Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • امریکہ-بھارت تجارتی معاہدہ: ٹرمپ نے مودی سے کال کے بعد ٹیرف میں کمی اور بڑے وعدوں کا اعلان کیا

    امریکہ-بھارت تجارتی معاہدہ: ٹرمپ نے مودی سے کال کے بعد ٹیرف میں کمی اور بڑے وعدوں کا اعلان کیا

    
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر گفتگو کے فوراً بعد امریکہ اور بھارت کے درمیان ایک اہم تجارتی معاہدے کا اعلان کیا ہے، جسے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎معاہدے کے تحت امریکہ بھارتی مصنوعات پر عائد ریسی پروکل ٹیرف کو فوری طور پر 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دے گا۔ اس کے بدلے بھارت نے امریکی مصنوعات پر ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں ختم کرنے کی سمت عملی اقدامات کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس سے امریکی برآمدات کو بھارتی منڈی میں نمایاں سہولت ملے گی۔
    ‎صدر ٹرمپ کے مطابق وزیراعظم مودی نے روس سے تیل کی خریداری کم کرنے اور اس کی جگہ امریکہ اور وینزویلا سے زیادہ تیل خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔ ٹرمپ نے اس فیصلے کو یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا۔
    ‎معاہدے کے ایک اور اہم پہلو کے تحت بھارت نے Buy American پالیسی کے تحت 500 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی امریکی انرجی، ٹیکنالوجی، زرعی مصنوعات، کوئلہ اور دیگر اشیا خریدنے کا وعدہ کیا ہے، جس سے امریکی معیشت اور روزگار کے مواقع کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
    ‎امریکی صدر نے کہا کہ وہ اور وزیراعظم مودی ایسے رہنما ہیں جو وعدے کر کے انہیں پورا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے بعد امریکہ اور بھارت کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔

  • عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوسرا اجلاس،بھارت کو سفارتی طور پر بڑی ناکامی

    عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوسرا اجلاس،بھارت کو سفارتی طور پر بڑی ناکامی

    بھارت کو سفارتی طور پر ایک بڑی ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی میں بھارت اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوسرا اجلاس 30 اور 31 جنوری 2026 کو منعقد ہو رہا ہے جس میں عرب لیگ کے صرف 6 ممالک شرکت کر رہے ہیں۔ ان میں کوموروس، فلسطین، صومالیہ، سوڈان، لیبیا اور عمان شامل ہیں جبکہ سعودی عرب، قطر، مصر اور بحرین جیسے اہم اور اثر و رسوخ والے عرب ممالک نے نائب وزرائے خارجہ یا کم سطح کے نمائندے بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات نے اپنا وفد بھیجنے سے معذرت کر لی ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے ابتدائی طور پر 20 سے زائد عرب لیگ کے ممالک کی شرکت کا دعویٰ کیا تھا تاہم حتمی صورتحال میں صرف 6 ممالک کی وزیر خارجہ سطح کی نمائندگی کنفرم ہوئی ہے جو بھارت کی عرب دنیا میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں کو شدید دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ ناکامی بھارت کی اسرائیل کے ساتھ گہری شراکت داری اور غزہ جنگ میں غیر جانبداری کی بجائے اسرائیل کی حمایت اور علاقائی تنازعات جیسے سوڈان، لیبیا اور فلسطین میں متوازن پالیسی نہ اپنانے کا نتیجہ ہے۔ عرب ممالک نے اعلیٰ سطح پر شرکت سے گریز کرکے بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ابھی تک عرب دنیا کے لیے مکمل اعتماد کے قابل نہیں۔ یہ اجلاس انڈیا-مڈل ایسٹ-یورپ اکنامک کوریڈور اور معاشی تعاون پر توجہ مرکوز کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، مگر سفارتی سطح کی کمزوری نے اس کی اہمیت کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقاتوں کا پروگرام ہے، لیکن محدود شرکت سے بھارت کی علاقائی تنہائی اور سفارتی چیلنجز مزید واضح ہو گئے ہیں۔

  • مودی۔ٹرمپ فون کال تنازعہ: بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں نئی کشیدگی

    مودی۔ٹرمپ فون کال تنازعہ: بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں نئی کشیدگی

    بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مبینہ فون رابطے پر پیدا ہونے والا تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے بعد بھارت۔امریکہ تعلقات ایک بار پھر سفارتی دباؤ کی زد میں آ گئے ہیں۔

    امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک کے ایک بیان نے اس معاملے کو سیاسی اور سفارتی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان ایک اہم دوطرفہ تجارتی معاہدہ آخری مرحلے میں اس لیے رک گیا کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر رابطہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق معاہدے کے بیشتر نکات طے پا چکے تھے، تاہم حتمی منظوری کے لیے ٹرمپ کی براہ راست مداخلت ضروری سمجھی جا رہی تھی، جو مودی کی فون کال کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی تھی۔

    لٹنک نے کہا کہ صدر ٹرمپ ذاتی سطح پر معاملات طے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اسی طرزِ سفارت کاری کے تحت بھارت سے بھی توقع کی جا رہی تھی کہ وزیر اعظم مودی براہ راست رابطہ کریں گے۔ امریکی مؤقف کے مطابق یہ رابطہ نہ ہونے کے باعث تجارتی معاہدہ تعطل کا شکار ہو گیا۔

    تاہم دوسری طرف بھارت نے امریکی دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ دعویٰ حقائق کے منافی اور گمراہ کن ہے۔ ترجمان کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 2025 کے دوران کم از کم آٹھ مرتبہ ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جن میں تجارت، دفاعی تعاون اور عالمی امور پر تبادلہ خیال شامل تھا۔ بھارتی ترجمان نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے یہ کہنا درست نہیں کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا یا مودی نے دانستہ طور پر ٹرمپ سے بات نہیں کی۔ ترجمان کے مطابق بھارت۔امریکہ تعلقات مسلسل رابطے اور مشاورت پر مبنی رہے ہیں اور کسی ایک فون کال کو بنیاد بنا کر پورے عمل کو ناکام قرار دینا درست نہیں۔

    اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔ کانگریس کے مطابق ایک جانب حکومت قریبی تعلقات کا دعویٰ کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب ایسے بیانات دونوں ممالک کے درمیان اعتماد پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔ 

  • نومسلم سربجیت کور کی بھارت ڈیپورٹیشن میں رکاوٹ؛ ایک دو روز میں واپسی کا امکان

    نومسلم سربجیت کور کی بھارت ڈیپورٹیشن میں رکاوٹ؛ ایک دو روز میں واپسی کا امکان

    غیرقانونی طور پر پاکستان میں مقیم بھارتی سکھ خاتون سربجیت کور کو گزشتہ روز بھی واہگہ بارڈر کے راستے بھارت ڈی پورٹ کرنے کے لئے دستاویزات مکمل نہیں ہوسکیں جس کے بعد سربجیت کور کو شیلٹر ہاوس منتقل کر دیا گیا۔ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے ذرائع کے مطابق سربجیت کور کو لینے کیلئے اس کے خاندان کے افراد گزشتہ روز بھی اٹاری بارڈر پہنچے لیکن شام کو مایوس واپس لوٹ گئے۔ سربجیت کور، جو پنجاب کے ضلع کپور تھلہ کی رہائشی ہے، نومبر 2025 میں گورو نانک دیو جی کی 556ویں جنم سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے میں سکھ یاتریوں کے ایک بڑے جتھے کے ساتھ پاکستان آئی تھی۔ اس کا ویزہ 13 نومبر 2025 کو ختم ہو گیا تھا لیکن وہ بھارت واپس نہیں گئی۔ پاکستان میں قیام کے دوران اس نے اسلام قبول کیا اور پاکستانی شہری ناصر حسین سے نکاح کرنے کے بعد اپنا نام نور حسین رکھ لیا۔ 4 جنوری کو ننکانہ صاحب کے قریب پہرے والی گاؤں سے پولیس نے سربجیت کور اور ان کے شوہر ناصر حسین کو گرفتار کر لیا اور سربجیت کور کو بھارت ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے صدر اور پنجاب کے وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے اس کی تصدیق کی ہے کہ ویزہ قوانین کی خلاف ورزی پر سربجیت کو ڈی پورٹ کیا جائے گا۔ 5 جنوری کو ایف آئی اے حکام نے اسے واہگہ بارڈر تک پہنچایا جہاں ڈی پورٹیشن کی تمام تیاریاں مکمل تھیں۔ تاہم آخری لمحے اسے بھارت بھیجنے کا عمل روک دیا گیا۔دریں اثنا پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق سربراہ سردار مہیندرپال سنگھ نے جنگ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزارت داخلہ کی طرف سے سربجیت کور کو ڈی پورٹ کرنے کی دستاویزات مکمل کر لی گئی ہیں اور اب سربجیت کور کو ائند دو روز تک بھارت واپس بھیج دیا جائے گا۔

  • آئی سی سی میں جے شاہ کی کمزور قیادت، عالمی کرکٹ سیاست کی نذر

    آئی سی سی میں جے شاہ کی کمزور قیادت، عالمی کرکٹ سیاست کی نذر

    2025 میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی قیادت ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گئی ہے، جہاں بھارتی شخصیت جے شاہ کی سربراہی کو عالمی کرکٹ میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور سیاسی اثرورسوخ روکنے میں ناکام قرار دیا جا رہا ہے۔

    مبصرین کے مطابق آئی سی سی اس عرصے میں غیرجانبدار عالمی ادارے کے بجائے طاقتور بورڈز کے دباؤ میں فیصلے کرتی دکھائی دی۔ جے شاہ جو بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ کے بیٹے ہیں، انہوں آج تک ایک بار بھی کرکٹ بیٹ کو نہیں پکڑا اور صرف اپنے والد کے اثرورسوخ کی وجہ سے آج کرکٹ کی دنیا کے چیئرمین بنے ہوئے ہیں۔ 2025 کے دوران پاک بھارت کرکٹ تعطل، بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور میچز کے انعقاد سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایشیا کپ ٹرافی کا تنازعہ بھی سامنے آیا جس نے آئی سی سی اور ایشین کرکٹ کونسل دونوں کی ساکھ پر سوالات کھڑے کر دیے۔ ایشیا کپ کی میزبانی، ٹرافی کی نمائش اور شیڈول سے جڑے معاملات میں شفافیت کا فقدان نظر آیا جس پر کئی رکن ممالک نے تحفظات کا اظہار کیا۔ کرکٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اجے شاہ کے دور میں ایشیا کپ جیسے بڑے ایونٹ کو بھی سیاست سے الگ نہ رکھا جا سکا جس کے نتیجے میں ٹرافی تنازعہ ایک علامت بن کر سامنے آیا کہ کس طرح طاقتور بورڈز کے مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ کمزور فیصلوں کی بدولت ٹرافی جیتنے کے باوجود آج تک ایشین چیمپیئن بھارت کو نہیں مل سکی۔ اگر آئی سی سی کی قیادت مضبوط ہوتی تو اس تنازعے کو بروقت اور غیرجانبدارانہ فیصلوں کے ذریعے ختم کیا جا سکتا تھا۔ 2025 میں بھارت کا پاکستان میں کھیلنے سے انکار اور پاکستان اور اب بنگلہ دیش کا بھارت جانے سے انکار کرنے کا بھی اسی کمزور قیادت کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آئی سی سی ان معاملات میں ثالث کا مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی جس کے باعث نیوٹرل وینیوز اور متبادل انتظامات مستقل حل کی شکل اختیار نہ کر سکے۔

    دراصل 2025 آئی سی سی کے لیے ایک فیصلہ کن سال تھا مگر جے شاہ کی قیادت میں ادارہ کرکٹ کو سیاست سے آزاد رکھنے میں ناکام دکھائی دیا۔ اگر آئی سی سی نے اپنی خودمختاری بحال نہ کی تو مستقبل میں ایشیا کپ جیسے ایونٹس سمیت عالمی کرکٹ مزید تنازعات، بائیکاٹس اور تقسیم کا شکار ہو سکتی ہے جس کا نقصان براہ راست کھیل اور اس کے کروڑوں شائقین کو ہوگا۔

  • ورلڈ اکنامک فورم کا سالانہ اجلاس،ٹرمپ،شہباز شرکت کی تصدیق،مودی نہیں جائیں گے

    ورلڈ اکنامک فورم کا سالانہ اجلاس،ٹرمپ،شہباز شرکت کی تصدیق،مودی نہیں جائیں گے

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سویٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں اس سال ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے 56 ویں سالانہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ 19 جنوری سے شروع ہونے والے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ چین کے صدر شی جن پنگ کی طرف سے اجلاس میں شمولیت کا ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

    بھارتی دفتر خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ٹرمپ اور شہباز شریف کی ایک ہی جگہ موجودگی سے پیدا ہونے والے ممکنہ سفارتی تناؤ سے بچنے کے لیے وزیراعظم مودی نے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مودی نہیں چاہتے کہ فورم کا فوکس عالمی معاشی مسائل سے ہٹ کر علاقائی تنازعات پر جائے، خاص طور پر جب ٹرمپ کی موجودگی میں پاکستان کے ساتھ کوئی غیر متوقع ملاقات یا بیانات سامنے آ سکتے ہوں۔ تاہم بھارت کی طرف سے ایک بڑا وفد جا رہا ہے جس میں مرکزی وزرا اشونی ویشنو، شیوراج سنگھ چوہان اور پرلہاد جوشی سمیت پانچ ریاستوں کے وزرائے اعلی شامل ہیں تاہم مودی کی عدم شرکت کو سفارتی حلقوں میں اسٹریٹجک غیر حاضری قرار دیا جا رہا ہے۔

    ورلڈ اکنامک فورم کے صدر بورگے برینڈے نے وزیراعظم مودی کی شرکت کی امید ظاہر کی تھی لیکن بھارت کی طرف سے وفد میں شامل افراد کی فہرست جاری ہونے کے بعد مودی کی شرکت کا امکان ختم ہو گیا۔ واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم کے گزشتہ سال کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔

  • ریاستی انتخابات 2026،بی جے پی کی مہم میں پاکستان مخالف بیانیہ نمایاں ہونے کا امکان

    ریاستی انتخابات 2026،بی جے پی کی مہم میں پاکستان مخالف بیانیہ نمایاں ہونے کا امکان

    بھارت میں چار اہم ریاستوں آسام، کیرالہ، تامل ناڈو، مغربی بنگال اور ایک یونین ٹیریٹری پڈوچیری میں اسمبلیوں کی مدت 2 مئی 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔ ان ریاستوں میں نئے انتخابات مارچ سے مئی کے درمیان مختلف مراحل میں کرائے جائیں گے۔ بھارت میں مودی سرکار نے ان اتخابات کو جیتنے کیلئے ہر حربہ استعمال کرنے کے لئے کئی منصوبوں پر غور شروع کردیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک اہم لیڈر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نئی دہلی سے فون پرباغی ٹی وی سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مودی نے وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور چند دیگر سرکردہ لیڈروں کے ساتھ ایک تفصیلی میٹنگ کی ہے جس میں انخابات کے حوالے سے اہم حکمت عملی تیار کرنے کی ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت آسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی 60 نشستوں سمیت این ڈی اے الائنس کے پاس 75 سیٹیں ہیں۔ کیرالہ میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) CPI(M) کی قیادت میں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ کی حکومت ہے جبکہ این ڈی اے کے پاس کوئی سیٹ نہیں۔ تامل ناڈو میں دراویڑ منیتر کڑگم (DMK) کی حکومت ہے جس میں این ڈی اے کے پاس 75 سیٹیں ہیں۔ مغربی بنگال میں آل انڈیا ترنمول کانگریس کی حکومت ہے۔ اس ریاست میں این ڈی اے کے پاس 77 سیٹیں ہیں جن میں زیادہ تر بی جے پی کی ہیں۔ پڈوچیری میں آل انڈیا این آر کانگریس کی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت ہے جن میں سے بی جے پی کی 6 نشستیں ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آنے والے انتخابات نہ صرف بھارت کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے بلکہ مختلف ریاستی حکومتوں کی مجموعی کارکردگی کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں۔ اجلاس میں تہیہ کیا گیا کہ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کی بھر پور کوشش ہو گی کہ انتخابات کے بعد ان تمام ریاستوں میں بھی ان کی مکمل حکومتیں قائم ہوں خواہ اس کیلئے کوئی بھی حربہ کیوں نہ استعمال کرنا پڑے۔ اجلاس میں انتخابات کے دوران پاکستان کے خلاف مختلف بیانیے استعمال کر کے عوامی ہمدردیاں حاصل کر کے سیاسی فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا اور اس سلسلے میں مختلف آپشنز سامنے رکھے گئے۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ انتخابی مہم کے دوران سب سے نمایاں بیانیہ سرحد پار دہشت گردی کے الزامات کا ہو گا جس میں بھارتی مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول کی موجودہ کشیدہ حالات کو پاکستان سے منسوب کر کے سخت موقف اپنانے کا تاثر دینے کا منصوبہ ہے۔ اس بیانیے کے ذریعے حکومت خود کو قومی سلامتی کی ضامن کے طور پر پیش کر سکتی ہے اور مخالف سیاسی جماعتوں پر کمزوری یا نرمی کے الزامات عائد کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور بیانیہ نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک یا محدود فوجی کارروائی کی یاد دہانی ہو سکتا ہے جس سے ماضی کے واقعات کو اجاگر کر کے یہ پیغام دیا جائے کہ موجودہ حکومت نے پاکستان کے خلاف سخت اور فیصلہ کن اقدامات کیے۔ یہ بھی تجویز دی گئی کہ مودی سرکار ایسے حوالہ جات جلسوں اور میڈیا بیانات میں عوامی جذبات ابھارنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مودی سرکار چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو اجاگر کر کے دو محاذی خطرے کا بیانیہ بھی پیش کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے جس میں یہ مؤقف اپنایا جا سکتا ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ مل کر بھارت کے خلاف سرگرم ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مضبوط قیادت ضروری ہے۔ اس بیانیے کا مقصد عوام میں قومی اتحاد اور حکومت کی دفاعی پالیسیوں کے لیے حمایت پیدا کرنا ہے۔ ایک اور تجویز پر غور کیا گیا کہ انتخابی ماحول میں سفارتی محاذ پر پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا دکھانے کا بیانیہ بھی کارآمد ہو سکتا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جائے گا کہ بھارت نے دہشت گردی کے حوالے سے عالمی برادری میں پاکستان کے خلاف مؤقف مضبوط اپنایا اور نئی دہلی خطے میں امن و استحکام کا ذمہ دار کردار ادا کر رہا ہے۔

    اس بیانیے سے حکومت اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابیوں کو انتخابی فائدے میں بدل سکتی ہے۔ اندرونی سلامتی اور سخت قوانین کا بیانیہ بھی پاکستان سے جوڑ کر پیش کئے جانے کی تجویز پیش کی گئی جس کے مطابق یہ تاثر دیا جائے گا کہ پاکستان سے جڑے خطرات کے باعث ملک بھر میں سخت سیکیورٹی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس حکمتِ عملی کے تحت قومی سلامتی کو داخلی نظم و نسق اور انتخابی وعدوں سے جوڑنے کی کوشش سے عوامی ہمدردیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ میٹنگ میں اس تجویز پر بھی غور کیا گیا کہ انتخابی عمل کے دوران ایل او سی پر محدود اور کنٹرولڈ کشیدگی کی فضا پیدا کی جائے خاص طور پر دہشت گردی اور در اندازی کے الزامات اور پاکستان مخالف بیانیے کے استعمال سے سرحدی کشیدگی یا سیاسی تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے تاہم مکمل جنگ کے امکانات کم رہیں۔ ان حالات میں عالمی دباؤ اور جوہری توازن ایسے عوامل ہیں جو دونوں ممالک کو محتاط رہنے پر مجبور کریں گے۔ جس کی آڑ میں سیاسی فائدہ حکومتی جماعت کو حاصل ہو سکتا ہے۔ ان حالات میں عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ اور اقوام متحدہ فوری ردعمل دے سکتی ہے تاکہ صورت حال قابو سے باہر نہ جائے۔ 

  • بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں ثالثی کا کردار ادا کیا،چین

    بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں ثالثی کا کردار ادا کیا،چین

    چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے دعویٰ کیا کہ بیجنگ نے رواں سال بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں ثالثی کا کردار ادا کیا، اور اسے دیگر عالمی تنازعات کے ساتھ رکھا جہاں چین نے امن کی سہولت کاری کا دعویٰ کیا ہے۔

    بیجنگ میں "بین الاقوامی صورتحال اور چین کے خارجہ تعلقات” پر سالانہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے وانگ یی نے چین کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا: "ہاٹ اسپاٹ مسائل کے حل کے لیے اس چینی نقطہ نظر کی پیروی کرتے ہوئے، ہم نے شمالی میانمار، ایرانی جوہری مسئلہ، پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ، فلسطین اور اسرائیل کے مسائل، اور حال ہی میں کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے تنازع میں ثالثی کی۔”

    یہ بیان مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ شدید فوجی تصادم کے حوالے سے ہے، جو 22 اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام واقعہ سے شروع ہوا۔ بھارت نے اس کا الزام پاکستان میں قائم مبینہ دہشت گرد گروپوں پر لگایا اور آپریشن سندور کے تحت پاکستان پر حملہ کردی۔ پاکستان نے جوابی کارروائی کی، جس سے میزائل اور ڈرون تبادلے ہوئے، پھر 10 مئی کو جنگ بندی نافذ ہوئی۔

    بھارتی حکام نے وانگ کے دعوے کو فوری طور پر مسترد کر دیا۔ نئی دہلی کے ذرائع نے اسے "عجیب و غریب” قرار دیا اور زور دیا کہ جنگ بندی صرف دونوں ممالک کے ڈائریکٹرز جنرل آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان براہ راست ہاٹ لائن بات چیت سے حاصل ہوئی۔ ڈی جی ایم او کال 10 مئی کو 15:35 گھنٹے پر شروع ہوئی، جس میں دونوں فریقوں نے زمین، ہوا اور سمندر پر حملے روکنے پر اتفاق کیا۔

    "بھارت اور پاکستان کے معاملات میں کسی تیسرے فریق کی کوئی گنجائش نہیں،” ایک سرکاری ذریعے نے کہا، اور بھارت کے دیرینہ موقف کو دہرایا کہ دوطرفہ مسائل میں بیرونی ثالثی کی کوئی جگہ نہیں۔ اسی طرح کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابقہ دعووں کو بھی نئی دہلی نے مسترد کیا تھا۔

  • بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس کا  لائن آف کنٹرول پر آپریشن سرد ہوا شروع کرنے کا اعلان

    بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس کا لائن آف کنٹرول پر آپریشن سرد ہوا شروع کرنے کا اعلان

    بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس نے راجستھان میں پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی سرحد اور جموں سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر آپریشن سرد ہوا شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق سردیوں کے دوران شدید دھند کے باعث مبینہ دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے کی آڑ میں سیکورٹی انتظامات کو مزید سخت کر دیا ہے۔ یہ آپریشن جنوری کے آخر تک جاری رہے گا۔ بی ایس ایف حکام کے مطابق انٹیلی جنس رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے تقریباً 80 سے زائد درانداز سرحد پار کرنے کے منتظر ہیں۔ اس تناظر میں بی ایس ایف نے اضافی فورسز تعینات کی ہیں اور گشت کو بڑھایا ہے جب کہ جدید ٹیکنالوجی جیسے تھرمل امیجنگ ڈیوائسز، اینٹی فاگ آلات اور ڈرونز کا استعمال تیز کر دیا ہے۔ نئے سال اور ری پبلک ڈے کے موقع پر بھی بی ایس ایف کی نگرانی کو مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ 

  • بھارتی ایئر فوس کا پاکستانی سرحد کے قریب فضائی مشقوں کا اعلان

    بھارتی ایئر فوس کا پاکستانی سرحد کے قریب فضائی مشقوں کا اعلان

    بھارتی ایئر فورس نے پاکستانی سرحد کے قریب گجرات کے کچھ علاقے میں ایک بڑے پیمانے پر فضائی مشقوں کا اعلان کیا ہے اور اس سلسلے میں 20 جنوری سے 21 جنوری تک فضائی حدود کو بین الاقوامی پروازوں کے لئے بند کر کے انڈین ایئر فورس کی مشق کے لیے ریزرو کرنے کا نوٹس ٹو ایئر مین (نوٹم) جاری کر دیا ہے۔

    ان مشقوں میں رافیل، سخوئی-30 ایم کے آئی، جیگوار اور دیگر فرنٹ لائن لڑاکا طیارے حصہ لیں گے۔ ان مشقوں میں تیز رفتار پروازیں، ہوائی لڑائی کی مشق اور ممکنہ طور پر لائیو فائرنگ یا بمباری کی تربیت بھی شامل ہوگی۔ یہ محدود فضائی زون پاکستان کے ساتھ بھارت کی جنوبی سرحد کے حساس علاقے پر محیط ہے جس میں بحیرہ عرب، سر کریک، راجکوٹ اور احمد آباد کے نزدیکی علاقے شامل ہیں۔ یہ علاقہ سر کریک کے انتہائی قریب ہے جو ایک متنازعہ پٹی ہے اور بحیرہ عرب میں گرتی ہے۔ زون کا مشرقی کنارہ احمد آباد اور راجکوٹ کی طرف ہے جو پاکستانی سرحد سے صرف 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ علاقہ اسٹریٹجک طور پر بہت حساس ہے کیونکہ یہ پاکستان کے کراچی پورٹ سے نسبتاً قریب ہے اور سمندری سرحد کو متاثر کرتا ہے۔