چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ دورۂ چین سے قبل امریکا کے ساتھ تعلقات میں اپنی 4 ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دیں، جن میں تائیوان کا مسئلہ، سمندری حدود (جنوبی چین کا سمندر)، انسانی حقوق اور چین کی سیاسی نظام کو چیلنج نہ کرنا شامل ہیں-
رشیا ٹو ڈے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات متوقع ہے، جس میں ٹرمپ نے شی جن پنگ کو ’دوست‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق وہ ملاقات میں ایران سے متعلق جنگ پر بھی بات کریں گے، جس پر امریکا اور اسرائیل چین پر ایران کی حمایت کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
چینی سفارت خانے نے امریکا میں اپنے بیان میں دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے 4 ’ریڈ لائنز‘ کا ذکر کیا ہے، جن میں تائیوان، جمہوریت اور انسانی حقوق، سیاسی نظام اور ترقی کے راستے، اور چین کے ترقیاتی حقوق شامل ہیں، چین اپنی سمندر ی حدود میں امریکی فوجی موجودگی اور نیویگیشن آپریشنز کو اپنی خودمختاری کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے بیجنگ کا کہنا ہے کہ امریکا کو تائیوان میں علیحدگی پسند حکومت کی حمایت سے گریز کرنا چاہیے اور چین کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے،چین کے ترقیاتی اہداف کو روکنے کے لیے ٹیکنالوجی یا دیگر تجارتی پابندیوں کا نفاذ، جسے چین اپنی اقتصادی ترقی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے-
صدر ٹرمپ کا یہ دورہ ان کی دوسری مدتِ صدارت میں چین کا پہلا دورہ ہے، جس میں وہ ایران کے معاملے، عالمی تجارت، اور مصنوعی ذہانت جیسے اہم موضوعات پر بات چیت کریں گے یہ دورہ ایران جنگ اور تجارتی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال میں دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان براہِ راست بات چیت کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف اقدامات کے بعد چین اور امریکا کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے ہیں امریکا کی جانب سے ایک چینی آئل ریفائنری پر ایرانی تیل کی خریداری کے الزام میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جس کے جواب میں چین نے اپنی نجی ریفائنریوں کو امریکی پابندیوں کی پابندی سے روک دیا ہے اور انہیں غیر قانونی قرار دیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ چین اپنی کمپنیوں کے جائز حقوق اور مفادات کا بھرپور تحفظ کرے گا اور امریکا کے ساتھ برابری، باہمی احترام اور مفادِ مشترکہ کی بنیاد پر تعلقات آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔
