Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • شہریار آفریدی کا کشمیری صحافیوں کی قربانیوں اور دلیرانہ رپورٹنگ کو خراج تحسین

    شہریار آفریدی کا کشمیری صحافیوں کی قربانیوں اور دلیرانہ رپورٹنگ کو خراج تحسین

    پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے پیر کو فاشسٹ ہندوستانی حکومت کی دھمکیوں اور پابندیوں کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں دلیرانہ اور بے باک صحافت پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔ شہریار آفریدی نے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔ کشمیری میڈیا کے وفد میں محمد اشرف وانی ، غلام نبی بیگ ، رئیس احمد ، ہلال احمد ، شبیر حسین اور ظہور احمد صوفی شامل ہیں۔ اس موقع پر شہریار آفریدی نے کشمیری فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرا کو پیٹر میکلر ایوارڈ جیتنے پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہندوستانی حکومت نے مسرت زہرہ کے خلاف انسداد دہشت گردی کے الزامات کے تحت ایک مقدمہ درج کیا ہے لیکن بہادر صحافی نے جھکنے سے انکار کرکے صحافتی اقدار کا پاس رکھا ہے۔
    شہریار آفریدی نے حال ہی میں پلٹزر ایوارڈ جیتنے والے مختار خان ، ڈار یاسین اور چنی آنند سمیت دیگر کشمیری صحافیوں کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری صحافی مقبوضہ وادی میں بھارتی جبر و استبداد کے ذریعے مظلوم کشمیریوں کی نسل کشی کو دنیا کے سامنے ایکسپوز کررہی ہے. انہوں نے کہا کہ ہندوستانی حکومت کشمیر میں جاری جنگی جرائم چھپانے کیلئے ڈھونگ کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے اور کشمیری صحافی سچائی سامنے لانے کیلئے فقیدالمثال قربانیاں دے رہے ہیں۔
    شہریار آفریدی نے کہا کہ درجنوں کشمیری صحافیوں کو ہراساں کرنے کی غرض سے پولیس تھانوں اور مقامی پولیس کے محکمہ فوجداری تحقیقات میں طلب جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کوششیں صرف آزاد صحافت پر بندشیں لگانے کے لئے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ کشمیر میں صحافیوں کے خلاف پہلی انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آر) کا اندراج اظہار رائے کےحق کوروکنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یو اے پی اے جیسے مکروہ قوانین کے ذریعہ صحافیوں کوہراساں کرنے اوردھمکانے سے خوف اور انتقام کی فضا پیدا کی جارہی ہے۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کام کرنے والے صحافی گمنام ہیرو ہیں جو بھارتی قبضے کی مذمت کرتے ہوئے دنیا کو کشمیر کے بارے میں حقیقت بتا رہے ہیں۔
    گوہر گیلانی اور مسرت زہرہ کے خلاف کشمیر سے متعلق حقائق سامنے لانے کے جرم پر دہشت گردی (یو اے پی اے) کے کیسز بنائے گئے۔ ایک اور صحافی قاضی شبلی کو صرف شوپیاں میں جعلی مقابلے کے حقائق کو اجاگر کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ صحافی آصف سلطان برہان وانی پر ایک تحریر لکھنے پرتقریبادوسال سے غیرقانونی نظربند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر پولیس کے محکمہ انسداد انٹیلی جنس کے ذریعہ روزانہ کی بنیاد پر درجنوں صحافی طلب کیے جاتے ہیں اور وہ اپنے ذرائع ظاہر کرنے پرمجبور کئے جاتے ہیں۔یہ سب صرف صحافیوں پر دباؤ ڈالنے کے لئے ہے کہ وہ کشمیر میں جاری نسل کشی کے بارے میں حقائق کی اطلاع نہ دیں۔ آفریدی نے کہا کہ فاشسٹ ہندوستانی حکومت کو یہ سمجھنا چاہئے کہ کشمیری صحافیوں کو دباؤ کا نشانہ بنانے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ اس فاشسٹ طرز عمل سے کشمیری صحافیوں کو حقائق کو منظرعام پر لانے کے لئے مزید ہمت اور توانائی ملے گی۔

    انہوں نے عالمی صحافتی تنظیموں جیسی کمیٹی برائے پروٹیکٹ جرنلسٹس ، انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس ، انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس ، جرنلسٹس ودآؤٹ بارڈرز اور دیگر عالمی صحافتی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ کشمیری صحافیوں کو ہراساں کئے جانے کا نوٹس لیں اور اس مقبوضہ کشمیر میں جاری صحافتی بندشوں کے خاتمے کے لئے کارروائی کریں۔

  • پانچ ماہ گزرنے کے بعد تبلیغی جماعت کے معاملات بھارتی حکومت کے لئے سفارتی سردرد بن گئے

    پانچ ماہ گزرنے کے بعد تبلیغی جماعت کے معاملات بھارتی حکومت کے لئے سفارتی سردرد بن گئے

    بھارت میں کورونا وائرس کے آغاز میں مارچ میں بھارتی حکومت کی طرف سے نئی دہلی میں اپنے مرکزی دفتر میں رہائش پذیر دنیا کے 45 ممالک سے آئے ہوئے تبلیغی جماعت کے تمام ارکان کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دینے کے پانچ ماہ بعد بھی یہ معاملہ مودی حکومت کے لئے سفارتی سر درد بن رہا ہے۔ بھارتی وزارت داخلہ امور نے اس سال مارچ میں حکم دیا تھا کہ تبلیغی جماعت کے ارکان بھارت میں کورونا پھیلانے کے مرتکب ہو رہے ہیں ان میں تقریبا 45 ممالک کے 2،550 انتہائی راسخ العقیدہ اسلامی مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے اب بھی تحویل میں ہیں۔ نئی دہلی میں موجود سفارت کاروں نے بتایا ، کہ متعدد ممالک نے بھارت میں اپنے شہریوں کی مسلسل تحویل پر
    بھارتی دفتر خارجہ کی سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
    گزشتہ ہفتے کے آغاز میں بنگلہ دیش کے سیکرٹری خارجہ مسعود بن مومن نے کہا تھا کہ انہوں نے بدھ کے روز ڈھاکہ کے دورے پر آئے ہوئے بھارتی سیکرٹری خارجہ ہارش شرنگلا سے ملاقات کرتے ہوئے بھارت میں تقریبا 173 بنگلہ دیشی تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد کا معاملہ اٹھایا تھا اور ان سے ان کی جلد واپسی کامطالبہ کیا تھا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے بنگلہ دیش کی حکومت خاصی پریشان ہے کیوں کہ بھارت میں موجود ان بنگلہ دیشی ارکان کی اکثریت کے پاس پیسے ختم ہو چکے ہیں اور ان کے پاس بنگلہ دیش واپس جانے کے لئے پانچ سے دس ہزار روپے بھی موجود نہیں۔
    بھارت دفتر خارجہ کے مطابق بنگلہ دیش کے سیکرٹری خارجہ نے بھارتی خارجہ سیکرٹری سے ملاقات کے دوران تسلیم کیا کہ ان کے کچھ شہری وطن واپس لوٹ چکے ہیں تاہم ابھی تک بھارت میں باقی موجود بنگلہ دیشی افراد کی جلد واپسی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستو نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے لگ بھگ 550 غیر ملکی اب تک بھارت سے واپس جا چکے ہیں ، جب کہ عدالتوں کے ذریعہ 1،030 افراد کو بھارت سے جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ نئی دہلی میں موجود انڈونیشیا اور ملائشین سفارتکاروں نے بھی تبلیغی جماعت میں شامل اپنے شہریوں کی واپسی کے لئے بھارت پر دباو بڑھا رکھا ہے۔انہوں نے یہ معاملہ آسیان کے حالیہ اجلاس میں بھی اٹھایا تھا حالانکہ آسیان کے اجلاس میں اس طرح کے معاملات شاذ و نادر ہی اٹھائے جاتے ہیں۔ نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے نے بتایا کہ اس نے تقریبا چھ امریکی شہریوں کی گرفتاریوں پر بھارتی حکومت سے رابطہ کیا ہے اور بھارتی حکومت پر واضح کیا ہے کہ بھارت میں موجود امریکی شہریوں کی حفاظت بھارتی محکمہ خارجہ کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ امریکی سفارتخانہ ان متعددشہریوں سے رابطے میں ہے جنھیں تبلیغی جماعت کے معاملے میں بھارتی حکام نے گرفتار کیا تھا۔ نئی دہلی میں موجود دیگر کئی دوسرے ممالک کے مشنوں نے کہا کہ ان کے کئی شہریوں نے تبلیغی جماعت میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔ وہ صرف نئی دہلی میں موجود تھے انہیں بھی مودی حکومت نے کورونا کے پھیلانے کے الزام میں تحویل میں رکھا ہوا ہے۔ برازیل کے سفارت خانے کے مطابق 22 مارچ کو وزیر اعظم نریندر مودی کے اعلان کردہ "جنتا کرفیو” کی وجہ سے دہلی سے ان کی پرواز منسوخ ہونے پر ان کے چار شہری بھارت میں اپنی فلائیٹ مس کر چکے تھے اور انہوں نے دہلی کے نظام الدین میں تبلیغی مرکاز میں پناہ لے لی۔ پولیس نے نہ صرف انہیں اگلی پرواز لینے سے روکا ، بلکہ انہیں زبردستی قرنطینہ میں رکھا۔ وہ صرف چار ماہ بعد ہی وطن واپس جاسکے ، قبول کرنے کے بعد کہ انہوں نے ویزا کی خلاف ورزی کی ، جرمانے کی ادائیگی کی ، اور اب انہیں 10 سال تک ہندوستان واپس آنے سے منع کردیا گیا ہے اور انہیں بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔

  • کرتارپورکمپلیکس تک رابطہ سڑکوں کوبہتربنایاجارہا ہے

    کرتارپورکمپلیکس تک رابطہ سڑکوں کوبہتربنایاجارہا ہے

    وفاقی سیکرٹری مذہبی امور سردار اعجاز خان جعفر نے نارووال میں سکھوں کے مذہبی مقام کرتارپور گردوارہ صاحب کا دورہ کیا۔ سیکرٹری متروکہ وقف املاک بورڈ طارق وزیر، رینجرز، گلوبل نوبل، ایمیگریشن اورضلعی انتظامیہ نارووال نے پراجیکٹ کے بارے میں بریفنگ دی۔دورے کے دوران وفاقی سیکرٹری مذہبی امور کی گرنتھی صاحب، رکن پنجاب اسمبلی رمیش سنگھ اروڑا و دیگر سکھ برادری سے بھی ملاقات ہوئی۔ اس موقعہ پر سیکرٹری مذہبی امورنے کہا کہ ملکی و غیر ملکی زائرین کیلئے بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ کرتار پور کمپلیکس تک رابطہ سڑکوں کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔ سیکرٹری مذہبی امور نے کہا کہ کرتارپور پراجیکٹ دنیا بھر کیلئے بین المذاہب ہم آہنگی کا بہترین نمونہ ہے۔ مذہبی سیاحت کے فروغ سے مقامی آبادی کو روزگار کے نئے مواقعے میسر آئیں گے۔

  • پاکستان اور چین سی پیک کا نام تبدیل کررہے ہیں، بھارتی میڈیا

    پاکستان اور چین سی پیک کا نام تبدیل کررہے ہیں، بھارتی میڈیا

    بھارتی میڈیا نے دعوی ہے کہ پاکستان اور چین ایک نئے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت  سی پیک کا نام تبدیل کر کے اس کا نام ہمالیائی راہداری رکھا جائے گا۔ ایک بھارتی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین کی کوشش ہے کہ سی پیک کا دائرہ کار نیپال تک بڑھایا جائے۔ چین اس سلسلے میں پاکستان کی مدد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ چین کے صدر پاکستان کے دورے کے دوران اس کا اعلان کر سکتے ہیں۔ چین کی خواہش کے مطابق پاکستان کی کوشش ہے کہ نیپالی وزیر اعظم پاکستان کا دورہ کریں اور یہ دورہ اس وقت ہو جب چینی صدر پاکستان کے دورے پر ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق نیپال کے وزیراعظم اگر پاکستان میں چینی صدر کی موجودگی میں پاکستان پہنچ گئے تو نہ صرف یہ کہ سی پیک کا دائرہ کار نیپال تک پھیل جائے گا بلکہ نیپال کی خواہش کے مطابق نیپال تک پھیلنے والے اس منصوبے کا نام ہمالیائی راہداری رکھا جائے گا۔ بھارتی میڈیا پر چلنے والی اس مضحکہ خیز رپورٹ کو چئیرمین سی پاک لفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کو بھیجا گیا تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا

  • دلیپ کمار کے چھوٹے بھائی اسلم خان کا انتقال

    دلیپ کمار کے چھوٹے بھائی اسلم خان کا انتقال

    نامور اداکار دلیپ کمار کے چھوٹے بھائی اسلم خان کا انتقال ہو گیا ہے۔ انہوں نے آج صبح دنیا کو الوداع کہا۔ انہیں ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماری تھی اور وہ کورونا وائرس مثبت پائےگئے تھے۔اسلم خان کی عمر تقریبا 88 سال تھی۔ پچھلے کچھ دنوں سے وہ ممبئی کے لیلاوتی اسپتال میں داخل تھے۔
    ان کے انتقال کی خبر سے کنبے کو گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ اسلم خان کے بھائی احسان خان بھی لیلاوتی اسپتال میں بھرتی ہیں۔ وہ بھی کورونا سے متاثر ہیں۔ احسان خان کی حالت بھی سنگین بتائی جا رہی ہے۔ انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے۔
    دلیپ کمار کے چھوٹے بھائی احسان خان اور اسلم خان دونوں کا COVID-19 ٹیسٹ حال ہی میں کروایا گیا تھا جس میں وہ دونوں ہی مثبت آئے تھے۔ اس کے بعد ہی انہیں ممبئی کے لیلاوتی اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔ اسلم اور احسان خان دونوں کو ہی سانس پھولنے کی شکایت تھی۔

  • دنیا کو مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی

    دنیا کو مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی

    اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے عالمی برادری پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کا نوٹس لینے پر زور دیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں کشمیر میں معصوم شہریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کسی بھی ریاست کی جانب سے اپنے شہریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی بدترین مثال ہے ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسپیکرز آف پارلیمنٹ کی آسٹریا کے شہر ویانا میں منعقد ہونےوالی پانچویں ورچوئل کانفرنس سے ویڈیو لنگ کے ذریعے خظاب کرتے ہوئے کیا۔ اسپیکر نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضہ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ سات دہائیوں سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو ان کےحق خودارادیت سمیت بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اورظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے.انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے ذریعے عالمی برادری نے کشمیری عوام کو ان کا حق خودارادیت دلانے کا وعدہ کیا ہے تاہم اب تک اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا. انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر اور اس طرح کے دیگر مسئلوں کے ایک منصفانہ حل سے دنیا سے انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن ہے۔
    اسپیکر نے کہا کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور اس ناسور کی وجہ سے بہت زیادہ جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے نتیجہ میں 70ہزار سے زیادہ جانوں کا ضیاع ہوا ہے جبکہ 125 بلین ڈالر سے زائد کا نقصان بھی اٹھا نا پڑا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے قبائلی علاقے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور ان علاقوں سے اس ناسور کی وجہ سے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں بھارت کی مداخلت دنیا کے سامنے اس وقت عیاں ہوگئی جب اس کا ایک جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادو 2016 میں پکڑا گیا اور اس نے اعتراف کیا کہ وہ ہمارے صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی کے متعدد حملوں کو منظم کرنے اور فنڈ زدینے میں ملوث تھا. انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ہم دہشت گردی میں قابو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں اور بین الاقوامی برادری نے پاکستان میں سکیورٹی کی بہتر صورتحال کو تسلیم کیا ہے.اسپیکر نے کہا کہ پاکستا ن کو ہندوتوا کے فاشسٹ نظریہ پر تشویش ہے جس کی پیروی ہندوستانی حکومت کر رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ اس طرح کے خطرناک نظریات انتہاپسندی کوہوا دیتے ہیں اور علاقائی اورعالمی امن و استحکام کو ایسے نظریات سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے انتہاپسندی اور دہشت گردی سے نپٹنے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے اور خطے میں امن چاہتا ہے جس کا تصور بانیان پاکستان نے دیا ہے۔

  • بھارتی ہائی کمیشن کے سینئر سفارتکار کی دفتر خارجہ طلبی

    بھارتی ہائی کمیشن کے سینئر سفارتکار کی دفتر خارجہ طلبی

    بھارتی افواج کی جانب سے ایل او سی پر جنگ بندی انتظامات کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے سینئر سفارتکار کی دفتر خارجہ طلبی کی گئی اور انہیں احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے 19 اگست کو ایل او سی کے سبز کوٹ سیکٹر میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی۔ایل او سی کے سبزکوٹ سیکٹر میں بھارتی افواج نے بلا اشتعال فائرنگ و گولہ باری کی۔ انہوں نے کہا کہ 19 اگست کوسبز کوٹ سیکٹرمیں بھارتی افواج کی فائرنگ سے کھوئی گاؤں کی 70 سالہ جان بی بی بیوہ صدیق شدید زخمی ہوئیں۔ زاہد حفیظ چوہدری نے مزید کہا کہ رواں برس بھارت 2027 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کر چکا ہے۔ ان خلاف ورزیوں میں 16 نہتے شہری شہید اور 166 افراد زخمی ہو چلے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز لائن آف کنٹرول، ورکنگ باؤنڈری پر مسلسل نہتی شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں، بھارت کا معصوم شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا قابل مذمت ہے۔ بھارت کی اشتعال انگزیزی خطے میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے، ترجمان کے مطابق بھارت ان حرکتوں سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائےاور2003ء کے فائر بندی انتظام کی پاسداری کرے۔ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا عالمی قوانین، اقدار کے منافی ہے۔ اقوام متحدہ فوجی مبصر مشن کو ایل او سی پر کام کرنے دیا جائے

  • راجیو گاندھی کا 75 واں یوم پیدائش اور راہول کا خراج عقیدت

    راجیو گاندھی کا 75 واں یوم پیدائش اور راہول کا خراج عقیدت

    بھارتی اپوزیشن کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے اپنے والد سابق وزیراعظم آنجہانی راجیو گاندھی کے یوم پیدائش پر جمعرات کے روز خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک لبرل اور محبت کرنے والے شخص تھے۔ سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کا آج 75 واں یوم پیدائش ہے۔ رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے اپنے والد کو گلہائے عقیدت پیش کرتے ہوئے فوٹو کے ساتھ ٹوئٹ کیا ’’راجیو گاندھی ایک غضب کا نظریہ رکھنے والے اور اپنے وقت سے بہت آگے کے انسان تھے۔ لیکن ان سب سے الگ وہ ایک لبرل اور محبت کرنے والے انسان تھے‘‘۔ انھوں نے مزید لکھا’’میں اپنے باپ کے طور پر انہیں پاکر خود کو بہت خوش قسمت اور فخر محسوس کرتا ہوں۔ ہم انہیں آج اور ہر دن یاد کرتے ہیں‘‘۔
    20 اگست 1944 کو پیدا ہونے والےآنجہانی راجیو گاندھی بھارت کے چھٹے اور سب سے کم 40 برس کی عمر میں وزیر اعظم بنے تھے۔ ان کی مدت 1984 سے 1989 تک تھی۔ 1984 میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد جب اچانک انہیں وزیر اعظم کی کرسی ملی تو ان کی عمر محض 40 سال تھی۔ پائلٹ کی ٹریننگ لے چکے راجیو گاندھی سیاست میں آنے کے خواہش مند نہیں تھے، لیکن حالات نے انہیں بھارت کا سب سے کم عمر وزیر اعظم بنا دیا۔

  • غلطی سے پاکستان پہنچ جانے والا ذہنی معذور بھارتی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر واہگہ بارڈر کے راستے بھارت کے حوالے

    غلطی سے پاکستان پہنچ جانے والا ذہنی معذور بھارتی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر واہگہ بارڈر کے راستے بھارت کے حوالے

    پاکستان نے غلطی سے سرحد پار کر کے پاکستان پہنچ جانے والے بھارتی شہری کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر واہگہ بارڈر کے راستے واپس بھارت بھیج دیا۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی
    پنجاب کے شہر گورداسپور سے چندر رام نامی ہندو شخص جس کا دماغی توازن درست نہیں تھا۔ 5 اگست کو نارووال کے قریب سرحد عبور کرکے پاکستان پہنچ گیا جہاں پاکستان رینجرز کے حکام نے اسے گرفتار کر لیا اور تحقیقات شروع کر دی تاہم چندر رام سے کوئی بھی قابل اعتراض شے برآمد نہیں ہوئی۔ پاکستانی حکام نے رام چندر کا طبی معائنہ کروایا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ ذہنی طور پر معذور ہے۔ پاکستانی حکام نے بھارتی حکام سے رابطہ کیا توانہوں نے تصدیق کی کہ رام چندر بھارتی شہری ہے اور غلطی سے سرحد عبور کرکے پاکستان چلا گیا تھا۔ پاکستانی حکام نے آج شام تقریبا پونے چار بجے واہگہ بارڈر کے راستے چندر رام کو بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز کے حکام کے حوالے کردیا۔ واہگہ بارڈر پر چندر رام کو بغیر کسی دستاویز کے بھارت کے حوالے کیا گیا۔ بھارتی حکام نے چندر رام کو واپس کرنے پر پاکستانی حکام کا شکریہ ادا کیا۔ 

  • "را’’ اور افغان سیکیورٹی ایجنسی ‘’این ڈی ایس’’ کی پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنانے کی ناپاک منصوبہ بندی

    "را’’ اور افغان سیکیورٹی ایجنسی ‘’این ڈی ایس’’ کی پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنانے کی ناپاک منصوبہ بندی

    پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے لئے بھارت اور افغانستان کے خفیہ اداروں کا پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ۔ دونوں خفیہ ادارے کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر باغی دھڑوں کو پاکستان کے خلاف متحد کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ‘’را’’ اور ‘’این ڈی ایس’’ مختلف کالعدم تنظیموں سے رابطے کر رہے ہیں خصوصا جماعت الاحرار اور حزب الاحرار کے نمائندوں سے اہم ملاقاتوں میں کئی معاملات طے ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ‘’را’’ اور افغان سیکیورٹی ایجنسی ‘’این ڈی ایس’’ نے پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنانے کے لیے فنڈز بھی مہیا کرنے کے وعدے کر لئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق 16 اگست کو دونوں ایجنسیوں کا کالعدم تنظمیوں کے ساتھ پکتیکا اور کنڑ میں اہم اجلاس ہوا جس میں تحریک طالبان پاکستان، جماعت الاحرار اور حزب الاحرار کے نمائندوں نے شرکت کی۔
    اجلاسں میں جماعت الاحرار کے اکرام اللہ ترابی نے شرکت کی جب کہ پاک فوج، پولیس، رینجرز، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کا ناپاک فیصلہ کیا گیا۔
    ایجنسیوں نے مولوی رفیع الدین عرف ابو حمزہ کے ذریعہ اجلاس کا مقام ظاہر نہ کرنے کی بھی سازش کی۔ ‘’را’’ اور ‘’این ڈی ایس’’ کی جانب سے پیغام میں کالعدم تنظیموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ پکتیکا اور کنٹر میں ہونے والے اجلاسوں کے مقامات کو ظاہر نہ کیا جائے بلکہ یہ ظاہر کیا جائے کہ اجلاس پاکستان میں کسی مقام پر ہوا ہے، ایسا کرنے سے سارا الزام بھی پاکستان پر آئے گا۔