Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • نوری ویزاکے حامل363 پاکستانی7 ستمبر کی بجائے اب 15 ستمبر کو واپس بھارت جائیں گے

    نوری ویزاکے حامل363 پاکستانی7 ستمبر کی بجائے اب 15 ستمبر کو واپس بھارت جائیں گے

    پاکستان نے(نواوبلیگیشن ریٹرن ٹو انڈیا) نوری ویزا کے حامل پاکستانیوں کی بھارت واپسی کاشیڈول تبدیل کر دیا۔ 363 نوری ویزاکے حامل پاکستانی7 ستمبر کی بجائے اب 15 ستمبر کو واپس بھارت جائیں گے۔ کورونا وائرس اور پاک بھارت سرحدیں بند ہونے کے باعث پاکستان میں پھنسے نوری ویزا والوں کے ساتھ مقیم 37 بھارتی شہری بھی واپس چلےجائیں گے۔اس سلسلے میں وزارت خارجہ نے واہگہ بارڈرخصوصی طور پر کھولنے کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا۔ وزارت داخلہ نے ڈی جی رینجرز پنجاب کوبھی خط بھیج دیا۔ نوری ویزا ہولڈرایسے پاکستانی ہیں جو طویل مدتی ویزا پر بھارت میں مقیم ہیں۔ لیکن ان پاکستانیوں کو ابھی تک بھارتی شہریت نہیں دی گئی۔ ایسے افرادکو واپس پاکستان آنے کے لیے بھارتی حکومت نواوبلیگیشن ریٹرن ٹو انڈیا کا ویزا جاری کرتی ہے۔ نوری ویزا والوں میں زیادہ تر افراد کا تعلق ہندو کمیونٹی سے ہے۔جب کہ کچھ ایسی مسلمان خواتین بھی شامل ہیں جن کی شادی بھارت میں ہوئی۔ یہ لوگ مارچ میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے واپس پاکستان آئے تھے۔

  • شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کی اہم میٹنگ 30 نومبر کو نئی دہلی میں ہوگی

    شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کی اہم میٹنگ 30 نومبر کو نئی دہلی میں ہوگی

    شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کی اہم میٹنگ 30 نومبر کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہوگی جس کی میزبانی چئیرمین کونسل بھارت کرےگا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے سیکرٹری (ویسٹ)وکاس سروپ نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ میٹنگ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے8رکن ممالک کے سربراہان حکومت شرکت کریں گے۔ رکن ممالک میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ چین، روس، کرغستان، تاجکستان، ازبکستان اور قازقستان شامل ہیں۔ بھارت کی چئیرمین شپ میں کونسل کی یہ آخری میٹنگ ہو گی جس میں آئندہ چئیرمین کا انتخاب بھی کیا جائے گا۔ بھارتی دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان اور چین سمیت تمام رکن ممالک کو میٹنگ میں شرکت کے دعوت نامے اس سال کے شروع میں ہی بھجوا دئیے گئے تھے۔ پاکستان میں اس وقت کے بھارتی ہائی کمشنراجے بساریہ نے بھارتی حکومت کی طرف سے پاکستان کو دعوت نامہ دے دیا تھا۔ کورونا وائرس کے باعث یہ میٹنگ ورچوئل ہو گی یا تمام سربراہان نئی دہلی پہنچیں گے اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ اس وقت پاکستان اور چین کے ساتھ بھارت کے تعلقات میں کشیدگی عروج پر ہے۔ ان حالات میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا کونسل کی میٹنگ میں شرکت کے لئےبھارت کادورہ ممکن ہو گا یا نہیں اس حوالے سے باغی ٹی وی نے دفتر خارجہ کے اعلی حکام سے رابطہ کیا تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی جواب نہیں دیا۔

  • چینی سفیر یاؤ جنگ وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات

    چینی سفیر یاؤ جنگ وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات

    پاکستان میں تعینات چینی سفیر یاؤ جنگ نے ‏چینی سفارت خانہ میں متعین ایگریکلچر کمشنر گو وین لینگ کے ہمراہ وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں، فارمز ایسوسی ایشن کے صدر آفاق ٹوانہ اور چیرمین نیسلے سید یاور علی بھی وزیر خارجہ کی خصوصی دعوت پر شریک ہوئے۔ ملاقات میں پاک چین اقتصادی راہداری اور زراعت کے شعبے میں دو طرفہ تعاون کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گی۔ وزیرخارجہ نے اس موقعہ پر کہا کہ زراعت کے شعبہ میں اصلاحات, ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میرے حالیہ دورہ چین کے دوران چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کے ساتھ ہونیوالی ملاقات میں زرعی شعبے میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کے حوالے سے خصوصی گفتگو ہوئی ہم سی پیک کے دوسرے مرحلے میں زراعت سے متعلقہ منصوبوں کی جلد تکمیل کیلئے پر عزم ہیں۔وزیر خارجہ نے پاکستان میں ٹڈی دل حملے کے بعد چین کی جانب سے زرعی ادویات، مشینری اور ڈرونز کی بروقت فراہمی پر چینی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ دوران ملاقات زرعی شعبے سے متعلقہ تحقیق، لائیو اسٹاک، ہارٹی کلچر، ماہی گیری سمیت مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ پر بھی تفصیلی تبادلہ ء خیال ہوا۔ چینی سفیر نے کہا کہ چین، پاکستان میں عنقریب دو "فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز سینٹر” قائم کرے گا۔ چینی سفیر نے وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان میں عنقریب ایگریکلچر سے متعلق دس ٹیکنالوجی سینٹرز قائم کرے گا اور اپنے ماہرین کی ایک ٹیم بھی پاکستان جلد روانہ کریگا –

  • بھارت کے مختلف شہروں میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہری واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ گئے

    بھارت کے مختلف شہروں میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہری واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ گئے

    کورونا وائرس لاک ڈاون اور پاک بھارت سرحدیں بند ہونے کے باعث بھارت کے مختلف شہروں میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہری واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ گئے۔ بھارت میں پھنسے ہوئے 200 پاکستانی شہریوں کو بھارتی حکومت نے پاکستان واپس جانے کی اجازت دی تھی۔ پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کے لئے واہگہ بارڈر ایک بار پھر خصوصی طور پر کھولا گیا۔ پاکستانی شہری بھارت میں مختلف شہروں گجرات۔مہاراشٹر۔مدھیہ پردیش ۔دہلی۔ راجھستان میں پھنسے ہوے تھے۔نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کی کوششوں کی وجہ سے مذکورہ پاکستانیوں کی وطن واپسی ممکن ہورہی ہے۔

  • اپنی اور حکومت پاکستان کی طرف سے فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کی پر زور مذمت کرتا ہوں۔ شاہ محمود قریشی

    اپنی اور حکومت پاکستان کی طرف سے فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کی پر زور مذمت کرتا ہوں۔ شاہ محمود قریشی

    اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف ردعمل کے طور پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا اہم ویڈیو پیغام۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی طرف سے اور حکومت پاکستان کی طرف سے فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کی پر زور مذمت کرتا ہوں. ان کے شایع کردہ گستاخانہ خاکوں کی وجہ سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے. لوگ مشتعل ہیں اس بلاجواز حرکت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے. ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسلاموفوبیا، نسل پرستی، اور زینوفوبیا کا رحجان دنیا میں بڑھتا چلا جا رہا ہے. انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہر عالمی فورم پر اس مسئلے کی نشاندہی کی۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھی اس معاملے کی نشاندہی کی اور دنیا سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کا تدارک ہونا چاہیے۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر، مل بیٹھ کر یہ سوچنا چاہیے کہ ایسے رحجانات کو کیسے روکا جائے جو دوسروں کے جذبات مجروح کرتے ہوں،اور ان کے خلاف بند کیسے باندھا جائے؟ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے ہم آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتےہیں۔لیکن آزادی اظہار رائے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے ہاتھ دوسروں کی دل آزاری کا لائسنس آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ عالمی برادری فی الفور اس مسئلے کا تدارک کریگی اور ایسے رحجانات کی بیخ کنی کرےگی۔ حکومت پاکستان نے حکومت فرانس کو اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا ہے۔ ہم نے اپنے جذبات، حکومت فرانس تک ان کے سفیر کے ذریعے پہنچا دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں توقع کرتا ہوں کہ نہ صرف ایسی گستاخانہ حرکت نہ دہرائی جائے بلکہ جنہوں نے یہ حرکت کی ہے انہیں کٹہرے میں لایا جائے

  • کلبھوشن کیلئے وکیل مقرر کرنے کا معاملہ: بھارتی سفارت خانے نے کوئی جواب نہیں دیا

    کلبھوشن کیلئے وکیل مقرر کرنے کا معاملہ: بھارتی سفارت خانے نے کوئی جواب نہیں دیا

    کلبھوشن کیلئے قونصل کی تقرری کے معاملے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کل ہو گی۔سماعت لاجر بنچ پر مشتمل چیف جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کریں گے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن کیلئے وکیل مقرر کرنے کے حکم نامے پر بھارتی سفارت خانے نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ہائیکورٹ نےگزشتہ سماعت پر عدالتی معاونت کیلئے وکلا مقرر کر دیے تھے۔تاہم عدالتی معاونین عابد حسین منٹو، حامد خان، مخدوم علی خان، اٹارنی جنرل نے بھی کوئی جواب داخل نہیں کرایا۔ہائی کورٹ نے گزشتہ سماعت میں عدالت نے معاونین عدالت سے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں معاونت کرنے کا حکم دیا تھا۔واضح رہے کہ کل کی سماعت وزارت قانون کی جانب سے دائر درخواست بھارتی جاسوس کلبوشن جادیو کیلئے وکیل مقرر کرنے کیلئے ہے۔گزشتہ سماعت پر عدالت نے حکومت پاکستان کو ایک بار پھر کمانڈر جادیو کے حقوق کیلئے بھارت سے رابطہ کرنے کا حکم دیا تھا۔آج ہائی کورٹ کے اوقات کار کے وقت میں بھارتی ہائی کمیشن نے کوئی وکالت نامہ جمع نہیں کرایا۔ کل کلبوشن جادیو کیس پر سماعت کے لئے ہائی کورٹ نے سیکورٹی پلان جاری کر دیا،

  • معطل سارک چیمبر آف کامرس کی بحالی کے لئے سارک کے تمام رکن ممالک سے بات کروں گا۔ سیکرٹری جنرل سارک تنظیم

    معطل سارک چیمبر آف کامرس کی بحالی کے لئے سارک کے تمام رکن ممالک سے بات کروں گا۔ سیکرٹری جنرل سارک تنظیم

    سارک تنظیم کے سیکرٹری جنرل ایسالہ رووان ویراکون نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ جلد ہی معطل کی جانے والی سارک چیمبر آف کامرس کی قانونی حیثیت کی بحالی کے لئے سارک کے تمام رکن ممالک سے بات کریں گے۔

    سری لنکا سے تعلق رکھنے والے ایسالہ رووان ویراکون جنہوں نے اس سال مارچ میں سارک کی مرکزی تنظیم کے 14 ویں سیکرٹری جنرل کے عہدے کا چارج سنبھالا۔ انہوں نے سارک چیمبر کے رکن ممالک کے بعض تاجروں کے ایک وفد سے ورچوئل ملاقات میں یقین دلایا ہےکہ وہ سارک کے تمام رکن ممالک سے رابطہ کریں گے اور تمام ممالک کے وزرائے تجارت کی کانفرنس کروانے کے لئے کوشش کریں گے جس میں سارک چیمبر آف کامرس کوکام کرنے کی اجازت دئے جانے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سارک رکن ممالک کے وزرائے تجارت کا اجلاس گزشتہ کئی سال سے منعقدنہیں ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق اب تک بھارت سمیت کئی رکن ممالک نے سارک چیمبرآف کامرس کے سالانہ واجبات بھی ادا نہیں کئے۔ پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق اس وقت آئندہ دو سال کے لئے سارک چیمبر آف کامرس کی صدارت

    پاکستان کے پاس ہے اور معروف تاجر افتخار علی ملک چیمبر کے صدر کی حیثیت سے اس سال مارچ میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں لیکن سارک تنظیم میں موجود بھارت کے حامی رکن ممالک کی لابی نے بھارتی دباو کے باعث دل سے پاکستان کی صدارت قبول نہیں کی۔ ماضی میں یہ روایات رہی ہیں کہ سارک چیمبر آف کامرس کی قانونی مدت پوری ہونے کے باوجود تمام رکن ممالک کے تاجروں کے معمول کے کام جاری رکھے جاتے تھےاور کاروباری سرگرمیاں بھی زوروشور سے جاری رہتی تھیں جب کہ سارک تنظیم کی طرف سے سارک چیمبر آف کامرس کی سرگرمیوں پرکسی قسم کی پابندی بھی نہیں لگائی جاتی تھی لیکن اس مرتبہ سارک تنظیم کے سیکرٹری جنرل نےاپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے سارک چیمبرآف کامرس کو معطل کر کے مکمل طور پر غیر فعال کر دیا ہے اور اس کے عہدیداروں کو سارک کا نام استعال کرنے سے بھی روک دیاگیا ہے جس کے باعث سارک چیمبر آف کامرس کے صدرافتخار علی ملک سمیت تمام عہدیدار معطل ہو گئے ہیں۔ سارک تنظیم کے سیکرٹری جنرل پر کئی ممالک بھارت نواز ہونے کا الزام بھی عائد کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ سارک چیمبر آف کامرس کو کام کرنے کی اجازت نہیں دے رہے اور تمام رکن ممالک کے وزرائے تجارت کا اجلاس نہ ہونے کا بہانہ بنا رہے ہیں۔ سارک چیمبرز آف کامرس کے صدر افتخار علی ملک کی قیادت میں ایک وفد نے حال ہی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی اور ان سے معاملے کو اعلی سطح پر اٹھانے کا مطالبہ کیا لیکن بھارت اس وقت سارک کا نام بھی سننا گوارہ نہیں کررہا بلکہ اس کے برعکس خلیج بنگال کے ساتھ بسنے والے ممالک کی نمائندہ تنظیم BIMSTEC پر زیادہ توجہ دے رہا ہے جس میں بھارت کے علاوہ بنگلہ دیش، برما، بھوٹان، نیپال، سری لنکا اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔

  • چین نے گالوان ویلی سے اپنی فوجیں نہ ہٹانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، باغی ٹی وی کی خصوصی رپورٹ

    چین نے گالوان ویلی سے اپنی فوجیں نہ ہٹانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، باغی ٹی وی کی خصوصی رپورٹ

    پیپلز ری پبلکن آرمی نے گالوان ویلی میں زیر زمین فائبر آپٹک تاروں کا جال بچھا دیا ہے۔ اس سلسلے میں زیر زمین سرنگ کے راستے انتہائی تیزی سے کام کیا گیچین نے گالوان ویلی سے اپنی فوجیں نہ ہٹانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ بیجنگ میں انتہائی قابل اعتماد ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پیپلز ری پبلکن آرمی نے گالوان ویلی میں زیر زمین فائبر آپٹک تاروں کا جال بچھا دیا ہے۔ اس سلسلے میں زیر زمین سرنگ کے راستے انتہائی تیزی سے کام کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ کام پینگانگ لیک کے علاقے میں کیا گیا۔ اور اطلاعات یہ بھی ہیں کہ چین سرنگ کو مزید آگے لے جانے کے لئے بھی تیزی سے کام کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت کو چین کی ان تمام تیاریوں کا علم اس سال کے شروع میں ہوا تھا تاہم بھارت کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ایک ایسے علاقے میں جہاں نہ تو شہری آبادی زیادہ ہے اور نہ ہی مواصلاتی رابطوں کو بڑھانے کی کوئی خاص ضرورت ہے چین فائبر آپٹک تاروں کی تنصیب کیوں کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق چین کا اس علاقے میں فائبر آپٹک تاروں کی تنصیب کا اہم مقصد یو اے وی ڈرونز ( Unmaned Aerial Vehicals Drones) کا بھرپور آغاز اور استعمال کرنا ہے جن کو اسی فائبر آپٹک کیبل کے جال سے کنٹرول کی جائے گا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ علاقے میں چینی فوج کے جوانوں کو آنے والے سخت سردی کے موسم میں کم سے کم ڈیوٹیاں دی جائیں گی جب کہ ان کی جگہ ڈرونز کا استعمال کثرت سے ہوگا۔ بھارت کو اس بات کا اندازہ ہے کہ سخت سردی کے موسم جنگ کرنا مشکل ترین کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت ایل اے سی پر تعینات اپنی تیس ہزار کے قریب فوج کو سخت سردی برداشت کرنے کے قابل بنا رہا ہے اوراس مقصد کے لئےایک خطیر رقم بھی خرچ کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے ایم 777 طیارہ شکن توپیں، ٹی 90 میزائل فائرنگ ٹینک اور کندھے پر رکھ کر چلانے والا جدید ترین اینٹی ٹینک میزائل سسٹم ایل اے سی کی قریبی چوکیوں پر پہنچا دیا ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی فضائیہ کےسی 17ہیوی لفٹرز کے ساتھ ساتھ اپاچی اٹیک ہیلی کاپٹرز اورسی 130 سپیشل آپریشنز ائرکرافٹ اوربھارتی بحریہ کے سرویجلنس طیاروں کو بھی قریبی علاقوں میں پہنچا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت کی کوشش ہے کہ اگر چین نے علاقے سے فوجیں واپس نہ بلائیں تو آنے والے سردی کے موسم میں فوجی طریقہ استعمال کرکے اپنی برتری ثابت کرے اورگالوان ویلی کا علاقہ جہاں کبھی بھارت کا مکمل کنٹرول ہوا کرتا تھا ایک بار پھر سے اس کا کنٹرول بحال ہو جائے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت جنگ کے موڈ میں ہے لیکن چین کے مقابلے میں اس کی پوزیشن بے حد کمزور ہے۔ 

    An M114 155 mm Howitzer in firing position.

  • بھارت میں پھنسے ہوئے 200 پاکستانی شہریوں کی 3 ستمبر کووطن واپسی

    بھارت میں پھنسے ہوئے 200 پاکستانی شہریوں کی 3 ستمبر کووطن واپسی

    کورونا وائرس لاک ڈاون اور پاک بھارت سرحدیں بند ہونے کے باعث بھارت کے مختلف شہروں میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کی فریاد سنی گئی۔ بھارت میں پھنسے ہوئے 200 پاکستانی شہریوں کی 3 ستمبر کوواپسی ہو گی۔ پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی اٹاری واہگہ بارڈر کے راستے ہو گی۔ واہگہ بارڈر ایک بار پھر خصوصی طور پر کھولا جائے گا۔ پاکستانی شہری بھارت میں مختلف شہروں گجرات۔مہاراشٹر۔مدھیہ پردیش ۔دہلی۔ راجھستان میں پھنسے ہوے تھے۔نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کی کوششوں کی وجہ سے مذکورہ پاکستانیوں کی وطن واپسی ممکن ہورہی ہے۔

  • 110سالہ خاتون نے کورونا وائرس کو شکست دے دی

    110سالہ خاتون نے کورونا وائرس کو شکست دے دی

    بھارتی ریاست کیرالہ کے ملاپورم ضلع سے تعلق رکھنے والی 110 سالہ خاتون نے وبائی مرض کورونا کو شکست دے کر بھارت کی پہلی سب سے بوڑھی صحت یاب ہونے والی خاتون کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق خاتون جس کا نام رندتھنی واریاتھ پاتھو ہے۔ 18 اگست کو سرکاری میڈیکل کالج اسپتال میں داخل کرایا گیا تو اس کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا۔ اسے فوری طور پر انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کر دیا گیا جہاں اس خاتون نے اپنے علاج کے لئے ڈاکٹروں کا بھرپور ساتھ دیا اور اپنی بیماری کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ مسلسل علاج کے بعد گزشتہ روز اس کا دوبارہ ٹیسٹ کیا گیا تو وہ منفی آگیا جس کے بعد اس خاتون کوہسپتال سے فارغ کر کے گھر بھیج دیا گیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس خاتون کو کورونا وائرس اس کی بیٹی سے منتقل ہوا۔ اس کی بیٹی گھر پر ہی زیرعلاج تھی جو کہ اب صحت یاب ہو چکی ہے۔ کیرالہ کے وزیر صحت کے کے شیلجا نے 110 سالہ خاتون کے کورونا کو شکست دینے کو بڑا واقعہ قرار دیتے ہوئے اسپتال کے ڈاکٹروں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ وزیر صحت نے خاتون کو صحت یاب ہونے پر پھولوں کا گلدستہ بھی بھجوایا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ خاتون کی مزید چند دن خصوصی دیکھ بھال کی جائے گی اور ایک ڈاکٹر روزانہ اس کے گھر جا کر اس کا چیک اپ کرے گا۔