بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سویٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں اس سال ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے 56 ویں سالانہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ 19 جنوری سے شروع ہونے والے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ چین کے صدر شی جن پنگ کی طرف سے اجلاس میں شمولیت کا ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
بھارتی دفتر خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ٹرمپ اور شہباز شریف کی ایک ہی جگہ موجودگی سے پیدا ہونے والے ممکنہ سفارتی تناؤ سے بچنے کے لیے وزیراعظم مودی نے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مودی نہیں چاہتے کہ فورم کا فوکس عالمی معاشی مسائل سے ہٹ کر علاقائی تنازعات پر جائے، خاص طور پر جب ٹرمپ کی موجودگی میں پاکستان کے ساتھ کوئی غیر متوقع ملاقات یا بیانات سامنے آ سکتے ہوں۔ تاہم بھارت کی طرف سے ایک بڑا وفد جا رہا ہے جس میں مرکزی وزرا اشونی ویشنو، شیوراج سنگھ چوہان اور پرلہاد جوشی سمیت پانچ ریاستوں کے وزرائے اعلی شامل ہیں تاہم مودی کی عدم شرکت کو سفارتی حلقوں میں اسٹریٹجک غیر حاضری قرار دیا جا رہا ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم کے صدر بورگے برینڈے نے وزیراعظم مودی کی شرکت کی امید ظاہر کی تھی لیکن بھارت کی طرف سے وفد میں شامل افراد کی فہرست جاری ہونے کے بعد مودی کی شرکت کا امکان ختم ہو گیا۔ واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم کے گزشتہ سال کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔
