Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • ورلڈ اکنامک فورم کا سالانہ اجلاس،ٹرمپ،شہباز شرکت کی تصدیق،مودی نہیں جائیں گے

    ورلڈ اکنامک فورم کا سالانہ اجلاس،ٹرمپ،شہباز شرکت کی تصدیق،مودی نہیں جائیں گے

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سویٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں اس سال ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے 56 ویں سالانہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ 19 جنوری سے شروع ہونے والے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ چین کے صدر شی جن پنگ کی طرف سے اجلاس میں شمولیت کا ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

    بھارتی دفتر خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ٹرمپ اور شہباز شریف کی ایک ہی جگہ موجودگی سے پیدا ہونے والے ممکنہ سفارتی تناؤ سے بچنے کے لیے وزیراعظم مودی نے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مودی نہیں چاہتے کہ فورم کا فوکس عالمی معاشی مسائل سے ہٹ کر علاقائی تنازعات پر جائے، خاص طور پر جب ٹرمپ کی موجودگی میں پاکستان کے ساتھ کوئی غیر متوقع ملاقات یا بیانات سامنے آ سکتے ہوں۔ تاہم بھارت کی طرف سے ایک بڑا وفد جا رہا ہے جس میں مرکزی وزرا اشونی ویشنو، شیوراج سنگھ چوہان اور پرلہاد جوشی سمیت پانچ ریاستوں کے وزرائے اعلی شامل ہیں تاہم مودی کی عدم شرکت کو سفارتی حلقوں میں اسٹریٹجک غیر حاضری قرار دیا جا رہا ہے۔

    ورلڈ اکنامک فورم کے صدر بورگے برینڈے نے وزیراعظم مودی کی شرکت کی امید ظاہر کی تھی لیکن بھارت کی طرف سے وفد میں شامل افراد کی فہرست جاری ہونے کے بعد مودی کی شرکت کا امکان ختم ہو گیا۔ واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم کے گزشتہ سال کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔

  • ریاستی انتخابات 2026،بی جے پی کی مہم میں پاکستان مخالف بیانیہ نمایاں ہونے کا امکان

    ریاستی انتخابات 2026،بی جے پی کی مہم میں پاکستان مخالف بیانیہ نمایاں ہونے کا امکان

    بھارت میں چار اہم ریاستوں آسام، کیرالہ، تامل ناڈو، مغربی بنگال اور ایک یونین ٹیریٹری پڈوچیری میں اسمبلیوں کی مدت 2 مئی 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔ ان ریاستوں میں نئے انتخابات مارچ سے مئی کے درمیان مختلف مراحل میں کرائے جائیں گے۔ بھارت میں مودی سرکار نے ان اتخابات کو جیتنے کیلئے ہر حربہ استعمال کرنے کے لئے کئی منصوبوں پر غور شروع کردیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک اہم لیڈر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نئی دہلی سے فون پرباغی ٹی وی سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مودی نے وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور چند دیگر سرکردہ لیڈروں کے ساتھ ایک تفصیلی میٹنگ کی ہے جس میں انخابات کے حوالے سے اہم حکمت عملی تیار کرنے کی ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت آسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی 60 نشستوں سمیت این ڈی اے الائنس کے پاس 75 سیٹیں ہیں۔ کیرالہ میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) CPI(M) کی قیادت میں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ کی حکومت ہے جبکہ این ڈی اے کے پاس کوئی سیٹ نہیں۔ تامل ناڈو میں دراویڑ منیتر کڑگم (DMK) کی حکومت ہے جس میں این ڈی اے کے پاس 75 سیٹیں ہیں۔ مغربی بنگال میں آل انڈیا ترنمول کانگریس کی حکومت ہے۔ اس ریاست میں این ڈی اے کے پاس 77 سیٹیں ہیں جن میں زیادہ تر بی جے پی کی ہیں۔ پڈوچیری میں آل انڈیا این آر کانگریس کی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت ہے جن میں سے بی جے پی کی 6 نشستیں ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آنے والے انتخابات نہ صرف بھارت کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے بلکہ مختلف ریاستی حکومتوں کی مجموعی کارکردگی کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں۔ اجلاس میں تہیہ کیا گیا کہ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کی بھر پور کوشش ہو گی کہ انتخابات کے بعد ان تمام ریاستوں میں بھی ان کی مکمل حکومتیں قائم ہوں خواہ اس کیلئے کوئی بھی حربہ کیوں نہ استعمال کرنا پڑے۔ اجلاس میں انتخابات کے دوران پاکستان کے خلاف مختلف بیانیے استعمال کر کے عوامی ہمدردیاں حاصل کر کے سیاسی فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا اور اس سلسلے میں مختلف آپشنز سامنے رکھے گئے۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ انتخابی مہم کے دوران سب سے نمایاں بیانیہ سرحد پار دہشت گردی کے الزامات کا ہو گا جس میں بھارتی مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول کی موجودہ کشیدہ حالات کو پاکستان سے منسوب کر کے سخت موقف اپنانے کا تاثر دینے کا منصوبہ ہے۔ اس بیانیے کے ذریعے حکومت خود کو قومی سلامتی کی ضامن کے طور پر پیش کر سکتی ہے اور مخالف سیاسی جماعتوں پر کمزوری یا نرمی کے الزامات عائد کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور بیانیہ نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک یا محدود فوجی کارروائی کی یاد دہانی ہو سکتا ہے جس سے ماضی کے واقعات کو اجاگر کر کے یہ پیغام دیا جائے کہ موجودہ حکومت نے پاکستان کے خلاف سخت اور فیصلہ کن اقدامات کیے۔ یہ بھی تجویز دی گئی کہ مودی سرکار ایسے حوالہ جات جلسوں اور میڈیا بیانات میں عوامی جذبات ابھارنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مودی سرکار چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو اجاگر کر کے دو محاذی خطرے کا بیانیہ بھی پیش کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے جس میں یہ مؤقف اپنایا جا سکتا ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ مل کر بھارت کے خلاف سرگرم ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مضبوط قیادت ضروری ہے۔ اس بیانیے کا مقصد عوام میں قومی اتحاد اور حکومت کی دفاعی پالیسیوں کے لیے حمایت پیدا کرنا ہے۔ ایک اور تجویز پر غور کیا گیا کہ انتخابی ماحول میں سفارتی محاذ پر پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا دکھانے کا بیانیہ بھی کارآمد ہو سکتا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جائے گا کہ بھارت نے دہشت گردی کے حوالے سے عالمی برادری میں پاکستان کے خلاف مؤقف مضبوط اپنایا اور نئی دہلی خطے میں امن و استحکام کا ذمہ دار کردار ادا کر رہا ہے۔

    اس بیانیے سے حکومت اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابیوں کو انتخابی فائدے میں بدل سکتی ہے۔ اندرونی سلامتی اور سخت قوانین کا بیانیہ بھی پاکستان سے جوڑ کر پیش کئے جانے کی تجویز پیش کی گئی جس کے مطابق یہ تاثر دیا جائے گا کہ پاکستان سے جڑے خطرات کے باعث ملک بھر میں سخت سیکیورٹی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس حکمتِ عملی کے تحت قومی سلامتی کو داخلی نظم و نسق اور انتخابی وعدوں سے جوڑنے کی کوشش سے عوامی ہمدردیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ میٹنگ میں اس تجویز پر بھی غور کیا گیا کہ انتخابی عمل کے دوران ایل او سی پر محدود اور کنٹرولڈ کشیدگی کی فضا پیدا کی جائے خاص طور پر دہشت گردی اور در اندازی کے الزامات اور پاکستان مخالف بیانیے کے استعمال سے سرحدی کشیدگی یا سیاسی تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے تاہم مکمل جنگ کے امکانات کم رہیں۔ ان حالات میں عالمی دباؤ اور جوہری توازن ایسے عوامل ہیں جو دونوں ممالک کو محتاط رہنے پر مجبور کریں گے۔ جس کی آڑ میں سیاسی فائدہ حکومتی جماعت کو حاصل ہو سکتا ہے۔ ان حالات میں عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ اور اقوام متحدہ فوری ردعمل دے سکتی ہے تاکہ صورت حال قابو سے باہر نہ جائے۔ 

  • بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں ثالثی کا کردار ادا کیا،چین

    بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں ثالثی کا کردار ادا کیا،چین

    چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے دعویٰ کیا کہ بیجنگ نے رواں سال بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں ثالثی کا کردار ادا کیا، اور اسے دیگر عالمی تنازعات کے ساتھ رکھا جہاں چین نے امن کی سہولت کاری کا دعویٰ کیا ہے۔

    بیجنگ میں "بین الاقوامی صورتحال اور چین کے خارجہ تعلقات” پر سالانہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے وانگ یی نے چین کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا: "ہاٹ اسپاٹ مسائل کے حل کے لیے اس چینی نقطہ نظر کی پیروی کرتے ہوئے، ہم نے شمالی میانمار، ایرانی جوہری مسئلہ، پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ، فلسطین اور اسرائیل کے مسائل، اور حال ہی میں کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے تنازع میں ثالثی کی۔”

    یہ بیان مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ شدید فوجی تصادم کے حوالے سے ہے، جو 22 اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام واقعہ سے شروع ہوا۔ بھارت نے اس کا الزام پاکستان میں قائم مبینہ دہشت گرد گروپوں پر لگایا اور آپریشن سندور کے تحت پاکستان پر حملہ کردی۔ پاکستان نے جوابی کارروائی کی، جس سے میزائل اور ڈرون تبادلے ہوئے، پھر 10 مئی کو جنگ بندی نافذ ہوئی۔

    بھارتی حکام نے وانگ کے دعوے کو فوری طور پر مسترد کر دیا۔ نئی دہلی کے ذرائع نے اسے "عجیب و غریب” قرار دیا اور زور دیا کہ جنگ بندی صرف دونوں ممالک کے ڈائریکٹرز جنرل آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان براہ راست ہاٹ لائن بات چیت سے حاصل ہوئی۔ ڈی جی ایم او کال 10 مئی کو 15:35 گھنٹے پر شروع ہوئی، جس میں دونوں فریقوں نے زمین، ہوا اور سمندر پر حملے روکنے پر اتفاق کیا۔

    "بھارت اور پاکستان کے معاملات میں کسی تیسرے فریق کی کوئی گنجائش نہیں،” ایک سرکاری ذریعے نے کہا، اور بھارت کے دیرینہ موقف کو دہرایا کہ دوطرفہ مسائل میں بیرونی ثالثی کی کوئی جگہ نہیں۔ اسی طرح کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابقہ دعووں کو بھی نئی دہلی نے مسترد کیا تھا۔

  • بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس کا  لائن آف کنٹرول پر آپریشن سرد ہوا شروع کرنے کا اعلان

    بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس کا لائن آف کنٹرول پر آپریشن سرد ہوا شروع کرنے کا اعلان

    بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس نے راجستھان میں پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی سرحد اور جموں سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر آپریشن سرد ہوا شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق سردیوں کے دوران شدید دھند کے باعث مبینہ دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے کی آڑ میں سیکورٹی انتظامات کو مزید سخت کر دیا ہے۔ یہ آپریشن جنوری کے آخر تک جاری رہے گا۔ بی ایس ایف حکام کے مطابق انٹیلی جنس رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے تقریباً 80 سے زائد درانداز سرحد پار کرنے کے منتظر ہیں۔ اس تناظر میں بی ایس ایف نے اضافی فورسز تعینات کی ہیں اور گشت کو بڑھایا ہے جب کہ جدید ٹیکنالوجی جیسے تھرمل امیجنگ ڈیوائسز، اینٹی فاگ آلات اور ڈرونز کا استعمال تیز کر دیا ہے۔ نئے سال اور ری پبلک ڈے کے موقع پر بھی بی ایس ایف کی نگرانی کو مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ 

  • بھارتی ایئر فوس کا پاکستانی سرحد کے قریب فضائی مشقوں کا اعلان

    بھارتی ایئر فوس کا پاکستانی سرحد کے قریب فضائی مشقوں کا اعلان

    بھارتی ایئر فورس نے پاکستانی سرحد کے قریب گجرات کے کچھ علاقے میں ایک بڑے پیمانے پر فضائی مشقوں کا اعلان کیا ہے اور اس سلسلے میں 20 جنوری سے 21 جنوری تک فضائی حدود کو بین الاقوامی پروازوں کے لئے بند کر کے انڈین ایئر فورس کی مشق کے لیے ریزرو کرنے کا نوٹس ٹو ایئر مین (نوٹم) جاری کر دیا ہے۔

    ان مشقوں میں رافیل، سخوئی-30 ایم کے آئی، جیگوار اور دیگر فرنٹ لائن لڑاکا طیارے حصہ لیں گے۔ ان مشقوں میں تیز رفتار پروازیں، ہوائی لڑائی کی مشق اور ممکنہ طور پر لائیو فائرنگ یا بمباری کی تربیت بھی شامل ہوگی۔ یہ محدود فضائی زون پاکستان کے ساتھ بھارت کی جنوبی سرحد کے حساس علاقے پر محیط ہے جس میں بحیرہ عرب، سر کریک، راجکوٹ اور احمد آباد کے نزدیکی علاقے شامل ہیں۔ یہ علاقہ سر کریک کے انتہائی قریب ہے جو ایک متنازعہ پٹی ہے اور بحیرہ عرب میں گرتی ہے۔ زون کا مشرقی کنارہ احمد آباد اور راجکوٹ کی طرف ہے جو پاکستانی سرحد سے صرف 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ علاقہ اسٹریٹجک طور پر بہت حساس ہے کیونکہ یہ پاکستان کے کراچی پورٹ سے نسبتاً قریب ہے اور سمندری سرحد کو متاثر کرتا ہے۔ 

  • 2026 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان دوبارہ مسلح تصادم کا امکان موجود

    2026 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان دوبارہ مسلح تصادم کا امکان موجود

    مشہور امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز (CFR) نے اپنی سالانہ رپورٹ "کنفلکٹس ٹو واچ ان 2026” میں خبردار کیا ہے کہ 2026 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان دوبارہ مسلح تصادم کا امکان موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس کی بنیادی وجہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں دہشت گرد سرگرمیوں میں اضافہ اور وہاں جاری مظالم ہو سکتے ہیں۔

    رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ "بھارت اور پاکستان کے درمیان دوبارہ مسلح تصادم کا اعتدال پسندانہ امکان ہے، جو بھارتی زیر انتظام کشمیر میں دہشت گرد سرگرمیوں میں اضافے اور مظالم کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔”

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے دفاعی خریداریوں میں تیزی کی ہے۔ بھارت نے 79 ہزار کروڑ روپے کی دفاعی خریداریاں منظور کیں، جبکہ پاکستان نے ترکی اور چین سے نئے ڈرونز اور ایئر ڈیفنس سسٹمز حاصل کرنے کے لیے بات چیت شروع کی ہے۔

    اسی رپورٹ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی 2026 میں سرحدی عسکریت پسند حملوں کی وجہ سے مسلح تصادم کا اعتدال پسندانہ امکان ظاہر کیا گیا ہے، تاہم اس کا امریکی مفادات پر اثر کم ہوگا۔

  • بھارت بنگلہ دیش تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ: سمندری تنازع، ماہی گیروں کی گرفتاری اور بھارت مخالف مظاہرے

    بھارت بنگلہ دیش تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ: سمندری تنازع، ماہی گیروں کی گرفتاری اور بھارت مخالف مظاہرے

    بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات گزشتہ دور روز کے دوران شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے ہیں۔ بھارتی کوسٹ گارڈ کے جہاز انمول نے دو بنگلہ دیشی کشتیوں کو بھارتی خصوصی اقتصادی زون میں غیر قانونی ماہی گیری کے الزام میں پکڑ لیا اور کشتیوں میں سوار 35 افراد کو گرفتار کرلیا۔ کشتیوں پر فعال ماہی گیری کا سامان اور تقریباً 500 کلو مچھلی بھی قبضہ میں لے لی گئی۔ اس سے قبل منگل کے روز بھارتی ماہی گیروں کی ایک کشتی بھارت بنگلہ دیش بین الاقوامی سمندری سرحدی لائن کے قریب دھند میں ڈوب گئی۔ کشتی میں مغربی بنگال کے کاک دویپ سے 16 ماہی گیر سوار تھے۔ گیارہ کو قریبی کشتی آئی ایف بی راگھوپتی نے بچا لیا جبکہ پانچ تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔ بچ جانے والے بھارتی ماہی گیروں نے سنگین الزام لگایا کہ ایک بنگلہ دیشی گشتی جہاز نے لائٹیں بند کر کے اندھیرے میں ان کی کشتی کو جان بوجھ کر ٹکر ماری اور فرار ہو گیا۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ایک ماہی گیر راجدول علی شیخ کو بنگلہ دیشی جہاز سے پھینکا گیا جس کے بعد اسے نیزہ نما ہتھیار مارا گیا جس سے موت ہوئی، جبکہ ایک اور ماہی گیر زخمی بھی ہوا۔ بنگلہ دیش کے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے ان الزامات کو جھوٹا، گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کیا۔ بیان کے مطابق کشتی بھارتی پانیوں میں حادثاتی طور پر ڈوبی جبکہ ان کا جہاز 12 ناٹیکل میل دور بنگلہ دیشی حدود میں تھا۔ دریں اثنا گزشتہ روز بنگلہ دیش کے شہر راجشاہی میں بھارتیو آدھیپتہ بیرودھی جولائی 36 منچ نامی گروپ نے انڈین اسسٹنٹ ہائی کمیشن کی طرف مارچ کیا۔ مظاہرین نے بھارت کی مبینہ مداخلت کے خلاف نعرے لگائے۔ پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کر کے مارچ روکا جس پر شدید جھڑپیں ہوئیں اور مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ مظاہروں کے بعد کھلنا اور راجشاہی میں بھارتی ویزا ایپلی کیشن سینٹرز سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے غیرمعینہ مدت کیلئے بند کر دیے گئے۔ بھارت نے بنگلہ دیشی سفارتکار کو طلب کر کے اپنے مشنز کی سیکیورٹی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

  • بھارتی فلم دھورندھر میں بے نظیر بھٹو کی تصویر کے استعمال پر پاکستان میں شدید ردِعمل

    بھارتی فلم دھورندھر میں بے نظیر بھٹو کی تصویر کے استعمال پر پاکستان میں شدید ردِعمل

    بالی وڈ فلم دھورندھر نے پاکستان میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں فلم میں پاکستانی سیاسی شخصیات اور جماعتوں کے براہِ راست حوالوں نے شدید ردِعمل پیدا کر دیا ہے۔ فلم کے ٹریلر اور چند مناظر میں بے نظیر بھٹو کی تصاویر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاسی بینرز کا استعمال پاکستانی ناقدین اسے ’’جانبدارانہ سیاسی پیشکش‘‘ قرار دے رہے ہیں۔

    فلم میں دکھائے گئے بعض سیاسی پوسٹرز، تصاویر اور حوالوں کو پاکستانی تجزیہ کاروں نے اس کوشش کے طور پر دیکھا ہے کہ پاکستان کے داخلی سیاسی ماحول ، بالخصوص ماضی کی قیادت کو ایک ایسے بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے جو فلم کے کرائم اور خطے کی کشیدگی سے متعلق پلاٹ کا حصہ ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ منظرنامہ نہ صرف پاکستان کی سیاسی تاریخ کو مسخ کرتا ہے بلکہ حقیقی سیاسی جماعتوں کو ایک فلمی تناظر کے منفی خاکے میں پیش کرتا ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ بے نظیر بھٹو کی تصویر کا استعمال نامناسب اور سیاسی طور پر اشتعال انگیز ہے۔ ان حلقوں کے مطابق فلم نے ایک ایسی قومی شخصیت کو جو جمہوری جدوجہد کی علامت سمجھی جاتی ہیں، ایک ایسے اسکرپٹ میں شامل کیا ہے جس کا مقصد محض پس منظر میں سیاسی سنسنی خیزی پیدا کرنا ہے۔

    اسی دوران سابق کراچی پولیس افسر چودھری اسلم کے کردار سے مشابہہ رول کو بھی پاکستان میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کی بیوہ کی جانب سے فلم میں کردار کی غلط اور توہین آمیزعکاسی پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جس کے بعد فلم پر قانونی کارروائی کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے۔ اس احتجاج کے بعد یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ فلم کو حساس پاکستانی اداروں، شخصیات اور سیاسی علامات کو تجارتی کامیابی بڑھانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق بالی وڈ میں پاکستان سے متعلق منفی بیانیہ کوئی نئی بات نہیں، لیکن دھورندھر میں پاکستانی سیاستدانوں کے نام، تصاویر اور جماعتی علامتوں کا براہِ راست استعمال دونوں ملکوں کے درمیان تلخی کو مزید بڑھاسکتا ہے۔ ان کے مطابق فلمی پلاٹ کے ذریعے پاکستان کے داخلی معاملات کو غیر ضروری طور پر شدت اور تنازع سے جوڑتی ہے۔

    پاکستانی فلمی ناقدین کا کہنا ہے کہ تکنیکی معیار بلند ہونے کے باوجود فلم کا سیاسی مواد غیر ضروری، جانبدارانہ اور سفارتی حساسیت سے عاری محسوس ہوتا ہے۔ عوامی حلقوں میں بھی یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ بھارتی فلمیں ایک مرتبہ پھر پاکستان کے سیاسی ماحول اور شخصیات کو محض سینما کی سنسنی کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔

    پاکستانی وزارتِ اطلاعات کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم حکومتی اور اپوزیشن حلقوں میں اتفاق پایا جاتا ہے کہ فلم میں دکھائے گئے سیاسی حوالوں سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود بیانیاتی خلیج مزید گہری ہو سکتی ہے۔

  • روسی صدر کا دورہ بھارت: اپوزیشن نےے نتیجہ سفارتی تشہیر قرار دے دیا

    روسی صدر کا دورہ بھارت: اپوزیشن نےے نتیجہ سفارتی تشہیر قرار دے دیا

    روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے دورۂ بھارت نے وزیراعظم نریندر مودی کی سیاسی ساکھ کو بے حد متاثر کیا ہے۔ بھارتی اپوزیشن نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے حالیہ دورۂ بھارت کو حکومت کی جانب سے بے نتیجہ سفارتی تشہیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دورے میں نہ کوئی بڑا معاہدہ طے پایا اور نہ ہی دونوں ممالک کے تعلقات میں وہ پیش رفت ہوئی جس کا حکومت دعویٰ کر رہی ہے۔ کانگریس کے راہنماوں کے مطابق مودی حکومت نے اس دورے کو تاریخی قرار دے کر اسے سیاسی فائدے کے لیے پیش کیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملاقاتیں اور بیانات تو دیے گئے لیکن کسی شعبے میں ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ خاص طور پر دفاعی شعبے میں ایس-500 جیسی اہم ٹیکنالوجی، برہموس کے توسیعی منصوبے اور دیگر اسٹریٹجک معاملات پر صرف بات چیت ہوئی لیکن کوئی نیا معاہدہ طے نہ ہو سکا جس سے یہ تاثر ملا کہ بھارت اور روس کے روایتی دفاعی تعلقات جمود کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ مذاکرات کامیاب رہے، مگر عملی طور پر نہ نئی ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر اتفاق ہوا اور نہ کسی بڑے دفاعی پراجیکٹ پر دستخط کیے گئے۔ اپوزیشن کے مطابق توانائی کے شعبے میں بھی روس کی پیشکشوں کے باوجود بھارت کسی حتمی معاہدے پر نہیں پہنچ سکا جبکہ روپے اور روبل میں براہِ راست ادائیگی کا مسئلہ بھی حل نہ ہو سکا جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا توازن اب بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تجارت بڑھانے کی خواہش اپنی جگہ برقرار رہی مگر عملی صورت اختیار نہ کرسکی۔ اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بھارت روس اور مغربی دنیا کے درمیان متوازن پالیسی اپنانے میں کامیاب نظر نہیں آتا جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر بھارت کی پوزیشن غیر واضح ہوتی جا رہی ہے۔ اپوزیشن کے مطابق یوکرین جنگ کے حساس تناظر میں بھارت کو ایک مضبوط اور واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے تھا لیکن یہ دورہ کسی بڑی عالمی سفارتی حکمت عملی کا اشارہ دینے میں ناکام رہا۔ اپوزیشن نے حکومت کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ پیوٹن کا دورہ سفارتی کامیابی ہے، اور کہا کہ اگر یہ دورہ اتنا اہم تھا تو کم از کم ایک بڑا دفاعی یا تجارتی معاہدہ سامنے آنا چاہیے تھا جو کہ نہیں آیا۔ ان کے مطابق یہ دورہ زیادہ تر سیاسی تشہیر اور تصویری بیانیے تک محدود رہا اور بھارت کے عملی مفادات کے لحاظ سے یہ موقع ضائع ہونے کے مترادف ہے۔

  • ناسا کے خلاباز کی فوٹو:روشن نقطے کی مانند چمکا خانہ کعبہ

    ناسا کے خلاباز کی فوٹو:روشن نقطے کی مانند چمکا خانہ کعبہ

    زمین سے تقریباً 400 کلومیٹر دور خلا سے ایک شاندار تصویر میں مکہ مکرمہ سعودی عرب، کی منظر کشی کی گئی ہے جس میں اسلام کا مقدس ترین مقام خانہ کعبہ ایک روشن نقطے کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ ناسا کے خلاباز ڈون پیٹِٹ اپنے چوتھے انٹرنیشنل اسپیس سٹیشن مشن کے دوران خلا میں آرٹ اور فوٹوگرافی کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے یہ شاندار منظرکشی اسٹیشن کی کپولا ونڈو سے ہائی ریزولیشن کیمرہ استعمال کرتے ہوئے کی۔ تصویر میں مکہ شہر پہاڑی وادیوں میں پھیلا دکھائی دیتا ہے جس میں مسجد الحرام مرکزی فریم پر غالب ہے۔ خانہ کعبہ جو سیاہ کسوہ سے ڈھکا ہوا ہے مسلسل فلڈ لائٹس کی بدولت نمایاں نظر آتا ہے۔عوام نے اس تصویر کو حیران کن، روح پرور اور روحانی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے کیونکہ اس کی معنویت اور کشش مسلمانوں کے لیے گہری روحانی اہمیت رکھتی ہے۔