Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • سکھ یاتریوں کے ساتھ آنے والے12 ہندوؤں کو پاکستان داخلے کی اجازت نہ ملی

    سکھ یاتریوں کے ساتھ آنے والے12 ہندوؤں کو پاکستان داخلے کی اجازت نہ ملی

    ہر سال بھارت سمیت دنیا بھر سے سکھ یاتری بڑی تعداد میں بابا گرونانک کے یوم پیدائش کی تقریبا کے موقع پر پاکستان کا رخ کرتے ہیں

    حکومت پاکستان کی جانب سے بھارت کے سکھ یاتریوں کو بابا گرونانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر اجازت دی جاتی ہے تاکہ سکھ اپنے روحانی پیشوا کے مزار پر پیش ہوکر انہیں خراج عقیدت پیش کر سکیں،سکھ یاتریوں کو سکیورٹی کلیئرنس کے بعد ننکانہ صاحب جانے کی اجازت دی جاتی ہے، پاکستانی امیگریشن حکام نے سکھ یاتریوں کے ساتھ آنے والے 12 ہندؤں کو واپس بھارت بھیج دیا،امیگریشن حکام کے مطابق ان 12 ہندؤں کی جائے پیدائش سندھ تھی، اب وہ بھارتی شہریت لے چکے ہیں،حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں داخلے کی اجازت صرف سکھ یاتریوں کو دی گئی ہے۔

  • بہار انتخابات :عوام پاکستان کی بجائے پٹرول کی قیمت اور نوکری کی تلاش پر بات کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی

    بہار انتخابات :عوام پاکستان کی بجائے پٹرول کی قیمت اور نوکری کی تلاش پر بات کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی ریاست بہار میں ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹنگ 6 نومبر کو ہوگی۔جمعرات کو شروع ہونے والے انتخابات میں دو بڑے پولیٹیکل بلاکس بھرپور طریقے سے حصہ لے رہے ہیں جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سربراہی میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس اور راشٹریہ جنتا دل اور انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت میں گرینڈ الائنس شامل ہیں۔ انتخابی مقابلہ 243 نشستوں پر ہوگا۔ بہار کے انتخابی میدان میں اس بار بھی وہی پرانی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔ اپوزیش کی طرف سے عوامی مسائل، مہنگائی، روزگار اور تعلیم کے سوالات اٹھائے جارہے ہیں جب کہ حکومت کی طرف سے ماضی کی طرح قوم خطرے میں ہے، پاکستان سازش کر رہا ہے اور مودی ہی ملک کو بچا سکتے ہیں، کے نعرے لگائے جارہے ہیں۔ بھارتی اپوزیشن جماعت نیشنل کانگریس کے اہم لیڈر راہول گاندھی نے گزشتہ روز ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وزیرِاعظم نریندر مودی کی سیاسی حکمتِ عملی ہمیشہ سے ایک ہی نکتے کے گرد گھومتی آئی ہے۔ جب عوامی غصہ بڑھے، اقتصادی دباؤ محسوس ہو، یا پارٹی کے اندر اختلافات ابھرنے لگیں تو پاکستان کارڈ سامنے لے آؤ،  یہی کارڈ آج بہار میں دوبارہ کھیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے 2014 میں ملک کو ترقی، روزگار اور شفاف حکومت کا خواب دکھایا تھا لیکن آج گیارہ سال بعد وہی وزیرِاعظم اپنی تقریروں میں زیادہ تر پاکستان، دہشت گردی اور قومی سلامتی پر بات کرتا نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اس حکمت عملی کا مقصد عوامی گفتگو کو مسائل سے ہٹا کر خطرے کی طرف موڑ دینا ہے۔ مودی حکومت کے خلاف سب سے بڑا غصہ روزمرہ زندگی کے دباؤ سے جنم لے رہا ہے۔ مہنگائی نے عام شہری کی کمر توڑ دی ہے، اور نوجوانوں کے پاس روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جس پر مودی حکومت کھل کر بات نہیں کرنا چاہتی کیونکہ اس کے پاس عملی نتائج دکھانے کیلئے کچھ زیادہ نہیں۔ اسی لیے انتخابی جلسوں میں معیشت کی بات کم، پاکستان کی بات زیادہ کی جا رہی ہے۔ مودی کے بہار میں حالیہ بیانات جن میں اپوزیشن پر پاکستان کے ایٹمی خوف سے ڈرنے کا الزام لگایا گیا دراصل اسی پرانی سیاسی تکنیک کی تازہ قسط ہیں۔ یہ ایک جذباتی نکتہ ہے جو ووٹروں کے قومی احساس کو جگاتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا عوام اب بھی ان نعروں سے متاثر ہوتے ہیں، یا ان کی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ اس بار زمینی فضا الگ ہے۔ اب عوام پاکستان کی بجائے پٹرول کی قیمت اور نوکری کی تلاش پر بات کر رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کا کہنا ہے کہ مودی جب سوالوں میں گھرتے ہیں، تو دشمن ملک کی بات کرنے لگتے ہیں۔ مودی اب ایک ایسے مقام پر ہیں جہاں ان کی کامیابی کا بوجھ خود ان کے کندھوں پر ہے۔ اگر وہ ترقی کے وعدوں کی طرف واپس نہ لوٹے تو ان کی سیاست ہمیشہ کے لیے خطرے کے بیانیے پر منحصر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کارڈ نے ماضی میں بی جے پی کو انتخابی فائدہ ضرور دیا۔ مگر موجودہ بھارت میں ووٹر اب کہیں زیادہ باشعور ہے۔ وہ جانتا ہے کہ قوم پرستی کے نعروں سے پیٹ نہیں بھرتا اور دشمن کے نام پر روزگار نہیں ملتا۔ مودی کے پاس اب دو راستے ہیں۔ یا تو وہ ترقی کے اپنے وعدے دوبارہ زندہ کریں یا پھر یہ تسلیم کر لیں کہ ان کی سیاست اب دشمن کے خوف پر چلتی ہے عوامی امیدوں پر نہیں۔ واضح رہے کہ بہار سمیت پورے ملک میں مودی حکومت کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں سب سے نمایاں مہنگائی، بے روزگاری اور کسانوں کی ناراضی سرفہرست ہیں۔ روزمرہ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے نے عام شہری کو متاثر کیا ہے جبکہ نوجوان طبقہ روزگار کے مواقع نہ ملنے سے مایوس ہے۔ کاروباری طبقے میں جی ایس ٹی اور ٹیکس اصلاحات پر ناراضی برقرار ہے۔ جس کی وجہ سے انتخابی نتائج کے بارے میں فوری طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

  • پاکستان کے جوہری تجربات کے بارے میں ٹرمپ کا بیان: فائدہ بھارت کو ہوگا

    پاکستان کے جوہری تجربات کے بارے میں ٹرمپ کا بیان: فائدہ بھارت کو ہوگا

    (خصوصی رپورٹ: خالد محمودخالد)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک مختصر مگر بھاری بیان نے جنوبی ایشیا کی فضا میں سفارتی ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جوہری تجربات کر رہا ہے، جبکہ امریکہ نہیں۔ یہ جملہ بظاہر ایک سیاسی نکتہ لگتا ہے مگر درحقیقت اس کے دور رس سفارتی اثرات ہیں اور ان اثرات سے سب سے زیادہ فائدہ بھارت کو پہنچ سکتا ہے۔

    امریکی سیاست میں ٹرمپ ہمیشہ خوف کا بیانیہ بیچنے کے ماہر رہے ہیں۔ اب جب وہ دوبارہ انتخابی مہم کی تیاری میں ہیں تو انہوں نے عالمی جوہری خطرات کا ذکر چھیڑ کر اپنے حامیوں کو باور کرایا کہ دنیا غیر محفوظ ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر وہ واقعی تشویش ظاہر کر رہے تھے تو انہوں نے بھارت کا نام کیوں نہیں لیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ واشنگٹن آج بھی نئی دہلی کو چین کے مقابلے میں سب سے بڑا اسٹریٹجک اتحادی سمجھتا ہے لہٰذا بھارت کو کسی الزام میں گھسیٹنا امریکی مفادات کے خلاف ہوتا۔ نتیجتاً ٹرمپ کا بیان پاکستان کو دباؤ میں لاتا ہے اور بھارت کو ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

    جب کسی ملک کو خطرہ قرار دے دیا جائے تو اس کے مخالف خودبخود محافظ بن جاتے ہیں۔ٹرمپ کے بیان کے بعد بھارت کو یہ موقع مل گیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف عالمی فورمز پر ایک بار پھر جوہری تحفظ کے نعرے کے ساتھ اپنی مہم تیز کرے۔ بھارت یہ دعویٰ کر سکے گا کہ دہلی ایک ذمہ دار، شفاف اور جمہوری جوہری ریاست ہے جبکہ پاکستان کا نظام غیر واضح اور عسکری کنٹرول میں ہے۔ یہی وہ سفارتی نکتہ ہے جس سے بھارت کو واشنگٹن، پیرس، لندن اور ٹوکیو جیسے دارالحکومتوں میں نرم گوشہ حاصل ہوتا ہے۔

    ٹرمپ کے بیان کے بعد بھارت کے دفاعی اداروں کے لیے ایک نیا موقع پیدا ہو گیا ہے کہ وہ علاقائی خطرے کے نام پر مزید فنڈز اور جدید اسلحہ کی منظوری حاصل کریں۔امریکہ اور یورپ کی بڑی کمپنیوں کے لیے یہ ٹرمپ کا یہ بیان دفاعی مارکیٹ کی توسیع ہے جب کہ یہ بھارت کے لیے دفاعی صنعت کی مضبوطی کا باعث بنے گا۔ امریکی صدر کے بیان سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بھارت کے ساتھ امریکہ کے تعلقات خراب نہیں جب کہ خرابی کادعوی محض دکھاوے کا ایک بیانیہ ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کے ساتھ امریکہ کی بڑھتی ہوئی دوستی اس غبارے کی طرح ہے جس کی ہوا صرف ایک پن کی نوک سے نکل جاتی ہے۔ 

  • افغانستان نے بھارت کو اپنی سر زمین پر فوجی اڈے دینے کا عندیہ دے دیا

    افغانستان نے بھارت کو اپنی سر زمین پر فوجی اڈے دینے کا عندیہ دے دیا

     باغی ٹی وی کو ملنے والی اطلاع کے مطابق افغانستان نے بھارت کو اپنی سرزمین پر فوجی اڈے قائم کرنے کی اجازت دینے کا عندیہ دیا ہے۔ معروف اینکر پرسن اور سینیئر صحافی مبشر لقمان نے اپنے پروگرام کھرا سچ میں بھی یہ خبر بریک کردی ہے۔ دریں اثنا انتہائی معتبر ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ روز بھارتی شہر جیسلمیر میں ہونے والی بھارتی آرمی کمانڈرز کانفرنس میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کانفرنس کے بند کمرے میں ہونے والے سیشن میں سولہ آرمی کمانڈرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ افغانستان کے قائم مقام وزیرخارجہ امیر خان متقی نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ بھارت اگر افغانستان کو دفاعی، انٹیلیجنس اور آبی تعاون فراہم کرے تو افغانستان بھارت کو پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف اپنے فوجی اڈے فراہم کرنے کو تیار ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی حکام نے افغانستان کو پاکستان کے خلاف مکمل سپورٹ فراہم کرنے اور ہر ممکن تعاون کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس ضمن میں بھارت نے کابل حکومت کو نہ صرف فوجی تربیت اور مشترکہ مشقوں کی پیشکش کی ہے بلکہ پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں پر ڈیموں کی تعمیر میں مالی و تکنیکی مدد کا وعدہ بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے جلد ہی افغانستان میں مکمل سفیر تعینات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس اقدام کو خطے میں بھارت کی سفارتی سرگرمیوں کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ اس بات کا اشارہ ہے کہ نئی دہلی کابل حکومت کے ساتھ باضابطہ اور طویل المدتی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔ افغانستان کو دیے گئے بھارتی وعدوں میں کابل، کنار اور دیگر دریاؤں پر ڈیموں کی تعمیر کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ وہی دریا ہیں جو بعد ازاں پاکستان کے دریائے سندھ کے نظام کا حصہ بنتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے افغان ڈیم منصوبوں کی مالی اور تیکنیکی اعانت کرنے سے پاکستان کے لیے پانی کے دباؤ (Hydro Pressure) کا نیا مسئلہ بن سکتا ہے۔ دفاعی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان آئندہ مہینوں میں مشترکہ فوجی مشقوں کے انعقاد کا امکان ہے، جن میں سرحدی آپریشنز، انٹیلیجنس شیئرنگ اور انسداد دہشت گردی کی تربیت شامل ہوگی۔ عسکری مبصرین کے مطابق یہ اقدام جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے اور پاکستان کی مغربی سرحد پر سیکورٹی خطرات میں اضافہ ممکن ہے۔ یہ پیش رفت جنوبی ایشیا میں ایک نئے بھارت-افغان اسٹریٹجک الائنس کی طرف اشارہ کر رہی ہے جس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی سلامتی، پانی کے وسائل اور علاقائی توازن پر مرتب ہوں گے۔

  • بھارت کا رافال منصوبہ پھر بحران کا شکار ، فرانس نے حساس ٹیکنالوجی دینے سے انکار کر دیا

    بھارت کا رافال منصوبہ پھر بحران کا شکار ، فرانس نے حساس ٹیکنالوجی دینے سے انکار کر دیا

    بھارت کا نام نہاد آپریشن سیندور جاری رکھنے کیلئے 114 رافال جنگی طیاروں کا بڑا دفاعی منصوبہ ایک بار پھر سنگین بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ فرانس نے چوبیس ارب ڈالرز کے اس معاہدے میں نئی دہلی کی سخت شرائط خاص طور پر سافٹ ویئر سورس کوڈ کے حصول سے متعلق مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے جب کہ بھارتی وزارت دفاع نے اپنی فضائیہ کو کہا ہے کہ فرانس سے معاہدے کو مکمل کرنے کیلئے دوبارہ پروپوزل دے۔ بھارت نے فرانس کو جو تجاویز دی ہیں اس میں بھارت کا یہ بھی اصرار کہ فرانس رافال کی مکمل ٹیکنالوجی بھارت کو منتقل کرے لیکن فرانس نے بھارت پر واضح کردیا ہے کہ یورپی ممالک حساس نوعیت کے کوڈ کسی تیسرے ملک کے حوالے نہیں کرتے۔ فرانس نے طیاروں کی بھارت میں مقامی تیاری پر تو اتفاق کیا ہے جب کہ اصل ٹیکنالوجی یعنی انجن، ریڈار اور سافٹ ویئر کے کنٹرول مکمل طور پر فرانس کے ہی کنٹرول میں رہیں گے کیونکہ فرانس میں انہیں اپنا “اسٹریٹجک اثاثہ” سمجھا جاتا ہے۔ بھارت کی کوشش ہے کہ اسے رافال کے اویانکس سسٹم اور مشن سافٹ ویئر کا سورس کوڈ ملے تاکہ وہ اپنے مقامی میزائل، بم، اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹم ان طیاروں میں خود شامل کر سکے۔ لیکن فرانس اس پر تیار نہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ بھارت جو حساس نوعیت کی ٹیکنالوجی حاصل کرنا چاہتا ہے وہ دسالت اور تھیلز کمپنیوں کی ملکیتی ہے جب کہ دوسری طرف نیٹو اور یورپی یونین کے ایکسپورٹ کنٹرول قوانین بھی اس ٹیکنالوجی کو کسی دوسرے ملک کو ٹرانسفر کرنے پر پابندی لگاتے ہیں۔ فرانس نے کہا ہے کہ integration support تو دی جا سکتی ہے مگر مکمل سورس کوڈ کی فراہمی ممکن نہیں۔ بھارت یہ بھی چاہتا ہے کہ 114 میں سے کم از کم 80 طیارے میک ان انڈیا اسکیم کے تحت بھارت میں تیار کیے جائیں لیکن فرانس کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں فائنل اسمبلی لائن تو ممکن ہے مگر بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی منتقلی پر بھاری لاگت آئے گی جس سے معاہدے کی قیمت دگنی ہو سکتی ہے اس لئے پہلے 18 سے 24 طیارے فرانس میں بنائے جائیں گے جب کہ باقی طیارے بعد میں بھارت میں مکمل کئے جائیں گے۔ اس وقت یہ معاہدہ تقریباً 24 ارب ڈالر کا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تاخیر سے بھارت کی فضائی قوت پر براہِ راست اثر پڑے گا کیونکہ اس کے کئی اسکواڈرن پہلے ہی ریٹائرڈ ہو چکے ہیں جبکہ چین اور پاکستان دونوں تیزی سے اپنے فضائی بیڑے جدید بنا رہے ہیں۔

    دریں اثنا بھارتی اپوزیشن نے مودی کے میک ان انڈیا دعوے کو کھوکھلا قرا دیتے ہوئے کہا ہے کہ مودی حکومت کا فرانس سے 114 رافال جنگی طیاروں کامنصوبہ بھارت کے لیے ایک سیاسی نعرہ زیادہ اور حقیقی پیش رفت کم دکھائی دیتا ہے۔ حکومت اس منصوبے کو بظاہر اس کی دفاعی برتری کا نیا سنگِ میل قرار دے رہی ہے لیکن یہ محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ بھارت کے دفاعی نظام کی گہرے انتشار کی نشاندہی کرتا ہے۔ یوں “میڈ اِن انڈیا” کا نعرہ ایک بار پھر کھوکھلا ثابت ہوا ہے کیونکہ اگر ٹیکنالوجی کی بنیاد ہی دوسرے ملک کے قبضے میں ہو تو مقامی پیداوار محض اسمبلی لائن کا نام رہ جاتی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت کی دفاعی منصوبہ بندی اس نوعیت کی مشکلات سے دوچار ہوئی ہو۔ ٹیجاس منصوبے کی تاخیر، Kaveri انجن کی ناکامی، اور ایس 400 کی ترسیل میں تاخیر اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ بھارت دفاعی خود انحصاری کے راستے پر محض نعرے لگا رہا ہے، حقیقی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ فرانس کی جانب سے پیدا شدہ رکاوٹ نے نریندر مودی حکومت کے “ویژن 2035 دفاعی منصوبے” پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ بھارت اپنی سیاسی خواہشات کے زیرِ اثر ایسے منصوبے بنا رہا ہے جن کی تکنیکی اور مالی بنیادیں غیر حقیقت پسندانہ ہیں۔ ایک جانب وہ خود کو “عالمی سپر پاور” کہلواتا ہے، مگر دوسری جانب بنیادی پرزہ جات اور ایویونکس سسٹم تک درآمد پر انحصار کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رافال ڈیل کی تاخیر کا سب سے بڑا نقصان بھارتی فضائیہ کو ہو گا جو پہلے ہی پرانے مگ-21 طیاروں کی ریٹائرمنٹ سے کمزور ہو چکی ہے۔ اس دوران چین اور پاکستان اپنے فضائی بیڑوں کو تیزی سے جدید کر رہے ہیں، بالخصوص چین کے J-20 اور پاکستان کے JF-17 Block III کی موجودگی میں بھارتی فضائیہ کے پاس تکنیکی برتری باقی نہیں رہی۔

  • افغانستان  کو اینٹ کا  جواب  پتھر  سے  دیا جا رہا ہے۔ محسن نقوی

    افغانستان کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جا رہا ہے۔ محسن نقوی

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے افغانستان کی جانب سے پاکستانی علاقوں پر بلااشتعال فائرنگ کے واقعات کی پر زور مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں ا نہوں نے کہا کہ افغان فورسز کی شہری آبادی پر فائرنگ بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بہادر فورسز نے فوری موثر جواب دے کر ثابت کیا ہے کہ کسی بھی اشتعال انگیزی کو قعطا برداشت نہیں کیا جائے گا۔محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کی فورسز چوکس ہیں اور افغانستان کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جا رہا ہے۔ اس وقت افغانستان آگ و خون کا جو کھیل کھیل رہا ہے اس کے تانے بانے ہمارے ازلی دشمن سے ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام بہادر مسلح افواج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔محسن نقوی نے کہا کہ افغانستان کو بھی بھارت کی طرح منہ توڑ جواب دیا جائے گا کہ وہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ کی طرف دیکھنے کی جرات نہیں کر سکے گا۔

  • نئی دہلی میں افغان وزیر خارجہ   کی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو شرکت سے روک دیا گیا

    نئی دہلی میں افغان وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو شرکت سے روک دیا گیا

    افغان عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی کی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو شرکت سے روک دیا گیا۔ جمعہ کے روز افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی نے نئی دہلی میں افغان سفارت خانے میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ افغانستان کے تعلقات پر بات کی۔ لیکن اس پریس کانفرنس کا سب سے متنازعہ پہلو یہ سامنے آیا کہ خواتین صحافیوں کو اسے کور کرنے کی اجازت نہ دی گئی۔ امیر خان متقی جو افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد پہلی بار اعلیٰ سطحی مہمان کے طور پر بھارت پہنچے تھے ان کی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کی عدم شرکت نے ایک بار پھر بھارتی میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ اہم بھارتی ٹی وی چینلز کی خاتون صحافیوں سمیت کئی غیرملکی خاتون رپورٹرز کو بھی داخلے سے روک دیا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے افغان طالبان کی مردہ پالیسیوں کا تسلسل قرار دیا ہے جو اب صرف افغانستان تک محدود نہیں بلکہ سرحدوں سے باہر بھی نظر آ رہی ہے۔ ایک بھارتی خاتون صحافی نے کہا یہ صرف ایک کانفرنس کی بات نہیں بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ افغان طالبان کی سوچ اب بھی وہی ہے جو خواتین کو خاموش کرنے پر تلی ہے۔ بھارت جس نے انہیں عزت دی وہاں یہ کیسے ممکن ہوا۔ یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب متقی کی بھارت آمد کو عالمی سطح پر اہم سمجھا جا رہا تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے انہیں خصوصی طور پر بھارت جانے کی اجازت دی تھی۔ ایک اور بھارتی خاتون صحافی نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی حکمرانی کے بعد سے خواتین صحافیوں پر پابندیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کابل میں بھی حکومتی پریس کانفرنسوں سے خواتین کو دور رکھا جاتا ہے اور اب یہ پالیسی بھارت جیسے ملک میں بھی نظر آئی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جیسی جمہوریہ کو ایسی پالیسیوں کی مذمت کرنی چاہیے۔ متقی کا بھارت کا یہ دورہ 16 اکتوبر تک جاری رہے گا جس دوران وہ تاج محل کا بھی دورہ کریں گے اور بھارتی کاروباری برادری سے ملاقاتیں کریں گے۔ تاہم خواتین صحافیوں پر پابندی لگانے کا یہ واقعہ اس دورے کی چمک کو دھندلا دیتا ہے اور طالبان کی عالمی سطح پر تنقید کو مزید ہوا دیتا ہے۔

  • بھارتی سفارتکار کو مولانا فضل الرحمان کا اہم پیغام پہنچایا۔ سینیٹر کامران مرتضی

    بھارتی سفارتکار کو مولانا فضل الرحمان کا اہم پیغام پہنچایا۔ سینیٹر کامران مرتضی

    جمیعت علمائے اسلام کے راہنما سینیٹر کامران مرتضی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی یہ خواہش کہ پاکستان اور بھارت میں رہنے والے تقریباً ڈیڑھ ارب  انسان جو کہ اس وقت سخت تناو کی صورت میں ہیں ان کے اس تناؤ کو ختم کیا جا سکے۔ سینیئر صحافی شوکت پراچہ کے ساتھ ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مولانا کا کہنا ہے کہ اگروہ اس تناو اور کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے کوئی کردار ادا کرسکیں تو یقیناً ایک بہت بڑی بات ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں اسلام آباد میں انہوں نے بھارتی ہائی کمیشن کی ایک سینیئرخاتون سفارتکار دیپتی جھروال سے ملاقات کی ہے اور انہیں مولانا فضل الرحمان کی طرف سے دونوں ملکوں کے عوام اور امن کے قیام کے حوالے سے ایک اچھا پیغام پہنچایا ہے۔مولانا کے پیغام میں بھارتی سفارتکار کو کہا ہے کہ امن اللہ پاک کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے اور اگر وہ او رجمیعت علمائے اسلام  اس سلسلے میں کوئی کردار ادا کرسکے تو ضرور کریں گے۔ یہ ہمارے لئے یہ بہت اعزاز کی بات ہوگی۔ کامران مرتضی نے کہا کہ مولانا کے پیغام میں بھارتی سفارتکار کو بتایا کہ مولانا دونوں ہمسایوں کے درمیان امن چاہتے ہیں کیونکہ ہم ہمسائے تبدیل نہیں کرسکتے۔ مولانا کے پیغام میں واضح کیا کہ اس کشیدہ صورتحال کو جس میں بعض لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملانا بھی شاید پسند نہیں کرتے اور وہ سپورٹس مین شپ بھی بھول جاتے ہیں اسے ہم سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں خاص طور پر ایک سیاسی جماعت کے لیڈر کے طور پر مولانا کے لیے اور میرے لیے ایک سیاسی ورکر کے طور پر یہ بات سخت ناگوار گزر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کا کہنا ہے کہ آج کی سخت کشیدگی میں  بھی ممکن ہے کہ ہم دونوں ملکوں کے عوام کو آپس میں نزدیک لائیں ان کے درمیان میں تناو کو ختم کریں۔ دونوں طرف کی قیادت کو یہ سمجھایا جائے کہ امن میں ہم سب کا مفاد ہے اور لڑائی میں کسی کا بھلا نہیں ہوگا ہم پہلے ہی بہت پیچھے جا چکے ہیں اور مزید پیچھے چلے جائیں گے۔ ہماری منزل جو ہے امن کے راستے سے گزرتی ہے اور اس ملک کی ترقی اور ہمارے ہمسائے کی ترقی میں بھی ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ہم دونوں ملکوں اور ان کے عوام کی ترقی چاہتے ہیں۔ ہم ان کے ایک بہتر سفر کی ابتدا کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جو ریزروویشنز ہیں وہ مودی جی کے حوالے سے ہیں۔ ان کے حوالے سے کچھ ایسی وائبز آتی ہیں جن کو آپ پازٹیو نہیں کہہ سکتے۔ مگر اس کے باوجود جمعیت علمائےاسلام پاکستان کی خواہش ہے اور کوشش ہے کہ ڈیڑھ ارب انسانوں کے درمیان کشیدگی کو کم کیا جائے اور اس میں کوئی کردار اگر ادا ہو سکتا ہے تو ضرورکیا جائے۔

  • مولانا فضل الرحمان کا بھارتی سفارتکار کو امن کا پیغام پہنچایا۔ سینیٹر کامران مرتضی

    مولانا فضل الرحمان کا بھارتی سفارتکار کو امن کا پیغام پہنچایا۔ سینیٹر کامران مرتضی

    جمیعت علمائے اسلام کے راہنما سینیٹر کامران مرتضی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی یہ خواہش کہ وہ پاکستان اور بھارت میں رہنے والے تقریباً ڈیڑھ ارب  انسان جو کہ اس وقت سخت تناو کی صورت میں ہیں ان کے اس تناؤ کو ختم کیا جا سکے۔سینیئر صحافی شوکت پراچہ کے ساتھ ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مولانا کا کہنا ہے کہ اگر اس تناو اور کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے وہ کوئی کردار ادا کرسکیں تو یقیناً ایک بہت بڑی بات ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں اسلام آباد میں انہوں نے بھارتی ہائی کمیشن کی ایک سینیئر سفارتکار دیپتی جھروال سے ملاقات کی ہے اور انہیں مولانا فضل الرحمان کی طرف سے دونوں ملکوں کے عوام اور امن کے قیام کے حوالے سے ایک اچھا پیغام پہنچایا ہے۔ پیغام میں بھارتی سفارتکار کو کہا ہے کہ امن اللہ پاک کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے اور اگر وہ اور جمیعت علمائے اسلام  اس سلسلے میں کوئی کردار ادا کرسکے تو ضرور کریں گے۔ یہ ہمارے لئے بہت اعزاز کی بات ہوگی۔ کامران مرتضی نے کہا کہ مولانا کے پیغام میں ان کو بتایا کہ مولانا دونوں ہمسایوں کے ساتھ امن چاہتے ہیں کیونکہ ہم ہمسائے تبدیل نہیں کرسکتے ان کے درمیان اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ مولانا کے پیغام میں واضح کیا کہ اس کشیدہ صورتحال کو جس میں بعض لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملانا بھی شاید پسند نہیں کرتے اور وہ سپورٹس مین شپ بھی بھول جاتے ہیں اسے ہم سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں خاص طور پر ایک سیاسی جماعت کے لیڈر کے طور پر مولانا کے لیے اور میرے لیے ایک سیاسی ورکر کے طور پر یہ بات سخت ناگوار گزر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کا کہنا ہے کہ آج کی سخت کشیدگی میں  بھی ممکن ہے کہ ہم دونوں ملکوں کے عوام کو آپس میں نزدیک لائیں ان کے درمیان میں تناو کو ختم کریں۔ دونوں طرف کی قیادت کو یہ سمجھایا جائے کہ امن میں ہم سب کا مفاد ہے اور لڑائی میں کسی کا بھلا نہیں ہوگا ہم پہلے ہی بہت پیچھے جا چکے ہیں اور مزید پیچھے چلے جائیں گے۔ ہماری منزل امن کے راستے سے گزرتی ہے اور اس ملک کی ترقی اور ہمارے ہمسائے کی ترقی میں بھی ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ہم دونوں ملکوں اور ان کے عوام کی ترقی چاہتے ہیں۔ ہم ان کے ایک بہتر سفر کی ابتدا کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جو ریزروویشنز ہیں وہ مودی جی کے حوالے سے ہیں ان کے حوالے سے کچھ ایسی وائبز آتی ہیں جن کو آپ پازٹیو نہیں کہہ سکتے۔ مگر اس کے باوجود جمعیت علمائےاسلام پاکستان کی خواہش ہے اور کوشش ہے کہ ڈیڑھ ارب انسانوں کے درمیان کشیدگی کو کم کیا جائے اور اس میں کوئی کردار اگر ادا ہو سکتا ہے تو ضرور کیا جائے۔

  • اردو الفاظ استعمال کرنے پر بھارتی  ٹی وی چینلز کو نوٹسز

    اردو الفاظ استعمال کرنے پر بھارتی ٹی وی چینلز کو نوٹسز

    بھارت کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے متعدد ہندی نیوز چینلز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی نشریات میں اردو الفاظ کے بے جا استعمال سے گریز کریں۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ان چینلز کی نشریات میں اردو الفاظ کا تناسب تقریباً تیس فیصد پایا گیا ہے، جو کہ "ہندی نیوز چینل” کے دائرے سے باہر سمجھا جا رہا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا کہ ہندی چینلز روزمرہ گفتگو میں تشریف رکھیے یا سیلاب جیسے الفاظ بولتے ہیں، جنہیں عام ہندی بولنے والا سمجھ نہیں پاتا۔ یہ نوٹس کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک (ترمیمی) قواعد 2025 کے تحت بھیجے گئے ہیں۔ وزارت نے چینلز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک زبان ماہر (Language Expert) تعینات کریں، جو ان کی نشریات کا مسلسل جائزہ لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ عوام کے لئے زبان سادہ، قابلِ فہم اور زیادہ سے زیادہ ہندی الفاظ پر مبنی ہو۔ ادھر میڈیا اداروں نے اس اقدام پر ملا جلا ردعمل دیا ہے۔ کچھ اداروں نے کہا کہ ہندی اور اردو الفاظ کا ملاپ صدیوں سے روزمرہ بول چال کا حصہ ہے اور عوام ان کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ ایک سینئر اینکر نے کہا کہ اردو اور ہندی کا فاصلہ پیدا کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔ ہمارے بیشتر جملے ایسے ہیں جن میں دونوں زبانوں کے الفاظ شامل ہوتے ہیں۔ ہندی اور اردو میں الفاظ کی شراکت اتنی گہری ہے کہ کسی بھی خبر یا تقریر کو "خالص ہندی” یا "خالص اردو” میں ڈھالنا مشکل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام زبان کو "مصنوعی طور پر محدود” کرنے کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔