Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • چین نے ٹرمپ کے دورے سے قبل 4 ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دیں

    چین نے ٹرمپ کے دورے سے قبل 4 ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دیں

    چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ دورۂ چین سے قبل امریکا کے ساتھ تعلقات میں اپنی 4 ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دیں، جن میں تائیوان کا مسئلہ، سمندری حدود (جنوبی چین کا سمندر)، انسانی حقوق اور چین کی سیاسی نظام کو چیلنج نہ کرنا شامل ہیں-

    رشیا ٹو ڈے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات متوقع ہے، جس میں ٹرمپ نے شی جن پنگ کو ’دوست‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق وہ ملاقات میں ایران سے متعلق جنگ پر بھی بات کریں گے، جس پر امریکا اور اسرائیل چین پر ایران کی حمایت کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

    چینی سفارت خانے نے امریکا میں اپنے بیان میں دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے 4 ’ریڈ لائنز‘ کا ذکر کیا ہے، جن میں تائیوان، جمہوریت اور انسانی حقوق، سیاسی نظام اور ترقی کے راستے، اور چین کے ترقیاتی حقوق شامل ہیں، چین اپنی سمندر ی حدود میں امریکی فوجی موجودگی اور نیویگیشن آپریشنز کو اپنی خودمختاری کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے بیجنگ کا کہنا ہے کہ امریکا کو تائیوان میں علیحدگی پسند حکومت کی حمایت سے گریز کرنا چاہیے اور چین کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے،چین کے ترقیاتی اہداف کو روکنے کے لیے ٹیکنالوجی یا دیگر تجارتی پابندیوں کا نفاذ، جسے چین اپنی اقتصادی ترقی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے-

    صدر ٹرمپ کا یہ دورہ ان کی دوسری مدتِ صدارت میں چین کا پہلا دورہ ہے، جس میں وہ ایران کے معاملے، عالمی تجارت، اور مصنوعی ذہانت جیسے اہم موضوعات پر بات چیت کریں گے یہ دورہ ایران جنگ اور تجارتی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال میں دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان براہِ راست بات چیت کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

    امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف اقدامات کے بعد چین اور امریکا کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے ہیں امریکا کی جانب سے ایک چینی آئل ریفائنری پر ایرانی تیل کی خریداری کے الزام میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جس کے جواب میں چین نے اپنی نجی ریفائنریوں کو امریکی پابندیوں کی پابندی سے روک دیا ہے اور انہیں غیر قانونی قرار دیا ہے۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ چین اپنی کمپنیوں کے جائز حقوق اور مفادات کا بھرپور تحفظ کرے گا اور امریکا کے ساتھ برابری، باہمی احترام اور مفادِ مشترکہ کی بنیاد پر تعلقات آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

  • 14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول ڈرگ ڈیلر کیسے بنی؟

    14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول ڈرگ ڈیلر کیسے بنی؟

    کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار ہونے والی مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق محض 14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول دیکھتے ہی دیکھتے بین الاقوامی کوکین نیٹ ورک کی اہم کارندہ بن گئی انمول کی پہلی شادی ایک وکیل سے ہوئی جو عالمی کوکین گینگ سے وابستہ تھا، جہاں سے اس نے منشیات کی دنیا میں قدم رکھا،وکیل سے طلاق کے بعد اس نے ایک پولیس افسر سے شادی کی اور اپنے تین بھائیوں کے ساتھ مل کر کوکین کا ایک منظم نیٹ ورک قائم کیا-

    انمول کراچی کے علاقے نگارہ گوٹھ بلوچ پاڑہ کی رہائشی تھی، سال 2008 میں ڈیفنس اور کلفٹن میں ہونے والی ڈانس پارٹیز میں منشیات کی سپلائی کا آغاز کیا، ملزمہ نے اس فیلڈ میں اپنا نام پنکی رکھا اور پھر آہستہ آہستہ اپنے کام کو پھیلایاکراچی میں گزشتہ سال ارمغان کیس سامنے آنے کے بعد ملزمہ لاہور اور اسلام آباد میں روپوش رہی ، اور وہیں سے منشیات کا نیٹ ورک چلاتی رہی ،ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ انمول عرف پنکی کے 800 سے زائد کسٹمرز تھے جن کو وہ اپنے نیٹ ورک کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی ۔

    حیران کن طور پر ملزمہ نے انٹرنیٹ کے ذریعے کوکین تیار کرنے کا طریقہ سیکھ کر اپنا “برانڈ” بھی متعارف کروا رکھا تھاملزمہ کا نیٹ ورک انتہائی پیچیدہ تھا جس میں کوئی بھی رکن ایک دوسرے سے براہِ راست نہیں ملتا تھا لاہور سے دو خواتین کے ذریعے ٹرین کے ذریعے کوکین کراچی بھیجی جاتی، جہاں سے با ئیک رائیڈرز اسے مختلف ڈیلرز تک پہنچاتے اور ادائیگیاں بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کی جاتیں۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بتانا ہے کہ ملزمہ کے گروپ میں دیگر خواتین اور مرد بھی شامل ہیں ، نیٹ ورک کے کارندے کوکین اسمگل کرکے مختلف شہروں ، کراچی کی جامعات ، کالجز اور آن لائن فروخت بھی کرتے تھے۔

    ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ملزمہ کو پانچ سال قبل پنجاب پولیس نے گرفتار کیا تھا مگر مبینہ طور پر 7 کروڑ روپے رشوت لے کر چھوڑ دیا گیا ملزمہ اس غیر قانونی دھندے سے ماہانہ کروڑوں روپے کما رہی تھی اور اس نے گلگت میں ایک ہوٹل بھی بنا رکھا ہے،جبکہ ملزمہ لاہور میں کپڑے کا کاروبار بھی کرتی ہے۔

    خیال رہے کہ کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون کو گرفتار کیا تھا پولیس کا دعویٰ ہےکہ ملزمہ انمول عرف پنکی سے پستول،کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور دیگر نشہ آور اشیا برآمد کی گئیں انتہائی مطلوب اور 10 مقدمات میں مفرور ملزمہ شہر میں منشیات ڈیلنگ و سپلائی کے نیٹ ورک کو آپریٹ کررہی تھی ملزمہ آن لائن منشیات کو مخصوص رائیڈرز کے ذریعے سپلائی کرتی تھی، اس کے علاوہ وہ خواتین رائیڈرز کا بھی استعمال کرتی تھی۔

  • ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں آندھی، گرج چمک اور بارش کی پیشگوئی کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے، جبکہ ملک کے جنوبی علاقوں میں بھی بیشتر مقامات پر موسم گرم اور خشک رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے خیبرپختونخوا کے بالائی اور وسطی اضلاع میں موسم تبدیل ہونے کا امکان ہے، جہاں دیر، چتر ال، مالاکنڈ، کوہستان اور بونیر سمیت کئی علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے اس کے علاوہ مالم جبہ، کالام، پاراچنار اور ایبٹ آباد کے چند مقامات پر بھی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں موسم خوشگوار رہنے کی توقع ہے،لاہور میں بھی مزید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے-

    رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مالم جبہ میں سب سے زیادہ 67 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی متعلقہ حکام نے خراب موسمی صورتحال کے پیش نظر شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے ،دوسری جانب کراچی میں شدید گرمی اور حبس کا سلسلہ بدستور جاری ہے،محکمہ موسمیات کے مطابق آج شہر قائد کا درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔

  • وزیراعظم کی مون سون سے قبل پیشگی تیاری یقینی بنانے کی ہدایت

    وزیراعظم کی مون سون سے قبل پیشگی تیاری یقینی بنانے کی ہدایت

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیرِ موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے ملاقات کی-

    وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے ملاقات کی، جس میں رواں برس مون سون بارشوں کے حوالے سے تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، ملاقات میں وزیراعظم کو پہاڑی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اطلاع دینے والے نظام کی تنصیب، پیشرفت اور کارکردگی سے بھی آگاہ کیا گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ مون سون سیزن سے قبل تمام ضروری اقدامات مکمل کیے جائیں اور خطرات سے دوچار علاقوں کی مسلسل نگرانی یقینی بنائی جائے، پیشگی اطلاع کے نظام کو مزید مؤثر اور فعال بنایا جائے تاکہ ممکنہ قدرتی آفات سے بروقت نمٹا جا سکے اور انسانی جانوں و املاک کے نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔

    واضح رہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل نے 2026 کے مون سون سیزن میں معمول سے 22 سے 26 فیصد زائد بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ملک میں موسم کی شدت بڑھ رہی ہے اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بھرپور تیاری ناگزیر ہے۔

    ڈی جی این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث موسم زیادہ شدت اختیار کر رہا ہے، اور آئندہ مون سون سیزن ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشیں لا سکتا ہے،

  • ٹرمپ کا امریکی میڈیا پر ’غداری‘ کا الزام

    ٹرمپ کا امریکی میڈیا پر ’غداری‘ کا الزام

    امریکی میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ’فیک نیوز‘ یہ تاثر دے رہی ہے کہ ایران عسکری طور پر امریکا کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے تو یہ ’عملاً غداری‘ کے مترادف ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کو عسکری طور پر مضبوط ظاہر کرنا ’عملاً غداری‘ کے مترادف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور عسکری ٹیکنالوجی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں امریکی میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ’فیک نیوز‘ یہ تاثر دے رہی ہے کہ ایران عسکری طور پر امریکا کے مقا بلے میں بہتر پوزیشن میں ہے تو یہ ’عملاً غداری‘ کے مترادف ہے، یہ وہ امریکی بزدل ہیں جو اپنے ہی ملک کے خلاف کھڑے ہیں۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ کے تمام 159 جہاز تباہ ہو چکے ہیں اور اب سمندر کی تہہ میں پڑے ہیں، جبکہ ایران کی فضائیہ اور عسکری ٹیکنالوجی بھی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے ایرانی قیادت بھی اب باقی نہیں رہی اور ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہے، صرف ناکام، ناشکرے اور احمق لوگ ہی امریکا کے خلاف مؤقف اختیار کر سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے تعلقات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جبکہ امریکی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بھی خارجہ پالیسی پر شدید بحث جاری ہے۔

  • چین کے J-10C   فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے دفاعی حلقوں میں تشویش

    چین کے J-10C فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے دفاعی حلقوں میں تشویش

    چین کی جانب سے اپنے جے-10سی (J-10C) "4+ جنریشن” لڑاکا طیاروں کو دنیا کے طویل ترین فاصلے تک فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، PL-17 سے لیس کرنے کی اطلاعات نے انڈو پیسیفک (بحرالکاہل) خطے میں دفاعی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ مئی 2026 کے اوائل میں سامنے آنے والی رپورٹس اور تصاویر کے مطابق، ان طیاروں پر نئے بیرونی ہتھیاروں کے پائلن (DF-4/3) نصب کیے گئے ہیں، جو ان ‘ایئر وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم’ (AWACS) کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کے استعمال کی تصدیق کرتے ہیں۔

    PL-17 میزائل 400 کلومیٹر تک کی رینج کے ساتھ، انڈو پیسیفک میں امریکی اور اتحادی فضائیہ کے اہم سہولیاتی طیاروں (جیسے AWACS اور ٹینکرز) کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے J-10C کی پذیری کو بڑھا کر، چین اب ان ہلکے لڑاکا طیاروں کے ذریعے بھی طویل فاصلے تک آپریشنز کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے، جو پہلے صرف بھاری جے-16 (J-16) طیاروں تک محدود تھی۔

    یہ پیشرفت تائیوان کے ارد گرد اور جنوبی ایشیا میں فضائی طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتی ہے، جس سے امریکی اور اتحادی پلانرز کو اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کرنی پڑ سکتی ہے،پاکستان ایئر فورس (PAF) بھی J-10C استعمال کرتی ہے اور ان کے بیڑے کو بھی PL-15 اور مستقبل میں PL-17 میزائلو ں سے لیس کرنے کی اطلاعات ہیں، جس سے علاقائی فضائی لڑائی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

    مئی 2026 سے ابھرتی ہوئی رپورٹیں جنگی کامیابی کی تجویز کرتی ہیں، ان دعووں کے ساتھ کہ پاکستان کے J-10C جیٹ طیاروں نے ہندوستانی رافیل لڑاکا طیاروں کو مار گرایا، J-10C، اپنی ظاہر کردہ صلاحیتوں اور سستی قیمت کے ٹیگ کے ساتھ دلچسپی کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، رپورٹس کے مطابق انڈونیشیا ان میں سے 42 جیٹ طیارے خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    یہ پیشرفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ PL-17 اب J-16 جیسے بڑے، جڑواں انجن والے پلیٹ فارم تک محدود نہیں ہے، جو PLAAF (پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس) کے بیڑے میں اپنی رسائی کو بڑھا رہا ہے۔

  • معرکہ حق:چین کی پاکستان  کوفضائی مدد فراہم کرنے کی تصدیق

    معرکہ حق:چین کی پاکستان کوفضائی مدد فراہم کرنے کی تصدیق

    چین نے بھارت کے ساتھ تنازع (معرکہ حق) کے دوران پاک فضائیہ کو اہم آپریشنل اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی تصدیق کی ہے۔ چینی انجینئرز کے مطابق، اس تعاون میں شامل چینی ساختہ طیارے اور ٹیکنالوجی نے اہم کردار ادا کیا۔

    ،چینی انجینئر کا انٹرویو میں کہنا تھا آپریشنل اور تکنیکی مدد فراہم کی گئی، چینی ساختہ طیارے کے ذریعے بھارتی رافیل مار گرایا گیا ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق چین نے پہلی بار باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گزشتہ سال بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران اس نے پاکستان کی فضائیہ کو تکنیکی معاونت فراہم کی تھی،بھارت کے ساتھ اس جنگی صورتحال کے دوران ایک چینی ساختہ فائٹر جیٹ نے بھارت کے کم از کم ایک فرانسیسی ساختہ رافیل جنگی طیارے کو تباہ کیا تھا۔

    چین کے سرکاری نشریاتی ادارے CCTV نے ژانگ ہینگ کا ایک انٹرویو نشر کیا، جو ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنا (AVIC) کے چینگڈو ایئرکرافٹ ڈیزائن اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے انجینئر ہیں یہ ادارہ چین کے جدید لڑاکا طیاروں اور بغیر پائلٹ فضائی گاڑیوں (ڈرونز) کے ڈیزائن میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے ژانگ نے گزشتہ مئی کے دوران ہونے والی چار روزہ جنگ میں پاکستان کو تکنیکی مدد فراہم کی تھی۔

    پاکستان کی فضائیہ چینی ساختہ J-10CE طیاروں کا بیڑا چلاتی ہے، جنہیں AVIC کا ایک ذیلی ادارہ تیار کرتا ہے،بھارت کے ساتھ تنازع کے دوران ان طیاروں میں سے ایک نے کم از کم ایک فرانسیسی ساختہ رافیل (Rafale) جنگی طیارہ مار گرایا،یہ پہلا موقع تھا کہ جب کسی چینی ماڈل (طیارے) کے بارے میں دشمن کے طیارے کو گرانے کی اطلاع ملی، اور یہ پہلا موقع تھا کہ جب ایک رافیل طیارے کو مار گرایا گیا تھا۔

  • پاسداران انقلاب کے مالی نیٹ ورک کی معلومات دینے پر 15 ملین ڈالر کا انعام

    پاسداران انقلاب کے مالی نیٹ ورک کی معلومات دینے پر 15 ملین ڈالر کا انعام

    امریکا نے پاسداران انقلاب کے مالی نیٹ ورک کی معلومات دینے پر 15 ملین ڈالر کا انعام رکھ دیا۔

    واشنگٹن نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مالیاتی ڈھانچے سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے بڑا انعامی پروگرام جاری کردیا ہے جس کے تحت قابل اعتماد معلومات دینے والے کو 15 ملین امریکی ڈالر تک انعام دیا جاسکتا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے تحت کام کرنے والے ’’ریوارڈز فار جسٹس‘‘ پروگرام نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب، اس کے مالیاتی نیٹ ورک، غیرقانونی آئل شپمنٹس اور ان سرگرمیوں میں ملوث افراد یا اداروں سے متعلق معلومات دینے والوں کو 15 ملین ڈالر تک انعام دیا جائے گا۔

    پروگرام کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ پاسدارانِ انقلاب اور اس کی ذیلی شاخ ’’قدس فورس‘‘ دنیا بھر میں دہشتگرد سرگرمیوں کی معاونت اور ان میں ملوث رہی ہے آئی آر جی سی اپنی سرگرمیوں کیلئے فنڈز کے حصول میں مختلف خفیہ مالیاتی ذرائع استعمال کرتی ہے، جن میں فرنٹ کمپنیاں، خفیہ کاروباری نیٹ ورکس اور ایسے ادارے شامل ہیں جو امریکی اور عالمی پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر کسی شخص کے پاس ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی تیل ترسیل، اس میں استعمال ہونے والے ٹینکرز، معاون کمپنیوں یا متعلقہ افراد سے متعلق معلومات موجود ہیں تو وہ واٹس ایپ، ٹیلیگرام یا سگنل کے ذریعے معلومات فراہم کرسکتا ہے۔

    امریکا 2019 میں پاسدارانِ انقلاب کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے واشنگٹن کا الزام ہے کہ آئی آر جی سی مختلف سائبر حملوں اور بیرونِ ملک ایرا نی شہریوں کو دھمکیاں دینے میں بھی ملوث رہی ہے، جن میں برطانیہ میں قائم ایران انٹرنیشنل کے عملے کو دی جانے والی دھمکیاں بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب یورپی پارلیمنٹ بھی جنوری 2023 میں ایک قرارداد منظور کرچکی ہے جس میں یورپی یونین اور رکن ممالک سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے تاہم جرمنی سمیت بعض یورپی ممالک کا مؤقف ہے کہ ایسا کرنے سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سفا ر تی مذاکرات کا راستہ بند ہوسکتا ہے۔

  • اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف سے 1.3 ارب ڈالر موصول

    اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف سے 1.3 ارب ڈالر موصول

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے تحت توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) پروگراموں کے تحت تقریباً 1.3 ارب امریکی ڈالر وصول کر لیے ہیں-

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ’ایکس‘ پر جاری بیان کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے 8 مئی 2026 کو منعقدہ اجلاس میں ای ایف ایف کے تحت پاکستان کے لیے تیسرے جائزے کی منظوری دی اور 760 ملین امریکی ڈالر کی قسط جاری کرنے کی اجازت دی اسی طرح بورڈ نے آر ایس ایف کے تحت دوسری قسط کی مد میں 154 ملین ایس ڈی آر کی ادائیگی کی بھی منظوری دی۔

    اس کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو مجموعی طور پر 914 ملین امریکی ڈالر موصول ہوئے، جو تقریباً 1.3 ارب امریکی ڈالر کے برابر ہیں یہ رقم 12 مئی 2026 کو اسٹیٹ بینک کو منتقل کی گئی، یہ رقوم 15 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے زرمبادلہ ذخائر میں شامل کی جائیں گی، جس سے ملک کے مجموعی ذخائر میں بہتری متوقع ہے۔

  • امریکا اسرائیل کیجانب سے دوبارہ حملہ ہوا تو  یورینیم کی 90 فیصد افزودگی پر غور کریں گے،ایران

    امریکا اسرائیل کیجانب سے دوبارہ حملہ ہوا تو یورینیم کی 90 فیصد افزودگی پر غور کریں گے،ایران

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملہ کیا گیا تو یورینیم کی 90 فیصد افزودگی جیسے سخت اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔

    ایرانی پارلیمان کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کی گئی تو ایران ممکنہ طور پر یورینیم کی 90 فیصد تک افزودگی پر غور کرے گا اس معاملے کا پارلیمنٹ میں جائزہ لیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سخت لہجہ اختیار کیا اور ایران کے ساتھ ہونے والی موجودہ جنگ بندی کے بارے میں کہا کہ یہ اس وقت لائف سپورٹ پر ہے جو کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے انہوں نے ایران کی جانب سے بھیجی گئی امن تجاویز کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ ایران نے ایک فضول دستاویز بھیجی ہے جسے پڑھنے کا بھی میرا دل نہیں کیا۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران پہلے اپنا یورینیم دینے پر راضی تھا لیکن اب وہ اس سے مکر رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف امریکا اور چین ہی جوہری مواد کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے اور وہ ایران کے خلاف مکمل فتح حاصل کر کے رہیں گے۔

    ایران نے بھی امریکی دھمکیوں کا جواب دینے کے لیے کمر کس لی ہے اور بحری دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے آبنائے ہرمز میں اپنی چھوٹی آبدوزیں روانہ کر دی ہیں ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ آبدوزیں آبنائے ہرمز کی چھپی ہوئی محافظ ثابت ہوں گی اور کسی بھی دشمن کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دیں گی۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے صدر ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور دنیا پہلے بھی دیکھ چکی ہے کہ غلط فیصلوں اور غلط حکمت عملی کا انجام ہمیشہ بھیانک ہوتا ہے،ہم ہر قسم کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور اگر امریکا نے کوئی غلطی کی تو اسے وہ نتائج بھگتنے پڑیں گے جو اسے حیران کر دیں گے۔

    دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس کے ریئر ایڈمرل محمد اکبرزادہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے محافظوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ پر ایران کا مؤثر اور طاقتور کنٹرول موجود ہے،ایران آبنائے ہرمز کو صرف ایک محدود جغرافیائی مقام کے طور پر نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے، جو دیگر ممالک کی سوچ سے مختلف ہےماضی میں آبنائے ہرمز کو صرف ہرمز اور جزائر کے اطراف موجود ایک محدود علاقہ تصور کیا جاتا تھا، تاہم اب صورت حال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔

    ایرانی عہدیدار کے مطابق ماضی میں اس آبی گزرگاہ کی چوڑائی 20 سے 30 میل سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ 200 سے 300 میل یعنی تقریباً 500 کلومیٹر تک پھیل چکی ہے، جو جاسک اور سیریک سے جزیرہ قشم اور تنبِ بزرگ سے آگے تک محیط ’چاند‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

    محمد اکبرزادہ نےکہا کہ ایران کی خطے کے دیگر ملکوں کے عوام سے کوئی دشمنی نہیں، تاہم بعض حکومتیں ہمیشہ ایران مخالف رویہ اپناتی رہی ہیں بعض ممالک ایران کے ہر اقدام کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں جیسے ایران انہیں فتح کرنا چاہتا ہو، حالانکہ یہ تصور مکمل طور پر غلط ہے اور ایران کے بارے میں یہ ایک منفی اور جھوٹی تصویر بنائی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایران نے توانائی، تجارتی سامان کی ترسیل اور ٹرانزٹ کے شعبوں میں کبھی رکاوٹ پیدا نہیں کی بلکہ عالمی برادری کو وسیع خدمات فراہم کیں بعض مواقع پر ایران نے اپنے علاقائی پانیوں سے گزرنے والے جہازوں، حتیٰ کہ مخالف ممالک کے بحری جہازوں کو بھی سیکیورٹی فراہم کی اور یہ خدما ت مفت مہیا کی گئیں۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ ایران خطے میں ہونے والی تمام نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے سمندری حدود اور قومی مفادات پر کسی قسم کی جارحیت کی اجازت نہیں دے گا خطے میں بدلتے حالات کے تناظر میں نئی پالیسیاں نافذ کی جا رہی ہیں، جن کے اثرات دنیا جلد دیکھے گیانہوں نے ایرانی عوام کو یقین دہانی کرائی کہ ایران کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کے دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔