Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • افغانستان میں خود کش حملہ آوروں کو تربیت دیکر  دہشتگرد تنظیموں کو بیچے جانے کا انکشاف

    افغانستان میں خود کش حملہ آوروں کو تربیت دیکر دہشتگرد تنظیموں کو بیچے جانے کا انکشاف

    وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے افغانستان محمد صادق خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں خود کش حملہ آوروں کو کیمپوں میں تربیت دے کر بیچ دیا جاتا ہے، ان کو مختلف تنظیموں کو بیچا جاتا ہے۔

    علاقائی ڈائیلاگ کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد صادق خان نے کہا کہ ٹی ٹی پی ایک چیلنج ہے، یہ پاک افغان تعلقات کو ڈینٹ ڈال رہی ہےایک وقت تھا جب ہم ضرب عضب کے بعد ٹی ٹی پی کے مسئلے کو حل کر سکتے تھے، اس وقت کچھ سرحد پار چلے گئے، کچھ یہاں سلیپر سیل میں بدل گئے۔

    معاون خصوصی نے کہا کہ اہم وقت وہ بھی آیا جب افغان حکومت نے ٹی ٹی پی کو خطرہ سمجھتے ہوئے ان کی گرفتاریاں کیں، دوحہ مذاکر ات میں بھی ٹی ٹی پی کی بات کی گئی،موجودہ افغان طالبان حکومت ٹی ٹی پی کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات کو حل نہیں کر سکی، افغان شہروں، دیہات، قصبوں میں ہر جگہ طالبان کی موجودگی ہے، وہ ہتھیار رکھتے ہیں اور ابھی جنگ سے نہیں تھکے۔

    محمد صادق خان نے کہا کہ افغانستان میں مختلف خطوں میں مختلف طرح کے لوگ موجود ہیں، ٹی ٹی پی نے افغان طالبان کو جنگ میں خود کش حملہ آور، مالی امداد، انٹیلیجنس اور ہتھیار فراہم کیے، افغان عبوری حکومت کہتی ہے کہ ڈر ہے کہ اگر ہم ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کریں تو خدشہ ہے کہ یہ داعش میں شامل ہو جائیں گے۔

    محمد صادق خان نے کہا کہ خود کش حملہ آوروں کو کیمپوں میں تربیت دے کر بیچ دیا جاتا ہے، ان کو مختلف تنظیموں کو بیچا جاتا ہے ٹی ٹی پی اب افغانستان کے اندر ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے، کارکنان ٹی ٹی پی، داعش و دیگر جہادی گروہوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔

    برطانوی ہائی کمیشن کے انسداد دہشت گردی آفیسر مارک مکارکل نے کہا کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات تجارت سے سیکیور ٹی تک پھیلے ہیں، ان انسداد دہشتگردی تعلقات میں معلومات کا تبادلہ، تفتیش بھی شامل ہے، ان میں ٹرانس نیشنل عسکریت پسندو ں کے خلاف کاروائی کےلیے تعاون بھی ایک کڑی ہے، برطانیہ انسداد منی لانڈرنگ و دہشت گردوں کی مالی معاونت کے انسداد میں پاکستان کے کردار کو سراہتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی بلوچستان اور کے پی میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہے، برطانیہ اس ساری صورتحال کو تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے، برطانیہ پاکستان میں انسداد دہشت گردی کاروائیوں کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی پاسداری کی حمایت کرتا ہے، پاکستا ن کے ساتھ مل کر یقینی بنانا ہو گا کہ تخریبی قوتیں زیادہ سرگرمیاں نہ کر سکیں۔

    سابق مشیر قومی سلامتی ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت مشرقی اور مغربی سرحد پر مخاصمت کا سامنا ہے، ہمارے 20 برس سویت یونین آئندہ 20 برس امریکہ و نیٹو اور اب اگلے بیس برس عالمی مقابلے کے دور میں ضائع ہو رہے ہیں، ہم نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ مل کر رہنے کی کوشیش کی ہے، تاہم ہمارے جھگڑے توسیع پا رہے ہیں بھارت کو ہماری طرف توجہ دینے کی بجاے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا چائیے

    پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں، جب دونوں جوہری طاقتیں ایک دوسرے کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تو اگر یہ دوست نہیں بن سکتی تو دشمنی بھی درست نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی جس کو ہم نے شکست دے دی تھی اس کو افغانوں نے پناہ دی، سویت یونین 1979 مین افغانستان میں اترا، اگر ہم اس وقت افغانستان کے ساتھ کھڑے نہ ہوتے تو کیا آج افغانستان موجود ہوتا، بھارت اور افغانستان ہمارے ہمسائے ہیں، امریکہ اور نیٹو تمام تر کوشیشوں کے باوجود افغانستان میں کامیاب نہیں ہو سکے، شاید ہمارا اور افغانستان کا وجود ایک دوسرے کے لئے ضروری ہے، ہم افغانستان کو ٹی ٹی پی کے لینز سے دیکھتے ہیں، جیسے کہ بھارت ہمیں پہلگام واقعہ کے لینز سے دیکھ رہا ہے، افغا نستان اس وقت دہشت گردی کے سائے میں ہے۔

  • بلوچستان کے علاقے مچھ میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر حملہ، سات جوان شہید

    بلوچستان کے علاقے مچھ میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر حملہ، سات جوان شہید

    بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے مچھ میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر بی ایل اے کا حملہ، ریموٹ کنٹرول بم حملے میں پاک فوج کے 7 جوان شہید-

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ شہداء میں 42 سالہ صوبیدار عمر فاروق (کراچی)، 28 سالہ نائیک آصف خان (کرک) اور 28 سالہ نائیک مشکور علی (اورکزئی) شامل ہیں شہداء میں 26 سالہ سپاہی طارق نواز (لکی مروت)، 28 سالہ سپاہی واجد احمد فیض (باغ)، 22 سالہ سپاہی محمد عاصم (کرک) اور 28 سالہ سپاہی محمد کاشف خان (کوہاٹ) شامل ہیں بھارت اور اس کے آلہ کاروں کے ناپاک عزائم کو انشاءاللہ پاکستان کی بہادر افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور غیور قوم شکست دے گی-

  • وزیر خارجہ  کا قائم مقام افغان ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

    وزیر خارجہ کا قائم مقام افغان ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

    اسلام آباد:وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغانستان کے قائم مقام ہم منصب عامر خان متقی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے 19 اپریل کو دورۂ افغانستان کے بعد سے دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا، جس میں تجارت، روابط، اقتصادی تعاون، عوام سے عوام کے رابطوں اور سیاسی مشاورتی میکانزم کو دوبارہ فعال کرنے پر توجہ دی گئی فریقین نے خطے اور اس سے باہر امن و سلامتی کو فروغ دینے کے لیے طویل المدتی تعاون پر زور دیادونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطح کے رابطوں کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی اتفاق کیا۔

    تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 3 افراد ہلاک اور متعدد لاپتا
    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قائم مقام افغان ہم منصب کو پاکستان کے خلاف بھارت کی طرف سے حالیہ اشتعال انگیزی سے بھی آگاہ کیا انہوں نے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات سے بھی افغان ہم منصب کو تفصیلات بتائیں وزیر خارجہ نے امن کے لیے پاکستان کے عزم اور پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ کا اعادہ کیا۔

    قائم مقام افغان وزیر خارجہ عامر خان متقی نے تجارت کو آسان بنانے اور سفر میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پاکستان کے فعال اقدامات کو سراہا اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو دوبارہ افغانستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی انہوں نے پاکستان کی حکومت اور عوام کے لیے دعائیں اور نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر کا دورہ

  • قدرتی گیس کے استعمال اور پیداوار سے متعلق اعدادوشمار

    قدرتی گیس کے استعمال اور پیداوار سے متعلق اعدادوشمار

    اسلام آباد:ملک میں قدرتی گیس کے استعمال اور پیداوار سے متعلق اعدادوشمار سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اجلاس میں پیش کر دیئے گئے۔

    اعدادوشمار کے مطابق جون 2024 تک پنجاب سے قدرتی گیس کی پیداوار 163 ایم ایم ایف سی ڈی رہی اور استعمال 976 ایم ایم ایف سی ڈی گیس رہی جبکہ استعمال میں سے 668 ایم ایم سی ایف ڈی گیس درآمدی آر ایل این جی سے رہی جون 2024 تک خیبر پختونخوا سے گیس کی پیداوار 346 ایم ایم سی ایف ڈی رہی اور اسی عرصہ میں قدرتی گیس کا استعمال 208 ایم ایم ایف سی ڈی رہا جبکہ 3 ایم ایم ایف سی ڈی گیس کا استعمال آر ایل این جی سے رہا۔

    سندھ میں گیس کی پیداوار 1609 ایم ایم سی ایف ڈی رہی اور استعمال 1115 ایم ایم ایف سی ڈی رہی، سندھ میں آر ایل این جی گیس کا استعمال 112 ایم ایم سی ایف ڈی رہا بلوچستان میں گیس پیداوار کا مجموعی حصہ 492 ایم ایم ایف سی ڈی رہا جبکہ استعمال 334 ایم ایم ایف سی ڈی رہا۔ بلوچستان میں آر ایل این جی گیس کا استعمال 3 ایم ایم ایف سی ڈی رہا۔

  • تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 3 افراد ہلاک اور متعدد لاپتا

    تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 3 افراد ہلاک اور متعدد لاپتا

    کیلیفورنیا کے سمندر میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 3 افراد ہلاک اور متعدد لاپتا ہوگئے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے(بی بی سی) کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ساحل سان ڈیاگو میں ایک چھوٹی کشتی کے ڈوبنے کا واقعہ پیش آیا جس میں 2 بچوں سمیت 16 افراد سوار تھے۔

    کوسٹ گارڈ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کشتی ڈوبنے کی اطلاع ملتے ہی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کیا گیا جس میں ہیلی کاپٹر کی مدد بھی لی گئی،آپریشن کے دوران 4 افراد کو ریسکیو کرکے طبی امداد کیلئے اسپتال روانہ کیا گیا جبکہ حادثے میں 3 افراد ہلاک اور 7 افراد لاپتا ہوگئے ہیں جن کی تلاش کا عمل جاری ہے، یہ نقصان تارکین وطن کی اسمگلنگ کی بظاہر کوشش معلوم ہوتی ہے۔

  • پاکستان کے ریٹائرڈ فوجی اہلکار وطن کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں

    پاکستان کے ریٹائرڈ فوجی اہلکار وطن کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں

    راولپنڈی: ریٹائرڈ فوجی افسران نے خبردار کیا ہے کہ بھارت نے اگر کسی قسم کی جارحیت کی تو اسے بھرپور اور سخت جواب ملے گا۔

    راولپنڈی میں پاکستان آرمڈ سروسز بورڈ کے تحت ریٹائرڈ فوجی افسران نے پریس کانفرنس کی، جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال، بھارتی جارحیت اور پاکستان کی دفاعی تیاریوں پر دوٹوک موقف اختیار کیا گیا، پریس کانفرنس میں تینوں مسلح افواج کے سابق سینیئر افسران نے شر کت کی۔

    میجر جنرل (ریٹائرڈ) جاوید اسلم نے کہا کہ وہ بیس لاکھ ریٹائرڈ فوجیوں کی نمائندگی کر رہے ہیں اور ملک کی تینوں افواج کے ریٹائرڈ افسران ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار ہیں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن خود کیا اور اسی کو بنیاد بنا کر سندھ طا س معاہدے کو ختم کرنے کی کوشش کی جو ناقابل قبول ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت نے اگر کسی قسم کی جارحیت کی تو اسے بھرپور اور سخت جواب ملے گا۔

    جب چینی ججز کو ہمارے زیرالتواء مقدمات کی تعداد بتائی گئی تو وہ حیران رہ گئے،چیف جسٹس

    ایئر وائس مارشل (ریٹائرڈ) فہیم ارشد نے کہا کہ پاک فضائیہ ٹیکنالوجی اور مین پاور میں کسی سے کم نہیں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاک فضائیہ کی صلاحیت کا اعتراف اسرائیل جیسی طاقتیں بھی کرتی ہیں اور بھارت پاک فضائیہ کے جذبے کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

    میجر جنرل (ریٹائرڈ) خالد جعفری نے بھارتی بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن مکمل طور پر من گھڑت اور فیبریکیٹڈ ہے جو دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) زرین خان نےکہا کہ ایک لاکھ سے زائد تربیت یافتہ ریٹائرڈ فوجی اہلکار کشمیر میں موجود ہیں جو کسی بھی ممکنہ جارحیت کی صورت میں صف اول پر ہوں گے، بھارت کو کشمیری عوام پر مظالم بند کرنے چاہئیں۔

    پی این ایس سی کے بھارت جانیوالے کارگو کا رخ سنگاپور کی طرف موڑ دیاگیا

    بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) جمیل نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ چاہے کولڈ اسٹارٹ ہو یا ہاٹ اسٹارٹ ہم ہر قسم کی صورتحال کے لیے تیار ہیں، بھارت جب آئے گا ہم بتائیں گے کہ وہ کب واپس جائے گامیجر (ریٹائرڈ) وسیم محمود نے کہا کہ ہمارے ایکس سروس مین کمان کی منتظر ہیں اور ابھی بھی کافی لوگوں کی چائے تیار ہےپاک فضائیہ نے بھارتی رافیل طیاروں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔

    پریس کانفرنس کے اختتام پر تمام مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے ریٹائرڈ فوجی اہلکار وطن کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں اور ملکی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

    پاک بھارت کشیدگی: کئی بڑی ائیر لائنز کا پاکستان کی فضائی حدود سے گریز

  • جب چینی ججز کو ہمارے زیرالتواء مقدمات کی تعداد بتائی گئی تو وہ حیران رہ گئے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ جب چینی ججز کو ہمارے زیرالتواء مقدمات کی تعداد بتائی گئی تو وہ حیران رہ گئے-

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ رپورٹرز سے ملاقات میں چین کے عدالتی نظام، زیرالتواء مقدمات، ٹیکنالوجی کے استعمال اور بین الاقوامی عدالتی روابط پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

    چیف جسٹس نے بتایا کہ حالیہ دورہ چین کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ چائنہ کی سپریم کورٹ میں 367 ججز تعینات ہیں اور حیران کن طور پر وہاں کوئی مقدمہ زیر التواء نہیں ہے جب چینی ججز کو ہمارے زیرالتواء مقدمات کی تعداد بتائی گئی تو وہ حیران رہ گئے، انہوں نے پوچھا کہ اتنے کیسز آپ کیسے نمٹائیں گے؟ میں نے جواب دیا کہ اسی لیے تو ہم آپ کے پاس آئے ہیں.

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا ناگزیر ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کوئی ایسی گولی نہیں جو کھائی جائے اور سب کچھ خود بخود بہتر ہو جائے ان کے مطابق جب تک مکمل ڈیٹا موجود نہ ہو مصنوعی ذہانت (AI) کا مؤثر استعمال ممکن نہیں۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بتایا کہ وہ پانچ رکنی وفد کے ہمراہ چین کے دورے پر گئے جہاں ایرانی چیف جسٹس سے بھی ملاقات ہوئی چینی عدالتی نظام میں بھی پاکستان کی طرح چار فورمز کام کر رہے ہیں دورہ چین کے دوران بھارتی عدلیہ کے ججز سے بھی بات چیت ہوئی تاہم موجودہ حالات کے تناظر میں ان باتوں کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

    چیف جسٹس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ پاکستان کی پانچوں ہائیکورٹس ٹیکنالوجی کے حوالے سے سپریم کورٹ سے بہتر سطح پر کام کر رہی ہیں انہوں نے زور دیا کہ عدالتی نظام میں بہتری کے لیے ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال اور مثبت تجربات سے سیکھنا وقت کی اہم ضرورت ہےموجودہ حالات ایسےہیں کہ عدلیہ سےمتعلق اچھی باتیں عوام تک پہنچنی چاہئیں تاکہ اعتماد بحال ہو اور اصلاحات کاعمل تیز ہو سکے۔

  • پی این ایس سی کے بھارت جانیوالے کارگو کا رخ سنگاپور کی طرف موڑ دیاگیا

    پی این ایس سی کے بھارت جانیوالے کارگو کا رخ سنگاپور کی طرف موڑ دیاگیا

    کراچی: پاک بھارت کشیدگی کے باعث پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ( پی این ایس سی) کے بھارتی کارگو کا رخ بھارتی بندرگاہ کے بجائےسنگاپور کی طرف موڑ دیاگیا۔

    ذرائع کے مطابق ملائیشیا کی بنٹولو پورٹ سے 3 مئی کو بھارت کی کانڈلہ پورٹ کے لیے روانہ ہونے والے پی این ایس سی کے بھارتی کارگوکا رخ بھارتی بندرگاہ کے بجائےسنگاپور کی طرف موڑ دیاگیا۔

    پاک بھارت کشیدگی: کئی بڑی ائیر لائنز کا پاکستان کی فضائی حدود سے گریز

    اس حوالے سے پی این ایس سی ذرائع کا بتانا ہے کہ کارگو جہاز میں بھارت کے لیے لکڑیاں موجود ہیں، جہاز میں موجود کارگو ایک سے دو دن میں اتارے جانےکاامکان ہے پی این ایس سی کی شپنگ اسٹیٹس رپورٹ میں کارگوکےسنگاپور میں اتارنےجانےکاذکرموجود ہے جب کہ کارگو کو کانڈلہ پورٹ سے قریب ترین کولمبو یا سوہار اتارنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

    دوسری جانب بھارت نے پاکستان کی بین الاقوامی تجارت پر وار کرتے ہوئے پاکستانی کنٹینرز لے کر بھارتی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے والے تیسرے ملکوں کے پرچم بردار بحری جہازوں کو بھی بھارتی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے سے روک دیا پاکستانی درآمدات پر پابندی اور پرچم بردار بحری جہازوں کے بعد ٹرانزٹ کارگو والے جہازوں کو بھی لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    تیسرے ملک کے لیے کارگو لے جانے والی شپنگ کمپنی آئی ای ایکس کے کنٹینرز بردار بحری جہاز کو برتھ فراہم کرنے سے انکار کردیا ذرائع شپنگ انڈسٹری نے کہا کہ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی کارگو لانے والے کسی جہاز کو بھارت کی بندرگاہ پر برتھ نہیں دی جائیگی۔

    ماہرین کے مطابق بھارتی اقدامات سے خطے کی لاجسٹکس کے علاؤہ بین الاقوامی شپنگ انڈسٹری بھی متاثر ہوگی، پاکستانی کارگو لے جانے والے جہازوں کو خصوصی سروس چلانا پڑے گی پاکستان کو ایسی شپنگ سروسز سے ایکسپورٹ امپورٹ کرنا ہوگی کو بھارت کی بندرگاہ استعمال نہیں کرتے۔

    ایک طرف بھارت نے پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا واویلا مچایا ہوا ہے، تو دوسری جانب خود بھارتی ادارے اعتراف کر رہے ہیں کہ تقریباً 50 کروڑ ڈالر مالیت کی پاکستانی اشیاء خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، سنگاپور اور سری لنکا جیسے ملکوں کے ذریعے بھارت میں داخل ہو رہی ہیں۔

    بھارتی خبر رساں ایجنسی کی ایک رپورٹ میں ایک اعلیٰ بھارتی عہدیدار کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان سے آنے والی اشیاء، جن میں خشک میوہ جات، کیمیکل، چمڑا، ٹیکسٹائل اور سیمنٹ شامل ہیں، ان ممالک کے ذریعے بھارت پہنچ رہی ہیں۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی اشیاء کو ری لیبل اور ری پیک کیا جاتا ہے، جس کے بعد انہیں بھارتی مارکیٹ میں ”تیسرے‘ ملک کی مصنوعات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

    بھارت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ مذاکرات چاہتا ہے یا تباہی،بلاول

    رپورٹ کے مطابق سنگاپور کے راستے کیمیکل بھارت میں داخل کیے جا رہے ہیں، جبکہ انڈونیشیا کے ذریعے پاکستانی سیمنٹ اور ٹیکسٹائل را مٹیریل بھارتی صنعتوں تک پہنچ رہا ہے۔اسی طرح سری لنکا کے راستے خشک میوہ جات، نمک اور چمڑے کی اشیاء بھارت منتقل کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

    بھارتی عہدیدار نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اب پاکستانی اشیاء پر براہ راست ہی نہیں بلکہ بالواسطہ (indirect) تجارت پر بھی مکمل پابندی عائد کی جائے اس ”جامع پابندی“ کے ذریعے بھارت کا مقصد یہ ہے کہ پاکستانی مال کو دوسرے ملکوں کے لیبل میں بھی داخل ہونے سے روکا جا سکے۔

    دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

  • پاک بھارت کشیدگی: کئی بڑی ائیر لائنز کا پاکستان کی فضائی حدود سے  گریز

    پاک بھارت کشیدگی: کئی بڑی ائیر لائنز کا پاکستان کی فضائی حدود سے گریز

    کراچی: پہلگام حملے کے بعد سے جاری پاک بھارت کشیدگی کی وجہ سےلفتھانزا، امارات، سوئس ائیر، برٹش ائیر ویز، ائیر فرانس سمیت دنیا کی کئی بڑی ائیر لائنز نے پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنا ترک کر دیا ہے-

    لفتھانزا ایئر نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ اس کی پروازیں 22 اپریل 2025 کو پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے اگلے اعلان تک پاکستانی فضائی حدود کے استعمال سے گریز کر رہی ہیں۔

    ائیر لائن حکام کے مطابق یہ فیصلہ ائیر فرانس، برٹش ائیر ویز، سوئس انٹرنیشنل ائیر لائنز اور امارات جیسی دیگر بڑی بین الاقوامی ائیر لائنز کے اقدامات کے مطابق کیا ہے، جو پاکستانی فضائی حدود سے بچنے کے لیے بھارت یا دیگر ممالک کی پروازوں کے لیے راستہ تبدیل کرنے سے کیا ہے اوراس صورتحال میں تمام پروازوں کے سفر کا دوارنیہ طویل ہوا ہے اور ایندھن کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔

    سکھر: کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس، تین پولیس اہلکار برطرف

    برٹش ائیر ویز کی لندن سے دہلی کی پرواز کا دورانیہ پاکستانی حدود سے بچنے ہوئے پرواز بی اے 142 کا دورانیہ ایک گھنٹہ طویل ہوا ہے جب کہ فرینکفرٹ نئی دہلی لفتھانزا کی پرواز ایل ایچ 760 کو نئی روٹنگ کی وجہ سے تقریباً ایک گھنٹے کے اضافی وقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    امارات کی دبئی سے دہلی کی پرواز ای کے 517 کو بھی نصف گھنٹے سے زائد کا اضافی دورانیہ بڑھ رہا ہے جب کہ امارات کی ممبئی، احمد آباد اور دیگر شہروں کی پروازیں بھی پاکستانی حدود کو نظر انداز کر کے منزل تک جاتے ہیں۔

    شہری زندگی میں دیسی کھانے کیسے شامل کریں؟تحریر:عائشہ ندیم

    فضائی حدود میں تبدیلیاں بھارت اور پاکستان کے درمیان جوابی اقدامات کی ایک وسیع سیریز کا حصہ ہیں بھارت نے بھی پاکستانی ائیر لائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں جبکہ پاکستان نے بھارتی ایئر لائنز پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اس کشیدگی کے باوجود پاکستا ن بین الاقوامی ائیر لائنز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی رکھی ہےتاہم لفتھانزا اور ائیر فرانس نے رضاکارانہ طور پر اس سے بچنے کا انتخاب کیا ہے۔

    دوسری جانب برٹش ائیر اسلام آباد کے لئے اپ اینڈ ڈاؤن کی پرواز بی اے 2161 اور 2160 آپریٹ کر رہی ہے۔

    پہلگام ڈرامہ،مودی حکومت کی انا،معصوم خاندان ہجرت پر مجبور

  • محسن نقوی کی  قطر ی وزیراعظم سے ملاقات

    محسن نقوی کی قطر ی وزیراعظم سے ملاقات

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن الثانی سے ملاقات کی-

    ملاقات میں انہوں نے خطے میں امن و استحکام، پاک بھارت کشیدگی اور حالیہ پہلگام واقعہ سے متعلق پاکستان کے اصولی اور واضح مؤقف سے آگاہ کیا، وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پہلگام واقعے پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ ہیں، جو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

    انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے اس واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی ہے، جو ہمارے مؤقف کی شفافیت اور اصولی پالیسی کو ظاہر کرتی ہے دنیا کو جاننا چاہیے کہ اس واقعے کے اصل ماسٹر مائنڈ کون ہیں اور اس سے فائدہ کس نے اٹھایا۔

    یہ گریٹر اسرائیل اور اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھتے ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس واقعے کو بنیاد بنا کر سندھ طاس معاہدے پر وار کیا جو پاکستان کے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے پاکستان خطے میں دیرپا امن کا خواہاں ہے، تاہم کسی قسم کی جارحیت پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔

    قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن الثانی نے ملاقات کے دوران کہا کہ ان کی حکومت خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کی حامی ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ سفارتی کوششوں سے موجودہ کشیدگی کم ہوگی۔

    دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    وزیراعظم قطر نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے لیے نیک خواہشات کا پیغام بھیجا اور کہا کہ وہ پاکستان کی معیشت کو درست سمت میں لے جانے کے لیے محنت کر رہے ہیں، ملاقات میں قطر میں پاکستانی سفیر محمد عامر اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔