق کھاریاں سے ہے وائس چیئر مین ڈاکٹر آصف محمود پلمونولوجسٹ کے طور پر کیلیفورنیا میں تقریباً 25 سال سے خدمات انجام دے رہے ہیں، خیراتی کاموں میں بھی وہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، وہ کیلی فورنیا میں بےگھروں کے سب سے بڑے شیلٹرز میں سے ایک ہوپ دا مشن کے بورڈ رکن بھی ہیں۔

    امریکن پاکستانی ڈاکٹر محمود انسانی حقوق کے بھی علمبردار ہیں، جنوب ایشیا کی صورتحال خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر بھی وہ آواز اٹھاتے رہے ہیں ڈاکٹر آصف محمود 2008 سے2016 تک ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن کے ڈیلی گیٹ رہے ہیں اور صدارتی انتخابی مہم میں بھی کئی اہم کردار ادا کرچکے ہیں, وہ سابق صدر کاملا ہیریس اور کلنٹن فیملی کے بھی انتہائی قریب سمجھے جاتے ہیں، 2022 میں ڈاکٹر آصف محمود نے کیلیفورنیا کے40 ویں ڈسٹرکٹ سے کانگریس کا الیکشن لڑا تھا تاہم وہ دوبارہ نشست حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ری پبلکن امیدوار ینگ کم سے جیت نہیں پائے تھے۔

    جہاں تک اس کمیشن کا تعلق ہے تو یہ دنیا کے مختلف ممالک میں مذہبی اور انسانی حقوق کی آزادی پر نظررکھتا ہے اور اس کی تیارکردہ رپورٹس کی امریکی حکومت اور کانگریس کیلئے آنکھ اور کان کی سی حیثیت ہوتی ہے۔

    بھارت کیخلاف حال ہی میں اس کمیشن کی رپورٹ شہ سرخیوں کی زینت بنی تھی جس کی تیاری میں ڈاکٹر آصف محمود نے انتہائی فعال کردار ادا کیا تھا، 2025 کیلئے جاری سفارشات پرمبنی اس رپورٹ میں مودی سرکار کو بھارت میں مذہبی قدغنوں پر کٹہرے میں کھڑا کرکے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    رپورٹ میں ٹرمپ انتظامیہ کو سفارش کی گئی تھی کہ وہ امریکا میں سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں پر قاتلانہ حملے کی سازش میں ملوث وکاش یادو اور خفیہ ایجنسی را پر پابندی لگائے، ان کے اثاثے منجمد کیے جائیں اور امریکا میں داخلہ پر پابندی لگائی جائے۔

    ساتھ ہی زور دیا گیا تھا کہ بھارت کو ایم کیو نائن بی ڈرونز کی فروخت پر نظر ثانی کی جائے، رپورٹ میں دو ٹوک انداز سے کہا گیا تھا کہ بھارت کا آئین سیکولر ہونے کے باوجود10 سالہ اقتدار میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے منافرت پرمبنی ایسی پالیسیاں اختیار کی ہیں جن سے انڈیا کو ہندو ریاست میں تبدیل کیا جائے یہ سفارشات اس حقیقت کے باوجود کی گئی تھیں کہ خطے میں بھارت نہ صرف ڈیموکریٹس بلکہ ری پبلکن انتظامیہ کی بھی آنکھ کا تارا تصور کیا جاتا ہے۔

    ڈاکٹرآصف کے بطور وائس چیئر مین منتخب ہونے کے بعد امکان ہے کہ بھارت کیخلاف امریکی کمیشن کے اقدامات میں مزید تیزی آئے گی کیونکہ وہ بحثیت پاکستانی امریکن ڈیموکریٹ ہونے سے زیادہ اپنی غیرجانبداری کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ  کی  کارکردگی رپورٹ جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ کی کارکردگی رپورٹ جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی گئی-

    ماہ مئی 2025 کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے قابل ذکر عدالتی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 1415 مقدمات نمٹائے سنگل اور ڈویژن بنچز پر مشتمل اس کارکردگی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ کیسز جسٹس انعام امین منہاس نے نمٹائے، جنہوں نے 274 کیسز کا فیصلہ کیا اور سرِفہرست رہے۔

    رپورٹ کے مطابق جسٹس محمد اعظم خان 181 فیصلوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے 134 کیسز نمٹا کر تیسری پوزیشن حاصل کی جب کہ قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے 83 مقدمات نمٹائے، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے 59، جسٹس بابر ستار نے 71، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے 52، جسٹس ارباب محمد طاہر نے 65، جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے 71، جسٹس خادم حسین سومرو نے 80 اور جسٹس محمد آصف نے 113 مقدمات نمٹائے۔

    ڈویژن بنچز کی کارکردگی کے مطابق جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل بینچ نے 9 کیسز، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس اعجاز اسحاق خان نے 2، جسٹس محسن کیانی اور جسٹس ثمن رفعت نے 25، جسٹس طارق جہانگیری اور جسٹس ثمن رفعت نے 9 کیسز نمٹائے۔

    اسی طرح جسٹس بابر ستار اور جسٹس اعجاز اسحاق نے 64 مقدمات، جسٹس ارباب طاہر اور جسٹس محمد اعظم نے 2، جسٹس ارباب طاہر اور جسٹس انعام منہاس نے 39، جسٹس محمد اعظم اور جسٹس انعام منہاس نے 67 ، جسٹس خادم سومرو اور جسٹس محمد اعظم نے 3 جب کہ جسٹس خادم سومرو اور جسٹس انعام منہاس نے ایک کیس نمٹایا۔

  • بجٹ میں تنخواہ کی تمام سلیبز پر انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز

    بجٹ میں تنخواہ کی تمام سلیبز پر انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز

    تنخواہ دارطبقے کیلئے اچھی خبر،بجٹ میں تنخواہ کی تمام سلیبز پر انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز ہے-

    ذرائع کےمطابق انکم ٹیکس ایکٹ کی شق 129 میں ترمیم زیر غورہے، سالانہ ٹیکس فری آمدن کی حد 6 لاکھ سے بڑھائی جا سکتی ہے، ماہانہ 83 ہزار روپے تنخواہ تک ٹیکس فری کرنے کی تجویز،ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر ٹیکس 5 فیصد سے کم ہو کر 2.5 فیصد ہونے کا امکان ہے-

    ایک لاکھ 83 ہزار روپے تنخواہ پر انکم ٹیکس 15 سے کم ہوکر 12.5 فیصد کرنے کی تجویز، دو لاکھ 67 ہزار ماہانہ تنخواہ پر انکم ٹیکس 25 کے بجائے 22.5 فیصد ہو سکتا ہے، ذرائع کےمطابق تین لاکھ 33 ہزار روپے تک تنخواہ پر ٹیکس 30 کے بجائے 27.5 فیصد ہو سکتا ہے،تین لاکھ 33 ہزار سے زائد تنخواہ پر ٹیکس 32.5 فیصد ہو سکتا ہے،اس پرحتمی فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی

  • بجٹ میں متعدد اشیاء پر ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی تجویز

    بجٹ میں متعدد اشیاء پر ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی تجویز

    اسلام آباد: آئندہ مالی سال کے بجٹ میں متعدد اشیاء پر ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی تجویز ہے۔

    ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں فروزن فوڈز، چپس،کولڈ ڈرنکس، نوڈلز، آئس کریم اور بسکٹس پر ایکسائز ڈیوٹی کی تجویز ہےفروزن گوشت، ساسز اور تیار شدہ خوراک پر بھی5 فیصد ایکسائز ڈیوٹی کی تجویز ہے بجٹ میں کئی پراسیسڈ اشیاء پر بھی ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی تجویز ہے جب کہ ای کامرس پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔

    واضح رہے کہ اگلے مالی سال کے لیے تقریباً 18 ہزار ارب روپے کا بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جس میں تقریبا 2 ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد ہوں گے۔

  • تنخواہ اور پنشن کتنی بڑھے گی، انکم ٹیکس کتنا کم ہوگا؟

    تنخواہ اور پنشن کتنی بڑھے گی، انکم ٹیکس کتنا کم ہوگا؟

    اسلام آباد: نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کی دستاویز منظرعام پر آگئی ہیں، وفاقی بجٹ کا کل حجم 17 ہزار 573 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے –

    بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی بجٹ کا کل حجم 17 ہزار 573 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جس میں سے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم ایک ہزار ارب جب کہ غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم 16 ہزار 286 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے تقریباً 2 ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد ہوں گے اور تمام سیلر ی سلیب پر 2.5 فیصد ٹیکس کم کرنے کی تجویز ہے۔

    دستاویزات کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے جب کہ گریڈ ایک تا 16 کے ملازمین کو 30 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس دیے جانے کی بھی تجویز ہے،وزارت خزانہ کی دستاویزات کے مطابق پیٹرولیم لیوی 78روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 100 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز ہے، پیٹرولیم مصنوعات صرف ڈیجیٹل ادائیگی سے خریدی جاسکیں گی جب کہ نقد پیٹرولیم مصنوعات خریدنے پر 2 روپے فی لیٹر اضافی ادا کرنے ہوں گے۔

    آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم ایک ہزار ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جب کہ صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 2869 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،وفاقی ترقیات بجٹ میں سے وفاقی وزارتوں اور ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 682 ارب سے زائد فنڈز جب کہ حکومتی ملکیتی اداروں کے لیے 35 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم مختص کی گئی ہے۔

    پلاننگ کمیشن کی دستاویزات کے مطابق این ایچ اے کو آئندہ مالی سال 226 ارب 98 کروڑ روپے سے زیادہ ملیں گے، پاور ڈویژن کو آئندہ مالی سال 90 ارب 22 کروڑ روپے دینےکی تجویز ہے جب کہ آبی وسائل ڈویژن کو آئندہ مالی سال 133 ارب 42 کروڑ روپے دینےکی تجویز ہے۔

    دستاویزات کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 70 ارب 38 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔اس کے علاوہ صوبوں اور اسپیشل ایریاز کے لیے 253 ارب 23 کروڑ روپے، انضمام شدہ اضلاع کے لیے 65 ارب 44 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے جانے کی تجویز ہے جب کہ صوبائی نوعیت کے منصوبوں پر 105 ارب 78 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے جائیں گے۔

    دستاویزات کے مطابق آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 82 ارب روپے، ڈیفنس ڈویژن کے لیے 11 ارب 55 کروڑ روپے جب کہ فیڈرل ایجوکیشن اور پروفیشنل ٹریننگ کے لیے 18 ارب 58 کروڑ سے زیادہ مختص کیے گئے ہیں۔

  • وہ ممالک جن کو 2025 میں مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا رہا

    وہ ممالک جن کو 2025 میں مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا رہا

    عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں بیشتر ممالک کو مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا رہا ہے۔

    دنیا بھر میں معاشی سست روی کے ساتھ ساتھ افراط زر یعنی مہنگائی بھی معیشتوں کے لیے بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے،اعدادوشمار کے مطابق وینزویلا اور زمبابوے مہنگائی کی بلند ترین سطح پر ہیں، جہاں افراط زر کی شرح بالترتیب 180 اور 92 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے یہ شرحیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیں اور وہاں کی عوام کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔

    دوسری جانب بڑی معیشتوں میں افراط زر کی صورتحال نسبتاً قابو میں ہے امریکہ میں مہنگائی 3 فیصد، برطانیہ میں 3.1 فیصد، فرانس میں 1.3 فیصد اور جرمنی میں 2 فیصد پر ہے، جو عالمی اوسط کے قریب تصور کی جا سکتی ہےبھارت میں مہنگائی کی شرح 4.2 فیصد تک محدود رہی، جو گزشتہ برس کی 5.9 فیصد سے کم ہے، بنگلہ دیش میں یہ شرح 10 فیصد ہے جبکہ سری لنکا میں افراط زر کی شرح 12 فیصد پر رہنے کی توقع ہےپاکستان میں حکومت کے مطابق مہنگائی کی شرح 4.6 فیصد رہی، تاہم آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق یہ 5.1 فیصد ہے، جو اب بھی خطے کے کئی ممالک سے بہتر تصور کی جا سکتی ہے۔

    عالمی معیشت کی رفتار پہ ورلڈ بینک رپورٹ جاری، پاکستان کی پوزیشن کیا؟

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی پر قابو پانا ایک مسلسل چیلنج ہے، جہاں خوراک، توانائی اور درآمدات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست عوام پر اثر انداز ہوتا ہے، مہنگائی کی اس بلند لہرجیسی صورتحال کے پیش نظر ماہرین سخت مالی نظم و ضبط اور پالیسی اصلاحات پر زور دے رہے ہیں۔

    نان فائلرز کے لئے بیرون ملک سفری پابندی عائد کرنے کی بھی تجویز

  • عالمی معیشت کی رفتار پہ ورلڈ بینک  رپورٹ جاری، پاکستان کی پوزیشن کیا؟

    عالمی معیشت کی رفتار پہ ورلڈ بینک رپورٹ جاری، پاکستان کی پوزیشن کیا؟

    ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق سال 2024-25 میں عالمی شرحِ نمو 2.7 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو گزشتہ سال کی 3.3 فیصد کی شرح سے کم ہے۔

    دنیا بھر میں جاری جنگیں، موسمیاتی تبدیلیاں اور قدرتی آفات عالمی معیشت کی رفتار کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں،سال 2024 میں بھارت نے معاشی ترقی کے میدان میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا، جہاں شرحِ نمو 7 فیصد رہی، چین کی معیشت 5 فیصد کی رفتار سے بڑھی، جبکہ امریکہ کی اقتصادی ترقی 2.6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    برطانیہ اور جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک کی شرحِ نمو محض 0.7 فیصد رہی، جرمنی میں یہ 0.8 فیصد جبکہ فرانس میں 1.1 فیصد رہی، جو یورپی معیشتوں کی سست روی کو ظاہر کرتی ہے پاکستان نے رواں مالی سال میں 2.7 فیصد کی شرحِ نمو حاصل کی، جو گزشتہ برس کے 2 فیصد سے کچھ بہتر ہے۔

    ماہرین کے مطابق سیاسی استحکام، معاشی پالیسی، موسمی اثرات اور بین الاقوامی صورتحال جیسے عوامل کسی بھی ملک کی شرحِ نمو پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیںشرحِ نمو دراصل کسی بھی ملک کی معیشت کے پھیلاؤ یا سکڑاؤ کی رفتار کو ظاہر کرتی ہے، جو ملکی ترقی کی سمت کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔

    ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان عالمی اوسط شرحِ نمو کے برابر کھڑا ہے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک، خاص طور پر بھارت اور چین، اس دوڑ میں کہیں آگے ہیں۔