Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • بھارتی ایئر فوس کا پاکستانی سرحد کے قریب فضائی مشقوں کا اعلان

    بھارتی ایئر فوس کا پاکستانی سرحد کے قریب فضائی مشقوں کا اعلان

    بھارتی ایئر فورس نے پاکستانی سرحد کے قریب گجرات کے کچھ علاقے میں ایک بڑے پیمانے پر فضائی مشقوں کا اعلان کیا ہے اور اس سلسلے میں 20 جنوری سے 21 جنوری تک فضائی حدود کو بین الاقوامی پروازوں کے لئے بند کر کے انڈین ایئر فورس کی مشق کے لیے ریزرو کرنے کا نوٹس ٹو ایئر مین (نوٹم) جاری کر دیا ہے۔

    ان مشقوں میں رافیل، سخوئی-30 ایم کے آئی، جیگوار اور دیگر فرنٹ لائن لڑاکا طیارے حصہ لیں گے۔ ان مشقوں میں تیز رفتار پروازیں، ہوائی لڑائی کی مشق اور ممکنہ طور پر لائیو فائرنگ یا بمباری کی تربیت بھی شامل ہوگی۔ یہ محدود فضائی زون پاکستان کے ساتھ بھارت کی جنوبی سرحد کے حساس علاقے پر محیط ہے جس میں بحیرہ عرب، سر کریک، راجکوٹ اور احمد آباد کے نزدیکی علاقے شامل ہیں۔ یہ علاقہ سر کریک کے انتہائی قریب ہے جو ایک متنازعہ پٹی ہے اور بحیرہ عرب میں گرتی ہے۔ زون کا مشرقی کنارہ احمد آباد اور راجکوٹ کی طرف ہے جو پاکستانی سرحد سے صرف 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ علاقہ اسٹریٹجک طور پر بہت حساس ہے کیونکہ یہ پاکستان کے کراچی پورٹ سے نسبتاً قریب ہے اور سمندری سرحد کو متاثر کرتا ہے۔ 

  • 2026 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان دوبارہ مسلح تصادم کا امکان موجود

    2026 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان دوبارہ مسلح تصادم کا امکان موجود

    مشہور امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز (CFR) نے اپنی سالانہ رپورٹ "کنفلکٹس ٹو واچ ان 2026” میں خبردار کیا ہے کہ 2026 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان دوبارہ مسلح تصادم کا امکان موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس کی بنیادی وجہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں دہشت گرد سرگرمیوں میں اضافہ اور وہاں جاری مظالم ہو سکتے ہیں۔

    رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ "بھارت اور پاکستان کے درمیان دوبارہ مسلح تصادم کا اعتدال پسندانہ امکان ہے، جو بھارتی زیر انتظام کشمیر میں دہشت گرد سرگرمیوں میں اضافے اور مظالم کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔”

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے دفاعی خریداریوں میں تیزی کی ہے۔ بھارت نے 79 ہزار کروڑ روپے کی دفاعی خریداریاں منظور کیں، جبکہ پاکستان نے ترکی اور چین سے نئے ڈرونز اور ایئر ڈیفنس سسٹمز حاصل کرنے کے لیے بات چیت شروع کی ہے۔

    اسی رپورٹ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی 2026 میں سرحدی عسکریت پسند حملوں کی وجہ سے مسلح تصادم کا اعتدال پسندانہ امکان ظاہر کیا گیا ہے، تاہم اس کا امریکی مفادات پر اثر کم ہوگا۔

  • بھارت بنگلہ دیش تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ: سمندری تنازع، ماہی گیروں کی گرفتاری اور بھارت مخالف مظاہرے

    بھارت بنگلہ دیش تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ: سمندری تنازع، ماہی گیروں کی گرفتاری اور بھارت مخالف مظاہرے

    بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات گزشتہ دور روز کے دوران شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے ہیں۔ بھارتی کوسٹ گارڈ کے جہاز انمول نے دو بنگلہ دیشی کشتیوں کو بھارتی خصوصی اقتصادی زون میں غیر قانونی ماہی گیری کے الزام میں پکڑ لیا اور کشتیوں میں سوار 35 افراد کو گرفتار کرلیا۔ کشتیوں پر فعال ماہی گیری کا سامان اور تقریباً 500 کلو مچھلی بھی قبضہ میں لے لی گئی۔ اس سے قبل منگل کے روز بھارتی ماہی گیروں کی ایک کشتی بھارت بنگلہ دیش بین الاقوامی سمندری سرحدی لائن کے قریب دھند میں ڈوب گئی۔ کشتی میں مغربی بنگال کے کاک دویپ سے 16 ماہی گیر سوار تھے۔ گیارہ کو قریبی کشتی آئی ایف بی راگھوپتی نے بچا لیا جبکہ پانچ تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔ بچ جانے والے بھارتی ماہی گیروں نے سنگین الزام لگایا کہ ایک بنگلہ دیشی گشتی جہاز نے لائٹیں بند کر کے اندھیرے میں ان کی کشتی کو جان بوجھ کر ٹکر ماری اور فرار ہو گیا۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ایک ماہی گیر راجدول علی شیخ کو بنگلہ دیشی جہاز سے پھینکا گیا جس کے بعد اسے نیزہ نما ہتھیار مارا گیا جس سے موت ہوئی، جبکہ ایک اور ماہی گیر زخمی بھی ہوا۔ بنگلہ دیش کے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے ان الزامات کو جھوٹا، گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کیا۔ بیان کے مطابق کشتی بھارتی پانیوں میں حادثاتی طور پر ڈوبی جبکہ ان کا جہاز 12 ناٹیکل میل دور بنگلہ دیشی حدود میں تھا۔ دریں اثنا گزشتہ روز بنگلہ دیش کے شہر راجشاہی میں بھارتیو آدھیپتہ بیرودھی جولائی 36 منچ نامی گروپ نے انڈین اسسٹنٹ ہائی کمیشن کی طرف مارچ کیا۔ مظاہرین نے بھارت کی مبینہ مداخلت کے خلاف نعرے لگائے۔ پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کر کے مارچ روکا جس پر شدید جھڑپیں ہوئیں اور مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ مظاہروں کے بعد کھلنا اور راجشاہی میں بھارتی ویزا ایپلی کیشن سینٹرز سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے غیرمعینہ مدت کیلئے بند کر دیے گئے۔ بھارت نے بنگلہ دیشی سفارتکار کو طلب کر کے اپنے مشنز کی سیکیورٹی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

  • بھارتی فلم دھورندھر میں بے نظیر بھٹو کی تصویر کے استعمال پر پاکستان میں شدید ردِعمل

    بھارتی فلم دھورندھر میں بے نظیر بھٹو کی تصویر کے استعمال پر پاکستان میں شدید ردِعمل

    بالی وڈ فلم دھورندھر نے پاکستان میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں فلم میں پاکستانی سیاسی شخصیات اور جماعتوں کے براہِ راست حوالوں نے شدید ردِعمل پیدا کر دیا ہے۔ فلم کے ٹریلر اور چند مناظر میں بے نظیر بھٹو کی تصاویر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاسی بینرز کا استعمال پاکستانی ناقدین اسے ’’جانبدارانہ سیاسی پیشکش‘‘ قرار دے رہے ہیں۔

    فلم میں دکھائے گئے بعض سیاسی پوسٹرز، تصاویر اور حوالوں کو پاکستانی تجزیہ کاروں نے اس کوشش کے طور پر دیکھا ہے کہ پاکستان کے داخلی سیاسی ماحول ، بالخصوص ماضی کی قیادت کو ایک ایسے بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے جو فلم کے کرائم اور خطے کی کشیدگی سے متعلق پلاٹ کا حصہ ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ منظرنامہ نہ صرف پاکستان کی سیاسی تاریخ کو مسخ کرتا ہے بلکہ حقیقی سیاسی جماعتوں کو ایک فلمی تناظر کے منفی خاکے میں پیش کرتا ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ بے نظیر بھٹو کی تصویر کا استعمال نامناسب اور سیاسی طور پر اشتعال انگیز ہے۔ ان حلقوں کے مطابق فلم نے ایک ایسی قومی شخصیت کو جو جمہوری جدوجہد کی علامت سمجھی جاتی ہیں، ایک ایسے اسکرپٹ میں شامل کیا ہے جس کا مقصد محض پس منظر میں سیاسی سنسنی خیزی پیدا کرنا ہے۔

    اسی دوران سابق کراچی پولیس افسر چودھری اسلم کے کردار سے مشابہہ رول کو بھی پاکستان میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کی بیوہ کی جانب سے فلم میں کردار کی غلط اور توہین آمیزعکاسی پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جس کے بعد فلم پر قانونی کارروائی کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے۔ اس احتجاج کے بعد یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ فلم کو حساس پاکستانی اداروں، شخصیات اور سیاسی علامات کو تجارتی کامیابی بڑھانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق بالی وڈ میں پاکستان سے متعلق منفی بیانیہ کوئی نئی بات نہیں، لیکن دھورندھر میں پاکستانی سیاستدانوں کے نام، تصاویر اور جماعتی علامتوں کا براہِ راست استعمال دونوں ملکوں کے درمیان تلخی کو مزید بڑھاسکتا ہے۔ ان کے مطابق فلمی پلاٹ کے ذریعے پاکستان کے داخلی معاملات کو غیر ضروری طور پر شدت اور تنازع سے جوڑتی ہے۔

    پاکستانی فلمی ناقدین کا کہنا ہے کہ تکنیکی معیار بلند ہونے کے باوجود فلم کا سیاسی مواد غیر ضروری، جانبدارانہ اور سفارتی حساسیت سے عاری محسوس ہوتا ہے۔ عوامی حلقوں میں بھی یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ بھارتی فلمیں ایک مرتبہ پھر پاکستان کے سیاسی ماحول اور شخصیات کو محض سینما کی سنسنی کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔

    پاکستانی وزارتِ اطلاعات کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم حکومتی اور اپوزیشن حلقوں میں اتفاق پایا جاتا ہے کہ فلم میں دکھائے گئے سیاسی حوالوں سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود بیانیاتی خلیج مزید گہری ہو سکتی ہے۔

  • روسی صدر کا دورہ بھارت: اپوزیشن نےے نتیجہ سفارتی تشہیر قرار دے دیا

    روسی صدر کا دورہ بھارت: اپوزیشن نےے نتیجہ سفارتی تشہیر قرار دے دیا

    روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے دورۂ بھارت نے وزیراعظم نریندر مودی کی سیاسی ساکھ کو بے حد متاثر کیا ہے۔ بھارتی اپوزیشن نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے حالیہ دورۂ بھارت کو حکومت کی جانب سے بے نتیجہ سفارتی تشہیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دورے میں نہ کوئی بڑا معاہدہ طے پایا اور نہ ہی دونوں ممالک کے تعلقات میں وہ پیش رفت ہوئی جس کا حکومت دعویٰ کر رہی ہے۔ کانگریس کے راہنماوں کے مطابق مودی حکومت نے اس دورے کو تاریخی قرار دے کر اسے سیاسی فائدے کے لیے پیش کیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملاقاتیں اور بیانات تو دیے گئے لیکن کسی شعبے میں ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ خاص طور پر دفاعی شعبے میں ایس-500 جیسی اہم ٹیکنالوجی، برہموس کے توسیعی منصوبے اور دیگر اسٹریٹجک معاملات پر صرف بات چیت ہوئی لیکن کوئی نیا معاہدہ طے نہ ہو سکا جس سے یہ تاثر ملا کہ بھارت اور روس کے روایتی دفاعی تعلقات جمود کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ مذاکرات کامیاب رہے، مگر عملی طور پر نہ نئی ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر اتفاق ہوا اور نہ کسی بڑے دفاعی پراجیکٹ پر دستخط کیے گئے۔ اپوزیشن کے مطابق توانائی کے شعبے میں بھی روس کی پیشکشوں کے باوجود بھارت کسی حتمی معاہدے پر نہیں پہنچ سکا جبکہ روپے اور روبل میں براہِ راست ادائیگی کا مسئلہ بھی حل نہ ہو سکا جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا توازن اب بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تجارت بڑھانے کی خواہش اپنی جگہ برقرار رہی مگر عملی صورت اختیار نہ کرسکی۔ اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بھارت روس اور مغربی دنیا کے درمیان متوازن پالیسی اپنانے میں کامیاب نظر نہیں آتا جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر بھارت کی پوزیشن غیر واضح ہوتی جا رہی ہے۔ اپوزیشن کے مطابق یوکرین جنگ کے حساس تناظر میں بھارت کو ایک مضبوط اور واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے تھا لیکن یہ دورہ کسی بڑی عالمی سفارتی حکمت عملی کا اشارہ دینے میں ناکام رہا۔ اپوزیشن نے حکومت کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ پیوٹن کا دورہ سفارتی کامیابی ہے، اور کہا کہ اگر یہ دورہ اتنا اہم تھا تو کم از کم ایک بڑا دفاعی یا تجارتی معاہدہ سامنے آنا چاہیے تھا جو کہ نہیں آیا۔ ان کے مطابق یہ دورہ زیادہ تر سیاسی تشہیر اور تصویری بیانیے تک محدود رہا اور بھارت کے عملی مفادات کے لحاظ سے یہ موقع ضائع ہونے کے مترادف ہے۔

  • ناسا کے خلاباز کی فوٹو:روشن نقطے کی مانند چمکا خانہ کعبہ

    ناسا کے خلاباز کی فوٹو:روشن نقطے کی مانند چمکا خانہ کعبہ

    زمین سے تقریباً 400 کلومیٹر دور خلا سے ایک شاندار تصویر میں مکہ مکرمہ سعودی عرب، کی منظر کشی کی گئی ہے جس میں اسلام کا مقدس ترین مقام خانہ کعبہ ایک روشن نقطے کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ ناسا کے خلاباز ڈون پیٹِٹ اپنے چوتھے انٹرنیشنل اسپیس سٹیشن مشن کے دوران خلا میں آرٹ اور فوٹوگرافی کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے یہ شاندار منظرکشی اسٹیشن کی کپولا ونڈو سے ہائی ریزولیشن کیمرہ استعمال کرتے ہوئے کی۔ تصویر میں مکہ شہر پہاڑی وادیوں میں پھیلا دکھائی دیتا ہے جس میں مسجد الحرام مرکزی فریم پر غالب ہے۔ خانہ کعبہ جو سیاہ کسوہ سے ڈھکا ہوا ہے مسلسل فلڈ لائٹس کی بدولت نمایاں نظر آتا ہے۔عوام نے اس تصویر کو حیران کن، روح پرور اور روحانی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے کیونکہ اس کی معنویت اور کشش مسلمانوں کے لیے گہری روحانی اہمیت رکھتی ہے۔

  • بھارت نے فضائی پابندی کے باوجود پاکستان کو سری لنکا کیلئے امدادی اوور فلائٹ کی اجازت دے دی

    بھارت نے فضائی پابندی کے باوجود پاکستان کو سری لنکا کیلئے امدادی اوور فلائٹ کی اجازت دے دی

    بھارت نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستان کے امدادی طیارے کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی حالانکہ دونوں ممالک نے مئی کے تنازع کے بعد سے ایک دوسرے کیلئے فضائی حدود بند کر رکھی ہیں۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان نے سری لنکا میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد امدادی سامان پہنچانے کیلئے اوور فلائٹ کی درخواست دی تھی جسے بھارت نے معمول کی تکنیکی اور سیکیورٹی جانچ کے بعد فوری طور پرمنظور کر لیا۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اجازت صرف اور صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی، اور اس میں کسی قسم کا سیاسی پہلو شامل نہیں۔

    پاکستان کی جانب سے بھیجے جانے والے امدادی پیکیج میں کشتیاں، واٹر پمپ، خیمے، کمبل، خوراک، دوائیں، بچوں کا دودھ اور ایک موبائل فیلڈ اسپتال شامل ہے، جو سری لنکا میں تباہ کن بارشوں کے بعد ریسکیو آپریشنز کیلئے فوری ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔

    بھارت نے بعض میڈیا رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اوور فلائٹ کی اجازت دینے میں کوئی تاخیر یا انکار نہیں کیا گیا، بلکہ درخواست موصول ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر منظوری دے دی گئی تھی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے ماحول میں یہ اقدام خطے میں انسانی ہمدردی کے تقاضوں اور عملی تعاون کی ایک اہم مثال ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قدرتی آفات کی صورتحال میں سیاسی پابندیاں بالآخر نرم پڑ سکتی ہیں۔

  • انڈونیشیا کے وزیردفاع کو راج ناتھ سنگھ نے براہموس کا ماڈل پیش کیا

    انڈونیشیا کے وزیردفاع کو راج ناتھ سنگھ نے براہموس کا ماڈل پیش کیا

    بھارت اور انڈونیشیا کے دفاعی وزراء کا اجلاس آج نئی دہلی میں منعقد ہوا جس میں بھارت کے وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ نے انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سجافری سجمسودین کو سپرسونک کروز میزائل ’براہموس‘ کا ماڈل تحفے کے طور پر پیش کیا۔ ذرائع کے مطابق انڈونیشیا ساحلی دفاع کے لیے براہموس کے کئی رجمنٹ خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس معاہدے کی مالیت 350 سے 800 ملین امریکی ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

    بات چیت کے دوران دونوں وزرائے دفاع نے بحرالکاہل اور بحر ہند خطے کی سکیورٹی صورتِ حال، مشترکہ فوجی مشقوں، تربیت کے تبادلے اور دفاعی صنعت میں تعاون پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت اور انڈونیشیا کی اسٹریٹجک شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے انڈو۔پیسفک خطے کے امن و استحکام کے لیے اہم ہے۔

    انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع نے براہموس میزائل کو دنیا کا تیز ترین اور سب سے قابلِ اعتماد سپر سونک کروز میزائل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے ساحلی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دے گا۔

    واضح رہے کہ فلپائن کے بعد انڈونیشیا براہموس خریدنے والا دوسرا بڑا ملک بننے جا رہا ہے۔ بھارت کی ’میک ان انڈیا‘ پالیسی کے تحت لکھنؤ میں براہموس کی نئی پروڈکشن لائن بھی مکمل ہو چکی ہے جو برآمداتی آرڈرز کو پورا کرنے کے لیے تیار ہے۔

  • دبئی حادثے کے بعد ماہرین کا انتباہ: بھارت میں سیاسی تشہیر ہوابازی کی سلامتی پر بھاری پڑ رہی ہے

    دبئی حادثے کے بعد ماہرین کا انتباہ: بھارت میں سیاسی تشہیر ہوابازی کی سلامتی پر بھاری پڑ رہی ہے

    ایک بھارتی طیارہ دبئی ایئر شو میں گر کر تباہ ہوا، جس کے نتیجے میں پائلٹ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ اگرچہ یہ ایک افسوسناک سانحہ ہے، لیکن یہ واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں۔ یہ بھارتی فضائیہ اور اس کے ہوابازی کے پروگراموں میں موجود گہرے مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔

    اس واقعے نے آپریشنل سیفٹی، مرمت کے معیار، اور دفاعی منصوبوں کے سیاسی فروغ کے بارے میں انتہائی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں ۔ ایسے منصوبے جن میں انسانی جانوں سے زیادہ دکھاوے اور سیاسی بیانیے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ستمبر 2023 تک بھارت 2,374 طیارے کھو چکا ہے، جن میں 1,126 لڑاکا طیارے، سیکڑوں نان فائٹر ایئرکرافٹ، اور 1,300 سے زائد پائلٹس شامل ہیں جو اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔

    بھارتی پارلیمانی رپورٹ ، جو ظاہر ہے کہ بہت محتاط اور محدود ڈیٹا پر مبنی ہوتی ہے، اس میں بھی یہ اعتراف موجود ہے کہ 2017 سے 2022 کے دوران بھارتی فضائیہ میں 34 فضائی حادثات پیش آئے۔ ان میں سے کئی کو انسانی غلطی قرار دیا گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تکنیکی نقائص، ناکافی مرمت، اور پرانے طیارے (جیسے مگ-21) بھی بڑے عوامل ہیں۔

    ایچ اے ایل تیجس، بھارت کا مقامی طور پر تیار کردہ ہلکا لڑاکا طیارہ، جو حادثے میں تباہ ہوا، دراصل خودانحصاری کے سیاسی بیانیے آتمنربھر بھارت کی نمائندگی کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اگرچہ اسے تکنیکی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن اس پروگرام کو ہمیشہ سے اخراجات میں اضافے، ڈیزائن کی خامیوں، تاخیر، اور معیار کے مسائل کا سامنا رہا ہے۔

    متعدد بھارتی اور بین الاقوامی رپورٹس میں کرپشن، بدنظمی، لاگت میں غیر ضروری اضافہ، سب کنٹریکٹرز کو ادائیگیوں کی تاخیر اور غیر ملکی پرزوں پر انحصار جیسے مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مقامی Kaveri انجن کی ناکامی کے باعث تیجس کے لیے آج بھی GE F404 غیر ملکی انجن استعمال کیے جاتے ہیں۔

    بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں کے کئی عوامی بیانات میں تیجس کو ایک سیاسی پروجیکٹ قرار دیا گیا ہے، نہ کہ مکمل طور پر تیار اور قابلِ بھروسہ جنگی طیارہ۔ کچھ ماہرین اسے پرانے حادثہ خیز مگ-21 کی طرح "اڑتا تابوت” بھی قرار دیتے رہے ہیں۔

    تیجس کا یہ حادثہ بین الاقوامی ایئر شوز کے لیے بھی ایک سنگین خطرے کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے ملک کے طیارے جن کا حفاظتی ریکارڈ کمزور ہو، وہ پائلٹس اور تماشائیوں دونوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ ہجوم کے قریب پیچیدہ فضائی کرتب پہلے ہی خطرناک ہوتے ہیں، اور اگر پلیٹ فارم میں تکنیکی خامیاں ہوں تو خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

    عالمی منتظمین اور شراکت دار فضائی افواج کو چاہیے کہ وہ سخت حفاظتی تقاضے، تکنیکی آڈٹ، اور آپریشنل سرٹیفیکیشن کو لازمی بنائیں، اس سے پہلے کہ ایسے طیاروں کو ہائی پروفائل تقریبات میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔

    بغیر ان حفاظتی اقدامات کے، تماشائیوں اور پائلٹس کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

    تیجس کے گرد کھڑا کیا گیا سیاسی بیانیہ، قومی فخر اور خود انحصاری کا دعویٰ انسانی جانوں کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔ بار بار ہونے والے حادثات یہ دکھاتے ہیں کہ وقار اور دکھاوا اصل حفاظت، احتساب، پیشہ ورانہ معیار، اور آپریشنل رسک سے زیادہ اہم سمجھا جانے لگا ہے۔

    شفاف آڈٹ، آزادانہ حفاظتی تحقیقات، اور سخت مرمتی و تربیتی پروٹوکول کی فوری ضرورت ہے۔ ان کے بغیر، بھارت مسلسل ایسے چکر میں پھنسا رہے گا جہاں پائلٹ مرتے ہیں، طیارے ناکام ہوتے ہیں، اور سیاسی بیانیہ ان جانوں اور ساکھ پر غالب رہتا ہے جنہیں یہ بیانیہ تحفظ دینے کا دعویٰ کرتا ہے۔

  • تیجس گرتے ہی ہندوستان ایروناٹکس لیمیٹڈ کے شیئرز ڈھائی فی صد تک گر گئے

    تیجس گرتے ہی ہندوستان ایروناٹکس لیمیٹڈ کے شیئرز ڈھائی فی صد تک گر گئے

    بھارت کے مقامی طور پر تیار کردہ تیجس لڑاکا طیاروں کے دو بڑے حادثات کے بعد اس پروگرام کی کارکردگی اور موجودہ فلیٹ کے سائز پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ بھارتی فضائیہ نے 2016 میں پہلا تیجس طیارہ باقاعدہ طور پر اپنے بیڑے میں شامل کیا تھا۔ بھارتی فضائیہ اور دفاعی صنعت کے ذرائع کے مطابق بھارتی فضائیہ کے پاس چالیس تیجس ایم کے 1 طیارے موجود تھے جن میں سے دو فائٹر غیر فعال ہوچکے ہیں جب کہ اب تک دو تیجس فائٹر تباہ ہوئے ہیں۔ جس کے بعد اس وقت 36 طیارے فعال بیڑے کا حصہ رہ گئے ہیں۔ مارچ 2024 میں راجستھان کے علاقے جیسلمیر میں ایک تربیتی مشن کے دوران پہلا تیجس طیارہ گر کر تباہ ہوا۔ پائلٹ نے محفوظ طریقے سے ایجیکٹ کر لیا۔ ابتدائی تحقیق کے مطابق حادثے کی وجہ انجن سیژر تھا جو آئل پمپ کی خرابی کے باعث پیش آیا۔ دوسرا حادثہ گزشتہ روز دبئی ایئر شو کے دوران پیش آیا جس میں طیارہ ڈیمو فلائٹ کے وقت بارل رول کے بعد کنٹرول کھو بیٹھا اور زمین سے ٹکرا گیا۔ حادثے میں پائلٹ جان کی بازی ہار گیا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق تیجس فائٹر طیاروں کو پیش آنے والے یہ دونوں حادثات بھارتی دفاعی ایوی ایشن کے لیے سنگین دھچکا ہیں کیونکہ تیجس پروگرام کو پہلے ہی تاخیر، لاگت میں اضافے اور تکنیکی مسائل کا سامنا تھا۔ گزشتہ روز ہونے والے حادثے کے بعد بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں تیجس طیارے تیار کرنے والے ادارے ہندوستان ایروناٹکس لیمیٹڈ کے شیئرز ڈھائی فی صد تک گر گئے۔