Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ایرانی میزائل نیٹ ورک اب بھی فعال اور محفوظ ہے،امریکی خفیہ اداروں کی نئی رپورٹس

    ایرانی میزائل نیٹ ورک اب بھی فعال اور محفوظ ہے،امریکی خفیہ اداروں کی نئی رپورٹس

    امریکی خفیہ اداروں کی نئی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کا میزائل نیٹ ورک اب بھی بڑی حد تک فعال اور محفوظ ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ان دعوؤں کے برعکس ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔

    برطانوی اور امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں کی خفیہ جائزہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے اپنے بیشتر میزائل تنصیبات، زیرِ زمین ذخیرہ گاہوں اور موبائل لانچر سسٹمز پر دوبارہ آپریشنل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق آبنائے ہرمز کے اطراف قائم ایران کی 33 میزائل تنصیبات میں سے 30 مختلف درجوں میں قابلِ استعمال سمجھی جار ہی ہیں ان رپورٹس نے خطے میں بحری سلامتی سے متعلق خدشات میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے، خاص طور پر ان بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز کے لیے جو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرتے ہیں۔

    انٹیلیجنس رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے موبائل میزائل لانچرز کو مختلف مقامات پر منتقل کرنے اور بعض صورتوں میں انہی تنصیبات کے اندر موجود انفرااسٹرکچر سے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے آبنائے ہرمز کے قریب صرف چند تنصیبات مکمل طور پر غیر فعال ہوئی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر ایران کے تقریباً 70 فیصد موبائل میزائل لانچرز اب بھی کام کررہے ہیں۔

    امریکی خفیہ اداروں کا اندازہ ہے کہ ایران نے جنگ سے پہلے موجود اپنے میزائل ذخیرے کا بھی بڑا حصہ محفوظ رکھا ہوا ہے، جس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور مختصر فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے کروز میزائل شامل ہیں۔

    علاوہ ازیں سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر نگرانی کے نظام سے حاصل معلومات کے مطابق ایران نے ملک بھر میں قائم تقریباً 90 فیصد زیرِ زمین میزائل ذخیرہ گاہوں اور لانچنگ مراکز تک جزوی یا مکمل رسائی دوبارہ حاصل کرلی ہے رپورٹس میں ان تنصیبات کو مختلف سطح پر فعال قرار دیا گیا ہےیہ انکشافات صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ان بیانات سے متصادم ہیں جن میں ایران کی فوجی طاقت کو’’شدید متاثر‘‘ قرار دیا گیا تھا۔

    رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو مؤثر انداز میں غیر فعال بنایا جاچکا ہے، جبکہ ایران کی بحالی سے متعلق دعوؤں کو مبالغہ آمیز اور سیاسی قرار دیا،دوسری جانب پینٹاگون کے ترجمان نے امریکی میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض ادارے امریکی فوجی کارروائیوں کو غلط انداز میں پیش کررہے ہیں اور ایران کے خلاف کامیاب آپریشن کو متنازع بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

  • دورہ چین،ٹرمپ کے وفد نے "ڈیجیٹل لاک ڈاؤن” کی پالیسی کیوں اپنائی؟

    دورہ چین،ٹرمپ کے وفد نے "ڈیجیٹل لاک ڈاؤن” کی پالیسی کیوں اپنائی؟

    مئی 2026 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کے موقع پر، امریکی حکام، مشیروں اور حفاظتی عملے کے لیے سیکیورٹی پروٹوکول کے تحت اپنے ذاتی فون اور لیپ ٹاپ واشنگٹن میں چھوڑ آئے،چینی سیکیورٹی اور سائبر جاسوسی کے خدشات کے پیش نظر امریکی حکام نے اس دورے کے لیے "ڈیجیٹل لاک ڈاؤن” کی پالیسی اپنائی ہے۔

    چینی حکام کی جانب سے نگرانی، ہیکنگ یا ڈیٹا چوری کے خدشات کے پیش نظر امریکی وفد "ڈیجیٹل لاک ڈاؤن” کے تحت چین گیا اہلکار اپنے ذاتی فونز کی جگہ "صاف” (clean) یا عارضی فون اور لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہیں، جن میں حساس معلومات نہیں ہوتیں۔

    امریکی سیکیورٹی حکام کا ماننا ہے کہ چین میں موجود الیکٹرانک ڈیوائسز، نیٹ ورکس اور ہوٹل کے کمروں کی نگرانی کی جا سکتی ہے، اور فون چارج کرنا بھی ڈیٹا چوری (جوس جیکنگ) کا خطرہ بن سکتا ہے یہ احتیاطی تدابیر صرف سرکاری اہلکاروں تک محدود نہیں تھیں، بلکہ صدر ٹرمپ کے ساتھ جانے والے ایپل ، بوئنگ اور کوالکوم جیسی بڑی امریکی کمپنیوں کے ایگزیکٹوز پر بھی لاگو تھیں۔

    یہ ایک طویل عرصے سے جاری امریکی پالیسی ہے جس کے تحت چین (یا دیگر حساس ممالک) کے دورے پر جانے والے اہلکاروں کو اپنی معمول کی ڈیجیٹل ڈیوائسز ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی

  • بیلجیم اور ترکیہ کے درمیان 9 دفاعی معاہدوں پر دستخط

    بیلجیم اور ترکیہ کے درمیان 9 دفاعی معاہدوں پر دستخط

    بیلجیم اور ترکیہ نے دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے 9 اہم معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

    بیلجیم کے وزیر دفاع تھیو فرانکن نے انقرہ میں اپنے ترک ہم منصب یاشر گولر کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد اس پیش رفت کی تصدیق کی، اور ان معاہدوں کو دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی اسٹریٹیجک دفاعی شراکت داری کی جانب بڑا قدم قرار دیا ہے۔

    یہ مذاکرات بیلجیم کی ملکہ میتھلڈے کی قیادت میں جاری 4 روزہ اقتصادی مشن کے دوران ہوئے تھیو فرانکن نے انقرہ میں بیلجیم کے سفیر کی رہائش گاہ پر منعقدہ دفاعی اور ایروناٹیکل نیٹ ورکنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت کا دن ہے۔

    بیلجیم کی وزارت دفاع کے مطابق 6 دفاعی صنعتی معاہدوں پر بدھ کے روز انقرہ میں جبکہ مزید 3 معاہدوں پر پیر کے روز استنبول میں دستخط کیے گئے دونوں ممالک نے اعلیٰ سطحی ’لیٹر آف انٹینٹ‘ پر دستخط کے ذریعے طویل المدتی اسٹریٹیجک دفاعی شراکت داری کی بنیاد رکھ دی ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس سے لاحق خطرات اور نیٹو میں امریکا کے ممکنہ کم ہوتے کردار کے تناظر میں یورپی ممالک اپنی دفاعی صنعتوں کو دوبارہ مضبوط بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

    بیلجیم نے اس موقع پر یورپی یونین کے 150 ارب یورو مالیت کے SAFE دفاعی پروگرام میں ترکیہ کی شمولیت کی بھی حمایت کی یہ پروگرام یورپ کی دفاعی صلاحیتوں کو مستحکم بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔

    تھیو فرانکن نے کہا کہ مذاکرات میں بیلجیئم اور ترکیہ کے درمیان سرمایہ کاری اور مشترکہ دفاعی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا اگرچہ انہوں نے تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم ترک ڈرونز کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ یقیناً ایک بہترین پیشرفت ہوگی، اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ یورپی خریداری قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

  • امریکی صدر کی چینی صدر سے بیجنگ میں ملاقات

    امریکی صدر کی چینی صدر سے بیجنگ میں ملاقات

    چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ 2 روزہ اہم مذاکرات کے آغاز پر امریکا اور چین پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک حریف نہیں بلکہ شراکت دار بنیں۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے چینی اور امریکی صدور کی وفود کے ہمراہ ملاقات کے موقع پر کہا کہ امریکی وفد کو چین میں خوش آمدید کہتے ہیں، تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے، چین اورامریکا دو بڑی طاقتیں ہیں، عالمی استحکام ہمارا مشترکہ ہدف ہے۔

    جمعرات کو بیجنگ میں واقع عظیم الشان گریٹ ہال آف دی پیپل میں شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کا مصافحے کرتے ہوئے استقبال کیا،اس موقع پر ٹرمپ کے ہمراہ امریکی وفد میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو شامل تھے، جو ماضی میں چین کے سخت ناقد سمجھے جاتے رہے ہیں۔

    استقبالی تقریب میں چینی فوجی بینڈ نے امریکی اور چینی قومی ترانے بجائے جبکہ توپوں کی سلامی بھی دی گئی، رنگ برنگے لباس میں ملبوس اسکول کے بچوں نے امریکی اور چینی پرچم لہراتے ہوئے ’ویلکم، ویلکم‘ کے نعرے لگائے۔

    ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کو عظیم رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ ان کے اس بیان کو پسند نہیں کرتے، مگر وہ پھر بھی یہی کہیں گے،یہ شاید دنیا کی سب سے بڑی سربراہ ملاقات ہوسکتی ہے اور انہیں امید ہے کہ امریکا اور چین کے تعلقات پہلے سے زیادہ بہتر ہوں گے۔

    اس کے جواب میں شی جن پنگ نے کہا کہ مستحکم چین امریکا تعلقات پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہیں ان کے بقول تعاون دونوں ممالک کے حق میں ہے جبکہ تصادم نقصان دہ ثابت ہوگا، اس لیے دونوں طاقتوں کو شراکت داری کا راستہ اپنانا چاہیے۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ عالمی امن اور معاشی ترقی کو برقرار رکھنا دونوں ممالک کی تاریخی ذمہ داری ہے، پوری دنیا کی نظریں اس وقت بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات پر ہیں، اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنا ہوگا۔

    چینی صدرنے ٹرمپ سے کہا کہ دنیا اس وقت ایران تنازع اور عالمی سپلائی چین کے سنگین چیلنجز سے گزر رہی ہے اس وقت دنیا میں ایسی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں جو ایک صدی میں نہیں دیکھی گئیں، بین الاقوامی صورتحال مسلسل تغیر پذیر اور ہنگامہ خیز ہے، کیا ہم مل کر عالمی چیلنجوں کا مقابلہ اور دنیا کو استحکام فراہم کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی دنیا اور اپنے عوام لیے ایک روشن مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں؟ یہ سوالات ہیں جن کا جواب بڑے ممالک کے رہنماؤں کی حیثیت سے ہمیں دینا ہے ۔

    شی جن پنگ نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سے زیادہ مشترکہ مفادات موجود ہیں، دونوں ممالک کے مستحکم دوطرفہ تعلقا ت پوری دنیا کے لیے فائدے مند ہیں، چین اور امریکا دونوں تعاون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور تصادم سے نقصان ،ہمیں ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہیے، ہمیں ایک دوسرے کو کامیاب اور خوشحال ہونے میں مدد کرنی چاہیے، دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کا صحیح راستہ تلاش کرنا چاہیے۔

    اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج صدر شی جن پنگ سے ملاقات کرنا باعث اعزاز ہے، اور آپ کا دوست ہونا اعزاز کی بات ہے وہ اس دور ے پر "دنیا کے بہترین کاروباری رہنماؤں” کو ساتھ لائے ہیں بعض لوگوں نے اس ملاقات کو "اب تک کی سب سے بڑی سمٹ” قرار دیا ہے، اور وہ اس اجلاس کے منتظر ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات ہمیشہ سے انتہائی شاندار رہے ہیں، تاریخی سربراہی ملاقات کا سب سے بڑا اور بنیادی فوکس باہمی تجارت پر ہوگا، دونوں ممالک کے درمیان آنے والی کئی دہائیوں تک بہترین اور مضبوط تعلقات قائم رہیں گے ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں، اور جب بھی مشکلات آئیں ہم نے مل کر انہیں حل کیا، میں آپ کو کال کرتا تھا اور آپ مجھے کال کرتے تھے، لوگ نہیں جانتے کہ جب بھی ہمیں کوئی مسئلہ درپیش ہوا، ہم نے جلدی حل کر لیا، میں ہر ایک سے یہی کہتا ہوں کہ چینی صدر عظیم رہنما ہیں۔

    دونوں رہنما شام میں سرکاری عشائیے میں بھی شریک ہوں گے جبکہ ٹرمپ تاریخی ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کریں گے، جہاں قدیم چینی شہنشاہ اچھی فصل کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے۔

    صدر ٹرمپ بدھ کی شب خصوصی طیارے ایئر فورس ون کے ذریعےچین کے 2 روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچے تھے، ایلون مسک اور جینسن ہوانگ سمیت معروف کاروباری شخصیات بھی ان کے ہمراہ ہیں،یہ شخصیات ان بڑے تجارتی معاہدوں کی علامت سمجھی جارہی ہیں جن کی امید ٹرمپ اس دورے سے وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

    بیجنگ کا یہ دورہ تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا پہلا دورۂ چین ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ 2017 میں اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ چین آئے تھے مذاکرات میں زرعی تجارت، طیاروں کی خریداری، ٹیرف جنگ، ایران، تائیوان، مصنوعی ذہانت، نایاب معدنیات کی برآمدات اور دوطرفہ تجارتی تعلقات اہم موضوعات ہوں گے۔

    صدر ٹرمپ نے بیجنگ روانگی سے قبل کہا تھا کہ وہ شی جن پنگ پر زور دیں گے کہ امریکی کمپنیوں کے لیے چینی منڈیاں مزید کھولی جائیں تاکہ امریکی کارو باری شخصیات اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرسکیں تاہم اس بار ٹرمپ کو ایک زیادہ مضبوط اور پراعتماد چین کا سامنا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے در میا ن تجارتی اور جغرافیائی سیاسی اختلافات اب بھی برقرار ہیں ایران کا معاملہ بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہوگا کیونکہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایرانی صورتحال پر شی جن پنگ سے طویل گفتگو کریں گے،امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے، گزشتہ برس ٹرمپ کے بھاری ٹیرف اقدامات کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر 100 فیصد سے زائد محصولات عائد کیے تھے۔

    دونوں رہنما جنوبی کوریا میں گزشتہ ملاقات کے دوران طے پانے والے ایک سالہ ٹیرف معاہدے میں توسیع پر گفتگو کریں گے، اگرچہ کسی حتمی معاہدے کی ضمانت موجود نہیں تائیوان کا معاملہ بھی بات چیت میں شامل ہوگا، ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ تائیوان کو امریکی اسلحہ فروخت کے معاملے پر بھی شی جن پنگ سے بات کریں گے، جس پر خطے کے اتحادی ممالک اور تائی پے کی گہری نظر ہوگی۔

  • یو اے ای کی نیتن یاہو کے خفیہ دورے کی تردید

    یو اے ای کی نیتن یاہو کے خفیہ دورے کی تردید

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے مبینہ خفیہ دورے نے خطے کی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا جہاں ان کی ملاقات اماراتی صدر شیخ محمد بن زید سے ہوئی ، تاہم متحدہ عرب امارات نے اس دورے کی تردید کی ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو اور محمد بن زید کی یہ ملاقات عمان کی سرحد کے قریب العین شہر میں ہوئی جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور اس نے دونوں ممالک کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت کی بنیاد رکھی –

    اس انکشاف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کر نے والوں سے حساب لیا جائے گا انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کو ایک احمقانہ جوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام سے دشمنی کے لیے اسرا ئیل کے ساتھ گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے عباس عراقچی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ نیتن یاہو نے جو انکشاف کیا ہے، ایرانی سیکیورٹی ادارے بہت پہلے اس حوا لے سے قیادت کو آگاہ کر چکے تھے۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ غیرا علا نیہ یا خفیہ دوروں سے متعلق تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔

    اماراتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ یہ ابراہم معاہدے کے تحت کھلے عام استوار کیے گئے ہیں یہ تعلقات کسی رازداری پر مبنی نہیں ہیں، اس لیے خفیہ ملاقاتوں کی باتیں حقیقت کے خلاف ہیں اس مبینہ دورے کے دوران دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون پر بات چیت کی گئی تھی۔

    امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کو اپنا دفاعی نظام آئرن ڈوم فراہم کیا جس نے ایران کی جانب سے کیے گئے مبینہ حملوں کو روکنے میں مدد دی اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ نے بھی سیکیورٹی تعاون کے سلسلے میں یو اے ای کے دورے کیے تھے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں ابراہم معاہدے کے تحت باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔

  • سونا سستا چاندی کی قیمت میں اضافہ

    سونا سستا چاندی کی قیمت میں اضافہ

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں کمی جبکہ چاندی کی قیمت میں اضافہ ہوگیا۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 11ڈالر کی کمی سے 4ہزار 690ڈالر کی سطح پر آگئی جس کے بعد مقامی مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 1ہزار 100روپے کی کمی سے 4لاکھ 91ہزار 362روپے اور فی دس گرام سونے کی قیمت 943روپے کم ہو کر 4لاکھ 21ہزار 263روپے کی سطح پر آگئی۔

    دوسری جانب فی تولہ چاندی کی قیمت 231 روپے کے اضافے سے 9ہزار 139 روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 198روپے کے اضافے سے 7ہزار 835روپے کی سطح پر آگئی۔

  • اداکارہ مندانا کریمی نے 16 برس بعد بھارت چھوڑنے کا اعلان کردیا

    اداکارہ مندانا کریمی نے 16 برس بعد بھارت چھوڑنے کا اعلان کردیا

    ایرانی نژاد اداکارہ مندانا کریمی نے 16 برس بعد بھارت چھوڑنے کا اعلان کردیا۔

    ایرانی نژاد اداکارہ اور ماڈل مندانا کریمی نے موجودہ ایران امریکا کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت چھوڑنے کا اعلان کیا مندانا کریمی نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ تقریباً 16 برس بھارت میں گزارنے کے بعد اب اپنے دوسرے گھر کو الوداع کہنے کا فیصلہ کر رہی ہیں، مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع اور ایران کی صورتحال نے انہیں جذباتی طور پر بہت متاثر کیا ہے۔

    ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بالی وڈ اداکارہ نے 18 برس کی عمر میں ایران چھوڑا تھا اور وہ اداکاری کی غرض سے ہندوستان آگئی تھیں لیکن اب امریکا ایران حالیہ تنازع اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد اداکارہ نے بھارت چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انسٹاگرام اسٹوری پر حالیہ سوال و جواب کے سیشن کے دوران ایک مداح نے اداکارہ سے ممبئی چھوڑ کر جانے کا سوال کیا جس پر مندانا نے جواب دیا ‘میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میں بھارت کو یوں الوداع کہوں گی یہ یقیناً مشکل ہوگا لیکن ہندوستان میں تقریباً 16 سال گزارنے کے بعد، آخر کار میں اپنا دوسرا گھر (بھارت) چھوڑ کر جا رہی ہوں، اب سب کچھ نیا ہوگا، یہ ایک نئی شروعات ہے’۔

    البتہ مندانا کریمی نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ بھارت چھوڑ کر کہاں جارہی ہیں۔

    انہوں نے اپنے پیغام میں مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے انہیں شہرت، محبت اور نئی شناخت دی تاہم موجودہ حالات کے باعث انہوں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہےمیرا بیگ تیار ہے اور میں بھارت سے جانے کی تیاری کررہی ہوں، اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ممبئی میں احتجاج میں حصہ لینے کے بعد اپنے بہت سے دوستوں کو کھو دیا ہے اور میں محسوس کرتی ہوں کہ بھارت نے مجھے دھوکہ دیا ہےمیں 16 سال تک یہاں رہی ہوں، میں نے ممبئی میں خود کو کبھی اتنا اکیلا محسوس نہیں کیا جتنا ان دو مہینوں کے دوران کیا ہے۔

    ہندوستان ٹائمز کے مطابق مارچ میں مندانا کریمی نے ایک بیان دیا تھا جس میں انہوں نے بتایا کہ 10 سال قبل ان پر ایران میں پابندی عائد کردی گئی تھی، لہٰذا وہ وہاں واپس نہیں جا سکتیں، وہ بھارت سے مایوس ہیں’مجھے ہندوستان میں کسی قسم کی سپورٹ نہیں ملی اور اچانک جب آیت اللہ خامنہ ای کا انتقال ہوگیا، ہندوستان میں سب کی رائے ہے، ہر کوئی سڑکوں پر ہے اور وہ حقیقت میں خامنہ ای کے لیے ماتم کر سکتے ہیں، جو میں نہیں کر سکی’۔

    اداکارہ نے کہا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر میں ایک جگہ پھنس کر رہ گئی ہوں اور میرے قریب ترین دوستوں میں سے کسی کے پاس میرا پتہ نہیں ہے، اور پھر بھی میں میڈیا سے بات کرنے کی کوشش کر رہی ہوں تاکہ ایرانیوں کی آواز کو بلند کرسکوں میں پچھلے 6 سالوں سے فلموں میں اداکاری نہیں کر رہی، یہ میرا فیصلہ تھا کہ میں فلموں میں کام کرنا چھوڑ دوں، میں جانتی ہوں کہ میرے ملک (ایران) میں کیا ہو رہا ہے، میری پیدائش اور پرورش وہیں ہوئی، میں 18 سال تک ایران میں قیام پذیر تھی’۔

  • پاکستان کا سعودی دفاعی معاہدے میں ترکیہ اور قطر کی شمولیت کا اشارہ، بلومبرگ

    پاکستان کا سعودی دفاعی معاہدے میں ترکیہ اور قطر کی شمولیت کا اشارہ، بلومبرگ

    امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق پاکستان نے اشارہ دیا ہے کہ ترکیہ اور قطر بھی سعودی عرب کے ساتھ اس کے باہمی دفاعی تعاون کے معاہدے کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ’بلومبرگ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیر کی رات انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر قطر اور ترکیہ بھی اس موجود ہ معاہدے میں شامل ہو جاتے ہیں تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہو گی اس اقدام کا مقصد ہم خیال ممالک کے درمیان تعاون کا ایک وسیع پلیٹ فارم بنانا ہے تاکہ علاقائی استحکام اور اجتماعی سلامتی کو مزید تقویت دی جا سکے اس انتظام کو فی الحال حتمی شکل دی جا رہی ہے اور مستقبل میں اسے ایک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی فریم ورک کی شکل دی جا سکتی ہے۔

    یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان تنازع نے خلیجی ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور توانائی کی ترسیل سمیت سمندری راستوں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں پاکستان اس بحران کے دوران ایک اہم سفارتی ثالث کے طور پر ابھرا ہے جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں میں آسانی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مسلسل مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب اور پاکستان نے ستمبر 2025 میں ایک اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا ایران کی جانب سے علاقائی اہداف پر جوابی حملوں کے بعد سے دونوں ممالک نے سیکیورٹی کوآرڈینیشن میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور گزشتہ ماہ پاکستانی فوج کا ایک دستہ بھی سعودی عرب پہنچا ہے اگر ترکیہ اور قطر بھی اس انتظام کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے کئی بااثر مسلم ممالک ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جائیں گے، جو خطے کی سیکیورٹی اور استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

  • نریندر مودی کی جانب سے عوام سے ایک سال تک سونا نہ خریدنے کی اپیل

    نریندر مودی کی جانب سے عوام سے ایک سال تک سونا نہ خریدنے کی اپیل

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے عوام سے ایک سال تک سونا نہ خریدنے کی اپیل کیے جانے کے بعد بھارت کی مرکزی حکومت نے ملک میں سونے اور چاندی کی درآمد پر عائد ڈیوٹی کو 6 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا ہے۔

    بھارتی وزارتِ خزانہ کی جانب سے بدھ، 13 مئی 2026 کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق سونے اور چاندی پر بنیادی کسٹمز ڈیوٹی 5فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد، جبکہ زرعی انفراسٹرکچر اینڈ ڈیولپمنٹ سیس کو ایک فیصد سے بڑھا کر پانچ فیصد کر دیا گیا ہے اس فیصلے کا مقصد بڑھتے ہوئے درآمدی بل کو کم کرنا، غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کا تحفظ اور ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوتے ہوئے روپے کو سہارا دینا ہے۔

    یہ سخت پالیسی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیرِ اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ملکی مفاد میں ایک سال تک سونا خریدنے سے گریز کریں اور غیر ضروری درآمدات میں کمی لائیں، وزیرِ اعظم مودی کا کہنا تھا کہ ”شہری ایندھن کا استعمال کم کریں، غیر ملکی دور ے موخر کریں اور قومی مفاد میں سونے کی خریداری میں تاخیر کریں-

    بھارت میں خام تیل کی قیمتیں مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کی وجہ سے پہلے ہی بلند سطح پر ہیں، جس سے معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے مقامی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہو جائے گا، جس سے درآمدات میں کمی اور تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی صنعت سے وابستہ عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے زیورات کی طلب میں کمی آسکتی ہے اور سونا اسمگل کرنے والے نیٹ ورک دوبارہ سرگرم ہو سکتے ہیں۔

    بھارت دنیا میں سونے کا دوسرا بڑا صارف ہے، اور سال 2025-26 کے دوران سونے کی درآمدات پر ریکارڈ 71.98 ارب ڈالر خرچ کیے گئے، جو ملک کے مجموعی درآمدی بل کا تقریباً 9 سے 10 فیصد بنتا ہے۔ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے ماہرِ معاشیات وشرت رانا کا کہنا ہے کہ سونے کی درآمدات میں کمی سے بھارت کے کرنٹ اکاؤنٹ سے ہونے والے اخراج کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ یہ اخراج کافی زیادہ ہے-

  • منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے کی ہدایت

    منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے کی ہدایت

    کراچی میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ انمول عرف پنکی کا معاملہ اب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ تک پہنچ گیا ہے، جہاں چیئر مین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے تک کی ہدایت دے دی۔

    اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی زیر صدارت ہوا، جس میں کراچی سے گرفتار بدنام زمانہ ڈرگ ڈیلر انمول عر ف پنکی کا معاملہ زیر بحث آیا اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سرعام منشیات فروشی میں ملوث ملزمہ پروٹوکول کے ساتھ عدالتوں میں گھومتی رہی، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

    انہوں نے ڈی جی اے این ایف کو ہدایت کی کہ پنکی کے سپلائرز اور نیٹ ورک کی مکمل تفصیلات حاصل کی جائیں اور اس حوالے سے فوری انکوائری کی جائے سینیٹر فیصل سلیم نے کہا کہ اگر کسی پارلیمنٹیرین یا بااثر شخصیت کا نام سامنے آتا ہے تو اس کی تفصیلات بھی کمیٹی کو فراہم کی جائیں جن افراد کے نام کال لسٹ میں موجود ہیں، انہیں بحالی مراکز بھیجا جائے، جبکہ جس جج نے ملزمہ کی ضمانت منظور کی، ان کا بھی ٹیسٹ کرایا جائے۔ کمیٹی نے سیکرٹری داخلہ سے پنکی کے معاملے پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی۔

    کراچی پولیس اور وفاقی اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے چند روز قبل کراچی کے علاقے گارڈن سے انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا، جسے شہر بھر میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ قرار دیا جا رہا ہے ملزمہ طویل عرصے سے مفرور تھی اور اس کے خلاف 10 سے زائد سنگین مقدمات درج تھے ملزمہ کی سٹی کورٹ میں پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ بغیر ہتھکڑی اور مبینہ پروٹوکول کے ساتھ عدالت کے احاطے میں گھومتی دکھائی دی، ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا –

    واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور ایڈیشنل آئی جی کراچی نے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا کہا کہ قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔